ميں مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں

جعفر حسین بھائی نے پہلا کالم عالمی اخبار کے لئے لکھا جو اتنے اچھوتے اور منفرد موضوع پر ہے کہ اس کالم کی انفرادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ یقین مانئے میں نے کبھی اس موضوع پر نہیں سوچا تھا اور اگر کبھی خیال آیا بھی ہو گا تو اتنی سنجیدگی سے نہیں سوچا ہو گا ۔۔۔ اس کالم کی اسی فکری خوبصورتی نے مجھے مجبور کر دیا کہ یہاں بھی اس کالنک لگاؤں تاکہ ہم سب مل کر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کریں اور اپنی زندگیوں میں مسجدوں کو آباد کر لیں ۔۔
مصباح بھائی کالم کوپڑھنے کے بعد لکھتے ہیں ۔۔
جناب محترم جعفر صاحب۔
السلام علیکم
بہت اعلیِ مضمون ۔ ضمیر جگا دینے والی سطریں۔ یہ مضمون بھی شاید کہیں کسی ویران مسجد کو آباد کردے یا ویران دل کو مسجد سا بنا دے۔
بھائی قمر رضا کالم کے بارے میں رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔
سبحان اللہ۔
کیا خونصورت واقعہ بیان فرمایا ہے۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والا اور اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دینے والا واقعہ۔ خدا ہمیں احسن العمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

لیجئے آپ سب بھی اسے پڑھیں اور دل کھول کر لکھنے والے کو داد دیں ۔۔

9 thoughts on “ميں مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں”

  1. جزاک اللہ ، سبحان اللہ : اتنی صاف ستھری اور ایمان افروز تحریر پڑھکر دل و دماغ اور روح کو تسکین ملتی ہے۔
    اللہ جعفر حسین صاحب کو اتنے اہم واقعہ کو اتنے دل گداز انداز لکھنے کا نیک اجر عطا کرے اوران کے اس مضمون کی برکت سے تمام مسلمانوں کو مسجدوں کی تنہائی دور کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کرنے کی توفیق اور سعادت عطا فرماتا رہے ۔ آمین
    جعفر حسین صاحب نے اس کالم سے یہ ثابت کردیا کہ ان میں اچھے کالم لکھنے کی خداداد صلاحیت موجود ہے : اللہ اس صلاحیت کو مزید جلا بخشے اور ہم سب کو انکی مزید قلمی تخلیقات پڑھنا نصیب کرے : آمین

  2. جعفر حسین صاحب نے اپنے بلاگ مکہ حرم شریف کی ایک قریبی مسجد کی ویرانی کے بارے میں یہ بات کی کہ:

    “ مکہ حرم شريف ميں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کيلئے روانہ ہوئے شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ فاصلے پر ايک بے آباد سنسان مسجد آتي ہے، مکہ شريف کو آتے جاتے سپر ہائي وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی رہتي ہے اور ہم ہميشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے ہيں“ ‘

    کتنی عجیب بات ہے کہ سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے ایک قریبی مسجد کی تنہائی اور ویرانی کا یہ حال ہے !!!

    اگر ایسی کوئی مسجد دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوتی تو بات الگ تھی مگر مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے قریب ایک مسجد کی تنہائی اور ویرانی کا یہ حال سعودی عرب کے مسلمانوں کی اس مسجد سے بے رخی کی عکاسی کرتا ہے ۔ جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے ۔

  3. جناب جعفر حسین صا حب ۔ آپ نے بہت ہی درناک مو ضوع چھیڑا ہے۔ اصل میں قصہ یہ ہے کہ جو مقامات کو ئی بھی تاریخی اہمیت رکھتے تھے ان کی نشاندہی کے لیئے ترک حکومت نے وہاں پر مساجد بنا دی تھیں اس غلط فہمی کی بنا پر کہ انہیں کوئی مسجد ہو نے کی بنا پر مسمار نہیں کر ے گا۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ ان میں سے لا تعداد مسا جد کا وجود نہیں ہےجو بد عت کے نام پر مسمار کردی گئیں ۔ حتیٰ کہ مسجد توبہ کے سوا جو پہا ڑی پرتھی ۔ با قی مسا جد خمسہ جو خندق کے کنا رے بنی ہو ئی تھیں ان کا بھی اب کہیں وجود نہیں ہے۔ یہ کیوں بچ گئی پتہ نہیں یا تو یہ موجودہ حکمرانوں کے اجداد نے بنا ئی ہو گی یا ایسی جگہ ہو گی کہ غیر اہم ہے جہاں ہو ٹل نہیں بن سکتاہوگا۔کیونکہ وہاں مسجدیں گرانا روزمرہ میں شامل ہے؟ اگر خندق تک تشریف نہ لے جانا چا ہیں تو جنت البقیع کی ہی کو ئی مسجد تلاش کر کے دکھا دیں جو لا تعداد تھیں

  4. مجھے متعدد احباب کی ای میلز ملی ہیں کہ جعفر بھائی کا یہ کالم ان کی تحریر نہیں بلکہ ایک نیکی پھیلانے والے ادارے کی طرف سے ملنے والی ای میل کو آگے بڑھایا گیا ہے . میں اس ضمن میں سب احباب کو بتاناچاہتی ہوں کہ جعفر بھائی نے یہ تحریر ایک ای میل ہی سے متاثر ہو کر لکھی تھی … جس کی اطلاع کالم کے ساتھ ہی منسلک تھی .. اور انہوں نے نشاندہی بھی کر دی تھی کہ کہاں تک ای میل ہے .. وہاں تک انہوں نے حاشیہ بھی کھینچ دیا تھا جس کو میں نے تحریر میں تسلسل رکھنے کے لئے ہٹا دیا تھا .. اور اب وہاں پر ایک ای میل سے ماخوز لکھ دیا ہے .. امید ہے کے احباب کی تسلی ہو گئی ہو گی کہ جعفر حسین بھائی نے اپنے حصے کا فرض ادا کر دیا تھا … باقی شکوک وشبہات میرے بر وقت “ماخوز” نہ لکھنے کی وجہ سے پیدا ہوئے جس کے لئے میں آپ سب سے معذرت خواہ ہوں ..

    لیکن میں حیران اس بات پر ہوں کہ اتنے اہم موضوع پر آپ احباب کی توجہ کچھ کم سی ہے .. کیوں بھلا .. یہ مسجدیں کیا ہماری نہیں ہیں .. کیا انہیں آبا درکھنے کی زمیداری صرف چند لوگو پر ہی ہے .. اور یہ بھی کہ مسجدوں کی ویرانی کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں ؟؟

  5. السلام علیکم
    میری عمر کا کم و بیش آدھا حصہ ( یعنی پندرہ سال ) دو عرب ممالک ( کویت ، سعودی عرب اور کچھ عرصہ محتحدہ عرب آمارات مین بھی ) میں گزرا ہے میں نے بھی ایسی لاتعداد مساجد دیکھی ہیں جو طویل عرصے سے غیر آباد ہیں ، اگر آپ سعودی عرب میں سفر کریں تو آپ کو ایک آبادی سے دوسری آبدی تک پہنچنے کے لیے طویل صحراؤں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے یا کم از کم ہم اُنہیں ویرانوں سے تو ضرور تشبیہہ دے سکتے ہیں ، کم و بیش تما م عرب ہی ( چاہے اخلاقی طور پر کتنا بھی برے ہوں ) نماز کی پابندی ضرور کرتے ہیں اِس لیے دوران سفر جہاں نماز کا وقت ہوتا وہ لوگ نماز پڑھ لیتے پھر حکومت نے شہروں کو ملانے والی سڑکوں اور دیہاتوں کے درمیانی ویرانوں میں ہر ایک کلو میٹر یا اِس ست بھی کم فاصلے پر چھوٹی چھوٹی مساجد بنا دی ہیں جن میں سے اکثر غیر آباد ہی رہتی ہیں کہ یہ آبادی سے دور ہوتی ہیں صرف مسافر حضرات ہی اِن میں نماز ادا کرتے ہیں ، کویت حالانکہ ایک بہت ہی چھوٹا سا ملک ہیں مگر پھر بھی میں نے یہاں بھی کئی ایک ایسی مساجد دیکھی ہیں جو عام طور پر غیر آباد رہتی ہیں ۔
    کچھ سال ایک بار میرا ( کسی کام کے سلسلے میں ) سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں میں جانا ہوا ، میں دو دن وہاں پر رہا مگر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ گاؤں کی اکلوتی مسجد نہ صرف ویران تھی بلکہ اُس میں گاؤں کے کچھ لوگوں کے جانور بھی بندھے ہوئے تھے ، جبکہ گاؤں کی اکثریت کوئی کام بھی نہین کرتی تھی ، ہر گھر سے کچھ لوگ بیرونِ ملک تھے اور باقی بچ رہے کھیتی باڑی کرتے تھے ، صبح سویرے کھیتوں کو پانی دیکر آنے کے بعد سارا دن ڈیرے ( کھیتوں یا گاؤں سے باہر بیٹنھے اور مویشیوں کو باندھنے کی جگہ ) پر یا گھروں کے باہر اور درختوں کے نیچے چوپالیں سجائے چھوتے بڑے سب ہی حقے پینے اور تاش کھیلنے میں وقت ضایع کرتے رہتے تھے ۔
    آصف احمد بھٹی

  6. نگہت آپی
    آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ھمارے پہلے کالم (جو کہ واقعی ھمارا پہلا کالم ہے اس سے پہلے ھم نے کالم کبھی نہی لکھا اس کا سارا کریڈٹ بھائی قمر اور آپ کو جاتا ہے قمر بھائی نے عالمی اخبار سے روشناسی کروائی اور آپ نے ھماری رھنمائی فرماتے ہوئے ھمارے قلم کو تازگی بخشی سو ھم لکھنے کے قابل ہوئے) کو اس مقام پر پنہچا دیا کہ ھم سوچ بھی نہی سکتے۔ یہ ایک دوست نے بیان کیا تھا ھم نے اسکی نوک پلک سنوار کر تمام احباب کی خدمت میں پیش کردیا
    منظور قاضی بھائی اور شمس جیلانی بھائی اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ھمیں اپنی ان کوتاہیوں کا علم ہو سکے جن کو ھم خاطر میں نہیں لاتے یا جن کو ھم اہمیت نہیں دیتے سب سے اھم بات ھمیں یہی محسوس ہوئی کہ ھم اپنے والدین کے لیے کیا کر رہے ہیں جب تک وہ حیات ہیں تو ھم ان کی پرواہ نہی کرتے اور اگر وہ اس دارِ فانی سے گزر گئے ہیں تو ھم ان کی مغفرت کے لیئے کیا کرتے ہیں
    مجھے اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ عالمی اخبار کے سبھی مبصریں اور قاری صاحبان نے اس تحریر کو سراہا ۔
    خدا ھم سب کی نیک توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔ آمین

  7. محترم جعفر صاحب،
    آپ کا کالم پڑھتے وقت کئی بار میری آنکھوں میں بھی آنسو آئے مگر وہ آنسو مساجد کی ویرانی پر نہیں بلکہ دلوں کی ویرانی پہ آئے ۔ مجھے ویران مساجد دیکھنے کا اتفاق تو نہیں ہوا جبکہ مسلمانوں سے بھری مساجد دیکھتا ہوں ، بلکہ ویران چرچز کو مساجد میں تبدیل ہوتا ہوا بھی دیکھتا ہوں لیکن پھر بھی حیران ہوتا ہوں کہ ان کی بنیاد مسالک ، فرقوں اور ، عقیدوں پہ رکھی جارہی ہے ۔ مساجد بھری ہوئی دیکھتا ہوں تو بھی حیران ہوتا ہوں کہ جب اللہ کے گھر بھرے ہوئے ہیں تو اللہ کے مسکن یعنی دل کیوں ویران ہیں ۔ جو کچھ ہم مساجد میں پڑھ کے نکلتے ہیں اس پہ عمل سے عاری کیوں ہیں ؟

  8. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی وضاحت کا شکریہ : آئیندہ اس سلسلہ میں احتیاط برتی جائے اور بلاگ کی تمہید ہی میں یہ بات لکھدی جائے کہ بلاگ کی محرک کسی اور فرد کی تحریر ہے تو غلط فہمیوں کا سوال پیدا نہیں ہوگا ۔

    میں جعفر حسین صاحب کو انکے پہلے کالم پر مبارکبا د پیش کرتا ہوں ۔
    اللہ کرے کہ وہ اسی طرح آزادی کے ساتھ اپنے کالم لکھتے رہیں اور ہر نیا کالم اپنے سابقہ کالم سے بہتر سے بہتر بنا تے رہیں ۔

  9. منظور قاضی بھائی !

    مبارکباد کا بہت شکریہ ، انشأاللہ آپ صاحبان کی دعاؤں کی بدولت ھم بہتر لکھ سکیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *