سانپ کے انڈے


آج کوئٹہ کے دھماکہ میں ابھی تک واقعہ کے لگ بھگ 73 لوگ دم توڑ چکے ہیں جسکی ذمہ داری لاہور اور کراچی کی طرح ایک بار پھر لشکرِ جھنگوی نے قبول کی ہے۔ اس تنظیم کی برسرِ عام حوصلہ افزائ جس وزیرِ قانون رعنا ثناء اُللہ نے کی ہے اگر اسے اسوقت لٹکا دیا جائے تو مستقبل میں سیاستداں ایسی تنظیموں کی پشت پناہی سے گریز کریں گے۔ رحمان ملک نے اپیل کی ہے کہ جلوس نہ نکالے جائیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ خود کش حملے عزاداروں، میلاد النبی اور مساجد میں ہورہے ہیں۔ کیا یہ جلوس ختم کرکے مساجد میں طالے لگائے جاسکتے ہیں۔ کیا چودہ سو سال کی روایت کو یکسر ختم کیا جاسکتا ہے۔ پلنگ پر چڑھ کر بیٹھ جانے سے سانپ نہیں مرتا۔ سانپ مارنے کیلئے لاٹھی کا استعمال ضروری ہے۔ اگر سانپ کو مارنے کی قانون سازی کی ذمہ داری سانپ کو سونپ دی جائے تو سانپ قابو میں آجائیگا یا ہزار انڈے دیکر مرے گا۔ رعناء ثنااُللہ اور رحمان ملک کی ابھی خبر نہیں لی گئ تو یہ لاکھوں انڈے دیکر مریں گے۔

سانپ کے انڈے ہم انقلاب ایران کی بہت باتیں کرتے ہیں۔ ۔ یہ انقلاب اسلئے کامیاب ہوا کہ برقت ملزموں پر عدالت نے چند گھنٹوں کا مقد مہ چلایا اور مجرموں کو مقدمہ کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر چھت پر لے جاکر گولی ماردی گئ۔

16 thoughts on “سانپ کے انڈے”

  1. مُحترم ظفر جعفری صاحب ،

    مُجھے یہاں قبلہ اُفسر عباس زیدی کے دو اشعار یاد آرہے ہیں کہ

    میانِ دورِ عصرِ جدید ملتے ہیں
    پُکارتے ہوئے ھل من مزید ملتے ہیں

    یہ دور اتنا تشدُد پسند ہے کہ جہاں
    قدم قدم پہ ہزاروں یزید ملتے ہیں

    رحمان ملک یہ بھول رہے ہیں کہ یہ عزاداری کہ جلوس ہیں کوئی سیاسی جلسے یہ جلوس نہیں ، شائید وہ سیکریٹریٹ کا گھیراؤ بھول گئے ہیں ،1979ء میں اس کارواں کے شرکاء نے ملت جعفریہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے ”تحریک نفاذ فقہ جعفریہ“ کی بنیاد رکھی۔ 1980ء میں اسلام آباد میں حکومتی زیادتیوں کے خلاف سیکریٹریٹ کے گھیراؤ کی تحریک اور مطالبات کی منظوری کیلئے کفن پوش دستوں نے سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا
    کیا وہ پر تاریخ کو دوہرانا چاہتے ہیں ؟

  2. محترم بھائی ظفر جعفری !
    آپ کی باتیں بہت کھری ہیں
    بالخصوص آپ کا یہ فرمانا کہ “یہ چودہ سو سال کی روایت ہے” بالکل درست ہے

    امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ
    “کل یوم عاشوراء و کل ارض کربلا”
    ہر روز عاشوراء ہے اور اس دنیا کی پر جگہ کربلا ہے

    بس ہمیں اپنے کردار پر نظر ڈالنی چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟
    کیا ہمارے کانوں میں امام کے استغاثہ “ہل من ناصرا ینصرنا”
    (ہے کوئی مدد کرنے والوں میں سے جو ہماری مدد کرے؟؟؟)
    کی آواز آرہی ہے یا نہیں
    ہم کس کے طرف داروں میں سے ہیں (عملاً نہ کہ صرف قولاً) ؟
    ہمارا کردار ان بہتّر 72 جیسا ہے یا ان باقی کے بہانے بازوں جیسا، کوفیوں جیسا، شامیوں جیسا ؟؟؟

    نوید کیا ہوا لبیک کیوں نہیں کہتے
    صدا تو دشت سے “ہل من” کی اب بھی آتی ہے

    محترم قارئین سے معذرت کے ساتھ، میں نے صرف عمومی بات کی ہے، میرا مقصد کسی کی ذات پر تنقید نہیں، مجھے خود ہی سے اتنی فرصت نہیں کہ دوسروں پر انگشت نمائی کروں

  3. ایسے ظالم خود کُش جن سے ملک الموت بھی شرمائے
    ایسے ہی خود کش سے کھا کر خنجر ہم خود دفن ہوئے

    حاوی ہے قانون پہ دہشت ، واعظ کو ہے موت کا خوف
    یہ بھی ایک سوال ہے خود سے کیونکر ہم خود دفن ہوئے

    نوکِ سناں پر کلیاں چٹکیں سر کٹ کے سردار ہوئے
    قاتل کا سر اونچا تھا اور بے سر ہم خود دفن ہوئے

    رونے سے معذور ہیں آنکھیں دل میں درد نہیں ہوتا
    دفنا دفنا کر لاشوں کو صفدر ہم خود دفن ہوئے

    آغا صاحب ! کیا بات ہے، ماشاء اللہ، آپ کے یہ الفاظ ہیں کہ دل کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے، رونے سے معذور ہیں آنکھیں دل میں درد نہیں ہوتا، واہ واہ واہ
    اللہ کریم، اجرِعظیم عطا فرمائے

  4. آغا جی سلام و دعا۔۔۔۔یہ دھماکے، یہ قتل و غارت اور تباہی۔۔۔۔دعا کریں میرا اندازہ غلط ہو لیکن خوف یہی ہےکہ یہ سب اس کوشش کا حصہ ہے تا کہ غیر ملکی فوجیں سیکورٹی آپریشن کے نام پر اس مملکت میں گھسیں اور ہمارے گھر گھر میں گھُس کر ایک فوجی آپریشن کریں اور اپنے ہی گھروں میں ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں بیگانوں کو سوال و جواب دینے پر مجبور ہوں۔
    المدد یا اللہ، المدد یا نبی المدد یا خدا۔

  5. تصحیح

    ّّّ ّّ
    آج کوئٹہ کے دھماکہ میں ابھی تک واقعہ میں کربلا کے لگ بھگ 73 لوگ دم توڑ چکے ہیںٰٰ ٰٰ

    ّّ ّّ ہم انقلاب ایران کی بہت باتیں کرتے ہیں۔ ۔ یہ انقلاب اسلئے کامیاب ہوا کہ بروقت ملزموں پر عدالت نے چند گھنٹوں کا مقد مہ چلایا اور مجرموں کو مقدمہ کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر چھت پر لے جاکر گولی ماردی گئ۔

  6. میں یہ مانتا ہوں کہ رحمٰن ملک کی اپیل نیک نیتی پر مبنی ہے لیکن بے سوچے سمجھے کی گئ ہے۔ حکمت سے کام لیتے ہوئے آیت اللہ خمینی نے دوران جنگ ہدایت کی تھی کہ اپنا خون نہ بہایا جائے۔ اسے جنگ کے زخمی جوانوں کیلئے بھیج دیا جائے۔ سب نے اس پر عمل کیا۔ چودہ سو سال کی روایات کو reverse کیسے کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنا دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا ۔یہ اُنکی پذیرائ ہوگی۔

  7. برادرِ محترم مصباح شاہ صاحب !
    آپ نے اپنے ارشاد عین وہی نکتہ بیان فرمایا جو میں نے بھی مختلف الفاظ سے کئی بار کہنے کی کوشش کی کہ
    “یہ سب اس کوشش کا حصہ ہے تا کہ غیر ملکی فوجیں سیکورٹی آپریشن کے نام پر اس مملکت میں گھسیں اور ہمارے گھر گھر میں گھُس کر ایک فوجی آپریشن کریں”

    آپ نے یہ جملہ جو تحریر فرمایا کہ :
    “اپنے ہی گھروں میں ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں بیگانوں کو سوال و جواب دینے پر مجبور ہوں۔”
    آپ نے ذرا رواداری اور حیاداری سے کام لیا ورنہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ غیر ملکی فوجی جب گھروں میں گھستے ہیں تو خواتین سے سوال و جواب کے لیے نہیں

    المدد یا اللہ، المدد یا نبی المدد
    یا مولای یا صاحب العصر و الزمان السلام علیک و علی آبائک ادرکنی ادرکنی العجل العجل

  8. صفدر بھائی وڈیو سنا آپ نے اپنی اس کاوش میں بہت ہی دردمندانہ منظر کشی کی ہے سچ یہ ہی کہ اپنی قبر خود ہی کھود کرخود ہی اس میں دفن ہو ئے۔یہ فرقہ پرستی وہ زہر ہے جو ہم میں سرایت کرکے اب اپنے عروج پرپہونچ گیااور جب کوئی چیز عروج پر پہونچ جا ئے تو زوال شروع ہو جاتا ہے۔اور اس کا ثبوت ایک خوش آئند خبر ہے کہ دنیا ٹی وی پر بتایا گیا کہ جیسے ہی دھماکہ ہواوہ صاحب اور لا تعداد نمازی داتا دربار سےباہر نکل آے نہ صرف زخمیوں کی مددکی بلکہ خون دینے بھی اتنے پہونچ گئے کہ اسپتال میں جگہ نہ رہی انہی کایہ ریمارک ہے کہ اس شدت پسندی نے قوم کو ایک کر دیا ہے خدا کرے ایسا ہی ہو (آمین)۔ رہے ملا اگر وہ ان کے خلاف بو لیں گے تو جان کو تو خطرہ ہے ہی، دوسرے روٹی اور ریال دونوں بند ہو جا ئیں گے۔ رہی حکومت وہ اس کےحلیف بھی ہیں ان کا ووٹر بنک بھی۔ لیکن پھر بھی علما ئے حق ہیں جو بول رہے ہیں ۔ جو ہمیشہ بولتے رہیں اور بولتے رہیں گے۔ لہذا حوصلہ رکھیئے اس اندھیرے کی انشا اللہ جلد ہی صبح ہوگی

  9. محترم صفدر ہمدانی جی کی نظم’’ہم خود دفن ہوئے‘‘بہت پُر اثر ہے۔واقعی خود دفن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

  10. یہ درست ہے کہ یہ فرقہ پرستی وہ ناسور ہے جو ہم میں سرایت کرکے اب اپنے عروج پرپہونچ گیااور جب کوئی چیز عروج پر پہونچ جا ئے تو زوال شروع ہو جاتا ہے
    ا مولای یا صاحب العصر و الزمان السلام علیک و علی آبائک ادرکنی ادرکنی العجل العجل

  11. عزادار جلوس محدود کر دیں، نمازی نماز کے لئے جانا چھوڑ دیں، تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے۔گویا ہر پاکستانی اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر گھر بیٹھ جائے، اور صرف موجودہ حکومت کی بے کاری پر پردے ڈالنے کی کوشش کریں ۔یہی قرین مصلحت بھی ہے اور وظیفہ حب الوطنی بھی۔یہ ملک اس لئے ہی بنا تھا کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کے مذہبی طرز حیات میں رخنہ نہ ڈال سکیں ، بلکہ یہ کام مسلمان حکومت کے فرائض منصبی میں شامل کر دیا جائے!!! سوال یہ ہے کہ اگر معاملات کو قابو میں رکھنا اتنا ہی مشکل ہے، تو ان سب کاموں کی بجائے حکومت اپنی نا اہلی کا اعتراف کر کے دستبردار کیوں نہیں ہو جاتی۔

  12. زین میاں یہ اقتدار ویسے تو امتحان ہے لیکن اپنے یہاں ایسا نہیں ہے۔ اپنے ہاں اقتدار حاکموں کو اندھا بنا دیتا ہے،گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں اور رسوا ہوئے بغیر نہیں جاتے۔اگر یہ نا اہلی کا اعتراف کر لیں تو پھر حاکم کیسے کہلوائیں گے۔

  13. میں سب کے غموں میں برابر کا شریک ہوں اور اس بلاگ کے تمام تبصروں کی تائید کرتا ہوں اور شہیدوں کی مغفرت اور یزیدون کے جلد از جلد خاتمہ کی بھی دعا کرتا ہوں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔

    جناب صفدر ھمدانی صاحب کی نظم کے متعلق عرشی صاحبہ کے اس تاثر کو اپنے دل کی آواز سمجھتا ہوں کہ :
    “محترم صفدر ہمدانی جی کی نظم’’ہم خود دفن ہوئے‘‘بہت پُر اثر ہے۔واقعی خود دفن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔“

    اس نظم کی منظر کشی بھی بے انتہا موثر ہے ( مگر اس شعر کے پس منظر میں جو قبرستان دکھا یا گیا ہے اس کی موزونیت کے متعلق میں جناب صفدر ھمدانی سے اپنے ایک ذاتی میل کے ذریعہ ایک ضروری بات کہونگا ) ۔

    قببرستان میں کل شب ہم نے کچھ ایسا محسوس کیا
    باہر اسکی لاش اتاری ، اندر ہم خود دفن ہوئے

    فقط:
    شریک ِ غم
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  14. ہمدانی صاحب

    ٰٰ ٰٰٰ اقتدار حاکموں کو اندھا بنا دیتا ہے،گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیںٰٰٰ ٰٰٰ

    آپکی یہ بات سو فیصد غلط ہے ۔ اقتدار ان موقع پرستوں کو لوٹ مار کا سنہری موقع عطا کرتا ہے جس کے لئے یہ اپنی آنکھیں ، کان اور ڈرمائ زبان کو کھلا رکھتے ہیں۔ جنابِ صدر انکو بجا طور پر سیاسی فنکار کہتے ہیں کیونکہ چور چور کو پہچانتا ہے۔

    ٰٰٰ ٰٰٰ رسوا ہوئے بغیر نہیں جاتے ٰٰٰ ٰٰ

    آپکی یہ بات سو فیصد صحیح ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *