پوپ بینیڈکٹ نے قانونِ ناموسِ رسالت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی دوسرے مزاہب کے کسی پیشوا کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ لیکن مغرب نے رسولِ کریم کی توہین کرنے میں کوئ کثر باقی نہیں چھوڑی۔ سوئیڈن نے جب Sex Life of Christ بنانے کا بیڑا اُٹھایا تو اُسے سعودی عرب نے رکوایا۔ جب مسلمانوں نے کبھی دوسرے مزاہب کے کسی پیشوا کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تو وہ اپنے نبی کی توہین کیسے کرسکتے ہیں نہ اسے برداشت کرسکتے ہیں۔ قانونِ ناموسِ رسالت برصغیر میں انگریزوں کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔

ساکنِ خلدِ بریں اور تہہِ افلاکِ زبوں
ہمکو ہونا تھا کہاں اور کہاں ہیں ہملوگ
شاعر؟
اگر پاکستان میں کسی مائ کے لال کی مجال ہے تو زرا بول کے تو دیکھے ،ختم کرنا بہت ہی دور کی بات ہے ،،ابھی تو ملعو ن سلمان کا حشر ہی دیگر ملعو نوں کے دہلانے کے لئے کافی ہے جس کی میّت کا دیدار بھی نہیں کروایا گیا (اللہ معا ف کرے )
ظفر بھائی مولا علی کی ارشاد مبارک ہے کہ بولو بولنے سے آدمی کھلتا ہے ” یہی نفسیاتی تجزئے کی بنیاد ہے اور یہی میرا پروفیشن ہے لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے صرف انہیں سننا تاکہ پتہ لگے کہ وہ کس مرض میں مبتلا ہے اور اس کا علاج کیسے ممکن ہو گا …دیکھئے کون کیا کیا بول رہا ہے .. آج ناموس رسالت کے قانون سے سب کے ایمان دشمنیاں کھل رہی ہیں .. دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق ہو رہا ہے .. حکومت کی نا اہلیاں اور منفاقتیں سامنے آ رہی ہیں .. ہمارے ایمانوں کا حساب لیا جا رہا ہے .. ظفر بھائی یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس میں ایک غیو مسلمان کرہ ارض پر تنہا کھڑا نظر آتا ہے .. اور اس لئے کہ اس نے مہذب دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے لئے اپنا مذہبی وقار اور تشخص کھو دیا ہے … ہم نے سمجھا کہ اگر ہم بحثیت مسلمان اس ریس میں دوڑیں گے توہار جائیں گے .. بس یہی غلطی ہوئی ہے .. اور ہم اوروں کی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں ..
جنہوں نے اس ریس میں حصہ نہیں لیا وہ چیخ رہے ہیں کہ ہم مسلمان تھے الحمداللہ اور مسلمان ہیں اور مسلمان ہی مرنا چاہتے ہیں .. ایسے غیور مسلمانوں کی تعداد ، لاتعداد ہے .. یہ وہ بات ہے جومغرب بھی جانتا ہے اور باقی سب بھی .. اس لئے وہ مردہ حکمرانوں اور مردار ملاؤں کے سامنے ایسی ہڈیاں ڈالا ہی کرتے ہیں ..
ایک منٹ کو فرض کر لیتے ہیں کہ پوپ اور دنیا کے زیر اثر پاکستان سے یہ قانون ہی ختم ہو جاتا ہے … تو کیا اس سے ناموس رسالت پر مرنے والے ختم ہو جائیں گے .. کیا ہم اپنے مذہبی عقائد یا ان پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے .. نہیں جو جو گستاخ رسول جہاں جہاں ملے گا اس کو موت اسی کرہ ارض پر آتی رہے گی .. کیونکہ یہ فیصلہ زمینی نہیں ہے .. آسمانی ہے .. پوپ کے اندر کا گند سامنے آگیا ہے .. عیسائیوں کی کشادہ دلی کا بھید بھی تو کھلنا ہی تھا …
دوسری بات یہ ہے کہ یہ قانون پاکستان کے علاوہ بھی اور کئی مسلمان ملکوں میں ہے .. پاکستان اسے ختم کرکے یا ترمیم کر کے سوائے بربادی کے کیا حاصل کرے گا ..کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا …
ہمارے حکمرانوں اور مذہبی پیشواؤں پر اس وقت بھاری زمہ داری ہے کہ اسلامی وقار اور تشخص کے لئے پوپ کو منہ توڑ جواب دیں اور اس کو اپنی اوقات میں رہنے کی تنبیہ کریں .. لیکن یہود و نصاری نے ہمیشہ کی طرح آج بھی مسلمان حکمرانوں کو دنیا کی آسائیشوں کے بدلے خرید کر ان سے آخرت اور جزا و سزا کے دن کو ان کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا ہے ..
ظفر بھائی یہ تو پوپ کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے لب کشائی کی ورنہ اگر وہ اپنے کم ترین نوکر سے بھی کہہ دیتے تو پاکستان کے لئے اتنی ہی سر آنکھوں پہ ہوتی — یعنی ان کی بات مان لی جاتی .. اور مان لی جائے گی ..
پر یہ جنگ بھی نہتے عوام تنہا ہی لڑیں گے ظفر بھائی .. آپ دیکھئے گا .. بھوکی ننگی ترسی اور پسی ہوئی عوام جن کے پاس صرف ایمان ہے وہ یہ جنگ بھی لڑیں گے .. اور ہم اپنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے یہی لکھتے رہ جائیں گے عوام مہذب نہیں ہے ان کو اگر شکایت تھی تو قانون کا دروازہ بجاتی —-
قانون کا دروازہ بند ہے ظفر بھائی .. بجلی نہیں .. پانی نہیں ہے .. کھانا نہیں ہے …تعلیم نہیں ہے اور حکمرانوں کے پیٹ بھرے ہیں ..وہ بے شرمی اور بے حیائی کے ڈکار لے رہے ہیں .. ان کے نزدیک ترقی صرف موبائل فون رکھنے میں ہے … قانون سو رہا ہے .. مذہب چوراہے پر تعویذوں کی شکل میں پھیل رہا ہے … یہ ہے ہمارا دیس .. یہ ہے میرا اور آپ کا پاکستان .. .
پوپ بینیڈکٹ کےناموس رسالت قانون ختم کرنے کے بیان پر مصر نے ویٹیکن سٹی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔
مسیحی برادری کے روحانی پیشواء پوپ بینیڈکٹ نے حال ہی میں پاکستانی حکومت سے ناموس رسالت قانون ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، جس پر تمام مسلم ممالک کا رد عمل سامنے آیا اور مصر نے احتجاج کے طور پر ویٹیکن سٹی سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔
( اے آر وائی )
ظفر بھائی دیکھا غیور قوموں کے فیصلے .. اور ان کا احتجاج .. کاش یہ کام پاکستان نے کیا ہوتا .. اسی بات کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ یہ قانون پاکستان کے علاوہ بھی اور کئی مسلمان ملکوں میں ہے .. پاکستان اسے ختم کرکے یا ترمیم کر کے سوائے بربادی کے کیا حاصل کرے گا … اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے سر پر کب جوں رینگتی ہے ..
دیکھئے اللہ کے رنگ اس نے کہا ہے کہ دین اسلام تاقیامت رہنے کے لئے آیا ہے .. اسے کون اور بھلا کیسے مٹایا جا سکتا ہے .. ایک پاکستان تو کیا وہ ایسے کئی پاکستان بنا سکتا ہے جہاں صرف اس کے حکم کا بول بالا ہو گا .. ہم نہ ہوئے تو کوےئ اور لے آئے گا جو اس کے نام اور اس کے رسول پر جانیں قربان کر دیں گے .. پاکستان نہ ہوا تو کوئی اور ملک ..
زرا غور تو کریں اللہ کریم نے آخر کیوں برسوں بعد دنیا بھر میں اس قانون ناموس رسالت کی تشہیر کی ہے اور اس انداز میں کروائی ہے .. یقین جانئے اس میں بھی ہم مسلمانوں کا ہی فائدہ ہے .. اس نازک موقع پر جب سب غیر مسلم ہماری دھاک میں ہیں انہیں غیور مسلمانوں کی طاقت ایمانی ہی باور کرائی ہے.. کوئی سمجھے تو رب کے اشارے ..
اس سے پہلے کے عوام کی طرف سے احتحاج میں درجنوں بے گناہ مسلمان مارے جاتےخدا کاشکر ہے کسی مسلمان ملک نے احتجاج کیا۔ مصر لائقِ تحسین ہے۔
صد ہزار شکر ہے اپنے عظیم پروردگار کا کہ ایک اسلامی ملک نے سامراجی قوّتوں کو فوراَ جواب دے دیا کہ تمہاری ناپاک جسارت کا یہ بھی جواب دیا جاسکتا ہے ،،اور اس کے اثرات کہاں تک جاسکتے ہیں یہ بھی سوچ لیا جا ئے ،کوئ ناپاک حکم لاگو کر نے کی بات کرتے ہوئے
بالآخر ’ پوپ ‘ کے ’ پاپ ‘ بھی بولنے لگے ، کاش پوپ کو قانونِ توہینِ رسالت کی بجائے عالمی قانون کی دھجیاں اڑتی ہوئی بھی نظر آتیں ۔ کاش صلیبی جنگوں کے پیشواؤں کے عصر حاضر کے تہذیبوں کی جنگ کے پیروکاروں کو لبنان ، فلسطین ، بوسنیا ، عراق اور افغانستان میں خونِ مسلم کی ہولی بھی نظر آتی ۔ قانونِ توہینِ رسالت تو کہیں سالوں بعد کسی ایک آدھ شاتم کو مکمل عدالتی کاروائی کے بعد سزا سناتا ہے لیکن یہاں تو بےگناہ مسلمان عورتوں ،مردوں ، بچوں اور بوڑھوں کی اجتماعی قتل و غارت سے قبرستان بھی پناہ مانگ رہے ہیں لیکن نہ تو ان وحشیوں کو کوئی ترس آیا اور نہ ہی مسیحائی کے نام لیواؤں کے کبھی لب کھلے ۔
حکومت پاکستان کو واضح الفاظ میں پوپ کو پیغام بھیجنا چاہیئے کہ یہ قانون نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالمِ اسلام کی دلی پکار ہے جسے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو اس میں تمام مسالک اور مکاتب فکر کی تجاویز کی روشنی میں متفقہ ترامیم ، اگر کوئی ہوں تو ، اور اس کی واضح تشریح کرنی چاہیئے تاکہ مختلف مسالک کی آپس کی فرقہ واریت میں اس کے غلط استعمال کے کم سے کم امکانات باقی رہیں ۔
السلام علیکم
احباب اکرام ، قرآن کریم تو ہم سے یہ کہتا ہے کہ ’’ یہود و نصارا ہمارے دوست ( کبھی ہم سے خوش ) نہیں ہو سکتے الا کہ ہم اُن جیسے ہی ہو جائیں ‘‘ یہ ایک روشن دلیل ہے اِس کے بعد ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی ، کوئی بھی غیر مسلم چاہیے وہ کتنا بھی اچھا ہو وہ ہم مسلمانوں سے کسی طور مخلص نہیں ہو سکتا وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ہمیں اور اسلام کو نقصان پہنچائے ، پوپ تو نصرانیوں کا پیشوا ہے اور جب ایک عام نصرانی ہمارے لیے دل میں بغض رکھتا ہے تو پوپ کا کیا کہا جاسکتا ہے اور دیکھا جائے تو ویسے بھی اِس وقت ایسا بیان دینا پوپ کی مجبوری بھی تھی اُسے اپنی اور ویٹی کن کی گرتی ہوئی ساکھ بھی تو آخر بچانی تھی ، ساری دُنیا کے عسائی اور خصوصا یورپی ممالک کلساؤں میں پادریوں کی طرف سے بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے پر شدت سے پوپ کے مستفعی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں شنید ہے کہ خود پوپ کا بڑا بھائی بھی اِس معاملے مین کسی نہ کسی طرح ملوث ہے خیر یہ تو اُن کا ذاتی معاملہ ہے اور پوپ کو اِس دباؤ سے نکلنے کا اِس سے بہتر کوئی موقع نہیں ملک سکے گا ، اِس لیے پوپ کو کچھ کہنے سے پہلے ہمیں اپنے گھر میں موجود کالی بھیڑوں کی خبر لینی چاہیے ، وہ کالی بھیڑیں جن میں سے ایک کچھ دن پہلے ہی ممتاز قادری کے ہاتھوں ہلاک ہوا ، اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اعتدال اور رواداری کی کمی ہے اور شدید کمی ہے کم پڑھے لکھے یا بلکل ہی انپڑھ لوگ ہی نہیں اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ بھی بہت کم ہی رواداری کا ثبوت دیتے ہیں ، ہم لوگ کسی بھی بات یا مسئلے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہین کرتے اور فورا ہی کسی نہ کسی کو اُس کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں ، یا تو لٹھ لیکر کٹھ ملاؤں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں یا ہر بات کی ذمہ دار امریکہ و مغرب کو ٹھہرا کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں ، بیچ کا راستہ ہمیں نظر ہی نہیں آتا ، اپنی ذمہ دار نظر ہی نہیں آتی اور ہر بات دوسرے پر ڈال دیتے ہیں ۔ ( شاید میں اصل موضوع سے ہٹ رہا ہوں )
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
ذہنی رو بہک جانے کے خوف کے سبب میں نے اپنا پچھلا پیغام اچانک ہی ختم کر دیا تھا ، اگر بات پوپ کی کی جائے تو شاید ہی آج دُنیا میں کوئی اتنی اخلاقی جرات کر سکے اور پوپ سے پوچھے کہ ’’ آپ وہی ہیں نا کہ جس نے جاپانی شہروں پر موت برسائی تھی ، لاکھوں لوگوں کو کو موت کی گھاٹ اُتارا تھا اور پھر ائیر فورس چھوڑ کر کلیسا سے جڑ گئے ، آج اگر خدا نے عیسائیوں کا مذہبی پیشوا بنا دیا ہے تو اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم جاپان سے ہی معافی مانگ لیں ، مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پھر کسی اور وقت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرے اور اس قانون کے تحت سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ کو رہا کرے۔ پوب نے یہ بات ویٹی کن سٹی میں 170 ممالک کے سفارتکاروں سے سالانہ خطاب کرتے ہوئے کہی اور مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک عیسائی اقلیتوں کو حملوں سے تحفظ فراہم کریں،انکے بقول گورنر پنجاب کے قتل کے بعد اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے یہ دشنام طرازی بھی کی کہ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ناانصافی اور تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے، اس لئے حکومت پاکستان اس قانون کو ختم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔ انہوں نے مصر، عراق اور نائیجیریا میں عیسائیوں پر ہونیوالے حالیہ حملوں کی بنیاد پر مطالبہ کیا کہ ان ممالک کی حکومتیں عیسائی برادری کو تحفظ کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب دینی و سیاسی جماعتوں اور قائدین نے ناموس رسالت کا قانون ختم کرنے سے متعلق پوپ بینڈکٹ کے مطالبے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اندرونی اور مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت، تہذیبوں کے درمیان تصادم کی کھلی دعوت اور دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے تباہ کن ایجنڈہ کا حصہ قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پوپ کے اس بیان پر سرکاری سطح پر احتجاج کرے،دینی و سیاسی قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت کا قانون ختم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائیگی۔
ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے اور اس قانون کی زد میں آنیوالی ملعونہ آسیہ کی رہائی کیلئے پوپ نے جس ہذیانی کیفیت میں بیان دیا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ انکے منصب کے شایان شان نہیں بلکہ یہ بیان کی کسی مذہب کے ایک روحانی پیشوا کے بجائے کسی متعصب، کٹ حجتی اسلام دشمن کا نظر آتا ہے،جس کے ذریعہ محسنِ انسانیت اور رحمت اللعالمین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دینِ برحق اور انکی ذاتِ مبارکہ کے بارے میں مغلظات بکنے کی کھلی چھوٹ کی ترغیب دی گئی ہے اور مذہبی رواداری کے بجائے اشتعال انگیز جنونیت کا راستہ دکھایا گیا ہے جو لازماً تہذیبوں کے ٹکرائو پر منتج ہو سکتا ہے۔
پوپ بینڈکٹ اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر آفاقی دین اسلام کے حوالے سے متنازعہ بیانات دے چکے ہیں اور مادر پدر آزاد مغربی میڈیا پر دیئے جانیوالے حضرت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذموم حرکات کی بھی آزادیٔ اظہار رائے کے جواز کے تحت تائید کر چکے ہیں جبکہ ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے،دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذموم حرکت پر سویڈش اخبار کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس نے بعدازاں ضمیر کی خلش کے تابع اپنی اس قبیح حرکت پر مسلم امہ سے معافی بھی مانگی مگر پوپ بینڈکٹ جو پادریوں کے ننوں کیساتھ جنسی تعلقات اور گرجا گھروں میں نوجوان لڑکوں کیساتھ ان کے قبیح فعل کی حمایت کرکے بھی خاصے متنازعہ ہو چکے ہیں،شانِ رسالت مآب کی گستاخی کو آزادی ٔ اظہار کے کور میں لاتے لاتے اب ناموس رسالت کے قانون کو بھی ناانصافی پر مبنی قرار دیکر اسکے خاتمہ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کسی متعصب اسلام دشمن کا مؤقف ہی ہو سکتا ہے۔
دین اسلام کے بارے میں پوپ بینڈکٹ اور اس قبیل کے دوسرے آزادی ٔ اظہار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے نام نہاد علمبرداروں کا تعصب اپنی جگہ مگر کوئی مسلمان اپنے عقیدے اور ایمان کی بنیاد پر کسی بھی نبی اور پیغمبر کی شان میں گستاخی کا تصور تک نہیں کر سکتا،تمام مذاہب اور بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام انکے پیغمبروں کا احترام مسلمان اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر کرتے ہیں جبکہ ناموس رسالت کا قانون صرف حضرت نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و عزت کے تحفظ کا متقاضی نہیں بلکہ تمام انبیاء کرام کی عزت کا تحفظ اس قانون کے زمرے میں آتا ہے،اس لئے یہ قانون تو مسیحیوں کے بھی فائدے میں ہے،جبکہ اس قانون کی وجہ سے ہی گستاخانِ رسول قانون و انصاف کی عملداری کے دائرے میں آکر اپنے خلاف کسی عاشقِ رسول کے غازی علم الدین شہید والے کردار سے بچے ہیں،اس تناظر میں تو ناموس رسالت کے قانون کے برقرار رہنے کے بارے میں کوئی دو رائے ہونی ہی نہیں چاہیے جبکہ پوپ بینڈکٹ نے توہین مسیحیت کے قانون کے خاتمہ کا کبھی تقاضہ نہیں کیا حالانکہ اس قانون کے تحت صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر ہی سزائے موت نہیں دی جاتی،بلکہ پادری کی توہین بھی اسی قانون کے تحت اتنی ہی مستوجب سزا ہے۔
پوپ کو بخوبی علم ہو گا کہ ملعون سلمان رشدی کیخلاف برطانیہ میں مسلمانوں کے مظاہروں کے دوران برطانوی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ توہین مسیحیت کے قانون میں ترمیم کرکے دیگر انبیاء کی توہین پر بھی اس قانون کے اطلاق کی گنجائش نکالے مگر یہ مطالبہ اس جواز کے تحت مسترد کر دیا گیا کہ توہینِ مسیحیت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم ممکن نہیں ہے۔یہ قانون صرف برطانیہ و آئیرلینڈ میں ہی نہیں، سارے یورپ میں لاگو ہے۔
اس تناظر میں ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم یا اسکے یکسر خاتمہ کے مطالبہ میں مسلمانوں اور دین اسلام سے نفرت اور تعصب کے سوا کسی دوسرے جذبے کا عمل دخل نظر نہیں آتا،اس لئے ایسا عاجلانہ تقاضہ کرکے مسلم امہ کے مذہبی جذبات مجروح و مشتعل کرنے کی راہ ہموار کی جائیگی تو یہ صورتحال عالمی امن کی تباہی پر ہی منتج ہو گی کیونکہ کوئی بھی کلمہ گو مسلمان اپنے پیارے نبی محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا اور اپنے ایمان کی تکمیل کیلئے حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔
جہاں تک گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کا معاملہ ہے تو یہ معاملہ اب قانون و انصاف کی عدالت میں جا چکا ہے،اس کیس کا ملزم جیل میں ہے اور اس کیخلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے،اس لئے مقدمہ کی کارروائی کے دوران اس کیس کے بارے میں کسی قسم کی رائے یا مؤقف کا اظہار اور اسکی آڑ میں ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کے زمرے میں آئیگا،اس لئے پوپ بینڈکٹ ہو یا کوئی اور اسے قانون و انصاف کی عملداری میں کسی قسم کی مداخلت کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ ناموس رسالت کے قانون کیخلاف پوپ کا بیان کسی مخصوص ایجنڈے کے تابع نظر آتا ہے جو پوپ کے منصب کے تقدس میں کسی پاپ کی آمیزش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محسنِ انسانیت پر نازل ہونیوالی آخری الہامی کتابِ حکمت قرآن مجید کی سورۃ الکافرون میں اس ارشاد باری تعالیٰ کے تحت کفر اور دین برحق میں امتیاز پیدا کر دیا گیا ہے کہ ’’تمہارا دین تمہارے لئے اور ہمارا دین ہمارے لئے‘‘۔ خالقِ کائنات نے اس دین ِبرحق سے کائناتِ ارض و سما کو منور رکھنے کیلئے رحمت اللعالمین کا انتخاب کیا اور ملائیکہکے علاوہ ہر جن و انس اور چرند پرند پر بھی حضور کی تحدیث و تعظیم کو لازم فرمایا ہے تو رسالت مآب کی شان میں ہلکی سی گستاخی بھی بھلا کیسے برداشت ہو سکتی ہے۔
جب ناموس رسالت کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے تو تقاضائے ایمان نبھانے سے کون ہچکچائے گا؟ ناموس رسالت کا قانون نہیں ہو گا تو ہر عاشقِ رسول خود قانون اور خود انصاف بن جائیگا…
چونکہ پوپ بینڈکٹ نے گورنر پنجاب کے وقوعۂ قتل کے حوالے سے ناموس رسالت کے قانون کے خاتمہ اور ساتھ ہی آسیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اس لئے حکومت پاکستان کو خود اعلیٰ سطح پر پوپ کے اس بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور انہیں اپنے ملک کے قانون و انصاف کی عملداری کے پراسس سے آگاہ کرنا چاہیے۔ انہیں یہ باور کرانے کی بھی ضرورت ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے پوری قوم اپنے جذبۂ ایمانی کے تحت متحد و پرعزم ہے اور سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام کراچی کی تحفظ ناموس رسالت کی ریلی ملحدوں کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہونی چاہیے۔ پوپ ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے اپنے مؤقف سے رجوع کرلیں ورنہ اسلامیانِ پاکستان ہی نہیں،پوری مسلم امہ یکجہت و یکجان ہے اور ناموس رسالت پہ قربان ہونے کو تیار ہے۔ یہ کسی قانون کا نہیں،عقیدے اور ایمان کا تقاضہ ہے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ جب علم الدین شہید نے ایک شاتم رسول کو جہنم رسید کیا تھا،اس وقت کونسا قانون رسالت موجود تھا. . . .!
آصف احمد بھٹی صاحب
’’ یہود و نصارا ہمارے دوست ( کبھی ہم سے خوش ) نہیں ہو سکتے الا کہ ہم اُن جیسے ہی ہو جائیں ‘‘
اس آیت کے متعدد interpretations ہیں۔ ایک اسکول کا وہی interpretation ہے جو آپکا interpretation ہے۔ لیکن دوسرے اسکول جس سے غامدی صاحب جیسے علماء کا تعلق ہے وہ قرآن کا interpretation آیت کے سیاق و سباق سے کرتے ہیں ۔ انکے مطابق اگر اُس وقت کے یہود و نصارا برے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دور کے یا آج کے یہود و نصارا ۔بھی برے ہیں۔۔۔
بلاول بھٹّو کا لندن میں سلمان تاثیر کا بیان یو ٹیو ب پر دیکھا جائے
تصحیح ،سلمان تاثیر کے بارے میں بیان ،پڑھا جائے،ان کا بیان مختصر کر کے پاکستانی اخبارات میں اور روزنامہ انقلاب ا نڈ یا کی بھی کل ہی زینت بنا ہے یو ٹیو ب پر تفصیل میں ہے
پوپ کے پاپ تو اور سامنے آئیں گے ، یہ پوپ وہ ہی ہیں جنہوں نے اپنے گرجوں کے اندر ہونے والے جنسی معملات پر چپ سادھ لی تھی کیونکہ انکا اپنا چرچ بھی اسی کا شکار تھا
اپنی آنکھ کے شہتیر کو بھول کر یہ ھماری آنکھوں کے بال کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں
آج اسی لئے عیسائی دنیا میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے جس کا اظہار وہاں کے “بڑے” بھی کرنے لگے ہیں
سامراج اس وقت، وطنِ عزیز کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے
ہماری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر ہمیں اشتعال دینے کی تمام تدابیر بروئے کار لا رہا ہے
ہمارے حکمران تو عین وقت پر مغربی ممالک کو بھاگ جائیں گے، لیکن شامت عوام ہی کی آئے گی
پھر فرداً فردا نام نہیں گنوائے جائیں گے کہ سلمان تاثیر نے کیا بکواس کی اور پوپ نے کیا بکا
پھر ان بکواسیات پر اپنے ردِ عمل کے نتائج ہی بھگتنے باقی رہ جائیں گے
افغانستان اور عراق کے بعد اب ہماری باری ہے
یہ افغان اور عراقی خود کو دنیا کی بہادر اور غیورترین قوم تصوّر کرتے تھے، سب دھرے کا دھرا رہ گیا
وہ زخم چاٹنے کو رہ گئے جو، اب کبھی نہ بھریں گے
اسلام و علیکم
یہ بلاگ پڑھ کر رہا نہ گیا ۔ پوپ بینیڈکٹ ہو یا کوئی بھی ہو کسی کی ہمت نہیں ہونی چایے ہمارے آقا و مولا (ص ) کے خلاف ایک حرف بھی کہنے کی ۔ یا ان سے متعلق کسی بھی قانون پر تنقید کرنے کی ۔ جب مُسلمان ہر مذیب کی عزت کرتے ہیں اور ہر نبی اور رسول کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں تو باقی تمام اقوام میں بھی اتنی غیرت ضرور ہونی چاہیے ۔ مگر افسوس ،
ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو جانتے نہیں وفا کیا ہے ۔
کسی پوپ بینیڈکٹ کو اگر فکر کرنی ہی ہے تو اپنے گھر کی کرے ہمارے نبی (ص ) کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف تو ان کے منہ سے دو الفاظ بھی نہ نکلے تو اب یہ کس منہ سے ہمارے ایسے قانون کے بارے میں لب کھول رہے ہیں جس پر ہر فرقہ متحد ہے ۔ یہ لوگ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ اور ڈوب مریں ۔ اگر ان کو ہمارا یہ قانون نہیں پسند یا ہمارے مذہبی عقدے سے تکلیف ہے تو ہم بھی عالمی میدان میں ان کے مذہبی عقدے سے بیزاری کا علان کرتے ہیں ۔ ہم کو ہمارا قانون مبارک ان کو اُن کا ۔
ہماری حکومت کو صاف طور سے ایسے تمام لوگوں کے سامنے اس بات کا کھولے عام خلاصہ کر دینا چاہے کے پاکستان میں کبھی اور کسی بھی حال میں اس قانون کو ختم کرنا تو دور کی بات اس میں کسی قسم کی کویی ترمیم بھی نہیں کی جائے گی کیونکہ آپ (ص) کی محبت ہی ہمارے دین کی ہمارے ملک کی اصل اساس ہے ۔ کیونکہ ہمارے اسلام میں کیا ضروری تھا اور کیا نہیں خدا ِ کریم اور اس کے حبیب (ص) نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی بیان فرما دیا اور اب قیامت کے دن تک اس میں کویہ ترمیم ممکن نہیں ۔
ہم نے ہر اس طاقت سے بیزاری کا علان ہمیشہ کیا جس نے خدا اور خدا کے کسی بھی رسول کے خلاف غلط بکواس کی اور ہم ایسا کرتے رہیں گے ۔ دُنیا اگر ہم سے نہ خوش ہے تو ہم بھی ایسی دُنیا پر لعنت ڈالتے ہیں جو اللہ اور اللہ کے کسی نبی یا رسول کے بارے میں کُچھ کہے ۔ ہم بُرے ہیں کیونکہ ہم برے کو بُرا کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں خدا ہم سب کی اس سے اور اس کے بندوں سے محبت میں روز بہ روز اضافہ فرمائے الہی آمین ۔
یا رب یہ جہانِ گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان ِ صفا کیش و ہنر مند
اپنے بھی خفا مُجھ سے ہیں ، بیگانے بھی نہ خوش
میں زھر ِ ہلاہل کو ، کبھی کہہ نہ سکا قند
ثمرین بخاری
الحاج ملک الشہباز (عرف مالکم ایکس) مرحوم شہید نے کہا تھا کہ :
” گورے کا قانون یہ ہے کہ اگر کوئی کتا تم پر حملہ کرے، تمہاری ٹانگ کو بھنبھوڑے، کاٹے اور
آپ اس کو ٹھوکر سے پرے کرنے کی کوشش کریں تو آپ پر جانوروں کے حقوق کی پامالی کا الزام لگ جائے گا”
یہ ہے وہ بنیادی کلیہ جس کو بیان کرنے کی حقیر نے کوشش کی ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم کتے کو کاٹنے دیں اور اسے کچھ نہ کہیں، بلکہ اپنی دوسری ٹانگ بھی اس کے سامنے کر دیں، نہیں، اس کلیہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ :
“دریا میں رہ کر مگر مچھوں سے بیر نہیں باندھنا چاہیے”
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مگر مچھ ہمارا دوست بن گیا، یا ہم اس کے دوست بن جائیں بلکہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے ایسے اقدام سے ہمارا اور ہماری نسلوں کا فائدہ ہے یا نقصان ؟
جذبات بہت اچھی چیز ہیں لیکن یہ انہیں عقل کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ یہ عقل پر حاوی ہو جائیں۔
اس وقت دنیا کے حالات کو سامنے رکھیں اور ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو پوری دنیا مسلمانوں کو ختم کردینے پر تیار نظر آتی ہے، ان کا پروپگنڈا ایسا ہے کہ وہ ہمارے کشتوں کے پشتے لگا دیں تو درست ہے اور ہم خدانہ خواستہ اگر چھینک بھی دیں تو اسے ظلم کہا جائے گا، بنا دیا جائے گا۔
ایسے حالات میں میری ناقص رائے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی کی تقلید ضروری ہے، آپ کے اس زمانے کی سنت پر عمل واجب ہے جب مسلمان باطل کا سامنا کرنے کے لیے ابھی تیار نہ تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدنی زندگی پر عمل پیرا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے خود میں وہ اوصاف پیدا کر لیں، خود کو باطل سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر لیں، وغیرہ۔ آج نہ تو ہم میں وہ ایمان ہے، نہ وہ جذبہء ایمانی، اور نہ ہی وہ مستحکم حکومت اور نظام، ہم آج پوری دنیا سے کیسے ٹکر لے سکتے ہیں؟
ہم پر سب سے پہلے ایک اسلامی نظام پر مبنی ایک مضبوط حکومت کے قیام کے لیے تگ و دو واجب ہے، اپنے گھر کو کالی بھیڑوں اور اپنی آستینوں کو سانپوں سے پاک کرنا ہمارا فرضِ اولین ہے، پھر پوری قوم کی تربیت، اس کے بعد حکومتی نظامات کو چلانے کے لیے ایسے اشخاص کا انتخاب جو دنیاوی لالچوں سے دور ہوں، جن کے سامنے اللہ اور اللہ کے رسول کے دیے ہوئے قانون ہی ہر فیصلے کی اساس ہوں، وغیرہ۔ ان مراحل کے بعد ایک مضبوط بنیاد کے بن جانے کے بعد اس پر عمارت کی تعمیر کے مراحل آئیں گے، اس کے بہت بعد ہم کہیں اس قابل ہوں گے کہ جب کبھی دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کوئی بھی رسالت مآب (ص) کی شان میں گستاخی کی جسارت کرے تو ہم عدل و انصاف کی بنیادوں پر اس کو اس کے نتائج سے اس طرح آگاہ کر سکیں، کوئی بھی دوسرا کبھی اس قسم کا تصوّر بھی ذہن میں نہ لائے۔
آج اسلامی مملکتِ ایران نے ان اصولوں کو قابل عمل، پائیدار اور موثر ترین، ثابت کر دیا ہے۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے
جعفری صاحب ! تھوڑی سی وضاحت کردیں pleese ،” کہ مغرب نے ….کوئی کسر نہیں چھوڑی”! مغرب میں بہت سارے ممالک آتے ہیں – وہ مسجدیں تعمیر میں فنڈ دینے میں ، مدد بھی کرتے ہیں – اور دوسری بات جو میری نظر میں نہیں گزری کہ یہ کب اور کیا ہوئی تھی ؟l Sex life وف christ ، میں عرب کا رول ؟؟+شکریہ اور سویڈن کا ؟
عابدہ مظفر صاحبہ
ڈنمارک، ہالینڈ پھر انگلستان میں سلمان رشدی یہ سب مغرب ہی ہیں۔ سوئیڈن میں تقریبا پچیس تیس سال قبل حضرت عیسیٰٰ کی Sex Life پر فلم بنی شروع ہوئ تھی جسے سعودی عرب نے رکوایا تھا۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ مغرب میں ہزاروں مسجدیں تعمیر ہورہی ہیں اور ان مساجد کی تعمیر میں مغربی حکومتوں کا سرمایہ بھی شامل ہے۔ امریکہ میں صدر جارج پش نے اپنے دورِ حکومت میں گرجوں، سناگاز اور مساجد کیلئے ڈھائ ارب ڈالرز سالانہ مختص کئے تھے۔ لیکن ان مساجد کی تعمیر کا سہرا مسلمانوں نے اپنے سرِ تو لیا لیکن مغربی حکومتوں کو کوئ کریڈت نہیں دیا۔ مجھے اپنے مذہب کو پریکٹس کرنے کی جو آزادی امریکہ میں ہے وہ پاکستان میں نہیں ہے۔ ۔ مسئلہ ان بلاگز میں بھی عدم برداشت کا ہے۔ اگر مسلمانوں کی الٹی سیدھی تعریف کی جائے، مغرب کی خوب برائ کی جائے، دائیں بازو کی اتہا پسندی سے کام لیا جائے تو خوب داد ملتی ہے۔ اگر مغرب کی بجا تعریف کی جائے، اپنی کمزوریوں کی بجا نشاندھی کی جائے، بائیں بازو یا روشن خیالی کی بات کی جائے تو بلاگ مقتل بنجاتا ہے اور بلاگ نگار یا مبصر کو جاہل اور ان پڑھ کہکر بلاگ ختم کردیا جاتا ہے۔ ہم امریکہ سے بھیک بھی ماگتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں امریکہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں تو معاشرہ آگے بڑھ رہا ہے۔لیکن یہاں لوگوں کے ہیرو اُسامہ بن لادن اور ممتاز قادری ہیں۔