’ اُٹھ غافل دِلا ‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ارشاد عرشی ملک

لیلتہ القدر کے بابرکت موقع پر ارشاد عرشی ملک کا ایمان افروز کلام۔

اُٹھ غافل دِلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بٹ رہی ہے دِید کی خیرات اُٹھ غافل دِلا
آج شب جلوئوں کی ہے برسات اُٹھ غافل دِلا

چل نہیں سکتا تو اس در تک گھسٹ کر ہی پُہنچ
گر نہیں جھولی تو پھیلا ہاتھ اُٹھ غافل دِلا

اپنے خالق سے تری یہ بے رُخی اچھی نہیں
یاد کر اپنی ذرا اوقات اُٹھ غافل دِلا

انتشارِ نُور ہے تو بھی نہا غوطے لگا
خوب دھو دل پر جمی ظلمات اُٹھ غافل دِلا

ہوسکے تو وار دُنیا اس پہ نقدی جان کی
آج شب گذرے گی اِک بارات اُٹھ غافل دِلا

آج کی شب جاگنا چوکس بھی رہنا ہے تجھے
آج شب بنتی ہے بگڑی بات اُٹھ غافل دِلا

کچھ بھی دامن میں نہیں گر پیش کرنے کے لئے
خوب ٹوٹے دِل کی ہے سوغات اُٹھ غافل دِلا

آج رو اور ضبط کی ساری حدوں کو توڑ دے
آج قابو میں نہ رکھ جذبات اُٹھ غافل دِلا

آج کی شب عرضِ غم کے واسطے کیا خُوب ہے
پیش کر تفصیل سے حالات اُٹھ غافل دِلا

آج کی شب جاگ لے عرشی خدا کے واسطے
قبر میں سونا ہی ہے ہر رات اُٹھ غافل دِلا

45 thoughts on “’ اُٹھ غافل دِلا ‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ارشاد عرشی ملک”

  1. ’ لیلتہ القدر کے موقع پر نفس سے خطاب ‘ بھی محترمہ کا مزید روح پرور کلام حاضر خدمت ہے :

    سُستیاں چھوڑ دے اُٹھ باندھ کمر آج کی رات
    آج تھکنا نہیں مغرب تا فجر آج کی رات
    رات جھکنے کی ہے جھکنے سے نہ ڈر آج کی رات
    جھک گئے دیکھ شجر اور حجر آج کی رات
    کتنا آساں ہے بلندی کا سفر آج کی رات
    دیکھ کیڑوں کے بھی اُگ آئے ہیں پَر آج کی رات
    خوب ہے کیمیاء دانی کا اثر آج کی رات
    سنگ کیسے بھی ہوں بنتے ہیں گوہر آج کی رات
    فضل مولا کا ہو اور اذنِ سفر آج کی رات
    تو ملائک سے بھی بڑھ جائے بشر آج کی رات
    آنکھ لگتی نہیں عاشق کی تو لمحہ بھر بھی
    اور کب جاگے گا جاگا نہ اگر آج کی رات
    دائیں بائیں وُہی دُنیا ، وہی دُنیا کے مکر
    دیکھ سجدے سے اُٹھانا نہیں سر آج کی رات
    غافلوں میں وہ کہیں نام نہ لکھ لیں تیرا
    غول آئے ہیں ملائک کے اُتر آج کی رات
    آج کی رات عمل کی ہے دلیلوں کی نہیں
    چھوڑ دے ساری اگر اور مگر آج کی رات
    بے خبر رات یہ رونے کی ہے سونے کی نہیں
    چھوڑ آسائیشیں ، بستر سے اُتر آج کی رات
    آج طبیعت کی خرابی کے بہانے نہ بنا
    خُوں رُلائے گا تجھے تیرا مکر آج کی رات
    آج جو عشق میں مر جائے وہ جی اُٹھے گا
    کوئی چاہے تو ملے عُمرِ خضر آج کی رات
    آج مُڑتا نہیں خالی کوئی در سے اس کے
    آ ہی پہنچا ہے تو نادان ٹھہر آج کی رات
    یوں تو ہر حال میں اچھے ہیں ہنسی سے آنسو
    گریہ زاری کا بڑا مول ہے پر آج کی رات
    مرتبے آج سبھی لے گئے رونے والے
    جن کو آتا تھا تڑپنے کا ہُنر آج کی رات
    اس کو حق ہے وہ کرے ناز سو جتنا چاہے
    طے کیا جس نے اجالوں کا سفر آج کی رات
    مری خاموش دعا چیخ ہے سناٹے میں
    لفظ گونگے ہیں مری چشم ہے تر آج کی رات
    نور ہی نور بنا دے میرے مولا مجھ کو
    مرے آنگن میں اُتر آئے قمر آج کی رات
    تری جانب سے ملے کوئی اشارہ پیارے
    کاش آجائے تسلی کی خبر آج کی رات
    مری تقدیر سنور جائے جو رحمت ہو تری
    لیلتہ القدر میسر ہو اگر آج کی رات

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔

  2. مرحبا محترمہ ، یہی دعاعیہ کلام ہر ایک کی تمنا ہے اور میری دلی دعا بھی ۔

    میں سب سے پہلے آپ ، پھر مسلمانانِ عالم ، عالمی اخبار کی انتظامیہ ، بلاگرز ، مبصرین اور قارئین کے لئے اس بابرکت رات کے حصول اور ان کی دلی تمنائوں کی برآوری کے لئے دل سے دعاگو ہوں اور بالخصوص اپنے پیارے وطن ، جو ہمیں لیلتہ القدر کا ہی تحفہ ہے ، میں امن ، سلامتی ، خوشحالی اور ایک سچی ، ایماندار اور مخلص قیادت کا بھی، آمین ، ثمہ آمین ۔

  3. محترم جاوید اقبال کیانی صاحب

    لیلۃالقدر کے موضوع پر مشتمل ان نظموں کو بلاگ کی زینت بنانے کا شکریہ۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔اورہم سب کو لیلۃالقدر نصیب کرے۔

    اور ہم رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام تک اپنی سب اندرونی آلائیشوں کو دھو کر پاک صاف ہو کر نکلیں

    ولسلام

    عرشی ملک

  4. میں عرشی صاحبہ کی اور جاوید اقبال کیانی صاحب کی دعاوں پر آمین کہتا ہوں۔

  5. شبقدراے مسلمانوں
    آو رب کے حضوردعاکریں
    لتو ہے خالق یہ کائنات تیری
    تو مجید و شہید و باقی
    تو ہی قہار ہے غفور
    پاعث و رافع و علی ہے
    ہے رقیب و مجیب ذات تیری
    تو لطیف و خبیر ہے اے رب
    تو معز ہے والی ہے
    تو احد ہے صمد ہے ہادی ہے
    تو کبیر و حکیم ہے مالک
    تو جلیل و حلیم ہے مالک
    ہر مرض کی دوا
    ہے تو ذوالجلال ولا اکرم
    لطف بندون پہ ہے کمال تیرا
    تو ہی اول ہے توہی آخر
    تو ہی قادر و روف و غنی
    ہم پہ آئے نہ کوئی افتاد
    تجھ سے ہی مانگتے ہیں امداد
    اے خدا تجھ سہی مانگتے ہیں
    تیرے پنجتن کا واسطہ دیتے ہیں
    بھر دے چھولیاں ہماری تو
    کیوں کہ تو ہی رزاق تو قابض ہے

  6. ہم پہ آئے نہ کوئی افتاد
    تجھ سے ہی مانگتے ہیں امداد
    اے خدا تجھ سہی مانگتے ہیں
    تیرے پنجتن کا واسطہ دیتے ہیں

    مرحبا و خوش آمدید اکمل سید صاحب
    ” ہم پہ آئے نہ کوئی افتاد “ آمین ، ثم آمین شاہ صاحب۔ اور جو افتاد ، قدرتی بھی اور ہماری اپنی پیدا کردہ بھی ، آئی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اپنے کرم ، اپنے پیارے حبیب (ص) اور لیلتہ القدر کے صدقے اسے نجات دے۔

  7. شکریہ جناب منظور قاضی صاحب ۔ میرا پختہ یقین ہے جن دعائوں میں جتنے زیادہ آمین کہنے والے ہوں وہ ، آمین کہنے والوں کے درجات میں بلندی کے علاوہ ، عرش معلیٰ پہ قبولیت میں بھی ارفعٰ مقام پاتی ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔

  8. محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
    یہ بڑے نصیبوں کی بات ہے جو ایک بہت ہی مقدس موقع پہ آپ کا بھیجا ہوا ” عرشی کلام “ مجھے عالمی اخبار کی بلاگ فیملی تک پہنچانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اللہ رب العزت آپ کے دل و دماغ کو یوں ہی روشن رکھتے ہوئے اسے ہماری روح اور ضمیر کی بیداری کا ساماں بنائے رکھے ۔
    آپ کے ایمان افروز کلام اور روح پرور دعائوں کے ایک ایک لفظ ، بالخصوص رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام تک اپنی سب اندرونی آلائیشوں کو دھو کر پاک صاف ہو کر نکلنے کی ‘ انتہائی عاجزی اور خلوص سے آمین ، یا رب العالمین ثم آمین کہتا ہوں ۔

    اپنی موجودگی اور تبصرے سے بلاگ کی زینت بڑھانے کا بے حد شکریہ۔

  9. اسلام علیکم بھائیو اور بہن عرشی صاحبہ،
    میری طرف سے بھی ساری دعاؤں پر ہزار بار آمین ۔اللہ کرے کے ہم سب ان راتوں میں عبادت کر سکیں اور اس ثواب کے مستحق ٹہریں جو ان راتوں کا ثمر ہے ۔
    اللہ ہمیں ان راتوں کی تمام فضیلتوں سے نواز دے ،ہمیں عبادت کرنا آسان کر دے ،ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت عطا کرے ۔
    تمام بیماروں کو صحت عطا کرے ،آمین
    ہمارے دلوں کی کدورتوں کو دور فرمائے ،ہماری عبادات میں خشوع و خضوع پیدا کردے ۔اللہ ہمارے دکھوںکو دور کردے ۔
    اللہ ہمارے ملک کا اور ہم سب کا محافظ ہو ،اور جن تکلیفوں سے ہم آج کل اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ گزر رہے ہیں اُن سے ہمیں نجات دے ،آمین ثمہ آمین
    اللہ ہماری اس ماہ کی تمام عبادتوں کو اپنے فضل وکرم سے قبول فرمائے ۔اور ہمیں بے بہا اجر و ثواب عطا فرمائے ،آمین
    عالم آرا
    وینکور

  10. اسلام وعلیکم

    ماشااللہ بہترین کلام اور کسی بھی مسلمان کے دل کی صدا یہ ہی دُعا ہو سکتی ہے خدا عرشی آپی کو جزاے خیر عطا کریں اور الہی آمین دُعا کے ہر حرف پر ۔

    آج کی شب عرضِ غم کے واسطے کیا خُوب ہے
    پیش کر تفصیل سے حالات اُٹھ غافل دِلا

    بےشک یہ راتیں ایسی ہی ہیں کے ہم اپنے رب کے حضور اپنی ہر مصیبت ہے مُشکل کو پیش کریں وہ جو ہر بات سے با خبر ہے اُس کو محبوب ہے کے اس کے بندے اپنا ہر درد اور تکلیف خود اُس سے بیان کریں اور خدا سے اُس کی رحمت مانگیں ۔ تو بس دُعا ہے کے مولا اپنے خاص کرم کے صدقے سے پاکستان کے کونے کونے پر اپنا فضل اور خاص کرم کر دے مُسلمانوں کو اور ہر اُس زمین کو جہاں خدا کا کوئی ایک بھی مومن بندا بستا ہو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے الہی آمین

    طالب دُعا

    ثمیرین بُخاری

  11. جاوید اقبال کیانی صاحب نےجس قدر محنت اور خوش اسلوبی سے عرشی صاحبہ کے کلام کو کپموز کرکے اس بلاگ کی زینت بنایا اس پر میں دل سے مبارکباد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح عرشی صاحبہ کے کلام کی وصولی پر اسے ان پیچ سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے اپنے بلاگوں میں عطا کرتےرہینگے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عرشی صاحبہ ایک عرصہ تک مجھے بھی اپنا کلام بھجوایا کرتی تھیں مگر انہیں معلوم ہوگیا کہ میں اپنے کمپیوٹر کی کوتاہیوں کے باعث ان کے کلام کو عالمی اخبار میں پیش نہیں کرسکونگا اس لیے انہوں نےمجھے اپنا یہ تازہ کلام ارسال نہیں کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عرشی صاحبہ شاعری کا سمندر ہیں ۔ اللہ ان پر مہربان ہوتا ہے تو ان کے ذہن میں اشعار اترتے رہتےہیں جنھیں وہ عالمی اخبار کے قارئین کو سنانے میں خوشی محسوس کرتی ہیں ( یہ یقینی طور پر انکی صفدر ھمدانی صاحب سے ایک روحانی کشش کا نتیجہ بھی ہے ) ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب نے اس بلاگ میں عرشی صاحبہ کی پہلی نظم “ غافل دلا “ بڑی احتیاط کے ساتھ کمپوز کرکے اس بلاگ کی ابتدا کی ۔ جزاک اللہ اس : ایمان افروز “ نظم کا ہر شعر دل اور دماغ میں اتر جاتا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    جاوید اقبال کیانی صاحب نے عرشی صاحبہ کی دوسری نطم “ لیلتہ القدر کے موقع پر نفس سے خطاب “ بھی اسی احتیاط اور احترام کے ساتھ شایع کی ۔ یہ نظم بھی ہر لحاظ سے قابل مطالعہ ہے۔ ما شااللہ ، سبحان اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس کے چند اشعار کے سلسلے میں چند سوالات اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے پوچھنا چاہتا ہوں ۔ ان سوالات میں سے چند ایک تو کموزنگ سے متعلق ہیں اور باقی کے سوالات اشعار کے الفاظ کی موزونیت سے متعلق ہیں :

    امید کہ نظر ثانی کرنے والی ہستی میرے اس تبصرے کو شایع کردے گی اور یہ بھی امید کرتا ہوں کہ عرشی صاحبہ گذ شتہ کی طرح میری کم علمی کا خیال کر کےمیری پرخلوص اور نیک نیت جسارت کو معاف کردینگیں ۔

    “رات جھکنے کی ہے جھکنے سے نہ ڈر آج کی رات
    جھک گئے دیکھ شجر اور ہجر آج کی رات“

    سوال : کیا اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں “ہجر“ دراصل “حجر “ تو نہیں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج کی رات عمل کی ہے دلیلوں کی نہیں
    چھوڑ دے ساری اگر مگر آج کی رات

    سوال : کیا دوسرےمصرعہ میں “اگر اور مگر “ ہونا چاہیے ؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج طبیعت کی خرابی کے بہانے نہ بنا
    خُوں رُلائے گا تجھے تیرا مکر آج کی رات

    سوال : کیا پہلا مصرعہ یوں ہے کہ :؟

    آج صحت کی خرابی کے بہانے نہ بنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مری خاموش دعا چیخ ہے سناٹے میں
    لفظ گونگے ہیں مری چشم ہے تر آج کی رات

    سوال :
    کیا دوسرا مصرعہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ :؟

    نظق گونگی ہے،ری چشم ہے تر آج کی رات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوٹ :
    میں جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے خطاب کرتےہوئے یہ فرمایا کہ :
    “شکریہ جناب منظور قاضی صاحب ۔ میرا پختہ یقین ہے جن دعائوں میں جتنے زیادہ آمین کہنے والے ہوں وہ ، آمین کہنے والوں کے درجات میں بلندی کے علاوہ ، عرش معلیٰ پہ قبولیت میں بھی ارفعٰ مقام پاتی ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آخر میں یہ قطعہ جو علامہ اقبال کے نام سے منسوب ہے، اور میرے دل کی ترجمانی کرتا ہے :

    تو غنی از ہر دوعالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    گر تو می دانی حسابم ناگزیر
    از نگاہِ مصطفے پنہاں بگیر

    فقط :
    طالبِ دعا
    منظور قاضی
    از جرمنی

  12. ًً
    محترمہ عرشی صاحبہ : سلا م و دعا کے بعد عرض ہے کہ میں نے آپ کی انتہائی مقدس اور عالیشان نظم “ لیلتہ القدر کے موقع پر نفس سے خطاب “ کےچند اشعار پر اپنی تفصیلی رائے اپنے تازہ تبصرے میںظاہر کی تھی مگر میرا بڑی محنت اور احتیاط سے لکھا ہوا تبصرہ نظر ثانی نے ابھی تک اشاعت کے قابل نہ سمجھا۔

    شائد اسے کوئی وجہ بتائے بغیر مکمل طور پر حذ ف کردیا گیا ہے ۔ ( نظر ثانی کی مرضی پر میرا کوئی اختیار نہیں مگر کم سے کم کوئی وجہ تو بتانی چاہیے تھی !! افسوس کہ ایسا نہیں ہوا )

    اس لیے میں آپ کی خدمت میں ان اشعار کی کمپوزنگ اور چند اشعار کے چند الفاظ کے بارے میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے اور آپ کی شاعری کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ ممکن ہے کہ میری کوئی معمولی سی بات بھی آپ کے لیے مفید ثابت ہو۔
    فقط:

    آپ کی شاعری کا دلدادہ
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  13. میں عالمی اخبار کی انتظا میہ اور خاص طور پر “نظر ثانی “ کرنے والی ہستی کا ممنون ہوں کہ میرا تبصرہ اس بلاگ میں شایع کردیا ( نوٹ: یہ تبصرہ کافی دیر تک سسٹم کی عنایت کی وجہ سے اس بلاگ سے مکمل طور پر غائب ہوگیا تھا )

    اب جب کہ میرا تبصرہ شایع ہوگیا ہے ، میں انتظامیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرا مندرجہ بالا تبصرہ جو “نظر ثانی کا منتظرہے “ اسے حذف کردے۔

    فقط:
    عالمی اخبار کا شیدائی
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. امید کہ میرا 3 ستمبر بوقت 2:40 کا جو تبصرہ اب تک شایع نہیں ہوا ، اسے عالمی اخبار کی “ نظر ثانی “ کرنےوالی ہستی ،شایع کردے گی اس لیے کہ اس میں میرے خیال میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے جس کی وجہ سے اس تبصرے کو شایع نہ کیا جائے

    شکریہ:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  15. میں جناب صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے درخواست کرتاہوں کہ وہ میرا 3 ستتمبر بوقت 2:40 کا تبصرہ جس میں، میں نے عرشی صاحبہ کی نظم “لیلتہ القدر ۔۔۔۔۔“ کے چند اشعار پر اپنی مخلص رائے کا اظہار کیا تھا ، اسے شایع کردے ، یا یہ کہدے کہ اسےاب تک شایع نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں ۔

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. محترم منظور قاضی صاحب
    آپ نے جن غلطیوں کی نشان دہی فرمائی ہے۔اور اپنی خدا داد بصیرت سے درست الفاظ کا انتخاب کیا ہے،وہ بالکل درست ہے۔
    اللہ تعالیٰ اس کرم فرمائی کے لئے اآپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین

  17. تمام احباب کا ‎‎شکریہ نصیبوں کی بات ہے جو افتاد ، قدرتی بھی اور ہماری اپنی پیدا کردہ بھی ، آئی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اپنے کرم ، اپنے پیارے حبیب (ص) کے صدقے اسے نجات دے۔

  18. بہت ہی محترم قاضی صاحب،
    قبلہ آپ کی حوصلہ افزائی اور کمپوزنگ میں خامی اور کوتاہی ، جس کی اصلاح کر دی گئی ہے ، کی نشاندہی کا بہت شکریہ ۔

    الفاظ کی موزونیت سے متعلق تو آپ کی رائے محترمہ عرشی صاحبہ نے خوش دلی سے قبول کر لی ہے۔

    میں آپ کی اس قدر باریک بینی ، بلکہ سائینس کی اصطلاح میں ’ لیزر بینی‘ اور عقابی نگاہ پہ ، پیشگی معذرت کے ساتھ محض از راہِ تفنن ، یہ کہنے کی گستاخی کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ کو پاکستان کی ’ روئیت ( یا روائیت ) ہلال کمیٹی ‘ میں ہونا چاہیے ۔ کم از کم بادلوں میں چھپے چاند کو ڈھونڈھ کر ہماری عید تو بر وقت کرا دیا کریں گے ناں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔

  19. سب سے پہلے میں عالمی اخبار کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نےمیرے تبصروں کو شایع کردیا ( غیر معمولی تاخیر سے تھوڑی سے الجھن سی پیدا ہوگئی تھی ۔ مگر دیر آید درست آید )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں عرشی صاحبہ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنی وسیع القلبی اور اعلیٰ ظرفی سے میرے مشورے قبول کیے۔
    انکے الفاظ میرے دل و دماغ میں ہمیشہ محفو ظ رہینگے۔ جزا ک اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جاوید اقبال کیانی صاحب کی خوش دلی کا شکریہ کہ انہوں نے میری تبصرہ پر توجہ دے کر کمپوزنگ میں ضروری تصحیح بھی کردی ۔ ماشااللہ
    جاوید اقبال کیانی صاحب کے تحریر میںایک خاص قسم کا سرور سا ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فرد کی عید سی ہوگئی جسے جاوید اقبال کیانی صاحب کے تعریفی الفاظ نصیب ہوجائیں۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب اپنے بلاگوں میں عرشی صاحبہ کا کلام عطا کرکے اردو کے طلبا اورطالبات کے لیے عرشی صاحبہ کے کلام پر پی ایچ ڈی کرنےکے لیے ایک قیمتی ذخیرہ جمع کررہے ہیں ۔ اللہ انہیں اسکا نیک اجر دے : آمین

    فقط
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  20. ہاہاہااہاہا ۔۔جاوید بھائی لیزر بینی دل کو لگی ۔۔۔ ہاہاہاہا کتنے دنوں بعد کوئی مزے کی اصطلاح سنی ۔۔

  21. بہت ہی محترم قاضی صاحب،
    قبلہ، یہ سرور تحریر میں نہیں بلکہ آپ کا دل ہی پیار سے لبریز ہے جو آپ ہر بات خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔

    عرشی صاحبہ ہمارا قومی ورثہ اور انمول خزانہ ہیں ، ہمارے ادب کے طلباء کو واقعی آپ کی بات پہ سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

    کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر پنہاں پہ آپ کے معلوماتی بلاگ کی بدولت ان کی انتہائی دلچسپ ویب سائیٹ دیکھ کر میں عرشی صاحبہ سے یہ فرمائیش کئے بغیر نہ رہ سکا کہ وہ بھی ادب اور شاعری کے شیدایوں کی خاطر اپنی ویب سائیٹ ڈیزائین کرائیں، یہ میں یہاں سے بھی کسی سے ڈیزائین کرا سکتا ہوں لیکن ساری معلومات کے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مشکلات پیش آسکتی ہیں ، جسے میں سپانسر کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کوئی خودداری اور مروت آڑے آگئی جو اس طرف سے کوئی جواب ہی نہ آیا۔ اب اس بلاگ کے ذریعے میں دوبارہ اپنی آفر کا اعادہ کرتا ہوں اور اگر کوئی طالبعلم ان کے کلام اور ادبی خدمات پر ریسرچ یا پی ایچ ڈی کرنا چاہے تو میں ، اپنے اس قومی ورثے اور انمول خزانے کی ادنیٰ سی خدمت کے طور پہ ، اسے بھی سپانسر کرنے کو تیار ہوں۔

  22. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ،
    محترمہ ، میں نے تو ایک تُک لگائی تھی جسے آپ نے آسمان چڑھا دیا ، آپ کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔

  23. محترمہ ثمرین بخاری صاحبہ،

    اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی مسلمان کے دل کی صدا یہ ہی دُعا ہو سکتی ہے ، آپکی آمد کا شکریہ۔

  24. جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ کہ انہیں میری یہ بات پسند آئی کہ میں“ ہر بات کو خندہ پیشانی سے قبول “کرلیا کرتا ہوں ۔

    خدا کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ وہ ان “بے شمار“ افراد میں سے ہیں جنھیں میرے “ پیار سے لبریز دل “ کی دھڑکن کا احساس ہے۔

    میں ایسے مواقع پر سعدی کا شعر دہرایا کرتا ہوں کہ :
    جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
    وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاوید اقبال کیانی صاحب نے عرشی صاحبہ کے لیے ویب سائٹ بنانے کی خواہش طاہر کی ہے وہ انتہائی ضروری اور بروقت منصوبہ بن سکتا ہے بشرطیکہ عرشی صاحبہ جاودی اقبال کیانی صاحب کی اس سلسلہ میں مدد اور رہنمانی کریں۔

    میں نے عرشی صاحبہ سے ایک مرتبہ انکی تصانیف کے بارے میں پوچھا تھا مگر انہوں نےاپنی کتابوں کی فہرست اب تک ان بلاگوں میں نہیں شایع کی۔

    اس قدر روانی کے ساتھ لکھنے والی شاعرہ کی تو اب تک دس کے قریب کتابیں شایع ہونا چاہیے تھیں۔
    مگر پتہ نہیں عرشی صاحبہ اس سلسلہ میں اردو ادب اور شاعری کی دنیا کو کیوں ترسا رہی ہیں ؟
    ۔۔۔۔۔
    بہر کیف :
    عرشی صاحبہ کا اتنا ہی احسان کیا کم ہے کہ وہ عالمی اخبار کو اپنے کلام سے سرفراز کیا کرتی ہیں۔
    جاوید اقبال کیانی صاحب عرشی صاحبہ کے کلام کو شایع کرنے اور انکی ویب سائٹ بنانے میں جس قدر دلچسپی کا اظہا ر کررہے ہیں اس کے لیے وہ ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں ۔
    عرشی صاحبہ نے مجھے ایک مرتبہ اپنا یہ کسی کا یہ مصرعہ لکھا تھا کہ:
    اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

    ( اس کا پہلا مصرعہ انہوں نے نہیں لکھا مگر میرا یہ خیال ہےکہ وہ پورا شعر یوں ہے کہ:
    مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
    اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا )
    ۔۔۔۔
    میری دعا ہے کہ ہر اس فرد کو چھٹی کبھی نہ ملے جو عرشی صاحبہ کے کلام کو عالمی اخبار کے بلاگوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہے:
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  25. اگرچیکہ یہ بلاگ عرشی صاحبہ کی نظموں پر مبنی ہے
    مگر مجھے عرشی صاحبہ نے اپنی ایک غزل 29 جولائی کو بھجوائی تھی ، جسے میں اپنے اسپین کے دورے اور اپنے کمپیوٹر کی عدم موجودگی کے باعث عالمی اخبار کے پڑھنے والوں تک نہیں پہنچا سکا ۔
    یہ غزل سترہ 17 اشعار پر مبنی ہے ۔ اگر میں اسے اپنے کمپیوٹر میں ہی بند رکھوں تو شائد عرشی صاحبہ کی شاعری پر تحقیق کرنے والے اس غزل سے محروم رہ جائینگے ۔
    میں اس غزل کے چند اشعار یہاں لکھ دیتا ہوں اگر جاوید اقبال کیانی صاحب کو یا شاہین رضوی صاحبہ کو یہ غزل عرشی صاحبہ نے ارسال کی ہے تو وہ اس کو مکمل طور پر اس بلاگ میں شایع کرنے میں میرا ہاتھ بٹائنگے ۔

    غزل ؛ از ارشاد عرشی ملک
    arshimalik50@hotmail.com

    نگر میں دل کے اب کچھ بھی نہیں ہے
    یہاں شور و شغب کچھ بھی نہیں ہے

    یہ دل رسماً دھڑکتا جارہا ہے
    دھڑکنے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے

    نہ جانے کون کب لہجہ بدل لے
    یہ دنیا ہے عجب کچھ بھی نہیں ہے

    کہا جب ان سے تم مرتے تھے ہم پر
    لگے کہنےکہ کب ؟ کچھ بھی نہیں ہے

    تعلق تھا تو تھی ناراضگی بھی
    پر ا ب لطف و غضب کچھ بھی نہیں ہے

    نہ وہ پہلے سے اب رنج و الم ہیں
    نہ وہ بزمِ طرب کچھ بھی نہیں ہے

    تری فرقت کا کیا خد شہ ہو دل کو
    تری قربت میں جب کچھ بھی نہیں ہے

    جو کہنا تھا کہا کھل کر ہمیشہ
    ہمارے زیرِ لب کچھ بھی نہیں

    نہ کوئی مصلحت نہ وضع داری
    ہمیں جینے کا ڈھب کچھ بھی نہیں ہے

    تمہارے ہجر کے مارے ہووں کو
    ملن کی ایک شب کچھ بھی نہیں ہے

    ہمیں جی بھر کے خود کو دیکھنے دو
    سوا اس کے طلب کچھ بھی نہیں ہے

    مہک اشعار کی بانٹی جہاں میں
    پر اپنا یہ کسب کچھ بھی نہیں ہے

    میں عورت ہوں ملامت کی ہوں عادی
    سو عزت کی طلب کچھ بھی نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    باقی کے پانچ اشعار آئیندہ ( اگر کمپیوٹر ساتھ دے تو ۔)
    اگر جاوید اقبال کیانی صاحب یا محترمہ شاہین رضوی صاحبہ ( یا خود عرشی صاحبہ ) اس غزل کے باقی اشعار لکھ دیں تو مہربانی ہوگی ورنہ میں کسی نہ کسی طرح ان اشعار کو اس بلاگ میں شامل کردونگا ۔

    ساتھ ہی ساتھ ( ان سب سے ) میری کمپوزنگ کی غلطیوں کو بھی درست کر نے کی درخواست ہے۔ ۔

    فقط
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  26. چونکہ میرا آج 5 ستمبر 3:34 پی ایم کا تبصرہ ابھی تک نظر ثانی ( اور اس کے بعد نظر ثالث ) کا منتظر ہے ، میںچاہتا ہوں کہ
    عرشی صاحبہ کی اس غز ل کے بقیہ چار اشعار بھی اس بلاگ میں لکھدوں :

    بنے بیٹھے ہیں بابائے ادب وہ
    جنہیں پاسِ ادب کچھ بھی نہیں ہے

    تم اپنے شہرِ دل کو پاک کرلو
    فقط عجم و عرب کچھ بھی نہیں ہے

    قبا اوڑھی نہیں مانگے کی میں نے
    میری کنیت لقب کچھ بھی نہیں ہے

    میں جنت آدم و حوا ہوں عرشی
    مرا نام ونسب کچھ بھی نہیں ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ غزل یہاں پر ختم ہوتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فقط:
    ،نظور قاضی
    جرمنی سے

  27. محترم قاضی صاحب،
    آپ کا شکریہ ، لیکن میرے بہت ہی محترم آپ کو یہ کیا سوجھی جو لیلتہ القدر جیسے موقع اور ایمان افروز کلام کے ساتھ غزل شامل کر دی ؟ بہت معذرت کے ساتھ۔

  28. قابل صد احترام جناب قاضی صاحب قبلہ دام شرفکم۔
    اس بلاگ میں غزل لگانا اس فقیر پُر تقصیر کی نظر میں اس بلاگ کے لئے قطعا نا مناسب ہے، لیکن آپ کی رنجیدگی ء خاطر ہمیں مطلوب نہیں ہے، اس لئے اسکو یہاں لگا دیا ہے۔لیکن جیسا کہ محترم کیانی صاحب کو بھی یہ مناسب نہیں لگا ہے، اس لئے گزارش ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو تو اس کو یہاں سے ہٹا دیا جائے تا کہ اس بلاگ کا تقدس قائم رہے اور عید کے بعد آپ اپنی پسند کے مطابق ایک مکمل الگ سے غزلیہ بلاگ شروع کر لیں۔۔۔۔لیکن اگر آپ مناسب سمجھیں تو۔

  29. جناب جاوید اقبال کیانی صاحب اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے عرض ہے کہ میں شروع ہی سے اس اصول پر عمل کرتا ہوں کہ بلاگ کے اصل موضوع پر ہی تمام تبصرے لکھے جائیں اور کسی ذیلی موضوع کی طرف بلا گ کا رخ نہ موڑا جائے۔

    میرا خیال تھا ( ہے ) کی اس بلاگ کا اصل موضوع عرشی صاحبہ کا کلام ہے جس کی شاندار مثالیں جاوید اقبال کیانی صاحب نے بڑی محنت اور خوش اسلوبی کے ساتھ رمضان کے متبرک مہینے کے آخری روزوں اور آخری راتوں میں عطا کی ۔

    اگر اس بلاگ کا موضوع صرف اورصرف لیلتہ القدر کی عظمت کی نشاندہی کے لیے تھا تو اس میں نہ صرف عرشی صاحبہ کے کلام کے ان تمام شعرا کی نظمیں شامل کی جانی چاہیے تھیں جو ا ن شعرا اور شاعرات نے لیلتہ القدر سے متعلق لکھی ہیں۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب پوچھنا چاہتے ہیں کہ مجھے “ کیاسوجھی کہ“ ۔۔۔۔۔۔۔اس غزل کو اس بلاگ میں شامل کردیا

    عرشی صاحبہ کی اس غزل کے شامل کرنے کی وجہ میں نے اپنے تبصرے میں بیان کردی تھی کہ :
    “اگرچیکہ یہ بلاگ عرشی صاحبہ کی نظموں پر مبنی ہے
    مگر مجھے عرشی صاحبہ نے اپنی ایک غزل 29 جولائی کو بھجوائی تھی ، جسے میں اپنے اسپین کے دورے اور اپنے کمپیوٹر کی عدم موجودگی کے باعث عالمی اخبار کے پڑھنے والوں تک نہیں پہنچا سکا ۔
    یہ غزل سترہ 17 اشعار پر مبنی ہے ۔ اگر میں اسے اپنے کمپیوٹر میں ہی بند رکھوں تو شائد عرشی صاحبہ کی شاعری پر تحقیق کرنے والے اس غزل سے محروم رہ جائینگے ۔“

    مجھے افسوس اور تعجب ہورہا ہے کہ عرشی صاحبہ کی اس غزل کو ( جو روایتی انداز میں گل وبلبل اور قیس و لیلیٰ اور عشق ومحبت اور عاشق و معشوق اور اسی قسم کے روایتی موضوعات سے خالی تھی ) کو اس بلا گ کے لیے ( جو عرشی صاحبہ کے کلام سے متعلق ہے ) کیوں غیر موزوں سمجھا گیا۔

    میرا خیال ہے کہ عرشی صاحبہ اپنا کلام نہ صرف مجھ کو بلکہ انکے کلام کے شیدائیوں کو بھجوایا کرتی ہیں ان شیدائیوں میں نہ صرف میں بلکہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کے اربابِ اختیار اور چند ایک بلاگ نگار جن میں “ شائد “ جاوید اقبال کیانی صاحب اور شاہین رضوی صاحبہ بھی شامل ہیں ۔

    میں امید کررہا تھا کہ 29 جولائی سے لیکر اب تک اس غزل کو کسی نے عالمی اخبار کے بلاگوں کی زینت بنادے گا مگر ایسا نہ ہونے کی صورت میں میں نے اس غزل کو اس بلاگ میں ( جو عرشی صاحبہ ہی کے کلام سے شروع ہوا ہے) شامل کردوں ۔

    اگر بلاگ نگار صاحب اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب ( ترجمان عالمی اخبار ) کو اس غزل کے اس بلاگ میں رہنے پر اعتراض ہے تو میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ عرشی صاحبہ کی مرضی معلوم کرلیں ۔

    اگر عرشی صاحبہ اجازت دیں تو سید مصباح حسین جیلانی صاحب ضرور اس بلاگ سے حذف کردیں ۔

    اس کے بعد میں “ جناب مصباح حسین جیلانی صاحب کے ارشاد کے مطابق “ عید کے بعد اس غزل سے اپنے ایک نئے بلاگ کا آغآز کر نے کی “ کوشش “ کرونگا ( مگر مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ وحشتناک حالات میں ایسے بلا گ کی کوئی پذیرائی نہیں ہوگی ۔ اس کا نتیجہ عرشی صاحبہ کے کلام کی بے قدری میں نکلے گا ، ۔جو مجھے گوارا نہیں )

    بہر کیف :
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  30. شب قدر ہر شخص کو راس آئے
    رہیں سایہ گستر یہ رحمت کے سائے
    خدایا ہمیں نیک و بد کی سمجھ دے
    نیا کوئی فتنہ نہ اب سر اُٹھائے
    ہے اب اوگ پر دور سرمیہ داری
    نہ جانے نیا کون سا گل کھلائے
    خدایا ہمیں اُن سے محفوظ رکھنا
    پرانے شکاری نیا جال لائے
    ضرورت ہے شیرازہ بندی کی ہم کو
    مزید اور یہ منتشر ہو نہ پائے
    عطا کر ہمیں زور بازوئے حیدرّ
    ہمار جو دشمن ہے بچ کر نہ جائے
    دعا تجھ سے ہے یہ بصد انکساری
    رہیں مل کے آپس مین اپنے پرائے

  31. جناب اکمل سید صاحب،
    مرحبا، آپ کی دعاعیہ پیشکش کے ہر لفظ پہ آمین، ثم آمین بالخصوص :

    عطا کر ہمیں زور بازوئے حیدرّ
    ہمار جو دشمن ہے بچ کر نہ جائے
    دعا تجھ سے ہے یہ بصد انکساری
    رہیں مل کے آپس مین اپنے پرائے

    بہت ہی خوب، ماشاء اللہ۔

  32. محترم جناب منظور قاضی صاحب،

    ” میں شروع ہی سے اس اصول پر عمل کرتا ہوں کہ بلاگ کے اصل موضوع پر ہی تمام تبصرے لکھے جائیں اور کسی ذیلی موضوع کی طرف بلا گ کا رخ نہ موڑا جائے “

    قاضی صاحب ، آپ کا آزمودہ و مروجہ یہی سنہری اصول تمام بلاگرز کو اپنانا چایئے تاکہ بلاگ کا تسلسل قائم رہتے ہوئے زیرِ بحث موضوع مکمل اور جامع بحث کے بعد اختتام کو پہنچے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” اگر اس بلاگ کا موضوع صرف اورصرف لیلتہ القدر کی عظمت کی نشاندہی کے لیے تھا تو اس میں نہ صرف عرشی صاحبہ کے کلام کے ان تمام شعرا کی نظمیں شامل کی جانی چاہیے تھیں جو ا ن شعرا اور شاعرات نے لیلتہ القدر سے متعلق لکھی ہیں “

    بلاگ شروع کرتے وقت میرا بھی یہی خیال تھا کہ عرشی صاحبہ کو خراجِ تحسین کے علاوہ مزید شعراء کا کلام بھی پڑھنے کو ملے گا جو ایمان تازہ کرنے کا موجب ہوگا لیکن اکمل سید صاحب کے علاوہ زیادہ کامیابی نہ ہوئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    باقی محترم قاضی صاحب ، میری گستاخیوں کو میری کم علمی جان کر معاف فرما دیا کریں ۔ میں آپ کواس بلاگ فیملی میں ” گاڈ فادر “ کا درجہ دیتا ہوں۔ آپ ہم سب کے لئے ایک روشن شمع ہیں اور آپ کی راہنمائی سے ہم لوگوں نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” اگر بلاگ نگار صاحب اور جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب ( ترجمان عالمی اخبار ) کو اس غزل کے اس بلاگ میں رہنے پر اعتراض ہے تو میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ عرشی صاحبہ کی مرضی معلوم کرلیں “

    بخدا قاضی صاحب ، مجھے اس نظم کے اس بلاگ میں موجود رہنے پہ کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی میرے خیال میں مصباح صاحب کو بھی ہوگا ۔ جو کچھ انہوں نے لکھا وہ بھی مشورتاّ ہی لکھ کر آپ سے اجازت طلب کی ہے اور جہاں تک آپ کا یہ خیال کہ محترمہ عرشی صاحبہ سے پوچھ لیا جائے تو میرے خیال میں تو وہ درویش صفت خاتون ، گو میری ابھی تک تو ان سے ملاقات نہیں ہوئی اور یہی دعا ہے کہ اللہ پاک یہ سعادت جلد از جلد نصیب فرمائے ، میری اپنی سوچ کے مطابق ، کبھی بھی اپنی منشاء ظاہر نہیں کریں گی ۔

  33. میں مکرم جاوید کیانی صاحب اور مکرم منظور قاضی صاحب کے اپنے بارے میں نیک اور پُرخلوص جذبات کی دل سے قدر کرتی ہوں،اور میری دلی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری اوقات میں ہی رکھے آمین۔ناچیز ،کمترین نے کبھی اپنا ٹوٹا پھوٹا کلام کسی کو اس نیت سے نہیں بھیجا کہ وہ اس پر بلاگ شروع کرے،بلکہ جن احباب کو سخن فہم اور ادبی ذوق رکھنے والا پایا ان کو تحفے کے طور پر ارسال کر دیا۔
    اگر کسی نے اس پر کوئی بلاگ شروع کیا تو وہ محض اس بلاگ شروع کرنے والے کا بڑا پن ہے اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کی وسعتَ قلبی ہے۔
    محترم منظور قاضی صاحب نے جو غزل اس بلاگ پر آویزاں کی ہے۔اس کا ایک شعر میری کوتاہی کی وجہ سے غیر موزوں تھا۔استادَ مکرم جناب صفدر ہمدانی صاحب نے اس کی طرف میری توجہ مبذول کرائی تھی،لیکن میری کوتاہی تھی کہ میں اسکو اصلاح شدہ شکل میں دوبارہ قاضی صاحب کو نہ بھیج سکی۔
    وہ شعر اس طرح ہے
    تم اپنے شہرَ دل کو پاک کر لو
    عجم ہو یا عرب،کچھ بھی نہیں ہے
    رمضان شریف کا اختتام ہونے کو ہے۔گذشتہ رمضان میں ایک نظم لکھی تھی جو کچھ قلبی واردات کی آئینہ دار تھی وہ کیانی صاحب کی خدمت میں ارسال کر رہی ہوں۔

  34. عرشی صاحبہ کی مذکورہ نظم کیا رمضان کیا شعبان ، ہر دم ورد کے قابل ہے۔ نظم تھوڑی طویل ہے جب کہ وقت قلیل ، میری ٹائیپنگ سپیڈ ماشاء اللہ ، پھر بھی پیش ہوگی انشاء اللہ۔

  35. ” عجز کے اقرار تک پہنچی “
    ====================

    (محترمہ ارشاد عرشی ملک کی ماہِ صیام میں لکھی گئی صوفیانہ مزاج کی ایک غزل )

    لگا کر جاں کی بازی عشق کے اسرار تک پہنچی
    بڑے ہی بانکپن سے میں فرازِ دار تک پہنچی

    بہت نادان تھی جب معرفت کا زعم تھا مجھ کو
    اب آخر معرفت سے عجز کے اقرار تک پہنچی

    تھا گرد آلود چہرہ عقل کا دربار میں تیرے
    پکڑ کر عشق کا پلّو جمالِ یار تک پہنچی

    بھلا کر میں نے جب سود و زیاں یہ راستہ پکڑا
    تھی اوّل کچھ جھجک ، پھر شوخئی رفتار تک پہنچی

    تجلّی جب ہوئی دل پر تو سب سدھ بدھ گئی اپنی
    دھمالیں ڈالتی پھر میں ترے دربار تک پہنچی

    جھلک دکھلا کے پردہ کر لیا محبوب نے میرے
    اسی کی کھوج میں میں لذتِ آزار تک پہنچی

    ’ یُحِبُّھُم ‘ کا مثردہ جب سنا میں ہوگئی بے کل
    کیا عزمِ سفر ہر وادیء پُر خار تک پہنچی

    بہت سے عابد و زاہد یہاں نخوت سے پُر دیکھے
    میں مسکینی کا آنچل اوڑھ کر اس یار تک پہنچی

    کوئی خوش بخت پاتا ہے یہاں دیدار کی دولت
    ابھی میں خام ہوں سو وعدہء دیدار تک پہنچی

    بلاتا ہے مجھے کوہِ ندا میں رُک نہیں سکتی
    تجسّس لے چلا مجھ کو رہِ دشوار تک پہنچی

    میں تیری معرفت کے بحر میں ڈُوبی کبھی اُبھری
    یُونہی غوطے لگاتی عشق کی منجدھار تک پہنچی

    تیری ہیبت نے جب ڈھانپا زباں پہ پڑ گئے تالے
    کرم نے جب ترے تھاما لبِ اظہار تک پہنچی

    منڈیروں پر تری اب کُوکتی اور گیت گاتی ہوں
    تری ذرہ نوازی سے میں اس چہکار تک پہنچی

    مرے دل میں سجا رہتا ہے میلہ تیری یادوں کا
    ہر اک رونق سے منہ موڑا تو اس تہوار تک پہنچی

    یہ راہِ عشق ہے نقصان کے ڈر سے مبرّا ہے
    چلی اس راہ پر تو میں عجب اسرار تک پہنچی

    بتا سکتی نہیں میں کیا ہے ذکرِ یار میں لذت
    کوئی لذت نہیں دنیا کی اس معیار تک پہنچی

    تری ہی چاہ نے لہجے کو میرے تازگی بخشی
    نئے افکار تک پہنچی ، نئی گفتار تک پہنچی

    محمد مصطفٰےٰ کی پیروی بھاتی ہے مولا کو
    سو عشقِ مصطفٰےٰ کی راہ سے دلدار تک پہنچی

    چھڑا جب مصطفٰے کا ذکر تو دھندلا گئی آنکھیں
    اِنھیں دھندلائی آنکھوں سے ترے دیدار تک پہنچی

    پروں کو میں نے گارے میں لتھڑنے سے بچایا ہے
    سو میں پہلی اُڈاری میں تری دیوار تک پہنچی

    تھا عشرہ آخری رمضان کا انوار کی بارش
    ترا احسان تھا مالک کہ اس بوچھاڑ تک پہنچی

    خبر یہ گرم تھی تیری سواری آج گذرے گی
    میں ننگے پائوں دوڑی ہوں مگر مہکار تک پہنچی

    ترے دربار میں گو بھِیڑ تھی عشاق کی آقا
    مگر جلووں کی کچھ خیرات مجھ نادار تک پہنچی

    کِیا ہے کھوج میں اپنی بہت لمبا سفر میں نے
    بہت سالوں میں میں گھر کے درودیوار تک پہنچی

    مجھی میں میرا صحرا ہے مجھی میں میرا گلشن ہے
    کبھی صحرائوں میں بھٹکی کبھی گلزار تک پہنچی

    غنی ایسا ہے تو مالک جسے حاجت نہیں کوئی
    میں اپنی حاجتوں سے پُر ترے دربار تک پہنچی

    تجھے جب بھی پکارا ہے سدا موجود پایا ہے
    تری رحمت خود آگے بڑھ کے مجھ لاچار تک پہنچی

    مجھے تنہا کبھی چھوڑا نہیں تو نے مرے مالک
    تسلّی تیری جانب سے دلِ بیمار تک پہنچی

    تری چوکھٹ پہ رونے اور تڑپنے میں ہے جو لذت
    وہ لذت اب جنُوں کے اوّلیں آثار تک پہنچی

    بہت اُونچے سروں میں جا کے یہ اشعار لکھے ہیں
    مرے دل میں بھری مستی مرے اشعار تک پہنچی

    مری اوقات کیا میں دو ٹکے کی بانسری عرشی
    تھی تیری پھونک جو مرے لبِ اظہار تک پہنچی

    ==========================

  36. جزاک اللہ ، ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا

    عرشی صاحبہ نے ہمیشہ کی طرح ایک سماںباندھ دیا ۔

    “تا نہ بخشد خدائے بخشندہ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سبحان اللہ جاوید اقبال کیانی صاحب: آپ نےعرشی صاحبہ کے کلام کو اس بلاگ میں عطا کردیا۔
    اللہ آپ کو اس کا نیک اجر دے

  37. جزاک اللہ۔ کیانی صاحب مکرر جزاک اللہ
    ایک مصرعے میں کتابت کی چھوٹی سی غلطی ہو گئی ہے۔اصل مصرع یوں ہے
    تری ہی چاہ نے لہجے کو میرے تازگی بخشی
    میں اآپ کے خلوص کی دل سے قدر کرتی ہوں
    عرشی ملک

  38. محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ ،
    ’ عرشی ‘ کلام میں کتابت کی ذرا سے کوتاہی بھی قابلِ گرفت ہے ۔ مطلوبہ تصحیح کر دی گئی ہے ۔

    ہمارا خلوص آپ کی عنائیتوں کا مرہونِ منت ہے، شکریہ آپ کا جو ایسا روح پرور کلام بھیجتی رہتی ہیں ۔ اللہ رب العزت آپ پہ اپنی رحمتوں اور عنائیتوں کی بارش یونہی جاری رکھے، آمین۔

  39. جناب منظور قاضی صاحب،

    بہت شکریہ قبلہ آپ کے تبصرے اور حوصلہ افزائی کا۔

  40. محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ نے 9 ستمبر کو ایک ذاتی ای میل کے ذریعہ اپنی یہ نظم اپنے ذاتی عنایت نامے کے ساتھ ارسال کی تھی ۔ اس عنایت نامے کا اقتباس یہ تھا کہ:

    “رمضان المبارک قریب الاختتام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس سے صلح کرنے کے دن تیزی سے گذر گئے ۔ پتہ نہیں ہم میں سے کس کس نے اس موقع سے نفع حاصل کیا۔ “
    ایک مختصر نظم ارسال ہے “ خدا سے صلح “
    والسلام “

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں عرشی صاحبہ کی عنایات کا ممنون و مشکو ر ہوں ۔ جب بھی وہ مجھے اپنا کلام بھھجواتی ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ انکا اتنا بلند پایہ کلام میرے ہی کمپیوٹر میں ہمیشہ کے لیے محفوظ اورمقید نہ ہوجائے۔ اب جب کہ جاوید اقبال کیانی صاحب نے یہ بلاگ عرشی صاحبہ کے کلام کےلیے مختص کردیا ہے تو اس نظم کو اسی بلاگ میں پیش کررہا ہوں:

    نظم : عنوان “ خدا سے صلح “
    ( ایک پیغام سے ماخوذ )
    از: ارشاد عرشی ملک، اسلام آباد
    arshimalik50@hotmail.com

    ایک دن بازار میں عالِم تھا اک بیٹھا ہوا
    بادشاہ اس راہ سے گذرا ، تو ٹھٹکا اور رکا
    شوق سے پوچھا کہ کیا ہے ماجرا؟
    آہ ٹھنڈی بھر کے عالِم نے کہا
    ہوں خدا سے اس کے بندوں کی صلح کروا رہا
    مانتے بندے نہیں ہرگز، گو راضی ہے خدا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ دنوں کے بعد عرشی یہ ہوا
    پھر وہی عالِم تھا ، قبرستان میں بیٹھا ہوا
    بادشاہ اس راہ سے گذرا تو ٹھٹکا اور رکا
    شوق سے پوچھا کہ کیا ہے ماجرا؟
    آہ ٹھنڈی بھر کے عالِم نے کہا
    ہوں خدا سے اس کے بندوں کی صلح کروا رہا
    آج یہ بندے ہیں راضی ، پر نہیں راضی خدا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  41. ” آج یہ بندے ہیں راضی ، پر نہیں راضی خدا “

    بےشک ، قرآن پاک بنی اسرائیل اور دوسری اقوام پہ درد ناک عذاب کے ان گنت عبرت انگیز واقعات سے پُر ہے کہ جب وہ خدا کے عذاب کو دیکھ کر راہِ راست پہ آجاتے تھے مگر جونہی عذاب ٹلتا پھر وہی روش اختیار کر لیتے تھے۔

    عرشی صاحبہ نے کتنی خوبصورتی سے نظم کے نچوڑ میں قرآن کی تفسیر بیان فرما دی ہے، مرحبا محترمہ ۔

    محترم قاضی صاحب ، یہ انمول خزانہ ہم سب میں بانٹنے کا بہت شکریہ۔

  42. محترم قاضی صاحب
    آپ کا بہت شکریہ کہ اآپ نے ’’خدا سے صلح‘‘ کو بلاگ کی زینت بنایا۔
    اللہ تعالیٰ آپ کو اور کیانی صاحب کو اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین

  43. عرشی صاحبہ کی عنایت اور جاوید اقبال کیانی صاحب کی ہمت افرائی کا شکریہ :
    اس مرتبہ سعدی کے فارسی شعر کا اردو ترجمہ پیش کرتا ہوں کہ :
    میرے ہم نشینوں کا جمال مجھ پر اثر اندازہے وگرنہ میں تو وہی خاک کا پتلا ہوں جو پہلے تھا ۔

  44. محترم قاضی صاحب ،

    ”میں تو وہی خاک کا پتلا ہوں جو پہلے تھا “

    قبلہ ، خاک کے اسی پتلے کو خود اس کے خالق نے احسن المخلوقات اور اشرف المخلوقات جیسے القاب سے نوازا اور پھر فرشتوں نے سجدہ بھی تو اسی خاک کے پتلے کو ہی کیا ۔ اللہ رب العزت کی طرف سے ان درجات اور ان عطائوں پہ فخر کرنا ہمارا حق اور اس کی شکر گزاری ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *