ہائےمہنگائی،ہائے مہنگائی ۔۔۔ حاکمو تم کو شرم نہ آئی
کہنے کو ایک تصویر ہے لیکن اس ایک تصویر میں پاکستانی عوام کی کہانی ہے
35 thoughts on “ہائےمہنگائی،ہائے مہنگائی ۔۔۔ حاکمو تم کو شرم نہ آئی”
عوام کو اس وقت یہ پوزیشن لینی چاہئے کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگنے سے پہلے وہ پیٹرولیم مصنوعات یا کسی اور جنس کی قیمت بڑھانے کی مخالفت کرتے رہیں گے اور وہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگنے سے پہلے کسی اور ٹیکس یا موجودہ ٹیکس میں اضافہ کی بھی برملا مخالفت کریں گے۔
اسلام و علیکم
کہیں کوئی دھماکہ ہوا تو فورا خبر آ جاتیہے کت اتنے مرے . اتنے زخمی ہوئے . ہم مجرم کو تلاش کرین گے اگر وہ مر گیا ہوا تو جن لوگوں کی یہ سازش ہے اُن کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی وغیرہ وغیرہ اس طرح کی خبروں سے اخبارات اور ٹی وی چینلز بھرے ہوتے ہیں .
مگر مہنگائی ایک ایسا دہشت گرد ہے ایک ایسا بم ایک ایسا مجرم جو نجانے روز کتنے ہی لوگوں کی جان لے لیتی ہے کتنوں کو زخمی کرتی ہے اور کتنے ہی لوگوں کو تمام عمر کے واسطے معزور کر دتی ہے . اور مہنگائی کا یم گرانے والے کُرسیوں پر بیٹھے بس دعوے کرتے رہ جاتے ہین . ہمارے حُکمران خود ہی عوام کے دُشمن ہو چُکے ہیں جینے کے لئے بُنیادی ضروریات تو ایک زمانے سے پاکستان میں رہنے والی 90 فیصد آنادی کا بس ایک خواب ہی بن چُکین ہیں اب یہ روز بہ روز بھڑتی ہوئی مہنگائی عوام کی گردن پر پنجے گاڑے اس کی آخری سانس کی منتظر ہے مگر حُکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کیوں کہ اس مہنگائی سے اُن پر کوئی اثر نہیں پڑتا –
ہماری عوام کو خود اپنے لئے سوچنا چاہئے یہ لوگ اگر اپنی کرنے پر آ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان مہنگائی کی اس لعنت سے پاک ہو جائے .
عوامی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اگر یہ متحد ہو جایئں تو دنیا کا کوئی طوفان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر اسی طرح تفرقوں میں بٹے رہیں گے تو نہ صرف مہنگائی کا طوفان اٹھتا رہے گا بلکہ ہر طرف سے اندرون اور بیرونِ ملک سامراجی فتنے سر اٹھا کر عوام کو ڈستے رہیں گے۔
ظفر جعفری بھائی کی بات کی تائید کرتے ہوئے اس میں ایک بات کا اضافہ کریں گے، عوام کو قسم کا ٹیکس دینے سے انکار کر دینا چایئے جبتکہ حکومت زرعی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگا دیتی اور دوسرےی بات یہ کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور سینٹ کے اراکین سے بھی باقاعدگی سے ٹیکس لیا جائے، پھر اس آمدنی کو جائز طریقے سے استعمال میں لایا جائے نہ کہ یہ کہ حکومت اسے باپ کا مال سمجھ کے ہڑپ کر جائے۔
حاکمو ! شرم تم کو مگر نہیں آتی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سب جھوٹ ہے بکواس ہے ، پاکستان میں کہیں بھی مہنگائی نہیں ہے ، بازار جائیں لوگ بھرے پڑے ہیں ، بجلی کے بل میں ہر مہینے اضافہ ہوتا ہے ، مگر لوگ دے رہے ہیں ، پٹرول بڑھ گیا ہے مگر سب خوش ہیں ، کوئی سڑکوں پر نہیں آنا چاہتا اور اگر آتا بھی ہے تو لالی پاپ لے کر مزے سے چوستا ہوا گھر چلا جاتا ہے اور جب لالی پاپ ختم ہو جاتا ہے پھر روتا ہے نئے لالی پاپ کے لئے ۔ ۔ ۔
مگر سچ بات یہ ہی ہے کہ کسی کو کوئی فکر نہیں ، اگر حکمرانوں کو برا سمجھتے ہیں تو ہر جلسے میں انکے لئے نعرے کیوں لگاتے
یہ بینر جو اٹھائے ہیں ، یہ سب جھوٹے ہیں ، ابھی کسی سے پوچھیں تو پتہ چلے گا کہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ، نہ مہنگائی پر نہ ہی حکمرانوں پر ۔ ۔ ۔ بس کسی نے پچاس سو پکڑا دئیے ہیں ، اس بینر کو تھامنے کے ، کیا کسی نے کبھی پوچھا ہے کہ اس بینر کی قیمت کیا ہےاور کس نے بنوایا ہےاور اسکے پیسے کس نے دئیے ہیں ؟
بہت کچھ کہنا ہے مجھے ، اور شاید اب مزید تلخ ہو کر کہوں گا ۔ ۔ ۔
اسّلام علیکم معزّز ہم نشینوں ،
بلکل درست فرمایا زرعی ٹیکس کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے ،
اس کے علاوہ حکومت کی شاہ خرچیاں جن میں بیرون ملک علاج پر پابندی بھی شامل ہو ،قومی دولت کے بل پر باہر کے ملکوں کے سیر سپاٹے بھی بند کئے جائیں جو علاج کے نام پر کئے جاتے ہیں ،بفضل تعا لٰی ہمارے وطن کے ڈاکٹرز دنیا کے ہم پلّہ مسیحا ہیں ،ملک کو بیرون ملک کی منڈی بنا کر ہم کو تباہی کے گڑھے میں پھینک دیا گیا ہے ،
قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا ایک شفّاف ادارہ بھی بنایا جائے جس کو محترم شوکت عزیز صاحب نے یہ کہ کر توڑا تھا کہ اس طر ح مسابقت کی فضاء قائم ہو گی ،اللہ ان سے اس ظلم کا حساب لے اور ہم کو اب اچھی حکومت عطا کرے آمین
زائرہ بجّو
بھائی ظفر جعفری مسلہ تو یہی ہے کہ زرعی ٹیکس لگائے گا کون. قانون بنانے والے جب جاگیر دار،وڈیرے اور بڑے برٖ زمیندار خود ہیں تو وہ خود پر کیسے ٹیکس لگائیں گے بلکہ یہ خون چوسنے والا طبقہ تو آج بھی عوام کے لیئے جونک بنا ہوا ہے. ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس طبقے کو سوئی گیس جس ریٹ پر ملتی ہے ملک کی صنعت کو وہی گیس سو گنا زیادہ قمیت پر ملتی ہے. جب تک اس اسمبلی میں عوام کے حقیقی نمائندے نہیں آئیں گے وہ عوام کے بارے میں سوچیں گے کہاں سے.
عزیزی ثمرین بخاری. درست کہا آپ نے.اس لعنت سے چھٹکارے کا ایک علاج یہ بھی ہے…..ہماری عوام کو خود اپنے لئے سوچنا چاہئے یہ لوگ اگر اپنی کرنے پر آ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان مہنگائی کی اس لعنت سے پاک ہو جائے …. دراصل وطن عزیز میں عوام کو بتایا ہی نہیں گیا کہ انکی طاقت کیا ہے،ایک بڑی تعداد کو اس شعور سے ہی محروم رکھا گیا ہے اور عوام کے جس طبقے کو یہ شعور ہے وہ یا تو پیٹ کا جہنم بھرنے اور بجلی گیس کے بل دینے میں پھنسا ہوا ہے یا پھر احساس کی کمی ہے. ہم اپنے ارد گرد دیکھتے بھی ہیں کہ کیسے بھوکے ننگے عوام ٹینکوں اور توپوں کے منہہ بند کر دیتے ہیں.
بھائی جعفر حسین اب اس عفریت کو تباہ کرنے کی شاید یہی کلید باقی ہے…….عوامی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اگر یہ متحد ہو جایئں تو دنیا کا کوئی طوفان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر اسی طرح تفرقوں میں بٹے رہیں گے تو نہ صرف مہنگائی کا طوفان اٹھتا رہے گا بلکہ ہر طرف سے اندرون اور بیرونِ ملک سامراجی فتنے سر اٹھا کر عوام کو ڈستے رہیں گے۔…….
بھائی اظہر الحق آپ کا نکتہ نظر ہی تو مجھے یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ عوام بے حس ہو گئے ہیں.آپ نے یہ بات درست لکھی ہے کہ……….مگر سچ بات یہ ہی ہے کہ کسی کو کوئی فکر نہیں ، اگر حکمرانوں کو برا سمجھتے ہیں تو ہر جلسے میں انکے لئے نعرے کیوں لگاتے….. میرا ایک کالم ہے….حکومت تو بے شرم ہے لیکن عوام اس سے بھی زیادہ بے شرم…..
سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ آپ نے اس بلاگ میں اپنی فکر کا مظاہرہ کیا میری عزت افزائی ہے.آپ نے فرمایا کہ ……..بیرون ملک علاج پر پابندی بھی شامل ہو ،قومی دولت کے بل پر باہر کے ملکوں کے سیر سپاٹے بھی بند کئے جائیں جو علاج کے نام پر کئے جاتے ہیں…..جی آپکی دعا تو خیر ابھی مستجاب نہیں ہوئی لیکن کیا طرفہ تماشہ ہے کہ رحمٰن ملک نے یہ قانون بنوانے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے شاعر،ادیب،فنکار،صحافی سب کو بیرون ملک جانے کے لیئے حکومت سے ”این او سی” لینا ہو گا کیونکہ ملک کی عزت کا سوال ہے.
ہائے اوئے میں مر نہ جاؤں کہ اس لٹیرے ٹولے کے اس لٹیرے شخص کو ملک کی عزت کا خیال آ گیا اور این اور سی انکو لینا ہو گا جو باہر جاکر ملک کی عزت بڑھاتے ہیں.
میرا ایمان ہے کہ یوم حساب ضرور ہے لیکن ابھی تو عوام یوم حساب میں ہیں.ان جابر حاکموں کا یوم حساب کب آئے گا کچھ نہیں کہہ سکتا.
بھائی اظہر الحق سلام مسنون۔ خدا آپ جیسے اہل جنوں کو سلامت رکھے جن کے طفیل کبھی کبھی ہم اپنےگریبانمیں جھانک لیتے ہیں تو کبھی دامن یزداں کی طرف لپکتے ہیں۔
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا۔۔۔۔ یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں …(حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمۃ)
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
دوڑو ٖزمانہ چال قیامت کی چل گیا
مہنگائی وہ موضوع بحت ھے جس پر ھر امیر و غریب بات کرنا چاہتا ھے اس مہنگائی نے ھر سفید پوش کی عژت نفس کو مجروح کیا ھے
حکومت کے ہاتھ عوام کی جیبوں میں ھیں وہ عوام کی کمائی کا بڑا حصہ بجلی گیس سیورج کے نام پر لے لیتے ھیں اور عوام خاموشی کے ساتھ
ان واجبات کو ادا کرتی ھے جس کی وہ اہل نہیں ھوتی پھر ایک شریف آدمی کو اپنا گھر چلانے کیلئے کسی کی طرف دیکھنا پڑتا ھے اور یوں
ایک عام آدمی کی انا و خوداری پامال ھوتی ھے کل پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے بعد کراچی میں ھوا لگ رھا تھا عوام کو کوئی نہیں روک سکتا
لیکن ھماری عوام سیاسی دھڑوں میں بٹی ھوئی ھے ایک بڑی سیاسی پارٹی نے لوگوں کو دبا کر حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی سیاسی جماتیں حکومت کے سامنے اپنی دوکان چمکاتے ھیں اور ایشو کو کیش کرواتے ھیں لیکن اس بات میںیہ بھی ھے ایک بری قوم پر ھی جابر وظالم حکمران مقرر ھوتا ھے اصل میں تو ھم خود ایک قوم نہیں ھاں ھم ایم کیو ایم ھیں اے این پی ھیں جماعت اسلامی ھیں پی پی ھیں مسلم لیگ ھیں
کوئی ایک مقام تو ھو جہاں قوم نظر آئے اور سیاست یا لیڈر اُس میں تو ھم اپنے آپ کو یتیم سمجھیںسیاست کیلئے تو کسی کیا خوب کہا ھے
ھمارے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ھوئی ھے طوائف تماش بینوں میں….
آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہو گا
اسلام علیکم ساتھیو
آپ سب نے جو کچھ لکھا لمحئہ فکریہ ہے ۔
مہنگائی ایسا ناسور ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن کوئی بھی طبیب اور نا ہی بڑے سے بڑا سرجن اس کی جراحی کر سکا ہے ۔میں ابھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان گئی تھی ۔اور وہاٍ ںجا کر مجھے لگا کہ میں پاگل ہوں ۔کیونکہ آپ شاید ہی یقین کریں کہ میں حیران تھی کہ کس طرح لوگ ماشاءاللھ فاسٹ فوڈ کھا رہے تھے کس طرح باہر کھا نے کے لئے لوگوں کا رش تھا ۔کس طرح بازاروں میں دھکم پیل تھی ۔اتوار بازار کا یہ حال تھا کہ چلنے کے لئے جگھ نہ تھی ۔آپ شاید ہی یقین کریں کہ میں کچھ نہ خرید سکی کہ میرے دماغ میں پہلے والی قیمتیں تھیں جو اب ایکسو پچاس یا شاید دو سو گنا تھیں ۔ایک سادہ لیڈیز سوٹ جو ایکسو بیس روپئے کا سلتا تھا وہ اب چارسو روپئے کا سل رہا تھا ۔لیکن درزی کو سر اُٹھانے کی فرصت نہ تھی میری سمجھ میں نہ آیا کہ مہنگائی کہاں ہے ۔
وہاں میرے لئے بہت مہنگائی تھی لیکن وہاں کے رہنے والوں کے لئے نہیں تھی ، اگر ہوتی تو لوگ اس طرح باہر کھانا نہ کھا رہے ہوتے کھانا گھروں میں پک رہا ہوتا ۔خواتین کپڑے گھر میں سی رہی ہوتیں ۔روٹی گھر میں پک رہی ہوتی ۔
ہماری ایک رشتے کی بزرگ خاتون پان بہت کھایا کرتی تھیں جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو پان بہت مہنگے ہوگئے ۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہہ کر پان کا پودہ منگایا اور ایک گملے میں لگا لیا ۔جب وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ پان اتنے مہنگے ہوگئے ہیں اور میں چھوڑ نہیں سکتی ۔جب اس کے ساتھ محنت کرونگی تو پان کھانے میں بھی کمی ہو جائیگی اور پان خریدنا بھی نہیں پڑینگے ۔
پہلے لوگوں میں صلاحیت تھی اپنی چادر کے مطابق پیر پھیلانے کی ۔لیکن اب ہم سب کچھ بس دوسروں سے کرانا چاہتے ہیں ۔عوام کو صرف بینر دے کر کھڑا کرنے کا کام آتا ہے وہ تو شاید یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ اس پر لکھا کیا ہے ۔
پستا وہ طبقہ ہے جو خود کھڑا نہیں ہوتا اور اپنا بھلا نہیں سوچتا ۔ ہمارے یہاں آج تک کسی نے اس عفریت کی طرف توجہ نہیں دی ۔مہنگائی سب جگہ ہورہی ہے یہاں پر بھی بہت مہنگائی ہے یہ اب ایک عالمگیر مسلہ بن رہا ہے ۔لیکن کوئی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دیتا کیونکہ ہمارے یہاں یہ صرف نعرے کے لئے استعمال ہوتی ہے ،جو اس سے نمٹ رہے ہیں وہ کسی کی توجہ کے لائق نہیں ہیں شاید ۔
آج بھی میرے لیڈر صرف نعرے لگا رہے ہیں مجمع سجا رہے ہیں دھاڑ رہے ہیں ،دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک شریک جلسہ کھڑے ہو کر پوچھ لے کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج آپ کے اپنے ہی کارکنوں کے گھر چولھا جلا کہ نہیں ،؟کتنے کار کنوں کے بچے بھوکے سو گئے ۔ ؟
مگر شاید یہ ہمارا کام نہیں ہے ہمارا کام تو ہے بس زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے ۔
کوئی بھی بات بارَ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست کہ مجھے لگتا ہے کہ سب سے زیادہ خطاوار میں ہوں کہ آئینہ دکھانے کی کوشش کرتی ہوں جسے کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا ۔
اللہ میرے ملک کا اور اس میں بسنے واالوں کا حامی و ناصر ہو ۔
عالم آرا
وینکور
کچھ عرصہ قبل لاہور کے علاقہ شاہدرہ ٹائون میں ایک بیوہ نے اپنے بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرلی۔ ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر اس خاتون نے جو تین بچوں کی ماں تھی خودکشی کیوں کی؟
اس کے بچے معلوم نہیں کتنے دنوں سے صرف روٹی سے بھی محرو م تھے۔ مہنگائی کی وجہ سے اور غربت کے باعث معلوم نہیں فاقوں نے اس کے گھر کب سے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ یہ بھی خبر نہیں کہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے دوسروں کے گھروں میں کام کرنے والی اس خاتون نے اپنے بچوں کی بھوک سے تنگ آکر کتنے ثروت مند لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں اور کسی نے بھی اس کی مدد نہ کی ہو اور پھر اپنے بھوک کے مارے بچوں کا وہ دکھ برداشت نہ کرسکی اور اس نے خودکشی کرلی۔
بچوں کے مسلسل فاقوں نے اس کے دماغ کو یقینا اس حد تک مائوف کردیا ہوگا کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آیا کہ جن بچوں کے فاقوں سے دلبرداشتہ ہو کر وہ خودکشی پر مجبور ہوگئی ہے،اپنی ماں کی موت کے بعد وہ معصوم اس بے حس معاشرے میں کس کے سہارے پر زندہ رہیں گے۔ اپنے پیارے بچوں کی بھوک اور مفلسی سے اتنا دلبرداشتہ ہو جانا کہ ایک ماں یا بے روزگار باپ زندگی سے ہی متنفر ہو جائے اور خودکشی کرلے۔
یہ واقعات اب ہمارے ہاں معمول اور روزمرہ کی بات بن چکے ہیں لیکن ہمارے سیاست دانوں، دانشوروں، معیشت دانوں اور سماجی تنظیموں میں سے کسی نے بھی ابھی تک ان دل ہلادینے والی اموات پر اس طرح سے غور نہیں کیا اسلئے کہ ان کے پاس ان باتوں پر غور کرنے کیلئے وقت نہیں ہے یہ واقعات تو ہمارے اور آپ کیلئے رہ گئے ہیں
اقبال نے کہا تھا
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کا جلادو
بس یہی آخری حل رہ گیا ہے
سیدمصباح حسین ، انور ظہیر رہبر اور شعین صفدر بلاگ میں اپنی فکر تقسیم کرنے کا شکریہ۔
فاطمہ ابرار صاحبہ آپ کی سوچ ہماری سوچ ہے ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ۔ آپ نے درست فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔ایک بری قوم پر ھی جابر وظالم حکمران مقرر ھوتا ھے اصل میں تو ھم خود ایک قوم نہیں ھاں ھم ایم کیو ایم ھیں اے این پی ھیں جماعت اسلامی ھیں پی پی ھیں مسلم لیگ ھیں
کوئی ایک مقام تو ھو جہاں قوم نظر آئے۔۔۔
عالم آرا صاحبہ یہ جو آپ نے لکھا ہے یہی تو کلید ہے انقلاب کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج بھی میرے لیڈر صرف نعرے لگا رہے ہیں مجمع سجا رہے ہیں دھاڑ رہے ہیں ،دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک شریک جلسہ کھڑے ہو کر پوچھ لے کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج آپ کے اپنے ہی کارکنوں کے گھر چولھا جلا کہ نہیں ،؟کتنے کار کنوں کے بچے بھوکے سو گئے ۔ ؟۔۔۔۔۔۔۔
کاش عوام میں یہ جزبہ کسی طرح بیدار ہوجائے۔حاکموں کو احتساب کا خوف ختم ہو گیا ہے
محمداحمدترازی بھائی آپ کے اکثر دلائل زمینی حقائق اور سچے واقعات ست جُڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا بجا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مارے سیاست دانوں، دانشوروں، معیشت دانوں اور سماجی تنظیموں میں سے کسی نے بھی ابھی تک ان دل ہلادینے والی اموات پر اس طرح سے غور نہیں کیا اسلئے کہ ان کے پاس ان باتوں پر غور کرنے کیلئے وقت نہیں ہے یہ واقعات تو ہمارے اور آپ کیلئے رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اقوام متحدہ نے انسانی ترقی رپورٹ دو ہزار دس جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی اوسط شرح چون فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اسلام آباد میں پلاننگ کمیشن کے زیر اہتمام تقریب میں یو این ڈی پی نے انسانی ترقی کی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی میں پاکستان ایک سو انہتر ممالک کی فہرست میں ایک سو پچیسویں نمبر پر ہے۔ دو ہزار دس کے دوران پاکستان کا انڈیکس صفر اعشاریہ چار نو رہا جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی اوسط شرح سے بھی کم ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی فہرست میں بنگلہ دیش ایک سو انتیس، بھارت ایک سو انیس جبکہ ایران ستر ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی اوسط شرح چون فیصد ہے۔ پاکستان کی اکاون فیصد آبادی براہ راست غربت کا شکار ہے جبکہ مزید بارہ فیصد پاکستانی غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشیائے خوردو نوش کی بلند قیمتوں کے باعث غربت کی شرح میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی غریب نواز پالیسیاں غیر موثر رہی ہیں، پنجاب حکومت کی سستی روٹی اسکیم کے آغاز میں پایا جانے والا مثبت رحجان برقرار نہ رہ سکا، وفاقی حکومت کابے نظیرانکم سپورٹ پروگرام بھی بڑھتی ہوئی غربت پرقابوپانے کے حوالے سے کارگرثابت نہیں ہوا۔
محترم اظہر الحق صاحب کے مذکورہ بالا تبصرے کی انتہائی بےباک بات نے حبیب جالب کی اس نظم “ میں نے اس سے یہ کہا “ کی یاد تازہ کردی :
یہ ایوب خاں کا زمانہ تھا اور حبیب جالب اپنی احتجاجی ، انقلابی اور مزاحمتی شاعری سے پاکستان کے عوام کے شعور کو جھنجھوڑ رہا تھا ۔ اس وقت حبیب جالب، آمریت کے خلاف اپنی آواز بلند کرکے بار بار جیل جاتا رہا مگر وہ اپنی بات کہتا رہا ۔
اس کی حق گوئی و بے باکی سے حکام وقت پریشان ہوگئے تھے ۔
آج کل پاکستان کے عوام مہنگائی ، بد عنوانی ، رشوت ستانی ، بدکاری ، بے روز گاری کا شکار ہیں مگر ابھی تک پاکستان کے حکمرانوں کو قوم کے مفاد کا خیال نہیں ۔ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور عیش منا رہے ہیں مگر عوام کی پریشاں حالی اور بد حالی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ( حج کا اسکینڈل اور نیشنل بنک آف پاکستان کے افسروں کا اسکینڈل جس میں قوم کے لاکھوں کڑوڑوں روپییے ضایع ہوگئے ۔ یہ اور اس طرح کی بدکاریوں اور بد عنوانیوں کے قصے پاکستان کی میڈیا روزانہ سنارہی ہے)
۔۔۔۔۔۔۔
حبیب جالب کی نظم “ میں نےاس سے یہ کہا “ کا رخ اس وقت کے آمر کی طرف تھا مگر اس نظم کا رخ آج کل کے نااہل اور خود غرض اور ناکام صدر پاکستان اور اسکی حکومت کے اہل کاروں کی طرف بھی ہوسکتا ہے:
میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کڑوڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
انکی فکر سوگئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرےپاس ہے ۔ انکے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے ملک کی نجات ہے
توہے مہرِ صبحِ نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں سب یہ شر پسند ہیں
انکی کھینچ لے زباں ، انکا گھونٹ دے گلا
میں نےاس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن کو تھا زباں پہ ناز
چُپ ہیںوہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے ۔ کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید لوگ تیرے راج میں
میں نے اس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔
چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو
اُس کو دور سے سلام
دس کڑوڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام
کیا بنینگے حکمراں
تو یقیں ہے یہ گماں
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نےاُس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم کا یہ بند مجھے بےحد پسند ہے کہ :
“چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو، دس کڑوڑ یہ گدھے جن کانام ہےعوام کیا بنینگےحکمراں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جالب کے زمانے میں پاکستان کی جملہ آبادی ( مشرقی پاکستان کو ملا کر ) کل دس کڑوڑ تھی ۔ آجکل صرف مغربی پاکستان کی آبادی شائد سترہ کڑوڑ سے بھی زیادہ ہے ( کوئی کہتا ہے اٹھارہ کڑوڑ ہے ) ۔ یہ چالیس سال میں اتنی کیوں بڑھ گئی ؟ یہ بھی سوچنےکا مقام ہے !!!!
اس کے برعکس پاکستان کے زرعی پیداوار محدود ہے مگر جو کچھ بھی ہے وہ زیادہ تر منافع خوروں کے گوداموں میں ہی رہتی ہے یا پھر ہندوستان اور افغانستان کو غیر قانونی طور پر منتقل ہوجایا کرتی ہے ۔ باقی جو کچھ بھی ملک میں موجود ہے وہ اتنی زبردست آبادی کے لیے بالکل کافی نہیں ۔
اس کے علاوہ زرعی امدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے!!!
پاکستان کے رہنما اپنے اپنےمحلوں میں عیش کررہے ہیں ۔ انکو ضرورت مند عوام کی کوئی فکر نہیں ۔
لوگ انقلاب کی باتیں تو کررہےہیں مگر جیسا کہ پاکستان میں رہنے والے مبصروں نے اس بلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی مہنگائی ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔
خدا نہ کرے کہ یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے
پاکستان کے رہنماوں کو خواب سے جاگ کر پاکستان کی بقا کے لیے ضروری اور فوری کام کرنےکی ضرورت ہے ۔ ورنہ جیسا کہ
اوپر ایک مبصر نے کسی کا یہ مشہور شعر لکھا ہے کہ:
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
۔۔۔۔۔۔۔
فقط
منظور قاضی
جرمنی سے
پاکستان کے رہنما اپنے اپنےمحلوں میں عیش کررہے ہیں ۔ انکو ضرورت مند عوام کی کوئی فکر نہیں ۔
لوگ انقلاب کی باتیں تو کررہےہیں مگر جیسا کہ پاکستان میں رہنے والے مبصروں نے اس بلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی مہنگائی ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔
خدا نہ کرے کہ یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے
قاضی صاحب شکریہ بلاگ میں اپنے حصے کی فکر ڈالنے کا. عوام پر حکموت کرنے والے حاکم بے لگام ہیں اور وہ اس لیئے انکا احتساب کرنے والا کوئی نہیں اور احتساب عوام کیا کرتے ہیں. آ پ نے کہ خدا نہ کرے کہ …….. یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے… تو عرض کرؤں کہ یہ سب کچھ تو وطن عزیز میں ہو رہا ہے. کل ہی کراچی میں ایک شادی کے دوران ڈاوؤں نے دولہا اور دلہن سمیت باراتیوں کو یرغمال بنا لیا اور سب کے زیورات اور نقدی لیکر با حفاظت غائب ہو گئے.
محترم صفدر بھائی اسلام علیکم
جیسا کہ آپ نے حوالہ دیا
کل ہی کراچی میں ایک شادی کے دوران ڈاوؤں نے دولہا اور دلہن سمیت باراتیوں کو یرغمال بنا لیا اور سب کے زیورات او ر نقدی لے کر با حفاظت غائب ہوگئے ‘‘
محترم بھائی یہ ہی تو سلطانی ٹوپی ہے جو ہمارے یہاں سب لوٹنے والوں نے پہن رکھی ہے ،کہ پکڑ کر دکھاؤ تو جانیں ،
عالم آرا
چُپ کر مُنڈیا نہ منگ روٹیاں
کھائیں گا زمانے دے ہتھوں سوٹیاں
چُپ کر ، دَڑھ وَٹ ، کَڈھ دیہاڑے چار
صدیاں تُون بھُکے لوکی کھاندے آئے مار
(حبیب جالب مرحوم)
کس آزادی کی بات کرتے ہو ..جہاں روٹی نہیں .. ہمیں دیکھو .. ہم ڈاکو ہیں اور آزادی سے اور خوشی سے جیتے ہیں …وطن پر لٹنے والوں کو کیا ملا…؟
منزل عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہے .. وطن سے محبت دیوانگی ہے .. یقین کی ایسی منزل جس کی کوئی حد نہیں ..
آج عالمی اخبار پر ہمارا مضمون’’جب جرم کیلئے لوگ اجازت طلب کرنے لگیں‘‘اسی حوالے سے ہے ہم اس مضمون کے بیگ گراونڈ کے حوالے سے آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ واقعہ کراچی میں پیش آیا
جس کی مختصرآتفصیل یہ ہے کہ گزشتہ دنوں الیکٹرانک میڈیا پر مفتی نعیم مہتمم جامعہ بنوریہ ٹاﺅن کراچی کے پاس سائٹ ایریا میں میں کام کرنے والے مزدورں کے ایک وفد نے حاضر ہوکر تحریری طور پر ایک فتویٰ حاصل کرنے کیلئے درخواتست دی
اس تحریر میں انہوں نے اپنے تمام مسائل اور وسائل سے آگاہ کیا اور کہا کہ ان محدود وسائل میں رہتے ہوئے اب ہمارا اپنے بچوں کا پیٹ پالنا انتہائی مشکل اور ناممکن ہو چکا ہے لہذا ہمیں دین اسلام کے حوالے سے بتایا جائے کہ کیا ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے چوری ، ڈکیتی یا دیگر ناجائز ذرائع استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ہمارے بال بچے روٹی کھا سکیں ۔
اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے آمدنی چند ہزار روپے ماہانہ ہے جس میں مکان کا کرایہ ، بجلی کا بل ، پانی کا بل ادا کرکے ہمیں کھانے کو کچھ نہیں بچتا بلکہ ڈیوٹی پر آنے جانے کیلئے چار پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہیں اور کرایہ بھی بچاتے ہیں اس کے باوجود ہمارے بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔
مفتی نعیم نے انہیں اﷲ کی طرف رجوع کرنے کو کہا، اور مزید تفصیلی فتوی کیلئے وقت مانگ لیا ، مفتی نعیم نے مزید بتایا کہ ہم نے اس بارے دیگر علماءسے رابطہ کر لیا ہے تاہم یہ ایک بہت ہی دکھ بھری داستان ہے ۔
یہ ان لوگوں کی مثال جو جرم کرنے کیلئے اجازت طلب کر رہے ہیں لیکن ان کا کیا جو بغیر اجازت طلب کئے چوری ، ڈکیتی ، منشیات فروشی ، قتل و غارت اور دیگر جرائم کھلے عام کر رہے ہیں ۔
ایک مفلس بندہ ءو مزدور پہ روئے گا کون
زندگی میں بھی اگرچہ بے سرو سامان تھا
مر کے بھی و ہ رہ گیا اس طرح بے گورو کفن
جیسے اس دنیا کا بس یہ آخری انسان تھا
کیا ہو گا انجام ہمارا۔ کچھ تو سوچو
راہنماﺅ سنو، خدارا کچھ تو سوچو
جھکی کمر مہنگائی سے جب اور جھکے گی
مشکل سے یہ آتی جاتی سانس رکے گی
بھوکی ننگی لاشوں پر کیا راج کرو گے
پچھتاﺅ گے ہمیں اگر تاراج کرو گے
جلتی آگ پہ مہنگا پٹرول نہ چھڑکو
بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کو روکو
پانی ہے گر فتح تو اب مہنگائی کر لو
صرف اسے کم کرنے پر دانائی کر لو
وہ دانائی جو اب تم سے روٹھ چکی ہے
آس اچھائی کی جو تم سے ٹوٹ چکی ہے
سب سر جوڑ کے بیٹھو اور اس آس کو جوڑو
طوفان سے ساحل کی جانب کشتی موڑو
ورنہ اس طوفاں میں تم بھی بہہ جاﺅ گے
کبھی نہ آپس میں لڑنا یہ کہہ جاﺅ گے
لیکن اڑتا وقت تمہاری نہیں سنے گا
تمہیں بھلا کر اپنے لیڈر نئے چُنے گا
تم بھولی بسری تاریخ میں کھو جاﺅ گے
پھٹے پرانے کسی ورق پر سو جاﺅ گے
تم سے پہلے بھی نادان بہت سے آئے
ورق سنہری جو تاریخ میں لے نہیں پائے
مہنگائی کے زور کو توڑو اے نادانو!
ٹوٹا دل مفلس کا جوڑ اے نادانو!
راستے اپنے لیئے خود ہی بنانے ہونگے
اب یہاں کوئی پیمبر نہیں آنے والا
(صفدر ہمدانی)
صفدر بھائی آپ نےتو دکھتی رگ پر ہاتھ رکھدیا ہے۔ اس پر دورائیں نہیں ہو سکتیں کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگایا جانا چاہیئے۔ مگر لگا ئے گا کون وہ جن کی اکثریت ملکر اسمبلی اور کابینہ بنا تی ہے؟ جن کے مظالم کی بنا پر دہی آبادی شہروں کی طرف اپنے آبا و اجداد کے گھر اور قبریں چھوڑ کرطرف بھاگ رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے اس کا علاج کیا ہے؟ علاج صرف اور صرف یہ ہےکہ قیادت کی تبدیلی۔ اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیادت میں تبدیلی لا ئے گا کون؟ عوام اور صرف عوام !مگر قیادت کون کر ے گا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ مور اگر نا چنا بھی چا ہے تو پیروں کو دیکھ کر رودیتا ہے۔اس کا حل کیا ہے؟
شمس جیلانی صاحب نے اپنا تبصرہ “ اس کا حل کیا ہے ؟ “ پر ختم کیا ہے :
میرے خیال میں اس کا حل پیش کرنے سے پہلے اس کی وجہ بھی کہنا ضروری ہے :
پاکستان کی تمام خرابیوں کی جڑ اور وجہ پاکستانی قیادت کی بے ایمانی اور بد کرداری ہے ۔
اس کا حل یہ ہے کہ :
پاکستان کو ایک ایماندار اور بے لوث قائد کی ضرورت ہے ۔
اس حل کی تفصیل یہ ہے کہ :
تحریک انصاف اور ایم کیو ایم دونوں سیاسی پارٹیاں انقلاب کے نعرے لگارہی ہیں ۔ اگر یہ دونوں پارٹیاں پاکستان کے مفاد کی خاطر ایکھٹی ہوجائیں اور پاکستان کو ایماندار اور بے لوث قیادت دیں تو ممکن ہے کہ پاکستان میں جو انقلاب آئے وہ پاکستان کو ایک نئی زندگی عطا کردے۔
مگر اس کےلیے الطاف حسین کو لندن سے پاکستان آکر اپنے تمام اثاثوں کا حساب دینا پڑے گا اور جس طرح عمران خاں نے اپنے تمام اثاثوں کو پاکستانیوں کے سامنےپیش کیا ہے اسی طرح الطاف حسین کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا ۔ اگر الطاف حسین ایسا نہیں کرسکتا تو ایم کیو ایم کو الطاف حسین کی قیادت سے چھٹکارا حاصل کرکے پاکستان میں رہنےوالے ایماندار ایم کیو ایم کےنمائیندوں پر مشتمل جماعت بنانی ہوگی اور پھر عمران خاں کی تحریک انصاف سے سمجھوتہ کرکے پاکستان کو ایماندار اور دیانت دار اور بے لوث قیادت دینی ہوگی ۔
اگر ایسا نہ ہوا تو :
جب تک ایک ایماندار قیادت پاکستان کو میسر نہیں ہوتی اس وقت تک آزاد عدلیہ کی قیادت میں پاکستانی فوج کو ملک میں امن و امان قائم کرکے جلد ا ز جلد انتخابات کا انتظام ایک غیر جانبدار الکشن کمشن کی نظامت میں کروانا ہوگا ۔ ( سنا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین میں اس کا جواز موجود ہے )
شائد اس طرح پاکستان کی مہنگائی اور دوسری تمام خرابیوں پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ
کیا چین کا نظام پاکستان کے لیے ایک مفید رول ماڈل ( قابل عمل نمونہ ) ثابت ہوسکتا ہے ؟
حبیب جالب نے پچاس سال پہلے یہ بند لکھا تھا کہ :
چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو
اُس کو دور سے سلام
دس کڑوڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام
کیا بنینگے حکمراں
تو یقیں ہے یہ گماں
۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک دوسرے بلاگ کا موضوع بن سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا پاکستان میں رہنے والوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور پاکستان کو ایک ایماندار قیادت جلد از جلد عطا کردے : آمین
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اس صدی میں کوئی آذر نہیں آنے والا
سر بلند نیزوں پہ اب سر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ کر جس کو میں جیتا رہا لمحہ لمحہ
خواب میں میرے وہ منظر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔
زخم اور درد کے رشتے سے میں آگاہ رہا
زخم سے درد بھی باہر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستے اپنے لیئے خود ہی بنانے ہونگے
اب یہاں کوئی پیمبر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب نہ آئے گا کسی کام عصائے موسیٰ
راہ میں سُن لیں سمندر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الوادع جسکو ستاروں نے کیا جاتے ہوئے
لوٹ کر اب وہ مسافر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔
مطمئن سانپوں کو اس امر سے آگاہی ہے
گھر کے اب صحن میں پتھر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی پُر ہول مسافت ہے کہ دم گھٹتا ہے
ایسے لگتا ہے کہ اب گھر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔
چشمِ قتال،شفق رنگ، قیامت پیکر
اب تری باتوں میں صفدر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔
قاضی صاحب آپ چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کر رہے ہیں ۔ لوگ ملتے ہیں ہر اک سمت خضر کی صورت ، گیڈر پھرتے ہیں کئی دھارے ببر کی صورت
میں صفدر بھائی کی رائے سے متفق ہو ں کہ قوم کو سب کچھ خود ہی کرنا پڑے گا چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہی ہے کہ وہ انہیں کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنا چا ہیں، یہ سارے مہرے غیروں کے وفادار ہیں ا ن سے امید وفا محض سراب ہے؟
ہمارے مسائل کا حل صرف زرعی ٹیکس ہی نہیں مکمّل طور پر جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے، دینی جماعتیں اور معاملات میں تو آ گے رہتی ہیں لیکن اس معاملے کو ناجانے کیوں نہیں چھیڑتی ہیں ،یہ نظام ختم ہوئے بغیر کسی بھی اصلاح کی تو قّع بلکل فضو ل ہے
بہن زاءرہ عابدی آپ نے درست فرمایا میں انشا اللہ کل اس کو اپنے کالم میں لکھونگا۔
اسلام علیکم ساتھیو اللہ سب کو صحت اور ذندگی عطا کرے ۔
میرا خیال ہے کہ سیاست یا حکومت کا دھارا بدلنے کو سب کا یکجا ہونا ضروری ہے ۔تبدیلی وہیں آتی ہے جہاں اچھے لوگوں کا ساتھ دیا جائے ہمارے یہاں نہ اچھی قیادت کی کمی ہے نہ اچھے عوام کی ۔
بات صرف کھوج نکالنے کی ہے ۔حل جو میری سمجھ میں آتا ہے وہ بس اتنا ہے کہ ملکو قوم کی خاطر اپنے اختلاف بھول کر اچھے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں ۔چھان پھٹک کر لیڈر چنے جائیں ۔صرف ان کی زبان پر بھروسہ نہ کیا جائے ان کی تقریروں سے انہیں نہ پرکھا جائے ان کے کردار دیکھے جائیں ،جو ہم نے آج تک نہیں کیا ۔اگر عمران میں اچھائیاں ہیں تو اس کے ہاتھ مضبوط کیجئے ،اگر ا لطا ف میں بھلائی نظر آتی ہے تو اس کا ساتھ دیجئے ،جیسا کہ میرے محترم بھائی نے کہا ،کہ جو اچھا ہے اس کے ہاتھ مضبوط کرو۔
لیکن جب میں یہ سب باتیں سوچتی ہوں تو میرے اندر کا تخریب کار مجھے روک دیتا ہے کہ نہیں بس اس کی تو تمہیں مخالفت ہی کرنی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے تمہاری پسندیدہ شخصیت پیچھے ہو جائیگی اور بس یہ ہی میری تقدیر کا ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔کیونکہ ہم چاہے کتنا ہی کہیں ہم شخصیت پرستی کا شکار ہو رہے ہیں ۔جس کے مخالف ہیں الاما ن ۔۔۔جس کے حق میں ہیں ماشاءاللہ
اور ہم اپنے اوپر پھر وہ ہی لوگ مسلط کر لیتے ہیں جو ہمیں روندتے آئے ہیں ۔۔میرا خیال ہے جس دن ہم نے خود اپنے لئے سوچنا شروع کر دیا اس دن یہ سارے کاغزی شیر دحاڑنا بھول جائینگے ،مگر خدا را اس خول سے تو نکلو جو کچھوے کی طرح صرف منہ چھپانے کے کام آتا ہے ۔
اُٹھو جاگو کہ جس قافلے کا ایک سپاہی بھی جاگ رہا ہوتا ہے وہ قافلہ لُٹتا نہیں ، یہ میری سوچ ہے ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو ، اور اسے آئندہ کے لئے ہر لوٹنے والے سے محفوظ کردے ۔آمین
عالم آرا
ایتھے بجلی دے نہیں لمّے ھنیرے
ایتھے لوکی بھکے مردے نیں
ایتھے وسدے نہیں وڈیرے
—–
ایتھے چینی وی مہنگی، ایتھے آٹا وہ مہنگا
پر میرے ملک دی دلہن ڑ پاوے اک اک لکھ دا لہنگا۔۔۔۔
زرقا جی آپ نے کمال چیز پیش کی ہے۔۔۔ اصل ضرورت واقعی قوم کو جگانے کی ہے۔ صرف سڑکوں پر لانے کی نہیں، بلکہ انکی سوچ کو بالغ نظری کی ضرورت ہے۔ جو قومیں بچت شعار ہوتی ہیں وہی اپنے مسائل کا کوئی حل نکال سکتی ہیں۔
بھئی زرقا بہت ہی عمدہ وڈیو لگائی ہے .. سچ اس سے اچھی تشریح مہنگائی کی ممکن ہی نہیں اور میں مصباح بھائی کی ہم خیال ہوں اس وقت اصل ضرورت واقعی قوم کو جگانے کی ہے۔ صرف سڑکوں پر لانے کی نہیں، بلکہ انکی سوچ کو بالغ نظری کی ضرورت ہے۔ جو قومیں بچت شعار ہوتی ہیں وہی اپنے مسائل کا کوئی حل نکال سکتی ہیں …
نگہت جی اور مصباح بھائی آپ دونوں کا شکریہ
اسلام علیکم بہن زرقا مفتی جیتی رہئے ۔
بہت خوبصورت ویڈیو ہے ،کاش اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت کی جاسکے ۔
عالم آرا
عوام کو اس وقت یہ پوزیشن لینی چاہئے کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگنے سے پہلے وہ پیٹرولیم مصنوعات یا کسی اور جنس کی قیمت بڑھانے کی مخالفت کرتے رہیں گے اور وہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگنے سے پہلے کسی اور ٹیکس یا موجودہ ٹیکس میں اضافہ کی بھی برملا مخالفت کریں گے۔
اسلام و علیکم
کہیں کوئی دھماکہ ہوا تو فورا خبر آ جاتیہے کت اتنے مرے . اتنے زخمی ہوئے . ہم مجرم کو تلاش کرین گے اگر وہ مر گیا ہوا تو جن لوگوں کی یہ سازش ہے اُن کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی وغیرہ وغیرہ اس طرح کی خبروں سے اخبارات اور ٹی وی چینلز بھرے ہوتے ہیں .
مگر مہنگائی ایک ایسا دہشت گرد ہے ایک ایسا بم ایک ایسا مجرم جو نجانے روز کتنے ہی لوگوں کی جان لے لیتی ہے کتنوں کو زخمی کرتی ہے اور کتنے ہی لوگوں کو تمام عمر کے واسطے معزور کر دتی ہے . اور مہنگائی کا یم گرانے والے کُرسیوں پر بیٹھے بس دعوے کرتے رہ جاتے ہین . ہمارے حُکمران خود ہی عوام کے دُشمن ہو چُکے ہیں جینے کے لئے بُنیادی ضروریات تو ایک زمانے سے پاکستان میں رہنے والی 90 فیصد آنادی کا بس ایک خواب ہی بن چُکین ہیں اب یہ روز بہ روز بھڑتی ہوئی مہنگائی عوام کی گردن پر پنجے گاڑے اس کی آخری سانس کی منتظر ہے مگر حُکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کیوں کہ اس مہنگائی سے اُن پر کوئی اثر نہیں پڑتا –
ہماری عوام کو خود اپنے لئے سوچنا چاہئے یہ لوگ اگر اپنی کرنے پر آ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان مہنگائی کی اس لعنت سے پاک ہو جائے .
عوامی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اگر یہ متحد ہو جایئں تو دنیا کا کوئی طوفان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر اسی طرح تفرقوں میں بٹے رہیں گے تو نہ صرف مہنگائی کا طوفان اٹھتا رہے گا بلکہ ہر طرف سے اندرون اور بیرونِ ملک سامراجی فتنے سر اٹھا کر عوام کو ڈستے رہیں گے۔
ظفر جعفری بھائی کی بات کی تائید کرتے ہوئے اس میں ایک بات کا اضافہ کریں گے، عوام کو قسم کا ٹیکس دینے سے انکار کر دینا چایئے جبتکہ حکومت زرعی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگا دیتی اور دوسرےی بات یہ کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور سینٹ کے اراکین سے بھی باقاعدگی سے ٹیکس لیا جائے، پھر اس آمدنی کو جائز طریقے سے استعمال میں لایا جائے نہ کہ یہ کہ حکومت اسے باپ کا مال سمجھ کے ہڑپ کر جائے۔
حاکمو ! شرم تم کو مگر نہیں آتی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سب جھوٹ ہے بکواس ہے ، پاکستان میں کہیں بھی مہنگائی نہیں ہے ، بازار جائیں لوگ بھرے پڑے ہیں ، بجلی کے بل میں ہر مہینے اضافہ ہوتا ہے ، مگر لوگ دے رہے ہیں ، پٹرول بڑھ گیا ہے مگر سب خوش ہیں ، کوئی سڑکوں پر نہیں آنا چاہتا اور اگر آتا بھی ہے تو لالی پاپ لے کر مزے سے چوستا ہوا گھر چلا جاتا ہے اور جب لالی پاپ ختم ہو جاتا ہے پھر روتا ہے نئے لالی پاپ کے لئے ۔ ۔ ۔
مگر سچ بات یہ ہی ہے کہ کسی کو کوئی فکر نہیں ، اگر حکمرانوں کو برا سمجھتے ہیں تو ہر جلسے میں انکے لئے نعرے کیوں لگاتے
یہ بینر جو اٹھائے ہیں ، یہ سب جھوٹے ہیں ، ابھی کسی سے پوچھیں تو پتہ چلے گا کہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ، نہ مہنگائی پر نہ ہی حکمرانوں پر ۔ ۔ ۔ بس کسی نے پچاس سو پکڑا دئیے ہیں ، اس بینر کو تھامنے کے ، کیا کسی نے کبھی پوچھا ہے کہ اس بینر کی قیمت کیا ہےاور کس نے بنوایا ہےاور اسکے پیسے کس نے دئیے ہیں ؟
بہت کچھ کہنا ہے مجھے ، اور شاید اب مزید تلخ ہو کر کہوں گا ۔ ۔ ۔
اسّلام علیکم معزّز ہم نشینوں ،
بلکل درست فرمایا زرعی ٹیکس کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے ،
اس کے علاوہ حکومت کی شاہ خرچیاں جن میں بیرون ملک علاج پر پابندی بھی شامل ہو ،قومی دولت کے بل پر باہر کے ملکوں کے سیر سپاٹے بھی بند کئے جائیں جو علاج کے نام پر کئے جاتے ہیں ،بفضل تعا لٰی ہمارے وطن کے ڈاکٹرز دنیا کے ہم پلّہ مسیحا ہیں ،ملک کو بیرون ملک کی منڈی بنا کر ہم کو تباہی کے گڑھے میں پھینک دیا گیا ہے ،
قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا ایک شفّاف ادارہ بھی بنایا جائے جس کو محترم شوکت عزیز صاحب نے یہ کہ کر توڑا تھا کہ اس طر ح مسابقت کی فضاء قائم ہو گی ،اللہ ان سے اس ظلم کا حساب لے اور ہم کو اب اچھی حکومت عطا کرے آمین
زائرہ بجّو
بھائی ظفر جعفری مسلہ تو یہی ہے کہ زرعی ٹیکس لگائے گا کون. قانون بنانے والے جب جاگیر دار،وڈیرے اور بڑے برٖ زمیندار خود ہیں تو وہ خود پر کیسے ٹیکس لگائیں گے بلکہ یہ خون چوسنے والا طبقہ تو آج بھی عوام کے لیئے جونک بنا ہوا ہے. ابھی معلوم ہوا ہے کہ اس طبقے کو سوئی گیس جس ریٹ پر ملتی ہے ملک کی صنعت کو وہی گیس سو گنا زیادہ قمیت پر ملتی ہے. جب تک اس اسمبلی میں عوام کے حقیقی نمائندے نہیں آئیں گے وہ عوام کے بارے میں سوچیں گے کہاں سے.
عزیزی ثمرین بخاری. درست کہا آپ نے.اس لعنت سے چھٹکارے کا ایک علاج یہ بھی ہے…..ہماری عوام کو خود اپنے لئے سوچنا چاہئے یہ لوگ اگر اپنی کرنے پر آ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان مہنگائی کی اس لعنت سے پاک ہو جائے …. دراصل وطن عزیز میں عوام کو بتایا ہی نہیں گیا کہ انکی طاقت کیا ہے،ایک بڑی تعداد کو اس شعور سے ہی محروم رکھا گیا ہے اور عوام کے جس طبقے کو یہ شعور ہے وہ یا تو پیٹ کا جہنم بھرنے اور بجلی گیس کے بل دینے میں پھنسا ہوا ہے یا پھر احساس کی کمی ہے. ہم اپنے ارد گرد دیکھتے بھی ہیں کہ کیسے بھوکے ننگے عوام ٹینکوں اور توپوں کے منہہ بند کر دیتے ہیں.
بھائی جعفر حسین اب اس عفریت کو تباہ کرنے کی شاید یہی کلید باقی ہے…….عوامی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اگر یہ متحد ہو جایئں تو دنیا کا کوئی طوفان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر اسی طرح تفرقوں میں بٹے رہیں گے تو نہ صرف مہنگائی کا طوفان اٹھتا رہے گا بلکہ ہر طرف سے اندرون اور بیرونِ ملک سامراجی فتنے سر اٹھا کر عوام کو ڈستے رہیں گے۔…….
بھائی اظہر الحق آپ کا نکتہ نظر ہی تو مجھے یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ عوام بے حس ہو گئے ہیں.آپ نے یہ بات درست لکھی ہے کہ……….مگر سچ بات یہ ہی ہے کہ کسی کو کوئی فکر نہیں ، اگر حکمرانوں کو برا سمجھتے ہیں تو ہر جلسے میں انکے لئے نعرے کیوں لگاتے….. میرا ایک کالم ہے….حکومت تو بے شرم ہے لیکن عوام اس سے بھی زیادہ بے شرم…..
سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ آپ نے اس بلاگ میں اپنی فکر کا مظاہرہ کیا میری عزت افزائی ہے.آپ نے فرمایا کہ ……..بیرون ملک علاج پر پابندی بھی شامل ہو ،قومی دولت کے بل پر باہر کے ملکوں کے سیر سپاٹے بھی بند کئے جائیں جو علاج کے نام پر کئے جاتے ہیں…..جی آپکی دعا تو خیر ابھی مستجاب نہیں ہوئی لیکن کیا طرفہ تماشہ ہے کہ رحمٰن ملک نے یہ قانون بنوانے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے شاعر،ادیب،فنکار،صحافی سب کو بیرون ملک جانے کے لیئے حکومت سے ”این او سی” لینا ہو گا کیونکہ ملک کی عزت کا سوال ہے.
ہائے اوئے میں مر نہ جاؤں کہ اس لٹیرے ٹولے کے اس لٹیرے شخص کو ملک کی عزت کا خیال آ گیا اور این اور سی انکو لینا ہو گا جو باہر جاکر ملک کی عزت بڑھاتے ہیں.
میرا ایمان ہے کہ یوم حساب ضرور ہے لیکن ابھی تو عوام یوم حساب میں ہیں.ان جابر حاکموں کا یوم حساب کب آئے گا کچھ نہیں کہہ سکتا.
بھائی اظہر الحق سلام مسنون۔ خدا آپ جیسے اہل جنوں کو سلامت رکھے جن کے طفیل کبھی کبھی ہم اپنےگریبانمیں جھانک لیتے ہیں تو کبھی دامن یزداں کی طرف لپکتے ہیں۔
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا۔۔۔۔ یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں …(حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمۃ)
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
دوڑو ٖزمانہ چال قیامت کی چل گیا
مہنگائی وہ موضوع بحت ھے جس پر ھر امیر و غریب بات کرنا چاہتا ھے اس مہنگائی نے ھر سفید پوش کی عژت نفس کو مجروح کیا ھے
حکومت کے ہاتھ عوام کی جیبوں میں ھیں وہ عوام کی کمائی کا بڑا حصہ بجلی گیس سیورج کے نام پر لے لیتے ھیں اور عوام خاموشی کے ساتھ
ان واجبات کو ادا کرتی ھے جس کی وہ اہل نہیں ھوتی پھر ایک شریف آدمی کو اپنا گھر چلانے کیلئے کسی کی طرف دیکھنا پڑتا ھے اور یوں
ایک عام آدمی کی انا و خوداری پامال ھوتی ھے کل پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے بعد کراچی میں ھوا لگ رھا تھا عوام کو کوئی نہیں روک سکتا
لیکن ھماری عوام سیاسی دھڑوں میں بٹی ھوئی ھے ایک بڑی سیاسی پارٹی نے لوگوں کو دبا کر حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی سیاسی جماتیں حکومت کے سامنے اپنی دوکان چمکاتے ھیں اور ایشو کو کیش کرواتے ھیں لیکن اس بات میںیہ بھی ھے ایک بری قوم پر ھی جابر وظالم حکمران مقرر ھوتا ھے اصل میں تو ھم خود ایک قوم نہیں ھاں ھم ایم کیو ایم ھیں اے این پی ھیں جماعت اسلامی ھیں پی پی ھیں مسلم لیگ ھیں
کوئی ایک مقام تو ھو جہاں قوم نظر آئے اور سیاست یا لیڈر اُس میں تو ھم اپنے آپ کو یتیم سمجھیںسیاست کیلئے تو کسی کیا خوب کہا ھے
ھمارے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ھوئی ھے طوائف تماش بینوں میں….
آج رہنے دو غریبوں کے لہو کا سودا
کل خریدو گے تو اور بھی سستا ہو گا
اسلام علیکم ساتھیو
آپ سب نے جو کچھ لکھا لمحئہ فکریہ ہے ۔
مہنگائی ایسا ناسور ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن کوئی بھی طبیب اور نا ہی بڑے سے بڑا سرجن اس کی جراحی کر سکا ہے ۔میں ابھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان گئی تھی ۔اور وہاٍ ںجا کر مجھے لگا کہ میں پاگل ہوں ۔کیونکہ آپ شاید ہی یقین کریں کہ میں حیران تھی کہ کس طرح لوگ ماشاءاللھ فاسٹ فوڈ کھا رہے تھے کس طرح باہر کھا نے کے لئے لوگوں کا رش تھا ۔کس طرح بازاروں میں دھکم پیل تھی ۔اتوار بازار کا یہ حال تھا کہ چلنے کے لئے جگھ نہ تھی ۔آپ شاید ہی یقین کریں کہ میں کچھ نہ خرید سکی کہ میرے دماغ میں پہلے والی قیمتیں تھیں جو اب ایکسو پچاس یا شاید دو سو گنا تھیں ۔ایک سادہ لیڈیز سوٹ جو ایکسو بیس روپئے کا سلتا تھا وہ اب چارسو روپئے کا سل رہا تھا ۔لیکن درزی کو سر اُٹھانے کی فرصت نہ تھی میری سمجھ میں نہ آیا کہ مہنگائی کہاں ہے ۔
وہاں میرے لئے بہت مہنگائی تھی لیکن وہاں کے رہنے والوں کے لئے نہیں تھی ، اگر ہوتی تو لوگ اس طرح باہر کھانا نہ کھا رہے ہوتے کھانا گھروں میں پک رہا ہوتا ۔خواتین کپڑے گھر میں سی رہی ہوتیں ۔روٹی گھر میں پک رہی ہوتی ۔
ہماری ایک رشتے کی بزرگ خاتون پان بہت کھایا کرتی تھیں جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو پان بہت مہنگے ہوگئے ۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہہ کر پان کا پودہ منگایا اور ایک گملے میں لگا لیا ۔جب وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ پان اتنے مہنگے ہوگئے ہیں اور میں چھوڑ نہیں سکتی ۔جب اس کے ساتھ محنت کرونگی تو پان کھانے میں بھی کمی ہو جائیگی اور پان خریدنا بھی نہیں پڑینگے ۔
پہلے لوگوں میں صلاحیت تھی اپنی چادر کے مطابق پیر پھیلانے کی ۔لیکن اب ہم سب کچھ بس دوسروں سے کرانا چاہتے ہیں ۔عوام کو صرف بینر دے کر کھڑا کرنے کا کام آتا ہے وہ تو شاید یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ اس پر لکھا کیا ہے ۔
پستا وہ طبقہ ہے جو خود کھڑا نہیں ہوتا اور اپنا بھلا نہیں سوچتا ۔ ہمارے یہاں آج تک کسی نے اس عفریت کی طرف توجہ نہیں دی ۔مہنگائی سب جگہ ہورہی ہے یہاں پر بھی بہت مہنگائی ہے یہ اب ایک عالمگیر مسلہ بن رہا ہے ۔لیکن کوئی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دیتا کیونکہ ہمارے یہاں یہ صرف نعرے کے لئے استعمال ہوتی ہے ،جو اس سے نمٹ رہے ہیں وہ کسی کی توجہ کے لائق نہیں ہیں شاید ۔
آج بھی میرے لیڈر صرف نعرے لگا رہے ہیں مجمع سجا رہے ہیں دھاڑ رہے ہیں ،دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک شریک جلسہ کھڑے ہو کر پوچھ لے کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج آپ کے اپنے ہی کارکنوں کے گھر چولھا جلا کہ نہیں ،؟کتنے کار کنوں کے بچے بھوکے سو گئے ۔ ؟
مگر شاید یہ ہمارا کام نہیں ہے ہمارا کام تو ہے بس زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے ۔
کوئی بھی بات بارَ خاطر ہو تو در گزر کی درخواست کہ مجھے لگتا ہے کہ سب سے زیادہ خطاوار میں ہوں کہ آئینہ دکھانے کی کوشش کرتی ہوں جسے کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا ۔
اللہ میرے ملک کا اور اس میں بسنے واالوں کا حامی و ناصر ہو ۔
عالم آرا
وینکور
کچھ عرصہ قبل لاہور کے علاقہ شاہدرہ ٹائون میں ایک بیوہ نے اپنے بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرلی۔ ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر اس خاتون نے جو تین بچوں کی ماں تھی خودکشی کیوں کی؟
اس کے بچے معلوم نہیں کتنے دنوں سے صرف روٹی سے بھی محرو م تھے۔ مہنگائی کی وجہ سے اور غربت کے باعث معلوم نہیں فاقوں نے اس کے گھر کب سے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ یہ بھی خبر نہیں کہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے دوسروں کے گھروں میں کام کرنے والی اس خاتون نے اپنے بچوں کی بھوک سے تنگ آکر کتنے ثروت مند لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں اور کسی نے بھی اس کی مدد نہ کی ہو اور پھر اپنے بھوک کے مارے بچوں کا وہ دکھ برداشت نہ کرسکی اور اس نے خودکشی کرلی۔
بچوں کے مسلسل فاقوں نے اس کے دماغ کو یقینا اس حد تک مائوف کردیا ہوگا کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آیا کہ جن بچوں کے فاقوں سے دلبرداشتہ ہو کر وہ خودکشی پر مجبور ہوگئی ہے،اپنی ماں کی موت کے بعد وہ معصوم اس بے حس معاشرے میں کس کے سہارے پر زندہ رہیں گے۔ اپنے پیارے بچوں کی بھوک اور مفلسی سے اتنا دلبرداشتہ ہو جانا کہ ایک ماں یا بے روزگار باپ زندگی سے ہی متنفر ہو جائے اور خودکشی کرلے۔
یہ واقعات اب ہمارے ہاں معمول اور روزمرہ کی بات بن چکے ہیں لیکن ہمارے سیاست دانوں، دانشوروں، معیشت دانوں اور سماجی تنظیموں میں سے کسی نے بھی ابھی تک ان دل ہلادینے والی اموات پر اس طرح سے غور نہیں کیا اسلئے کہ ان کے پاس ان باتوں پر غور کرنے کیلئے وقت نہیں ہے یہ واقعات تو ہمارے اور آپ کیلئے رہ گئے ہیں
اقبال نے کہا تھا
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کا جلادو
بس یہی آخری حل رہ گیا ہے
سیدمصباح حسین ، انور ظہیر رہبر اور شعین صفدر بلاگ میں اپنی فکر تقسیم کرنے کا شکریہ۔
فاطمہ ابرار صاحبہ آپ کی سوچ ہماری سوچ ہے ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ۔ آپ نے درست فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔ایک بری قوم پر ھی جابر وظالم حکمران مقرر ھوتا ھے اصل میں تو ھم خود ایک قوم نہیں ھاں ھم ایم کیو ایم ھیں اے این پی ھیں جماعت اسلامی ھیں پی پی ھیں مسلم لیگ ھیں
کوئی ایک مقام تو ھو جہاں قوم نظر آئے۔۔۔
عالم آرا صاحبہ یہ جو آپ نے لکھا ہے یہی تو کلید ہے انقلاب کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج بھی میرے لیڈر صرف نعرے لگا رہے ہیں مجمع سجا رہے ہیں دھاڑ رہے ہیں ،دل چاہتا ہے کہ کوئی ایک شریک جلسہ کھڑے ہو کر پوچھ لے کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج آپ کے اپنے ہی کارکنوں کے گھر چولھا جلا کہ نہیں ،؟کتنے کار کنوں کے بچے بھوکے سو گئے ۔ ؟۔۔۔۔۔۔۔
کاش عوام میں یہ جزبہ کسی طرح بیدار ہوجائے۔حاکموں کو احتساب کا خوف ختم ہو گیا ہے
محمداحمدترازی بھائی آپ کے اکثر دلائل زمینی حقائق اور سچے واقعات ست جُڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ کہنا بجا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مارے سیاست دانوں، دانشوروں، معیشت دانوں اور سماجی تنظیموں میں سے کسی نے بھی ابھی تک ان دل ہلادینے والی اموات پر اس طرح سے غور نہیں کیا اسلئے کہ ان کے پاس ان باتوں پر غور کرنے کیلئے وقت نہیں ہے یہ واقعات تو ہمارے اور آپ کیلئے رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اقوام متحدہ نے انسانی ترقی رپورٹ دو ہزار دس جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی اوسط شرح چون فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اسلام آباد میں پلاننگ کمیشن کے زیر اہتمام تقریب میں یو این ڈی پی نے انسانی ترقی کی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی میں پاکستان ایک سو انہتر ممالک کی فہرست میں ایک سو پچیسویں نمبر پر ہے۔ دو ہزار دس کے دوران پاکستان کا انڈیکس صفر اعشاریہ چار نو رہا جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی اوسط شرح سے بھی کم ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی فہرست میں بنگلہ دیش ایک سو انتیس، بھارت ایک سو انیس جبکہ ایران ستر ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی اوسط شرح چون فیصد ہے۔ پاکستان کی اکاون فیصد آبادی براہ راست غربت کا شکار ہے جبکہ مزید بارہ فیصد پاکستانی غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشیائے خوردو نوش کی بلند قیمتوں کے باعث غربت کی شرح میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی غریب نواز پالیسیاں غیر موثر رہی ہیں، پنجاب حکومت کی سستی روٹی اسکیم کے آغاز میں پایا جانے والا مثبت رحجان برقرار نہ رہ سکا، وفاقی حکومت کابے نظیرانکم سپورٹ پروگرام بھی بڑھتی ہوئی غربت پرقابوپانے کے حوالے سے کارگرثابت نہیں ہوا۔
محترم اظہر الحق صاحب کے مذکورہ بالا تبصرے کی انتہائی بےباک بات نے حبیب جالب کی اس نظم “ میں نے اس سے یہ کہا “ کی یاد تازہ کردی :
http://www.youtube.com/watch?v=M3reG7rUfjA&NR=1
یہ ایوب خاں کا زمانہ تھا اور حبیب جالب اپنی احتجاجی ، انقلابی اور مزاحمتی شاعری سے پاکستان کے عوام کے شعور کو جھنجھوڑ رہا تھا ۔ اس وقت حبیب جالب، آمریت کے خلاف اپنی آواز بلند کرکے بار بار جیل جاتا رہا مگر وہ اپنی بات کہتا رہا ۔
اس کی حق گوئی و بے باکی سے حکام وقت پریشان ہوگئے تھے ۔
آج کل پاکستان کے عوام مہنگائی ، بد عنوانی ، رشوت ستانی ، بدکاری ، بے روز گاری کا شکار ہیں مگر ابھی تک پاکستان کے حکمرانوں کو قوم کے مفاد کا خیال نہیں ۔ وہ اپنی بلٹ پروف گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور عیش منا رہے ہیں مگر عوام کی پریشاں حالی اور بد حالی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ( حج کا اسکینڈل اور نیشنل بنک آف پاکستان کے افسروں کا اسکینڈل جس میں قوم کے لاکھوں کڑوڑوں روپییے ضایع ہوگئے ۔ یہ اور اس طرح کی بدکاریوں اور بد عنوانیوں کے قصے پاکستان کی میڈیا روزانہ سنارہی ہے)
۔۔۔۔۔۔۔
حبیب جالب کی نظم “ میں نےاس سے یہ کہا “ کا رخ اس وقت کے آمر کی طرف تھا مگر اس نظم کا رخ آج کل کے نااہل اور خود غرض اور ناکام صدر پاکستان اور اسکی حکومت کے اہل کاروں کی طرف بھی ہوسکتا ہے:
میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کڑوڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
انکی فکر سوگئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرےپاس ہے ۔ انکے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے ملک کی نجات ہے
توہے مہرِ صبحِ نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں سب یہ شر پسند ہیں
انکی کھینچ لے زباں ، انکا گھونٹ دے گلا
میں نےاس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن کو تھا زباں پہ ناز
چُپ ہیںوہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے ۔ کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید لوگ تیرے راج میں
میں نے اس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔
چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو
اُس کو دور سے سلام
دس کڑوڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام
کیا بنینگے حکمراں
تو یقیں ہے یہ گماں
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نےاُس سے یہ کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظم کا یہ بند مجھے بےحد پسند ہے کہ :
“چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو، دس کڑوڑ یہ گدھے جن کانام ہےعوام کیا بنینگےحکمراں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جالب کے زمانے میں پاکستان کی جملہ آبادی ( مشرقی پاکستان کو ملا کر ) کل دس کڑوڑ تھی ۔ آجکل صرف مغربی پاکستان کی آبادی شائد سترہ کڑوڑ سے بھی زیادہ ہے ( کوئی کہتا ہے اٹھارہ کڑوڑ ہے ) ۔ یہ چالیس سال میں اتنی کیوں بڑھ گئی ؟ یہ بھی سوچنےکا مقام ہے !!!!
اس کے برعکس پاکستان کے زرعی پیداوار محدود ہے مگر جو کچھ بھی ہے وہ زیادہ تر منافع خوروں کے گوداموں میں ہی رہتی ہے یا پھر ہندوستان اور افغانستان کو غیر قانونی طور پر منتقل ہوجایا کرتی ہے ۔ باقی جو کچھ بھی ملک میں موجود ہے وہ اتنی زبردست آبادی کے لیے بالکل کافی نہیں ۔
اس کے علاوہ زرعی امدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے!!!
پاکستان کے رہنما اپنے اپنےمحلوں میں عیش کررہے ہیں ۔ انکو ضرورت مند عوام کی کوئی فکر نہیں ۔
لوگ انقلاب کی باتیں تو کررہےہیں مگر جیسا کہ پاکستان میں رہنے والے مبصروں نے اس بلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی مہنگائی ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔
خدا نہ کرے کہ یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے
پاکستان کے رہنماوں کو خواب سے جاگ کر پاکستان کی بقا کے لیے ضروری اور فوری کام کرنےکی ضرورت ہے ۔ ورنہ جیسا کہ
اوپر ایک مبصر نے کسی کا یہ مشہور شعر لکھا ہے کہ:
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
۔۔۔۔۔۔۔
فقط
منظور قاضی
جرمنی سے
پاکستان کے رہنما اپنے اپنےمحلوں میں عیش کررہے ہیں ۔ انکو ضرورت مند عوام کی کوئی فکر نہیں ۔
لوگ انقلاب کی باتیں تو کررہےہیں مگر جیسا کہ پاکستان میں رہنے والے مبصروں نے اس بلاگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی مہنگائی ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔
خدا نہ کرے کہ یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے
قاضی صاحب شکریہ بلاگ میں اپنے حصے کی فکر ڈالنے کا. عوام پر حکموت کرنے والے حاکم بے لگام ہیں اور وہ اس لیئے انکا احتساب کرنے والا کوئی نہیں اور احتساب عوام کیا کرتے ہیں. آ پ نے کہ خدا نہ کرے کہ …….. یہ مہنگائی پاکستانی عوام کو غلط کام ( چوری ، ڈاکہ ۔، دہشت گردی ، قتل و غارت گری ، اغوا برائے تاوان اور خود کشی اور خود کش حملوں ) ۔ کرنے پر مجبور نہ کردے… تو عرض کرؤں کہ یہ سب کچھ تو وطن عزیز میں ہو رہا ہے. کل ہی کراچی میں ایک شادی کے دوران ڈاوؤں نے دولہا اور دلہن سمیت باراتیوں کو یرغمال بنا لیا اور سب کے زیورات اور نقدی لیکر با حفاظت غائب ہو گئے.
محترم صفدر بھائی اسلام علیکم
جیسا کہ آپ نے حوالہ دیا
کل ہی کراچی میں ایک شادی کے دوران ڈاوؤں نے دولہا اور دلہن سمیت باراتیوں کو یرغمال بنا لیا اور سب کے زیورات او ر نقدی لے کر با حفاظت غائب ہوگئے ‘‘
محترم بھائی یہ ہی تو سلطانی ٹوپی ہے جو ہمارے یہاں سب لوٹنے والوں نے پہن رکھی ہے ،کہ پکڑ کر دکھاؤ تو جانیں ،
عالم آرا
چُپ کر مُنڈیا نہ منگ روٹیاں
کھائیں گا زمانے دے ہتھوں سوٹیاں
چُپ کر ، دَڑھ وَٹ ، کَڈھ دیہاڑے چار
صدیاں تُون بھُکے لوکی کھاندے آئے مار
(حبیب جالب مرحوم)
کس آزادی کی بات کرتے ہو ..جہاں روٹی نہیں .. ہمیں دیکھو .. ہم ڈاکو ہیں اور آزادی سے اور خوشی سے جیتے ہیں …وطن پر لٹنے والوں کو کیا ملا…؟
منزل عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہے .. وطن سے محبت دیوانگی ہے .. یقین کی ایسی منزل جس کی کوئی حد نہیں ..
آج عالمی اخبار پر ہمارا مضمون’’جب جرم کیلئے لوگ اجازت طلب کرنے لگیں‘‘اسی حوالے سے ہے ہم اس مضمون کے بیگ گراونڈ کے حوالے سے آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ واقعہ کراچی میں پیش آیا
جس کی مختصرآتفصیل یہ ہے کہ گزشتہ دنوں الیکٹرانک میڈیا پر مفتی نعیم مہتمم جامعہ بنوریہ ٹاﺅن کراچی کے پاس سائٹ ایریا میں میں کام کرنے والے مزدورں کے ایک وفد نے حاضر ہوکر تحریری طور پر ایک فتویٰ حاصل کرنے کیلئے درخواتست دی
اس تحریر میں انہوں نے اپنے تمام مسائل اور وسائل سے آگاہ کیا اور کہا کہ ان محدود وسائل میں رہتے ہوئے اب ہمارا اپنے بچوں کا پیٹ پالنا انتہائی مشکل اور ناممکن ہو چکا ہے لہذا ہمیں دین اسلام کے حوالے سے بتایا جائے کہ کیا ہم اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے چوری ، ڈکیتی یا دیگر ناجائز ذرائع استعمال کر سکتے ہیں تاکہ ہمارے بال بچے روٹی کھا سکیں ۔
اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے آمدنی چند ہزار روپے ماہانہ ہے جس میں مکان کا کرایہ ، بجلی کا بل ، پانی کا بل ادا کرکے ہمیں کھانے کو کچھ نہیں بچتا بلکہ ڈیوٹی پر آنے جانے کیلئے چار پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہیں اور کرایہ بھی بچاتے ہیں اس کے باوجود ہمارے بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔
مفتی نعیم نے انہیں اﷲ کی طرف رجوع کرنے کو کہا، اور مزید تفصیلی فتوی کیلئے وقت مانگ لیا ، مفتی نعیم نے مزید بتایا کہ ہم نے اس بارے دیگر علماءسے رابطہ کر لیا ہے تاہم یہ ایک بہت ہی دکھ بھری داستان ہے ۔
یہ ان لوگوں کی مثال جو جرم کرنے کیلئے اجازت طلب کر رہے ہیں لیکن ان کا کیا جو بغیر اجازت طلب کئے چوری ، ڈکیتی ، منشیات فروشی ، قتل و غارت اور دیگر جرائم کھلے عام کر رہے ہیں ۔
ایک مفلس بندہ ءو مزدور پہ روئے گا کون
زندگی میں بھی اگرچہ بے سرو سامان تھا
مر کے بھی و ہ رہ گیا اس طرح بے گورو کفن
جیسے اس دنیا کا بس یہ آخری انسان تھا
کیا ہو گا انجام ہمارا۔ کچھ تو سوچو
راہنماﺅ سنو، خدارا کچھ تو سوچو
جھکی کمر مہنگائی سے جب اور جھکے گی
مشکل سے یہ آتی جاتی سانس رکے گی
بھوکی ننگی لاشوں پر کیا راج کرو گے
پچھتاﺅ گے ہمیں اگر تاراج کرو گے
جلتی آگ پہ مہنگا پٹرول نہ چھڑکو
بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کو روکو
پانی ہے گر فتح تو اب مہنگائی کر لو
صرف اسے کم کرنے پر دانائی کر لو
وہ دانائی جو اب تم سے روٹھ چکی ہے
آس اچھائی کی جو تم سے ٹوٹ چکی ہے
سب سر جوڑ کے بیٹھو اور اس آس کو جوڑو
طوفان سے ساحل کی جانب کشتی موڑو
ورنہ اس طوفاں میں تم بھی بہہ جاﺅ گے
کبھی نہ آپس میں لڑنا یہ کہہ جاﺅ گے
لیکن اڑتا وقت تمہاری نہیں سنے گا
تمہیں بھلا کر اپنے لیڈر نئے چُنے گا
تم بھولی بسری تاریخ میں کھو جاﺅ گے
پھٹے پرانے کسی ورق پر سو جاﺅ گے
تم سے پہلے بھی نادان بہت سے آئے
ورق سنہری جو تاریخ میں لے نہیں پائے
مہنگائی کے زور کو توڑو اے نادانو!
ٹوٹا دل مفلس کا جوڑ اے نادانو!
راستے اپنے لیئے خود ہی بنانے ہونگے
اب یہاں کوئی پیمبر نہیں آنے والا
(صفدر ہمدانی)
صفدر بھائی آپ نےتو دکھتی رگ پر ہاتھ رکھدیا ہے۔ اس پر دورائیں نہیں ہو سکتیں کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگایا جانا چاہیئے۔ مگر لگا ئے گا کون وہ جن کی اکثریت ملکر اسمبلی اور کابینہ بنا تی ہے؟ جن کے مظالم کی بنا پر دہی آبادی شہروں کی طرف اپنے آبا و اجداد کے گھر اور قبریں چھوڑ کرطرف بھاگ رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے اس کا علاج کیا ہے؟ علاج صرف اور صرف یہ ہےکہ قیادت کی تبدیلی۔ اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیادت میں تبدیلی لا ئے گا کون؟ عوام اور صرف عوام !مگر قیادت کون کر ے گا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ مور اگر نا چنا بھی چا ہے تو پیروں کو دیکھ کر رودیتا ہے۔اس کا حل کیا ہے؟
شمس جیلانی صاحب نے اپنا تبصرہ “ اس کا حل کیا ہے ؟ “ پر ختم کیا ہے :
میرے خیال میں اس کا حل پیش کرنے سے پہلے اس کی وجہ بھی کہنا ضروری ہے :
پاکستان کی تمام خرابیوں کی جڑ اور وجہ پاکستانی قیادت کی بے ایمانی اور بد کرداری ہے ۔
اس کا حل یہ ہے کہ :
پاکستان کو ایک ایماندار اور بے لوث قائد کی ضرورت ہے ۔
اس حل کی تفصیل یہ ہے کہ :
تحریک انصاف اور ایم کیو ایم دونوں سیاسی پارٹیاں انقلاب کے نعرے لگارہی ہیں ۔ اگر یہ دونوں پارٹیاں پاکستان کے مفاد کی خاطر ایکھٹی ہوجائیں اور پاکستان کو ایماندار اور بے لوث قیادت دیں تو ممکن ہے کہ پاکستان میں جو انقلاب آئے وہ پاکستان کو ایک نئی زندگی عطا کردے۔
مگر اس کےلیے الطاف حسین کو لندن سے پاکستان آکر اپنے تمام اثاثوں کا حساب دینا پڑے گا اور جس طرح عمران خاں نے اپنے تمام اثاثوں کو پاکستانیوں کے سامنےپیش کیا ہے اسی طرح الطاف حسین کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا ۔ اگر الطاف حسین ایسا نہیں کرسکتا تو ایم کیو ایم کو الطاف حسین کی قیادت سے چھٹکارا حاصل کرکے پاکستان میں رہنےوالے ایماندار ایم کیو ایم کےنمائیندوں پر مشتمل جماعت بنانی ہوگی اور پھر عمران خاں کی تحریک انصاف سے سمجھوتہ کرکے پاکستان کو ایماندار اور دیانت دار اور بے لوث قیادت دینی ہوگی ۔
اگر ایسا نہ ہوا تو :
جب تک ایک ایماندار قیادت پاکستان کو میسر نہیں ہوتی اس وقت تک آزاد عدلیہ کی قیادت میں پاکستانی فوج کو ملک میں امن و امان قائم کرکے جلد ا ز جلد انتخابات کا انتظام ایک غیر جانبدار الکشن کمشن کی نظامت میں کروانا ہوگا ۔ ( سنا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین میں اس کا جواز موجود ہے )
شائد اس طرح پاکستان کی مہنگائی اور دوسری تمام خرابیوں پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ
کیا چین کا نظام پاکستان کے لیے ایک مفید رول ماڈل ( قابل عمل نمونہ ) ثابت ہوسکتا ہے ؟
حبیب جالب نے پچاس سال پہلے یہ بند لکھا تھا کہ :
چین اپنا یار ہے ، اُس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام اُس طرف نہ جائیو
اُس کو دور سے سلام
دس کڑوڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام
کیا بنینگے حکمراں
تو یقیں ہے یہ گماں
۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک دوسرے بلاگ کا موضوع بن سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا پاکستان میں رہنے والوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور پاکستان کو ایک ایماندار قیادت جلد از جلد عطا کردے : آمین
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اس صدی میں کوئی آذر نہیں آنے والا
سر بلند نیزوں پہ اب سر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ کر جس کو میں جیتا رہا لمحہ لمحہ
خواب میں میرے وہ منظر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔
زخم اور درد کے رشتے سے میں آگاہ رہا
زخم سے درد بھی باہر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستے اپنے لیئے خود ہی بنانے ہونگے
اب یہاں کوئی پیمبر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب نہ آئے گا کسی کام عصائے موسیٰ
راہ میں سُن لیں سمندر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الوادع جسکو ستاروں نے کیا جاتے ہوئے
لوٹ کر اب وہ مسافر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔
مطمئن سانپوں کو اس امر سے آگاہی ہے
گھر کے اب صحن میں پتھر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنی پُر ہول مسافت ہے کہ دم گھٹتا ہے
ایسے لگتا ہے کہ اب گھر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔۔۔
چشمِ قتال،شفق رنگ، قیامت پیکر
اب تری باتوں میں صفدر نہیں آنے والا
۔۔۔۔۔۔
قاضی صاحب آپ چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کر رہے ہیں ۔ لوگ ملتے ہیں ہر اک سمت خضر کی صورت ، گیڈر پھرتے ہیں کئی دھارے ببر کی صورت
میں صفدر بھائی کی رائے سے متفق ہو ں کہ قوم کو سب کچھ خود ہی کرنا پڑے گا چونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہی ہے کہ وہ انہیں کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت بدلنا چا ہیں، یہ سارے مہرے غیروں کے وفادار ہیں ا ن سے امید وفا محض سراب ہے؟
ہمارے مسائل کا حل صرف زرعی ٹیکس ہی نہیں مکمّل طور پر جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے، دینی جماعتیں اور معاملات میں تو آ گے رہتی ہیں لیکن اس معاملے کو ناجانے کیوں نہیں چھیڑتی ہیں ،یہ نظام ختم ہوئے بغیر کسی بھی اصلاح کی تو قّع بلکل فضو ل ہے
بہن زاءرہ عابدی آپ نے درست فرمایا میں انشا اللہ کل اس کو اپنے کالم میں لکھونگا۔
اسلام علیکم ساتھیو اللہ سب کو صحت اور ذندگی عطا کرے ۔
میرا خیال ہے کہ سیاست یا حکومت کا دھارا بدلنے کو سب کا یکجا ہونا ضروری ہے ۔تبدیلی وہیں آتی ہے جہاں اچھے لوگوں کا ساتھ دیا جائے ہمارے یہاں نہ اچھی قیادت کی کمی ہے نہ اچھے عوام کی ۔
بات صرف کھوج نکالنے کی ہے ۔حل جو میری سمجھ میں آتا ہے وہ بس اتنا ہے کہ ملکو قوم کی خاطر اپنے اختلاف بھول کر اچھے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں ۔چھان پھٹک کر لیڈر چنے جائیں ۔صرف ان کی زبان پر بھروسہ نہ کیا جائے ان کی تقریروں سے انہیں نہ پرکھا جائے ان کے کردار دیکھے جائیں ،جو ہم نے آج تک نہیں کیا ۔اگر عمران میں اچھائیاں ہیں تو اس کے ہاتھ مضبوط کیجئے ،اگر ا لطا ف میں بھلائی نظر آتی ہے تو اس کا ساتھ دیجئے ،جیسا کہ میرے محترم بھائی نے کہا ،کہ جو اچھا ہے اس کے ہاتھ مضبوط کرو۔
لیکن جب میں یہ سب باتیں سوچتی ہوں تو میرے اندر کا تخریب کار مجھے روک دیتا ہے کہ نہیں بس اس کی تو تمہیں مخالفت ہی کرنی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے تمہاری پسندیدہ شخصیت پیچھے ہو جائیگی اور بس یہ ہی میری تقدیر کا ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔کیونکہ ہم چاہے کتنا ہی کہیں ہم شخصیت پرستی کا شکار ہو رہے ہیں ۔جس کے مخالف ہیں الاما ن ۔۔۔جس کے حق میں ہیں ماشاءاللہ
اور ہم اپنے اوپر پھر وہ ہی لوگ مسلط کر لیتے ہیں جو ہمیں روندتے آئے ہیں ۔۔میرا خیال ہے جس دن ہم نے خود اپنے لئے سوچنا شروع کر دیا اس دن یہ سارے کاغزی شیر دحاڑنا بھول جائینگے ،مگر خدا را اس خول سے تو نکلو جو کچھوے کی طرح صرف منہ چھپانے کے کام آتا ہے ۔
اُٹھو جاگو کہ جس قافلے کا ایک سپاہی بھی جاگ رہا ہوتا ہے وہ قافلہ لُٹتا نہیں ، یہ میری سوچ ہے ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو ، اور اسے آئندہ کے لئے ہر لوٹنے والے سے محفوظ کردے ۔آمین
عالم آرا
ایتھے بجلی دے نہیں لمّے ھنیرے
ایتھے لوکی بھکے مردے نیں
ایتھے وسدے نہیں وڈیرے
—–
ایتھے چینی وی مہنگی، ایتھے آٹا وہ مہنگا
پر میرے ملک دی دلہن ڑ پاوے اک اک لکھ دا لہنگا۔۔۔۔
زرقا جی آپ نے کمال چیز پیش کی ہے۔۔۔ اصل ضرورت واقعی قوم کو جگانے کی ہے۔ صرف سڑکوں پر لانے کی نہیں، بلکہ انکی سوچ کو بالغ نظری کی ضرورت ہے۔ جو قومیں بچت شعار ہوتی ہیں وہی اپنے مسائل کا کوئی حل نکال سکتی ہیں۔
بھئی زرقا بہت ہی عمدہ وڈیو لگائی ہے .. سچ اس سے اچھی تشریح مہنگائی کی ممکن ہی نہیں اور میں مصباح بھائی کی ہم خیال ہوں اس وقت اصل ضرورت واقعی قوم کو جگانے کی ہے۔ صرف سڑکوں پر لانے کی نہیں، بلکہ انکی سوچ کو بالغ نظری کی ضرورت ہے۔ جو قومیں بچت شعار ہوتی ہیں وہی اپنے مسائل کا کوئی حل نکال سکتی ہیں …
نگہت جی اور مصباح بھائی آپ دونوں کا شکریہ
اسلام علیکم بہن زرقا مفتی جیتی رہئے ۔
بہت خوبصورت ویڈیو ہے ،کاش اس آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت کی جاسکے ۔
عالم آرا