انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریوڑ کی شکل میں رہتے ہیں ، اور انکا ایک لیڈر ہوتا ہے ، جو اپنی تھوتھنی اٹھا کر ان سب کی رہبری کرتا ہے ، مگر انکی ایک اور بھی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے ، اور چاہے کتنی کھلی جگہ پر یہ ہوں ایک دوسرے کو رگڑتے رہتے ہیں ، یہ عجیب جانور ہے جسے گندگی پسند ہے ، جب کچھ بھی نہ ملے تو اپنا فضلہ بھی کھا لیتا ہے ، جس جگہ رہتا ہے اسے گندا کرتا ہے ، جو لوگ اسے کھاتے ہیں ، انہیں سب سے بڑا مسلہ ہی اسکے گوشت کو صاف کرنے کا ہوتا ہے ، یہ بیماریوں کا باعث بنتا ہے نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ جانوروں کے لیے بھی ، مگر یہ پھر بھی پالا جاتا ہے ، اسے کھایا جاتا ہے ، اسے ایک خوبصورت شکل دی جاتی ہے ، مگر یہ اپنی خصلتیں نہیں بدلتا ، بدلے بھی تو کیسے کہ یہ تو جانور ہے ، اسکا سب سے زیادہ کام کھڑی فصلیں تباہ کرنا ہے ، انکا ریوڑ جب بھاگتا ہے تو نہیں دیکھتا کہ آگے کیا ہے اور سب کچھ روندتا چلا جاتا ہے ، یہ جانور دوسرے تمام جانوروں سے مختلف طریقے سے اپنی افزائش کرتا ہے ، ایک مادہ کتنے ہی نروں کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ واحد جانور ہے جو مادہ نہ ملے تو نر کو یہ تختہ مشق بنا لیتا ہے ، اس معاملے میں یہ بہت تمیز سے قطار بنا لیتا ہے کہ میری باری آ جائے گی
آپ بھی سوچیں گے کہ مجھے آج کیا سوجھی ، آج میں نے اپنے حاکموں دیکھا تو یہ بالکل اس جانور جیسے لگے ، یہ بھی گندگی سے لتھڑے ہوئے ہیں ، مگر ایک دوسرے کو چاٹ رہے ہیں ، اقتدار کے لئے قطار بنا کر کھڑے ہیں ، اور عوام سے انکا دور کا واسط نہیں ، اب کیا کروں کہ میں نہ اپنے حاکموں کا نام لے سکتا ہوں ، اور نہ اس جانور کا کہ زبان ناپاک ہوتی ہے

اظہر بھائی۔
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔
اس سے بہتر، مدلل اور مضبوط تشبیہہ نہیں دی جا سکتی۔ میں آپکی تشریح کا معترف ہوں۔
ا ظہر بیٹا میں بھی دکھی دل کے ساتھ آپ کی ہم آواز ہوں
خدا وند کریم ہمارے حال پر رحم کرے آمین
قمر نے کیا اچھا سچ کہا کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی .. کیا لکھوں سچ دل اتنا خراب ہو رہا ہے کہ سوچ سوچ کر بے حال ہوں کہ کیا ہونے والا ہے .. ان خنزیروں سے کب جان چھٹے گی ..کب اندھیرے پاکستان سے جائیں گے .. خدا جانے .. کبھی کبھی مایوس سی ہو جاتی ہوں .. بس دعا ہی کر سکتی ہو سو وہ اٹھتے بیٹھے جب یاد آجائے کرتی ہوں .. اب تو اذان دینے کا وقت ہے میرے بھائی .. بس اذان دینے کا ..
اللہ ہمارے حکمرانوں کو کچھ غیرت و شرم عطا فرماےء ورنہ ہماری سوہنی دھرتی
کو ان جیسے لوگوں سے نجات دلواےء.
آمین ثمّہ آمین
اظہربھائی ،،
کیا برحق، بروقت تشبیہ پیش کی ہے
جو خوبیاں ہمیں اپنے سیاستدانوں میں نظر آتی تھیں لیکن ان کے ماخذکےبارے میں نہیں جانتےتھے
آج پتہ چلا وہ بھی اس ناپاک جانورسےمستعارلی گئی ہیں ۔۔
جب ملک ان ناسوروں کےہاتھ میں ہوگا توبرکت کی توقع رکھنا فضول ہے۔
بہتری کی امید کرنا بےکارہے۔۔
بھائی اظہر نے درست فرمایا ہے کہ
”اب کیا کروں کہ میں نہ اپنے حاکموں کا نام لے سکتا ہوں ، اور نہ اس جانور کا کہ زبان ناپاک ہوتی ہے“
————————————————
اور قمر بھائی نے بھی اس کو مخمل میں لپیٹ دیا ہے
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔
——————————————-
آپی اذان دینے کا وقت تو ہے مگر اذان کون دے گا مولوی بھی تو اسی دوڑ میں شامل ہے جس سے پناہ کے لیئے اذان دینے کا سوچا جائے
ھماری عوام سب بھیڑیا چال چل رہے ہیں اپنی ذات اپنا وقار اپنی حیثیت سب کھو دی ہے ھم نے اب ھم صرف اور صرف غلامی میں جینا چاھتے ہیں اور جو ایسے نہیں ہیں وہ ظلم سے پرسرِ پیکار ہیں اور اس پاداش میں مسلسل ظلم سہ رہے ہیں
محترم اظہر صاحب ،
اگر یہ سب ” وہ “ نہیں تو ان کی آنکھ میں ” اس “ کا بال ضرور ہے !
آہ!! شکر ہے نام سننے سے بندہ ناپاک نہیں!!!
ایسے ناپاکوں کو تو گالی دینا بھی مشکل ہے کہ یہ خود گالی کے لئے گالی ہے!!!