
دعائے کمیل مولائے کائینات علی ابن ابی طالب کی مشہور و معروف دعاؤں میں سے ایک ہے جس کے لئے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ حضرت خضر کی دعا ہے۔ امیرالمومنین مولا علی نے یہ دعا، کمیل بن زیاد کو تعلیم فرمائی تھی جو حضرت کے اصحاب خاص میں سے ہیں ۔ یہ دعا شب نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ میں پڑھی جاتی ہے ۔جو شر دشمنان سے تحفظ، وسعت و فراوانی رزق اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔
مجھ میں کسی نادیدہ قوت نے یہ خواہش پیدا کی کہ میں بھی اس دعا کو منظوم کر سکوں آزاد نظم میں۔ جو شاید اس طرح سے یعنی آزاد نظم کی صورت میں پہلی مرتبہ ہے کہ مولا نے جناب سیدہ سلام اللہ کے صدقے میں یہ خوش بختی مجھے دی۔ بس ایک ہی نشست میں آج 25 رمضان کو ظہر سے مغرب کے درمیان لکھی . میں آج بہت خوش ہوں کہ مولا نے میری یہ خواہش پوری کر دی اور مجھ سے دعائے کمیل کو منظوم لکھوا لیا .
اسے کوئی فن پارہ سمجھ کر نہیں ایک عشق علی کی تخلیقی خواہش سمجھ کر پڑھیں اور مجھ سمیت سب کے لیئے دعا کریں۔
دعائے کمیل آزاد نظم کی صورت میں
اے رب ! اے معبود
میں تیری پناہ میں آتی ہوں شیطان مردود سے
اور شروع کرتی ہوں تیرے ہی نام سے
تو
جو سب جہانوں کا مالک ہے
سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے
اور بڑا ہی بخشش کرنے والا ہے
اے معبود
تجھے واسطہ ہے
تیری ہی رحمت کا جو بیکراں اورہر شہ پر محیط ہے
تیری ہی قوت کا جس سے تو نے ہر شہ کو زیر نگین کیا ہے
تیرے سامنے ہر شہ جھکی ہوئی اور ہر شہ زیر ہے
تجھے واسطہ ہے
تیری جبروت کا جس سے توہر شہ پر غالب ہے
تیری عزت کا جس کے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں
تیری عظمت کا جس نے ہر چیز کو مکمل کر دیا
تیری سلطنت کا جو ہر چیز سے بلند ہے
تیری ذات کا جوہر چیز کی فنا کے بعد بھی باقی رہے گی
اے میرے رب
میری فریاد سن
میری پکار سن
میں تجھے واسطہ دیتی ہوں
تیری تمام صفات کاجنہوں نے ہر چیز کے اجزاء کو مکمل کر رکھا ہے
تیرے پاک ناموں کا جس میں صرف انعام و کرم بھرے ہوئے ہیں
تیرے علم کا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیر ے میں لے رکھا ہے
تیری ذات کے نور کا جس سے ہر چیز روشن و منور ہوئی ہے
یانور ۔۔۔ یاقدوس
اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر
خدایا ۔۔
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو تیری ناموس کو داغدار کردیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو باعث نزول بلا ہو جاتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو دعاؤں کو قبولیت سے روک دیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو امیدوں کو پورا نہیں ہونے دیتے
بس اے میرے پاک و پاکیزہ رب
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے کئے ہوں یا مجھ سے ہو گئے ہوں
اے اللہ ۔۔میرے پروردگار
میں تیری ہی یاد سے تیرے قریب آنا چاہتی ہوں
میں تیری ہی ذات کو اپنا سفارشی ہونے کی التجا کرتی ہوں
میں تیری ہی صفتوں اور مہربانیوں کو دہراتی ہوں
تجھے انہی کا واسطہ دے کر فریاد کرتی ہوں
مجھے اپنے بہت قریب کر لے یا رب
مجھے نعمتوں پر ترغیب شکر عطا کر یا رب
مجھے اپنی محبت میں فنا کر دے یا رب
میں تجھے واسطہ دیتی ہوں
ہر اس انسان کا جو تیرے سا منے عاجزی سے رویا اور گڑگڑایا
ہر اس انسان کا جو تیرے سامنے خضوع و خشوع سے کھڑا رہا
اے میرے پاک و پاکیزہ رب
میں ڈری ہوئی ، جھکی ہوئی اور گری ہوئی تجھ سے فریاد کرتی ہوں
میری خطاؤں سے چشم پوشی فرما
مجھ پر رحم فرما
مجھے توفیق دے کہ میں راضی رہوں اس پر جو تونے میرے نام کیا
مجھے قناعت عطا کر
مجھے ہر حالت میں نرم خو رہنے والا بنا دے
یااللہ
میں تیرے حضور عرض کرتی ہوں اس بندے کی طرح جو سخت تنگی میں ہو
سختیوں میں پڑا ہو اور اپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں
پر میں جو کچھ تیرے پاس ہے اس میں زیادہ کی رغبت رکھتی ہوں
اے میرے پاک پروردگار
تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے
تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے
تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے
اور
تیری حکومت سے کسی کا فرار ممکن نہیں
اے میرے سردار ۔۔ میرے معبود
تیرے سوا میں کسی کو نہیں پاتی جو میرے گناہ بخش دے
میری برائیوں کو چھپا لے اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دے
تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے
میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت سے جری ہو گئی
پر
میں نے تیری قدیم یاد آوری اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے
اے میرے مولا
کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلاؤں کو ٹالا
کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں
تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام کیں جن کی میں ہر گز اہل نہ تھی
اے میرے معبود!
میری مصیبت عظیم ہے ، بدحالی حد سے گزر گئی ہے
میرے اعمال بہت کم ہیں ، گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے
لمبی آرزوئوں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے ، دنیا نے دھوکہ دے رکھا ہے
اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھے کو مبتلائے فریب کر دیا ہے
اے میرے آقا
میں تجھے تیری عزت کا واسطہ دے کر فریاد کرتی ہوں
کہیں
میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تری نظر کرم سے دور نہ کر دے
اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کردے
میرے مالک میرے پروردگار
تو میرے ہر راز کوجانتاہے
مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر
جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا
برائی کی
ہمیشہ کوتاہی کی
اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے
اے میرے اللہ !
تجھے اپنی عزت کا واسطہ
میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما
میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے
جس سے میں سوال کروں اوراپنی مصبیت کو دور کرنے کا کہوں
میرے معبود
میرے معاملے پر نظر رکھ
میرے مولا تو نے میرے لیے حکم صادر فرمایا
لیکن
میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی مکاری سے بچ نہ سکی
اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ رکھ دیااور وقت نے اسکا ساتھ دیا
پس تو نے جو حکم صادر کیا تھا
میں نے
اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی مخالفت کی
پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ٹھہرا کہ تیری حمد بجالاؤں
اور میرے پاس کوئی حجت نہیں سوائے اس کے مان جاؤں
ہر فیصلہ جو تو نے میرے لیے کیا ہے
اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہوئی
اے میرے اللہ میں تیرے حضور آئی ہوں
جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی کی ہے
میں عذر خواہ و پشیماں ،ہاری ہوئی ، معافی کا طالبب ،بخشش کی سوالی
تائب گناہوں کا اقرار ہے مجھے ، سرنگوں ہوں
اقبال جرم کرتی ہوں
جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ
سوائے اس کے کہ اپنے معاملے میں تیری طرف توجہ کروں
اور فریاد کروں
تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے
اے میرے معبود!
میرا عذر قبول کر
میری سخت تکلیف پر رحم کر
اور بھاری مشکل سے رہائی دے
اے پروردگار
میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک ہڈیوں پر رحم فرما
اے پاک و پاکیزہ رب
تو نے ہی میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا سامان کیا
جو کبھی نیکی کی تھی اس نیکی کے تحت مجھے معاف فرما
اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب
کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب دے گا ؟
جبکہ میں تیری توحید کی معترف ہوں
اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے سرشار ہے
اور میری زبان تیری یاد میں ذکر میں لگی ہوئی ہے
اور میرا دل تیری محبت میں گرہ باندھے ہوئے ہے
کیا
اپنے گناہوں کے سچے اعتراف
اور
تیری ربوبیت کے آگے عاجزانہ پکار کے بعد بھی
تو مجھے عذاب دے گا ۔۔؟
ہرگز نہیں !
تو بلند ہے اس سے کہ جس کی پرورش کی ہو اسے ضائع کردے
جسے قریب کیا ہو اسے خود سے دور کردے
جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے
جس کی سرپرستی کی ہو
اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے
اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا
یہ بات تو میری سمجھ میں آئی نہیں
کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا ؟
جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے ہیں
ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں
اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں
ان دلوں کو جو تحقیق کے ساتھ تجھے معبود مانتے ہیں
ان کے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پرنور ہو کر تجھ سے خائف ہیں
کیا تو انہیں آگ میں ڈالے گا؟
ان اعضاء کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں
اور یقین کے ساتھ تیری مغفرت کے طالب ہیں
کیا تو انہیں آگ میں ڈالے گا ؟
اے صاحب کرم
تیری ذات سے مجھے ایسا گمان نہیں
اور نہ یہ تیرے فضل کے مناسب ہے
اے کریم اے پروردگار!
دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے
اور اہل دنیا پر جو تنگیاں آتی ہیں میں انہیں برداشت نہیں کرسکتی
جانتی ہوں کہ
اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقاء کا وقت تھوڑا اور مدت قلیل ہے
تو پھر
کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گی جو بڑی سخت ہیں
اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جن کی مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے
اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی
اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں
یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے
تو اے آقا مجھ پر کیا گزرے گی ۔۔؟
تو، تو جانتا ہے کہ میں تیری کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندی ہوں
اے میرے آقا اور میرے مولا!
میں کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں
اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں ؟
دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا طولانی مصیبت کی مدت کی زیادتی کیلئے
پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھا
اور مجھے اوراپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا
میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی
تو
اے میرے معبود ! میرے سردار! میرے مولا ! میرے رب
تو ہی بتا
کہ
میں تیرے عذاب پر صبر کر بھی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے صبر کروں گی ؟
اور
اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا
تو
تیرے کرم سے کس طرح چشم پوشی کرسکوں گی
بھلا کیسے آگ میں پڑی رہوں گی
میں تو تیرے عفو و بخشش کی امیدوار ہوں
پس
قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا
سچی قسم کھاتی ہوں
اگر تو نے میری گویائی باقی رہنے دی
تو میں
اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گی
آرزو مندوں کی طرح تیرے سامنے نالہ کروں گی
کسی ناامید کی طرح ہر سو پکار کروں گی
تیرے فراق میں دن رات گریہ کروں گی
اور کہوں گی
کہاں ہے تو
اے مومنوں کے مددگار ۔۔ اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز
اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے ۔۔اے سچے لوگوں کے دوست
اے عالمین کے معبود
میں تیری حمد کرتی ہوں
اے میرے اللہ
میں تجھے اس سے پاک دیکھتی ہوں
کہ
تو وہاں سے بندہ مسلم کی آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے
اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے
اور اپنے جرم گناہ پر جہنم سے پکار رہا ہے
تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے
اے میرے مولا!
بھلا پھر کس طرح وہ عذاب میں رہے گا
جب کہ وہ تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے
بھلا آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کا امیدوار ہے
یہ آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے
اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے
بھلا کیسے آگ کے شرارے اسے گھیریں گے جبکہ تو اس کی ناتوانی کو جانتا ہے
بھلا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے
بھلا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے
اے میرے رب
یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے
ہرگز نہیں !
تیرے بارے میں یہ گمان مجھ سے نہیں ہو سکتا
نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف مجھ سے ہے
نہ یہ توحید پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے
میر ایقین کہتا ہے کہ
اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم نہ دیا ہوتا
اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا
تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا
کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا
لیکن اے میرے رب تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی ہے
کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا
جنّوں اور انسانوں میں سے اور تیرے مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے
اور
میرے رب تو بڑی تعریف والا ہے
تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا
کہ
کیا وہ شخص جو مومن ہے وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟
یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا!
میں
تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا
تیرا فرمان جسے تو نے یقینی و محکم بنایا
تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے
تجھے تیری اسی قدرت کا واسطہ
مجھے بخش دے
بخش دے اس شب میں اور اس ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے
میرے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے
وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں
وہ نادانیاں جو میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں
میرے مالک !
علی الاعلان یا پوشیدہ ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں
اور
میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین کو حکم دیا ہے
جنہیں تو نے مقرر کیا ہے
کہ جو کچھ بھی میں کروں اسے محفوظ کریں
اور ان کو میرے اعضاء کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا
اور انکے علاوہ
خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے
حالانکہ
تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے فضل سے اس پر پردہ ڈالا
بس وہ سب معاف فرما دے
اور
میرے لیے ہر اس خیر میں وافر حصہ دے جسے تو نے نازل کیا
ہر اس احسان میں جوتو نے کیا
ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا
رزق میں جسے تو نے وسیع کیا
گناہ میں جسے تو نے معاف کیا
غلطی میں جسے تو نے چھپایا
یارب ۔۔ یا رب ۔۔یا رب۔۔ اے میرے معبود میرے آقا
میرے مولا میری جان کے مالک
اے وہ جس کے ہاتھ میں میری لگام ہے
اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف
اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر
یارب ۔۔۔ یارب ۔۔۔یارب ۔۔۔۔
میں تجھ سے
تیرے حق ہونے، تیری پاکیزگی، تیری عظیم صفات
اور اسماء کا واسطہ دے کر سوال کرتی ہوں
کہ
میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر دے
مسلسل اپنی حضوری میں مجھے رکھ لے
میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما
حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور ورد قرار پائیں
میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے
اے میرے آقا
اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے ۔۔۔
اے جس سے میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتی ہوں
یارب ۔۔۔ یارب ۔۔ یارب ۔۔۔ میرے مالک
میرے ظاہری اعضاء کو اپنی حضوری میں قوی کر دے
میرے باطنی ارادوں کو محکم و مضبوط بنا دے
مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش میں رہوں
تیری حضوری میں ہمیشہ رہنے کی آرزو کروں
تیری بارگاہ میں سابقین کی راہوں پر چل پڑ وں
تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جاؤں
تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں میں سبقت کروں
تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جاؤں
اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں
اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں
اے معبود !
جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر
جو میرے ساتھ دھوکہ کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر
مجھے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو بڑے نصیب والے ہیں
مجھے شامل کر لے ان میں جو نصیب میں بہتر ہیں
جومنزلت میں تیرے قریب ہیں
جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں
کیونکہ
تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے
تجھے تیرے ہی کرم کا واسطہ مجھ پر کرم کر
تجھے تیری اپنی ہی بزرگی کا واسطہ مجھ پر توجہ کر
تجھے تیری ہی رحمت کا واسطہ میری حفاظت کر
میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما
میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا
میری دعا قبول کر لے ، مجھ پر احسان فرما
میرے گناہ معاف کر دے اور بخش میری خطا
کیونکہ
تو نے بندوں پر عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا
اور تو نے ہی قبولیت کی ضمانت دی ہے
اے میرے پروردگار !
میں اپنا رخ تیری طرف کر رہی ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہی ہوں
میرے پاک رب اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما
میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے بندھی میری امید نہ توڑ
میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر
اے جلد را ضی ہونے والے میرے رب مجھے بخش دے
کہ دعا کرنے کے سوا میرااور کچھ بس نہیں چلتا
بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے
اے وہ جس کا نام دوا ، جس کا ذکر شفا ، اور اطاعت تونگری ہے
میرے رب
رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے
اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
اے نعمتیں پوری کرنے والے ، اے سختیاں دور کرنے والے
اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور
اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
محمد (ص) آل محمد (ص) پر رحمت فرما
مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے
اے خدا
اپنے رسول (ص) اور ان کی آئمہ میں جو صاحب برکت امام ہیں
ان پر رحمت اور ایسا سلام بھیج جیسا کہ بھیجنے کا حق ہے
ان پر سلام ۔۔سلام ۔۔سلام ۔۔ بہت بہت سلام ۔۔ ۔۔
( نگہت نسیم )

رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے
اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
اے نعمتیں پوری کرنے والے ، اے سختیاں دور کرنے والے
اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور
اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
محمد (ص) آل محمد (ص) پر رحمت فرما
مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ واہ واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی کو تو کہتے ہیں تا نا بخشد خدائے بخشندہ۔ ہم لوگ جو مسلکوں کی چکی میں پسے ہوئے ہیں اور تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں وہ اپنے ہی قائدین حقیقی کی انمول دعاؤں کے خزانے سے محروم ہیں۔ ڈاکٹر نگہت کی یہ کوشش اس امر کی جانب پہلا قدم ہے کہ ان نورانی دعاؤں کو صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی پڑھیں۔ نیت اور اعتقاد کے ساتھ تو پتھر بھی سرک جاتا ہے انسان تو بہت بڑی قوت ہے۔
اس دعا کو آزاد نظم کی صورت میں لکھنے پر اجر تو وہ دیں گے جنکی دعا ہے لیکن مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا ہے کہ یہ کام تو مجھ جیسا بھی نہ کر سکا۔۔۔۔۔ہاں یہی وہ مقام ہے جسے کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تا نہ بخشد خدائے خدائے بخشندہ۔۔۔
السلام علیکم
بہت خوب آپی ، بہت عمدہ ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
آصف احمد بھٹی
ماشااللہ۔۔۔ یہ توفیق، یہ ہمت، صرف خدا کی ہی دین ہو سکتی ہے۔ اس توفیق کے لئے نگہت صاحبہ، آپ کو مبارک باد۔
یہ دعا کیا ہے ایک سلسہ ہے حکمت کا، بیان کے احسن ہونے کا، کہ بندہ مالک سے کیسے مانگے۔۔۔۔
مجھے ذاتی طور یہ دعا بے حد پسند ہے اور خدا شاہد ہے کہ آپ کے قلم سے لکھی دیکھ کر انجانی سی خوشی ہوئی، خدا وندِ کریم آپکو اجر کثیر عطا کرے کہ آپ نے اسکو زندہ کرنے کے لئے اہم قدم اٹھایاہے۔ یقیناًہماری نجات انہیں دعاؤں سے منسلک ہونے میں مضمر ہے۔
جزاک اللہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ آپ نے اپنی خدا داد صلاحیت سے اس قدر طویل اور ُپراثر دعا کا اتنی آسان اردو میں ترجمہ کردیا۔
اللہ یہ نیک دعا سب کو مانگنا نصیب کرے اور سب کی دعاوں کو قبول کرے۔ آمین
نگہت آپی سلام مسنون۔ ایمان اور عشق مرتضوی کی جو حرارت آپ کو نصیب ہوئی ہے وہ لائق صد آفرین بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔ سبحان اللہ کہ کس خوبصورتی اور محنت سے اس مشکل کام کو آپ نے چند ساعتوں میں انجام دے دیا۔ ابھی دو پہر کو ہی تو آپ نے اس نیک کام کے ارادے کا اظہار کیا تھا اور میں سمجھ رہا تھا کہ شاید آپ کو ہفتوں درکار ہونگے اس کام کو انجام دینے کے لئے۔ لیکن جب مغربین کےبعد آپ نے بتایا کہ آپ یہ نیکی انجام دے بھی چکی ہیں تو فورا میرے دل نے صدا دی کہ یہ فیصلہ اور یہ کام فرشی نہیں ہیں، بلکہ عرشی ہیں۔ قلم بظاہر آپ ہی کے ہاتھ میں تھا، لیکن یقینا آپ کا ہاتھ کسی اور ہاتھ میں تھا۔ خدا جب کسی کو نیکی کی توفیق بخشتا ہے تو اس سے بڑھ کر مبارک و سعادت کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔ میں اس موقع پر دل کی گہرائیوں سے آپ کو مبارکباد دیتا ہوں اور عالم انوار میں آپکے لئے مزید ترقی کے لئے دعا گو ہوں۔ یہ زور قلم نہیں ہے، بلکہ احقاق الحق ہے جو صاحبان قلب منور کے سوا کوئی ادا نہیں کر سکتا۔
شاید کوئی پڑھنے والا یہ سمجھے کہ میں کسی خوشامد کا شکار ہو رہا ہوں تو صرف یہی عرض کروں گا کہ میں جو جانتا ہوں اسکا عشر عشیر لکھا ہے۔۔۔۔ بار دیگر آپکی روحانی ترقی کے لئے دعا گو بھی ہوں اور خود اپنے لئے آپ سے دعاؤں کا ملتمس بھی ہوں۔
اسلام علیکم بہن نگہت نسیم جیتی رہئے خوش رہئے ۔
دعا مانگنا دوسروں کو اُس کی طرف راغب کرنا اور دعائیں دینا ۔ یہ ایک صدقئہ جاریہ ہے ۔ اتنی حسین جامعہ اور خوبصورت دعا کو ہم تک پہنچانے کےلئے ۔اللہ آپ کو اجر دے ۔
میں اپنا رخ تیری طرف کر رہی ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہی ہوں
میرے پاک رب اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما
میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے بندھی میری امید نہ توڑ
میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر
اے جلد را ضی ہونے والے میرے رب مجھے بخش دے
کہ دعا کرنے کے سوا میرااور کچھ بس نہیں چلتا
بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے
اے وہ جس کا نام دوا ، جس کا ذکر شفا ، اور اطاعت تونگری ہے
میرے رب
بہن نگہت خوش رہئے ۔ اللہ ہم سب کی دعاؤں کو قبول کرے ۔اور ہمارے علم میں اضافہ کرے ۔ ہمیں نیکیاں کرنا آسان کر دے ، آمین
عالم آرا
ماشا اللہ ڈاکٹر صاحبہ
اے جلد راضی ہو جانے والے! اپنے اس بندے کو بخش دے جسکے پاس سوا دعا کے کوئی اور شے نہیں ہے ۔
بہن نگہت سچ تو یہ ہے کہ یہ تو وہی لکھوا تے ہیں مگر یہ بروقت ہے کہ اس وقت ملت کو دعا اور توبہ کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ میں ایک ادنٰی سا قاری ہوں ، اتنی بڑی تخلیق پر میری تعریف چہ معٰنی ،
میرا تعلق مسلمانوں کے اس مسلک سے ہے جس سے ہمارے پیارے قائد اعظم کا تھا ، جن سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ کا کونسا مسلک ہے
تو انہوں نے کہا کہ وہ ہی جو محمد (ص) کا تھا ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی ہم فرقوں میں بٹتے رہے
میں نے دعائے کمیل اپنے بچپن میں ہی سنئی تھی ، الھم اسئلک سے لیکر درود پاک تک ، کئی دفعہ آمین کہا ۔ ۔۔
اور آج آپ کی اس دعا کی نظم ایسے پڑھی جیسے پڑھ نہ رہا ہوں ، بلکہ سُن رہا ہوں ، اور بے اختیار ہر مصرے پر آمین ثمہ آمین نکلا
یہ ایک مکمل دعا ہے ، اور واقعٰی ہی یقین سے مانگی جائے تو اللہ ضرور سنے گا
اور آج کل کے حالات میں تو ہم یہ کہتے ہیں
یانور ۔۔۔ یاقدوس
اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر
خدایا ۔۔
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو تیری ناموس کو داغدار کردیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو باعث نزول بلا ہو جاتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو دعاؤں کو قبولیت سے روک دیتے ہیں
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو امیدوں کو پورا نہیں ہونے دیتے
بس اے میرے پاک و پاکیزہ رب
میرے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے کئے ہوں یا مجھ سے ہو گئے ہوں
یہ الفاظ کا انتخاب ہی نہیں ، عاجزی ہے ، جو الفاظ سے ظاہر ہے ، اور دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں ۔ ۔
اس دعا کے ہر مصرے پر یا تو یااللہ نکلتا ہے یا پھر آمین
نگہت بہن ، حق ادا کیا آپ نے اور سچی بات ہے میرا دل بھی کہتا ہے کہ یہ دعا لکھوائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ جیسے حضرت کمیل کو لکھوائی گئی تھی ۔ ۔ ۔۔ اور دن بھی جمعے کا اور پھر جمعہ ودع رمضان کریم کا ۔ ۔ ۔۔ ایسے لگتا ہے کچھ دیر آپ بھی بصرہ میں تھیں ۔ ۔ ۔
اور بس یہ کہ سکتا ہوں
آمین ثمہ آمین
نگہت بہن
جب بھی میں اس دعا کو اردو میں پڑھتا یا سناتا ہوں تو تسکین بھی ہوتی ہے ،امید بھی اور حوصلہ افزائی بھی۔
امام زین العابدین کی ایک دعاؤی کی نہایت ہی مجرّ ب کتاب ٰ صحیقہء کاملہٰ ہے جسکا اردو ترجمہ پاکسان میں اب دستیاب ہے۔ الاظہر کے پروفیسرز نے اس کتاب کو دعاؤن کا ایک نادر خزانہ قرار دیا ہے۔ میرا سارے احباب کو مشورہ ہے کہ یہ کتاب خریدیں اور پڑھیں۔
سب سے پہلے میں عشرت حسِین اوراظہر الحق کو یہاں “عالمی اخبار” کے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کی نگارشات سے ہم مستفید ہوتے رہیں گے، انشاء اللہ
نگہت بہن ! میں آپ کے اس بلاگ پر اپنا تبصرہ لکھنے کی بجائے درج بالا کے چند تبصروں کو نقل کرنے ہی پر اکتفا کروں گا کیوں کہ “اتنی بڑی تخلیق پر میری تعریف چہ معٰنی”(یہ جملہ بھی جناب اظہر الحق ہی کا نقل کر رہا ہوں)
جناب زین عباس نے کہا ہے:
خدا شاہد ہے کہ آپ کے قلم سے لکھی دیکھ کر انجانی سی خوشی ہوئی، خدا وندِ کریم آپکو اجر کثیر عطا کرے کہ آپ نے اسکو زندہ کرنے کے لئے اہم قدم اٹھایاہے۔ یقیناًہماری نجات انہیں دعاؤں سے منسلک ہونے میں مضمر ہے۔
محترم شمس جیلانی نے فرمایا ہے:
بہن نگہت سچ تو یہ ہے کہ یہ تو وہی لکھوا تے ہیں مگر یہ بروقت ہے کہ اس وقت ملت کو دعا اور توبہ کی ضرورت ہے۔
جناب اظہر الحق صاحب نے لکھا کہ :
نگہت بہن ، حق ادا کیا آپ نے اور سچی بات ہے میرا دل بھی کہتا ہے کہ یہ دعا لکھوائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ جیسے حضرت کمیل کو لکھوائی گئی تھی ۔ ۔ ۔۔ اور دن بھی جمعے کا اور پھر جمعہ ودع رمضان کریم کا ۔ ۔ ۔۔ ایسے لگتا ہے کچھ دیر آپ بھی بصرہ میں تھیں ۔
ڈاکٹر صاحبہ کی کاوش پڑھ کر تو میں اپنی عوامی زبان میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ “چھا گئے ہو تسی ڈاکٹر صاب!”
مولا آپکی یہ عظیم کاوش قبول فرمائیں۔
السلام علیکم احباب محفل
سب سے پہلے شکریہ مکرمی ڈاکٹر صاحبہ کا جنہوں نے مجھے اس بلاگ کی اطلاع دی، کیوں کہ میرا آنا جانا کم ہی رہتا ہے… شاید میں محروم رہتا اگر اطلاع نہ ہوتی.. جزاک اللہ خیر مکرمی ڈاکٹر صاحبہ
ماشاء اللہ ….. اگرچہ ڈاکٹر صاحبہ کی صلاحیتوں سے انکار نہیں لیکن مجھے بھی اتفاق ہے اس بات سے کہ یہ لکھوائی گئی ہے. “این سعادت بزور بازو نیست”
اللہ تعالی ڈاکٹر صاحبہ کے علم و عمل اور عمر و وقت میں برکت عطا فرمائے .. آمین
یقینا یہ دعاؤں کی گھڑی ہے اور ایسے وقت میں ڈاکٹر صاحبہ کی جانب سے یہ دعا پیش کرنا بروقت اور بر محل ہے.
اللہ ہر مسلمان کے حق میں اسے قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں کی فہرست میں شامل کرے .. آمین
میرے جی میں ہے کہ سب کا فردا فردا شکریہ ادا کروں جن کی دعاؤں اور یقین نے مجھے یہ حسین اور کامیاب دن نصیب کیا ۔۔ سو آپ سب کا فردا فردا تہہ دل سے ممنون احسان ہوں کہ آپ سب نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ اس کاوش کو دل میں جگہ دی اور میرے لئے دعاؤں کے خزانے انعام و اکرام میں کھول دئے ۔۔
یقین جانئے میں یہ نہیں کہونگی کہ یہ میری برسوں کی خواہش تھی دعائے کمیل کو نظم کروں کہ یہ سچ نہیں ہے ۔۔۔ خواہش ایک پل کی ہو یا ایک عمر کی اس کے پورے ہونے میں صرف ایک پل ہی لگتا ہے ۔۔ بس اس پل کی سعی مقصد حیات ہو تو ۔۔۔ میں جب کل اپنی بیٹی آمنہ کے ساتھ اس کی شاپنگ کے لئے گاڑی میں جا رہی تھی تو ساتھ ساتھ دعائے کمیل بھی پڑھ رہی تھی ۔۔۔ اور دل میں یہ خیال بھی تھا کہ جلد از جلد پڑھ لوں کی جس سے ادھار کتاب لی ہے اسے لوٹا بھی دوں اس کو بھی رمضان میں دعائیں پڑھنی ہونگی ۔۔ دعائے کمیل کو پڑھتے پڑھتے میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔۔ مجھے یہ احساس نہیں رہا کہ میں کہاں ہوں ۔۔ بس دل میں یک پل کو خیال آیا کہ اس کو منظوم کروں ۔۔ صرف ایک پل کی خواہش ایک پل میں منظور ہوئی ۔۔۔
گھر آئی نماز ظہر کے بعد دو نفل حاجت کے اد اکئے اور رب کریم سے التجا کی مجھ سے حضور کے صدقے ۔۔ مولا علی کے صدقے یہ کام مجھ سے لے لے ۔۔ جائے نماز پر ہی تھی کہ بھائی مصباح کا فون آگیا ۔۔ اور میں نے اپنی خواہش ان کے سامنے رکھ دی اور ان سے دعا لی ۔۔۔
شروع سے آخر تک وقت نے مجھے کہاں رکھا نہیں جانتی ۔۔ کئی جگہ پر رکی ۔۔سہمی ۔۔ ڈری اور کانپی ۔۔ پر ایک رحمت تھی جو میرے ساتھ رہی اور مجھ پر ساری گرہیں کھولتی رہی ۔۔۔ دعائے کمیل لکھی جاچکی تھی اور میں نڈھال ۔۔۔ پچیسیویں روزے کے افطار کے لئے ازان شروع ہو چکی تھی ۔۔
بابا کا انتظار تھا ۔۔ وہ آئے ۔۔ تو دعا انہیں نظر ثانی کے لئے بھیجی ۔۔ جب تک وہ پڑھتے رہے مجھے یوں لگا جیسے میں کٹہرے میں کھڑی رہی ۔۔ اور جب انہوں نے جی میل پر مبارکباد لکھی اور اسے فوری اشاعت کا حکم دیا تو سب سے پہلے مصباح بھائی کو خبر دی ۔۔ انہوں نے مجھے مبارکباد کے ساتھ بابا کے حکم کی تعمیل کا حکم دیا ۔۔۔
میرے مالک نے اسے قبول فرمایا اور مجھے الفت محمد و مرتضی سے سرشار فرمایا ۔۔ مجھے اس نے اپنی مہربانی سے اس قابل کیا کہ میں آپ سے یہ سب کہنے کے قابل ہوئی ۔۔۔ میری دلی تمنا ہے ہر مسلمان دعائے کمیل پڑھے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ میں نے پڑھا ہے کہ ہر مسلمان کو زندگی میں ایک بار ضرور یہ دعا پڑھنی چاہیے ۔۔۔ میری دعا ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان اسے روز پڑھیں ۔۔ روز نہ سہی ہفتہ میں ایک بار ۔۔ ہفتہ نہ سہی مہینے میں ایک بار ۔۔ مہینہ نہ سہی سال میں ایک بار ۔۔ سال نہ سہی تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھیں ۔۔
اللہ کریم آپ سب کے اقبال بلند فرمائے جو اس دعا کو پڑھ کر مجھے ثواب پہنچایااور میرے لئے صدقہ جاریہ کی راہ ہموار ہوئی ۔۔۔۔
مجھے یہ کہنے دیجئے کہ یہ دعائے کمیل میرے مولا علی کی طرف سے مجھے عیدی ملی ہے ۔۔ جس کی برکت میں آپ سب سے بانٹ رہی ہوں ۔۔۔۔
مجھے یہ کہنے دیجئے کہ یہ دعائے کمیل میرے مولا علی کی طرف سے مجھے عیدی ملی ہے
واہ واہ واہ…یہ عیدی تو آپکی ہی ہے لیکن آپ نے حسب عادت عالمی اخبار کے ذریعے کُل عالم میں بانٹ دی ہے.اسلام دراصل یہی ہے کہ جو تمہارے پاس ہے اور زیادہ ہے وہ دوسروں میں بانٹ دو.جزاک اللہ.
باسمہ تعالی
سلام علیکم
دعای کمیل کو پڑھنا ، غور کرنا اور پھر اسے عوامی زبان کی شکل میں دوسروں تک منتقل کرنا، صرف توفیق الہی سے ممکن ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ آپ لایق تبریک و تحسین ہیں کہ اللہ نے آپ کو مولی الموحدین علی ابن ابیطالب کے کلام کو عام زبان میں تحریر کرنے کی توفیق عطا کی ہے ۔
اللہ کی بارگاہ میں دست بدعاہوں کہ آپکی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان نورانی کو سمجھنے اور اللہ کے ساتھ اس خلوص کے ساتھ راز و نیاز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
آخر میں ایک بار پھر آپ کو مبارکباد عرض کرتا ہوں اور جملہ قارئين کی خدمت میں پیشگی عید مبارک کہنے کی سعادت بھی حاصل کرتا چلوں ، اس امید کے ساتھ کہ اس با برکت مہینے میں خدای سبحان نے ہم سب کی اطاعت اور بندگی کو قبول کرکے ہمیں دنیا اور آخرت میں نجات پانے والوں میں قرار دیا ہو ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہن ڈاکٹر نگہت صاحبہ آپ سے اللہ نے بڑا کا م لیا ۔ میں اس لیےبھی آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اتنی عظیم دعا کو انتہائی سادہ اور سلیس اسلوب میں منظوم کر کے آپ نے عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اس نظم کو دیکھ مجھے ’’ روضۃ الشہداء‘‘ کا ترجمہ ’’ کربل کتھا ‘‘ کی یاد آگئی۔ دیکھئے انسانوں کی بھلائی کے کام کے لیے انسان ہی منتخب ہوتے ہیں ، بہن نگہت صاحبہ اُن نیک ناموں میں سے آپ بھی ایک ہیں۔
اس دعا کے لکھتے ہی آپ کی ایک تمنا پوری ہوئی ۔یہ آپ کے ہی جملے ہیں’’میری دلی تمنا ہے ہر مسلمان دعائے کمیل پڑھے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ میں نے پڑھا ہے کہ ہر مسلمان کو زندگی میں ایک بار ضرور یہ دعا پڑھنی چاہیے ۔۔۔ میری دعا ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان اسے روز پڑھیں ۔۔ روز نہ سہی ہفتہ میں ایک بار ۔۔ ہفتہ نہ سہی مہینے میں ایک بار ۔۔ مہینہ نہ سہی سال میں ایک بار ۔۔ سال نہ سہی تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھیں ۔۔ ‘‘
سو ہم لوگوں نے اسے از اول تا آخر پڑھ لی ہے۔ انشاء اللہ اس سے ہم جیسے بہت لوگ مستفید ہوںگے۔
خدااپ کی شعری صلاحیتیوں کے ساتھ ساتھآپ کے دینی اور ملی جذبے کو جلا بخشے اٰمین
مجھے
یہ
کہنے
دیجئے
کہ
یہ
دعائے کمیل
منظوم
تخلیق
صرف
توفیق الہی
سے ممکن ہے
میں اس لیےبھی آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں
کہ
اتنی عظیم دعا کو انتہائی سادہ اور سلیس اسلوب
میں
منظوم کر کے آپ نے عوام کے سامنے پیش کیا ہے
بہت خوب آپی
بہت عمدہ
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
ماشا اللہ
بہت عمدہ
تعریف کے لیےء الفاظ نہیں ہیں میرے پاس…………….
میں اپنی نم آنکھوں کے ساتھ دعا گو ہوں کہ یہ دعا آپ کے حق میں لفظ بلفظ پوری ہو .
آمین.
میں آغا جی ، بھائی اکرام ، بھائی ترازی اور اپنی بہن سائرہ بتول کی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ سب نے مجھے دعاؤں سے نوازا ۔۔۔ اللہ سبحان تعالی آپ سب کو اپنی شفقتوں میں رکھے ۔۔آمین
اسلام و وعلیکم
ماشا اللہ جزاک اللہ سبحان اللہ۔ –
جو آپ نے لکھا اس کو سوا عطا کے اور کُچھ بھی نہں کہا جا سکتا
آپ خوش نصیب ہیں کہ خدا نے اتنا کرم کیا ،اپنی خوش بختی پر آپی آپ
جتنا بھی ناز کریں کم ہو گا –
بر ہر بات سے ہر لفظ سے مولا (ع) کی مُحبت کا اظہار ہو رہا ہے
جب کوئی ایک کسی کو بڑی شدت سے چاہتا ہے تو دوسری طرف
اثر ضرور ہوتا ہے اور دیکھ لیں کیوں کہ آپ میرے مولا (ع) کو اتنا
چاہتی ہیں تو اُن کی طرٍف سے بھی آپ کو اجازت مل گیی ہے کے لکھو
جو چاہو میری مُحبت میں اور اللہ اور اسُ کے حبیب (ص) کی رحمتیں
دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لو-
یہ دُعا ایسی ہے کہ جس کے بارے میں ، میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ اس کو صرف پڑھنے کے لیے
بھی بہت ہمت کی اور بہت حوصلے کی ضرورت ہے اس کے الفاظ ایسے ہیں کہ انسان خود کو
اُس ربِ لم یزل کے حضور کھڑے پاتا ہے
یہ دُعا جب شروع ہوتی ہے تو اُسی وقت یہ پڑھنے والے کو اُس کی اصل اُوقات اور اپنے
رب کا زور اُس کا ہر چیز ہر قادر ہونا سمجھا دیتی ہے
میں نہیں بتا سکتی کہ مُجھے اس دُعاِ عظیم کو پڑھتے ہوئے کتنا خوف آتا ہے
آپ سوچیں گی کہ یہ کیا بات کی میں نے پر سچ کہتی ہوں یہ دُعا اگر کوئی صرف الفاظ سمجھ کہ
نہیں پڑھتا تو اس کی حالت نہ قابلِ بیان ہو جاتی ہے
یہ دُعا ہم کو ہمارے ہی ضمیر کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے ہم جیسے لوگوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے
کہ اس کو با ترجُمہ پڑھیں تاکہ اصل مطلب سمجھ سکیں اور پھر اُسی طرح سے اپنے گُناہوں کا اپنے چھوٹے بن کا اقرار کر سکیں –
یہ دُعا عام طور سے مومینین کے گھروں ہر میں شبِ جمعہ کو پڑھی جاتی ہے پر یقین کریں
مُجھے بہت دڑ لگتا ہے کیوں کہ یہ دعا معافی طلب کرنے کے بارے میں ہے
توبہ کے بارے میں ہے اور توبہ کیا چیز ہے ؟ کُچھ نہیں سوا اس کے ، جس گناہ کا اقرار کر کے معافی مانگ لی گیی
وہ پھر کبھی نہ ہو پر میں تو بہت گُناہ گار ہوں پھر سے دُنیا داری میں لگ جاتی ہوں ایک بار جب میں یہ دُعا سن رہی تھی
اور میری چھوٹی بہن پڑھ رہی تھی میں روتی رہی خدا سے کیا خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی –
پھر جب میری حالت سمبھلی تو میں نے اپنی بہن سے کہا کے جی کرتا ہے کہ اس کو اب صرف تب پڑھوں جب میرا آخری وقت آگیا ہو
کیوں کہ واجب نہیں رہتا اس دُعا کو پڑھنے کے بعد کے پھر کویی دنیا داری کا ایسا کام کیا جائے جو دُنیا کو پسند
ہو پر میرے مالک میرے خدا کو سخت نہ پسند ہو-
کویی ایسا کام جومُجھے میرے رب کی نافرمانی کرنے کا مرتکب کرے، اس دعا کو پڑھنے کے بعد انسان حیوان سے انسان بننا ہے
اور پھر اُس کو کوئی حق نہیں کہ وہ انسان سے پھر حیوان بن جائے اپنی خواہشوں کا مارا ہوا انسان اپنے نفس کا غلام یہ دُعا سند ہے کہ
لے میرے مالک میں نے تجھ سے توبہ کی اپنی ہر بدکاری کے لیے اور اب میں اپنی گزشتہ تمام تر نہ فرمانیوں سے توبہ کر کے ترے حُکم کے مُطابق
تیری رحمت کے سائے میں آتی ہوں اور اب میں کبھی شیطان کو تو کیا خود کو بھی اپنی راہ کھوٹی نہیں کرنے دوں گی-
میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ خدا کا کوئی بھی بندہ اگر اس کے پورے دل اور روح کی سچائی سے ایک بار پڑھ لے
تو وہ انسان ویسا ہی پاک پو جائے گا کہ جیسا وہ اس دُنیا میں آنے کے وقت تھا گُناہوں سے اُتنا ہی محفوظ جتنا ایک نومولود اپنی ماں
کی آغوش میں ہوتا ہے-
جب یہ کہا گیا کہ میں نے اپنے نفس پر ظُلم کیا تو کیا اس کے بعد باقی کیا رہ جاتا ہے خدا نے تو ہم کو حُکم دیا کہ ہم رحم کریں
کیوں کے ہم اس کے نام لیوا ہیں اور ہم کسی غیر تو دور کی بات ہے خود اپنے ہی نفس ہر سب سے زیادہ ظُلم کرتے ہیں
کر رہے ہیں مُجھے خوف ہے اس دن سے جب میرے مولا مُجھ سے یہ کہیں گے کیا تو نے یہ دُعا بار بار نہیں پڑھی تھی
اور حیرت ہے کے اس کو پڑھنے کے بعد بھی تم نے خود کو نہیں بدلہ پھر بھی تم لوگوں کا دل دُکھاتی رہی پھر بھی تم کو
اپنا نفس عزیز رہا پھر بھی تم دُنیا کے مکروفریب میں گم رہی –
توبہ کی بعد گُناہ کرنا سب سے بڑا گُناہ ہے اور میرا خدا میرے نبی(ص) اور میرے مولا علی مجھ پر رحم کریں کہ میں نے اس دُعا کو پڑھا
سُنا سمجھا پھر بھی خود کو ایک مومن نہ بنا سکی مُجھے معاف کر دے وہ ذات کے جو میرے ہر گُناہ کے بعد بھی میری پردا پوشی کرتی ریی –
میں ہر ایک سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے لیے دُعا کریں کہ خدا مُجھے اس معافی کی توفیق عطا کر دے کے جس کے بعد گُناہ کبھی
نہ ہو اس توبہ کی توفیق عطا کر دے کہ جس کے بعد میں ظالموں میں نہ رہوں –
آپ کے لیے آپی یہ ہی کہہ سکتی ہوں کہ
خدا کرے کے آپ پر میرے علی (ع) کی عطا بنی رہے اور میرے مولا آپ
کا دل اور ضمیر ہمیشہ زندہ سلامت رکھیں اور جو جو آپ کی نیک خواہشات ہیں
سب کو نبی(ص) اور اُن کی آلِ پاک (ع) کے صدقے پوری فرمائے
(الہی آمین) –
طالبِ دُعا
ثمرین بُخاری
جزاک اللہ
بہت عمدہ تخلیق ہے یقین جانیے اردو مین منظوم ترجمہ یہ مولا علی (ع س) ہی کی دین ہے ورنہ بندہ کیا حیثیت رکھتا ہے
مولا سلامت رکھیں آپ کو
خیر اندیش
جعفر حسین ،کراچی
ثمرین میری گڑیا جیتی رہو ..اللہ سبحانہ تعالی تمہیں ہر کام میں کامیابی و ترقی عطا کرے .آمین
حسین بھائی بلاگ کی اس محفل میں آپ کو خوش آمدید .. بے شک آپ نے سچ کہا کہ یہ تخلیق مولا علی (ع س) ہی کی دین ہے ورنہ بندہ کیا حیثیت رکھتا ہے .. بے میری حثیت ایک حقیر کیڑےسے بھی کم تر ہے .. بس نسبت آل محمد کا فیض ہے جو آپ سب کے درمیاں کچھ کہنے کے قابل ہو سکی .. بھائی دعاؤں میں یاد رکھئے گا …
ڈاکٹر صاحبہ
آپ نے بجا ارشاد فرمایہ – ھم سب اسی در کے گدا ھیں اور بقولِ شاعر
یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
کچھ غلطیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ بلاگ کی اس محفل میں شرکت کر رہے ھیں – آپ کی حوصلہ افزائی کی بے حد ضرورت ہے
امید ہے اصلاح کرتی رہیں گی-
خدا آپ کو سلامت رکھے- آمین
خو ش نصیب، کہ ہما ری ایک بیٹی ایسی بھی ہے سُبحا ن اللہ پرور دگار عا لم تم کو دنیا اور عقبیٰ کے خزا نے عطا کر ے آ مین
بار بار پڑھ کر بھی دل نہیں بھر رہا ھے
منجا نب زا ئر ہ بجو