میں اکثر سوچتی ہوں کہ آخر ایسی کیا بات ہے مجھ میں جو میرے رب نے مجھے دنیا کا سب سے افضل دین عطا کیا ۔۔مجھے امت محمدی میں ہونے کی خوشخبری دی اور میری مٹی کو مسلمان مٹی سے جنما ۔۔پھر مہرباں سے بہترین ماں باپ عطا کئے ۔۔ دردمند دکھ سکھ بانٹنے والے سے بہترین بہن بھائی عطا کئے ۔۔ آگے بڑھانے والے ، محبت اور شفقت کرنے والے بہترین احباب ہمہ وقت میرے ارد گرد رکھے ۔۔۔ مجھے سب سے بہترین دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا ۔۔ بہترین دینی علم سے نوازا ۔۔بہترین ملک میں بہترین پڑوسیوں کے ہمراہ رکھا ۔۔ بہترین رفیق سفر کا ساتھ عطا کیا ۔۔ جسمانی و ذہنی سلامتی کے ساتھ بہترین اولاد دی ۔۔ عزت و وقار سے جینے کا موقع عطا کیا اور کسی کا محتاج نہیں کیا ۔۔
آخر ایسی کیا بات ہے مجھ میں ؟
جو اس نے مجھے کبھی کسی ایسی تکلیف سے آشنا نہیں کیا جسے میں جھیل نہ پائی ہوں ۔۔۔ مجھے اس نے ہر مقام پر بہترین حوصلہ اور تسلی عطا کی ۔۔ ۔مجھے انعام و اکرام سے نوازنا جیسے اسے محبوب سا ہے جو میرے آنسو گرنے سے پہلے کسی پونچھنے والے کو بھیج دیتا ہے ۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں ۔۔۔آخر مجھ میں ایسی کیا بات ہے ۔۔۔؟
سوچتے سوچتے میں اپنے اطراف میں نظر دوڑاتی ہوں ۔۔ بے رحم طوفانوں میں گھرے بے بس لوگ رونے لگتے ہیں ۔۔ بے گناہ لوگوں کا ہزاروں کے مجمع میں قتل ہونا ان کے لواحقین کے دلوں کے ہزار ٹکڑے کر جاتاہے ۔۔۔ خود کش دھماکوں میں مرتے لوگوں کے اعضا بکھر جاتے ہیں ۔۔۔ہر قدم پر ایک نیاامتحان دینے والے بے بس بے سہارا لوگ ۔۔
آخر ان میں اور مجھ میں کیا فرق ہے ۔۔ ؟
سوچے جاتی ہوں ۔۔ دھیرے دھیرے جیسے سب پرتیں کھلتی جاتی ہیں ۔۔ میرا رب توکل کائینات کا مالک و مختار وہ جس کو چاہے آزمائش میں ڈال دے ۔۔۔ جس کو چاہے دے کر آزما لے جس سے چاہے چھین کر آزما لے ۔۔۔
اوہ !
تو فرق فقط اس کی مہربانی اور محبت کا نکلا ۔۔۔ وہ آج مجھ پر مہربان ہے ۔۔اس کی نظر کرم مجھ پر ہے ۔۔۔ لیکن کب تک ۔۔؟ ایک جھرجھری کے ساتھ میری آنکھوں میں پہلے کے سوچے ہوئے سارے نا مہرباں منظر گھوم گئے ۔۔۔ بے اختیار زبان سے نکلا ۔۔ نہیں مالک مجھے اپنی آزمائش میں نہ ڈالنا ۔۔ میں اتنا حوصلہ نہیں رکھتی ۔۔۔ گھبرا کر توبہ استغفار کرتی ہوں ۔۔
میرے عزیز بہن بھائیو میں نے آج سوچا ہے کہ اس ماہ مبارک میں ایک شب ایسی بھی عبادت کی جائے جس میں اپنے رب سے کچھ نہ مانگا جائے ۔۔ بس اس کا قصیدہ ۔۔اس کی مہربانیوں کا تذکرہ اور شکر ادا کیا جائے ۔۔ صرف شکرانے اور آنسوؤں کے نذرانے ۔۔۔

بہن نگہت اس سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں ہو تی وہ بنا مانگے بھی دیتا ہے بشرط ِ کہ “ بندے کے تعلقات اس سے بہتر ہوں“اب رہا یہ کہ وہ دونوں کو دیتا ہے ،لےکر بھی آزما تا ہے اور دیکر بھی یہ چونکہ خود اس نے قرآن میں فرمادیا کہ میں دونوں طریقے استعمال کر تا ہوں کہ چھین کر بھی آزما تا ہوں اور دیکر بھی آزما تا ہوں یہاں ایک بہت ہی باریک نکتہ ہے کہ اگر بندے کےتعلقات اس سے اچھے ہیں اور وہ کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا گیا ہے تو یہ ابتلا (آزمائش)ہے اور اگر تعلقات خراب ہیں یعنی بندہ نا فر مان ہے تو عذاب ہے ۔ اور یہ ایک ایساراز ہے جس کو مالک جانتا ہے یا بندہ؟ البتہ جب وہ دے کر آزما تا ہے تو اس کے لیئے ایک حدیث شریف ہے کہ حضور (ص) نے فرمایاکہ وہ فلا ح پاگیا صحابہ کرام(رض) نے پوچھا کون؟ ارشادفرمایا وہ جس کو علم ِدین عطا ہوا اور اس نے لوگوں تک پہونچا یا اور جس کو مال عطا ہوا اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جس کو اللہ نے مال کے ساتھ قنا عت بھی عطا فرمائی۔ اب لوگ کہیں گے وہ کفار کو کیوں دیتا ہے اگر وہ فری طور پر سزا دیکر کفر کو ختم کردے تو پھر اسلام کی پہچان کیا ہو گی ۔دوزخ کس سے بھری جا ئیگی جبکہ اس نے دونوں کو رزق دینے کا وعدہ کر رکھا ۔ اور دونوں کی غذا بھی علیحدہ علیحدہ ہے۔
بہن جی اجازت ہو تو عرض کروں:
1 – اللہ تعالٰی عادل ہے، اس لیے کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا
2 – اللہ تعالٰی عادل ہے، اس لیے کسی کو بلا وجہ انعام نہیں دیتا
3 – اللہ تعالٰی عادل ہے، اس لیے کسی کو بغیر خطا کے سزا نہیں دیتا
4 – اگر آپ صحت مند ہیں یا بیمار، اگر آپ امیر ہیں یا غریب، اگر آپ جوان ہیں یا پیر، اگر آپ طاقتور ہیں یا کمزور ہر حال میں یہ زندگی آپ کے لیے ایک امتحان ہے، یہ دنیا نہ جنت ہے کہ اس میں مزے لوٹے جائیں اور نہ ہی جہنم ہے کہ اس کے مصائب کو ابدی اور ختم نہ ہونے والا سمجھ کر واویلہ کیا جائے، یہ صرف اور صرف امتحان ہے- کس کو غربت سے اور کس کو امارت سے آزمایا جائے، کس کو تندرستی اور کس کو مریض کرکے پرکھا جائے، یہ اللہ صاحبِ عز و جل کا فیصلہ ہے اور وہی ان تفصیلات کو خوب جانتا ہے-
5 – آپ کے سوال کا جواب میرے کم علم کے مطابق یہ ہے کہ آپ کو جو کچھ بھی عطا ہوا وہ
—- الف – اس لیے کہ آپ کو پرکھا جائے کہ آپ ان نعمتوں کا شکر کتنا اور کس طرح ادا کرتی ہیں اور
—- ب – یہ عطا اس لیے ہوئی کیوں کہ عالم الارواح میں آپ کی پاکیزہ روح نے اللہ تعالٰی جل جلالہ کی توحید، محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بنوت اور علی مرتضیٰ علیہ السلام کی ولایت کا اقرار کیا تھا.
یاد رہے کہ سزا اور جزا صرف اسی دنیا تک ہی محدود نہیں، یہ بھی مدٖنظر رہے کہ انبیا و ائمہ علیہم السلام کو جن خوفناک ترین مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہم ان کو سزا نہیں کہہ سکتے، اور یہ کہ نمرود، فرعون اور یزید وغیرہ ملعونین نے اگر شاہانہ آرام و آسائش کی زندگی گزاری تو وہ اللہ کا انعام اور جزا ہرگز نہ تھی- اس جہاں میں یہ سب کچھ امتحان ہے لیکن اگلے جہاں میں سزا اور جزا کا صحیح مطلب ہمارے سامنے آئے گا- وہاں یزید لعین آرام دہ تخت پر نہیں بلکہ جہنم کی کالی آگ میں جل رہا ہو گا اور وہاں امام حسین علیہ السلام تین دن کی بھوک اور پیاس کے بعد اپنے کنبہ کو قتل ہوتا نہیں دیکھیں گے بلکہ جنت کے سردار ہوں گے آپ کے بابا علی علیہ السلام ساقیء کوثر ہوں گے، تب ہم اللہ کریم کا عدل سمجھیں گے اور ان تمام سوالات کا جواب بھی جان جائیں گے جو آج یہاں اس دنیا میں ہمارے چڑی جیسے دماغ میں (ایک جرمن محاورہ) ابھرتے ہیں.
یا اللہ ہم سب کو حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ ابلیس ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ غرق ہونے والے ملعونوں کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ نمرود ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ شداد ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ جالوت ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ فرعون ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ ابلیس ملعون کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ مکہ کے مشرکین ملعونین کے
یا اللہ ہم سب کو حضرت علی علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ ان کے مخالفین کے
یا اللہ ہم سب کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار کرنا نہ کہ یزید ملعون کے . . . . . آمین، الٰہی آمین
یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
علی سے آکے لڑے اور خطا کہیں اُس کو
یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس کو . . . . مرزا غالب
شمس بھائی اور مناف بھائی آپ سب کی مجھ گنہگار کی راہنمائی میری عاقبت کو سنوار رہی ہے .. جزاک اللہ ..
بھائی میں بس یہ چاہتی ہوں کہ ہم سب لوگ مل کر اس رب کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں کڑوڑوں لوگوں سے بہتر رکھا .. میں کسی اور کا تو نہیں کہہ سکتی لیکن اپنا درد کہہ سکتی ہوں کہ میں اس کی بہت کم شکرگزاری کرتی ہوں …ہمارے رب جہاں کی یہ ادا بھی تو کتنی نرالی ہے کہ جو زیادہ شکر ادا کرتا ہے اس پر وہ زیادہ مہربان رہتا ہے .. وہ کس کس طرح سے دینا چاہتا ہے سوچتی ہوں تو حیران رہ جاتی ہوں … .. دعاؤں کو تو ہر وقت ہی جاری و ساری رہنا چاہئے کہ جانے کب وہ کس کی دعا کس کے حق میں قبول فرما لے .. میں دنیا کے ہر شخص کے لئے چاہے جسے میں جانتی ہوں یا نہیں سب کی بھلائی اور خیر مانگتی ہوں اور اس توفیق پر اللہ کریم کی شکرگزار ہوں … اللہ تعالی ہم سب کو اپنے شکرگزاروں رکھے ..آمین
محترمہ بہن !
صرف مجھے ہی کیا ہم میں سے ہر ایک پر یہ بات واضح ہے کہ مثلاً یہ بلاگ آپ نے سوال پوچھنے کے لیے شروع نہیں کیا بلکہ ان بلاگز کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کوئی موضوع کبھی سوال کی شکل میں یا عام طریقہ سے کھولا جائے تاکہ اس پر بات چیت ہو، مختلف نکتہائے نظر سامنے آئیں، کچھ سیکھنے سکھانے کا موقع ملے وغیرہ.
کسی سکول میں استاد نے شاگردوں سے پوچھا کہ “بتاؤ پاکستان کس نے آزاد کروایا ؟” تو
ایک شاگرد بولا کہ “استاد جی ! اگر آپ نہیں جانتے تو ہم سے پوچھنے کی بجائے کتاب کھول کر خود کیوں نہیں پڑھ لیتے ؟؟؟”
اب مذاق ختم اور ایک سنجیدہ بات،
اور وہ یہ کہ
اپنی دُعاؤں میں ہمیں بھی ضرور یاد رکھئیے
بہن نگہت تمہاری یہ خوبی کیا کم ہے کہ تم سب کا بھلا چاہتی ہو۔ اُس حدیث میں تین با تیں بیان کی گئیں ہیں جو میں نے پہلے بیان کی تھی۔ ایک کے تو گواہ ہم سب ہیں کہ اللہ نے تمہیں دین کاعلم دیا ہے اور تم بانٹ رہی ہودوسری صفت بھی کم ازکم میں تو قیافے سے اخذ کر سکتا ہوں کہ تم میں قناعت ہےجبھی تو سارے دن مفت میں علم پھیلاتی ہو ورنہ مزید ڈالر کمانےکیے پیچھے بھاگتیں ۔تیسری شرط مال ہے وہ بھی تم خود ہی کہہ رہی کہ ہم لاکھوں سے اچھے ہیں۔لہذا اس حدیث کے مطابق جس میں یہ تینوں صفات ہوں وہ فلاح پاگیا۔ اب رہی شکر کی بات تو یہ احساس کیا کم ہےکہ میں شکر کم کرتی ہوں؟ سورہ ابراہیم کےپہلے رکوع میں یہ ضرور فرمایا ہے کہ جو زیادہ شکر کر تا ہے میں اس کو زیادہ دیتا ہوں اور جو کفر کرتا اس کے لیئے وہیں عذاب شدید کی وعید ہے۔لیکن اللہ کو جوبات پسند ہے کوہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور(ص) نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نےکہاکہ اے اللہ میں تیرا شکر ادا کر نے سے قاصر ہوں۔ تو اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے فر مایا کہ موسیٰ آج تم نےمیرا شکر ادا کیا۔ اور ایک خوبی تم میں یہ ہے کہ ناراض نہں ہوتی ہواور یہ غصہ کو ضبط کیئے بغیر ممکن نہیں ہے۔اور قرآن می “ کا ظمینات غٰیض “ کی بہت تعریف آئی ہے۔ بس اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تمہیں خوش رکھے۔(آمین)
شمس بھائی آپ کے اس تبصرے نے مجھے رلا دیا .. یہ سب بھرم ہیں جو میرے پاک رب نے اپنے حبیب کے صدقے رکھے ہوئےہیں ورنہ میں کیا میری اوقات کیا .. بس مجھے آپ سب اپنی دعاؤں میں یا درکھئے گا .. اللہ سبحانہ تعاالی اپنے ان بندوں میں ہمیں رکھے جن پراس کا کرم ہوا … آمین
شمس بھائی جب آپ اللہ تعالی کو سبحانہ تعالی لکھتے ہیں تو مجھے بہت ہی اچھا لگتا ہے ..ایسے لگتا ہے جیسے اس کی بزرگی کے اقرار کے ساتھ والہانہ سی عقیدت چھلکی پڑتی ہے .. اللہ کریم ہم سب کو اپنے رب سے ایسی ہی محبت کرنے کی توفیق عطا کرے جیسا کہ اس کا حق ہے …آمین ثم آمین
مناف بھائی چلئے کسی طرح آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تو آئی .. جی بھائی آپ ہمیشہ میری دعاؤں میں رہتے ہیں … اور انشاللہ رہیں گے ..آپ بھی ہم سب کو یاد رکھئے گا .
آسلام علیکم و رحمۃاللہ محترم بھائیو اور بہن نگہت
نگہت بہن آپ کے بلاگ نے شکر کی طرف مزید راغب کیا اور محترم بھائیوں کے تبصروں نے سر شار کر دیا ۔
علم وہ دولت ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتی اور یہ الہٰہمی علم بانٹنا تو ثواب ہی ثواب ہے ۔جو آپ سب کما رہے ہیں ۔اور ہم گنہگار اسے پڑھ کر اپنی عاقبت کی طرف متوجہ ہیں ۔جزاک اللہ خیر
اللہ رب العزت اپنے بندوں پر ستر ماؤن سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔وہ تو عطا ہی عطا ہے ۔دکھ اور تکلیف تو ہم اپنے ہاتھوں اُٹھاتے ہیں ۔اپنے اعمال سے کہ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ۔وہ رحمٰن ہے اور رحیم بھی ۔یعنی سارے رحمت کے خزانے اُس کے پاس ہیں اور وہ ان کو بانٹتا بھی ہے ۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابرٰ ھیم علیہ السلام نے دعا کی تھی جس کا مفہوم ہے کہ میری نیک اولاد کو نعمتیں عطا کرنا تو اللہ رحیم و کریم نے فرمایا کہ دونگا تو نا فرمانوں کو بھی ۔مگر انہیں آگ کی طرف کھینچ لونگا ۔اور یہ ایک بات ہی آنکھیں کھول دینے کو کافی ہے ۔
ہم اُس رحیم و کریم مالک کی جتنی بھی حمد و ثناء کریں جتنا بھی شکر ادا کریں ۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوگا ۔ مگر جنہیں یہ احساس رہتا ہے کہ ہم کم شکر کرتے ہیں میرا رب اُسے یقیناََ بہت زیادہ کر کے قبول کرے گا کہ اُس کی شان کریمی یہ ہی ہے ۔اور یہ شعور کہ ابھی کمی ہے ، ایمان ہے ۔ ا ور جن میں یہ شعور ہے وہ خوش قسمت ہیں کہ یہ چبھن ہی ہمیں مزید بھلائی اور خشوع و خضوع کی طرف
راغب کرنے کا زریعہ بنتی ہے ۔
کہیں پڑھا تھا کہ جب اپنی کوتاہیاں چبھنے لگیں تو سمجھو کہ تم مو من ہو ۔ اللہ رب العزت ہم سب کے شکر کو قبول فرما ئے ،ہماری عبادات کو قبول کرے اور ہمیں اپنے نیک اور شکر گزار بندوں میں شامل رکھے ۔
محترم شمس بھائی اور عبدامناف بھائی کی باتیں دل میں اتر جاتی ہیں ۔اور بہن نگہت آپ کا علم اللہ اس میں مزید اضافہ کرے ، مجھے ہمیشہ متوجہ کرتا ہے ۔
میں اور تمام شکر کے ساتھ اپنے رب کا اس بات پر بھی شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے باعلم رہنے کا ایک اور زریعہ نصیب فرمایا ۔صد شکر یا اللہ رحمٰن و رحیم ۔
میرا علم نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے اگر کوئی بات تصیح طلب ہو تو ضرور کھلے دل سے کیجئے گا ۔
اللہ ہمیں اپنی تمام عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی مزید توفیق عطا کرے ۔اور ہمارے شکر کو قبول فرمائے ۔
اور جو اس کی عطا کردہ نعمتیں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں اللہ ہمیں اُن پر بھی شکر کرنے کی توفیق سے نوازے آمین
اللہ کریم ہم سب کو دین اور ایمان پر قائم رکھے اور سراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
اللہ میرے ملک پر رحم کرے ۔آمین
عالم آرا
عبد المناف بھائی آپ کے نام میں سہو ہوگیا ل پرنٹ نہ ہوسکا ۔
امید کہ در گزر کرینگے ۔
اللہ آپ کو خوش رکھے ۔
عالم آرا
محترمہ بہن عالم آرا صاحبہ
میرے لیے یہی کیا کم ہے کہ آپ نے میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی تعریف کی
مجھ کم علم کو عزت بخشی،
“ل” پرنٹ ہو یا نہ ہو مجھے اس کی کیا فکر ؟
میرے لیے آپ کے ایمان، آپ کے جذبات اور آپ کے افکار کی اہمیت ہے
بس دُعاؤں میں ہرگز نہ بھولیے
السلام علیکم
آپی ، آپ کی بات واقعی درست ہے ، ہر شخص مسلسل آزمائش سے گزر رہا ہے ، کوئی نعمتوں سے معمور ہو کر اور بے کس و مجبور ہو کر ، آتی ہے دم بدم صدا ’’ کن فیکون ‘‘
آصف احمد بھٹی
اسلام علیکم بھائی عبدالمناف خوش رہئے ۔
میرے بھائی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا ۔
میرے دل کی بات پوچھیں تو مجھ جیسا کم علم بھی شاید ہی کوئی ہو ، یہ جو کچھ لکھ دیتی ہوں اُس مالک کل کا کرم ہے ۔ورنہ من آنم کہ من دانم ۔
بس یہ خواہش رہتی ہے کہ جو اچھی بات زہن میں آئے دوسروں تک بھی پہنچے ۔اور اس بات پر اپنے اللہ رب العزت کی شکر گزار ہوں کہ اُ‘س نے آپ سب جیسے ساتھیوں ۔بھائیوں اور بہنوں کا ساتھ دیا ۔جو غلطی پر ٹوکتے اور اچھائی پر سراہتے ہیں ۔جزاک اللہ خیر ۔
شمس جیلانی بھائی کی ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں متعارف کرایا اور آپ سب نے ہمت افزائی کی ۔اللہ ہم سب کو سچائی اور حق پر قائم رکھے ۔آمین
محترم آصف بھٹی بھائی آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ ہر کوئی آزمائش سے گزر رہا ہے “ کہ یہ میرے اللہ کا حکم ہے کہ وہ ہمیں آزمائے گا دے کر بھی اور لے کر بھی ۔اور جو اُس کے نیک بندے ہیں وہ عطا پر ہر دم شکر گزار رہتے ہیں اور جو کچھ انہیں نہیں ملتا اُس پر صبر کر کے اُس کے صابر بندوں میں شمار ہوتے ہیں اور صبر کرنے کا اجر پاتے ہیں ۔بس غور و فکر ضروری ہے ۔
بہن ماریہ علی آپ کہاں ہیں ؟ اللہ آپ کو خوش رکھے آپ کے تبصرے کافی دن سے نہیں پڑھے ۔کمی محسوس ہو رہی ہے ۔
اللہ ہم سب کا اور ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔
عالم آرا
نگہت بہن بات یہ ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ عالم معنوی کی طرف قدم بہ قدم ترقی کرتی جا رہی ہیں اور ہم ہیں کہ ہست و بود سے نہیں چھٹ پا رہے۔ آپ کے یہ ضمیر جھنجوڑ دینے والے سوالات دعائے کمیل ہی کی تو بازگشت ہیں جو آپ کے دل میں جگہ پا چکے ہیں اور چشم عالم کو ذرا اس پار تک بھی لے جاتے ہیں جہاں سے حقیقت میں لطفِ خداوندی کا منظر نظر آنے لگتا ہے دل خود بخود مصلائے جان پر سجدہ شکر بجا لاتا ہے۔
محض برکت کی غرض سے اسی دعا کے چند الفاظ دہرا رہا ہوں جو آپ کے سوال پر مصدق ہیں۔
اَللّٰھُمَّ مَوْلاَیَ کَمْ مِنْ قَبِیحٍ سَتَرْتَہُ٠ وَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ الْبَلاَءِ آقَلْتَہُ٠ وَکَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَہ٠ وَکَمْ مِنْ مَکْرُوہٍ دَفَعْتَہ٠ وَکَمْ مِنْ ثَنَاءٍ جَمِیلٍ لَسْتُ آھْلاً لَہُ نَشَرْتَہُ ٠
میں ترجمہ نہیں لکھوں گا کہ مجھے سے زیادہ احسن اور خوبصورت ترجمہ آپ منظوم کر چکی ہیں۔
فَبِاَیِ اٰلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن ۔
اور تم اپنے رب کی کون کون سے نعمتیں جھٹلائو گے ؟
ڈاکٹر صاحبہ، ہم اپنے رب کی کون کون سے نعمت کا شکریہ ادا کر پائیں گے ۔ ساری عمر سجدے سے سر نہ اُٹھائیں ، ایک سیکنڈ یعنی ایک سانس کا ہی شکر ادا نہیں کر سکتے تو چوبیس گھنٹے اور پھر یہ پچاس ، ساٹھ برس کی پوری عمر ! سبحان اللہ
جہاں ایک رات اسے کچھ مانگنے نہیں بلکہ صرف اس کے شکرانے کا تعلق ہے تو یہ بھی کہیں اس کی ناراضگی کا باعث نہ بنے کیونکہ اسے وہ بندہ سب سے زیادہ پسند ہے جو حقِ بندگی ادا کرتے ہوئے ہر وقت محض اسی سے مانگتا رہے کہ کفر اور شرک کی اصل نفی یہی ہے۔
جہاں ہم ایک رات اس کی بندگی اور شکرانے میں گذاریں وہاں اس غفور و رحیم سے یہی دعا مانگیں کہ وہ ہمیں مانگنے کا سلیقہ عطا کرے، آمین۔
بہن نگہت ۔اس نے اپنی قادر کلامی کی بنا پر سارے الفاظ تو خود ہی اپنی تعریف میں استعمال فرما لیئے ہیں اور فرمادیا کہ “ اگر سارے دنیا کےجنگل قلم اور سارے سمندر روشنا ئی بن جا ئیں تو بھی میری تعریف رقم نہیں ہو سکتی “جبکہ حضور اکرم (ص ) جو سب سےزیادہ علم لے کر دنیا میں تشریف لا ئے تھے۔ انہوں نے بھی بےبسی سے فرما دیا کہ “ میں تیری ویسی تعریف نہیں کر سکتا جیسی کہ تو نے اپنی بذاتِ خود فرمائی ہے “ تو پھر ہم ا متیوں کی بساط کیا ہے؟یوں تو اس کے سارے ہی اسم ،اسما ئے حسنہ ہیں ان میں سے “سبحان “ مجھے سب سے اچھا لگتا ہے اور اسی لیئے اس کے اسم ِخاص ساتھ سبحانہ تعالیٰ لگا دیتا ہوں۔ جو مجھے بہت پیارا لگتا ہےکیونکہ اس لفظ کے استعمال کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے۔ رہی دعا تو آپ ہمیشہ شامل رہتی ہیں اور یہ ہی آپ سے درخواست ہےکہ آپ بھی اپنی دعاؤں میں مجھے شامل رکھیں۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم سب نے اس حقیقت کو پا لیا کہ اصل مہربانی ہمارے پاک رب کی ہے جس نے ہم سب کڑوڑوں سے بہتر رکھا ہے ۔۔ مصبیت بھی ڈالتا ہے تو راہنمائی کے ساتھ ۔۔۔ اللہ اللہ ۔۔۔ شکرانہ اور بس شکرانہ ۔۔۔ اللہ کریم ہم سب کو اپنے شکرگزاروں اور ایک دوسرے کے خیر خواہوں میں رکھے ۔۔آمین