تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

میں سب سے پہلے ان دوستوں سے شرمندہ ہوں جنہوں نے مجھے یاد رکھا مگر میں باقاعدگی سے تبصرہ نہیں کر پا رہا ، کچھ صحت ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ سردی بہت ہے اور اپنی بیماری کی وجہ سے سردی برداشت نہیں کر پا رہا ہوں ، آپ سب کی دعاؤں کا طالب ہوں ، کوشش کرتا رہوں گا کہ باقاعدگی سے محفل میں حاضر ہو سکوں ، ایک تازہ تحریر حاضر ہے جو شاید ان پاکستانیوں کی کیفیت بتاتی ہے جو اپنے وطن میں ہی اجنبی ہو کہ رہ گئے ہیں

تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

دیکھ میں جانتا ہوں کہ حالات اچھے نہیں ، روز روز کی افتاد نے تیرا ذھن مفلوج کر دیا ہے ، تو سوچ نہیں پا رہا ، مہنگائی کا رونا تو ازل کا ہے ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ، مگر یہ تو دنیا ہے ، جس میں ہر رنگ ہے ، تم ایک ہی رنگ کیوں دیکھتے ہو ، کبھی تم کھلے میدان میں جی بھر کہ سانس لو تو سہی ۔ ۔ ۔ ۔۔ کیا کہا ؟ ہوا میں بارود کی بُو ہے ، نہیں تو مجھے تو نہیں لگتی ، یار میں جیسے عادی ہو گیا ہوں ویسے ہی تم بھی عادی ہو جاؤ ، دیکھو تم جتنے حساس بنو گے ، اتنا ہی دکھ سہو گے

خون کا رنگ لال ہوتا ہے ، اب تمہیں لال رنگ سے خوف کیوں آتا ہے ، ذرا سا زخم لگ جائے تم بولائے پھرتے ہو ، دروازہ زور سے بند ہو تو تمہیں دھماکے کا گماں ہوتا ہے ، بس ڈرائیور جلدی میں بریک مارے تو تمہارے اوسان خطا ہو جاتے ہیں ، دوکاندار مہنگائی کا رونا روئے تو تمہیں اس سے ہمدردی ہو جاتی ہے ، یار غریبوں سے ہمدردی اچھی بات ہے مگر تم تو غریب نہیں ہو نا تو پھر شکر ادا کرو اللہ کا اور اپنی زندگی مزے سے گزارو ، دوسروں کے دکھوں کو اپنے اوپر طاری کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

اگر کسی امریکی نے تین چار بندے مار دئیے ہیں لاہور میں تو کیا ہوا ، روز لوگ مرتے ہیں ، اگر کسی نے خود کُشی کی تو کیا ہوا یہ بذدل لوگ کیا کرتے ہیں ، جو حالات سے لڑنا نہیں چاہتے ، امریکہ کی عوام دیکھو کیا وہاں قتل نہیں ہوتے کیا وہاں زیادتیاں نہیں ہوتیں سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ لوگ ہماری طرح کسی حادثے کو نمائش نہیں بناتے ، دُبئی میں روزانہ قتل ہوتے ہیں روزانہ مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے کیا تم نے کبھی دبئی سے کوئی لائیو خبر دیکھی ہے سوائے ناچ گانوں کے پروگرام کے ؟ انہی چینلز نے براہ راست ساری دنیا سے نئے سال کے استقبال کے مناظر دکھائے کیا یہ خوشیاں منانے والے افغانستان اور فلسطین میں روزانہ مرنے والوں کے بارے میں نہیں جانتے ، جانتے ہیں ، مگر یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لوگ بے وقوف ہیں حالات سے کمپرومائز نہیں کرتے ، ہم امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں مگر زندگی امریکیوں جیسی گزارنا چاہتے ہیں ، ہم یورپین کو بے راہ روی پر لعن طعن کرتے ہیں مگر خود اسی راہ پر چلنا فخر سمجھتے ہیں ۔ ۔۔

میں جانتا ہوں تم بہت محب وطن ہو ، اور تمہیں وطن میں ہونے والے ہر برے واقعے کا دُکھ ہوتا ہے ، مگر تم سے کس نے کہا ہے کہ ہر وقت نیوز چینل دیکھو؟ کتنا اچھا زمانہ تھا جب ایک ہی چینل تھا رات کو صرف خبرنامہ ہوتا تھا جس کو صرف بڑے سنتے تھے نہ کوئی بحث تھی نہ مباحثہ ، میں تم سے کہتا ہوں صبح سویرے کے پروگرام دیکھا کرو انٹرٹینمنٹ چینل پر ، جیسے مایا خان کا شو ، جیسے نادیہ کا شو جیسے مانی وغیرہ کا شو ، تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ پاکستان میں کوئی دکھ درد ہے کہ نہیں ، تمہاری صبح کھلکلاتی ہنسی سے ہو گی اور شام گنگناتے لمحوں میں ہو گی ، اب تو اتنا اچھا ہو گیا ہے کہ چینلز کی تفریق ہو چکی ہے ، میں تو کہتا ہوں اپنے ٹی وی کی سیٹنگ سے نیوز چینل ہی ڈیلیٹ کر دو ، صرف انٹرٹینمنٹ چینل رہنے دو ، موویز دیکھو ، شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی دیکھو ، فلمی ستاروں کی جگمگاتی دنیا دیکھو ، اعضاء کی شاعری اور فیشن کی پُرکاری دیکھو ، ہنسنے ہنسانے والے پروگرام دیکھو ، ارے زندگی کے رنگ دیکھو ۔ ۔ ۔

اور ہاں ایک اور طرح کے چینل بھی دیکھ سکتے ہو ، مذہبی چینل ، ہاں سارا دن تمہارا دین کی تعلیم میں گذرے گا ، آنکھیں تبرکات سے منور ہونگی اور کان حسین و جمیل مذہبی شاعری پڑھنے والیوں سے مسحور ہونگے ، تمہیں پتہ چلے گا کہ عبادات کیسے ہوتیں ہیں مشاہیر ہمارے کیا کیا کارنامے کرتے رہے ہیں اور تو اور تم چاہو تو وضو کے مسائیل سے لیکر کھانے کے آداب اور کوے کے حلال و حرام ہونے پر بھی لائیو پروگرام میں عظیم مفتیوں سے براہ راست بات کر سکتے ہو اور دنیا و آخرت کی فلاح پا سکتے ہو ، وہ تمہیں بتائیں گے کہ تم بیٹھے ہوئے لیٹے ہوئے کون کون سی تسبیحات کا ورد کر کہ دنیا میں دولت ، عزت ، اور کمال حاصل کر سکتے ہو ، بیٹھے بٹھائے تم اللہ کی رحمتوں کی بارش میں بھیگ سکو گے

یار پلیز اب تو بدل جاؤ ، یہ لائف اسٹائیل ٹھیک نہیں ہے ، تمہارا جو دل چاہے کرو مگر مجھے اتنا بتا دو کہ دنیا میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تُو مسکراتا نہیں ؟؟؟ بتا نا میرے یار تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

Published by

اظہر الحق

I am Azhar!

10 thoughts on “تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟”

  1. واہ واہ اظہر الحق صاحب واہ واہ : اللہ آپ کو اور آپ کی اہلیہ کو مکمل صحت عطا کرے اور آپ کو اسی طرح کے بلاگ لکھنےکی ہمت اور توانائی عطا کرتا رہے ۔ آمین
    اس قدر کمال کے ساتھ آپ نے تمام پاکستانیوں کی ( جو پاکستان میں رہتے ہیں یا باہر ) سب کے دن رات کی مشغولیات کی منظر کشی کی ہے کہ دل “ مسکرا اٹھا “ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اس وقت صرف اتنا کہنا چاہتاہوں کہ آپ نے “ اعضاء “ کی شاعری تحریر کیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ “اساتذہ “ کی شاعری لکھنا چاہتےتھے۔ (ویسے :“ فیشن کی پرکاری “ کی نمائش میں “اعضاء “ کی شاعری بھی ممکن ہے )
    ۔۔۔۔
    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے

  2. السلام علیکم
    محترم اظہر الحق صاحب ، حساس دل و دماغ کو حساس مکالمہ ہے ، اور نہایت ہی جامعیت سے اپنے مضمون کا اعادہ کرتا ہے، ہماری شعوری بیدار کے لیے ایسی تحریروں کی اشد ضرورت ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. اگر کسی امریکی نے تین چار بندے مار دئیے ہیں لاہور میں تو کیا ہوا ، روز لوگ مرتے ہیں ، اگر کسی نے خود کُشی کی تو کیا ہوا یہ بذدل لوگ کیا کرتے ہیں ، جو حالات سے لڑنا نہیں چاہتے ، امریکہ کی عوام دیکھو کیا وہاں قتل نہیں ہوتے کیا وہاں زیادتیاں نہیں ہوتیں سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ لوگ ہماری طرح کسی حادثے کو نمائش نہیں بناتے ، دُبئی میں روزانہ قتل ہوتے ہیں روزانہ مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے کیا تم نے کبھی دبئی سے کوئی لائیو خبر دیکھی ہے سوائے ناچ گانوں کے پروگرام کے.
    جیو بھائی اظہر الحق.زبردست

  4. تمہارا جو دل چاہے کرو مگر مجھے اتنا بتا دو کہ دنیا میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تُو مسکراتا نہیں ؟؟؟ بتا نا میرے یار تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟

    اظہر یہ وہ تکلیف دہ سوال ہے جو صرف کوئی دردمند دل ہی پوچھ سکتا ہے جیتے رہو بہت کمال لکھا ہے ۔۔ بڑی خوبصورتی سے رویوں کی بدصورتی کا نقشہ کھینچا ہے اور وہ بھی اسیے کی لگتا ہے جیسے نظروں کے سامنے منظر بدل رہے ہوں ۔۔ اللہ تمہیں صحت اور تندرستی دے ۔۔ اللہ تمہاری ہر مشکل کو اپنے حبیب کے صدقے آسان فرمائے ۔۔ بہت ساری دعائیں ۔۔۔

  5. محترم اظہر صاحب ،
    ” دیکھو تم جتنے حساس بنو گے ، اتنا ہی دکھ سہو گے “

    برادر محترم ، بالکل صحیح فرمایا ہے ۔ ” سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ! “ آخر میں ہی رہ گیا ہوں دن رات کڑھنے کو ؟

    میرے محلے کا کونسلر صبح دس بجے سو کر اٹھتا ہے ، بارہ بجے گھر سے نکلتا ہے ، چار بجے واپس لوٹ آتا ہے ، شام کو سیر کے لئے جاتا ہے ، رات دس بجے ٹُن ہو کر لوٹتا ہے اور اگلی صبح عوام کی خدمت کا ارادہ کرکے لمبی تان کر سو جاتا ہے ، ایسے میں مجھے دبلا ہونے کی کیا ضرورت ہے بھلا ؟

    میرے صوبے کا وزیرِ اعلیٰ روزانہ اپنی بلٹ پروف جیکٹ پہن کر بلٹ پروف گاڑی میں پولیس اور سیکورٹی کے حصار میں شہر کے بیچوں بیچ گذر کر صفائی، مہنگائی ، امن و امان اور عوام کی فلاح کی خبر لیتا ہے پھر بھی میں اس کے خلاف پراپیگنڈے میں فضول وقت ضائع کرتا رہتا ہوں ۔

    میرے وطن کا وزیرِ اعظم ہر روز نئے سوٹ ، نئے بوٹ اور نئی ٹائی پہنے بن ٹھن کر کھلی کچہری لگاتا ہے ۔ اپنے سٹاف کے ہاتھوں میں پہلے سے تھمائی شکایات سنتا ہے ، موقع پہ احکامات جاری کرتا ہے ، نااہل افسران کو کھڑے کھڑے نکال باہر کرتا ہے ، اپنے وزاراء سے
    پل بھر میں استعفے لے کر پوری کابینہ کو تحلیل کر کے عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار نئی کابینہ کھڑی کر دیتا ہے لیکن میں ہوں کہ منہ بسورے ہر وقت لڑنے مرنے پہ تیار ، ہر وقت اتنا حساس کہ اللہ پناہ ۔

    میرے ملک کا صدر جسے اپنا گھر بسانے کی بھی فرصت نہیں عوام کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہوئے ، مہینے میں صرف دس پندرہ دن ملک میں ، صرف ایک ہفتہ دبئی میں اپنے بچوں کے ساتھ اور پھر دیس دیس اپنے ملک کی ترقی اور بہتری کے لئے کشکول اٹھائے میرے لئے بھیک مانگنے میں مصروف اور میں ہوں کہ پھر بھی ناشکرا ، ہر وقت چہرے پہ اداسی ، ہر وقت لبوں پہ شکایت !

    اور میرے ملک کی عوام ؟ ریموٹ کنٹرول ! کبھی لندن ، کبھی دبئی ، کبھی امریکہ تو کبھی جدہ سے ! راشن کی لائن میں کھڑی ہوگی تو رات وہیں گذار دے گی جیسے کوئی اور کام ہی نہیں ، ٹیلیفونک خطاب سننے بیٹھے گی تو ایسے جیسے محفلِ میلاد میں بیٹھی ہو ، کام پہ جائے گی تو فوراً واپس یوں بھاگے گی جیسے خدانخواستہ گھر میں آگ لگ گئی ہو، انٹرنیٹ پہ بیٹھے گی تو ” اے او ایل (امریکہ آن لائن“ اور جونہی کمپیوٹر بند کرے گی تو امریکہ مردہ باد !

    میں یہ سب دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی کوفت ہوتی ہے جو مجھے خواہ مخواہ چڑچڑا بنا رہی ہے ، ایسے میں مسکرانے کی کوشش بھی کروں تو ہونٹ آپس میں چپک کے رہ جاتے ہیں ۔ اظہر صاحب ، اب آپ ہی کوئی حل بتائیں کہ فدوی کیا کرے ؟

  6. اسلام علیکم ساتھیو اللہ ہم سب کے ضمیر زندہ رکھے آمین
    بے حد اچھا بلاگ ہے اور بہت ہی خوبصورت تبصرے ۔
    بات یہ ہے کہ صرف اتنی سی کوشش کر لیں کہ کہیں سے کوئی پھنکی کوئی پڑیا کوئی گولی ایسی مل جائے جسے کھا کر ہم سب اپنی حس ختم کر سکیں تو ان تمام بے حسوں کی صف میں شامل ہوکر چین کی بنسی بھی بجا سکتے ہیں اور سکون کی نیند بھی سو سکتے ہیں ، مگر کیفیات صرف دو ہیں ذندہ یا مردہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم سب ذندوں میں شامل ہیں اور ہمارے ضمیر بھی ذندہ ہیں ہماری حس بھی ذندہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے الحمدُ للہ۔
    جاوید اقبال کیانی بھائی بہت چبھتی تصویر ہے جو آپ نے کھینچی مگر اتنی صاف کہ جو چاہے خود کو دیکھ لے کہ ۔بس ایک کمی رہ گئی کہ آپ نے صرف ایک صنف کو شامل کیا جبکہ دوسری صنف بھی پوری آب و تاب سے موجود ہوتی ہے ۔اگر آپ جمع کا صیغہ استعمال کرتے تو زیادہ موثر ہوتا کہ شامل تو دونوں ہیں ،
    “اور میرے ملک کی عوام ؟ ریموٹ کنٹرول ! کبھی لندن ، کبھی دبئی ، کبھی امریکہ تو کبھی جدہ سے ! راشن کی لائن میں کھڑی ہوگی تو رات وہیں گذار دے گی جیسے کوئی اور کام ہی نہیں ، ٹیلیفونک خطاب سننے بیٹھے گی تو ایسے جیسے محفلِ میلاد میں بیٹھی ہو ، کام پہ جائے گی تو فوراً واپس یوں بھاگے گی جیسے خدانخواستہ گھر میں آگ لگ گئی ہو، انٹرنیٹ پہ بیٹھے گی تو ” اے او ایل (امریکہ آن لائن“ اور جونہی کمپیوٹر بند کرے گی تو امریکہ مردہ باد !
    یہاں ایک مثل یاد آرہی ہے کوا چل ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ۔یہ ہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے
    بھائی یہ بے کاری بھی شاید ایک انقلاب ہی ہے کہ سب کے پاس اتنا فالتو وقت ہے کہ بہا جا رہا ہے پانی کی طرح ۔اور اس نعمت کے ختم ہونے کا کسی کو احساس تک نہیں ہے ۔
    لیکن میں جب سورتہ عصر پڑھتی ہوں اس کے معنی اور تفسیر پڑھتی ہوں تو لرز جاتی ہوں ۔اور میری سانس بھی رکنے لگتی ہے کہ ہم کدہر جارہے ہیں ۔
    لیکن جب بلاگز میں تبصرے پڑھتی ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہم ذندہ بھی ہیں با حس بھی ہیں اور ہمت بھی رکھتے ہیں سچ بولنے کی سچ سننے کی سچ لکھنے کی اور سچ دکھانے کی ۔بس پھر میری مسکراہٹ واپس آجاتی ہے ۔کہ حساب مانگنے والے ابھی جاگ رہے ہیں ۔
    اللہ ہم سب کے ضمیر ذندہ رکھے ہماری حس ذندہ رہے اور ہم برائیوں کی نشاندہی کرتے رہیں ہم اپنی مسکراہٹ ضرور ڈھونڈھ نکالینگے انشاء اللہ
    کوئی بھی بات بارِ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست ہے
    عالم آرا

  7. آپ سب دوستوں کی پسندیدگی کا بہت شکریہ ، مجھے واقعٰی آپ کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ، اللہ آپ سب کو خوشیاں دے آمین

    قاضی صاحب ، جیسے عالم آراء صاحبہ نے لکھا کہ ہم میں زندگی موجود ہے اسی لئے ہم مسکرا سکتے ہیں ، اور یہ مسکراہٹ ہی سب سے بڑا صدقہ ہے اور ہمارے ایک دوسرے سے تعلق کی ابتداء بھی اور انتہا بھی ہے

    جی میں نے اعضاء کی شاعری یعنی فیشن کی کیٹ واک کو ہی کہا ہے ، گو رقص کو بھی اعضاء کی شاعری کہا جاتا ہے مگر اب رقص اعضاء کی شاعری نہیں بلکہ اعضاء کی نمائش ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

    بھٹی صاحب ، ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ ہمیں بہت ہی حساس بنائے دے رہا ہے ، دو انتہائیں ہیں ہمارے معاشرے میں ایک طرف انتہائی حساس لوگ کہ پتہ بھی کھڑکے تو دل دھڑ دھڑ دھڑکے ، اور دوسری طرف ، کچھ بھی ہو جائے ۔ ۔ ۔ اپنی موج میں مست ملنگ

    بابا آپ کی دعائیں چاہیے ، آپ کی حوصلہ افزائی مجھے مزید لکھنے کا حوصلہ دیتی ہے

    نگہت باجی ، آپ کی دعاؤں کے طفیل اور حوصلہ افزائی سے ہی یہ سب لکھ پاتا ہوں ، آپ کی محبتوں کے سائے مجھے پر اور میری فیملی پر ایک بادل کی طرح چھائے ہیں ، اللہ آپ کو بہت خوشیا دے آمین

    جاوید بھائی ، آپ نے سچ کہا کہ یہ سب دیکھ کر ہونٹ چپک جاتے ہیں ، مگر کسی نے کیا خوب کہا ہے

    زباں چُپ رہے تو نظر بولتی ہے
    زباں کی خاموشی بھی ہے اک اشارہ

    عالم آراء ، سچی بات کہی آپ نے کہ میں بھی ایسی ہی کسی پڑیا کی تلاش میں ہوں ، اور آپ کو بتاؤں یہ ملتی بھی ہے ، مگر بہت مہنگی ہے میں افورڈ نہیں کر سکتا ، بلکہ ہم میں سے کوئی بھی افورڈ نہیں کر سکتا ، اسکی قیمت ہے غیرت یا ایمان ، اور ہمارے پاس کچھ بچا ہو یا نہ ہو ایمان و غیرت ابھی باقی ہے اور الحمدوللہ ہم ان ہی لوگوں میں ہیں اسی لئے تو چپکے ہوئے ہونٹوں سے بھی کچھ نہ کچھ کہ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔

    اللہ ہمیں نیک ہدایت دے آمین

  8. کاش

    کاش یہ دنیا بھی ایک جنگل ہوتی
    جہاں ظلم ہوتا نہ جہالت ہوتی
    ہر دن پُر عزم اور انجام بخیر ہوتا
    ہر رات کی امان میں سویر ہوتی
    (ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی)

  9. ASLAMO ALEKOM. Ihar ji ALHHA ap ko sehat ata karein. MASHALLHA bohat he acha lekhte hein ap RABRAKHA ji

  10. ایک بہت ہی خوبصورت اورطنزکے ہلکوروں سے بھرابلاگ۔۔پڑھ کرمزاآیا۔۔
    مشاہدےاوربیان کی خوبی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی
    اللہ اظہربھائی کا ذورقلم کرے اوربھی زیادہ ۔۔۔
    آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *