آخر ہم کب تک سو سو جوتے اور سو سو پیاز کھاتے رہیں گے ؟
میں پچھلی دو دہائیوں کے اندر رہ کر ہی ہمیں امداد دینے میں پہل کرنے والے اور ساتھ ہی طعنوں سے چھلنی کرنے والے ہمارے ” وار آن ٹیرر کے حریف “ یعنی امریکہ بہادر کے ہمیں رسوا کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے اور سو پیاز اور سو جوتے کھا کر بھی اپنی بے بسی کی بات چھیڑتا ہوں۔
نواز شریف کے دورِ حکومت میں کلنٹن صاحب نے جب انڈیا کا دورہ کیا تو پاکستان کو اپنی لسٹ سے خارج کردیا۔ ہماری وزارتِ خارجہ تو جیسے امریکی انتظامیہ کے پائوں پڑ گئی کہ کلنٹن صاحب بے شک ایک گھنٹے کے لئے ہی سہی ’ لیکن ہم پہ اپنا قدم رکھے بغیر واپس نہ جائیں ‘۔ سو بڑی منتوں ترلوں کے بعد کلنٹن صاحب نے اسلام آباد کو ایک آدھ گھنٹے کے لئے زینت بخشنے کی اس شرط پہ حامی بھری کہ اس دوران کوئی فوٹو سیشن نہیں ہوگا ۔ ہم نے کہا ’ چشمِ ما روشن دلِ ما شاد ‘ ، آپکی تصویر پہلے سے دل میں ہے آپ بھلے کیمرے کے سامنے نہ آئیں۔
دورِ شریفاں کا خاتمہ ’ پرویزی دورِ حکومت ‘ نے کیا ۔ کچھ ہی عرصہ بعد امریکہ کا ’ نائین الیون ‘ ہوگیا۔’ مُش ‘ نے بُش کو اپنے ہرکارے روانہ کئے جن کے سینوں پر امریکی پہلوان آرمیٹیج نے میز پہ مکے مار مار کر مونگ دلی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ امریکہ کا دورہ کرنے والے وزارتِ داخلہ ، وزارتِ خارجہ اور آئی ایس آئی کے وفد کے ارکان کے جوتے اتروا کر امیگریشن کے مراحل سے گذارا گیا۔ کمزور خودی بھاری ڈالروں کے بوجھ تلے دب گئی اور بے چوں و چراں جوتے بغل میں دابے سارا غم ۔۔۔ میں اُڑا گئی۔
’ مشرفی دور ‘ کا خاتمہ زرداریوں ، گیلانیوں کی جمہوریت سے ہوا لیکن اصل معاملات جی ایچ کیو سے ہی طے ہورہے ہیں۔ جنرل کیانی کو مزید تین سال کی توسیع جمہوریت کے مفاد میں ٹھہری ۔ معاملات کو آگے بڑھانے کی خاطر ایک اعلیٰ سطحی وفد امریکہ روانہ ہوا لیکن ڈیلس ائیر پورٹ پہ ایک عام امریکی کی شکایت پہ جہاز سے اتار دیا گیا۔ احتجاجاً وفد تو واپس آگیا لیکن اس پیغام کے ساتھ کہ آخر ہم کب تک سو سو جوتے اور سو سو پیاز کھاتے رہیں گے ؟
اور جس سے جوتے پڑتے ہیں پھر بھی ” اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں “

موجودہ واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے نو رکنی وفد ، جو کہ سینٹ کام کی دعوت پہ ٹامپا میں واقع امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے دفتر ایک اجلاس کے لیے جا رہا تھا ، کو واشنگٹن کے ڈیلس ائیرپورٹ پر یونایٹڈ ایرلائنز کی پرواز کے دوران ایک مسافر ، جس نے انہیں ایک ساتھ دیکھ کر اور اردو میں ان کی گفتگو سن کر ائیرلائن کے منتظمین سے انھیں پرواز سے اتارنے کا مطالبہ کیا ، کی شکایت پر پرواز سے اتار دیا گیا۔ وفد کے سربراہ ، جو کہ ایک میجر جنرل تھے ، نےاحتجاج کے طور پر ٹامپا کا سفر منسوخ کرتے ہوئے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کر لیا اور یوں اس وفد کا امریکی دورہ منسوخ کردیا گیا۔
ائیرلائن کی انتظامیہ اور امریکی دفاعی ادارے کے حکام کی پاکستان سےمعذرت اور امریکی وزارت دفاع کی طرف سے وفد کو اپنا فیصلہ بدلنے کی درخواست کے باوجود پاکستانی فوجی وفد کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے پر پاکستانی فوج نے احتجاجاً یہ دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنے وفد کو واپس بلا لیا ۔امریکی وزارت دفاع کی اس واقعہ پر معافی کو اس فوجی وفد نے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ انہیں واشنگٹن ائرپورٹ پر ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے غیر ضروری سکیورٹی چیکس سے گزارا گیا ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ضمیر کیا بار بار کی ان ہزیمتوں کا عادی ہوگیا ہے، سو گیا ہے یا پھر مر گیا ہے ؟
السلام علیکم
محترم جاوید اقبال کیانی صاحب ، آپ اِس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ آپ کو بعد میں اِس واقعہ کی تفصیل لکھنی پڑی ، حالانکہ پانچ چھ روز پہلے جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تب سے اب تک اِسے کوئی مناسب کوریج نہی دی گئی ، یعنی ہم سو جوتوں اور سو پیاز کے عادی ہو گئے ہیں ، بہر حال میجر جنرل صاحب کا احتجاجا ’’ ٹامپا ‘‘ کا سفر منسوخ کرنے کا فیصلہ بلکل درست تھا اور بعد کی امریکی معذرت نے ثابت بھی کیا کہ اگر ہم لوگ ’’ خودی ‘‘ سے جینے کا فیصلہ کر لیں تو انکل سام کی اکڑی ہوئی گردن میں قدرے خم آسکتا ہے ۔
آصف احمد بھٹی
ضمیر مر گیا ہے
کیانی صاحب پتہ لیں کہ ایڈمرل حسینی صاحب کا کورٹ مارشل تو نہیں ہو رہا کہیں اور وہ گوانتانومو بے میں؟ خدا نہ کرے کہ جسطرح یہ واقعہ چھپا دیا گیا ہے اسی طرح سے جنرل صاحب کو بھی سزا چپکے سے دے دی جائے۔ کیا خیال ہے اگر دورے کی سربراہی خود پرویز ثانی جنرل اشفاق کیانی، وزیر اعظم گیلانی یا صدر زرداری کر رہے ہوتے تو شاید امریکا کو ایسی منت سماجت نہ کرنا پڑتی اور ہم خود ہی دوستی کا بھرم رکھنے کو رک جاتے۔۔۔۔واپس آنے والے جرنیل کے لئے دعا کروں گا کہ خدا ایسے زندہ ضمیروں کی مدد کرے۔ آمین۔
بشکریہ ڈیلی آج۔مکمل تراشہ
http://www.dailyaaj.com.pk/Details.php?NewsCategoryId=9&NewsId=20377
———————————————
راولپنڈی ۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ امریکی سکیورٹی حکام کے توہین آمیز سلوک کے بعد پاکستانی فوجی وفد کا دورہ سینٹ کام احتجاجاً منسوخ کردیا گیا ہے ، ریئر ایڈمرل عارف اللہ حسینی کی قیادت میں نورکنی فوجی وفد امریکہ سے وطن واپس روانہ ہوگیا ، آئی ایس پی آر کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ امریکہ کی دعوت پر پاکستان کا فوجی وفد سینٹ کام کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ کے دورے پر تھا
وفد کے اراکین کو امریکی ٹرانسپورٹ سکیورٹی ایجنسی نے واشنگٹن ایئرپورٹ پر بلاجواز اورتوہین آمیز سکیورٹی چیکس سے گزارا انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد وفد کو کلیئر کیا گیا اور امریکی دفاعی عہدیداروں نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا ہے اطہر عباس نے بتایا کہ امریکی سکیورٹی حکام کے توہین آمیز سلوک کی بناء پر پاکستان کے فوجی وفد کا دورہ سینٹ کام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور وفد کو وطن واپس آنے کی ہدایت کی گئی ۔
دریں اثناء ریئر ایڈمرل عارف اللہ حسینی کی قیادت میں نو رکنی پاکستانی مسلح افواج کا اعلیٰ افسران پر مشتمل وفد دورہ سینٹ کام ( سنٹرل کمانڈ ) منسوخ کرکے وطن واپس روانہ ہوگیا ، واضح رہے کہ واشنگٹن کے ڈولس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امریکی یونائیٹڈ ایئر لائن کی پروازسات سو ستائیس پر سفر کرنیوالے اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ جہاز کے عملے کی بدتمیزی اور بعد ازاں سکیورٹی حکام کی جانب سے بریگیڈئر سعید ظفر ڈار کی گرفتاری اور دیگر آٹھ اعلیٰ افسران جن میں ریئر ایڈمرل اور میجر جنرل رینک کے اعلیٰ ترین فوجی افسران شامل تھے کو ڈھائی گھنٹے تک زیر حراست رکھا گیا اور انہیں نہ تو پنٹاگون اور نہ ہی پاکستانی سفارتکاروں سے رابطے کی اجازت دی گئی
سینٹ کام کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی فوجی وفد کو اس وقت ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ چوبیس گھنٹوں کا سفر کرکے چھ گھنٹوں پر واشنگٹن کے ڈولس ایئرپورٹ پر ٹمپا جانیوالی پرواز کا انتظار کرنے کے بعد جب یونائیٹڈ ایئر لائن کی پرواز سات سو ستائیس پر سوار ہوئے تو بریگیڈئر سعید ظفر ڈار نے سکون کا سانس لیتے ہوئے ایئر ہوسٹس سے ازراہ تفنن کہا کہ یہ ہماری آخری فلائٹ ہوگی یہ الفاظ سنتے ہی قریبی نشست پر بیٹھے سفید فارم جوڑے نے طیارے کے پائلٹ کو رپورٹ کی کہ طیارے میں مشکوک مسلمان سوار ہیں اور وہ یہ جملے ادا کررہے ہیں
اس پر بریگیڈئر سعید ظفر ڈار کو طیارے سے اتار لیا گیا جبکہ ایئر ایڈمرل عارف اللہ حسینی اوردیگر اعلیٰ فوجی افسران کو حراست میں لیکر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا اعلیٰ حکام کے مطابق ان فوجی افسران سے ٹی ایس اے اور واشنگٹن پولیس نے دو گھنٹے تک تفیش کی بار بار کے تقاضے پر بھی انہیں سفارتخانے یا امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون تک رسائی بارے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی
ایف بی آئی کے آنے پر انہیں پینٹاگون سے رابطہ کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ واشنگٹن میں پاکستانی ملٹری آتاشی بریگیڈئر نذیر اور ایئر یو نیوی اتاشی بھی ایئرپورٹ پہنچ گئے اس دوران پاکستانی حکام نے جی ایچ کیو سے رابطہ کیا اور دو گھنٹوں بعد انہیں سینٹ کام کی سالانہ میٹنگ منسوخ کرکے واپس آنے کا حکم دیا
اس سے قبل گزشتہ مارچ میں فاٹا کے اراکین سے بدسلوکی پر یہ اراکین سینٹ ڈیپارٹمنٹ کا دعوت نامہ منسوخ کرکے وطن چلے گئے تھے سابق صدر مشرف کے ساتھ نیویارک ایئرپورٹ پر جوتے اتروانے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا تاہم انہوں نے احتجاج نہیں کیا
کیانی صاحب اصل راز سے تو آپ واقف ہیں کہ حکمراں کون اور جمہوری حکومت کا سرچشمہ طاقت کہاں ہے۔ وہ کبھی کبھی نظریہ ضرورت کے تحت جمہوروں کو بھی حکومت دیدیتے ہیں کہ موج کرو؟
حکومت تو ابھی مصروف میلہ موج میں ہے
حمیت کچھ جوباقی ہے ابھی تک فوج میں ہے
حکومت بھی سمجھتی ہے اگر تو با ت اس کی
کہ کوئی رازپنہاں فوج کی اک “ نوج “میں ہے
کیانی صاحب
سو بار پہلے بھی کہ چکا ہوں ۔ لیکن پھر کہوں گا۔
Beggars can not be the choosers
چین نے بھیک نہیں مانگی اور مرچوں کے پانی کے ساتھ چاول کھانے کا فیصلہ کیا۔ آج دیکھئے امریکہ اُن سے بھیک مانگ رہا ہے۔ آپکو یاد ہوگا جب نکسن چین گیا ہے تو اُسوقت چینیوں کے پاس صرف سائکل تھی۔ حضور آپ اور امریکہ پر لعن طعن کرنے والے ذرا ایک ہاتھ قرآن پر رکھکر اور دوسرا اپنے دل پر رکھکر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا ہم مرچوں کے پانی اور چاول پر اکتفا کرنے کو تیار ہیں؟ کم از کم میں، قاضی صاحب، مناف صاحب، بھٹی صاحب، مصباح صاحب، نگہت بہن، بہن شاہین اور بہن عالم آراء تو مجھے اس کیٹیگری میں نظر نہیں آتے۔
ٰٰٰ ٰٰکارِ بد تو خود کریں لعنت کریں شیطان پر ٰٰٰ ٰٰ
ہمدانی صاحب کا نام مروتاً اس فہرست میں شامل نہیں کرہا۔
امریکہ، جرمنی، بزطانیہ، چین، آسٹریلیا وغیرہ کے لیڈرز وہ کررہے ہیں جو انکے وطن کے مفاد میں ہے اسکے لئے وہ مبرکباد اور تمغہء امتیاز کے مستحق ہیں۔۔ میرے بھی یہی جذبات پاکشتان کے بارے میں ہیں۔ کاش پاکستان بھی ایک دن امریکہ کی طرح دنیا پر حکومت کرے اور ساری دنیا کو خیرات دے۔آمین۔ مجھے اس پر فخر ہوگا۔
جاوید اقبال کیانی بھائی کا سوال :
“سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ضمیر کیا بار بار کی ان ہزیمتوں کا عادی ہوگیا ہے، سو گیا ہے یا پھر مر گیا ہے ؟”
فرحان دانش بھائی کا جواب :
“ضمیر مر گیا ہے ”
میرا خیال:
جواب 100% درست ہے
“ میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب “
اس کا دوسرا مصرعہ اس بلاگ کا عنوان بن گیا ہے ۔
ظفرجعفری صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے جاوید اقبال کیانی صاحب اور امریکہ پر لعن طعن کرنے والوں کے فہرست میں اپنے اور چند ایک افراد کے ساتھ ساتھ میرا نام بھی اس فہرست میں یہ کہکر شامل کردیا کہ :
“حضور آپ اور امریکہ پر لعن طعن کرنے والے ذرا ایک ہاتھ قرآن پر رکھکر اور دوسرا اپنے دل پر رکھکر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا ہم مرچوں کے پانی اور چاول پر اکتفا کرنے کو تیار ہیں؟ کم از کم میں، قاضی صاحب، مناف صاحب، بھٹی صاحب، مصباح صاحب، نگہت بہن، بہن شاہین اور بہن عالم آراء تو مجھے اس کیٹیگری میں نظر نہیں آتے۔“
۔۔۔۔۔۔۔
میں اس سلسلے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ظفر جعفری صاحب کی طرح میں بھی امریکہ کا شہری ہوں اور ظفر جعفری صاحب کی طرح امریکی حکومت کو اپنے ماہانہ تنخواہ کا ایک حصہ ٹیکس کی شکل میں دیا کرتا ہوں۔
میرے اور ظفر جعفری صاحب کی طرح لاکھوں پاکستانی امریکہ کے شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی اپنی امدنیوں کا ایک معقول حصہ امریکی حکومت کو دیا کرتے ہیں ۔
یہ بھی ظاہر ہے کہ امریکی حکومت ( برطانوی حکومت کی طرح اور دنیا کی بہت ساری حکومتوں کی طرح ) پاکستان کو ہر قسم کی امداد دےرہی ہے وہ امداد ، امریکی حکومت اسی ٹیکس کی امدنی میں سے دیا کرتی ہے جسے ظفر جعفری صاحب اور میں اور ہزاروں لاکھوں پاکستان کے امریکی شہری امریکی حکومت کو دیا کرتے ہیں ۔ ( امریکی حکومت جو بیرونی امداد دیتی ہے وہ امریکہ کے ٹیکس دہندگان کے ٹیکسوں ہی سے دی جاتی ہے کسی اور طریقہ سے حاصل کی ہوئی آمدنی سے نہیں )
ظفر جعفری صاحب کے اور پزاروں لاکھوں پاکستان کے امریکی شہریوں کی طرح ہم سب بھی امریکی خارجہ پالیسی کی مخالفت میں لعن طعن کی آواز اٹھا نے کی آزادی رکھتے ہیں جس کا اظہار ہم امریکی انتخابات کے وقت اپنے ووٹ کے ذریعہ کرتےہیں ۔
ظفر جعفری صاحب کا کہنا درست ہے کہ جب تک پاکسان کشکول لے کر دنیا کی حکومتوں سے خیرات مانگتارہے گا اس وقت تک پاکستان کی اور اسکی حکومت کے ارکان اور اسکے شہریوں کے بے قدری ہوتی رہے گی۔
ظفر جعفری صاحب نے چین کی مثال دے کر اپنا خیال واضح کردیا ہے ۔
علامہ اقبال بھی خودی کو بلند کرنے کی نصیحت کرگئے ہیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے رہنما جو ایک ہی تھالی ( تھیلی )کے چٹے بٹے ہیں ان میں بھی وہی خودداری اور شجاعت پیدا ہوتی ہے یا نہیں جوان پاکستانی فوجی افسروں میں ہے جو امریکہ سےپاکستان واپس اس لیےآگئے کہ انکی خودداری اور خودی کو اور قومی وقار کو ٹھیس لگائی گئی تھی ۔
عبدالستار ایدھی اور نوبل پرائز
کیا ہماری حکومت کبھی عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز کے لئے Nominate کرنا برداشت کریگی۔ کیا یہ اقدام صحیح ہوگا۔ جوش کی شاعری کیونکہ پیغامِ انسانیت، مساوات، امن اور محبت و اخوت کی حامل تھی اور ہر قسم کے تعصب کے خلاف تھی اسلئے دانشورانِ پاکستان نے دو مرتبہ جوش کو نوبل پرائز کیلئے Nominate کرنے کی کوشش کی۔ بہلی مرتبہ ایوب خان نے اور دوسری مرتبہ ضیا الحق نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ ڈاکٹر سلام کو حکومتِ برطانیہ نے Nominate کیا۔ کیا مدر تھریسا کی طرح عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز نہیں مل سکتا؟ اگر نوبل پرائز عبدالستار ایدھی کو ملا تو یقیناً یہ بات ہمارے وقار میں اضافہ کریگی۔ لیکن عبدالستار ایدھی کو نوبل پرائز ملنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اُنہیں اس انعام کیلئے Nominate کیا جائے۔
معذرت خواہ ہوں اوپر کے تبصرہ پر جو غلط جگہ شائع ہوگیا۔
محترم آصف احمد بھٹی صاحب،
امریکی نشے کی حالت میں معذرت کرتے ہیں، ادھر نشہ اترا اُدھر معذرت بھی بھولی ہوئی داستاں ! انکل سام کی گردن میں سریا نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے بیگناہ بچوں، بوڑھوں اور بیوائوں کی ہڈیاں پھنسی ہوئی ہیں جو اس کی گردن میں خم نہیں۔
جناب فرحان دانش صاحب،
سب سے پہلے تو اس بلاگ اور عالمی اخبار کیی بلاگ فیملی میں خوش آمدید۔
” ضمیر مر گیا ہے ؟ “
اِنَّّ لِلّہِ وَ اِنَّّ اِلیہِ رَاجِعُون
جب تک زندہ رہا بچارا جوتیاں اور پیاز ساتھ ساتھ کھاتا رہا ، مرنے کے بعد اللہ سکون نصیب کرے !
جناب سیدمصباح حسین صاحب،
فوجی قانون کے مطابق تو بھگوڑوں کا کورٹ مارشل ہی ہوتا ہے ۔ واقعہ چھپانے کا سبب شاید قوم کو مزید صدمات سے بچانا مقصود ہو۔
’ پرویز ثانی ‘ والی بھی خوب کہی ۔ پرویزیوں، گیلانیوں اور زرداریوں کے دم سے ہی تو پیاز کی منڈی میں تیزی ہے ورنہ یہ جنس بھی ہے کسی کام کی ؟
’ ڈیلی آج ‘ کا لنک مہیا کرنے کا شکریہ۔ لیکن بی بی سی ، ’ ڈیلی آج ‘ اور آئی ایس پی آر کی تفصیلات میں کچھ تضاد پایا جاتا ہے۔
لیکن ’ ڈیلی آج ‘ کی اس تفصیل کہ جس کے مطابق ، ” بریگیڈئیر سعید ظفر ڈار نے سکون کا سانس لیتے ہوئے ایئر ہوسٹس سے ازراہ تفنن کہا کہ یہ ہماری آخری فلائٹ ہوگی “ پہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے بریگیڈیئر صاحب دل پھینک واقع ہوئے ہوں جنھوں نے فلائیٹ کے آخر میں ائیر ہوسٹس سے غمِ ہجر کی تپش محسوس کرتے ہوئے زندگی کو بوجھ سمجھ لیا ہو اور یہ ڈائیلاگ چھوڑ بیٹھے ہوں اور ساتھ مفت میں مروا دیا، یعنی جہاز سے اتروا دیا ، بیٹھے بٹھائے اپنے دوسرے معصوم فوجی بھائیوں کو بھی ؟
محترم شمس جیلانی صاحب،
آپ نے بجا فرمایا ، گھر کا بھیدی تو میں ہوں ہی اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ طاقت کہاں ہے اور طاقت ور کون ہے ۔
اور نظریہ ضرورت کے تحت جمہوروں کو نہیں بلکہ ’ بچے جمہوروں ۔ ۔ ۔ جو ابھی تک شعور اور رموزِ حکومت سے ہی عاری ہیں ‘ کو بھی حکومت میں شریک کر لیتے ہیں کہ موج کرو کیا یاد کرو گے کہ کن سخیوں سے پالا پڑا ہے ؟
” حکومت تو ابھی مصروف میلہ موج میں ہے
حمیت کچھ جوباقی ہے ابھی تک فوج میں ہے
حکومت بھی سمجھتی ہے اگر تو با ت اس کی
کہ کوئی راز پنہاں فوج کی اک “ نوج “میں ہے “
بہت خوب ، بلکہ بہت ہی خوب ، ماشاء اللہ ۔
محترم جناب ظفر جعفری صاحب،
قبلہ ، آپ کا ایک سو ایک دفعہ کہنا بھی سر آنکھوں پہ لیکن Beggars ہم ہی نہیں خود امریکہ بھی ہے جسے ہمارے کندھوں کی بھیک چایئے لیکن ستم ظریفی اور بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ہماری کمزوریوں کو جانتے ہوئے ہم سے بھیک مانگنے کی بجائے ہمیں ہی خرید لیتا ہے ، تبھی تو ایسے بلاگز جنم لیتے ہیں ۔
” حضور آپ اور امریکہ پر لعن طعن کرنے والے ذرا ایک ہاتھ قرآن پر رکھکر اور دوسرا اپنے دل پر رکھکر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا ہم مرچوں کے پانی اور چاول پر اکتفا کرنے کو تیار ہیں؟“
جعفری صاحب، آپ اور میں اگر امریکہ یا برطانیہ پہنچ گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اپنا ماضی یا اپنا وطن بھول گیا ہے ۔ میرے ملک میں تو لوگ سوکھی روٹی پہ بھی گذارہ کر رہے ہیں ، مرچیں، پانی اور چاول تو ان کے لئے بہت بڑی عیاشی ہوگی ۔ جو لوگ باہر کے کسی ملک میں نہیں جاسکے آخر وہ بھی تو گذارہ کر رہے کہ نہیں۔ امریکہ وقتاّ فوقتاّ ہماری امداد بند بھی کرتا رہا ہے ، ہمیں قرضے بھی کڑی سے کڑی شرائط پہ ملے ، لیکن قوم نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ قوم ہر آزمائیش بھگتنے کو تیار ہے بشرطیکہ اسے صحیح قیادت ملے۔ اگر لیڈر ملکی خزانہ لوٹ کر باہر کے ممالک میں دفن کر دیں، عوام کا خون اپنے جاموں میں نچوڑ لیں ، عوام آٹے کو ترسیں اور ان کے کتے بھی ڈبل روٹیاں کھائیں ، عوام کو پینے کو کثیف پانی بھی نہ ملے اور ان کے دستر خوان امپورٹڈ منرل واٹر سے بھرے ہوں تو عوام پھر پیٹ پہ پتھر نہیں بلکہ ہاتھوں میں جوتے اور پتھر لے کر اپنے حقوق مانگنے نکل آتے ہیں اور بالکل یہی صورت حال ہے ہمارے ملک میں بھی۔ اگر آج ہمیں ہماری عزت اور ہماری جانوں کے رکھوالے، ہمارے ملکی خزانوں کے امین ، ہمارے حقوق کے ترجمان اور ہمارے آئین کے پاسبان حکمران مل جائیں تو میں اپنا پورا دل نکال کر قرآن پہ رکھ کر یہ بات پورے ایمان اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مرچوں والا پانی اور چاول تو درکنار میرے ہم وطن سوکھی روٹی بھی کھانے کو تیار ہوں گے۔
ٰٰٰ ٰٰکارِ بد تو خود کریں لعنت کریں شیطان پر ٰٰٰ ٰٰ
حضرت ، یہ لعنتی بلاگ ایسے شیاطین کے نام ہی تو ہے جو ہماری رسوائیوں کا باعث ہیں۔
” امریکہ، جرمنی، بزطانیہ، چین، آسٹریلیا وغیرہ کے لیڈرز وہ کررہے ہیں جو انکے وطن کے مفاد میں ہے اسکے لئے وہ مبرکباد اور تمغہء امتیاز کے مستحق ہیں۔۔ میرے بھی یہی جذبات پاکستان کے بارے میں ہیں۔ کاش پاکستان بھی ایک دن امریکہ کی طرح دنیا پر حکومت کرے اور ساری دنیا کو خیرات دے۔آمین۔ مجھے اس پر فخر ہوگا ‘
محترم ، یہی تو رونا ہے پوری قوم کا جسے میں نے آپ تک پہنچانے کی سعی کی ہے۔
محترم جناب عبدالمناف صاحب،
“ضمیر مر گیا ہے ”
ہائے رے ستم ، ارے میرے بھولے بھائیو ، جب ہے ہی نہیں تو مرا کہاں ؟
محترم جناب قاضی صاحب،
آپ کی یہی تو سب سے بڑی خوبی ہے کہ ذہن سے بھولی بات یاد کراکے بات مکمل کر دیتے ہیں۔ جیسے کہ میں میر تقی میر کا یہ تاریخی شعر بھول گیا تھا لیکن پورے بلاگ میں کسی سے پوچھتے ہوئے بھی شرماتا رہا کہ آپ نے بلاگ کو رونق بخشنے کے علاوہ میری مشکل بھی حل کر دی۔
قاضی صاحب ، یہ بلاگ امریکہ کی ملامت یا لعن طعن میں نہیں بلکہ اپنی موجودہ حالت کا نوحہ ہے جو کہ میر کے شعر میں پنہاں ہے :
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میں نے بلاگ شروع ہی یہ کہہ کر کیا ہے کہ ، ” آخر ہم کب تک سو سو جوتے اور سو سو پیاز کھاتے رہیں گے ؟ “ اور میں نے پاکستان کی پوری تاریخ نہیں بلکہ صرف گذشتہ دو دہائیوں کی بات کی ہے جس میں امریکہ کو دوش دئے بغیر اپنی حماقتوں اور کمزوریوں کا رونا رویا ہے جس کی کچھ تفصیل جعفری صاحب کے تبصرے کے جواب میں لکھ چکا ہوں اور مختصراّ پھر یہی کہتا ہوں کہ جس ملک کی بدولت آج ہماری یہ حالت ہے ، ہمارے حکمران ان گنت رسوائیوں کے باوجود بھی اسی کی ڈگڈگی پہ ناچ رہے ہیں۔
السلام علیکم
میں جناب جاوید بھائی کی بات پر صاد کرتا ہوں ، ہم میں سے کوئی بھی امریکہ کی برائی نہیں کر رہا ، ہم تو اپنے حکمرانوں کا نوحہ پڑھ رہے ہیں جنہیں اپنا جائز حق بھی بھیک میں لینے کی عادت ہے ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں ہم بھکاری نہیں ہیں بلکہ باہمی تعلقات میں دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں ، کچھ لو اور کچھ دو والے معاملات میں اپنی طرف سے بہت کچھ دینے کے بعد بھی جب ہماری کچھ لینے کی باری آتی ہے تو ہمارا شراکت دار ( ہماری سادگی یا نا اہلی کے سبب ) ہمیں ہمارا جائز معاوضہ ( اور وہ بھی پورا نہیں ہوتا ) بھی بھیک کی شکل میں دیتا ہے ، ایک شاطر قوم جسے ہر طرح کا پروپیگنڈا کرنا آتا ہے اِسے بھیک سمجھتی ہے تو سمجھتی رہے ، مگر جان رکھے کہ سروں کی فصل ایک بار پھر پک چکی ہے اوراب زیادہ دیر یہ نااہل لوگ مسند اقتدار پر نہیں رہینگے ، تب ہر معاملہ برابری کی سطح پر ہوگا ۔
اور کیا اِسی قوم میں عبدالستار ایدھی جیسے لوگ نہیں ہیں جن کی مثال خود ظفر جعفری صاحب نے دی ہے ، ایک عبدالستار ایدھی ہی کیا یہاں لاکھوں پڑے ہیں اور بقول جناب جاوید بھائی ، وہ روکھی سوکھی روٹی بھی کھا کر خوش ہو لیتے ہیں اور جن کے دل بہت بڑے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
” حکومت تو ابھی مصروف میلہ موج میں ہے!
غداریاں جو کرتے ہیں اہل وطن کے ساتھ
ہونگے ذلیل وہ رنج ومحن کے ساتھ
جس طرح آمروں نے وطن کو تباہ کیا
کرتی نہیں سلوک خزاں وہ چمن کے ساتھ
جناب اکمل سید صاحب،
”جس طرح آمروں نے وطن کو تباہ کیا
کرتی نہیں سلوک خزاں وہ چمن کے ساتھ “
اور اب وطن کے ساتھ ” بچے جمہوروں ‘ کا سلوک دیکھ کر تو آمروں کی تصویریں سجانے کو جی چاہتا ہے۔
میں اکمل سید صاحب کی فی البدیۃ شاعری کا قائل ہوں
میرا مشاہد ہ ہے کہ اکمل سید صاحب عالمی اخبار کے اکثر بلاگوں میںانتہائی روانی کے ساتھ اپنےقابل مطالعہ اور قابلِ قدر اشعار عطا کرتے رہتےہیں ۔ جزا ک اللہ ۔
اکمل سید صاحب کی قادر الکلامی قابلِ تعریف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اکمل سید صاحب کا یہ قطعہ پڑھ کر میں سوچتا ہوں کہ اکمل سید صاحب سے ذاتی طور پر کچھ کہا جائے :
غداریاں جو کرتے ہیں اہل وطن کے ساتھ
ہونگے ذلیل وہ رنج ومحن کے ساتھ
جس طرح آمروں نے وطن کو تباہ کیا
کرتی نہیں سلوک خزاں وہ چمن کے ساتھ
۔۔۔۔اگر اکمل سید صاحب اپنی ای میل کا پتہ اس بلاگ میں لکھدیں تو میں انہیں اس سلسلہ میں کچھ کہ سکتا ہوں ۔
ویسے اکمل سید صاحب کا قطعہ آمروں کی اہل وطن کے ساتھ غداری کو چمن کی خزا ں کے ہاتھوں تباہی سے بھی بدترسمجھتاہے جو بالکل درست ہے ۔
جناب آصف احمد بھٹی صاحب،
” میں جناب جاوید بھائی کی بات پر صاد کرتا ہوں ، ہم میں سے کوئی بھی امریکہ کی برائی نہیں کر رہا ، ہم تو اپنے حکمرانوں کا نوحہ پڑھ رہے ہیں جنہیں اپنا جائز حق بھی بھیک میں لینے کی عادت ہے “
بہت شکریہ آصف صاحب جو آپ بھی انہی خطوط پہ سوچ رہے ہیں ۔
جناب منظور قاضی صاحب،
” اکمل سید صاحب کی قادر الکلامی قابلِ تعریف ہے “
میں بھی آپ کا ہم خیال ہوں۔ اکمل صاحب پوری طرح چھائے ہوئے ہیں ان بلاگز میں۔
السلام علیکم
محترم جاوید بھائی ، میں ہمیشہ سے اِنہی خطوط پر سوچتا اور لکھتا رہا ہوں ، میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ ہمیں امریکہ یا مغرب سے کوئی ضد نہیں کہ جب تک دُنیا باقی ہے انسانوں کے باہمی تعلق بھی قائم رہینگے ، ہم تو چاہتے ہیں کہ باہمی رشتہ یا رابطہ برابری کی سطح پر ہو ، اگر کہیں وہ غلط ہوں تو ہمیں اُنہیں غلط کہنے کی ہمت ہو ۔ اور وہ بھی ہماری عزتِ نفس کا خیال رکھیں ۔
آصف احمد بھٹی
ایک مبصر نے کہا ہے کہ :
“ہم تو چاہتے ہیں کہ باہمی رشتہ یا رابطہ برابری کی سطح پر ہو“۔
مگر ظفر جعفری صاحب کہ چکے ہیں کہ :
“Beggars can not be the choosers“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برابری کی سطح پر رشتہ اسی حالت میں ہوتا ہے جب دونوں فریق برابر ہوں
۔۔۔۔۔۔۔
اس کےلیے کمزور فریق کو ہر لحاظ سے “ خود مکتفی “ ہونا پڑے گا۔
اس کے لیے کمزور فریق کو تمام صفات کے ساتھ ساتھ اسکی اپنی “ خودی کو بلند کرنا پڑے گا“
جناب منظور قاضی صاحب،
اسلام آباد میں’ گریڈ کلچر ‘ کا بڑا وائرس ہے۔ سرکاری افسران ایک دوسرے سے گریڈ کی بنا پہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ’ اچھے وقتوں ‘ کی بات ہے جب میں سروس میں تھا کہ ایک دفعہ اپنے ایک جاننے والے ڈپٹی سیکریٹری کو فون کیا۔ فون PA صاحب نے اٹھایا۔ میں درخواست گذار ہوا ، ” میں فلاں ناچیز بول رہا ہوں ذرا صاحب سے بات کرا دیں “ ۔ آگے سے جواب ملا ، ” سر جی آپ کس گریڈ میں ہیں ؟ “، شاید کمبخت نے سچ مچ ’ ناچیز ‘ ہی سمجھ لیا ہوگا۔ بس اس کے بعد تو جیسے چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔ مجھے قوی یقین ہے کہ اُس کے بعد وہ PA صاحب کسی سے گریڈ پوچھتے وقت کچھ زیادہ نہیں تو دو تین دفعہ تو ضرور سوچتے ہوں گے۔
یہ واقعہ ہماری امریکہ سے برابری اور آپ کی ظفر جعفری صاحب اور آصف بھٹی صاحب کے تبصروں پہ تبصرے سے یاد آیا۔ آصف صاحب بھی بھولے بادشاہ ہیں ، ہمیں انڈیا اپنے برابر نہیں سمجھتا اور ہم چلے امریکہ سے برابری کرنے۔ کہاں گریڈ دو کا بھکاری اور کہاں گریڈ بائیس کا ساہو کار !
جاوید اقبال کیانی صاحب نے انڈیا کی بات کی ہے کہ وہ پاکستان کو “اپنےبرابر نہیں سمجھتا “ ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ :
ایسا کیوں ؟
اور یہ سوال بھی کہ:
اگر ایٹم بم رکھنے والا پاکستان “گریڈ دو کا بھکاری “ ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟
محترم جناب منظور قاضی صاحب،
” انڈیا پاکستان کو اپنےبرابر نہیں سمجھتا ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : ایسا کیوں ؟ “
آپ کے اس سوال نے تو جیسے دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ قبلہ ، یہ اس لئے کہ جب ہم خود اپنی ہی نظروں میں گر چکے ہیں تو دوسرا ہمیں کیا جانے یا کیا سمھجے گا۔ ہماری ذلت کا آغاز ننگِ وطن جنرل نیازی کے جنرل اروڑا کے قدموں میں اپنا ریوالور پھینک کر اور نوے ہزار سپاہ کو جنگی قیدی بنانے سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔ اندرا گاندھی نے ہمارا مشرقی بازو کاٹ کر بڑے فخریہ انداز میں اعلان کیا تھا کہ ” ہم نے دو قومی نظریہ سمندر میں پھینک دیا ہے “ اور مزید یہ کہ باقی ماندہ پاکستان کو ہندوستان کو اپنے سے بڑی طاقت سمجھ کر رہنا ہوگا۔ چنانچہ مطلوبہ تابعداری کا بھرپور عملی مظاہرہ ہمارے آج تک کے سبھی حکمرانوں نے کیا ہے۔
جنرل ضیاء نے کرکٹ ڈپلومیسی اختیار کرکے انڈیا کو رام کرنے کی کوشش کی تو بے نظیر صاحبہ نے راجیو گاندھی کو بڑا بھائی کہہ کر۔ نواز شریف نے کبھی آئی کے گجرال کے تو کبھی واجپائی کے تلوے سہلائے ۔ پرویز مشرف بھلا نافرمان کیسے کہلاتا ، چنانچہ واجپائی کے کارگل کے شِکوے کشمیر پالیسی پہ بار بار کی قلا بازیوں سے دھوئے ۔ زرداریوں اور گیلانیوں پہ تو پہلے دن سے ہی اُس حسین ’ منتر ‘ کا اثر ہوگیا ہے جو من موہن جی نےمحبوبہ مفتی کی ’ چُھو ‘ سے کرایا ، جس نے پرویز مشرف والی کشمیر پالیسی جاری رکھنے کی فرمائیش کی ، جوکہ اُدھر سے کشمیری شال اور اِدھر سے سندھی اجرک کے تبادلوں سے قبولیت کو پہنچی۔
” اگر ایٹم بم رکھنے والا پاکستان “گریڈ دو کا بھکاری “ ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟
محترم قاضی صاحب ، آپ کے اس سوال کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ ہمارا ایٹم بم اب ایک مفلوج آدمی کے ہاتھ میں خنجر سے زیادہ کچھ نہیں ! اور ذمہ داری کا تعین کرنے مجھے پورا کالم لکھنا پڑے گا ، لیکن اس کا کسی حد تک جواب میں پہلے ہی اوپر کے پیرائے میں دے چکا ہوں۔
آپ کا بہت شکریہ۔
جاوید اقبال کیانی صاحب جزا ک اللہ نہایت ہی مدلل بحث کرتے ہیں مگر ہندوستان سے برابری کی بات نہیں ہورہی تھی ۔ بات ہورہی تھی امریکہ سے برابری کی ۔
انہیں یاد ہوگا کہ ایک مبصر نے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ امریکہ پاکستان سے برابری کی سطح پر برتاو اور بات چیت کرے جس پر میں نے 10 ستمبر کو یہ تبصرہ لکھ کر ظفر جعفری صاحب کا مقولہ دہرایا تھا :
منظور قاضی نے کہا ہے:
September 10, 2010 بوقت 11:54 pm
ایک مبصر نے کہا ہے کہ :
“ہم تو چاہتے ہیں کہ باہمی رشتہ یا رابطہ برابری کی سطح پر ہو“۔
مگر ظفر جعفری صاحب کہ چکے ہیں کہ :
“Beggars can not be the choosers“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برابری کی سطح پر رشتہ اسی حالت میں ہوتا ہے جب دونوں فریق برابر ہوں
۔۔۔۔۔۔۔
اس کےلیے کمزور فریق کو ہر لحاظ سے “ خود مکتفی “ ہونا پڑے گا۔
اس کے لیے کمزور فریق کو تمام صفات کے ساتھ ساتھ اسکی اپنی “ خودی کو بلند کرنا پڑے گا“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ میرے اس تبصرے میں ایسی کوئی متنازعہ قسم کی بات نہیں ہے جس پر ایک طویل بحث کی جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر کافی محققانہ انداز میں روشنی ڈالی ۔
جہاں تک ایٹم بم رکھنے والے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا معاملہ ہے اس کےلیے جاوید اقبال کیانی صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ :
“آپ کے اس سوال کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ ہمارا ایٹم بم اب ایک مفلوج آدمی کے ہاتھ میں خنجر سے زیادہ کچھ نہیں ! “
۔۔۔۔۔۔۔
توپہھر کسی مبصر کا یہ کہنا کہا ں تک درست ہے کہ :
“ہم تو چاہتے ہیں کہ باہمی رشتہ یا رابطہ برابری کی سطح پر ہو“۔
بہر کیف :
اللہ پاکستان کی حفاظت کرے : آمین
بہت شکریہ قبلہ قاضی صاحب ، یہ میرے لئے بڑے ہی فخر کی بات ہے جو ناچیز کی ہر بات پہ آپ فوراّ مہرِ تصدیق ثبت فرما دیتے ہیں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب سےعرض ہے کہ ان کی بہت ساری باتیں اتنی مدلل اور قابلِ قبول ہوتی ہیں کہ مجھے تسلیم کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ مگر ان کی جن باتوں پر میں مہر تصدیق ثبت نہی کرتا ان باتوں کو میں کھل کر ان بلاگوں میں پیش کردیا کرتا ہوں ۔( مثالوں کے لیے عالمی اخبار کے بلاگ حاضر ہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ جاوید اقبال کیانی صاحب بھی اپنےتبصرے لکھتے وقت علامہ اقبال کے اس شعر کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ :
آئینِ جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو اتی نہیں روباہی
میں جاوید اقبال کیانی صاحب سے یہ بھی بلا جھجک کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی طرح مجھے بھی حق گوئی اور بے باکی پسند ہے اور روباہی ناپسند ہے ۔
محترم جناب منظور قاضی صاحب،
اللہ کرے ہم عالمی اخبار کے پلیٹ فارم سے حق گوئی وبے باکی اور رواداری و برداشت کا ایسا قابلِ فخر نمونہ پیش کریں جو پورے معاشرے کے لئے باعثِ فخر و تقلید ہو، آمین۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کا ارشاد سر انکھو ں پر ۔
آرزو لکھنوی کا یہ شعر بھی ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ :
حد سے نہ گذر سیلاب نہ بن ، چکر میں نہ پھنس گرداب نہ بن
بن ہلکی موج مگر ایسی ، جس موج پہ دریا ناز کرے
۔۔۔۔
اب جاوید اقبال کیانی صاحب اپنا یہ بلاگ حرفِ آخر کے طور پر اپنا تبصرہ لکھکر اس کو ختم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ اسلیے کہ اس بلاگ جس کا عنوان کچھ یوں ہے کہ :
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈ ے سے دوا مانگتے ہیں
اس کا مقصد پورا ہوگیا ۔
محترم جناب منظور قاضی صاحب،
قبلہ ، میں دل و جان سے دعاگو ہوں لیکن ان دعائوں کی قبولیت پہ نجانے کیوں سوچوں میں کھو جاتا ہوں کیونکہ جب تک امریکہ باقی ہے تب تک ’ بچارا پاکستان ‘ بھی اس کا دم چھلہ ہی بنا رہے گا ۔ نہ سو پیاز ختم ہوں گے نہ سو جوتے۔ اور ہم ’ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہی رہیں گے ‘ ۔ تاہم آپکی نصیحت پہ لبیک کہتے ہوئے اس بلاگ کو موجودہ حالات کے مطابق یہیں ختم کرتا ہوں۔
عالیجاہ ، میری قدم قدم پہ راہنمائی ، پرخلوص پذیرائی اور پرجوش ہمت افزائی کا بے حد شکریہ۔
میں ممنوں ہوں جناب فرحان دانش اور جناب اکمل سید صاحب کا جو بلاگ میں پہلی بار تشریف لائے اور اپنے رنگ بکھیرے۔
میں انتہائی مشکور ہوں جناب شمس جیلانی صاحب ، جناب سید مصباح حسین صاحب، جناب عبدالمناف غلزئی صاحب، جناب آصف احمد بھٹی صاحب اور جناب ظفر جعفری صاحب کا ، جن کے جاندار تبصروں نے نہ صرف اس بلاگ کو زندہ رکھا بلکہ میرا مان اور میرا بھرم بھی قائم رکھا ، والسلام ۔