پاکستان کے جوہری بم کا خالق اور پاکستان کا ہیرو عبدالقدیر خان ولد عبدالغفور خان ، یکم اپریل 1936 میں بھوپال میں پیدا ہوا .
ابتدائی تعلیم بھوپال میں حاصل کی اور اسکے بعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد ازآں اعلی تعلیم برلن ، ہالینڈ اور بلجیم کی یونیورسٹیوں سے حاصل کرکے پاکستان کے اس وقت کے صدر بھٹو مرحوم کے کہنے پر پاکستان واپس آکر جوہری توانائی اور جوہری بم کا پروگرام شروع کیا اور چند سال کے قلیل عرصے میں ( جنزل ضیا الحق اور چودھری غلام اسحاق خاں کی سرپرستی میں ) جوہری بم تیار بھی کرلیا .
اس کا ثبوت 28 اور 30 مئی 1998 کو پاکستان نے ( اور دنیا بھرنے ) جوہری بموں کے چھ دھماکوں کی شکل میں دیکھ لیا.
اس عظیم سائینسداں کو پاکستان نے ہلال امتیاز سے 14 اگست 1989 کو اور پھر نشان ِ امتیاز سے 14 اگست 1996 اور 23 مارچ 1999 کو نوازا .
افسوس کہ 4 فروری 2004 کو اس کے ساتھ پاکستان کے ( اس وقت کے صدر ) پرویز مشرف نے انتہائی سفاکانہ سلوک صرف اور صرف امریکہ کو مطمئن کرنے کے لیے کیا اور اس سے ایک ایسا معافی نامہ پڑھوایا جس کا مصنف وہ خود نہیں بلکہ حکومت کا ہی کوئی کارندہ تھا ..
صدر مشرف نے نہ صرف یہ مذموم حرکت کی بلکہ اسکو کئی سال تک نظر بند رکھا . یہ نظر بندی بالاخر6 فرروری 2009 کو ختم ہوئی .
اس طرح اس عظیم الشان سائنسداں کی خددمات سے پاکستان کئی سال تک محروم ہو گیا . اس کا نقصان پاکستان کو جس قدر ہوا اسکا اندازہ لگانا ممکن نہیں .
اب یہ سائینسدا ں 74 سال کے ایک ضعیف انسان کی طرح بالکل خاموش زندگی گذاررہا ہے مگر اب بھی وہ پاکستان کو علم و فن سے نوازنے کی طاقت اور ہمت او ر استطاعت رکھتا ہے .
اس کی بے قدری، پاکستان کی بدقسمتی سے کم نہیں .
کاش کہ پاکستان کے ارباب اختیار اس سائنسدان کی قدر کریں ، اس سے معافی مانگیں اور اس کو اسکی مرضی سے پاکستان کی خدمت کرنےکی آزادی دےدیں .
میں یہ بلاگ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک حالیہ انٹرویو کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں جو اس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو دیا.
یہ انٹرویو اس لنک پر دیکھا جاسکتا ہے :
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?43585-Views-On-News-11th-September-2010-Fakhr-e-Pakistan-Dr-Abdul-Qadeer-Khan
میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان نے اس عظیم سائنسداں کی بے قدری کی اور جب وہ مرجائے گا تو اسکی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھائی چائنگی اور اسکے کارناموں کے قصے سنائے جائینگے اس لیے کہ پاکستان کی روایت یہی ہے کہ زندگی میں تو بے قدری کی جائے اور مرنے کے بعد اس فرد کی قبر پر پھول نچھاور کیے جائییں .
بہر کیف:
ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ باد
پاکستان زندہ باد
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے

مولانا محمد علی جوہر نے کہا تھا
جیتے جی تو کچھ نہ دکھلایا مگر
مر کے جوہر آپ کے جوہر کلھے
منظور بھائی
مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں
زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہیں
اور مرنے کے بعد
ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کرکے
ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہیں
اور ان کے قیصدے
پڑتی ہیں
کارنامے بیان کرتی ہیں
یہی ہمارا المیہ ہے
زندوں کی بے قدری
اور
مردوں کی عزت و توقیر
ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے
یہی ہمارا کام ہے
اور
یہی ہم
اپنے عظیم محسن قوم محسن پاکستان کے
ساتھ کررہے ہیں
ڈاکٹر صاحب
ہم
آپ سے شرمندہ ہیں
لیکن
ہم اس بات
کا یقین رکھتے ہیں
کہ خدا جسے عزت دیتا ہے
اسے کوئی
پرویز مشرف
بے عزت اور ذلیل
نہیں کرسکتا
اللہ نے آپ کی عزت و توقیر
ہمارے دلوں پر مسخر کردی ہے
اللہ آپ کو سلامت رکھے
آمین
ڈاکٹر عبدالقدیر
خان زندہ باد
پاکستان زندہ باد
گذارش:
اگر میرے تمہیدی مضمون میں یہ لنک نہ کھلے تو یہاں کلک کرکے دیکھیں
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?43585-Views-On-News-11th-September-2010-Fakhr-e-Pakistan-Dr-Abdul-Qadeer-Khan
اوپر دی ہوئی لنک کھل تو جائے گی مگر اس کا ابتدائی حصہ فنی خرابی کی وجہ سے اس لنک میں نہیں ہے
اس کےلیےاوپر دی ہوئی ویب سائٹ http://www.siasat.pk کو کلک کرکے views-on-newsکا پروگرام دیکھنا پڑے گا ۔
پاکستان کیلئے یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی کہ عبدالقدیر خان نے الزام اپنے اوپر لیکر پاکستان کو discredit ہونے سے بچالیا۔ ورنہ عراقی دینار کی طرح کی طرح پاکستانی ہزار بارہ سو روپئے کا ایک ڈالر ہوجاتا۔ ایٹمی دھماکہ کے وقت عبدالقدیر خان کی جگہ اس وقت کے اٹمومک انرجی کمیشن کے چیف ڈاکٹر ثمر مبارک کو Credit دینے کی سازش ہوئ تھی جو نا کام ہوگئ۔
محترم جناب قاضی صاحب،
آپ کا یہ ہم سب پہ اور پوری پاکستانی قوم پہ احسان ہے جو آپ نے ڈاکٹر قدیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کو یہ بلاگ کھولا۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایک ’ کپُوت ‘ کے ہاتھوں ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماری کی نذر کر چکا ہے۔
قاضی صاحب ، مجھے آپ کی اس بات ، ڈاکٹر قدیر کی حد تک ، کہ ” پاکستان کی روایت یہی ہے کہ زندگی میں تو بے قدری کی جائے اور مرنے کے بعد اس فرد کی قبر پر پھول نچھاور کیے جائیں “ اور .
جناب محمد احمد ترازی صاحب کی اس بات سے کہ ، ” مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں ، زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہیں “
سے شدید اختلاف ہے ۔ کیونکہ پاکستان میں آپ کو ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جس کا دل ڈاکٹر صاحب کی محبت اور پیار میں نہیں دھڑکتا ہوگا ۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اتنی بیماریوں، پریشانیوں اور آزمائیشوں کے باوجود ہم سب میں زندہ سلامت محفوظ رکھا ہے تو وہ ملک کے کونے کونے سے دعائوں کا نتیجہ ہے ۔ آج اگر ڈاکٹر صاحب ہم سب میں موجود ہیں تو وہ پاکستان کے بچے بچے کے پیار اور ان پہ کٹ مرنے کی بنا پہ ہے ورنہ تو ایک بدترین ڈکٹیٹر اپنی شدید خواہش ، ڈالروں کی جھنکار اور امریکہ کے شدید ترین پریشر کے سامنے ایک پل ٹھہرنے والا نہیں تھا !
مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے ۔ “
ڈاکٹرصاحب سراپا خلوص و پیار ہیں ۔ ان کا دل صحیح معنوں میں پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے ۔ وہ ہمارا تھنک ٹینک ہیں جن سے فوری استفادہ ملک کے مفاد میں ہے ۔ ملک کی تعمیر و ترقی سے متعلق ان کے خیالات کا اندازہ ان کے وہ کالم ہیں جو یہ روزنامہ جنگ میں اکثر لکھتے ہیں ۔ اے کیو خان ریسرچ لیباریٹریز ، کہوٹہ سے وابستگی کے دوران آپ بڑی باقاعدگی سے میٹالرجیکل فیلڈ میں ایڈوانس میٹریلز پہ سالانہ انٹرنیشنل سیمینار منعقد کرایا کرتے تھے جن میں دنیا بھر سے چوٹی کے سائنیسدان اپنے مقالے پڑھا کرتے تھے ۔دورانِ سروس لاہور پوسٹنگ کے دوران وہاں منعقد اسی طرح کے ایک سیمینار میں مجھے بھی ان کے ہاتھ چومنے کا موقع ملا جب ڈاکٹر صاحب بڑی گرمجوشی سے میرا ہاتھ پکڑے اور دوسرے سے میرا کندھا تھپتھپائے جارہے تھے ۔ میری زبان بالکل گنگ اور میں انہیں ٹکٹکی باندھے دل میں انہی دعائوں کا ورد کر رہا تھا کہ خدایا تو مجھے بھی ڈاکٹر صاحب کے نقشِ قدم پہ چلانا اور مجھ سے بھی ملک و ملت کی خدمت کا کام لینا۔ بعد میں میں نے اپنی ایم ایس سی کی تھیسس ( سٹین لیس سٹیل کو کلر کرنے کی نئی ٹیکنالوجی ) ، ڈاکٹر صاحب کے نام کی اور انہیں ایک کاپی بھیجی جو انہوں نے کہوٹہ لائیبریری میں رکھوا دی اور مجھے ایک تعریفی خط لکھا جو میری زندگی کا اثاثہ بن گیا ۔
میں اپنے قومی ہیروز کو یاد رکھنے اور ان پہ عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کی غرض سے یہ بلاگ شروع کرنے پہ جناب منظور قاضی صاحب کا دوبارہ شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب ، آپ ہمارا مان ، ہماری آن اور ہماری شان ہیں۔ اللہ رب العزت آپ کو تندرستی دے اور ہماری عمر بھی آپ کو عطا کردے ۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو عقل اور توفیق دے کہ وہ ملک کے لئے آپ کی خدمات سے استفادہ حاصل کریں، آمین ، ثمہ آمین ۔
زندہ باد اے محسنِ پاکستان ، پائیندہ باد اے حسنِ پاکستان۔
قاضی صاحب اور کیانی صاحب
آپ دونوں کا ڈاکٹر قدیر کو خراجِ عقیدت لائقِ تحسین ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
( اقبال )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد ترازی صاحب اور ظفر جعفری صاحب اور جاوید اقبال کیانی صاحب نے جتنی محبت اور خلوص سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو اپنی عقیدت کے نذرانے پیش کیے ان کو پڑھکر میری آنکھوں میں آنسو تو آگئے مگر میں سمجھتا ہوں کہ تمام پڑھنے والوں نے ، ان عقیدت ناموں کی روح کو محسوس کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی طویل اور صحت مند عمر کی دعا مانگی ہوگی ۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کی خوش قسمتی کی انتہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ملاقات کی اور انکے پاتھوں میں ہاتھ ملایا اور اپنے مقالہ پر ڈاکٹر صاحب کی تعریف حاصل کی ۔ جزاک اللہ ، سبحان اللہ
۔۔۔۔۔
کل مجھے “ حسب حال“ پروگرام میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی سادہ مگر انتہائی گہری باتیں سننے کا موقعہ ملا۔
انکی حق گوئی و بے باکی اور انکے حافظے کی داد دیتا رہتا ہوں کہ کس طرح وہ اپنے دل کی باتوں کو بلا کسی جھجک کے سب کو سنا دتیے ہیں۔ اپنے بجپن کی شرارتیں اور اپنی زندگی کے تمام سنجیدہ اور غیر معمولی واقعات کو کھل کر کہنے میں وہ کمال کا سلیقہ رکھتے ہیں ۔ انکی قابلیت تو سائینس کے میدان میں سب نے تسلیم کی ہے مگر انہوں نے اس پروگرام میں اپنا ایک شعر بھی سنادیا جو اس مندرجہ ذیل لنک میں موجود ہے
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?43629-Hasb-e-Haal-12th-September-2010-Special-Episode-with-Dr-Abdul-Qadeer-Khan
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری دلی خواہش ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب سے متعلق جتنی بھی معلومات ملیں انھیں اس بلاگ میں پیش کردوں تاکہ موجودہ نسل اور آنے والی نسل اس بلاگ سے استفادہ کرسکے۔ میری اس کوشش کی کامیابی کا دار ومدار ان تمام مبصروں پر ہے جو عبدالقدیر خان صاحب کے قدر دان اور شیدائی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جنگ اخبار میں اپنے کالم بھی تحریر کرتےہیں ( جنھیں پڑھکر، میں ان کے لیےدل سے دعائیں مانگا کرتا ہوں ) ۔
ممکن ہے کہ عالمی اخبار کے اربابِ اختیار اس بلاگ کی نقل ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمت میں روانہ کردیں تاکہ انکو اندازہ ہوجائے کہ عالمی اخبار میں لکھنے والے ان کی شیدائی ان کے طویل زندگی کے لیے کتنی دعائیں مانگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اس بلاگ کی خوش قسمتی ہوگی اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اس بلاگ کو اپنے ہاتھوں کے لکھے ہوئے چند الفاظ سے نوازیں اور ہوسکا تو اس میں اپنے کچھ اشعار بھی عطا کردیں ۔
میرا ارادہ ہے کہ چند ایک تبصروں کے بعد میں اس بلاگ کی کاپی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے ای میل کے پتہ پر روانہ کردوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکی ویب سائٹ جو معلومات کا خزانہ ہے میں دیکھ چکاہوں مگر ان سے ای میل پر رابطہ رکھنے کی تمنا ہے ؛ انشااللہ میں جلد ہی ان سے ای میل کے ذریعہ رابطہ قائم کرونگا ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی ویب سائیٹ ہے:
http://www.draqkhan.com.pk/about.htm
ڈاکٹر صاحب کے متعلق بہت ساری معلومات گوگل اور ویکی پیڈیا میں موجود ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب جس قدر سادہ دلی سے اپنی باتیں دوسرون کو سناتےہیں ان سے انکی حق گوئی و بے باکی کا اندازہ لگ جاتا ہے۔
وہ علم کا خزانہ ہیں اور پاکستان کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہیں ۔ مگر ان کی عمر کے سات سالوں کو جتنی بے دردی اور بے قدری سے اس حکومت اور اسکی سابقہ حکومت نے ضایع کیا اس پر افسو س ہوتا ہے ۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کی قوم نے ڈاکٹر صاحب کی بے قدری نہیں کی ، مگرمیرا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت نے اور اس سےپہلے کی آمرانہ حکومت نے انکی بے قدری ضرور کی۔ اور اس بے قدری نے پاکستان کو ڈاکٹر صاحب کے علم و فن اورحکمت سے استفادہ کرنے سے ایک طویل مدت تک محروم کردیا ۔ یہ پاکستان کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا ۔ اور جب تک ڈاکٹر صاحب کو اپنے علم سے پاکستان کو مستفید کرنے کی آزادی نہ ہو اس وقت تک میں یہ کہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم ( جمہور ) بھی ڈاکٹر قدیر خان کی بے قدری کی مرتکب ہے۔ مگر جاوید اقبال کیانی صاحب کی یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ پاکستان کے تمام بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں نے ڈاکٹر صاحب کی ایک بزدل آمر کے “ نظریہ ضرورت “ کے ہاتھوں تذلیل پر آنسو بہائے اور ڈاکڑصاحب کی طویل اور صحت مند زندگی کی دعائیں مانگیں۔ میرا خیال ہے کہ اسی بے قدری کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ “ انکی بے لوث خدمات کے باوجود انکو ایک “ مہاجر “ سمجھا گیا ۔ (انکی یہ بات انکے کسی انٹرویو میں موجود ہے ،)
میں کوشش کرونگا کہ اس بلاگ میں اس پروگرام کی لنک بھی چسپان کردوں جس کو “جیو ٹی وی والوں نے “ اپنے :ایک دن جیو کے ساتھ “ پروگرام میں ڈاکٹر قدیر خان صاحب کےساتھ گذار کر اس کو ایک فلمی شکل میں پیش کیا ۔ ۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے سادہ مگر بے باک انداز بیاں کا مظاہرہ اس ویڈیو لنک میں ملاحظہ کیجیے ؛
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?37950-Aik-Din-Geo-K-Sath-20th-June-2010-Dr-Abdul-Qadeer-Khan-quot-Fakhr-e-aalim-e-Islam-quot&highlight=Dr.Abdul+Qadeer+Khan
نگہ بلند ، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
(اقبال )
میں آپ سب محترم بھائیوں (ابھی تک کسی بہن کا کوئی تبصرہ نہیں) کی خدمت میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ :
محترم منظور قاضی صاحب نے بالکل درست تنقید کی کہ اس وقت کے صاحبِ اختیار کی یہ غلطیاں ہیں، ڈاکٹر صاحب کو نظر بند کرنے، دھوکہ دینے اور میدانِ عمل سے ہٹا دینے کی.
قوم کا اس میں قطعاً کوئی قصور نہیں قوم کے لیے تو ڈاکٹر صاحب آج بھی ہیرو ہے، اور رہے گا.
غنیمت جانیے کہ
قوم مرنے کے بعد تو پوچھ ہی لیتی ہے،
مزار تو بنوا دیتی ہے
پھول تو چڑھا دیتی ہے
ان کے قصے تو دہراتی ہے
اگر یہ سب کچھ بھی نہ کرتی تو کون کس کا کیا بگاڑ سکتا تھا ؟؟؟
میں آپ کو پاکستان کے ایسے حقیقی ہیرو کا نام بھی بتا سکتا ہوں جس کا نام تو شاید ایک آدھ نے سن رکھا ہو لیکن کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں، ایسا ہیرو جس کی مثال آج تک دنیا پیش نہ کر سکی، جس کا کام بے شک عالمی ریکارڈ ہے (اب تک)، ایسا سورما جس نے امریکہ برطانیہ اور روس تک کے سارے ہیروز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، میں مبالغہ آرائی نہیں کر رہا وہ ایسا ہیرو بلکہ ہیرہ تھا جس کے کارنامے سن کر ملکہ برطانیہ نے فخر سے کہا تھا کہ “ہے تو وہ . . . ہماری نو آبادی ہی کا رہنے والا”
کون ہے وہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگرچہ ڈاکٹر عبدالقادر کے بلاگ میں کسی اور کا تذکرہ بہتر نہیں لیکن صرف اس نکتہ کو واضح کرنا مقصد ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ہمارے بے شمار ہیرے مٹی میں ملا دئیے ہیں (قوم کو میں قصوروار نہیں مانتا).
عبدالمناف غلزئی صاحب صحیح کہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے ساتھ بد سلوکی اور بے قدری کرنے میں “قوم“ کا قصور نہیں ، اس لیے کہ قوم تواپنے ہیرو سے بے حد محبت کرتی ہے۔
یہی بات ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اپنے “ ایک دن جیو کے ساتھ“ ( جس کی لنک میرے اوپر کے تبصرے میں موجود ہے) کہی تھی ۔
چونکہ اس سلسلہ میں ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے خود کہ ہی دیا ہے تو بہتر یہی ہوگا کہ انکی باتوں اور انکے اپنے تاثرات اور خیالات اور نظریات اور انکے کارناموں پر تبصرے کیے جائیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہتر بات تو یہی ہے کہ قوم اپنے ہیرو کی زندگی ہی میں اس کی قدر کرے ۔ اور اسکی موجودگی کو غنیمت سمجھ کر اس کے علم سے استفادہ کرے ۔ ورنہ مرنے کے بعد قوم اسکی رہنمائی سے ہمیشہ کےلیے محروم ہوجائےگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالمناف غلزئی صاحب سے گذارش ہے کہ و ہ ضرور اپنا بلاگ شروع کریں جس میں انکے تبصرے میں لکھے ہوئے پاکستان کے “ حقیقی ہیرو “ کے کارناموں کو اجاگر کیا جائے ۔ ہوسکا تو میں بھی ا ن کے اس بلاگ میں حسب۔ استطاعت حصہ لونگا ۔
قاضی صاحب ، آپ کا فرمانا کہ :
” پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت نے اور اس سے پہلے کی آمرانہ حکومت نے انکی بے قدری ضرور کی “
محترم قاضی صاحب، جن کی اپنی کوئی قدر نہیں ہوتی وہ دوسرے کی قدر سے بھی نا آشناء ہوتے ہیں ۔ مشرف سے کسی نے پوچھا کہ آپ تو ڈاکٹر قدیر کو اپنا ہیرو سمجھتے تھے تو اس نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا ، ” ہاں سمجھتا تھا مگر اب وہ میرا ہیرو نہیں ہے ۔“ جزوی رہائی کے بعد کسی نے ڈاکٹر صاحب سے مشرف کے ان ریمارکس پہ بات کی تو ڈاکٹر صاحب نے ایک تاریخی بات کہی، آپ نے فرمایا :
” آپ مشرف کو کہیں کہ میرے ساتھ راولپنڈی کے راجہ بازار کا ایک چکر لگائے ، میں پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مشرف کو جسم ڈھانپنے کے لئے مجھے اپنی قمیض اتار کر اسے دینی پڑے گی “
یہ ہے پاکستان کے عوام کی ڈاکٹر صاحب سے محبت کا عالم جسے وہ بہت اچھی طرح آگاہ ہیں۔
اور قبلہ قاضی صاحب، جہاں محبت کا یہ عالم ہو وہاں میں اس بات سے قطعی اتفاق نہیں کر سکتا کہ :
” میرا خیال ہے کہ اسی بے قدری کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ انکی بے لوث خدمات کے باوجود انکو ایک ” مہاجر “ سمجھا گیا ۔ (انکی یہ بات انکے کسی انٹرویو میں موجود ہے ) “
میں ڈاکٹر صاحب سے ایسی کسی شکایت کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اگر پھر بھی ڈاکٹر صاحب کا ایسا کوئی شکوہ ریکارڈ پہ ہے تو ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہی عرض کروں گا کہ ایک ” مہاجر “ نے ہی ان سے ” مہاجر “ جیسا سلوک کیا ورنہ اسے پہلے اور اس کے بعد بھی وہ سب کی آنکھوں کا تارہ ہی تھے ، ہیں اور انشاء اللہ تا حیات رہیں گے ۔
اگر موجودہ دور میں بھی ان پہ کچھ پابندیاں ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ۔ یہ بات ایک انجان بھی جانتا ہے کہ ان کی زندگی کو کیا خطرات لاحق ہیں اور یہ بات ڈاکٹر صاحب سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ لیکن بردہ فروشوں کا دور گذر چکا ، جب ان کی زندگی کو خوفناک اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق تھے ، وہ خود بھی شدید نفسیاتی دباو کا شکار تھے اور آمرِ وقت بھی کسی بھی صورت ان سے چھٹکارے کا آرزومند تھا ۔ تب اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمت ، حوصلہ اور صحت و تندرستی بخشی تو وہ پاکستان کے بچے بچے کی دعائوں کی قبولیت کا پھل ہے اور یہ دعائیں ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کا مقدر رہیں گی ، انشاء اللہ ۔
زندہ باد اے محسنِ پاکستان ، پائیندہ باد اے حسنِ پاکستان۔
ڈاکٹر اے کیو خان روزنامہ جنگ میں ” سحر ہونے تک “ کے عنوان سے بڑے بصیرت افروز کالم لکھتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی شاعرانہ طبیعت سے بھی محظوظ کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ” گدھے کی فریاد “ کے نام سے ایک مزاحیہ اور سبق آموز نظم میری نظر سے گذری جس کے آخر میں ” ڈاکٹر راست گو “ لکھا ہوا تھا ۔ روزنامہ جنگ کے معروف کالم نویس عبدالقادر حسن ، ڈاکٹر صاحب کے حالات پہ اکثر کالم لکھتے رہتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب انہیں جواباّ مخاطب کرتے ہوئے اپنے آپ کو ” ڈاکٹر راست گو “ ہی لکھتے ہیں، سو نظم کے آخر میں ” ڈاکٹر راست گو ، کراچی “ پڑھ کر میں اسی نتیجے پہ پہنچا کہ یہ نظم آپ ہی کی ہے ، جو آپ کی خدمت میں پیش ہے :
” گدھے کی فریاد “
==============
اک رات گدھے نے کہا اے رب تیرے قربان
میری یہ دعا سن لے مصیبت میں پڑی جان
احمق جسے کہنا ہے گدھا کہتے ہیں اس کو
خاموش محنتی کو وہ سمجھتے ہیں نادان
دم کھینچ کے کانوں کو پکڑ لیتے ہیں لڑکے
ان کے لئے جیسے ہو کوئی کھیل کا سامان
کپڑوں کا وزن مجھ سے اٹھائے نہیں اٹھتا
دھوبی تو میرے واسطے بن جاتا ہے شیطان
گاڑی میں مجھے جوت کے مزدور ستمگر
لوہے کے منوں بوجھ سے کرتا ہے پریشان
دنیا میں ” گدھے اور ہیں“ لیکن ہیں بہت خوش
یوں شکل سے وہ لوگ نظر آتے ہیں انسان
اسکول میں ملتا تھا جنھیں تھرڈ ڈویژن
کالج کے جو جلسے میں وہی خاص ہیں مہمان
دو چار لکیروں کے سوا لکھ نہیں سکتے
اللہ کی قدرت کہ وہ جاری کریں فرمان
خود غرض ہیں ظالم ہیں یہ احسان فراموش
کیا کچھ نہ دیا تو نے نہیں مانتے احسان
شیطان صفت ہیں انہیں حیوان بنا دے
عادت سے تو پہلے ہی تھے صورت سے ہوں حیوان
برتائو جو کرتے ہیں وہی ان سے کریں سب
اوروں کی طرح وہ بھی ہوں کچھ روز پریشان
السلام علیکم
جناب منظور قاضی صاحب ، میں آپ کا بیحد مشکور ہوں کہ آپ نے یہ نہایت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی بلاگ شروع کیا ، اللہ آپ کو اِس کی جزا عطا فرنائے ۔ آمین ۔
محترمین محفل ، میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے اِس خوبصورت بلاگ پر نہایت ہی خوبصورت تبصرے کیے ۔ آپ سب نے جس محبت اور خلوص سے محسن پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ میرے لیے مشعل راہ ہے اور اِس کے لیے میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔
اللہ جسے جائے عزت دے اور جسے چاہے ذلت ۔ دیکھ لیجئے ، آج پرویز مشرف کہاں ہے اور محسن پاکستان کہاں ہیں ، مجھے یقین ہے کہ ہم لوگ بحیثیت ایک قوم مختلف ٹولیوں میں ضرور بٹے ہوئے ہیں ، ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی سیاسی و مسلکی انا کا بت اپنے کندھوں پر بھی اُٹھا رکھا ہے مگر محسن پاکستان کی شخصیت اور اُن کی محبت میں پوری قوم متحد ہے اور قیامت تک رہے گی ، خدا تعالی نے جو مقام اُنہیں دے دیا ہے وہ اب اُن سے قیامت تک کوئی مشرف ، کوئی زرداری نہیں چھین سکتا، اب یہی دیکھ لیجئے کہ ہم سب جو عالمی اخبار کی فیملی کا حصہ ہیں اور مختلف ممالک میں بستے ہیں اکثر موضوعات پر یکسر مختلف نکتہ ِ نظر رکھتے ہیں مگر ہم سب بھی محسن پاکستان کی محبت اور عقیدت میں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔
کچھ دن پہلے جیو کے ایک پروگرام میں دس بارہ سال کی ایک بچی ( جس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا تھا ) کا انٹرویو دکھا رہے تھے جب اُس سے پوچھا گیا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہے تو اُس کا جواب ( میرے لیے باعثِ حیرت مگر ) نہایت ہی خوبصورت اور دلکش تھا ۔ بچی نے جواب دیا ’’ میں پاکستان کے لیے ایک اور ڈکٹر عبدالقدیر خان بننا چاہتی ہوں ‘‘
اب اِس سے بڑا ثبوت کیا ہو کہ کہ ’’ اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ‘‘ میری قوم کے بچے بھی محسن پاکستان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں کیا یہ کسی نوبل پرائز سے کم ہے ، بلکہ خود نوبل پرائز کی اہمیت اِس ایک جملے کے سامنے کچھ بھی نہیں رہی ، حکمرانوں کی تو شاید کچھ مجبوریاں رہتی ہوں جو وہ یوں اپنے محسنوں کی بے قدری کرتے ہیں مگر عوام کی تو کوئی مجبوری نہیں ہے کوئی بھی چیز اُنہیں محسنِ پاکستان سے دلی اور والہانہ محبت سے نہیں روک سکتی ۔
آخر میں میرا بھی آپ سب کے ساتھ یہی نعرہ ہے ۔
محسن پاکستان ۔ زندہ باد ، پاکستان ۔ پائیندہ باد ۔
عالمی اخبار اور اُس کا یہ بلاگ اور اِس بلاگ کے سارے محترم تبصرہ بگار ۔ زندہ باد ، پائیندہ باد ۔
آصف احمد بھٹی
میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے 17 جولائی 2010 کا “ دو ٹوک “ پروگرام کا انٹرویو اس ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش کررہا ہوں ۔۔ یہ اس انٹرویو کا حصہ اول ہے
مگر افسوس صد افسوس کہ اسکا حصہ دوم جسے “ دو ٹوک “پروگرام والوں نے 18 جولائی 2010 کو نشر کیا اس پروگرام کو میرا کمپیوٹر اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اس بلاگ میں چسباں کرنے سے قاصر ہے ۔ اگر کوئی صاحب یا صاحبہ یہ نیک کام کردیں اور 18 جولائی والے پروگرام کو بھی اس بلاگ میں چسپاں کردیں تو اس بلاگ کی افادیت مزید بڑھ جائے گی۔
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?39409-Do-Tok-17th-July-2010-Dr-Abdul-Qadeer-Khan-The-Story-Of-Atomic-Bomb&highlight=Dr.Abdul+Qadeer+Khan
۔۔۔۔۔۔
جاوید اقبال کیانی صاحب نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی نظم اس بلاگ میں لکھکر ڈاکٹر صاحب کی بذلہ سنجی اور “ راست گوئی “ کی بہترین مثال عطا کردی : جزاک اللہ ۔( کاش کہ عبدالقدیر خان صاحب خود اپنے ہاتھوں سے اس بلاگ میں اپنی نصیحت عنایت کریں ۔)
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب اور آصف احمد بھٹی صاحب اور ظفر جعفری صاحب ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمت میں اپنے عقیدت کے پھول نچھاور کررہے ہیں : جزاک اللہ ، انکے تبصروں کو اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب پڑھیں اور ان تبصروں میں عقیدت کی شدت کو محسوس کریں تو انکا دل خوش ہوجائے گا۔
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ عوام ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے کارناموں کو سرا ہ رہے ہیں اور انکی عمر کی طوالت اور انکی مکمل صحت یابی کی دعائیں مانگ رہے ہیں ۔
مندرجہ بالا ویڈیو پروگراموں میں اور خاص طور پر ایک دن جیو کے ساتھ والے پروگرام میں قوم نے پاکستان کی ہیرو کی بے قدری کا مظاہرہ دیکھ لیا کہ گذشتہ جون ( صرف تین ماہ قبل کےپروگرام میں ) ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو فٹ پاتھ پر( لبِ سڑک ) بیٹھ کر اپنا انٹرویو دینا پڑا ۔ کیا یہ پاکستان کے ہیرو کی جمہوری دور میں بے قدری نہیں ہے ؟ کیا اسکے ذمہ دار عوام نہیں ہیں جنھوں نے بے قدروں کو اپنا حاکم “ منتخب“ کیا ؟ اب تو پاکستان میں کوئی آمر کی حکومت نہیں ہے !! یہ تو جمہوری حکومت ہے اس میں پاکستان کے ہیرو کی اتنی بے قدری کیوں ؟ کیا جمہور اس بے قدری کی ذمہ دار نہیں ہے ؟
سب کو اس کا علم ہے کہ ہندوستان والوں نے تو ابو لکلام کو جوہری بم کے پروگرام کو آگے بڑھانےکے نتیجہ میں اسکو صدارت کے عہدے سے نوازا مگر پاکستان والوں نے اپنے ہیرو کو فٹ پاتھ پر بٹھادیا ۔ کیا یہ پاکستان کی جمہور کےلیے شرم کی بات نہیں ؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا یہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ انہوں نے نہ صرف جوہری بم بنا کر اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا بلکہ اس کو باہر پھینکنے کے لیے غوری میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا ۔
پاکستان کا ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ باد
فقط :
منظور قاضی از جرمنی
جاوید اقبال کیانی صاحب کی خدمت میں اور تمام قارئین کے معلومات کے لیے یہ انگریزی کا اقتباس حاضر ہے جس میں ڈاکٹر قدیر خان صاحب سے متعلق بہت ساری اہم معلومات موجود ہیں ۔
Twitter Pakistan
All about Islamic Republic of Pakistanfront page About Twitter Pakistan RSS Page 1 of 11
Dr. Abdul Qadeer Khan Biography , History and Research Laboratories
August 8th, 2010 · No Comments · Pakistan Daily News, People of Pakistan
Abdul Qadeer Khan, born April 27, 1936, best known as Dr. A. Q. Khan, is a Pakistani nuclear scientist and a metallurgical engineer, widely regarded as the leader of gas-centrifuge enrichment technology for Pakistan’s nuclear program. A founder of Pakistan’s gas-centrifuge-based uranium enrichment program, Dr. Khan built Pakistan’s gas-centrifuge program. His middle name is alternatively rendered as Qadeer or Gaudeer, and his given names are usually abbreviated to A.Q.Iin Pakistan, Khan is feted as a national hero.
The scientific contributions of Dr. Khan have been recognized in several ways. As an active scientist and technologist, he has published more than 188 scientific research papers in international journals of high repute. He has been editor of a large number of books on metallurgy, advanced materials and phase transformation. His academic and scholastic activities have attracted the attention of number of western countries where he has delivered more than 100 lectures. His work on Industrial Uranium Enrichment Plant for peaceful application of nuclear technology has resulted in a breakthrough in the field of metallurgy & materials science.
People who are fearless and speak the truth face difficulties and hurdles. Unfortunately, in our culture people surround themselves with sycophants whose lies they choose to believe. Many of our former rulers fell victim to this curse, having to leave the scene in disgrace. In one of my previous columns I had remarked that rulers usually don’t jump into a well of their own accord–they are pushed in.
Khan in a July 2010 interview, Khan said that he is still regarded as a Mohajir. After years of home arrest, Islamabad High Court on February 6, 2009 declared Khan to be a free citizen of Pakistan, allowing him free movement inside the country. The verdict was rendered by Chief Justice Sardar Muhammad Aslam. In September 2009, expressing concerns over the Lahore High Court’s decision to end all security restrictions on Khan, the United States warned that Dr. Khan still remains a ’serious proliferation risk’.
اللہ محسنِ پاکستان کردار کے غازی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو طویل اور صحت مند عمر کے ساتھ پاکستان کی مزید خدمت کی مہلت عطا کرے : آمین
مندرجہ بالا انگریزی اقتباس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی تاریخ پیدائیش 27 اپریل 1936 لکھی گئی ہے مگر خود ڈاکڑ عبدالقدیر خان صاحب کی ویب سائیٹ میں انکی تاریخ پیدائیش یکم اپریل 1936 ( پندرہ رجب 1355 ہجری ) لکھی گئی ہے ۔
میرے مندرجہ بالا تبصرے کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر صاحب کی یہ ویب سائٹ حاضر ہے
http://www.draqkhan.com.pk/about.htm
محترم قاضی صاحب،
ڈاکٹر اے کیو خان کے حالاتِ زندگی اور ان کی سائینسی خدمات سے متعلق مزید معلومات بہم پہنچانے کا شکریہ۔
قبلہ قاضی صاحب ، ایک اور اہم بات جو میں اس بلاگ کا حصہ بنانا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ ڈاکٹر صاحب سے جذباتی وابستگی کی بنا پہ ہم میں سے اکثر حضرات بیشتر اوقات حقیقت پسندی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں ۔ مثلاّ ” ایک دن جیو کے ساتھ “ والے پروگرام میں بہت سے حضرات کی سوچ کو سامنے لاتے ہوئے آپ کا یہ فرمانا کہ :
” مندرجہ بالا ویڈیو پروگراموں میں اور خاص طور پر ایک دن جیو کے ساتھ والے پروگرام میں قوم نے پاکستان کی ہیرو کی بے قدری کا مظاہرہ دیکھ لیا کہ گذشتہ جون ( صرف تین ماہ قبل کےپروگرام میں ) ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو فٹ پاتھ پر( لبِ سڑک ) بیٹھ کر اپنا انٹرویو دینا پڑا ۔ کیا یہ پاکستان کے ہیرو کی جمہوری دور میں بے قدری نہیں ہے ؟ کیا اسکے ذمہ دار عوام نہیں ہیں جنھوں نے بے قدروں کو اپنا حاکم “ منتخب“ کیا ؟ اب تو پاکستان میں کوئی آمر کی حکومت نہیں ہے !! یہ تو جمہوری حکومت ہے اس میں پاکستان کے ہیرو کی اتنی بے قدری کیوں ؟ کیا جمہور اس بے قدری کی ذمہ دار نہیں ہے ؟ “
قبلہ قاضی صاحب ، چونکہ مجھے آپ سے اختلافِ رائے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اس لئے بات کھل کر کردیتا ہوں ۔ اب مندرجہ بالا انٹرویو محض، گھر سے باہر ، سیکورٹی والوں کی نظروں سے بچ کر دیا جا رہا ہے اس لئے ڈاکٹر صاحب ذرا بے تکلف ہوکر بر لبِ سڑک یا فٹ پاتھ پہ کہیں بیٹھ جاتے ہیں تو اس میں بے قدری کا کوئی پہلو نہیں ۔ اس میں میڈیا کی غیر ذمہ داری کا بھی بڑا دخل ہے جو خواہ مخواہ انہیں بے وجہ اور موقع بے موقع گھسیٹ کر اپنی اہمیت اور اشاعت بڑھانے کے چکر میں ہوتی ہے ۔دوسری بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب ریٹائیرڈ ہیں سو انکی مرضی جب ، جیسے اور جہاں چاہیں انٹرویو ریکارڈ کروائیں لیکں میرے ذاتی خیال میں انہیں اپنے آپ کو کم سے کم ’ ایکسپوز ‘ کرنا چاہیے کہ یہ خود ان کی اپنی سیکورٹی ہے ۔
دوسری سب سے اہم بات کہ نوبت یہاں تک آئی کیوں ؟ اس کی بڑی وجہ خود اپنی قدرے لاپرواہی اور رازداری پہ سمجھوتہ ہے ۔ ان کے ہالینڈ سے غائب ہونے کے فوری بعد اسلامی بم کا پراپییگنڈہ شروع ہوگیا ۔ پاکستان کے مالی اور معاشی حالات اتنے بڑے پراجیکٹ کے قطعاّ متحمل نہیں ہو سکتے تھے سو خدا نے غیبی مدد کا بندوبست کردیا ، جن میں لیبیا سرِ فہرست تھا ۔ کرنل قذافی کی رگوں میں جب تک جوانی جوش مارتی رہی وہ خوب بڑھکیں مارتا رہا ۔ لیکن اِدھر بڑھاپے نے دستک دی اُدھر وہ امریکہ اور مغرب کے آگے ڈھیر ہوگیا۔ رات کو کوئی خواب دیکھا صبح اُٹھ کر اپنا نیوکلیئر پروگرام لپیٹ کر سارے رازوں سمیت امریکہ کے حوالے کردیا ۔ یہاں سے ہماری بدقسمتی اور ڈاکٹر صاحب پہ زوال کا وقت شروع ہوا ۔ ہنود و یہود اور نصاریٰ کی ساری ایجنسیاں جو پہلے ہی کُتے کی طرح ہمارے ملک ، بالخصوص ڈاکٹر صاحب ، کے پیچھے پڑی تھیں اب کھل کر سامنے آگئیں۔پاکستان کا بازو مروڑ کے امریکہ افغانستان میں قدم جمانا چاہتا تھا لہذا سب سے پہلے انڈیا کو پاکستان کی سرحدوں پہ لا کھڑا کیا پھر ڈاکٹر صاحب کی حوالگی کا مطالبہ کردیا۔ اقتدار کا حریص مشرف عوام میں جڑیں نہ ہونے کی بنا پہ انتہائی بزدل ثابت ہوا اور فوراّ امریکہ کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا ۔ حالانکہ پاکستان نے آج تک ایٹمی عدم پھیلائو کے معادے پہ دستخط ہی نہیں کیے تو پھر پاکستان یا ڈاکٹر صاحب اس عالمی قانون کی زد میں ہی نہیں آتے ۔ لیکن وہ فرمانبرداری میں اس حد تک گر گیا کہ اپنی یاوہ گوئی یعنی In the Line Of Fire ( سب سے پہلے پاکستان ) میں پورا ایک باب ڈاکٹر قدیر صاحب پہ لکھ مارا جس کا اسے صلہ تو یہ ملا کہ یہودی لابی نے سیاسی رشوت کے طور پہ اس کتاب کی ساری کاپیاں خرید کر اسے بھی خرید لیا لیکن یہ پاکستان کے خلاف ایک کھلی FIR لکھی گئی جو ہر جگہہ یہی کہہ کر پیش ہوگی کہ خود صدرِ پاکستان نے ڈاکٹر قدیر کو مجرم قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی اس کے علاوہ بدقسمتی اپنی فیلڈ میں پروفیشنل رقابتیں، ان پہ برے وقت کے دوران ہمارے کچھ سائینسدانوں کا امریکہ فرار اور ملکی رازوں کا افشاء اور ملکی سلامتی سے قطعاّ لاتعلق ایک اقلیتی فرقے کے سائینسدانوں کا اس پروگرام سے کچھ نہ کچھ واسطہ بھی شامل ہے۔
تصویر کا یہ دوسرا رخ پیش کرنے کا میرا واحد مقصد یہ باور کرانا ہے کہ اس سارے پس منظر کی روشنی میں ہمارے حکمرانوں کے ہاتھ باندھ دئے گئے ہیں اور ہمیں مستقبل میں بھی ان سے زیادہ امیدیں وابسطہ نہیں کرنی چائیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے لئے صرف اور صرف پاکستانی عوام کی دعائیں اور لازوال محبت ہی حکمرانوں کو بِکنے یا جھکنے سے روک سکے گی لہذا ہمیں کسی وقت بھی غفلت کا ثبوت نہیں دینا چائیے۔
اور آخر میں جناب قاضی صاحب ، میرے شمول تمام پاکستانیوں کی طرح آپ کا ڈاکٹر قدیر اور ابو لکلام کا موازنہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے متعلق تو تصویر کے دوسرے رخ میں بیان کر چکا ہوں کہ انہیں عالمی سطع پہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے ورنہ تو ایک وقت نواز شریف نے بھی انہیں پاکستان کا آئیندہ صدر بنانے کی خوشخبری دے دی تھی اور اگر پاکستانی عوام کی بے مثال محبت ان کے ساتھ رہی تو ایسا مشکل بھی نہیں ہوگا لیکن ڈاکٹر ابو لکلام کی مثال ایک شاطرانہ چال اور ہندو بنئیے کا جال ہے۔
چین کے بعد ہندوستان کا واحد دشمن پاکستان ہے ، دوسرے چھوٹے ہمسائے اس کے لئے چیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تباہی کے لئے ہمارے دشمن کو ایک مسلمان نے ہی ایٹم بم بنا کر دیا ہے ۔اور ایسے یزید کے اگر وہ بُت بھی اپنے مندروں میں سجا لیں تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چائیے ۔ دوسرا اسے صدر بنا کر ہندوستان نے وہاں کے مسلمانوں کی ، ان کی نسل کشی کے باوجود ، ہمدردیاں حاصل کرنے کے علاوہ دنیا کو اپنے ہاں حقیقی سیکولر جمہوریت کا تاءثر دینے کی کوشش کی ہے اور تیسرا ڈاکٹر قدیر کے خلاف عالمی سازش کا حصہ بنتے ہوئے ان کی کردار کشی اور رسوائی کے ذریعے پاکستانی انجنئینروں اور سائینسدانوں بالخصوص ایٹمی سائینسدانوں کو یہ واضح پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اپنے ملک کی محبت کا راگ الپنے والو اپنے ڈاکٹر قدیر کا حشر دیکھ لو ۔لیکن اللہ نے چاہا تو ان کی سب چالیں ناکام ہوں گی اور صرف اور صرف اسلام سرخرو ہوگا کہ یہی قرآن کی بشارت اورمیرے اللہ کا وعدہ ہے۔
میں نے چودہ اکتوبر 2008 میں ڈاکٹر کیو خان پر کالم لکھا تھا ۔۔۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اس وقت سے مداح ہوں جب میں نے کراچی بورڈ سے فزکس میں ٹاپ کیا تھا اور ان جیسی ہی اٹامک سائنٹسٹ بننا چاہتی تھی جسکی گھر والوں نے بھر پور مخالفت کی اور میں مجبورا ڈاکٹر بن گئی ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کے بارے میں میر اکالم ضرور پڑھئے گا ۔۔ لنک ہے ۔۔۔
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=nighat&article=227
ماشااللہ : ڈاکٹر نگہت نسیم صآحبہ کا یہ 14 اکتوبر 2008 کا لکھا ہوا مضمون اس بلاگ کی روح سمجھا جاسکتا ہے ۔
کاش کہ میں اس مضمون سے ہی اس بلاگ کا آغاز کردیتا اور مجھے بہت ساری تحقیقتات کرنے کی ضرورت درکار نہ ہوتی ۔
ڈاکٹر صاحبہ نے انتہائی موثر انداز میں ڈاکتر عبدالقدیر خان کی زندگی کے حالات اور ان کو جن مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا اس کا انتہائی راست گوئی اور بے باکی سے اظہا رکردیا ہے ۔
شکریہ : ڈاکٹر صاحبہ کہ آپ نے اپنے اس مضمون سے اس بلاگ کی افادیت ہزار گنا زیادہ بڑھا دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے کی بہت ساری باتوں سے مجھے بالکل اتفاق ہے صرف میں ان سے اورقارئین سے درخواست کرونگا کہ وہ “ جیو کےساتھ ایک دن والے“پروگرام کے شروع کا حصہ بار بارسنیں :
اس پروگرام کے آغاز میں : یہ کہا گیا ہے کہ :
( لفظ بہ لفظ حصہ سننے کے لیے پروگرام کو سننا پڑے گا ، اور اسکے بعد جاوید اقبال کیانی صاحب کی یہ بات پڑھنے پڑے گی کہ :
“ اب مندرجہ بالا انٹرویو محض، گھر سے باہر ، سیکورٹی والوں کی نظروں سے بچ کر دیا جا رہا ہے اس لئے ڈاکٹر صاحب ذرا بے تکلف ہوکر بر لبِ سڑک یا فٹ پاتھ پہ کہیں بیٹھ جاتے ہیں تو اس میں بے قدری کا کوئی پہلو نہیں “
اس انٹرویو کے ابتدائی حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ :
“پولیس اور ایجنسیوں نے گھر میں جیو ٹیم کو کیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف موبائل فون سے تصویر یں لینا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر خان کے اصرار کے باوجود کیمرے اندر لے جانے کی اجازت نہ ملی جس پر بطور احتجاج کہسار مارکیٹ جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہا ں بھی پولس اور ایجنیسیوں کی روکت تھام جاری رہی ، لیکن میڈیا کے آنےاور ڈاکٹر صاحب کی جرائت سے یہ پابندی ٹوٹ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پولس اور ایجنسیوں کی پابندی کی وجہ سے کرسی اور میز پر بیٹھ کر گفتگو کرنے کی اجازت نہ ملی اس لیے
فٹ پاتھ پر ہی بیٹھ کر انٹرویو شروع کیا گیا “
اس ابتدائی حصہ کو سن کر یہ ہرگز نہیں کہا جائےگا کہ “ ڈاکٹر صابھ ذرا بے تکلف ہوکر بر لب سڑک یا فٹ پاتھ پہ کہیں بیٹھ “گئے اور اس طرح اس میں “ بے قدری کا کوئی پہلو نہیں “
جمہوری حکومت ( جسے جمہوری عوام کی اکثریت نے منتخب کیا ) نے پاکستان کے ہیرو کی بے قدری کرکے اسے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گفتگو کرنے پر مجبور کردیا۔ افسوس صد افسوس۔
بہرکیف :
میں جاوید اقبال کیانی صاحب کی اس پیش گوئی پر آمین کہتا ہوں کہ :
“ ۔لیکن اللہ نے چاہا تو ان کی سب چالیں ناکام ہوں گی اور صرف اور صرف اسلام سرخرو ہوگا کہ یہی قرآن کی بشارت اورمیرے اللہ کا وعدہ ہے۔“
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی ای میل کا پتہ جنگ اخبار کے صفحات ( کالم اور مضامین ) میں یوں ہے:
draqkhan786@gmail.com
میں کوشش کرونگا کہ ڈاکٹر قدیر خان صاحب سے درخواست کروں کہ وہ اس بلاگ میں اپنا کوئی شعر لکھ دیں۔
امید تو بالکل نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنی شدید مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اس بلاگ کو دیکھ سکیں مگر امید پہ دنیا قائم ہے ۔
شائد وہ میری درخواست قبول کرلیں بشرطیکہ اس ای میل کے پتہ پر میرے اس بلاگ کی لنک ان تک پہنچ جائے۔
اگر ڈاکٹر قدیر خان صاحب کی کوئی تحریر اس بلاگ میں نظر نہ آئے تو سمجھ لیجئے کہ میری کوشش ناکام ہوگئی
مجھے افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑرہا ہے کہ میرے کمپیوٹر کی بھجوائی ہوئی اس بلاگ کی لنک ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب تک پہنچنےمیں ناکام ہوگئی
کمپیوٹر کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر صاحب کا یہ پتہ کسی کی ای میل کو قبول نہیں کر ے گا۔
ممکن ہے کہ کوئی قاری ڈاکٹر صاح
ممکن ہے کہ کوئی قاری ڈاکٹر صاحب کے ای میل کا صحیح صحیح پتہ اس بلاگ میں لکھدے
میں ڈآکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے رابطہ قائم کرنے میں اب تک ناکام رہا ہوں مگر مایوس نہیں ہوا ۔
میری خواہش ہے کہ اردو ادب اور شاعری کے موضوع پر ڈاکٹر صاحب اس بلاگ میں کچھ عطا کریں ۔
فی الوقت میں ڈاکٹر صاحب کا ایک شعر (جسے انہوں نے “ حسب حال “ پروگرام میں سنایا ) یہاں لکھ دیتا ہوں کہ:
گذر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گذری ہے
یوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب حق گوئی و بےباکی میں دنیا والوں کے لیے ایک رول ماڈل ( قابل تقلید اور قابل مثال نمونہ ہیں ) اور جنگ اخبار میں انکےتمام کالم پڑھنے کے قابل ہیں مگر اج کے جنگ اخبار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا یہ کالم “ جب روم جل رہا تھا “ خاص طورپر قابلِ مطالعہ ہے اس لیے کہ انہوں نےپاکستان کےسابق صدر مشرف کو روم کے نیرو سے تشبیہ دی ہے:
اس لنک کو کلک کرنے پر ڈاکٹر صاحب کا یہ کالم پڑھا جاسکتا ہے :
http://www.jang-group.com/jang/sep2010-daily/20-09-2010/col1.htm
تعجب کی بات ہے کہ پاکستان کے اس ہیرو ( ڈاکٹر عبدالقدیر خان ) کے بلاگ میں میرے علاوہ صرف پانچ حضرات ( احمد ترازی صاحب ، طفر جعفری صاحب، جاوید اقبال کیانی صاحب عبدالمناف غلزئی صاحب اور آصف احمد بھٹی صاحب ) نے اور صرف ایک خاتون ( ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ) نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی اور اس کے کارنامے پر تبصرے کرنا ضروری سمجھا !!!
سب کی اطلاع کےلیے عرض ہے کہ اس بلاگ کا عنوان : “ ڈاکٹر عبدالقدیر خان : پاکستان کے ہیرو کی بے قدری “ ، ہے
آویز صاحب کا یہ تبصرہ کسی دوسرے بلاگ میں دیکھکر دل چاہا کہ اس تبصرےکو اس بلاگ کی بھی زینت بنایا جائے اس لیے کہ آویز صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی حفاظت اور سلامتی کے لیے لکھا ہے:
آویز صاحب کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے:
آویز۔ برمنگھم نے کہا ہے:
September 28, 2010 بوقت 3:18 pm
السلام علیکم۔
ڈاکٹر قدیر کوئی معمولی انسان نہیں یہ ایک نہایت جینیس انسان ہے جو سینکڑوں سال بعد
ایک ہی پیدا ہوتا ہے ۔یہ شخص ہر پاکستانی کے دل کا ہیرو ہے ۔اس کی حفاظت ہر پاکستانی کے دل میں ہے اور ہونی بھی چاہیے۔
جس طرح پاکستان کے حالات جارہے ہیں ، چاروں طرف سے پاکستان کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔
ڈاکٹر قدیر کی جتنی بھی سیکورٹی سخت کی جائے یہ اُن کے لئے بہتر ہے ۔ ڈاکٹر قدیر کے پیچھے
صرف امریکہ اور اسرائیل ہی نہیں پڑے ہوئے ان کے پیچھے طالبان بھی ڈاکٹر قدیر کو اغوا کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس شخص سے
تمام نیوکلر کے کام لئے جاسکیں ۔امریکہ کو بھی یہ ہی خدشہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر کہیں طالبان کے ہاتھ نہ آجائے۔
ڈاکٹر قدیر کی سیکورٹی حکومت کی اور حالات کے مطابق مجبوری بھی ہے اور نہایت ضروری بھی ہے
دشمن قوموں کو قطعی پسند نہیں کہ مسلم ممالک میں ایسے جینیس لوگ بھی پیدا ہوں جو دشمن کی طاقت کا توڑ بنانے والے ہوں ۔
دشمن قومیں تو ہر وقت ایسے شخص کے قتل کے درپے ہی رہتی ہیں خواہ حالات اچھے ہوں ی برُے ہوں ۔
مثال کے طور پر اسی سال مکہ اور مدینہ کی زیارت پر گئے ہوئے اتنی بھیڑ میں 2 ایرانی نیوکلر سائنسدان سعودی عرب سے اغوا ہوچکے ہیں جو ابھی تک لاپتہ ہیں ۔ دوبئی کے ایک ہوٹل میں فلسظینی جینیس کمانڈر کو قتل کردیا گیا۔یہ سارے اسرائیلی جاسوس برٹش پاسپورٹ لے کر آئے تھے ۔۔ دشمنوں کے جاسوس ہر وقت ایسے لوگوں کے لئے خطرہ جان ہیں ۔
ڈاکڑ قدیر کی حفاظت اور اس کی سیکورٹی ڈاکٹر قدیر کی اپنی زندگی کے لئے بہتر ہے ۔
وسلام
آویز۔ برمنگھم
قبلہ منظور قاضی صاحب۔تسلیمات۔
حسب حکم ڈاکٹر قدیر صاحب کے حوالہ سے اپنے مضمون کا ربط یہاں لگا رہا ہوں۔ یہ مضمون کوئی چارماہ کے وقفے سے اکتوبر ٢٠٠٨ میں دوبارہ شائع ہوا تھا۔
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=misbah&article=256
———————————
ترجمانِ ماضی، شانِ حال، جانِ استقبال۔
14.10.2008, 12:24pm , منگل (GMT+1)
مصباح حسین، سڈنی
سناتھا کہ ہا تھی مر کے سوا لاکھ کا ہو جاتا ہے، لیکن آج ڈاکٹر قدیر خان کا انٹرویو بی بی سی ریڈیو پر سنا تو احساس ہو کہ عالم محبوس ہو کر سولہ کروڑ نفوس سے زیادہ بھاری ہو جاتا ہے۔جب ڈاکٹر صاحب سے بی بی سی نے پوچھا کی کیسی گزر رہی ہے، تو انکا جواب تھا کہ بہت اچھی گزر رہی ہے، میری ہمت نے جواب نہیں دیا اور میں نے اس عرصے میں بہت سے کتب کا مطالعہ کیا اور قرآن حکیم کو روزانہ پڑھتے ہیں جو کام کی مصروفیت کے دوران ممکن نہ تھا۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ پرویز مشرف اور انکے حواریوں نے اس عرصے میں کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا اور کتنے سیپارے قرآن پاک کے پڑھے۔ ڈاکٹر صاحب کے انٹرویو کے تیور بتا رہے تھے کہ نہ تو انکی ہمت نے جواب دیا ہے اور نہ ہی عقل نے۔ قید تنہائی اور وہ بھی ایسے گھر میں جہاں دنیا بھر کی خبریں بھی آتی ہوں اور ہر طرح کی سہولت بھی موجود ہو، لیکن آزادیء انسان نہ ہو۔۔۔جیل کی زندگی سے زیادہ صبر آزما اور مشکل ہے، جسے یقیناً ایک بلند عزم ہیرو ہی برداشت کر سکتا ہے۔ گو کہ ڈاکٹر صاحب نے کوئی سرکاری راز افشاء نہیں کیا، لیکن انکے انٹرویو کے تیور سے نجانے کتنے سیاسی راہنماؤں کی نیند حرام ہوئی ہوگی اور کتنی عقلیں جواب دے گئی ہونگی۔
ڈاکٹر صاحب کے مختصر انٹرویو میں میرے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات آصف علی زرد آری کا بیان تھا جس میں انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے قائم کردہ مقدمات موجودہ حکومت ختم نہیں کر سکتی۔اس سے زیادہ بڑی منافقت اور نو رنگی ہم نے نہیں دیکھی، جہاں خود تو پچھلی سے پچھلی حکومت کے مقدمات سے بری ہو رہے ہیں اور اس مظلوم کے لئے نہ داد رسی کی کوئی سبیل نہ انصاف کا کوئی معیار۔ یوں تو ہم مسلمانوں کی تاریخ پنے محسنوں کے ساتھ غداری سے اٹی پڑی ہے، لیکن موجودہ عہد میں جب صحافت کی آزادی کے سبب سچ جھوٹ کی پڑتال مشکل نہیں، تب بھی سچوں کے ساتھ جبر روا رکھے جائے تو دل دہل جاتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر کان ایک زندہ کردار ہے اور اسکے قوم پر احسانات کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب پی ٹی وی پروگرام نیلام گھر پر قوم قدیر کان کو خراج عقیدت کے لئے نام سن کر کھڑی ہوجاتی تھی۔۔۔۔اور آج وہی قدیر خان اپنی اسیری کی چوتھی سالگرہ خاموشی سے منا رہا ہے۔ ٢٨ مئی پاکستان کا یوم تکبیر موسوم کیا گیا تھا، لیکن کتنے پاکستانی سیاستدانوں اور راہنماؤں نے آج قدیر خان سے رابطہ کیا؟ جہاں تک ڈاکٹر خان کے انٹرویو کا تعلق ہے تو اس سے یہی احساس ملتا ہے کہ سوائے بی بی سی اردو سروس کے کسی نے بھی آج کے دن ان سے رابطہ نہیں کیا۔ ۔۔۔نہ کسی صحافتی ادارے نے، نہ قومی اور سیاسی قوتوں نے۔ آخر کیوں؟
مجھے یہ بھی یاد ہے جب نواز شریف کی حکومت کے دنوں میں قومی حکومت کی باتیں ہو رہی تھیں تو چند صحافتی اور قومی سلامتی کے اداروں کی طرف سے ڈاکٹر خان کا نام بطور غیر متنازعہ صدر یا وزیر اعظم لیا جا رہا تھا۔ یہ نہ تو میاں صاحب کو منظور تھا نہ ہی معیار شرفیات میں تھا۔ اسی سبب سب سے پہلے انکی ذات کا طلسم توڑنے کی خاطر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد کے آر یل کی بجائے پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں کو بڑھ چڑھ کر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور جناب ثمر مبارک مند کو داکٹر خان کے برابر کا ہیرو ثابت کرنے کی سعی کی گئی۔ ڈاکٹر مند ایک ایٹمی سائینسدان تھے اور انکے قدآور ہونے میں کوئی کلام نہیں، لیکن یہ کیا کہ ١٩٧٤ کے بعد اور ٢٨ مئی ١٩٩٨تک کے عرصے میں مند صاحب کا کوئی ذکر نہ کیا گیا۔۔۔۔اور پھر جب ڈاکٹر خان کا پتہ مشرف صاحب نے صاف کر دیا تو مند صاحب پھر سے کمیاب ہو گئے۔ مارچ ٢٠٠١ میں ڈاکٹر قدیر خان کو صدر مشرف نے خان ریسرچ لیبارٹریز سے ریتائر کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔ پھر اچانک ایران کے حوالے سے انٹر نیشنل اٹامک انرجی کمیشن نے ایک شوشا کھڑا کر دیا اور ڈاکٹر خان کو ذمہ دار ٹھہرا کر پابند قوم کو نا معلوم مصیبت سےبچا لیا گیا۔ ڈاکٹر خان نے ایک بار پھر سچے ہیرو کی مانند ٹی وی پر آکر تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے لی اور قوم کو مصائب سے بچا لیا۔۔۔صدر پاکستان نے کمال مہربانی سے ٥ فروری ٢٠٠٤کو ڈاکٹر خان صاحب کو معاف کردیا اور تب سے وہ گھر پر نظر بند معافی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بلی کے پاؤں جلیں تو اپنے ہی بچے قدموں تلے دیتی ہے!!!
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان نے چند دیگر ممالک کو ایٹمی راز دے بھی دئیے تھے، تو قوم کو کیا نقصان تھا؟ پاکستان نہ تو ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے ( ایں پی ٹی ) کا رکن تھا اور نہ ہی سی ٹی بی ٹی کا رکن۔ اس حوالے سے پاکستان ایٹمی ممالک سے نہ تو کوئی نیو کلیائی امداد حاصل کر سکتا تھا اور نہ ہی اس پر کوئی پابندی تھی کہ کسی اور کو ایسی معلومات فراہم کرے۔ پھر ایسے میں کس کا خوف اور کیا فکر؟۔۔۔اگر ایران پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا تو پاکستان جو کہ ایک ایٹمی قوت بھی ہے، اسکو کیا خطرہ؟۔۔۔لگتا یہی ہے کہ خطرہ پاکستان یا اسکی قوم کو نہیں بلکہ ان چند گنتی کے لوگوں کو تھا جو چچا سام سے وفاداری کے کلمے اندر کھاتے پڑھ آئے تھے اور انکی وفا داری پر حرف آ رہا تھا۔ اس لئے قربانی مظلوم خان کی دے دی گئی۔۔۔اگر کبھی موقع ملا تو این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی کے متن اور پاکستان کی ذمہ داریوں پر بھی لکھوں گا، لیکن سر دست صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ اس حوالے سے پاکستان پر نہ تو انٹر نیشنل اٹامک انرجی کوئی دباؤ ڈال سکتا تھا اور نہ سلامتی کونسل۔ سلامتی کونسل میں چین جیسے دوست کے ہوتے ہوئے ایک کامیاب ڈپلومیسی کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ پھر چچا سام تو کہوٹہ پلانٹ کی سرگرمیوں سے عرصہ دراز سے واقف تھے اور انکو معلوم تھا کہ کہوٹہ پلانٹ آئی اے ای آے کے حفاظتی انصرام کے ما تحت بھی نہیں۔ ۔۔۔ان سب حالات میں سوچنا پڑتا ہے کہ آخر ڈاکٹر خان کو ایک محرم سے مجرم کیوں بنایا گیا۔ بات صرف چچا سام کی نہیں، بلکہ اندر کی سیا ست کی بھی ہے۔ ایک دن کلثوم نواز کہتی ہیں کہ اگر ہماری حکومت آئے تو ہم ڈاکٹر خان کو صدر بنا دیں گے، لیکن انتخابات کی کامیابی کے بعد میاں صاحب اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہی اس سوال پر لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ جسٹس افتخار کی بحالی تحریک تو ملک بھر میں چلتی ہے، ڈاکٹر قدیر اتنا فراموشی کے لائق کیوں؟ افتخار چوہدری کی پشت پر وکیلوں کا خاندان ہے، لیکن کیا ہی بھلا ہوتا کہ ڈاکٹر خان کی پشت پر اہل علم و دانش کا ایک قافلہ بھی سراپا ء احتجاج بن کر کھڑا ہوتا!!! لیکن چونکہ ڈکٹر خان ایک ہیرو ہے، اسی لئے وہ اسی سزا کا مستحق ہے۔۔۔۔ ہم مسلمانوں کے یہاں یہی ترجمان ماضی کی صدا ہے اور شان حال و جان استقبال بھی یہی ہے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ ہماری منزل مراد کیا ہے؟
محترم جناب مصباح صاحب،
ڈاکٹر صاحب پہ آپ کا کالم بہت معلوماتی اور دل کی آواز ہے ۔
” افتخار چوہدری کی پشت پر وکیلوں کا خاندان ہے، لیکن کیا ہی بھلا ہوتا کہ ڈاکٹر خان کی پشت پر اہل علم و دانش کا ایک قافلہ بھی سراپا ء احتجاج بن کر کھڑا ہوتا “
مصباح صاحب ، چند مبصرین کے علاوہ اہلِ علم و دانش کا قافلہ جو قافلہ ڈاکٹر صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے اس تاریخی بلاگ میں ہی چند سطریں لکھنے کو وقت نہیں نکال سکا اس ’ ہجوم ‘ سے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ؟
جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب پر یہ کالم 2008 میں عالمی اخبار کی زینت بن چکا تھا مگر بدقسمتی سے یہ کالم میری دسترس سے باہر رہا ورنہ میں خود اس کالم اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے 2008 کے کالم سے اس بلاگ کا افتتاح کرتا ۔
میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور جناب سید مصباح حسین صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے دوسال قبل کے اتنے اہم کالموں کو اس بلاگ میں شایع کرکے اس بلاگ کی اہمیت میں اضافہ کردیا ۔۔
جناب جاوید اقبال کیانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ :
“چند مبصرین کے علاوہ اہلِ علم و دانش کا قافلہ جو قافلہ ڈاکٹر صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے اس تاریخی بلاگ میں ہی چند سطریں لکھنے کو وقت نہیں نکال سکا اس ’ ہجوم ‘ سے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ؟“
بہر کیف :
“ وابستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ “
اے کیو خان۔۔۔۔۔۔کو۔۔۔۔فوج نے احتیاط کے طور پر ایک ڈمی سائنسدان کے طور پر آگے رکھا تھا تاکہ اصلی سائنسدانون کو کام کرنے میں کوئی دُشواری نہ ھو۔۔۔اسی لئے قدیر خان کو زیادہ تر اندر ھونے والی سرگرمیوں سے کوءی آگاھی نہین دی جاتی تھی۔
منیر آحمد خآن، اور ڈآکٹر غلام دستگیر خان بُنایدی طور پر دو الگ الگ پلانٹس کے ذمہ دار تھے۔۔
قدیر خان کی ایٹمی تو کیا۔۔۔حساب میں ھی اھلیت اتنی خراب تھی کہ تمام سائنسدان اُنہیں پلانٹ پر ، ریسرچ پر نہیں دیکھنا چاھتے تھے۔۔۔لیکن فوج اور آئی ایس آئی ایک ڈمی رکھنے پر اصرار کرتی تھی۔۔۔اسی لئے پاکستان مں کسی کو غالم دستگیر کا نام بھی معلوم نہین تھا۔۔۔کولڈ فیوژن ٹیسٹ سے لے کر ساری تھیوریز اور پریکٹیکل پر غلام دسگیر عالم نے ھی کام کیا تھا۔۔اصل میں وُہ اصلی پاکستانی ایٹمی پروگرام کے ھیرو ھین اور اُنہین ڈآکٹر سلام کی سرپرستی حاصل تھی۔۔۔
آپ قوم کو گُمراہ نہ کریں،اور خدا تعالی کے عذاب سے ڈریں اور جھوٹ مت بولیں۔۔۔
اور ایٹمی دھماکے کے کولڈ ٹیسٹ کی کامیابی پر۔۔۔اور بعد میں دھماکے پر ۔۔ڈآکٹر عبد السلام کے نام کی یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا مقصد آُ کو سمجھ میں آ گیا ھوگا؟ اگر ڈھٹآئی اور میں نہ منوں کی رٹ مت لگائیں۔۔
محسن پاکستان ڈاکڑعبد لقدیر خان کے کارناموں کی شان
سرجوڑے ابھی تک بیٹھے ہیں امریکن اوریہودی سانئسدان
بن گیا ہے کیسے قائد اعظم کا پاکستان اب ایٹمی پاکستان
نظر آتی ہےان کو قدیرکے روحانی وسڈوم میں اللہ کی شان
قائد اعظم کا پاکستان یہ تیرا پاکستان یہ ہم سب کا پاکستان
دنیا کا ہر مسلماان دل و جان سے عزت و احترام سے سپوت ملت اسلامیہ محسن پاکستان ڈاکڑ عبد لقدیر خان جس نے پاکستانی قوم کو ایٹمی و میزائل قوت اور پاکستان کے دفاع کو مضبوط کیا۔
قدرت پھر ان سے کوئی بڑا کام پاکستانی قوم اورعالم اسلام کے لئے لینا چاہتی ہے محسن پاکستان عبدلقدیر خان ہی قوم کی اسلامی دنیا کی عوام کی امید کی کرن ہیں ان کو کام کرنے دیا جائے پاکستانی قوم اورعالم اسلام کی عوام یہ جانتی ہے ڈاکٹر عبدلقدیر خان کےپلے سچ ہےپاکستانی قوم اورعالم اسلام کی عوام دفاع عالم اسلام کے لیئے
محسن پاکستان ڈاکڑ عبد لقدیر خان کی قربانوں کےاحسان مند ہیں محسن پاکستان ڈاکڑ عبد لقدیر خان ہی
بے پناہ توانائیوں سے بھرپور جزبہ حب الوطنی سے سرشارمخلص بے لوث اور محب وطن ٹیم بنا سکتے ہیں
انْشا اللہ!
سید فتحیا ب علی صاحب: بے شک ڈاکٹر عبد القدیر خاں صاحب پاکستان کے مستقبل کو شاندار بنا سکتےہیںِ :
مگر پاکستان کی منحوس سیاست انہیں اسکا موقعہ نہیں دے گی۔
: اللہ پاکستان کی حفاظت کرتارہے اور پاکستانیوں کو نیک ہدایت عطا کرے :آمین
اس بلاگ کے ناظم کی حیثیت سے میں آپ کے تبصروں کا شکر گذار ہوں:
فقط:
منظور قاضی:
میونخ جرمنی سے