اُس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے ہی کسی بلاگ میں میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جس دن امریکہ ہماری امداد روک دے گا میں سو نوافل شکرانے کے ادا کروں گا اور اب کشکول کی مخالف پوری غیرت مند پاکستانی قوم کو امریکی امداد معطل ہونے کی خوشخبری سنائے جانے کے بعد میں روزانہ دو نفل صلاۃ شکرانہ تب تک ادا کرتا رہوں گا جب تک یہ معطل شدہ بھیک ہمیشہ کے لئے بند نہیں ہو جاتی ۔ آئیے میرے ساتھ آپ بھی شکرانے کے نوافل ادا کریں اور یہ بھیک ہمیشہ کے لئے بند ہونے کی دعا فرمائیں ۔

کیا یہ بھیک اب بند رہنی چاہیئے یا ہمیشہ کی طرح امریکہ کے پاؤں پکڑ کر کشکول پھر بڑھا دینا چاہیئے ؟

کیا ہم ایک غیرت مند قوم کا ثبوت دیتے ہوئے اس امداد کے بغیر گذارہ کر سکتے ہیں ؟

کیا اب بھی اپنی قربانیوں اور غلامی و تابعداری کی انتہا کے بعد اپنی انا اور خوداری ثابت کرنے کا وقت نہیں آیا اور اگر وہ وقت آچکا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟

آپ سب سے اس بلاگ کو اعداد و شمار ، ٹھوس حقائق اور موافق و مخالف دونوں آراء کی روشنی میں پوری پاکستانی قوم کی آواز اور ایک نمائیندہ بلاگ بنانے کی پُر زور اپیل ہے ۔ آپ سب کا پیشگی شکریہ ۔

30 thoughts on “اُس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔”

  1. میرے خیال میں پاکستانی امداد روکنے کی مندرجہ ذیل بنیادی وجوہات ہیں :
    پاکستان کی ” ڈو مور “ پہ ہچکچاہٹ یا انکار ، کیونکہ سوات اور جنوبی وزیرستان کے بعد اب امریکہ شمالی وزیرستان پہ بھی چڑھائی کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے جو اب تک اس کی خواہشات کے برعکس التوا کا شکار رہا ۔

    ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکہ القائدہ کے دوسرے راہنماؤں کی تلاش میں اپنے سی آئی اے ایجنٹوں کے لئے مزید مراعات کا طلب گار تھا جبکہ اِدھر سے ایجنٹوں کے روپ میں پہلے سے آئے اس کے ٹریننگ سٹاف کو ہی بتدریج واپسی کی راہ دکھائی جا رہی ہے جس کا اسے سخت قلق ہے ۔

    ریمنڈ ڈیوس اور پھر اسامہ آپریشن کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار تھے اور امریکی حکام بلیک میلنگ کی ٹیکٹکس استعمال کرتے ہوئے پاکستان ، بالخصوص پاکستان آرمی ، کو دباؤ میں رکھنے کی خاطر امداد پہ بندش اور شرائط کے ذریعے اپنے مزید مطالبات منوانے پہ بضد ہیں ۔

    جی ایچ کیو اور مہران بیس جیسے حملوں اور آرمی کے ہائی ریکننگ آفیسرز کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کی روشنی میں امریکہ کو پاکستان کے خلاف ایک اور ایف آئی آر ہاتھ آگئی ہے جسے وہ آئی ایس آئی کے خلاف پہلے سے جاری مسلسل پراپیگنڈے کے ہمراہ ہماری سلامتی پہ حملے کی پیش بندی کے طور پہ استعمال کر رہا ہے اور اب ڈاکٹر قدیر اور کچھ جرنیلوں کو ایٹمی راز بیچنے میں ملوث کرتے ہوئے کھلم کھلا ہماری ایٹمی صلاحیت کے درپے ہے ۔ چنانچہ اب یہ امداد روک کر یا تو پاکستان کے عدم استحکام پہ درپے ہے یا پھر اپنی شرائط پہ نئی سودا بازی کرنا چاہتا ہے ۔

  2. مبارک ہو تمہیں خوشی کا یہ سماں ۔۔۔ مجھے خوشی آپ کے آجانے کی بھی ہے ۔۔ انشاللہ ہم سب شکرانے کے نفل ادا کریں گے ۔۔

  3. اُس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔ امریکی امداد سے موت بہترھے سیاست کی اور خاص کر عالمی سیاست کے بارے میں اپنی کم فہمی کا کا برملا اعتراف کرتے ھوۓ اس بات کا یقین ھے کہ 800 ملین ڈالر کی امریکی امداد کی معطلی کی خبر سن کر ھمارے امریکی غلام سیاست دان رویئنگے اور پوری قوم شکر ادا کریگی امریکی امداد کی ،معطلی سے منسوخی تک ھم اللہ سے دعا کرتے رھنگے کہ یا اللہ ھمارے غلام سیاست دانوں کو بھی عقل آجاۓ

    جناب جاوید اقبال کیانی کی طرح انشا اللہ پوری قوم شکرانہ کے نفل ادا کریگی اور ساتھہ میں ھم سب بھی

    امریکہ یوں بھی گاھے بگاھے ھماری امداد کو روکتا ھے اور امداد کے بہانے ھمارے مللک کو ھمشیہ نقصان ھی پہچہتا ھے۔دھشت گردی کو روکنے کی اس جنگ میں پاکستان اور پاکستانیوں نے بہت جانی اور مالی نقصان آٹھایا ھے ،

    محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب بات تو سچ ھے مگر

    جی ایچ کیو اور مہران بیس جیسے حملوں اور آرمی کے ہائی ریکننگ آفیسرز کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کی روشنی میں امریکہ کو پاکستان کے خلاف ایک اور ایف آئی آر ہاتھ آگئی ہے جسے وہ آئی ایس آئی کے خلاف پہلے سے جاری مسلسل پراپیگنڈے کے ہمراہ ہماری سلامتی پہ حملے کی پیش بندی کے طور پہ استعمال کر رہا ہے اور اب ڈاکٹر قدیر اور کچھ جرنیلوں کو ایٹمی راز بیچنے میں ملوث کرتے ہوئے کھلم کھلا ہماری ایٹمی صلاحیت کے درپے ہے ۔ چنانچہ اب یہ امداد روک کر یا تو پاکستان کے عدم استحکام پہ درپے ہے یا پھر اپنی شرائط پہ نئی سودا بازی کرنا چاہتا ہے ۔

    پاکستان امریکہ کی دھشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے اھم حلیف رھا ھے اور اس جنگ کی وجہ سے خود بھی بڑے پیمانے پر دھشت گردی کا شکار رھا ھے ، دیکھیے اب سیاسی مداری کیا نیا تماشہ دکھاتے ھیں
    اب اس سے زیادہ کیا نقصان ھوگا ؟

    ھم نے اس کشکول کو توڑنا ھے

    Say no to American aid

    جب پاکستان نے امریکی تخریب کاروں کو ویزے دینے سے انکا رکیا امریکہ نے امداد روک دی اب بھی شمسی آیئر بیس کو خالی کرنے پر امریکہ نے امداد کو روک دیا ھے ۔ھمارے بھیکاری سیاست دان اب امریکہ کے قدموں میں بیھٹہ جایئنگے پاکستان کی سالمیت کا سودا کرنے والے ، ھمارے بچوں کا مستقبل بھی گروی کرنے والے یہ غلام سیاست دان دیکھے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اب کیا کرتے ھیں

    پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ابھی پاکستان کو امریکی امداد کی معطلی کی سرکاری طور پر کوئ اطلاع نیہن دی گی ھے

    یہ بلاگ اور متعلقہ مضمون کی اھمیت اپنی جگہ مگر ایک فوجی لطیفہ سن لیں ،

    امریکا نے پاکستان کو کچھہ حربی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا ۔اور پھر Out dated حربی امداد روک لی تھی اس میں جو سامان شامل تھا وہ پاک فوج نے لینے سے انکار کردیا تھا۔

    اب تو لطیفے پر ھسنے کا فیشن ھی ختم ھوگیا

  4. السلام علیکم۔
    اسلامی نظریہ کے مطابق اگر صدقہ زکاۃ دینے سے اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ اثر رکھتی ہے تو لازمی بات ہے ۔دوسروں کی امداد بھی کچھ نہ کچھ ہم پر اچھا یا بُرا اثر رکھتی ہی ہوگی۔
    کیا پاکستان کی عوام یا حکومت پر اس تاثیر کا اثر نہیں ہوگا۔ ویسے بھی پاکستان ایک رشوت سٹیٹ بن چکی ہے ۔
    جیسی عوام ویسے ہی حکمران۔
    10٪ سے 100% ملک کا صدر ہو۔اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی۔
    اللہ آپ کے نفل نیکیوں میں قبول فرمائے ۔اس قوم کے بدلنے کا کوئی چانس نہیں ۔
    وسلام۔
    آویز برمنگھم

  5. محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ،

    گو چند مجبوریوں کی بنا پہ مزید ایک ہفتہ کی مہلت مانگی تھی مگر بے غیرتی کے پسینے یا غیرت کے خون نے اتنا جوش مارا کہ احتجاج کا بے قابو لاوا بلاگ میں واپس گھسیٹ لایا ۔ میں اس بلاگ میں امریکہ کی دوستی اور اس دوستی کی قیمت ، امریکہ کی دشمنی اور نتیجتا ّ ممکنہ خطرات ، امریکی مطالبات اور ڈو مور کے تقاضوں ، امریکی بلیک میلنگ اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مکروہ سازشوں اور منصوبوں ، ہمارے مدہوش حکمرانوں کی بے بسی ، بے غیرتی ، انتہائی اہمیت کے داخلہ اور خارجہ مسائل سے عدم توجہی اور عوامی خواہشات پہ لکھنے کی سعی کروں گا ۔ آپ سے ، اور تمام قارئین و مبصرین سے بھی ، اپیل ہے کہ انہی لائینز اور اوپر اٹھائے گئے سوالات پہ اپنی معلومات کے ذخیرے اس بلاگ میں جمع کرتے ہوئے اسے کسی ایک شخص یا اخبار کی بجائے پوری غیور پاکستانی قوم کی آواز اور نمائیندہ بلاگ بنائیں ، شکریہ ۔

    ڈاکٹر صاحبہ ، آپ سے خصوصی مدد اور راہنمائی کی درخواست ہے ، آپ کا بہت شکریہ ۔

  6. محترم جناب آویز صاحب ،

    استاد محترم ، سب سے پہلے تو اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود اس بلاگ کو عزت بخشنے اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ ۔ ایک شہر میں ہوتے ہوئے بھی اتنے عرصہ بعد آپ سے ملاقات ہوئی اور وہ بھی عالمی پلیٹ فارم پہ جو بڑی خوش نصیبی کی بات ہے ، میں اسے عالمی اخبار کا کمال یا احسان نہ کہوں تو پھر کیا کہوں !

    ” دوسروں کی امداد بھی کچھ نہ کچھ ہم پر اچھا یا بُرا اثر رکھتی ہی ہوگی “

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسروں کی امداد میں پہلے احسان مندی اور پھر زبان بندی غالب آجاتی ہیں اور بات کبھی کبھی وطن فروشی تک جا پہنچتی ہے ۔ امریکہ نے آج تک ہماری مدد تو کی ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمارا سودا کیا ورنہ مدد تو وہ اسرائیل کی بھی کرتا ہے لیکن دونوں جگہوں کا فرق واضح ہے ۔ میں ، اور شاید دوسرے قارئین و مبصرین بھی ، اس امداد یا سوے بازی پہ مزید لکھنے کی کوشش کریں گے ۔

    ” 10٪ سے 100% ملک کا صدر ہو۔اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہوگی “

    حضور ، یہ بھی تو پاکستان کی مدد کی ہی ایک قسم ہے جو پاکستان کو ڈکٹیٹر شپ سے نکال کر لبرل ڈیموکریسی کی طرف لاتے ہوئے این آر او کی شکل میں دی گئی اور دھتکارے ہوئے چہرے دوبارہ لاکر مسلط کر دئے گئے ۔ اس طرح کی مدد امریکہ وقتاّ فوقتاّ پاکستان کو اکثر عطا کرتا رہتا ہے ۔

    ” اللہ آپ کے نفل نیکیوں میں قبول فرمائے ۔اس قوم کے بدلنے کا کوئی چانس نہیں “

    استاد محترم ، مایوسی کفر ہے ۔ آپ خود بھی تہیہ فرمائیں روزانہ دو رکٰعت صلاۃ شکرانہ یا صلاۃ الحاجت پڑھیں اور اپنے تیز دھڑکتے دل اور بھیگی آنکھوں سے دعا فرمائیں اثر ، قوم کی تبدیلی کا ، خود بخود دیکھ لیں گے ۔ وقت دینے کا بہت شکریہ ۔

  7. محترمہ شاہین حیدر رضوی صاحبہ ،

    ” 800 ملین ڈالر کی امریکی اور پوری قوم شکر ادا کریگی امریکی امداد کی ، معطلی سے منسوخی تک ھم اللہ سے دعا کرتے رھینگے کہ یا اللہ ھمارے غلام سیاست دانوں کو بھی عقل آجاۓ “

    محترمہ ، آپ نے بجا فرمایا کہ امریکی امداد کی معطلی پہ ہمارے امریکی غلام سیاست دان روئینگے کیونکہ امریکی امداد دراصل آج تک ہمارے حکمرانوں کو ہی ملتی رہی ہے ۔ ڈالروں کی یہ برسات مشرف دور میں شروع ہوئی اور آج دیکھ لیں کہ مشرف کہاں پہنچ گیا اور پاکستان کہاں رہ گیا ۔ یہی مستی زرداریوں ، گیلانیوں اور ’ پرویزیوں ‘ پہ بھی سوار ہے ۔ اگر اپنی موت آپ مر رہا ہے تو بچارا پاکستان !

    بلاگ کو عزت بخشنے کا بے حد شکریہ ۔

  8. غلاموں کی تقدیر میں آزادی تب تک نہی ہوتی
    زنداں کی صوبت جب تک سہی نہی جاتی

    امریکہ کبھی بھی امداد بند نہی کر سکتا کیوں کہ اُسکی مجبوری ہے اپنے فوجی زندہ افغانستان سے نکالنے کیللیے۔بس جھکنا چھوڑ دیں ہم ۔

  9. جیسے انسان غم وغصے میں ھذیان بکتا ھے کبھی دوسروں پر سنگ برساتا ھے اور کھبی خود ان پھتروں سے اپنی تواضع کرتا ھے ر اس کو اپنی کچھہ خبر نیہن ھوتی ھے، یقین کریں کھبی کھبی یہی حالت میری ھوتی ھے۔ پاکستان میں اس وقت جو کچھہ ھورھا ھے سب کچھہ جانتے ھوۓ بھی عوامی بے بسی کا احساس رولاتا ھے ،

    مجھہ کم فہم کی طرح سب جانتے ھیں کہ ایمی ریکا پاکستا ن کا سب سے بے اعتبار دوست ھے ،ایک ایسا حلیف جو ھمہ وقت حریف بننے پر امادہ رھتا ھے جب روس کا وجود باقی تھا تو امریکہ پاکستان پر بہت شفقت کرتا تھا جیسے افغانی طالبان اور القاعدہ کے لیے وہ اسلحہ اور امداد فراھم کرتا تھا۔ 1971میں بھی امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور اقتصادی امداد روک لی تھی اور سارے ممالک کو حکم دیا تھا کہ پاکستان کی ھر طرح کی امداد روک لی جاۓ سعودیہ، امریکہ کے بعد پاکستان کو سب سے زیادہ امداد دیتا ھے اس نے سب کو پاکستان کی امداد بند کرنے پر مجبور کیا اور ساتھہ ساتھہ انڈیا کو بے تحاشہ فوجی اوراقتصادی امداد کے ساھتہ مکتی باھمی کو ھتیار بھی فراھم کرتا تھا اس دوران انڈیا کو اسرايئل اور روس اور ديگر ذرائع سے بے تحاشہ اور بھرپور فوجی امداد کی فراھمی کو یقینا بنایا گیا

    1974 میں انڈیا نے ایٹم بم کی تیاری شروع کی
    1979 میں جمی کارٹر نے پاکستان کی امداد بند کردی تھی
    کہ پاکستان اٹیم بم اسلامک بم بنا رھا ھے اور خطے کے لیے سخت خطرہ بن جاۓ گا ،
    1981 میں ریگن نے اس پابندی کو ختم کیا 3۔5 بلین کی فوجی اقتصادی اور ترقیاتی کاموں کے لیے سب سےزیادہ امداد بھی دی
    پچھلے 5 سالون میں پاکستان کو سب سے زیادہ امداد 26 کروڑ 80لاکھہ کی خطیر رقم دی گی ھے

    امریکہ نہ صرف پاکستان کو فوجی امداد اور اس کے سیاست دانوں کو اپنی مکمل گرفت میں رکھنے پر بہت بڑی رقم خرچ کرتا ھے
    بلکہ دھشت گردوں کوبھی امداد اور اسلحہ فراھم کرتا ھے اسی لیے امریکہ ھمارا سب سے ناقابل بھروسہ دوست نما دشمن ھے
    اور پاکستان میں امریکہ کے خلاف بہت نفرت پائ جاتی ھے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی امریکہ ھے

    ستمبر 2001میں پاکستان کو اور عوام کو پاکستان کی سلامتی کو سب سے نقصان سابقہ فوجی امر پرویز مشرف نے پہچایا

    امریکہ کی ناقابل قبول 7 شرائط کے عوض مللک کی سلامتی کا سودا کردیا
    پاکستان کے داخلی معاملات میں خونی مداخلت بھی امریکہ کے اشارے اور لاکھوں ڈالر کے نتیجے میں ھی کی جاتی ھے ۔

    اب نہ ھمارا دوست ھے اور نہ ھی امریکہ کی دوستی پر بھروسہ کیا جاسکتا ھے
    دونوں میں ایک ایسا بے اعتبار رشتہ قائم ھے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ھے

    امریکہ کی معطل و منسوخ امداد کی اب پاکستان کو ضرورت نیہن رھی ھے ، اس وقت میڈیا کا فرض ھے کہ عوامی بیداری کی لہر کو متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کرے

  10. ” ہوئے تم دوست جس کے ، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ؟ “

    یہ شعرہ آفاق قول ، شعر یا مصرع ، شاید پاک امریکہ دوستی پہ ہی لکھا گیا ہو کیونکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم نے اس دوستی کا جو رنگ و روپ دیکھا ہے وہ اسی شعر یا مصرعے کی تعبیر ہی نظر آیا ۔ قیام پاکستان کے بعد روس کے دوستانہ جذبات کو ٹھکرا کر امریکی دوستی ، تابعداری زیادہ ، کو اولیت دی گئی ۔ تاریخ میں ایسے مقامات بھی آئے جب اپنے حکمران بھی امریکہ سے ہی امپورٹ کرنے پڑے ۔ سیٹو اور سینٹو میں شامل ہوکر دو عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سرد جنگ میں فریق بن گئے ۔ امریکہ کو جاسوسی کے اڈے دے کر روس کو للکارا اور نتیجتاّ اعلانیہ اس کے دشمنوں میں شامل ہو کر امریکی خوشنودی میں اپنی سلامتی داؤ پہ لگا دی ۔ انڈیا نے جب بھرپور طاقت ، پراپیگنڈے اور مکمل روسی پشت پناہی سے پاکستان پہ حملہ کردیا تو ’ ہمارا دوست ‘ نہ صرف چھٹا بحری بیڑہ لے کر سمندروں میں پکنک کرتا رہا اور ہماری شکست اور دو ٹکڑے ہونے کا تماشہ دیکھتا رہا بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہماری فوجی امداد ہی روک بیٹھا کیونکہ یہ سیٹو سینٹو جیسے معائدات سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔

    شکست شدہ اور باقی ماندہ پاکستان کے ساتھ دوستی کے نئے سفر کے پیمان کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان کی فوجی امداد بحال کر دی جاتی ہے لیکن وہ صرف زنگ آلود بندوقوں تک ، جبکہ چند ایف سولہ طیاروں ، اور وہ بھی ڈاؤن گریڈڈ ، کے بعد ان کی ادائیگی کے باوجود ان کی سپلائی ہی روک دی جاتی ہے ۔ اپنی سلامتی کے لئے پاکستان جب ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش شروع کرتا ہے تو ’یہی دوست ‘ مخالفت میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے ۔ فرانس پہ دباؤ ڈال کر ری پراسیسننگ پلانٹ کا طے شدہ سودا رکوا دیتا ہے ۔ جب پاکستان کسی نہ کسی طرح یہ سفر شروع کر دیتا ہے تو ملک میں ڈالروں کی بارش کرکے سیاسی عدم استحکام اور نتیجے میں جمہوریت کو آمریت سے بدل کر اس عوامی لیڈر کو ہی راستے سے ہٹا دیتا ہے ۔ اس دوستی میں اسے یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ وہ اپنے ’ دوست پاکستان ‘ کو آمریت کی جس نئی دلدل میں پھینک رہا ہے کیا اس کے بعد وہ کبھی سنبھل بھی سکے گا کہ نہیں !

    امریکی سامراجیت اور روسی کیمونزم کی سرد جنگ اپنے عروج پہ پہنچتی ہے ۔ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے بیشتر ممالک پہ قبضے کے بعد روس اپنی توجہ افغانستان پہ مرکوز کرتا ہے اور سیاسی افراتفری کے ان گنت حادثات کے بعد بالآخر وہاں اپنے پنجے گاڑھ لیتا ہے اور افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیتا ہے ۔ غیرت مند افغان مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ پاکستان اس خطرے کو سمجھتے ہوئے افغان مذاحمت کاروں کا ساتھ دیتا ہے ۔ روسی جہاز کھلم کھلا پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں شروع کر دیتے ہیں ۔ سرخ انقلاب کی حامی پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی کے بھی پر پرزے نکل آتے ہیں جو کابل کی سرحد نوشہرہ تک بڑھانے کے دعوے شروع کر دیتی ہے ۔ کیمونزم کے خلاف پاکستان کا ’ سیٹو اور سینٹو کا دوست ‘ ہماری اخلاقی ، سیاسی ، مالی یا فوجی مدد کی بجائے ہماری بے بسی کا تماشہ دیکھتا رہ جاتا ہے اور چند ملین کی امداد کا وعدہ کرتا ہے جسے بڑی حقارت سے ’ مونگ پھلی‘ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے ۔ افغانوں کی مزاحمت جب بڑھنا شروع ہوتی ہے تو ” ہمارے دوست‘ کو اپنی ویت نام کی خفت مٹانے کی سوجھتی ہے چنانچہ وہ میدان میں کودنے کا فیصلہ کر لیتا ہے ۔ دنیا بھر سے جہادی جمع کئے جاتے ہیں حتاکہ دنیا کے کسی حصے میں گدھے اور خچر بھی نہیں بچتے جو امریکی ڈالروں میں تُل کر افغانستان اور افغانستان سے ملحقہ ہمارے قبائیلی علاقوں ، وزیرستان وغیرہ ، میں پہنچا دئے جاتے ہیں ۔ اسامہ بن لادن جیسے جہادی ہیرو بنا کر روس سے برسرپیکار کر دئے جاتے ہیں ۔ عالمی میڈیا ان جہادی سرفروشوں کی لمحہ بہ لمحہ شجاعت اور فتح کی داستانیں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے پہ مامور ہو جاتا ہے ۔ آج کے ڈرون کے مقابلے میں سٹنگر میزائیل ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات اور پھر ان کا استعمال اور مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کی ہر طرح سے ناز برداریاں کی جاتیں ۔ ہمارے خلیفہء وقت جب جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے جاتے تو ان کے خطاب سے پہلے تلاوت کلام پاک کا بھی بندوبست کیا جاتا ۔ اِدھر روس کو شکست ہوئی اُدھر ’ ہمارے دوست ’ نے بھی بستر لپیٹا اور نہ صرف افغانستان کو خانہ جنگی میں جھونک دیا بلکہ آتے آتے پاکستان میں اسلحلہ بارود کے ذخائیر ، اوجھڑی کیمپ اور پھر نوشہرہ ، اور ان کے ساتھ ان گنت خاندانوں کو بھی تباہ و برباد کر آیا ۔

    روس کی شکست کے بعد افغانستان میں ایک اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہو چکی تھی ۔ ضیاء الحق اس کا مکمل حامی تھا کیونکہ کیمونزم کے بعد ایک اسلامی افغانستان پاکستان کے مکمل مفاد میں تھا لیکن سب سے پہلے ضیاء الحق کو راستے سے ہٹا کر امریکہ نے ’ روائیتی دوستی‘ کا اعادہ کیا اور اس کے بعد افغانستان میں جاری خانہ جنگی سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ یہ خانہ جنگی پاکستان کے لئے بھی درد سر تھی ۔ جب طالبان تحریک شروع ہوئی اور آن واحد میں کامیابیوں سے بھی ہمکنار ہونے لگی تو اپنے فائدے کی خاطر پاکستان نے اس تحریک کی حمایت کر دی ۔ جب پورے افغانستان میں طالبان ہی چھا گئے تو ان کی حکومت کو امریکہ اور سعودی عرب نے بھی تسلیم کر لیا ۔ امریکہ جس کی نظریں وسطی ایشیاء ریاستوں کے معدنی وسائل پہ تھیں نے طالبان سے مذاکرات شروع کئے ۔ امریکہ براستہ شمالی افغانستان لیز پہ بضد تھا جبکہ طالبان ٹیرف یا راہداری کے حامی تھے ۔ جو کام کسی لالچ یا دھمکی نے نہ کیا وہ نائین الیون نے کر دکھایا ۔ پاکستان اور امریکہ کی دوستی کے امتحان کا وقت آگیا ۔ دوست یا تابعدار پاکستان کو دوستی یا دشمنی میں سے ایک کا چناؤ یا پتھر کے دور میں دھکیلنے کا خوفناک انجام دکھایا گیا ۔ پاکستان تو ہمیشہ سے دوستی کا دم ہی بھرتا رہا لیکن امریکہ کی وہی روائیتی دوستی ایک بار پھر سامنے آگئی ۔ جب تک افغانستان میں پھنسا رہا تب تک پاکستان کو شاباشیاں ہی شاباشیاں اور جونہی فرصت ملی بدمعاشیاں ہی بد معاشیاں !

    امریکی مطالبات اور ڈو مور کے تقاضے اور جوابا ّ پاکستانی دوستی ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔

  11. محترم عمران الیاس صاحب ،

    سب سے پہلے تو عالمی اخبار کی بلاگ فیملی میں شمولیت پہ دلی خوش آمدید اور پھر قومی اہمیت کے اس انتہائی اہم بلاگ میں آپ کی شرکت کا بہت شکریہ ۔

    ” امریکہ کبھی بھی امداد بند نہیں کر سکتا کیوں کہ اُسکی مجبوری ہے اپنے فوجی زندہ افغانستان سے نکالنے کے لیے “

    میں آپ کی رائے سو فیصد متفق ہوں ۔ یہ سب بلیک میلنگ ہے ورنہ تو انہوں نے کہا ہے کہ چیک تو تیار ہیں بس کانگرس توثیق کر دے اور پاکستان بھی یقین دلا دے کہ ہمارے مطالبات پورے کرے گا ۔ میں اس موضوع کو بھی بلاگ میں ضرور زیر بحث ضرور لاؤں گا۔ آپ بھی موجود رہیں اور اپنی معلومات سے ہمارے علم میں اضافہ فرماتے رہیں ، آپ کا بے حد شکریہ ۔

  12. محترمہ شاھین حیدر رضوی صاحبہ ،

    آپ کے تبصرے میرے دل کی بات ہوتے ہیں ۔ بس یہی سمجھیں میں بھی غصے میں ہذیان ہی بک رہا ہوں یا تنہائی میں اپنے بال کھینچ رہا یا پھر اپنا چہرہ ہی نوچ رہا ہوں ۔ پاکستان اور بچارے پاکستانیوں کی بے بسی خون کے آنسو رلاتی ہے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنا غم آپ سب سے ہلکا کرنے بیٹھ جاتا ہوں ۔

    ” امریکہ نہ صرف ۔۔۔۔۔۔ بلکہ دھشت گردوں کوبھی امداد اور اسلحہ فراھم کرتا ھے اسی لیے امریکہ ھمارا سب سے ناقابل بھروسہ دوست نما دشمن ھے “

    آج طالبان کی تین چار اقسام متعارف ہو چکی ہیں ۔ ایک اچھے طالبان جو امریکہ سے مذاکرات کرتے ہیں ، دوسرے برے طالبان جو اپنے ملک پہ غاصبانہ قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ اور پھر تیسرے طالبان جو امریکہ ، انڈیا ، اسرائیل اور نیٹو کی ٹریننگ اور پشت پناہی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے پہ لگے ہوئے ہیں اور جگہہ جگہہ خود کش حملے کر رہے ہیں ۔ ان سب کو مالی و عسکری امداد ’پاکستان کا دوست ‘ امریکہ ہی دے رہا ہے ۔

    ” پاکستان میں امریکہ کے خلاف بہت نفرت پائی جاتی ھے “

    یہ بات امریکہ بہت اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ پاکستان میں متعین امریکی سفیر اپنے مراسلوں میں امریکی انتظامیہ کو مسلسل آگاہ کرتا ہے جس کا بر ملا اظہار پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی اہلکار حتاکہ ہیلری کلنٹن بھی کر چکی ہیں ۔ شاید یہ بلیک میلنگ بھی اسی خفت کو مٹانے کی خاطر ہو ۔

    ” پاکستان ، عوام اور پاکستان کی سلامتی کو سب سے زیادہ نقصان سابقہ فوجی آمر پرویز مشرف نے پہنچایا ، امریکہ کی ناقابل قبول 7 شرائط کے عوض مللک کی سلامتی کا سودا کردیا “

    یہاں ایک مشرف ہو تو بات کریں ۔ ہر کفن چور کے بعد اس کا کفن چور بیٹا آجاتا ہے ۔ میں امریکہ کے بدنام زمانہ سات مطالبات کی تلاش میں ہوں ۔ آپ نے بھی ان کا ذکر کیا اگر وقت نکال کر یہاں بلاگ میں پیش کر دیں تو بہت مشکور ہوں گا کیونکہ میرا کچھ وقت بچ جائے گا جسے بلاگ کو مکمل کرنے میں صرف کروں گا ، آپ کا بہت شکریہ ۔

    ” اس وقت میڈیا کا فرض ھے کہ عوامی بیداری کی لہر کو متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کرے “

    میں آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں ۔ ایسے وقت میں میڈیا پہ بہت بھاری اور قومی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتے ہوئے امریکہ کو اس کا اصلی چہرہ اور پاکستان سے دوستی کا مکمل رخ پیش کرے ۔

    آپ کا بہت شکریہ ۔

  13. محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب آپ درست فرماتے ہیں

    ایک پرانی کہاوت ہے ”بھک منگتوں کو کرسیاں پیش نہیں کی جاتیں “ کیونکہ وہ کسی حترام کے قابل ہی نہیں سمجھے جاتے۔یہی حالت اس وقت ہماری ہے

    وہ لوگ جن کے نام سے پورا پاکستان کانپتا ہے۔ جو اپنے آپ کو 18کروڑ غریب اور بے بس عوام کے ”ان داتا“ سمجھتے ہیں۔ جو اپنے سامنے اونچا بولنے والوں تک کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جو مزارع یا مزدور کو سامنے بیٹھنے تک کی اجازت نہیں دیتے‘ جن کے سامنے انسانوں کی وقعت انکے پالتو جانور جتنی بھی نہیں۔ وہ امریکی سفیر کے سامنے کتنے چھوٹے۔ کتنے مسکین اور کتنے بونے نظر آئے۔ سب اقتدار کی بھیک مانگتے ہوئے اسکے قدموں میں ڈھیر ہوتے رہے۔

    اپنی بد قسمتی پر رونا آتا ہے کہ یہی لوگ ہمارے حکمران ہیں۔ ہماری ملکی تقدیر کے مالک ہیں۔ہمارے راہنما ہیں

    جو راہنما امریکی سفیر کے قدموں میں بیٹھ کر ذاتی اقتدار کی بھیک مانگیں ان سے بھلا کس راہنمائی یا کس بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ان سے تو وہ غریب سندھی ہاری خاتون کتنی بہتر تھی جس نے وڈیرے کی بد تمیزی کے سامنے ڈٹ کر کہا تھا:

    ”سائیں میں عزت دار خاتون ہوں۔ عزت کرانا بھی جانتی ہوں اور عزت کی حفاظت کرنا بھی“۔یہ بونے لوگ جو ہر وقت اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو چاند پر لے جانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایشین ٹائیگر بنانے کے وعدے کرتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کی باتیں کرتے ہیں۔ کتنے چھوٹے اور بے وقعت لوگ ثابت ہوئے۔ اقتدار کے بھوکے‘ بھک منگے۔

    یہ مطلب پرست لوگ۔ ہوس کے پجاری۔ عوام کو ہر وقت خوبصورت الفاظ کے سحر میں مبتلارکھتے ہیں۔ خارجہ پالیسی پر بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں:

    ”ہم ہر ملک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم برابری کی بنیاد پر بات کریں گے “ کون سی برابری ؟ کس سے برابری؟ کہاں کی عزت؟ بھک منگے جو اپنی عزت نہیں کرا سکتے وہ بھلا قوم کی عزت کیسے کرائیں گے؟

    پاکستان کی عزت کہاں سے کرائیں گے؟ ۔

    ہمارے جمہوری سیاستدانوں کا المیہ یہ ہے کہ جب اقتدار سے باہر ہوئے ہیں تو عوام کے حق میں خوبصورت نعرے لگاتے ہیں لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو شہنشاہیت سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے راستے میں کوئی معمولی سی رکاوٹ بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ شہنشاہوں کی طرح جمہوریت چلاتے ہیں‘ جس کو دل چاہے گریڈ22 میں بٹھا دیں۔ زمین سے اٹھا کر فرش پر پہنچا دیں۔ ملکی دولت اڑائیں۔ اربوں کھربوں لوٹ کر بیرون ممالک جمع کریں۔ملکی وسائل کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھ کر اڑائیں۔ کرپشن کے پہاڑ کھڑے کردیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ اسی کا نام جمہوریت ہے۔

    ہماری مغلئی طرزِ جمہوریت کی نظر میں عوام کی تو ویسے ہی کوئی وقعت نہیں۔ مریںیا جئیں۔ سارا سارا دن لائنوں میں کھڑے رہیں۔ گرمیوں میں گرمی سے مریں اور سردیوں میں سردی سے یا بھوک سے خود کشیاں کریں۔ حکمرانوں کی بلا سے۔انہیں اپنی پیاری عوام سے صرف اس حد تک پیار ہے کہ وہ ان کیلئے ”زندہ باد “کے نعرے لگائیں یا جب وہ اقتدار میں نہ ہوں تو ان کیلئے لاٹھیاں کھائیں۔

    یہ وہ لوگ ہیں جو ڈالروں کے عوض پوری قوم بیچ دیں کیونکہ خدا نے انہیں موقعہ دیا ہے لیکن یاد رکھیں ”بھک منگے کسی احترام کے مستحق نہیں ہوتے“۔

  14. امر واقعہ یہ ہے کہ

    دنیا ہمیں امریکہ کا مزارعہ یا کلائنٹ ریاست سمجھتی ہے اور ہماری خام خیالی کہ ہم اس لیبل کے ساتھ دنیا کا احترام مانگتے ہیں؟ طویل داستان کو کوزے میں بند کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ خدارا اگر آزاد اور خود دار قوم بننا چاہتے ہو تو امریکی امداد سے نجات حاصل کر لو اور تھوڑی سی سختی برداشت کر کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ۔

    امریکی امداد کی بندش سے عام شہری کو کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ پہلے ہی مسائل کی چکی میں پس رہا ہے اس سے فرق صرف حکمرانوں اور اشرافیہ کو پڑے گا جو غریب ملک کے خزانے پر عیش و عشرت کے عادی ہو چکے ہیں اور یہی طبقے اس فیصلے کی راہ میں حائل ہیں۔

    میں ہرگز ماہر معاشیات نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے وسائل کو ترقی دے کر امریکی امداد کی غلامی سے نکل سکتے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں کھویا ہوا باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ذرا ہمت، جرأت رندانہ اور بہادرانہ اقدام کی ضرورت ہے۔

    شاید موجودہ قیادت ایسا نہ کر سکے لیکن اگر عوام میں یہ شعور پیدا ہو جائےتو جلد ہی صورت بدل جائے گی کیونکہ بالآخر یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ امریکی غلامی سے نجات چاہتے ہیں یا نہیں اور انہیں کسطرح کی قیادت کی ضرورت ہے۔

  15. ہمیں ایسی امداد نہیں چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔

    جاوید بھائی

    بھکاری تو بھکاری ہوتا ہے،اُس کا کام ہر ایک کے سامنے کاسہ گدائی پھیلانا اور صدا لگانا ہے ”دے جا سخیا ….دے جا….اللہ کے نام پر….اللہ تیری مراد پوری کرے۔“بھکاری ہر ایک کے سامنے اپنا کشکول پھیلاتا ہے اور دن بھر اپنے کشکول میں گرنے والی چونیاں، اٹھنیاں جمع کرتا ہے،جس طرح بھکاری کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ دینے والا کون ہے،

    اُس کا نام و نسب کیا ہے،کہاں سے آیا ہے اور کیا کرتا ہے،بالکل اُسی طرح ہمارے ارباب اقتدار کو بھی اِس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ امداد کو ن دے رہا،کس لیے دے رہا ہے اور کتنی دے رہا ہے،انہیں اگر کوئی غرض ہے تو اِس بات سے کہ امداد ملنی چاہیے،کہیں سے بھی ملے،چاہے وہ ہمارا ازلی دشمن ہی کیوں نہ دے،

    بدقسمتی سے ہمارے ارباب اقتدار کا یہی وہ شرمناک طرز عمل ہے جس نے اُس قوم کو جس کے اکابرین نے برطانوی اور ہندو سامراج سے آزادی چھین کرمملکت خداداد پاکستان حاصل کیا تھا،دنیا کے بازار میں بھکاریوں اورمنگتوں کی قوم بنادیا ہے،غیر ملکی آقاؤں کے تابع فرمان بددیانت اور کرپٹ حکمرانوں نے اپنی ہوس اقتدار اور عیش و عشرت کیلئے اتحاد،تنظیم،ایمان کو حرز جان بنا کر پاکستان حاصل کرنے والوں کی اولادوں کو بدامنی،انتشار اور ذلت و رسوائی کے اندھیرے غاروں میں دھکیل دیا ہے،

    یہ درست ہے کہ اِس وقت ہم مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں،مگر اِس کے باوجود قوم میں ابھی بھی اتنی ہمت،طاقت، اور حوصلہ موجود ہے کہ وہ بھیک قبول کئے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے،اِس تناظر میں زیادہ بہتر تویہ ہے کہ قومی غیرت و حمیت کے منافی امداد کی بھیک مانگنے اورسپاس گزاری کرنے کےسے گریز کرنا چاہیے

    مگر افسوس جب عوام کی تمناؤں اور جذبوں کی ترجمانی کرنے والی آوازیں گنگ اور ڈرو مصلحت کا شکار ہوجائیں،جب ارباب اقتدار کی زبانیں زمینی حقائق کو جھٹلائیں اور رنگا رنگ تاویلیں پیش کریں تو اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے قومی مفاد اورامنگوں کے خلاف ہی ہوا کرتے ہیں،

    بدقسمتی سے آج یہ سب کچھ اُس سیاسی جماعت کے دور حکومت میں ہورہا ہے جس کے بانی اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا”ہمیں ایسی امداد نہیں چاہیے جو ہمیں قومی مفادات سے بے خبر بنادے۔“ ہمارے حکمران بھول گئے کہ ملک و قوم کی عزت و آبرو امداد سے کہیں زیادہ قیمتی اورمقدم ہے،جسے دشمن کے چند ٹکوں کی خاطر قربان نہیں کیا جاسکتا۔

  16. محترم جناب محمداحمدترازی صاحب ،

    آپ کے جاندار اور پُر مغز تبصرے پڑھ کر یہی جی میں آیا کہ اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا لہذا اس کے اختتام کا اعلان کردوں لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں پوری انسانیت کے دشمن اس سامراج کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھانے میں ابھی کچھ کمی باقی ہے اور جب تک ان ننگ آدمیت وحشیوں کو پوری طرح دنیا ، بالخصوص پوری پاکستانی قوم ، کے سامنے ننگا نہ کر دیا جائے اس بلاگ کو جاری رہنا چاہیئے ۔ بلاگ کے اختتام تک آپ سے راہنمائی اور مدد کی اپیل ہے ۔

    ” بدقسمتی سے آج یہ سب کچھ اُس سیاسی جماعت کے دور حکومت میں ہورہا ہے جس کے بانی اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا ”ہمیں ایسی امداد نہیں چاہیے جو ہمیں قومی مفادات سے بے خبر بنادے۔“

    اور اسی دور کے عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب مرحوم کا پیغام ” بھیک نہ مانگو “ یہاں نقل کر رہا ہوں ؛

    بھیک نہ مانگو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی غیرت کے رکھوالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیک نہ مانگو
    توڑ کے اس کشکول کو ، آدھی کھالو ۔۔۔۔ بھیک نہ مانگو

    اپنے بل پر جینا کب سیکھو گے
    طوفانوں میں پلنا کب سیکھو گے
    یہ کہنہ تقدیر کا شکوہ کب تک
    اس کو آپ بدلنا کب سیکھو گے
    خود اپنی بگڑی تقدیر بنا لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھیک نہ مانگو

    یہ جو راہ میں ’ کالے باغ ‘ کھڑے ہیں
    کب یہ آزادی کی جنگ لڑے ہیں
    جن کا آزادی میں خون ہے شامل
    جب تک جیلوں میں وہ لوگ پڑے ہیں
    وقت کھٹن ہے دیس کی آن بچا لو ۔۔۔ بھیک نہ مانگو

    انگریزوں کے پٹھو کہلاؤ نہ
    امریکہ کے تلوے سہلاؤ نہ
    آج تلک ان کے دھوکے کھائے ہیں
    اور مگر ان کے دھوکے کھاؤ نہ
    آزادی کے سر پہ خاک نہ ڈالو۔۔۔۔بھیک نہ مانگو

  17. داتا ، بھیک دینے والے ، کا بیان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” پاکستان کے کچھ اقدامات کی وجہ سے اس کی امداد روکنے کا جواز موجود ہے لہذا پاکستان کی آٹھ سو ملین ڈالر کی فوجی امداد روکی جا رہی ہے “

    ۔۔۔۔

    بھکاری کا بیان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی “

    واہ رے کرائے کے گوریلو ، اب تو تم نے بغیر کرائے کے ہی لڑنے کی حامی بھر لی ، تمھارا ، اور تمھارے ساتھ ہمارا بھی ، خدا ہی حافظ !

    ۔۔۔۔

    تماشبین کا بیان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” ہندوستان نے امریکہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت وہ پاکستان کو دی جانی والی آٹھ سو ملین ڈالر کی فوجی امداد معطل کر رہا ہے ۔ ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو زیادہ اسلحہ ملنے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے “

    واہ رے بنئیے تیرے وارے نیارے !

  18. اسلام علیکم بھائیو اور بہنوں اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین
    تمام تبصرے پڑھے کبہی ہنسی آئی کبھی رونا ۔ افسوس کہ ہم سب ابھی تک ان چالبازوں کی چالبازی کو نہ سمجھے ۔ جب ہمارا ملک بنا تو انگریز نے ایک چنگاری چھوڑ دی کہ کشمیر کا حل نہ دیا ۔کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ دھبنگا مشتی مسلمانوں کے درمیان جاری رہےاور وہ سکون نہ پا سکیں ۔ اور ہم تربسٹھ سالوں میں بھی اس کا حل نہ نکال سکے ۔اور آج بھی دکھ اٹھا رہے ہیں ۔
    امریکہ نے ہمیں گروی رکھ لیا جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ہم چوں بھی نہیں کرتے ، ریمنڈ کو چھوڑا ۔ اسامہ کو بقول ان کے انہوں نے ہمارے ملک کے اندر آ کر مارا ،پر ہماری ‏غیرت نے
    جوش نہیں مارا کیونکہ وہ تو وہیں جوش مارتی ہے جہاں ہوتی ہے ۔ ہم امریکہ کو برا کہتے ہیں لیکن خود کو نہیں دیکھتے ہم کیوں امداد لیتے ہیں ؟ دینے والا تو اپنی شرطیں منوائیگا ۔ میں امریکہ کے حق میں نہیں ہوں صرف حق بات کر رہی ہوں ۔ اگر ہمارے اندر ہمئیت ہوتی تو کہاں کا امریکہ اور کیسا لندن ،سب ہماری نوک پر ہوتے ،
    اے کاش کہ ہم اس زلت سے نکلیں ۔ میں آپ سب کے ساتھ دعا کرتی ہوں کہ اللہ ہما ری آوازوں کو ان بہرے گونگے اور اندھے لوگوں تک پہنچا دے جو ہمارے لوگوں میں اس زہر کو سرایت کرتا دیکھ رہے ہیں ۔ اور یہ ہماری روحوں تک میں سرایت کر رہا ہے ۔ کہ ہمارا سارا کا سارا معاشرہ تباہ و بر باد ہو رہا ہے ،لیکن ہمیں کوئی بات نہیں جھنجوڑتی ۔کیونکہ ہماری حس مردہ ہو گئی ہے ۔ادھار کھا کھا کر ۔
    جبکہ یہ قرضہ بھی عوام کے لئے کوئی خوشحالی نہیں لاتا کدھر جاتا ہے کسی کو نہیں پتہ ،اور نہ ہی آج تک کسی نے ہی پوچھنے کی کوشش کی ۔
    میری سوچ صرف اتنی ہے کہ اگر ہمیں مانگنا نہ ہو تو کوئی دے گا کیوں ؟ بس یہ ہی سوچنے کی بات ہے کہ ہم مانگتے ہیں تو کوئی دیتا ہے ،اگر ہم مانگیں نہیں اپنے پیروں پر خود کھڑے ہونے کی ٹھان لیں تو کیسا امریکہ اور کہاں کا برطانیہ ۔دعا ہے کہ غیور اور ہمدرد حکمران عطا کر دے ہمیں ہمارا رب ۔ اور ہم خود کفیل ہو جائیں ۔اور کاش کہ یہ جان لیں کہ برائی لینے میں ہے ،کمزوری ہاتھ پھیلانے میں ہے ۔
    شرمندگی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہ لانے میں ہے۔افسوس اپنی طا قت کو استعمال نہ کرنے میں ہے ۔ اللہ نےہمیں اور ہمارے ملک کو بہت نوازا ہے مگر افسوس کہ ہم نے ان نعمتوں کو استعمال کر کے اس کا شکر ادا نہیں کیا ۔ بلکہ خود کو کمزور بنا کر کفران نعمت کیا ۔اور کسی صورت سنبھلنے کو تیار نہیں ہیں، کیونکہ ہم دوسروں کو الزام دے کر خود کو بچانے کے عادی ہو گئے ہیں ۔
    کچھ بھی بار خاطر ہو تو و ر گزر کی درخواست ہے ۔
    اللہ میرے ملک کے معصوم لوگوں کو امداد کی اس چکی سے نجات دے آمین ۔تمام تبصرہ نگاروں کے تبصرے میرے لئے انتہائی معلوماتی اور دل کی آواز ہیں ۔
    دعا کی طالب
    عالم آرا

  19. محترم جاوید اقبال کیانی صاحب ،سلامت رھیں انشااللہ کل آپکے حکم کی تعمیل ھوجاۓ گی ،13ستمبر 2001کو امریکی سفیر وینڈی چمبرلین کو امید تھی کہ مشرف اس کی ایک ادھ شرط کو مان لینگے مگر اس عظیم امریکی غلام نے کسی بہت وفادار ک،،،،،،،کی طرح اپنے آقا کی ساری شرائط کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس وطن فروش نے پاکستان کی سالمیت اور استحکام کو بھی داو پر لگا دیا، جس کا نتیجہ یہ ھے آج ھر روز معصوم اور بےگناہ پاکستانیوں کا لہو پانی سے بھی ارزان ھوکر گلی گلی بہہ رھا ھے ،

  20. جاوید بھائی
    تبصروں کی پسندیدگی کا بہت شکریہ

    اس میں کچھ شک نہیں کہ امریکی فوجی امداد شوگر کوٹڈ زہر ہے،
    امریکہ نے پاکستان کے لئے 80کروڑ ڈالرز کی فوجی امداد روک دی ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بعض اقدامات کی وجہ سے امداد روکنا پڑی، اور جب تک تعلقات معمول پر نہیں آجاتے اس وقت تک امداد بحال نہیں کی جائیگی،

    اس ضمن میں امریکہ کے موقراخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ شمسی ائیر بیس خالی کرانے کی دھمکیوں اور امریکی ٹرینرز کی بے دخلی سے ناراض ہے اور اس اقدام کا مقصد پاک فوج پر شرپسندوں کے خلاف زیادہ موثر کارروائیاں کرنے کے لئے دبائو ڈالنا بھی ہے روکی جانے والی امداد میں افغان سرحد پر تعینات پاکستانی فوج کے اخراجات کے لئے 30کروڑ ڈالرز بھی شامل ہیں۔

    پاکستانی فوج کے لئے امریکی امداد ایک ایسا زہر ہے جسے واشنگٹن شوگر کوٹڈ کرکے پیش کرتا ہے، اس امداد کا فائدہ نہ تو پاکستانی فوج کو ہے اور نہ ہی پاکستانی عوام کو۔ اس کے ساتھ امریکی مفادات کی اور مطالبات کی ایک طویل فہرست نتھی ہوتی ہے اور جب امداد وصول کی جائے تو ان مطالبات کو تسلیم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرے اور انہیں ملیامیٹ کر دے ۔

    امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی شخص، گروہ یا افراد اگر صحیح راستے سے بھٹک جائیں یا شدت پسندی کی طرف مائل ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندی کی طرف کیوں مائل ہوئے؟ اگر ایک وقت تک وہ امن پسند اور صلح جو تھے تو بدلے ہوئے وقت میں ان کے ہاتھوں میں بندوق کیوں ہے؟کسی بھی ریاست میں جب ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جو آج پاکستان میں نظر آرہی ہے تو وہ ریاست بھٹکے ہوئے لوگوں کو ٹھیک راستے پر واپس لانے کے لئے ان سے بات چیت کرتی ہے۔ اور ان کے ساتھ اگر کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کرکے ایسے لوگوں کو قومی دھارے میں واپس لاتی ہے۔

    پوری دنیا میں عالمی طور پر تسلیم شدہ یہ اصول اور قانون کافرما ہے کہ اگر کوئی شخص بڑے سے بڑے جرم کا ارتکاب کر ڈالے تو اسے گولی نہیں ماری جاتی۔ اس کے گھر پر بم نہیں برسائے جاتے بلکہ اسے گرفتار کرکے اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے۔ وہ شخص عدالت کی نظرمیں گناہ گار قرار پاتا ہے تو اسے سزا سنا دی جاتی ہے اور اگر بے گناہ قرار پائے تو اسے باعزت رہا کر دیا جاتا ہے۔

    امریکہ کے اپنے ہاں بھی یہی قانونی رائج ہے لیکن پاکستان اور افغانستان میں جنگل کا قانون چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ جن لوگوں نے قبائلی علاقوں میں ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں انہیں بغیر کسی ٹرائل کے گولی مار دی جائے۔ ان کے گھروں کو بموں سے اڑا دیا جائے اور اس پریکٹس میں جتنے مرضی بے گناہ مارے جائیں اس کی پرواہ نہ کی جائے۔

    وہ چاہتا ہے کہ ہماری فوج مدرسوں اور مساجد پر بھی حملے کرے کیونکہ امریکہ کی نظر میں مساجد اور مدارس کی کوئی اہمیت نہیں وہ ایک غیر مسلم ملک ہے اور خصوصاً مسلمانوں کے خون کا پیاسا۔ مسلمان کا خون اس کے نزدیک پانی جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتا اور وہ انہیں وہ مقام دینے کے لئے بھی تیار نہیں جو امریکہ اور مغربی ملکوں میں جانوروں کو حاصل ہے۔

    وہ اپنے خلاف بات کرنے والے کو چیونٹیوں کی طرح مسل دیتا ہے اور دنیا میں آج تک جتنی بھی قتل و غارت گری ہوئی ہے اس میں سب سے زیادہ امریکہ کا حصہ ہے جو ایک مطلوب شخص کے ساتھ پچاس ایسے لوگوں کو بھی مار دیتا ہے جو اس کے خلاف کسی قسم کے منفی عزائم نہیں رکھتے۔

    امریکہ کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاک فوج بلیک واٹرز طرز کی کوئی کرائے کی قاتل تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی اور ایٹمی ملک کی مسلمان فوج ہے اور امریکہ سے پیسہ لے کر بے گناہوں کا خون نہیں بہا سکتی۔ وہ فوجی کے ساتھ اقتصادی امداد بھی بند کر دے پھر بھی نہ صرف ہماری فوج سلامت رہے گی بلکہ عوام بھی اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے گزارہ کرلیں گے۔

    پاک فوج اور حکمرانوں کو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اعلان کر دیں کہ اب امریکہ سے مزید کسی قسم کی فوجی امداد نہیں لی جائے گی اور اگر امریکہ اس امداد کی بحالی پر راضی ہو جاتا ہے۔ تب بھی اس سے یہی کہا جائے کہ ہم یہ امداد نہیں لیں گے۔حکومت بھی اپنے اخراجات کم کرے اور فوج بھی۔

    اس کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی سادہ زندگی گزارنے کی طرف راغب کیا جائے لیکن یہ بیل تبھی منڈھے چڑھے گی جب پہلے حکمران خود سادگی کا نمونہ بن کر دکھائیں گے۔ سادہ لباس، سادہ کھانا سادگی کے ساتھ بچوں، بچیوں کی شادیاں، اسراف سے پرہیز، ایسے اوصاف ہیں جن پر اگر پاکستانی قوم عمل شروع کر دے تو ہمیں کسی قسم کی غیر ملکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اس حوالے سے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس، بڑی پارٹیوں کے سربراہ، وزرائ، مشیر سادہ زندگی گزارنے لگیں تو ان کی دیکھا دیکھی عوام بھی سادہ زندگی گزاریں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قرضوں اور امدادوں کے منحوس چکر سے نکل جائیں گے۔

    انشاء اللہ

  21. محترمہ شاھین حیدر رضوی صاحبہ،

    وعدہء تعاون و راہنمائی کا بہت شکریہ ۔

    ایک وینڈی چیمبرلین کیا پوری امریکی انٹظامیہ حیران تھی کہ انہیں اپنے سات مطالبات میں سے زیادہ سے زیادہ تین کے پورا ہونے کی امید تھی لیکن ننگ وطن ، بردہ و وطن فروش مشرف نے ان کے تمام مطالبات بلا چوں و چراں مان کر اپنے آقاؤں کو خوشگوار سرپرائیز دی ۔ ’ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ‘ ( میرے ایک کتابی مسودے کا نام ) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز یعنی کور کمانڈرز میں سے جس نے دبے لفظوں میں بھی مخالفت کی انہیں مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر پھینک دیا گیا ، جنرل محمود اور جنرل عباسی ، مشرف کو ایوانِ صدر پہنچانے والے جیالے ، اس کا پہلا نشانہ بنے ۔

    اس پہ باقی بحث ان مطالبات کے بلاگ پہ آنے پہ ہوگی ، آپ کا بہت شکریہ ۔

  22. محترمہ عالم آرا صاحبہ ،

    ” میری سوچ صرف اتنی ہے کہ اگر ہمیں مانگنا نہ ہو تو کوئی دے گا کیوں ؟ “

    آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے کہ بھیک مانگے پہ ہی ملتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری تاریخ میں ایسے مواقع بھی آئے کہ کبھی کبھی بغیر مانگے بھی ہمارے حکمرانوں پہ امریکی من و سلوٰی اترتا رہا ۔ میں اوپر بھی بیان کر چکا ہوں کہ افغانستان پہ روسی قبضے کے بعد پاکستان کی اخلاقی اور تھوڑی بہت مالی و عسکری مدد اور مجاہدین کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر کارٹر نے چند ملین ڈالر کی از خود مدد کا اعلان کیا جسے صدر جنرل ضیاء الحق نے ’ مونگ پھلی ‘ کہہ کر ٹھکرا دیا ۔ بعد میں ریگن نے روس کو نیچا دکھانے کی خاطر وافر مدد کا بھی از خود اعلان کیا ۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد بھی مشرف کے سجدوں کے جواب میں ڈالروں کی برسات شروع ہوگئی ۔ اُدھر بندوں کی لسٹ ملتی گئی اور اِدھر بردہ فروش ٹولے نے چن چن کر بندے امریکہ کے حوالے کرنے شروع کر دئے اور یوں گوآنتاناموبے کیمپوں کے ساتھ ساتھ اپنی تجوریاں بھرنی شروع کردیں ۔

    قرضوں کے لئے ہم تب مجبور ہوئے جب ہمارے فرمانرواؤں کے ٹھاٹ ، غیر پیداواری اخراجات اور نتیجتا ّ بجٹ کے خسارے بڑھنے شروع ہوئے ۔ تب آئی ایم ایف اور دوسرے سود خور بنیوں نے ہمیں جکڑنا شروع کر دیا اور یوں سود در سود کی قسطیں اور پھر انکی ادائیگی کے لئے قرضوں کی ری شیڈیولنگ جسی لعنتوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔

  23. جناب محمد احمد ترازی صاحب ،

    امداد کی بندش کے بارے میں پیش کئے جانے والے حوالہ جات کا شکریہ ۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ ساری بلیک میلنگ سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں جاری سرد جنگ کا نتیجہ ہے ۔ پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق اگر آرمی نے امریکی مطالبات کے آگے بالکل سجدہ ریز ہونے سے انکار کیا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو بھی اپنی غیرت کا ثبوت دینا چاہیئے اور پھر پوری قوم کا بھی فرض ہے کہ وہ یکجہتی کا ثبوت دے کیونکہ۔۔۔۔۔

    ” امریکہ کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاک فوج بلیک واٹرز طرز کی کوئی کرائے کی قاتل تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی اور ایٹمی ملک کی مسلمان فوج ہے اور امریکہ سے پیسہ لے کر بے گناہوں کا خون نہیں بہا سکتی۔ وہ فوجی کے ساتھ اقتصادی امداد بھی بند کر دے پھر بھی نہ صرف ہماری فوج سلامت رہے گی بلکہ عوام بھی اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے گزارہ کرلیں گے “

    انشاء اللہ ۔

  24. وزیر دفاع کا بیان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کے اخراجات کی ادائیگی روک دی تو پاکستان مغربی سرحدوں سے فوجیں واپس بلالےگا کیونکہ پھر پاکستان اتنے لمبے عرصے تک پہاڑی علاقوں میں اپنی فوجیں رکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا “

    اللہ کرے وزیر دفاع چوہدری ’ خود مختار ‘ کا بیان بحوش و حواس دیا گیا ان کا اپنا ہی بیان ہو جس کی بعد میں انہی کی وزیر اطلاعات تردید نہ کر دیں !

    ۔۔۔

    ’ مردانِ دفاع ‘ کا بیان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” کور کمانڈروں کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اپنے وسائل سے ہی دہشتگردی کے عفریت سے نمٹا جائے گا “

    امریکہ جن لوگوں کو مروانا چاہتا ہے اس نے اس کا خرچہ پانی بند کر دیا ہے لیکن ہم ان لوگوں کو اپنے خرچے پہ مارنے پہ بضد ہیں !
    آخر یہ جنگ ہے کس کی ؟

    ۔۔۔

    زمینی حقائق
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ” اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے ‘یو این ایچ سی آر‘ کی ترجمان آریانا رومری کے مطابق کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے تاحال نو ہزار خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔یو این ایچ سی آر کے مطابق کرم ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ سکتی ہے “

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی !

  25. امریکانے فوجی امداد کی بحالی کے لیے حسب روایت مزید شرائط پیش کردی ہیں اور مطالبہ کیاہے کہ انسداد دہشت گردی‘ عسکریت اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں مزیدکچھ کیاجائے۔ یہ وہی”ڈومور“ والی پالیسی ہے اور اب حکمرانوں کو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ پاکستان امریکا کی خاطر خواہ کچھ بھی کرگزرے وہ مزید کچھ اور کرنے کی رٹ لگائے رکھے گا۔ امریکا نے پاک فوج کو ملنے والے 80 کروڑ ڈالر روک لیے ہیں جن میں سے 30کروڑ ڈالر تو امریکی ٹرینرز اور ان کے سازوسامان کے لیے تھے۔ یعنی یہ رقم واپس امریکا ہی کی جیب میں جارہی تھی۔

    پاک فوج کے ذمہ داران کا اب بھی اصرارہے کہ امریکا اورپاکستان کے دشمن مشترکہ ہیں چنانچہ امداد روکے جانے کے باوجود ہم اپنے دشمنوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے اور امریکا سے تعاون کرتے رہیں گے۔ دشمنوں میں القاعدہ اور اس سے جڑی تنظیموں کانام لیاجاتا ہے لیکن یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ القاعدہ امریکا ہی کی پیداوار تھی اور نائن الیون کے سانحہ سے پہلے کسی نے اس کانام بھی نہیں سنا تھا۔ امریکا اسامہ بن لادن کو جواز بناکر10 سال سے افغانستان میں قتل وغارت گری کررہاہے اور اب تو امریکا کے دعوے کے مطابق یہ جواز بھی ختم ہوگیاہے لیکن اب امریکا نے ایمن الظواہری کو اپنا دشمن نمبرایک قراردے کر یہ دعویٰ کردیاہے کہ وہ پاکستان میں روپوش ہے۔

    صدر اوباما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایبٹ آباد جیسا آپریشن دوبارہ ہوسکتاہے۔ یعنی امریکا پھر کسی اورشہرپر بزدلانہ حملہ کرنے کے لیے تیارہے۔ ایبٹ آبادکا زخم سہنے کے باوجود امریکا سے تعاون جاری رکھنے کا اعلان قومی غیرت وحمیت سے لگّانہیں کھاتا۔ یہ بھی کہاگیاہے کہ امریکا نے جو امداد روکی ہے وہ تو پہلے ہی خرچ کی جاچکی ہے اور اب اس بل کی ادائیگی ہونا تھی جو نہیں کی جارہی ۔

    تو کیا پاکستان اسی طرح امریکا سے تعاون جاری رکھے گا کہ اس کے لیے اپنے پلّے سے خرچ کرتا رہے گا۔ دوسری طرف امریکا پاکستان پرحملوں سے باز نہیں آرہا۔گزشتہ پیرکو اس نے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے کیے جن سے 25 افراد شہید ہوگئے۔ اگلے دن منگل کو پھرکئی مقامات پرمیزائل حملے ہوئے ہیں جن میں کم ازکم تین درجن افرادشہید ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی پہچان کیاہے اور یہ کیسے کہاجاسکتاہے کہ وہ عسکریت پسندتھے‘ القاعدہ اورطالبان سے متعلق تھے یا مقامی افراد تھے۔

    کیا امریکی میزائلوں میں ایسی کوئی آنکھ نصب ہے کہ صرف مطلوب افراد کو نشانہ بنایاجائی؟ یہ ممکن ہی نہیں مگر اسے کولیٹرل ڈیمیج کہہ کر نظرانداز کردیاجاتاہے۔ آخرکب تک ہمارے حکمران اپنے شہریوں کو ہلاک کرواتے اورپاکستان کی فضاوں پرامریکی قبضہ برداشت کرتے رہیں گے جبکہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد موجود ہے کہ ڈرون حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور امریکا کوکنٹینروں کے ذریعے تازہ خون کی فراہمی روک دی جائے گی۔

    اب تو امریکا کے عزائم سب کے سامنے آچکے ہیں پھر اس سے تعاون جاری رکھنے کا کیا جوازہے۔ وزیر دفاع جناب احمد مختارکہتے ہیں کہ امریکا نے امداد روکی تو افغان سرحد سے فوج ہٹالیں گے۔ جناب !امریکا نے امداد روک لی ہے۔ ان کا کہناہے کہ روکی گئی امداد آئندہ کے لیے نہیں بلکہ جنگ پر اٹھنے والے واجب الادا اخراجات تھے۔

    انہوں نے ایک انکشاف یہ بھی کیاکہ شمسی ایئربیس صرف جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت تھی‘ امریکا سے یہ طے ہوا تھا کہ اس بیس سے اڑنے والے طیارے غیرمسلح ہوں گے۔ وزیر دفاع یہ وضاحت بھی کردیتے کہ امریکا سے یہ معاملات کس نے طے کیے تھے اور کس کی جاسوسی کروانی تھی۔

    پھر جب امریکا نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وزارت دفاع‘ عسکری قیادت اور حکومت پاکستان نے کیا کیا۔ اگرمعاملات پرویزمشررف نے طے کیے تھے تو اب تک ان کی پالیسیاں کیوں روبعمل ہیں؟ وزیر دفاع کو چاہیے کہ اب افغان سرحد سے فوجی چوکیاں ختم کردی جائیں اور فوج واپس بلالی جائے۔

    لیکن کیا اس کی ہمت ہی؟ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ امریکی امداد کی معطلی پر بھارت نے بغلیں بجائی ہیں اور بھارتی وزیر خارجہ نے اسے خطے میں استحکام کے لیے صحیح فیصلہ قراردیاہے۔ جو بات پاکستان کو نقصان پہنچانے والی ہو وہ ہمیشہ بھارت کو خوش آتی ہے۔

  26. سابق فوجی امر پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے نائن الیون کے بعد انہیں طالبان کے خلاف امریکا کا ساتھ نہ دینے پر پاکستان کوپتھر کے دور میں پہنچا دینے کا سخت ترین پیغام دیا تھا‘ مجھے یہ امریکی پیغام کولن پاول کے ذریعے نہیں بلکہ امریکی سفیر کے ذریعے ملا تھا‘ ہم نے امریکی سفیر وینڈی چیمبرلین کی طرف سے پیش کردہ تمام 7 مطالبات جن میں کئی مضحکہ خیز بھی تھے تسلیم کرلیے تھے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے سے قبل وسیع اتفاق رائے پیدا کیا گیا تھا‘ ہم نے امریکا کو کسی بھی مقصد کیلئے کوئی ”بلینکٹ پرمیشن“ نہیںدی تھی‘ مجھے اپنے اس فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں‘ یہ فیصلہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں درست تھا‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے پر اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کے جواب میں لکھے گئے اپنے خصوصی آرٹیکل میں سابق صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نے جیواسٹریٹجک حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔ پاکستانی عوام کے سامنے درست حقائق آنے چاہئیں تاکہ انہیں معلوم ہو میری حکومت کا امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ درحقیقت میرے ماٹو ”سب سے پہلے پاکستان“ پر مبنی تھا۔ سابق صدر نے کہا کہ اس وقت کچھ لوگوں نے ہمیں یہ مشورہ دیا تھا کہ ہمیں امریکا کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن یہ فیصلہ کسی طور پر بھی پاکستان کے حق میں نہ ہوتا اور چاہے اگر القاعدہ اور طالبان کو اس جنگ میں فتح بھی ہوجاتی تب بھی یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا وہ طالبانائزیشن اختیار کرتا اور میں یہ پاکستان کے لیے کبھی بھی پسند نہ کرتا کہ یہاں پر خواتین کے حقوق ختم ہوجاتے اور اقلیتیں خوف کے عالم میں رہتیں۔ سابق صدر نے کہا کہ فوجی نکتہ نظر سے یہ واضح تھا کہ طالبان کو اس جنگ میں شکست ہونا ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا کی واحد عالمی طاقت امریکا زخمی اور دنیا کے آگے شرمندہ ہوچکا تھا‘ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف اس کا ردعمل ناگزیر تھا‘مجھے امریکا کی طرف سے سخت لہجے میں پیغام دیا گیا کہ پاکستان کو یا تو ہمارا ساتھ دینا پڑے گا یا مخالفت کرنا پڑے گی اور کہا گیا کہ پاکستان نے اگر امریکا کی مخالفت کی تو اسے بمباری کے ذریعے پتھر کے دور میں پہنچا دیا جائے گا۔

    حسب وعدہ حکم کی تعمیل کر رھی ھوں ، اگر وقت ملا تو اردو میں ترجمہ کردونگی ،

    On September 13/2001 the us ambassador to Pakistan windy chamberlain

    Brought a set of 7 demands to musharraf

    1. stop al-Qaeda operatives’ at Pakistani borders intercept arms shipment through Pakistan & end all logistical support for bin laden
    2. provide the united states with blanket over flight and landing rights to conduct all necessary military & intelligence operations
    3. provide territorial access to the united states & allied military intelligence as needed & other personnel to conduct all necessary operation against

    The perpetrators of terrorism &those that harbor them, including the use of Pakistan’s navel ports. Air bases & strategic locations on borders

    4. provide the united states immediately with intelligence,immigration information & databases & internal security information to help prevent & respond to
    terrorist act perpertrated against the united states ,its friends, or its allies

    5: Continue to publicly condemn the terrorist acts of 11 september & any other terrorist acts against the united states or its friends & allies & curb all domestic expression

    Of support against the united states its friends & its allies

    6:cut off all shipments of fuel to Taliban & any other items & recruits ,including volunteers en route to Afghanistan,who can be used in a military offensive capacity

    Or to abet terrorist threat.

    7; should the evidence strongly implicate osama bin laden & alqaeda net work in Afghanistan & should afghanstan & the Taliban continue tp harbor him & his net work

    Pakistan will break diplomatic relation with the Taliban government end support far the Taliban & assist the united states in the afore mentioned ways to destroy

    Osama & alqaeda net work.

  27. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ ،
    آپ کا بہت بہت شکریہ ۔دراصل مجھے ’ صحیفہء پرویزی‘ یعنی مشرف کی In the Line Of Fire یا ” سب سے پہلے پاکستان “ میسر نہ ہونے کی بنا پہ اس تاریخی ریکارڈ تک پہنچنے میں دشواری پیش آرہی تھی ۔ آپ کی مہربانی جو آپ نے مجھے اگلے تبصرے ،قیام پاکستان سے آج تک امریکی مطالبات کی کہانی ، کے لئے ضروری مواد فراہم کردیا ’ورنہ شاید یہ تبصرہ بھی امریکی امداد ہی کی طرح معطل رہتا !
    مجھے اب ترجمے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی ، فقط بلاگ کے اختتام تک مدد و راہنمائی کا طلب گار ہوں، آپ کا بے حد شکریہ ۔

  28. محترم جناب محمد احمد ترازی صاحب ،

    آپ کے تبصرے کا ایک ایک لفظ امریکہ کے منہ پہ طمانچہ اور ہمارے اپنے حکمرانوں کے منہ پہ تھوک ہے ۔ اب تک کے حالات و واقعات نے مستقبل کی تمام سازشوں اور منصوبوں کو ایک کھلی کتاب کی مانند سامنے کر دیا ہے لیکن واضح حکمت عملی اور قومی سوچ کا اب بھی فقدان ہے ۔ ہمارے آج کے فیصلے ہی ہمارے کل کا فیصلہ کریں گے سو ایک بار پھر رب تعالٰی کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں کہ وہ فرعونیت کو تاریخی ناکامی اور شکست سے دوچار کرے ، آمین ۔

  29. محترم جاوید اقبال کیانی صاحب ،اسلام علیکم ۔بلاگ میں آپ کے ساتھہ عزیز بھائ محمد احمد ترازی کے پرمغز تبصروں نے چارچاند لگاۓ ھیں ،میں کافی دیر سے سوچ رھی تھی کہ ان سات شرائط کا اردو میں ترجمہ کردوں ،پھر سوچا کہ ھمارے سارے محترم قاری اور ناظرین انگریزی سے بخوبی واقف ھیں ۔کاش ھم ان شرائط سے ایسے ھی بےخبر رھتے تو تکلیف کم ھوتی واقعی کم علمی نعمت ھے ، اگنورس از بلیسنگ ،

    اور کچھہ اسی شرائط تھیں کہ جن کو پڑھ کر میں حیران رہ گی کہ مشرف نے مللکی سلامتی کو داو پر لگاتے ھوۓ ذرہ برابر شرمندگی نیہن محسوس کی

    س فوجی امر نے وطن فروشی کے عوض بہت بڑی رقوم بھی وصول کیں ھیں پاکستان کا مستقبل امن و،استقرار ،تعمیر و ترقی ،صحت تعلیم اور ایک عام پاکسانی کی زندگی کو مصیبت میں ڈال کرخود کتنے ٹھاٹ سے امریکہ میں کتنی شاھانہ زندگی گذار رھا ھے ،

    میں تو اپنی کم علمی اور کم فہمی کا اعتراف کرتی ھوں ۔ مگر جب میں نے تھوڑی سی ریسرچ کی ۔احساس ھوا کہ اس وقت میرا پیارا وطن پاکستان جس صورتحال سے دوچار ھے اور چاروں طرف سے مصائب کے گرداب میں پھنسا ھوا ھے ،اور بڑی طاقتیں تو ھیں ھی پاکستان کی دشمن ،اور ھمارے وہ سیاسی راہ نما جن کا پیسہ ھی دین وایمان ھے ،وہ ھندوستان ،امریکا اور اسرايئل سے بھی زیادہ پاکستا ن کے دشمن ھیں کیونکہ یہ دولت کے ّپجاری ھر چیز کی قیمت وصول کررھے ھیں پاک فوج کے جرنیل سے لیکر امریکہ ،طالبان ،دھشت گرد تنظیمں ،مذھبی انتہا پسند،سبھی اس جنگ سے بے شمار فوائد اٹھا رھے ھیں اس جنگ کو جاری رکھنے میں سب کا مفاد ھے اور رھا ان مظلوموں کا بے گناھوں کا خون جن سے کراچی کی زمین سرخ ھورھی ھے ، ان کو تو ویسے بھی مرنا ھی تھا
    پاکستان کی غریب عوام تو ھے ھی آگ کا ایندھن ۔ کھبی اپنوں کے ھاتھوں مرتی ھے کھبی اغیار کے ھاتھوں ،ان کو تو ویسے بھی مرنا ھے ۔کھبی مہنگائ کے ھاتھوں ۔ کھبی بے روزگاری کے ھاتھوں ۔ کھبی یہ خودکش حملوں کا نشانہ بنتے ھیں کھبی دھشت گردی کا شکار ھوتے ھیں ۔ ایسی بے حس قوم کو مرھی جانا چاھیے ، جو نہ احتجاج کرتی ھے نہ کسی ظالم کے آگے سراٹھاتی ۔

    کم بخت امریکہ کو پاکستان سے کوئ لگاو نیہن ۔2010میں 2009 سے تین گنا زیادہ ڈرون حملے کیے گيئے ،امریکی نائب صدر جو بايئڈن پاکستانی جرنیلوں کو کوئٹہ شورہ اور شمالی وزیرستان پر بڑے حملے کی تلقین کررھے ھیں زمینی حقائق ، تحقیق اور تسلیم شدہ اعداد وشمار کے مطابق اس جنگ میں پاکستان کا بہت زیادہ نقصان ھوا، اور واقعی ھم لوگوں کو پھتروں کے زمانے میں پہچہادیا گیا

    مگر میرا دل کہتا ھے کہ غیر معمولی حالات و صورتحال ھی کی گود سے انقلاب جنم لیتے ھیں ، دیکھیے ھماری قوم اور سیاست دان کب امریکی کشکول توڑتے ھیں

    امریکہ اور سانپ بر ھم کو کھبی اعتبار نیہن کرنا چاھیے

    کھبی یہ پاکستان کو ایک بہت بڑا نیٹو سے باھر اتحادی قرار دیتا ھے ۔
    کھبی انتباہ کیا جاتا ھے،
    کھبی امریکہ کے اشارے پر قتل عام برپا کیا جاتا ھے ـبے گناہ شہری جس کا ھدف ھوتے ھیں
    کبھی پاکستان کو اسٹون ایج میں دھکیل دیتا ھے

    دینا بھر میں دنیا بھر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارھا ھے شاید اسی لیے 73٪ امریکی پاکستان کے خلاف ھیں اور اسکی امداد روکنے کے حق میں ھیں

    فوکس نیوز پول کے مطابق 34٪ امریکی پاکستان کو اپنا دوست نیہن سمجھتے ھیں ۔

    پاکستان میں بھی امریکہ مخالف جذبات تیزی سے ابھر رھے ھیں

    ،امریکا دھشت گردی کے خلاف جنگ کرتا ھے اور پس پردہ ان دھشت گردوں کی مکمل حمایت کرتا ھے ،ھماری عکسری قیادت بھی بہت سارے مذھبی گروپس کی حمایت مدد اور تربیت بھی کرتی ھے اور یہ قطعی کوئ خفیہ عمل نیہن ھے ،امریکہ دراصل پاکستان کا اور اسلام کا دشمن ھے، حب سوویت یونین ختم ھوا تو نیٹو کے سکریڑی جنرل سے سوال کیا گیا

    اب نیٹو کو باقی رکھنے کا کیا جواز ھے ،

    اس کا جواب تھا —— ابھی اسلام باقی ھے ،

    اور ھمارا جواب یہ ھے کہ اسلام تاقیامت رھنے والا دین ھے امریکہ اسلام کو ختم کرنے کے چکر میں خود ختم ھوجاۓ گا ،مگر اسلام پر اور ھمارے پیارے وطن پاکستان پر کوئ آنچ نیہن آۓ گی انشا اللہ

  30. محترمہ شاہین حیدر رضوی صاحبہ ،

    ” کاش ھم ان شرائط سے ایسے ھی بےخبر رھتے تو تکلیف کم ھوتی ، واقعی کم علمی نعمت ھے ، اگنورینس از بلیسنگ “

    محترمہ ، ہم لوگ اب بھی بہت ہی باتوں سے بے خبر ہیں ۔ اندر کیا کچھڑی پک رہی ہے ، ہمیں کچھ معلوم نہیں ۔ میں ایک طرح سے اسے مشرف کی بیباقی کہوں گا جو وہ ان شرائط کو کم از کم اپنی سوانح عمری کے ذریعے ریکارڈ پہ تو لے آیا ورنہ ہمارے حکمرانوں نے تو اور بہت سے رازوں کی طرح اس پہ بھی اپنی منافقت کی چادر پھیلائے رکھنی تھی ۔

    میں ، وقت ملنے پہ ، ان پہ تفصیل سے بحث کروں گا لیکن ان پہ سرسری نظر ڈالتے ہوئے بھی ایک بات بار بار کھٹکتی ہے کہ امریکیوں نے یہ شرائط پیش کرتے وقت نجانے کتنے سالوں کا ایڈوانس خواب دیکھا تھا جس کی آج حرف بحرف تعبیر ہمارے سامنے آرہی ہے جبکہ ہمارے کمبخت وطن فروش ڈکٹیٹر کے سامنے فقط چند سالوں کے اقتدار کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ وہی کہانی پھر دہرائی جارہی ہے کہ جو شرائط آج پیش کی جارہی ہیں ، جن پہ حسب وعدہ ضرور لکھوں گا ، وہ بھی ان کی اگلے کئی سالوں کی پیش بندی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *