میں بہت خوش ہوں کہ یہ میرے اللہ کی مرضی ہے

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں گزشتہ دنوں بقول شمس جیلانی بھائی کے پگلیات میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی ۔اس کے حصہ اول کے پرچوں میں ، میں کامیاب نہیں ہو سکی ہوں ۔ میرا رزلٹ ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی آیا ہے ۔۔۔ اس امتحان نے مجھے جس طرح سے دنیا سے بے نیازی سکھائی ہے اس کا اندازہ مجھے آج ہوا ۔۔۔

میں یہ امتحان کبھی نہ دے پاتی جو مجھے اس کی بشارت پاک رب سے نہ ملتی ۔۔ اس کی مہربانی اور ازن نہ ہوتا ۔۔ پھر میرے وقت کو امتحان کی بھٹی میں اس طرح ڈالا اور اس طرح سے کم کیا گیا کہ امی جی کی علالت کی وجہ سے لندن جانا پڑا ۔۔واپس آئی تو تیاری کو صرف چھ ہفتے عطا ہوئے اور جانے ان دنوں میں کیا تھا ۔۔ ایسی برکت ۔۔۔ اتنی روشنی میں نے اپنی دنوں میں کبھی نہ دیکھی تھی ۔۔۔ میرے اللہ نے مجھے ہر قدم ہر ایسا میرا ساتھ دیا کہ مجھے خود سمجھ نہ آتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔

مجھے ایسے ایسے مقامات پر ایسی ایسی مدد بھیجی کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی ۔۔۔ میرے لئے علم کا ایک نیا سمندر بچھ گیا تھا اور میں کنارے پر ۔۔ پھر اسی پاک رب نے مجھے اس سمندر میں اتار دیا اور مجھ سے وہ سب لکھوالیا جس کا میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی ۔۔۔ مجھ گنہگار پر اتنا کرم ۔۔ میری آنکھیں ہر وقت نم رہتی ہیں ۔۔۔

جوں جوں میرا نتیجہ نکلنے کے دن قریب آ رہے تھے ۔۔ مجھ پر فطری گھبراہٹ طاری ہو رہی تھی ۔۔۔ ایک دن یونہی میں اپنے اللہ سے باتیں کر رہی تھی کہ میں شاید کسی برے نتیجے کی متحمل نہ ہو سکونگی ۔۔۔ لیکن میرے رب نے مجھ یہاں بھی اکیلا نہیں چھوڑا ۔۔۔ اس نے جانے کہاں سے میرے سامنے میری کاپی کا وہ صفحہ کھول کر رکھ دیا جس پر مولا علی علیہ السلام کی یہ حدیث لکھی تھی ۔۔

مولائے متقیان مولا علی فرماتے ہیں ۔۔
“ جب میری دعا قبول ہو تو میں خوش ہوتا ہوں کہ اس میں میری مرضی ہے اور جب میری دعا قبول نہ ہو تو میں اور خوش ہوتا ہوں کہ یہ اللہ کی مرضی ہے “

میرے عزیز بہن بھائیو ! آج میں بہت خوش ہوں کہ میری ناکامی “ اللہ کی مرضی ہے “ ۔۔ اور میں بہت خوش نصیب ہوں کہ اللہ نے مجھے مولا کی سنت پوری کرنے کی توفیق عطا کی ۔۔۔۔ کہ ایسی سعادتیں نصیب والوں کی ہی ملتی ہیں ۔۔۔۔ یہ سعادت ہی میری اصل کامیابی ہے … اللہ کریم اپنی جناب میں شرف قبولیت عطا کرے ..آمین

35 thoughts on “میں بہت خوش ہوں کہ یہ میرے اللہ کی مرضی ہے”

  1. میں نے اپنے ارادوں کی شکستگی سے اپنے خدا کو پہچانا۔ (امام علی علیہ السلام)۔
    ماشاء اللہ۔ یہی روش اور مزاج اگر ہم سب کا ہو جائے تو جانے کس قدر فساد اور بد عنوانیوں کا خاتمہ ہو جائے۔ ۔۔۔

  2. باب العلم مولائے متقیان کا ایک اور فرمان یہ بھی ہے کہ اپنی ہار کو تسلیم کر لینا جیت کی جانب پہلا قدم ہے.
    ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اس دنیا میں لاکھوں کروڑوں لوگ دن میں کسی نہ کسی امتحان میں کامیاب یا ناکام ہوتے ہیں لیکن ایک روایت یہی ہے کہ ایک غالب تعداد صرف اپنی کامیابی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرتی ہے ناکامی کو نہیں. آپ نے یہاں بھی ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اگر کسی امتحان میں ناکام ہوں تو وہ یہی رویہ اپنائیں.
    ہم سب اللہ،اسکے حبیب اور انکی آل و اصحاب کی خوشی میں خوش ہیں. امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ تماری جو دعا اور خواہش پوری ہو جائے اس پر تو اپنے اللہ کا شکر ادا کرؤ ہی لیکن جو پوری نہ ہو اس پر دو نفل شکرانے کے اضافی پڑھو کہ وہ خالق جانتا ہے کہ تمہارے لیئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں.
    ڈاکٹر صاحبہ آپ اللہ کی رضا پر خوش ہیں اور ہم سب آپکی خوشی میں خوش ہیں.
    آپ کا طب کا تو شعبہ ہی ایسا ہے کہ جس میں روزانہ کئی مریض صحت یاب ہوتے ہیں اور کئی دنیا سے چل دیتے ہیں،گویا اس امتحان کی کامیابی اور ناکامی بھی ساتھ ساتھ ہے.
    میں ان لوگوں میں سے ہوں جو یہ جانتا ہے کہ آپ نے اس امتحان کے لیئے کس طرح اور کتنی محنت کی. سچ تو یہ ہے کہ اس پیدا کرنے والے نے آپکو جتنی اہلیت،صلاحیت اور وسائل دیئے ہیں آپ نے انہیں استعمال اور خرچ کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا. آپ کو یہ افسوس کبھی بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ نے محنت کم کی. بس یا رہے کہ ہمارا اختیار اور ہمارا دائرہ محنت کرنے تک محدود ہے لیکن اسکا ثمر ہمارے اختیار میں نہیں.اور جو چیزاختیار میں نہ ہو اسکے لیئے صرف محنت اور جستجو کر سکتے ہیں.
    آپ کے تمام گھر والوں نے اس ضمن میں جس طرح آپکا ساتھ دیا وہ بھی قابل مبارکباد ہیں. بھائی آفتاب ،بیٹی آمنہ،مجیب اور منیب.یہ سب آپ کے امتحان کی تیاری کے ضمن میں آپکے ہمراہ رہے ہیں.یہ ہمراہی کی نعمت کتنے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے.
    کسی بڑی کامیابی کے لیئے کوئی چھوٹی ناکامی کوئی مہنگا سودا نہیں
    مولا آپکو ہر قدم ہر مستحکم رکھیں اور کامیاب کریں.آمین

  3. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ تو ماہر نفسیات ہیں ، انہیں کامیابی اور ناکامی کی وجوہات کے نفسیاتی تجزیہ میں مہارت ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ :
    گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

    تاریخ شاہد ہے کہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے مایوس ہو کر بیٹھ جانے سے اپنا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ بہتر تو یہ ہے کہ ان ناکامیوں کو راستے کے پتھر سمجھ کر ان پر پیر رکھکر آگے بڑھنا ، اور منزل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔

    ہم سب ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے اور ( خد ا کی رحمت سے ) مایوس نہیں ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں ضروری ردو بدل کرکے پھر سے لکھینگیں اور ضرور اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائنگیں۔

    میں ان سے ڈرتے ڈرتے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ :

    یہ “ پگلیات میں پی ایچ ڈی “ کا کیا مطلب ہے ؟

    کیا اس کے لیے عالمی اخبار کے بلاگوں کا مواد کافی نہیں ہے ؟

  4. نگہت آپی
    اسلام علیکم
    آپ کے یہ الفاظ میں بار بار پڑھ رہا ہوں ۔۔۔
    ”میرے عزیز بہن بھائیو ! آج میں بہت خوش ہوں کہ میری ناکامی “ اللہ کی مرضی ہے “ ۔۔ اور میں بہت خوش نصیب ہوں کہ اللہ نے مجھے مولا کی سنت پوری کرنے کی توفیق عطا کی ۔۔۔۔ کہ ایسی سعادتیں نصیب والوں کی ہی ملتی ہیں ۔۔۔۔ یہ سعادت ہی میری اصل کامیابی ہے … اللہ کریم اپنی جناب میں شرف قبولیت عطا کرے ..آمین“
    واقعی آپ کی انکساری ہے کہ آپ مولا کی سنت پوری کرنے پر خوش ہیں
    خدا کرے سب کو آپ جیسا شعور عطا ہو۔ اور ھم سب کو آئما علیہ السلام کے ارشادات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین۔

  5. مصباح بھائی .. سلامت رہیں .. مجھے آپ کی باتوں نے مجھے ہمیشہ ڈھارس دی ہے ..

  6. بابا میں کہاں اس قابل جو کوئی نئی روایات کو بنا سکوں .. میں تو بس آپ سب کے ساتھ اپنے دکھ سکھ بانٹتی ہوں اور آپ سب سے دعا چاہتی ہوں کہ اللہ کریم ہم سب کو صبر اور استقامت سے اپنے حبیب اور اپنے حبیب کے حبیب کے رستے پر چلاتا رہے … میں تو آپ سے رستہ پوچھنے والوں میں سے ہوں … یہ حسن سلوک تو آپ کا ہے جو کبھی مایوس نہیں ہونے دیتے .. اور ہمیشہ اونچی اڑان کی طرف دھیان لگائے رکھتے ہیں … انشاللہ اللہ کی رضا سے اسی بلاگ میں ایک دن میں اپنی کامیابی کی خبر بھی لکھونگی …انشاللہ ..

  7. منظور بھائی سائیکاٹری یعنی ماہر نفسیات کی سب سے اعلی اور آخری ڈگری کو شمس بھائی پگلیات میں پی ایچ ڈی کہتے ہیں .. اور مجھے یہ ڈگری بہت پسند ہے .. یہ سچ کہا آپ نے کہ کیا اس کے لیے عالمی اخبار کے بلاگوں کا مواد کافی نہیں ہے ؟ .. تو منظور بھائی .. لگتا ہے کہ مواد کم پڑ گیا تھا .. ہا ہا ہا ..

  8. انشااللہ۔۔۔
    یہ بہت بڑا اسم ہے یعنی اسم اعظم
    یہ تو ہم مسلمانوں نے انشااللہ کو اپنی عادت ثانیہ بنا لیا ہے کہ جو کام خود نہیں کرنا اسے اللہ پر چھوڑ دینا
    لیکن یاد رکھیں کہ جب زبان سے ہم انشااللہ کہتے ہیں تو حقیقت میں اللہ کو اس کام میں شامل کر لیتے ہیں
    بے شک ضرور لگے گی کامیابی کی خبر

  9. جعفر بھائی یہ انکسار یہ یقین بھی انہی کی عطا ہے .. آپ مجھے بس اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا .. جزاک اللہ ..

  10. پیاری بہن نگہت خوش رہئے ۔
    ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے اور ناکامی کو خوشی خوشی گلے لگانا مجاہدوں کا شیوہ ہے ۔
    ایک ناکامی ہزاروں کامیابیوں کے دروازے کھول دیتی ہے یہ میرا ایمان ہے ،بس اُس کی رضا میں راضی رہنا ہی سب سے بڑی طاقت ہے ۔
    انشاء اللہ اگلی دفعہ آپ سے ٹوکرا بھر مٹھائی کھائینگے ۔
    ہمتَ مرداں مددَ خدا
    ہزاروں دعائیں اور نیک خواہشات
    اللہ آپ کی تمام جایز خواہشات کو پورا فرمائے آمین
    عالم آرا
    وینکور

  11. نگہت جی
    السلام علیکم
    آپ بہت بہادر ہیں کہ اپنی ناکامی شیئر کر رہی ہیں۔ ہر کسی میں اتنا ظرف نہیں ہوتا
    خیر اللہ سے دُعا ہے کہ آپ کو استقامت عطا کرے اور آئندہ آپ کو کامیاب کرے
    والسلام
    زرقا

  12. آپ کے اس عمل میں جو درس ہے وہ بیان سے باہر ہے!
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے بھی آپ جیسا ظرف و شعور عطا کرے۔ جب میں اپنے رب سے اپنی ناکامیوں کا شکوہ چھوڑ کر اس کی مرضی میں راضی رہوں!
    اس دعا پرسب سے آمین کی درخواست ہے

  13. گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا بڑھیں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں

  14. آپا شکر آپ کی پاکستان سے واپسی ہوئی ..سچ دعاؤں میں بہت کمی ہو گئی تھی ..آپا اب بتا کر جایئے گا ..ہم سب نے آپ کو بہت یاد کیا ..انشاللہ آپ سب کی دعائیں میرے ساتھ ہیں تو ڈر کیسا …

  15. زرقا میری اچھی دوست تمہاری تسلی پہلے دن سے میرے ساتھ ہے .. جگ جگ جیو .. خوشیوں میں رہو ..آمین

  16. شعیب میرے اچھے سے چھوٹے بھائی ..زندگی کا ہر پل ایک امتحان ہی ہے .. ہم اسے امتحان سمجھ کر گزاریں یا نہ گزاریں .. پھر یہ ناشکری ہے کہ اپنی ایک ناکامی پر ایک ہزار کامیابی کو بھلا دیا جائے .. پر شعیب یہ بات مجھے بھی بہت دیر سے سمجھ آئی اس لئے تم بلکل پریشان نہ ہو .. کم از کم تم یہ بات مجھ سے پہلے ہی سیکھ رہے ہو اور سنو یہ میرا یمان ہے کہ جس دن آپ نے ہارنا سیکھ لیا وہی دن جیت کا ہے ..

    میں اپنے مریضوں میں یہ واضح فرق دیکھتی ہوں کہ جو مریض اپنے مرض کا یقین کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں یہ مرض لاحق ہو چکا ہے وہی مریض جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں ، ہمیشہ دوا پابندی سے کھاتے ہیں اور تندرست رہتے ہیں ..ان کی بہ نسبت جو اپنے مرض کا نکار کرتے ہیں .. ہٹ دھرمی سے اڑے رہتے ہیں ..دوا کھانے سے انکار کر دیتے ہیں ..یہ مریض کبھی صحت نہیں پاتے اور زیادہ تر مزید اور دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں ..

    مجھے تم بہت عزیز ہو شعیب ..ڈھیروں دعائیں اور تمہاری ہر دعا پر صدق دل سے آمین .. اپنی آپا کو بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھنا .. سلامت رہو ..

  17. ظفر بھائی آپ سے دعاؤں کی التجا ہے .. آپ تو حجاز مقدس کے اس سفر پر جا رہے ہیں جہاں پر ازن ملے تو کوئی جاتا ہے .. اور جس دعا کو شرف قبولیت ملنی ہو وہی لبوں تک آتی ہے .. مجھ گنہگار کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئے گا .. اللہ کریم ہم سب پر رحمت و انوار کی بارش رکھے ..آمین

  18. اسلام علیکم بہن نگہت اور محترم ساتھیو
    اآپ نے صھیح کہا نگہت ،
    میں اپنے مریضوں میں یہ واضح فرق دیکھتی ہوں کہ جو مریض اپنے مرض کا یقین کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں یہ مرض لاحق ہو چکا ہے وہی مریض جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں ، ہمیشہ دوا پابندی سے کھاتے ہیں اور تندرست رہتے ہیں ..ان کی بہ نسبت جو اپنے مرض کا نکار کرتے ہیں .. ہٹ دھرمی سے اڑے رہتے ہیں ..دوا کھانے سے انکار کر دیتے ہیں ..یہ مریض کبھی صحت نہیں پاتے اور زیادہ تر مزید اور دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔‘‘
    یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ جب تک اپنی بیماری کا احساس نہ ہو بندہ صحت یاب نہیں ہو سکتا یہ ہی حال روحانی بیماریوں کا بھی ہے جن سے ہم جان بوجھ کر نظریں چراتے ہیں ۔
    جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ جسمانی اور روحانی دونوںبیماریوں سے شِفا پاتے ہیں ۔بس ادراک کی بات ہے ۔
    آپ کا کہنا سر آنکھوں پر ۔مجھے بکنگ ایسی ملی کہ صرف ایک دن تھا جس کی وجہ سے کسی کو نہ بتا سکی ۔مگر وہاں گزارے پندرہ دن کے بارے میں ضرور لکھونگی ۔
    محترم ظفر بھائی اللہ رب العزت آپ کے ایک ایک قدم کو جو اس مبارک سفر کے لئے اُٹھ رہا ہے قبول فرمائے ۔اور آپ کو اس مبارک فریضے کے تمام فیوض و برکات سے نوازے ۔ہم سب کے لئے اور خاص طور پر میری باجی کے لئے دعا ضرور کیجئے گا ۔اللہ آپ کی تمام دعاؤں کو شرفَ قبولیت بخشے آمین
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جسمانی اور روحانی بیماریوں سے بچاتا رکھے ۔
    عالم آرا
    وینکور

  19. محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ،

    بقول شمس جیلانی صاحب ” پگلیات میں پی ایچ ڈی “ میں آپ کے ممتحن یقیناّ پاگل ہوں گے جنھوں نے آپ کو انڈر گریڈ کیا یا پھر انہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ آپ عالمی اخبار کی نائب مدیر ہیں جبھی تو وہ حسد سے پاگل ہوگئے ۔

    کبھی کبھی خدا اپنے بندے کو اس کی حیثیت سے زیادہ دے کر اس کا شکرانہ دیکھتا ہے اور کبھی کبھی اسے اس کی حیثیت سے کم دے کر اس کا صبر دیکھتا ہے ۔
    اور آپ نے یقیناّ صبر کا یہ امتحان پاس کرلیا جو اس کی خوشنودی پہ خوش ہورہی ہیں ۔

    اللہ آپ کو مستقبل میں اسے بڑی کامیابیاں عطا فرمائے ، آمین ۔

  20. ہا ہا ہا .. ہاں جاوید بھائی جی جی انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ میں عالمی اخبار کی نائب مدیر ہوں ..ہا ہا ہا .. یہ اچھا کہا آپ نے .. سلامت رہیں جو مجھے اتنا قابل جانتے ہیں … اللہ کریم میری عزت آپ سب کی نظروں میں ہمیشہ رکھے ..آمین

  21. آپا مجھے آپ کے ان پندرہ دنوں کی تفصیل کا ابھی سے انتظار شروع ہو گیا ہے .. جلدی سے لکھ ڈالے اب..

  22. بہن جی !
    یہ تو ہم اور آپ جان ہی چکے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام کا ایک ایک قول نفسیات کے علم کا منبع ہے
    گزشتہ عرصے میں جتنی تحقیق آپ نے اس جہت میں کی ہے اس پر آپ یقیناً Ph D کی حقدار ہیں.

    بھائی جاوید اقبال کیانی صاحب کا کہنا بالکل درست ہے کہ
    “کبھی کبھی خدا اپنے بندے کو اس کی حیثیت سے زیادہ دے کر اس کا شکرانہ دیکھتا ہے اور کبھی کبھی اسے اس کی حیثیت سے کم دے کر اس کا صبر دیکھتا ہے ۔ اور آپ نے یقیناّ صبر کا یہ امتحان پاس کرلیا جو اس کی خوشنودی پہ خوش ہورہی ہیں”

    میری طرف سے اس امتحان کی کامیابی پر بھی مبارک باد قبول ہو

  23. مناف بھائی خوش رہیں .. آپ نے اتنا کچھ لکھ کر سچ مچ مجھے بے حد خوش کیا …اللہ پاک ہم سب کو اپنی خاص اماں میں رکھے ..آمین

  24. واقعی بڑے پتے کی بات ہے ۔ مجھے بھی نئی روشنی ملی

  25. بہن نگہت یہ تو بھا ئیوں کا حق ہو تا ہے کہ اپنی پیاری اور چھوٹی بہنوں کو چڑا ئیں؟ یہ راز کی بات تو میرے اور آپ کے درمیان تھی۔ ورنہ تو علم ِنفسیات کے بارے میں آپ میرے خیالات سے واقف ہیں کہ میرے نزدیک اس علم کی کتنی اہمیت ہے؟ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے کئی مرتبہ مشورہ دیاکہ آپ تو نفسایات کی ماہر ہیں مگر بطور طالب علم میرامشورہ یہ ہے کہ جس سے بات کرنا ہو پہلے اس کی نفسیات سمجھو پھر بات کرو؟ مگر آپ نے راز کی بات کو عام کردیا اور اب یہ ہر ایک کی سوچ پر منحصر کے وہ اس کے معنی کیا لے ۔ بھائی ھمدانی اور دوسرے تمام صاحبان نے اتنا کچھ لکھدیا ہے کہ میں سوچ رہا ہوں کہ اب کیا لکھوں ۔ اسی کو میں دہرانا نہیں چا ہوں گا البتہ یہ کہونگا کہ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ سے تعلقات اچھے ہیں! تو اپنے تمام فیصلے اپنے طور پر پوری محنت کر نے کے بعد اس پر چھوڑ دینا چا ہیئے کیونکہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں فیصلے ہمیشہ بہتر ہی کر تا ہے جبکہ بندہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا بہتری ہے اور یہ بھی کہ بعض اوقات وہ ابتلا میں مبتلا کرکے ترقی ِدر جات کے لیئے نا کامی سے دوچار کر تا ہے تا کہ اس کا روحانی درجہ بلند ہو۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپنے ایک دنیاوی امتحان پاس نہیں کیا تو کیا ہوا؟ اپنے صبر اور اس جذبہ تشکر سے جو کہ اپنی نا کامی پر دکھا یا ۔ وہ دوسرا رو حانی امتحان ضرورپاس کر لیا ہے لہذا میری طرف سے مبار کباد قبول قبول فر ما ئیے۔رہا سوال یہ کہ اس نے اس مرتبہ کامیاب کیو ں نہیں کیا اس کا جواب ایک حدیث میں مو جود ہے ۔ حضور(ص) نے فر مایا کہ “ ہر کام کے لیئے ایک وقت اور ہر وقت کے لیئے ایک کام معین ہے“جد جہد جاری رکھئے انشا اللہ آ پ ضرور کامیاب ہو نگی اور پگلیات میں ڈاکٹریٹ کر یں گی۔

  26. نگہت جی !واقعی آپ بہت ھمت والی ہیں جو اپنا رزلٹ سب کو بتا رھی ہیں -میں اس بات کی قائل ہوں -کہ خدا کی اسمیں مرضی شامل ہے-اور شعر گنگنا کر صبر آ جاتا ہے -..جو میرے بس میں تھا میں نے وہ کچھ کیا . لیکن جب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کرؤں،،،،،،، اللہ آہکو آگے چل کر کامیاب کرے.آمین

  27. میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی ناکامی کا تذکرہ کرنے کی بجائے پھر سے اس مقالے کو لکھیں اور کبھی بھی اپنی ناکامی سے مایوس ہوکر خاموش نہ بیٹھ جائیں ۔( اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرتے وقت ایسے ایسے سانحے تو ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ ان سے گھبر انے کی کوئی ضرورت نہیں ) ۔

    اقبال تو یہ کہتا ہے کہ :
    اگر لٹ گیا اک نشیمن تو کیا غم
    مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں

    میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ جیسی مضبوط قوت ارادی رکھنے والی ہستی سے یہ توقع رکھتاہوں کہ وہ ضرور اس عارضی شکست سے ہمت نہ ہارنے کی بجائے دگنی طاقت سے پھر سے اوپر اٹھینگی اور تندئی باد مخالف سے گھبرانے کی بجائے اسے اونچا اڑانی والی ایک قوت سمجھین گی ۔

    میں اگر اگلے سال تک زندہ رہا تو ڈاکٹر نگہت نسیم صاحب کا “پگلیات“ پر لکھا ہوا انکا پی اچی ڈی کا مقالہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرونگا ۔ یہ میرا ایقان ہے۔

    فقط:
    منظورقاضی
    جرمنی سے

  28. شمس بھائی آپ نے کتنی خوبصورت حدیث لکھی کہ “ ہر کام کے لیئے ایک وقت اور ہر وقت کے لیئے ایک کام معین ہے“ ..بے شک یہی سچ ہے .. مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے گا ..

  29. عابدہ آپا میں تو خوش ہوں کہ اس بہانے آپ بلاگ آئیں تو .. بس آتی رہا کریں اچھا لگتا ہے ..

  30. جی جی منظور بھائی آپ کا حکم سر آنکھوں پر … دعاؤں میں یاد رکھئے گا ..

  31. السلام علیکم
    نگہت آپی ، ناکامی کوئی معنی نہیں رکھتی ، ناکامی کو دل سے لگا لینا غلط رویہ ہے ، اور اپنی ناکامی پر اور اللہ کی رضا میں راضی ہو جانا ، اخلاقی طور پر سب سے بڑی کامیابی ہے اور ایسی کامیابی کے جس کے سامنے یہ چھوٹی چھوٹی ناکامیاں کچھ معنی نہیں رکھتی ، اور آپ ایسی کامیابی حاصل کر لینے میں کامیاب رہی ہیں ، کوشش جاری رکھئے ، اِنشاء اللہ بہت جلد کامیابی قدم چومے گی ، اور ہم سب آپ کی اُن خوشیوں میں بھی آپ کے ساتھ ہونگے ۔
    آصف احمد بھٹی

  32. میری لائق بیتی سدا سکھی رھو آ مین اس بار زرا تاحیر سے آنے کی وجہ ما شاء اللہ گھریلو زمّہ داریا ں ھو گئں ، کئی دن سے سو چ رھی تھی کہ اپنی تعلیمی زندگی کے بارے میں عا لمی اخبار کے ساتھیو ں کو بتا ؤ ں گی کہ میں نے اپنی زندگی میں جو جانا وہ یہ ھے کہ اللہ تعا لیٰ اپنے بند و ں پر کس طر ح مہر بان ھے جس کا ہم تصّو ر بھی نہیں کر سکتے ہیں
    جیسا کہ میں نے بتا یا کہ میری شا دی اسکو ل کی تعلیم کے دوران ھی ھو گئ تھی ، بہر حا ل جب میں ایم اے کر چکی تو ایک د ن سو چا کہ کیو ں نہ اب پی ایچ ڈی کر لیا جائے لیکن پھر خیا ل آ یا کہ میں نے تو ماسٹر ز پرا یئو ٹ کیا ھے کیا یو نیو رسٹی مجھ کو دا خلہ کا اہل سمجھے گی ،بس میں یو نیو رسٹی پہنچ گئ
    باقی حسّہ اگلی پوسٹ میں انشا للہ

  33. یہا ں ایک بات بتاتی چلو ں کہ جب میں اپنے بچّو ں کے تعلیمی کا مو ں کے سلسلو ں سے یو نیور سٹی یا کا لج جا تی تھی تو ضر ور سو چتی تھی کہ اللہ تعا لیٰ کی نا جا نے کیا مصلحت ھو گی اس نے مجھ کو اعلیٰ تعلیمی ا دا رے میں پڑ ھنا نصیب نہین کیا کیو نکہ میرے خاندان کی سب ھی شخصیا ت نے ا علیٰ تعلیمی ادا روں سے فیض اٹھا یا ، اس سو چ سے مجھ کو دکھ ضرور ھو تا تھا بہر حا ل جب میں نے یو نیو رسٹی پہنچ کر معلومات حا صل کیں تب معلوم ھوا کہ میں ایم فل کا مر حلہ عبو ر کر کے پی ایچ ڈی کر سکو ں گی

  34. اب تو خو شی سے میر ے دل کا کیا حا ل ھوا میں اس عمر کی ایک ننّھی طالبہ بن گئ جس کو پہلے دن اسکو ل جانا ھو اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب میں انٹر نیشنل ریلیشنز ڈ پارٹمنٹ کی چئر پر سن محترمہ طلعت وزارت کا د یا ھو الیٹر لے کر کراچی یو نیو رستی کی لا ئبریری میں آ نے والے دنو ں مین پی ایچ ڈی کی طا لب علم کی حیثیت سے بیٹھی ،کیو نکہ اب مجھ کو لا ئبریری سے استفا دہ کرنے کا استحقا ق ح اصل ھو گیا تھا ،وہ پھلا دن تھا جب میں نے اپنے رب کی شا ن میں ایک قصیدہ کہا مگر پھر یہ ھوا کہ میں داخلے کی جب مکمّل تیّا ری کر چکی اور صرف انٹر ویو باقی تھا کہ میرے ویزہ کی مدّ ت کا بھی ختم یقینی تھا کہ مئجھ کو یہا ں آنا لا زم ھو گیا ،اب میں سو چتی ھوں کا ش میں در خو است دے کر مجبو ری بتا کر کچھ انتظا م کر لیتی میری محنت اور ارمان کا م ھی آ جاتے پھر یہ کہتی ھو ں اللہ مجھ کو صر ف دکھانے کو لے گیا تھا کہ میں تم کو یہاں بھی لا سکتا ھو ن مگر اب تم بس کرو ،قا ریئن فیصلہ کریں مجھ کو کیا کرنا چا ھئے تھا جو میں نے کیا وہ تھیک تھا ؟؟؟میں یہ کہتی ہوں تم تو چا ہ ھی نھیں سکتے ھو جب تک ھم نا چا ہیں
    زائرہ عا بدی

  35. سب سے آ خر میں اپنی با وصف اور با ھمّت بیٹی نگہت نسیم سے کہو ں گی کہ ہمّت مر داں مد د خدا ھمّت کبھی نا ہا رو ، ہار سے کبھی دل گرفتہ نہیں ھو اس کی زات کبھی ما یو س نا ھو ایک دن کامیابی تمھا رے قد م ضرور چو مے گی انشا ا للہ
    زائر ہ بجّو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *