“ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا “

آج پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی نئی سیاسی پارٹی “ آل پاکستان مسلم لیگ “ کی بنیادی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انکی حکومت کے آخری سال میں انہوں نے کئی سیاسی غلطیاں کی تھیں جس کے لیے وہ قوم سے معذرت خواہ ہیں۔

پرویز مشرف نے ان غلطیوں کی تفصیل نہیں بتائی مگر صرف اتنا کہا کہ وہ ایک انسان ہیں اور انسانوں سے غلطییاں ہوجاتی ہیں اور وہ اپنی غلطیوں پر پشیمان ہیں ۔

اس پر غالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ :

کی مرےقتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ۔

عالمی اخبار کے بلاگوں میں پرویز مشرف کی غلطیوں کی تفصیل موجود ہے اس لیے میں ان کو یہاں دہراکر اس بلاگ کو طوالت نہیںدینا چاہتا ۔
میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف خود اپنی غلطیوں کی تفصیل بتائیں اور ہر ایک غلطی کے ساتھ اپنی تحریری معافی قوم کے سامنے پیش کریں ۔

ممکن ہے کہ جب وہ صدق دل سے اپنی معافی قوم اور خاص طور پر افتخار چودھری اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اور ان جیسے معصوم افراد کے سامنےپیش کریں جن پر پرویز مشرف نے بلا وجہ ظلم کیا ، تو شائد کوئی بات بھی بنے ؛
ورنہ پاکستان کی قوم پرویز مشرف کو معاف نہیں کرے گی ۔

فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے

23 thoughts on ““ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا “”

  1. کیا معلوم جنہیں ہم اُن کی غلطی جانے وہ اُسے اپنا کارنامہ گن رہے ہوں جنہین ہم اُن کے اچھے کاموں میں شامل کریں وہ اُسے غلطی سمجگ رہے ہوں!!
    کیا کہا جا سکتا ہے!
    باقی مین یہ تو نہین کہتا کہ وہ محب وطن نہیں تھا یا ہے مگر یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جن سیکولر خیالات کا مالک تھا و ہے وہ پاکستان کے بنیادی نظریے کے لئے نقصان دہ ہے.

  2. دیکھئے آگے آگے اب ہوتا ہے کیا … میں بھی حیران تھی پاکستان کا جرنیل کس آسانی سے نکل گیا اور امریکہ کی آنکھ کا تارا بنا رہا .. تو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا واپس آنا بھی امریکہ بہادر کی ہی ایک چال ہے ..مصباح بھائی ، جاوید بھائی ..آصف بھائی سے امید ہے کہ ان کافر چالوں پر کچھ ٹارچ ماریں .. یعنی روشنی ڈالیں ..

  3. محترم جناب قاضی صاحب،
    پاکستان کی ماضی ، حال اور مستقبل کی ایک انتہائی متنازعہ شخصیت سے متعلق انتہائی بروقت بلاگ شروع کرکے آپ بلاشبہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت بلکہ اس ملک پہ احسان کر رہے ہیں کیونکہ ملک کے اندر اور باہرایک لابی پرویز مشرف کو پاکستان کے لئے ناگزیر سمجھتی ہے ۔ میں عالمی اخبار کو ایک ’ تھنک ٹینک ‘ سمجھتے ہوئے تمام مبصرین سے اپیل کروں گا کہ اس بلاگ کو ایک قومی مسئلہ سمجھ کر جس قدر ممکن ہوسکے دلائل کے ساتھ بحث کریں ۔

    میں خود اس پہ ایک کالم لکھنے کا ارادہ کر رہاتھا مگر اب قسط وار ، تاکہ قارئین اتنے لمبے تبصرے سے اکتا نہ جائیں ، آپ کے بلاگ میں ہی لکھوں گا ۔ آج کی اس پہلی قسط میں میں جنرل پرویز مشرف کی پینتیس سالہ فوجی زندگی اور کارناموں کی ایک جھلک پیش کروں گا تاکہ جنرل صاحب کی شخصیت ، ان کی ملکی خدمات یا کردار کا ایک پہلو قارئین کے سامنے آسکے ۔

    ان کے فوج میں کمیشن لینے کے کچھ عرصہ بعد ، جبکہ آپ ایک سیکنڈ لیفٹینیٹ تھے ، 1965 کی جنگ شروع ہوگئی ۔ عین اس وقت آپ کو گھر کی یاد ستائی ۔ یونٹ سے چھٹی نہ ملنے پہ آپ یونٹ سے بھگوڑا ہوگئے ۔ کورٹ مارشل کے آرڈر ہوگئے ۔ آپ کے دوست ، اور آپ کے دورِ اقتدار میں اشرفیوں میں کھلینے والے لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی ، نے آپ کو صورتِ حال سے آگاہ کیا چنانچہ آپ نے یونٹ جوائین کرلی اور کورٹ مارشل سے بچ گئے ۔ بریگیڈئیر کے رینک تک آپ کا ’ ڈوزئیر ‘ سرخ ’ اینٹریز ‘ سے بھرا ہونے کی بنا پہ آپ کی جرنیلی کا خواب دھندلا چکا تھا کہ صدر زرداری کا جاوید پاشا کے نام سے کوئی دوست آپ کے کام آیا ، یہ وہی جاوید پاشا صاحب ہیں جنھوں نے بعد میں پرویز مشرف سے پہلے بی بی اور پھر زرداری کو رہائی دلوا کر ملک سے باہر بجھوایا اور بعد میں خفیہ ڈیلز میں بھی رول ادا کرکے انہیں دوبارہ ملک کے اندر کرانے میں بھی رول ادا کیا ، اور اس طرح بی بی مرحومہ کے پہلے دورِ حکومت میں آپ کو جرنیلی مل گئی جو بالآخر ان کی جو نما گندم فروش صورت اور سیرت سے متاثر ہوکر نواز شریف جیسے بھولے بادشاہ نے انہیں سپہ سالاری دے دی ۔ کارگل کا کارنامہ ان کے دورِ سپہ سالاری کا ایک سیاہ باب ہے جس پہ آرمی کے بیشتر سنئیر ریٹائیرڈ افسران بالخصوص سابقہ آرمی سربراہان نے ان کے کورٹ مارشل کی سفارش کی ۔ یہ ہے جنرل صاحب کے پینتیس سالہ فوجی کیرئیر کا خلاصہ کہ کمیشن لینے کے بعد بھی اور سپہ سالاری کے وقت بھی ایک ہی گونج سنائی دیتی ہے اور وہ ہے ’ کورٹ مارشل ‘ کی !

    اب انتہائی اختصار سے پیش کی گئی آپ کی پینتیس سالہ فوجی زندگی ایک طرف اور دس سالہ سیاسی زندگی دوسری طرف ، اور اس دس سالہ سیاسی زندگی میں بھی ان کے کرتوت ، جن پہ یہ حضرت قوم سے معافیاں مانگ رہے ہیں بلکہ مگر مچھ کے آنسو دکھا رہے ہیں ، دیکھ کر بھی کوئی یہ کہے کہ جنرل مشرف ہی پاکستان کا مسیحا ہے تو میں ایسے لوگوں کے حق میں محض دعا ہی کر سکتا ہوں ۔

    جنرل صاحب کے سیاسی پارٹی بنانے کے محرکات اور اس پارٹی کی کامیابی کے امکانات اور اپنے مستقبل کے لیڈر کی ذاتی خصوصیات پہ اگلے تبصرے میں بات ہوگی ، فی الحال اس پارٹی کے اعلان کے موقع پہ آپ کے فرمودات جو پاکستان کے عوام ، بالخصوص آپ کے سپورٹرز ، کے لئے کسی دلچسپی یا تفریحی سے کم نہ ہوں گے :

    آپ نے اعلان فرمایا کہ ” جو بھی خطرات ہوں، وہ آیندہ عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس جائیں گے “

    جنرل صاحب ملک سے بھاگنے کے وقت سے لے کر آج تک یہی فرماتے آئے ہیں کہ ” میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں “ اور آپ واقعی کسی سے نہیں ڈرتے اسی لئے تو اتنی جلدی ، فیس بک میں اپنے مداحوں کی خوش آمد میں آکر ، پارٹی کھڑی کر دی ! اور ساتھ ہی اب ذرا بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو کا اقتباس بھی ملاحظہ ہو جب آپ فرماتے ہیں ،

    ” میں لندن میں اپنی جماعت کے قیام کا اس لیے اعلان کر رہا ہوں کیونکہ مجھے پاکستان میں اپنی جان کا خطرہ ہے “

    ہے ناں مزے کی بات ! کیا پاکستان کے عوام سے اسے بڑا مذاق بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو اپنی ہی جان کا خطرہ ہے وہ اپنے عوام کی جان کا کیا خاک محافظ ہوگا ؟

    پھر بھی یہی شور ہے چار سُو ، ” تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد “ !

  4. عالمی اخبار کی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اگر ہوسکے تو آل پاکستان مسلم لیگ کے منشور کا کاپی حاصل کر کے اپنے قارئین تک پہنچائیں تاکہ اس پہ مزید بحث کے دریچے کھلیں ، شکریہ ۔

  5. شعیب صفدر صاحب نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ :
    “ مین یہ تو نہین کہتا کہ وہ محب وطن نہیں تھا یا ہے مگر یہ سمجھتا ہوں کہ وہ جن سیکولر خیالات کا مالک تھا و ہے وہ پاکستان کے بنیادی نظریے کے لئے نقصان دہ ہے.“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ،یرا خیال ہے کہ ترکی میں ابتدائی زندگی گذارنے کے بعد پرویز مشرف بھی اپنےآپ کو مصطفےٰ کمال سمجھنےکی کوشش کررہا تھا اور اسی لیے اس نے اقتدار میں آنے کے فوری بعد کتوں کو اپنے ہاتھوں میں رکھ کر اپنی پہلی تصویر کھنچائی ۔

    اس نے عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائیند گی کے لیے نمایاں کام تو کیا اور ساتھ ہی ساتھ میڈیا (پاکستانی صحافت ) کو کافی آزادی تو دی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے پاکستانی قوم کا مزاج سمجھنےمیں کافی غلطیا ں بھی کیں۔ جن میں آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی ، بلوچستان میں اور لال مسجد میں اپنی بے رحمی کا مظاہرہ ، عدلیہ سے پنگا لینا ، این آر او کی حماقت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی بے قدری شامل ہیں “:
    امید کہ پرویز مشرف خود اپنی تمام غلطیوں کی فہرست اپنی ایک نئی کتاب میں لکھکر پاکستان کی قوم سے معافی مانگے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکڑ نگہت نسیم صاحبہ نے جس طرح سے لکھنے والوں کو مشرف کے ماضی ، حال اور مستقبل کے بارے میں لکھنے کے لیے ابھارا ہے وہ قابلِ دید اور قابل ِ داد ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اس بلاگ کو اپنے طویل مضمون کےلیے منتخب کیا ۔ اس طرح وہ اس بلاگ میں پرویز مشرف کے متعلق جو کچھ بھی لکھ سکتے ہیں ضرور لکھیں ۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب نے پرویز مشرف کی زندگی کے متعلق اب تک جو کچھ بھی لکھا وہ پڑھنےکے قابل ہے ۔

    میں شروع ہی سے جاوید اقبال کیانی صاحب کی خداداد تحریری صلاحیت کا قائل ہوں اور چونکہ وہ بھی پاکستان کی فوجی زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں اس لیے وہ جو کچھ لکھینگے وہ ہم سب کی معلومات میں ضرور اضافہ کرے گا ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    اب جاوید اقبال کیانی صاحب اس بلاگ میں پرویز مشرف کی تصویر کے ہر اس رخ کو پیش کرسکتے ہیں جس کو دیکھکر پڑھنے والا اصلی پرویز مشرف سے واقف ہوجائے گا ۔
    ۔۔۔۔۔۔
    میں بھی آل پاکستان مسلم لیگ کے منشور کو پڑھنا چاہتا ہوں ۔ اگر کسی کےپاس ہے تو اسکے لیے یہ بلاگ حاضر ہے ۔

  6. السلام علیکم
    ہر انسان حالات و واقعات کو اپنے نکتہ نظر سے پرکھتا ہے اور پھر اُن کے مطابق فیصلے کرتا ہے اِسی لیے کچھ چیزیں ہمارے لیے ناگزیر ہوتی ہیں مگر وہ دوسروں کے لیے محض وقت کا ضیاع ہوتا ہے ، پرویز مشرف ہمیشہ سے ہی خود کو پاکستان کے لیے ناگزیر سمجھتے رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ میری قوم کے لیے ( اُن کے اقتدار اور اُس کے بعد پیدا ہونے والے حالت کے سبب تمام عرصہ ) خسارہ ہی رہے ، اُن کا ہر گناہ اگر معاف بھی کر دیا جائے تو بھی سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کی بردہ فروشی ( جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہیں ) اور لال مسجد کا واقعہ شاید ہی کوئی محب وطن اور سچا پاکستانی فراموش کر پائے گا ۔
    اور میرے خیال میں ہم لوگ اُنہیں کچھ زیادہ ہی اہمیت دے رہے ہیں ، ایسی ٹانگہ پارٹیاں کو خاص اہمیت نہیں رکھتی اور مجھے یقین ہے دو لوگ ( جن میں ایک پرویز مشرف صاحب بھی شامل ہیں ) کبھی خود اپنی مرضی سے پاکستان نہیں آئینگے ۔
    آصف احمد بھٹی

  7. جیسا کہ میں اپنے ایک تبصرے میں لکھا ہوں کہ مشرف نے :
    “پاکستانی قوم کا مزاج سمجھنےمیں کافی غلطیا ں بھی کیں۔ جن میں آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی ، بلوچستان میں اور لال مسجد میں اپنی بے رحمی کا مظاہرہ ، عدلیہ سے پنگا لینا ، این آر او کی حماقت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی بے قدری شامل ہیں “:

    اگر مشرف اپنی غلطیوںپر نادم ہے تو وہ خود اپنی غلطیوں کی فہرست پاکستانی قوم کے سامنے پیش کرے اور قوم سے معافی مانگے ۔
    یہ پاکستانی قوم کا اور خاص طور پر عدلیہ کا کام ہے کہ وہ مشرف کے اقبالِ جر ائم کو سنے اور اس کے بعد اسکی قسمت کا فیصلہ کرے۔

    اس مرحلہ کو طئے کرنے سے پہلے وہ اگر پاکستان واپس لوٹےگا تو اس کا حشر وہی ہوگا جو گیدڑ کے شہر میں آنے پر ہوا کرتا ہے۔

    ممکن ہے کہ الطاف حسین کی طرح ، پرویزمشرف لندن ہی سے ریموٹ کنڑول کے ذریعہ اپنی پارٹی کے کارندوں کو پاکستان میں متحرک کرتا رہے اور اسی میں اس کی زندگی تمام ہوجائے ۔ ( یہ میرا اپنا اندازہ ہے ) ۔

  8. جنرل صاحب کی پینتیس سالہ فوجی زندگی کا ہلکا سا جو خاکہ ، جوکہ مفروضوں اور اندازوں پہ نہیں بلکہ خود ان کی سوانح حیات In the Line Of Fire ( سب سے پہلے پاکستان ) سے ماخوذ کیا گیا ہے ، پیش کیا گیا جس کے شروع اور آخر میں ’ کورٹ مارشل‘ کی بازگشت سے ان کے کردار کے بارے میں کافی اشارے ملتے ہیں ۔

    آپ کے ہمعصر آپ کو YK2 یعنی یحییٰ خان دوم ( یا یحیٰ خان ثانی) کہتے ہیں جس کی وجہ آپ کا بہت زیادہ روشن خیال یا کھلے لفظوں میں طائوس و رباب کا اس قدر رسیا ہونا ہے کہ سر پہ جام رکھ کرہالی وُڈ کا فلمی طرزکا ڈانس آپ کی خصوصیت ہے ۔ آپ کی روشن خیالی کے چند نمونے یُو ٹیوب پہ موجود کچھ ویڈیوز میں سے پیش کئے جا رہے ہیں :

    http://www.youtube.com/watch?v=4sUVpRLP5S4&feature=grec_index

    http://www.youtube.com/watch?v=3xoctNSw44E&feature=related

    http://www.youtube.com/watch?v=YUYqi6shWyM&feature=related

    آپ کی فوجی لائف اور طرزِ زندگی کے بعد اگر ان کے نو سالہ دورِ اقتدار پہ نظر ڈالی جائے تو اُس پہ آپ کے یہ ارشادات ہی کافی ہیں :

    ”میں خلوص دل سے اپنے سابقہ دور اقتدار کے دوران کیے گئے غلط فیصلوں اور منفی اقدامات پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں”۔

    ” میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور میں انہیں دوبارہ کبھی نہیں دہرائوں گا “

    ”میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ میں نے بعض فیصلے ایسے کیے تھے جن کے منفی سیاسی اثرات مرتب ہوئے اوران سے میری مقبولیت کو بھی نقصان پہنچا۔ میں ان تمام فیصلوں پر اس موقع پر نیک نیتی سے قوم سے معافی مانگتا ہوں “

    اعترافِ گناہ اور ان معافیوں کے بعد مزید کچھ کہنے کی نوبت ہی نہیں رہتی ۔ ان کے ہمایتی بلاشبہ اسے ان کی روشن خیالی کہہ سکتے ہیں لیکن ان کی غلطیاں ، اور اب معافیاں، نہ تو پاکستان کو وہ وقار واپس لوٹا سکتی ہیں جو ان کی پالیسیوں کی وجہ سے گنوایا گیا اور نہ ان لوگوں کے ذخموں پہ مرحم رکھ سکتی ہیں جو رسوائیوں کے اتھاہ سمندروں میں ڈوب گئے ( جاری ہے ) ۔

    ( میں اگلی قسط میں آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام اور اس کے مستقبل پہ کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا )

  9. واہ واہ جاوید اقبال کیانی صاحب : کیا کہنے ہیں !!!
    زندہ باد :
    خوش رہو اور
    حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کرتے رہو
    یہ پاکستا ن کی قسمت کا معاملہ ہے ۔
    یہ بازیجہء اطفال نہیں کہ دنیا کے سامنے روز وشب اس ملک کا تماشہ بنایا جائے۔

  10. آل پاکستان مسلم لیگ ۔ محرکات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سید ، شاید سیاست میں آنے کے بعد آپ کو اس جھوٹے یا سچے خاندانی پس منظر کا سہارا لینا پڑے ، پرویز مشرف کو اپنی پارٹی بنانے کا خیال کیوں آیا ؟
    یہ موضوع چھیڑنے سے قبل میں ایک لطیفہ نما سیاسی واقع آپ تک پہنچا دوں۔ سن صحیح طرح سے یاد نہیں مگر الیکشن کا دور تھا، راولپنڈی کے حلقہ 37 میں مسلم لیگ کے شیخ رشید ، پیپلز پارٹی کے آغا ریاض الاسلام اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ تھا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنی ایک خاص سٹریٹیجی کے تحت اپنے تمام جیالوں کو قاضی صاحب کے جلسوں کو کامیاب کرانے کا حکم دیا ۔ مقصد قاضی صاحب کی ’ گُڈی ‘ کو ہوائوں میں رکھنے کے علاوہ شیخ رشید کو نفسیاتی دبائو میں لانا تھا ۔ قاضی صاحب ایسے ’ ھرے بھرے ‘ مجمعوں میں مکے لہرا لہرا کر مستقبل کے وعدے اور دھمکیاں دیتے رہے مگر جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو بڑی مشکل سے اپنی ضمانت بچا پائے ۔ بالکل یہی حال مشرف صاحب کا ہے کہ جنھوں نے فیس بُک پہ اپنے مداحوں کی تعداد اور ملک کے اند اور باہر زدراری حکومت کی ناکامی کا ’ دورِ پرویزی ‘ سے موازنہ کرنے والی اپنی لابی اور کچھ خاموش اکثریت کی حکومت پہ طنز و تنقید سے یہ اندازہ کر لیا کہ وہ پاکستان کے عوام میں اب بھی بہت مقبول ہیں ، چنانچہ اپنی آل پاکستان مسلم لیگ ، جسے میں مختصراّ ’ مُش لیگ ‘ لکھوں گا ، کا اعلان فرما دیا ، جوکہ میرے خیال میں پہلا محرک ہو سکتا ہے ۔

    ’ مُش لیگ ‘ کی بنیاد کی دوسری وجہ جنرل ’ مُش ‘ پہ دوسری پارٹیوں کے دروازے بند ہونا بھی ہو سکتی ہے ۔ ’ق‘ لیگ آپ کی خصوصی کوششوں کی بدولت معرضِ وجود میں آئی اور آپ کو ایک چھوڑ دس دس بار باوردی صدر بنانے کے نعرے لگاتی رہی لیکن الیکشن میں ناکامی اور آپ کی وردی اترتے ہی آپ کو ناقابل برداشت بوجھ سمجھنے لگی ۔ جنرل صاحب نے ’ ق ‘ لیگ کی صدارت حاصل کرنے کو بڑے ہاتھ پائوں مارے مگر چوہدری صاحبان نے ایک نہ چلنے دی ۔ واقفانِ حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شیخ رشید صاحب نے اپنی عوامی مسلم لیگ بھی جنرل صاحب کی سیٹی پہ ہی بنائی تاکہ چوہدری برادران سے سودا بازی میں مشکل درپیش آنے کی صورت میں وہاں سے تمام پنچھیوں کو دانہ ڈال کر دھیرے دھیرے نئے آشیانے پہ اکٹھا کر لیا جاتا ۔ مگر اِدھر آپ کی چمڑی ، آپ وردی کو اپنی کھال یا چمڑی کہنا پسند فرماتے تھے ، اُتری ، اور نئے آرمی چیف نے فوج کی سپہ سالاری سنبھالی اور آپ صدر جنرل مشرف سے سکڑ کر صرف صدر مشرف رہ گئے اور مزید ستم یہ ہوا کہ صرف چھ ماہ بعد ہی آپ مزید سکڑ کر سابقہ صدر ہوئے ، اُدھر دونوں لیگوں نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں ۔ چنانچہ جس کسی کو بھی اپنے آشیانے پہ بجلیاں گرنے کا شک گذرا فورا شاخِ نازک سے پرواز کر گیا ۔ اور یوں صدر جنرل پرویز مشرف ، پھر صدر پرویز مشرف اور آخر میں صرف پرویز مشرف گارڈ آف آنر لے کر ملک سے ایسے بھاگے جیسے ’ سڑے گراں سے جوگی ‘ ! اور گھر سے بھاگا ہوا یہ دانشور ، وہ بھی صرف نام کا ، دن کو علم و دانش کے موتی بکھیرے ، راتوں کو مئے خانوں کے پھیرے اور فرصت میں طبلے پہ ساز چھیڑے ! یوں کبھی اِن کے در ، کبھی اُن کے در اور کبھی در بدر !

    ایم کیو ایم دوسری سیاسی پارٹی ہے جس میں داخلے اور کسی باعزت عہدے کی خواہش آپ کے دل میں مچلتی رہی ، کہ آپ کی فیملی کے بے شمار افراد ایم کیو ایم میں پہلے سے شامل ہیں ، مگر الطاف بھائی جیسا شاطر سیاستدان آپ کو اپنی آستین کا سانپ بنانے کی کبھی رسک نہیں لے سکتا تھا ، چنانچہ یہ در بھی آپ پہ وا نہ ہوسکا ۔

    حالات سے مجبور جنرل مُش کے پاس جب کوئی چارہ باقی نہیں رہا تو آپ نے مُش لیگ کا دھماکہ کر ڈالا ، جو کہ فی الحال تانگہ پارٹی بھی نہیں ، کہ تانگہ کم بخت بھی ’ سِکس سِیٹر ‘ ہوتا ہے جبکہ یہاں تو ہر سُو صرف آپ ہی آپ کے جلوے ہیں ، لہذا میں اسے صرف ’کوچوان پارٹی ‘ ہی کہوں گا ۔

    جنرل صاحب کا اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا ایک اور مقصد اپنی اہمیت کو بڑھانا اور منوانا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اب آپ صرف سید پرویز مشرف ہی نہیں بلکہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ، ’ تا حیات چئیرمین ‘ ، یا کوئی ’ چیف ایگزیکیٹو‘ طرح کی شئے ہوں گے ۔ پاکستان کی مستقبل کی سیاست میں جب اور جہاں کسی سیاسی گول میز کانفرنس کی میز سجے گی وہاں ایک کرسی صدر آل پاکستان مسلم لیگ ، اگر یہ سانسیں لیتی رہی تو ، کے لئے بھی مخصوص ہوگی۔

    یہ پارٹی بنانے کا ایک اور محرک آپ کے طاقتور بیرونی آقائوں کی یہ چال بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک سابقہ ڈکٹیٹر کو نہیں بلکہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کو پرانے این آر او یافتہ مہروں سے ایک نئے این آر او کی مدد سے ایک دفعہ پھر پرانا کھیل دہرا کر پاکستان کے عوام کو کوئی نیا سرپرائیز دیں ۔

    وطنِ عزیز میں کرپشن کرنے یا کرپشن چپھانے کے لئے سیاست بہترین سٹیج ہے جہاں اداکاری کے سارے جوہر دکھانے کے نادر مواقع ہوتے ہیں ۔ سو آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پچھلا سارا کھایا پیا ہڑپ اور نئے کی پھر سے تڑپ ! اور پھر اعجاز الحق یا انوار الحق کے ہم پلہ بھی تو کوئی چائیے ، حمزہ شہباز یا حسین نواز کو آنکھیں دکھانے بھی تو کوئی ہو اور آخر کو بلاول کے مقابلے میں بلال کو بھی تو ہونا چائیے !

    ’ مُش لیگ ‘ کے قیام کے تمام محرکات محض میری اپنی سوچ اور اندازے ہیں جن پہ ہر عاقل و بالغ کو مکمل اختلافِ رائے اور ایک مدلل بحث کا پورا حق ہے جسے میں انتہائی خندہ پیشانی سے پیشگی خوش آمدید کہتا ہوں ، کہ اس کا ملکی سیاست اور مستقبل سے بالواسطہ تعلق ہے اور بقول قاضی صاحب :

    یہ پاکستا ن کی قسمت کا معاملہ ہے ۔
    یہ بازیجہء اطفال نہیں کہ دنیا کے سامنے روز وشب اس ملک کا تماشہ بنایا جائے۔

    ( اگلی کاوش ’ مُش لیگ ‘ کی کامیابی یا ناکامی کے امکانات پہ ہوگی )

  11. جاوید اقبال کیانی صاحب نے تو کما ل کردیا ۔
    اتنی اچھی اردو تحریر اور اتنا اچھا طرز بیاں۔ کیا کہنےہیں !!!
    میں تو جاوید اقبال کیانی صاحب کے اس حقیقت پسندانہ تبصرے کو بار بار پڑھ رہا ہوں اور بے اختیار اپنےآپ سےپوچھ رہا ہوں کہ کہ کیا یہ جاوید اقبال کیانی کا قلم ہے کہ ایک دو دھاری تلوار ہے جو مش لیگ کا جگر چاک کرتی جارہی ہے۔

    جاوید اقبال کیانی صاحب نے سچ کہا ہے کہ :

    “وطنِ عزیز میں کرپشن کرنے یا کرپشن چپھانے کے لئے سیاست بہترین سٹیج ہے جہاں اداکاری کے سارے جوہر دکھانے کے نادر مواقع ہوتے ہیں ۔ سو آل پاکستان مسلم لیگ کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پچھلا سارا کھایا پیا ہڑپ اور نئے کی پھر سے تڑپ !“

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آنے والا وقت بتائے گا کہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف در اصل کیا تھا ۔ مگر ( جیسا کہ جاوید اقبال کیانی صاحب کے ایک تبصرے میں موجود ہے ) خود اس ( پرویز مشرف ) نے اس بات کا اعتراف کیا کہ :

    “”میں خلوص دل سے اپنے سابقہ دور اقتدار کے دوران کیے گئے غلط فیصلوں اور منفی اقدامات پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں”۔

    ” میں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور میں انہیں دوبارہ کبھی نہیں دہرائوں گا “

    ”میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ میں نے بعض فیصلے ایسے کیے تھے جن کے منفی سیاسی اثرات مرتب ہوئے اوران سے میری مقبولیت کو بھی نقصان پہنچا۔ میں ان تمام فیصلوں پر اس موقع پر نیک نیتی سے قوم سے معافی مانگتا ہوں “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دیکھتے ہیں کہ پرویز مشرف کےساتھ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی انتظامیہ اور مقننہ اور سب سے بڑھکر پاکستان کےعوام کیا سلوک کرتے ہیں۔

    “ یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
    پردہ اٹھنےکو منتظر ہے نگاہ “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے یقین ہے کہ اس بلاگ کے پڑھنے والے بے چینی سے جاوید اقبال کیانی صاحب کی اگلی قسط کا انتظار کررہے ہیں ہونگے۔

  12. آل پاکستان مسلم لیگ کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے سے پہلے ماضی میں بنائی گئی دوسری جرنیلی پارٹیوں کا حشر بھی ذہن میں رکھنا پڑے گا ۔ ایوب خان پہلا ڈکٹیٹر تھا جس نے کنونشن مسلم لیگ بنائی جو ایوب خان کے تخت سے دست برداری کے ساتھ ہی اسپرو کی گولی کی طرح تحلیل ہوگئی ۔ ضیاء الحق نے خود تو کوئی پارٹی نہیں بنائی نہ کسی میں شامل ہوا لیکن مسلم لیگ کے مردہ گھوڑے میں جان ڈلوائی جو اس کی زندگی میں ہی ٹوٹ کر نواز اور جونیجو لیگ میں بٹ گئی ۔ اسلم بیگ نے جسٹس پارٹی بنائی جو اس کے گھر تک ہی محدود رہی ۔ ائیر مارشل اصغر خان نے تحریک استقلال بنائی جو ملکی سطع پہ کوئی پذیرائی حاصل نہ کرسکی اور آج تک کسی خاطرخواہ کامیابی کے بغیر محض آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ جنرل مشرف نے نواز لیگ میں سے ’ ق‘ لیگ بنوائی اور اس پہ قبضے کے خواب لے کر ہی ملک سے بھاگ نکلا اور اب مُش لیگ بنا ڈالی ، جس کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ اس تبصرے کا موضوع ہے ۔

    وطنِ عزیز پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنی کامیابی کے لئے ہمیشہ امریکہ کی طرف ہی دیکھتی آئی ہیں ۔ چنانچہ جنرل پرویز مشرف اور ان کی لابی کا یہ خیال ہے کہ امریکہ انہیں اقتدار میں واپس لائے گا ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ امریکہ نے جنرل صاحب کو کوئی ایسے اشارے دئیے ہوں ، جن کی بنا پہ آپ نے بڑی پھرتی سی لندن میں بیٹھ کر ہی مُش لیگ کا اعلان کر ڈالا ، جس کی ایک وجہ تو عوامی رائے عامہ کا اندازہ لگانا جبکہ دوسری ، جسے میں اہم سمجھتا ہوں ، نواز شریف کو جنرل مشرف کا بھوت دکھا کر دبائو میں لاتے ہوئے اپنی شرائط پہ سودا بازی کرنا مقصود ہو ۔
    جنرل صاحب نے ایک طرف تو امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے پتے اسی طور کھیلنے شروع کر دئیے ہیں جو کبھی مرحومہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا انداز تھا ۔ یعنی کبھی طالبان فیکٹر کو ایکسپلائیٹ کرتے ہوئے نواز شریف پہ تنقید اور ان کے طالبان سے رابطے ظاہر کرنا ، کبھی ڈاکٹر قدیر کے کردار پہ حملے جسے اپنے آقائوں پہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہو کہ ان کے آنے سے ڈاکٹر صاحب تک رسائی ممکن ہو سکے گی اور کبھی امریکہ اور یورپ ( نیٹو ) کو یہ شہہ ، کہ افغانستان کی جنگ جیتے بغیر وہاں سے فوجیں واپس بلانا مغرب کی بدترین غلطی ہو گی کیونکہ اسطرح شدت پسندی نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ ممکنہ طور پر یورپ اور امریکہ تک پھیل جائی گی ، دے کر اپنا امیج بڑھانا کہ ان سے بہتر خطے میں ان کا کوئی دوسرا وفادار نہیں ۔

    امریکہ کی سپورٹ کے حصول کے لئے آپ نے ، ملکی وقار کو دائو پہ لگاتے ہوئے ، انڈیا کی خوشنودی حاصل کرنے کو بھی ہاتھ پائوں مارنے شروع کردئیے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ایک جرمن میگزین کو دیئے گئے انٹرویو میں آپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو فوجی تربیت دی تاکہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہو سکیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاکستانی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کی ان سرگرمیوں کو نظر انداز کیے رکھا تاکہ انڈیا کو کشمیر پر مذاکرات کے لئے مجبور کیا جاسکے ۔ انڈیا ہمیشہ جنرل مشرف کو پسندیدہ سمجھتا رہا ہے کیونکہ انڈیا کو جتنی رعائیتیں جنرل صاحب کی بادشاہت میں ملیں وہ پہلے کبھی اسکے خوابوں میں بھی نہیں تھیں ، حتاکہ یہ بات بھی ریکارڈ پہ ہے کہ موجودہ صدر زرداری کو محبوبہ مفتی نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں ملاقات کرکے یہ ’ قیمتی ‘ مشورہ دیا تھا کہ انہیں جنرل مشرف کی کشمیر پالیسی کو جاری رکھنا چائیے۔

    اس کے علاوہ آپ نے فوج کی ہمدردیاں حاصل کرنے کو بھی فوج کے حکومت میں رول کو اہمیت دی ہے اور مزید برآں کسی نئے فوجی انقلاب کی گھنٹی بجا کر فوج اور حکومت کے درمیان غلط فہمیاں اور خلیج پیدا کرنے کی کوشش کے علاوہ اپنی اہمیت بڑھانے اور یہ تاثر دینے کی سعی کی ہے کہ ابھی فوج میں ان کے خیرخواہ موجود ہیں ۔

    کھیلے جانے شطرنج کے ان پتوں کی روشنی میں مُش لیگ کا مستقبل ، جنرل مُش بذاتِ خود ہیں ۔ لہذا یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا امریکہ انہیں واپس لانے کو بیتاب ہے یا پھر امریکہ کے پاس کون سے دوسرے آپشنز ہیں ۔ جنرل صاحب کے واپس آنے کے دو راستے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ آرمی کے اندر کوئی انقلاب آئے جو جنرل کیانی کو راستے سے ہٹا کر جنرل مشرف کے کسی وفادار جنرل کو آگے لائے جو آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کرے جوکہ بالکل ناممکن بات ہے کیونکہ آرمی ڈسپلن کے اندر ایسی کسی کاروائی کا سوچنا ہی بے وقوفی ہے اور دوسری صورت میں ملک کی مختلف چھوٹی پارٹیاں مل کر ایک مضبوط اتحاد بنائیں جو جنرل صاحب کے ہاتھ بیعت کر لیں اور انہیں سربراہ مان لیں، اور یہ بھی فی الحال ناممکنات میں سے ہے ۔

    امریکہ جو کہ کچی گولیاں نہیں کھیلتا وہ مریل گھوڑوں پہ کبھی جوا نہیں کھیلے گا ۔ جنرل صاحب بھلے امریکہ کی خوشنودی میں ناک رگڑتے رہیں مگر امریکہ ان پہ دست شفقت رکھنے سے پہلے ان کی ، یا دوسرے لفظوں میں ان کی مش لیگ کی ، کامیابی کے امکانات کا بغور جائزہ لے گا اور مش لیگ ، جو کہ آل پاکستان مسلم لیگ ہے ، کی کامیابی کے امکانات کے لئے بھی پورے پاکستان ، یعنی ملک کی چاروں اکائیوں ، پہ نظر دوڑانی پڑے گی ۔

    جنرل صاحب کا اپنا تعلق صوبہ سندھ سے ہے لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں بڑی پارٹیاں ان کے راستے کا پتھر ہیں ۔ قوم پرست سندھی تو ویسے ہی آپ کے دشمن ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی کے حمائیتی آپ کو بے نظیر بھٹو کا قاتل سمجھتے ہوئے ہمیشہ نفرت سے دیکھیں گے۔ مسلم لیگ (ن) تو ویسے ہی دشمن ٹھہری جبکہ ایم کیو ایم آپ کو اپنی کمیونٹی میں سب سے بڑا حریف سمجھتے ہوئے آپ کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔ لہذا سندھ میں اپنی فیملی کے انتہائی قریبی لوگوں ، اور شاید پیر پگاڑا کی برائے نام مدد ، کے علاوہ آپ کو خاطر خواہ حمایت ملنا بہت مشکل ہے ۔

    بلوچستان تو پہلے ہی آپ کے خون کا پیاسا ہے ۔ اکبر بگتی کا قتل اور چیف جسٹس کی معطلی اس صوبے کے عوام بھولنے والے ہر گز نہیں ۔ سو یہ صوبہ بھی آپ کے ہاتھ سے گیا ۔

    پنجاب میں نواز لیگ تو پہلے ہی جان کی دشمن تھی ، اب آپ نے چوہدری برادران کو بھی اپنے دشمنوں کی صف میں کھڑا کر لیا ہے ۔ آپ کے خلاف تحریک بھی پنجاب میں ہی اٹھی ۔ ایسے میں تانگے کی چند سواریوں سے بڑھ کر آپ کے جھنڈے اٹھانے والے کوئی نہیں ہوں گے۔

    اور اب آخر میں خیبر پختونخواہ ، جہان طالبان بستے ہیں ، جہاں مولانا عبدالعزیز رہتے ہیں اور جہاں اُن بے شمار بچوں ، جنھیں لال مسجد میں فاسفورس بموں سے بھون دیا گیا ، کے والدین اور اُن ان گنت قیدیوں ، جنھیں ڈالروں کے عوض گوآنٹاناموبے کیمپوں میں پہنچا دیا گیا ، کے لواحقین رہتے ہیں جو تمام کے تمام جنرل صاحب سے حساب لینے کو ایک ایک دن گن رہے ہیں ۔اب یہاں کوئی ذی عقل خود ہی مُش لیگ کی کامیابی کا اندازہ لگا سکتا ہے ۔

    کسی پارٹی کی کامیابی کا دارومدار اس کی تنظیم ، ووٹ بینک ، سٹریٹ پاور اور نچلی سطع تک کی لیڈرشپ پہ ہوتا ہے جبکہ جنرل صاحب کی پارٹی ، جوکہ ابھی تک کوچوان پارٹی ہی ہے ، کے پاس ایسی تنظیم بالکل مفقود ہے جو انہیں الیکشن میں جتوانا تو درکنار ان کا ائیرپورٹ پر استقبال کرنے کے قابل بھی نہیں !

    مزید برآں ، مُش لیگ کی کامیابی کے امکانات کو جنرل صاحب کے اپنے مستقبل کے ساتھ بھی پرکھنا پڑے گا کہ جنھیں :
    1۔ ملک واپسی کی صورت میں قانونی خطرات اورمقدمات کاسامنا ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ ان کے3 نومبر2007ء کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے اقدام اور قومی مصالحتی آرڈی ننس این آر او کو خلاف قانون اورآئین کے منافی قرار دے کر کالعدم قرار دے چکی ہے
    2۔ انہیں ملکی آئین توڑنے پہ غداری کے مقدمات کا سامنا ہوسکتا ہے
    3۔ لال مسجد آپریشن اور بے گناہوں کا خون کرنے کے مقدمات کا بھی امکان ہے
    4۔ نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی کارروائی میں ہلاکت کا مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے

    ان تمام عوامل کی روشنی میں اگر جنرل صاحب خود یا ان کا کوئی اور حمائیتی یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ ، جسے اپنے ایجینڈے پہ عمل کرانے کو ایک سے بڑھ کے ایک وفادار مل سکتا ہے تو ایسے میں وہ ایک ، ایسی ’ کوچوان پارٹی ‘ یا ایسے مردہ گھوڑے پہ جوا کھیلے گا تو وہ محض احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ لہذا ان تمام عوامل کی روشنی میں مش لیگ کا مستقبل بھی ماضی کی باقی تمام جرنیلی پارٹیوں سے کچھ مختلف نہیں ہوگا۔

    ’ مُش لیگ ‘ کے قیام کے محرکات اور کامیابی کے امکانات ہماری ملکی اور عالمی سیاست اور زمینی حقائق سے ماخوذ میری محدود سوچ اور ذاتی رائے ہے جس پہ ہر طرح کے اختلافِ رائے اور ایک مدلل بحث کو میں انتہائی خندہ پیشانی سے پیشگی خوش آمدید کہتا ہوں ، کہ اس کا ملکی سیاست اور مستقبل سے بالواسطہ تعلق ہے اور ، دوبارہ سے ، بقول قاضی صاحب :

    یہ پاکستا ن کی قسمت کا معاملہ ہے ۔
    یہ بازیجہء اطفال نہیں کہ دنیا کے سامنے روز وشب اس ملک کا تماشہ بنایا جائے۔

    ( کیا جنرل مشرف کو پاکستان میں داخلے اور سیاست کی اجازت ملنی چائیے ؟ میری ذاتی رائے ۔ ۔ ۔ آخری قسط )

  13. یہ انتہائی معلوماتی تجزیہ جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کا شاہکار سمجھا جاسکتا ہے ۔
    اس تجزیہ میں تمام پہلووں کا جائزہ بڑی ہی کامیابی کے ساتھ لیا گیا ہے۔
    جاوید اقبال کیانی صاحب ضرور اس بلاگ کو اپنی آئیندہ شایع ہونے والی کتاب کے لیے محفوظ رکھینگے ۔ ایسے جواہر پارے بہت کم پڑھنے میں آتے ہیں۔

    ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف کے دوبارے اسٹیج پر آنے کی کوششوں کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کی توجہ زرداری سے ہٹ کر پرویز مشرف پر مرتکز ہوگئی ہے ۔

    اور اب زرداری ، پرویز مشرف سے زیادہ پاکستانی قوم کا بے لوث رہنما بن گیا ہے ۔

    یہ بھی ایک لطیفہ سے کم نہیں

  14. محترم قاضی صاحب ،
    آپ کی بار بار کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ ۔
    لیکن کالم کی بجائے اسے شروع میں ہی آپ کے بلاگ میں لکھنے کا مقصد مجھے پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ میرا خیال یہ تھا کہ چونکہ آپ نے ملک سے متعلق داخلی اور عالمی سیاست پہ مبنی ایک انتہائی اہمیت کا بلاگ شروع کیا ہے تو اس میں مختلف آراء آئیں گی ، بالخصوص میرے اس تجزئیے پہ ، جن پہ بحث کی روشنی میں میں اس پہ شاید مزید کچھ لکھنے کے قابل ہوتا مگر محسوس ایسے ہورہا ہے جیسے سبھی اسے متفق ہیں لیکن تصدیق کرنا مناسب نہیں سمجھتے ، یا سبھی اسکے مخالف ہیں لیکن بحث کو بڑھانا ضروری نہیں سمجھتے یا پھر سبھی پرویز مشرف یا اس کی مُش لیگ کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کی اس پہ بحث کر کے اپنا وقت برباد کریں ۔

    بات کچھ بھی ہو میں پھر بھی اپنے قارئین اور مبصرین کی راہیں دیکھ رہا ہوں ۔ماضی میں انہی بلاگز میں پرویز مشرف کی حمایت میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں جنھیں سننے کو میں پھر بےتاب ہوں کہ یہی وقت ہے اصل بحث و مناظرے کا، کہ ہمارے مستقبل کو ایک نئی جہت مل رہی ہے اور تمام تھنک ٹینکس کا فرض ہے کہ اس انتہائی اہمیت کے موضوع پہ بحث کا آغاز کریں ، بہت شکریہ۔

  15. جاوید اقبال کیانی صاحب کی ایک بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے میرے بلاگ کو اپنی تبصروں کے لیے منتخب کیا ۔

    ان کو میرے بلاگ( ڈاکٹر عبدالقدیر خان : پاکستان کیے ہیرو کی بےقدری) کی عدم پذیرائی سے اندازہ ہوجانا چاہیے تھا کہ میرے بلاگ چند ایک گنے چنے قاری ہی پڑھتے ہیں ۔

    میں جاوید اقبال کیانی سے دلی ہمدردی کے ساتھ کہتا ہیں کہ انہوں نے اتنی محنت سے اپنے تبصرے لکھے مگر ان تبصروں پر اب تک صرف 14 تبصرے ہوئے اور ان 14 تبصروں میں سےسوائے نگہت نسیم صاحبہ کے کیس خاتون مبصر نے کوئی تبصرہ نہیں لکھا اور سوائے شعیب صفدر صاحب اور آصف احمد بھٹی صاحب کے سوائے ( مجھے اور جاوید اقبال کیانی صاحب کو چھوڑ کر ) کسی مرد مبصر نے کوئی تبصرہ لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ ( تقریبا یہ ہی حال میرے ڈاکٹر عبدالقدیر خان والے بلاگ کا ہوا ، جس کی مجھے کوئی فکر اور پروا نہیں )

    جاوید اقبال کیانی صاحب نے پرویز مشرف کی شخصیت ، اس کے عروج اورا سکے زوال اور پھر اسکی پاکستان کی سیاست میں دوبارہ آمد پر اتنا معلوماتی مقالہ ( اس بلاگ میں ) اب تک لکھا وہ ہر لحاظ سے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے ۔

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جاوید اقبال کیانی صاحب شطرنج کے کھیل میں مہارت رکھتے ہیں اور انکو اپنے مخالف شاہ کو مات کرنے کے طریقے آتے ہیں ۔ اسکی مثال یہ ہےکہ جاوید اقبال کیانی نے واضح طور پر لکھدیا ہے کہ پرویز مشرف کا پاکستان میں مستقبل کوئی روشن نہیں اس لیے کہ بقول جاوید اقبال کیانی صاحب پرویز مشرف کو نہ پنجابی پسند کرتے ہیں اور نہ سندھی اور نہ بلوچی اور نہ ہی خیبر پختون خواہ والے پسند کرتے ہیں ۔ ان سب کی ناپسندیدگی کے اسباب بھی جاوید اقبال کیانی صاحب نے واضح طور پر لکھدی ہیں ۔ ان حالات میں پرویز مشرف کا پاکستان واپس آکر حکومت کرنا ناممکن نظر آتا ہے ۔ ( میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ سندھی ، پنجابی ، بلوچی اور پغتو زبانیں سیکھ کر ان میں تقاریر کرے تو شائد اس کی پاکستان میں کوئی پذیرائی ہوگی )۔

    بہر کیف :
    جاوید اقبال کیانی صاحب کو میں مشورہ دیتا ہوں کہ یا تو وہ اپنا ایک نیا بلاگ شروع کرکے اس بلاگ کے تمام تبصرے اس نئے بلاگ میں منتقل کردیں ۔ یا پھر اسی بلاگ ہی میں اپنے بقیہ تبصرے لکھکر یہ امید رکھیں کہ کوئی انہیں پڑھ لے گا اور پڑھکر ان پر تبصرے بھی لکھدے گا ۔

    جاوید اقبا ل کیانی صاحب سے دلی ہمدردی کے ساتھ :

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  16. کسی کا یہ شعر میں کسی بلاگ میں لکھ چکا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ اس شعر کی خالق کا نام کیا ہے اور اس شعر کی پوری غزل بھی کیسی ہوگی ؟

    دل سے خوشی گئی تو نہ آئی تمام عمر
    غم صبح سے گیا تو سرِ شام آگیا

    یہ شعر بظاہر اس بلاگ کے موضوع سے کوئی تعلق تو نہیں رکھتا مگر دیکھا جائے تو پرویز مشرف پر اس شعر کا دوسرا مصرعہ صادق آتا ہے کہ :

    غم صبح سے گیا تو سرِ شام آگیا
    ۔۔۔
    اگر وہ دل کی خوشی کی طرح تمام عمر پاکستان واپس نہ آئیں تو ان کے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی بہتر ہوگا ۔

  17. کیا جنرل مشرف کو پاکستان میں داخلے اور سیاست کی اجازت ملنی چائیے ؟
    جہاں تک جنرل مشرف کے پاکستان میں داخلے کا تعلق ہے ، انہیں کسی نے ملک بدر نہیں کیا اور نہ ہی ان کے واپس آنے پہ پابندی ہے ۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں بڑی رازداری سے جان بچا کر بھاگنے کا موقع دیا گیا اور اب وہ خود بھی واپس جانے کی بجائے جان بچانے کی ہی فکر میں ہیں اور اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں ۔

    اور جہاں تک ان کے سیاست میں آنے کا تعلق ہے تو میں ان کی جھوٹ ، دغا ، فریب ، کرپشن ، کردار کی کمزوری ، آدم و وطن فروشی جیسی خامیوں ، جن پہ مزید کچھ لکھنا وقت کا ضیاء سمجھتا ہوں ، کی بنا پہ انہیں کسی بھی ملکی عہدے کے لئے بلیک لسٹ کرنے کا آرزومند ہوں ۔ مجھے ایک بات کا سخت قلق ہوتا ہے کہ جب کوئی موجودہ حکومت کی ناکامیوں کا اُن کے دورِ حکومت سے موازنہ شروع کردیتا ہے ، جس پہ مزید یہ فتویٰ بھی جاری کردیتا ہے کہ یہ سیاستدان کون سے پاک صاف ہیں جو جنرل مشرف کی خامیوں کو اچھالا جائے ۔ایسے میں میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی ٹوکری میں پہلے سے موجود گندے انڈوں کو نکال پھینکنے کی بجائے اس میں مزید گندے انڈوں کا اضافہ کرتے جائیں ؟ اور جنرل مشرف ایسا ہی ایک گندہ انڈا ہے جسے ہمیں ہرگز اپنی ٹوکری میں نہیں ڈالنا چائیے !

    اگر آج کی حکومت ناکام ہورہی ہے تو بجائے پیچھے دیکھنے کے اور ایک ڈکٹیٹر کی غیر قانونی حکومت ، جو خود بھی ناکام حکومت ہی تھی ، سے موازنہ کرنے کے ہمیں آگے دیکھتے ہوئے اپنے سیاسی نظام میں بہتری لانی چائیے اور تمام گندے انڈوں کو چن چن کر باہر پھینکتے ہوئے ایک اچھی قیادت کو آگے لانا چائیے ۔

    عالمی اخبار میں ہی کسی بلاگ میں لکھی گئی جناب صفدر ہمٰدانی صاحب کی یہ بات آج تک میرے دل پہ نقش ہے کہ ’ ہماری آج تک کی رسوائیوں کا سبب ہی یہی ہے کہ کسی کو بھی پہلی غلطی پر کبھی سزا ہی نہیں ملی ‘ ۔ جنرل ایوب نے مارشل لگایا تو عدلیہ سے نظریہء ضرورت ایجاد کراتے ہوئے آئین کو اپنا مطیع کر لیا ۔ جنرل ضیاء نے مارشل لاء لگایا تو نظریہء ضرورت والا وہی ڈرامہ دوبارہ رچایا گیا ۔ جنرل مشرف وہ تیسرا ننگِ وطن ہے جس نے دو دفعہ ملک کا آئین توڑا اور عدلیہ اور اپنی لے پالک اسمبلی سے اپنے لئے ، غیر قانونی ، قانونی جواز نکالا ۔
    آخر اس ملک میں کب تک پہلے غلطیوں اور پھر معافیوں کے دور چلتے رہیں گے ؟ کب کسی پہلی غلطی کو آخری غلطی کی صورت نشانِ عبرت بنایا جائے گا ؟ ماضی میں ہم اگر اتنے باشعور اور بیدار نہیں تھے تو آج تو اس نعمت سے مالا مال ہیں ، پھر کیوں ایک ڈکٹیٹر میں ہی اپنی فلاح ڈھونڈھ رہے ہیں ؟

  18. محترم جناب قاضی صاحب ،
    اللہ کا شکر ہے کہ میں وقت سے اپنی لڑائی جیت گیا اور ملکی سیاست اور مستقبل سے متعلق آپ کے انتہائی اہمیت کے حامل اس بلاگ میں آپ سے کیا گیا وعدہ نبھا سکا ۔

    ” جاوید اقبال کیانی صاحب کی ایک بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے میرے بلاگ کو اپنے تبصروں کے لیے منتخب کیا “

    بخدا مجھے کسی بات کا ذرا برابر رنج نہیں ، بلکہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ آپ کے منتخب کردہ انتہائی اہم موضوع پہ مجھے کھل کر اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملا اور آپ کی بروقت راہنمائی میرے حوصلے بلند کرتی رہی ۔

    آپ کی اجازت سے میں اسے کالم کی شکل دے کر انتظامیہ کو بھجوا دوں گا کہ کئی قارئین ، جن میں ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف صاحب بھی ہوں ، جو صرف کالم ہی پڑھتے ہیں ، تک بھی میری بات پہنچ جائے ۔

  19. محترمہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ ،

    ”دیکھئے آگے آگے اب ہوتا ہے کیا … میں بھی حیران تھی پاکستان کا جرنیل کس آسانی سے نکل گیا اور امریکہ کی آنکھ کا تارا بنا رہا .. تو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا واپس آنا بھی امریکہ بہادر کی ہی ایک چال ہے ..مصباح بھائی ، جاوید بھائی ..آصف بھائی سے امید ہے کہ ان کافر چالوں پر کچھ ٹارچ ماریں .. یعنی روشنی ڈالیں “

    ڈاکٹر صاحبہ ، آپ کا حکم ہو اور میں ٹارچ لے کے نہ نکلوں ، ہو ہی نہیں سکتا ۔ میں نے اپنا حصہ ، جس قدر میری کم عقلی و کم علمی سے بن پڑا ، ڈال دیا ۔ فیصلہ آپ پہ اور عالمی اخبار کے قارئین پہ چھوڑتا ہوں ۔

  20. جاوید اقبال کیانی صاحب کا شکریہ کہ وہ اپنے تبصروں کو اس بلاگ کی زینت بنا چکے ہیں۔

    میری ان سے یہی درخواست ہے کہ وہ اپنے تبصروں کو ایک کالم کی شکل میں تبدیل کرکے ضرور پرویز مشرف تک پہنچا دیں تاکہ وہ اپنی “ خوش فہمیاں “ دور کردے اور اپنے خوشامدی ٹولی کی باتوں میں نہ آئے اور پاکستان سے اسی طرح دور رہے جیسے گیدڑ شہر سے دور رہتا ہے ۔

    اس بلاگ کو صرف چند ایک مبصروں نے اپنے تبصروں سے نوازا : اب جاوید اقبال کیانی صاحب کی صوابدید پر اس بلاگ کو چھوڑتا ہوں ۔ اگر وہ مزید کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو یہ بلاگ حاضر ہے ورنہ اس کا ختم ہوجانا ہی بہتر ہے۔

    ویسے پرویز مشرف ابھی زندہ ہے اور جب تک وہ زندہ ہے اور پاکستان کی سیاست میں الجھا ہوا ہے ، وہ اسی قسم کے کئی ایک بلاگوں کا نشانہ بنتا رہے گا۔ اگر میں وہ بلاگ نہ لکھ سکوں تو کوئی بات نہیں ، کوئی دوسرا بلاگ نویس یہ نیک کام ضرور کرے گا۔

    فقط:
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  21. محترم قاضی صاحب ،

    ’ دورِ پرویزی ‘ اور پرویز مشرف کے چہرے کا ایک اور رخ ! میں آج مئورخہ 13 اکتوبر 2010 کو عالمی اخبار میں ہی پروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد شبیر کے کالم ” ڈرون حملے ۔ کہاں ڈوبا ہے غیرت کا سفینہ “ کا لنک بھی یہاں قارئین کی دلچسپی اور آپ کے بلاگ کے مستقل حصے کے طور پر چسپاں کر رہا ہوں :

    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=urducolumn&article=17905

  22. جاوید اقبال کیانی صاحب نے اس بلاگ میں بشیر احمد خورشید صاحب کا مضمون چسپاں کرکے اس بلاگ کی اہمییت اور افادیت بڑھا دی ہے.
    اس مضمون کے مطابق پرویز مشرف کا پاکستان میں مستقبل تاریک نظر آتا ہے . .
    ویسے جاوید اقبال کیانی صاحب کی تحریر بھی مشرف کے پاکستان میں اسی تاریک مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے.
    پرویز مشرف سے یہ ہی کہنا ہے کہ:
    “عقلمند را اشارہ کافی است ”
    ……..
    پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

  23. محترم منظور قاضی صاحب ،

    ” جاوید اقبال کیانی صاحب نے اس بلاگ میں بشیر احمد خورشید صاحب کا مضمون چسپاں کرکے اس بلاگ کی اہمییت اور افادیت بڑھا دی ہے “

    جناب قاضی صاحب ، جب تک مشرف زندہ ہے اس بلاگ کی نہ صرف افادیت قائم رہیگی بلکہ یہ اسے کالے ناگ کی طرح ڈستا رہے گا !

    انتظامیہ کے حکم پہ میں نے آپ کے بلاگ میں لکھے گئے آخری تبصرے کو کالم کی شکل دی جو آج چھپ چکا ہے اور اس کا لنک بھی آپ ہی کے بلاگ کے مستقل حصے کے طور پر چسپاں کر رہا ہوں ، تاکہ ریکارڈ میں محفوظ رہے :

    http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=urducolumn&article=18064

    میرے لئے اپنے اور پروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد شبیر صاحب کے خیالات میں یکسانیت بڑی خوشگوار حیرت کا باعث ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *