مبارک ہو ان سب نفوس کو کہ جنکی حیات میں ایک اور ماہ رمضان المبارک آیا ہے اور وہ جو اس دنیا میں نہیں رہے ہم ان سب کی مغفرت کی دعا کریں کہ اللہ پاک اپنی رحمتوں کے صدقے انکی مغفرت کرے. رمضان صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ تطہیر روح و قلب ہے اور اسکی ایک ایک ساعت کو روح میں اتارنے مطلب قلب المنقلبون ہے.
روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے ”الصوم لی وانا اجزی به“ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک رمضان المبارک کی خاطر آراستہ کیا جاتاہے اور خوشبوﺅں کی دھونی دی جاتی ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مشیرہ ہے جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دل آواز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں میں کھڑی ہوکر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے والا تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کو ہم سے جوڑ دیں پھر وہی حوریں جنت کے دروغہ سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے وہ لبیک کہہ کر جواب دیتے ہیں: ”اے خوب صورت اور خوب سیرت عورتو یہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے اور حق تعالیٰ شانہ رضوان (جنت کے دروغہ) سے فرماتے ہیں کہ جنت کے دروازے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں کے لیے کھول دو اور جہنم کے دروغہ مالک سے فرماتے ہیں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کردو اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں کو خراب نہ کریں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اس کا کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کا وقت ہے اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے کا اور ان کو چھوڑنے کا ہے اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے اور بہت سے بندوں کو اﷲ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں دوزخ کی آگ سے بحرمت اس ماہ مبارک کے اور یہ آزاد کرنا رمضان شریف کی ہر رات میں ہے شب قدر کے ساتھ مخصوص نہیں۔

اے خیر کے طالب آگے بڑھو اللہ کی رحمت تمہیں پکار رہی ہے
جنت سال بھر سے سجائی جارہی ہے۔ کچھ بہت ہی معزز مہمانوں کے استقبال کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ یہ کون سا موقع ہے کہ جنت کے سارے دروازے کھول دیے گئے ہیں اور فرشتے آواز لگا رہے ہیں: ”اے خیر کے طالب آگے بڑھ اور بُرائی کے طالب رک جا۔“ (ترمذی۔ ابن ماجہ) یہ کون سے دن ہیں کہ رحمت، مغفرت اور جنت کی سیل لگی ہی، آوازیں دے دے کر بلایا جارہا ہے کہ آو اپنے گناہ معاف کرالو۔ آو! کہ رب مہربان ہی، اس سے جو کچھ مانگو گے عطا کرے گا۔ رحمت کی موسلا دھار بارش برسنے کو ہے۔ اپنے اپنے دامن پھیلا لو۔ جتنی رحمتیں اور برکتیں سمیٹ سکتے ہو، سمیٹ لو! آو کہ شیاطین باندھ دیے گئے ہیں۔ ”دوزخ کے سارے دروازے بند کردیے ہیں“ (متفق علیہ)
اے خیر کے طالب آگے بڑھو کہ رب تمھارے قریب آنے کو بے تاب ہے۔ تمھیں اپنا بنانے کو تیار ہے۔ آگے بڑھو، اس کے دامنِ رحمت و محبت کو تھام لو۔ اس سے مانگ کر تو دیکھو۔ اس کے آگے جھک کر تو دیکھو۔ یہ جھکنے کے دن ہیں، یہ توبہ و انابت کے دن ہیں، یہ رمضان المبارک کے دن ہیں، یہ برکت و رحمت کی راتیں ہیں۔ رمضان المبارک آیا ہی چاہتا ہے۔ آئیے کچھ سوچیں، کچھ طے کرلیں کہ رحمت و برکت کے اس بہتے دریا سے ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ جھولیاں بھرسکتے ہیں۔ کیسے زیادہ نیکیاں سمیٹ سکتے ہیں اور تیس دن کی اس مشق سے ہم کس طرح اپنی شخصیت کے اندر ایک نکھار پیدا کرسکتے ہیں۔ اپنے جسم و روح کی بیماریوں اور آلودگیوں کو کس طرح دھوکر پاک صاف کردار کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ آئیے سوچیں! مالک نے اپنے بندوں پر یہ روزے کیوں اور کس مقصد سے فرض کیی؟
ہم وہ مقصد کس طرح بہترین طریقے سے حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کون بدنصیب ہوتے ہیں جو ماہ رمضان المبارک پاتے ہیں لیکن نہ رحمتیں سمیٹتے ہیں، نہ کردار کی تعمیر کرپاتے ہیں، نہ رب کو راضی کرتے ہیں اور ہلاکت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہر وہ کام جو حسنِ نیت، سوچ بچار اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہی، اعلیٰ طریقے سے پایہ¿ تکمیل کو پہنچتا اور بہترین نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ آئیی! اس سال ہم بھی ایک منصوبہ بنائیں: ٭ استقبال رمضان کیسے کریں گے؟ ٭ دورانِ رمضان خیر اور بھلائی کیسے سمیٹیں گی؟ اپنے اندر سے ایک نیا انسان کیسے دریافت کریں گی؟ ٭ بعد رمضان خود کو کیسے پرکھیں گے کہ رب نے جو بنانا چاہا تھا ہم وہ بن پائے کہ نہیں؟
اور ایسا ہر سال تاعمر کریں گی، یہاں تک کہ رب کے پاس پہنچیں تو وہ جنت کے سارے دروازے کھول کر فرشتوں کے جلو میں ہمارا منتظر ہو۔ اللھم جعلنا منھم…. آمین۔ جونہی رمضان المبارک کا چاند نظر آئے رب کے آگے ہاتھ پھیلا دیں۔ صلوٰة حاجت ادا کریں۔ اس لیے کہ اس کی توفیق کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ و ما تشاءون الٓا ان یشاءٓ اﷲ رب العالمین۔ (سورة التکویر 29)
”اور تمھارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اﷲ رب العالمین نہ چاہے“۔ رب سے رمضان کی ساعتوں میں برکت کی دعا مانگیں۔ صحت اور عافیت مانگیں تاکہ کوئی گھڑی، لمحہ یا دن کسی وجہ سے ضائع نہ ہو۔ وقت کے صحیح استعمال کی توفیق مانگیں، گناہوں سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش میں اس سے مدد مانگیں، زیادہ عبادات، زیادہ انفاق اور دیگر نیکیوں میں آگے بڑھ جانے کا جذبہ مانگیں۔ استغفار کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان مانگیں۔ تدبر قرآن اور فہمِ قرآن کی توفیق مانگیں۔
اور سب سے بڑھ کر اللہ سے یہ دعا مانگیں کہ اے ہمارے رب! تُو نے روزے جس مقصد سے ہم پر فرض کیے ہیں اس مقصد پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں بہترین تقویٰ عطا فرما۔ اور وہ تمام دعائیں جو ماہِ مقدس کے حوالے سے دل میں ہوں، مانگیں کہ رب مہربان ہے اور دینے کو بے تاب ہے۔ رمضان خیرو برکت کا مہینہ: جب ہمارے رب کی رحمت پورے جوش میں ہوتی ہے۔ وہ رب جو ہرحال میں رحمان ورحیم ہے۔ جس کی رحمت ہر وقت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔
لیکن اس خاص ماہ میں خاص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ وہ رمضان کی ہر صبح اور ہر رات فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے جو آواز لگاتے ہیں: ”اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ، اے برائی کے طالب رک جا۔ اس کے بعد فرشتہ کہتا ہی: ہے کوئی اس کی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی مغفرت کی جائی، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کی جائی، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائی، ہے کوئی سائل کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔“
اے خیر کے طالبو زرا تصور کرو، کوئی بہت بڑا بادشاہ، بڑا سخی، بڑا مہربان منادی کررہا ہے، بہت کچھ دینے کو بے تاب ہے، محل و دربار سجاکر بیٹھا ہے، جنت، مغفرت ہر چیز سستی کردی ہے۔ رحمت اور محبت سے منتظر ہے کہ اس کے غلام، اس کے بندی، عباد الرحمن اس کی طرف رخ کریں، ادھر متوجہ ہوں۔ ہیری، جواہرات، تخت پوش، اطلس و دیبا کے لباس، سونے چاندی کے مکانات، پھلوں سے لدے باغات، دودھ اور شہد کی نہریں ہیں اور حوریں اور غلمان، طرح طرح کے کھانی، خوان سجائی، ساغر و جام تھامی، قطاروں میں استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔ ہے کوئی جو اس پکار پر کان دھرے؟
”رمضان میں اﷲ جل شانہ¾ متوجہ ہوتا ہے، اپنی رحمتِ خاص نازل فرماتا ہے، خطاوں کو معاف فرماتا ہے، دعاوں کو قبول فرماتا ہے۔ تمہارے تنافس کو دیکھتا ہے اور فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔ پس اﷲ کو اپنی نیکی دکھاو۔ بدنصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں اﷲ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔“ (طبرانی)
یعنی وہ مالکِ ارض و السموات عطا کرنے کو بے تاب ہی، فرشتوں سے بھی یہ کہتا ہے کہ دیکھو میرے بندوں کا تنافس، یعنی میرے بندے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ میرے قُرب کے لیے بے تاب ہیں۔ وہ میرے دامن سے چمٹ جانے کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کررہے ہیں۔
اور ایسا ہوتا ہے کہ ٭ کوئی زیادہ قرآن پڑھ لیتا ہے۔ ٭ کوئی زیادہ ذکر ودعا کرلیتا ہے۔ ٭ کوئی انفاق میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ ٭ کوئی دوسروں کو دین سکھانے میں رات دن لگا دیتا ہے۔ ٭ کوئی خدمت ِخلق میں بازی لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ٭ جنت کے تو سارے دروازے کھلے ہیں۔ ہر دروازے کی طرف مومنین کی دوڑ لگی ہی، اور اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرنے والا اﷲ پیار، محبت، شوق سے بے حدو حساب نعمتیں آگے رکھے اپنے پیارے بندوں کو دیکھ رہا ہے کہ کون کس دروازے سے اس کی طرف ان نعمتوں اور انعامات کی طرف آتا ہی!
بھلا کوئی اس سے بدنصیب بھی ہوگا جو منہ دوسری طرف پھیر کر کھڑا ہو۔ جو دنیا کی چند روزہ زندگی کی طرف مگن ہو اور اس کے کان اس کی پکار سے بہرے ہوں، اس کے دل کے سوتے بند ہوں، اس کی آنکھیں اس محدود زندگی سے آگے نہ دیکھ سکتی ہوں، نہ رمضان کی حقیقت سمجھی، نہ قدر کری، نہ محنت کرے۔ دنیا میں اس بچے سے زیادہ بدنصیب کون ہوتا ہے جس کی ماں اس کے لیے بانہیں پھیلا کر بیٹھی ہو مگر اسے صرف کھلونے مطلوب ہوں اور ماں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھی….
بہت کوشش کے بعد ماں کہے گی: دفع ہوجا، اب میری طرف نہ آنا۔ دُکھی ہوجائے گی، ناراض ہوجائے گی۔ لیکن اﷲ تو بار بار بلاتا ہے۔ ہر سال بلاتا ہے۔ طرح طرح سے ترغیبات دیتا ہے۔ شاید بندوں کے دل میں کوئی بات اتر جائے۔ اجر اتنا بڑھا دیا کہ ”نفل کا اجر فرض کے برابر، اور فرض کا اجر ستّر فرضوں کے برابر“۔ (متفق علیہ)
آج کی دنیا میں لوگ ’سیل‘ کے لفظ سے اچھی طرح واقف ہیں جہاں دکاندار مال کی قیمتیں کم کردیتے ہیں۔ بہت بڑی سیل ہو تو ایک کی قیمت میں دو اشیاءدے کرکہتے ہیں ”لوٹ سیل“۔ کسی نے سوچا ایک کے بدلے ستّر؟ کوئی تصور کرسکتا ہی؟ ایک ہزار کا صدقہ دو، ستّر ہزار کا اجر لو۔ ایک نیکی کرو، ستّر کا بدلہ پاو۔ چار رکعت فرض نماز ادا کرو، 280 نمازوں کا اجر پاو۔ ایک تسبیح(100) کلمہ طیبہ کی کرو، 7000کا اجر پاو۔ اور خود روزہ…. اس کے اجر کی تو کوئی حد ہی نہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہی، یہاں تک کہ ایک نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہی، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“ (متفق علیہ)
اس سے مراد یہ ہے کہ روزے کے اجر کی کوئی حد مقرر نہیں ہی، اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے گا روزہ دار کو اس کا اجر دے گا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روزے کی بے حدو حساب جزا دے گا۔ جتنے گہرے جذبے اور اخلاص کے ساتھ روزہ رکھیں گی، اللہ تعالیٰ کا جتنا تقویٰ اختیار کریں گی، روزے سے جتنے کچھ روحانی و دینی فوائد حاصل کریں گے اور پھر بعد کے دنوں میں بھی ان کے فوائد کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گی، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جزا بڑھتی چلی جائے گی۔ (کتاب الصوم: ص 33)
اے اﷲ کے بندو! اﷲ نے ان ساری چیزوں کی سیل لگادی ہے۔ رمضان میں مفت میں مل رہی ہیں۔ رحمت، مغفرت اور آتشِ دوزخ سے رہائی کا مہینہ بنادیا ہے۔ پہلے ہی نیک ہیں تو پہلے دس دن میں ہی اس کی رحمتوں کے دریا سے سیراب ہوجائیں گے۔ کچھ گناہ نامہ¿ اعمال میں ہیں تو دس دنوں کی عبادت اگلے عشرے میں اس کی مغفرت کا حقدار بنادے گی۔ زیادہ گناہ گار ہیں تو بیس دن کی محنت وریاضت اور عبادت تو ضرور ہی آتش دوزخ سے رہائی پانے والے گروہ میں داخل کردے گی۔ اور آخری دس دن گزرنے تک جنت کا کوئی دروازہ پکار رہا ہوگا
ان شاءاﷲ ۔
آئیے اللہ سے یہ دعا مانگیں کہ اے ہمارے رب! تُو نے روزے جس مقصد سے ہم پر فرض کیے ہیں اس مقصد پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں بہترین تقویٰ عطا فرما۔ اور وہ تمام دعائیں جو ماہِ مقدس کے حوالے سے دل میں ہوں، مانگیں کہ رب مہربان ہے اور دینے کو بے تاب ہے۔ رمضان خیرو برکت کا مہینہ: جب ہمارے رب کی رحمت پورے جوش میں ہوتی ہے۔ وہ رب جو ہرحال میں رحمان ورحیم ہے۔ جس کی رحمت ہر وقت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔
(بھائی احمد ترازی کے مضمون سے اقتباس)
کسی نے سوچا ایک کے بدلے ستّر؟ کوئی تصور کرسکتا ہی؟ ایک ہزار کا صدقہ دو، ستّر ہزار کا اجر لو۔ ایک نیکی کرو، ستّر کا بدلہ پاو۔ چار رکعت فرض نماز ادا کرو، 280 نمازوں کا اجر پاو۔ ایک تسبیح(100) کلمہ طیبہ کی کرو، 7000کا اجر پاو۔ اور خود روزہ…. اس کے اجر کی تو کوئی حد ہی نہیں۔
خد ا کا ذ کر کر ے ،ذکر مصطفٰی نہ کرے
ہما رے منہ میں ہو ایسی زبا ں خد ا نہ کر ے
در رسو ل پہ ایسا کبھی نہیں دیکھا
کو ئی سو ال کر ے اور وہ عطا نہ کر ے
کہا خد ا نے ،شفا عت کی با ت محشر میں
پہل حبیب کر ے ، کو ئی دو سرا نہ کر ے
مد ینے جا کے نکلنا نہ شہر سے با ہر
خدا کرے کہ یہ زندگی وفا نہ کرے
اسیر جس کو بنا کر رکھیں مد ینے میں
تمام عمر رہا ئی کی وہ دعا نہ کر ے
نبی کے قد موں پہ جس دم غلام کا سر ہو
قضا سے کہہ دو کہ اک لمحہ بھی قضا نہ کرے
شعور نعت بھی ہو اور زباں بھی ہو ادیب
وہ آدمی نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرے
اللہ کریم ہمارے پاکستان پر اپنی رحمتیں نچھاور کر دے .. میرے پاک پروردگار اس پاک برکت مہینے کے صدقہ ہم مسلمانوں کو اپنی خاص اماں میں رکھ .. ہمارے تھوڑے کو بھی شرف قبولیت عطا کر .. اے میرے مالک ہمیں اپنے علاوہ کسی کے سامنے نہ جھکانا .. اے میرے رب بس ہمیں بخش دے .. آمین
ماہِ رمضان سارے بہن بھائیوں کو مبارک ہو۔
اللہ اس ماہ مقدس کو ہمیں ہماری زندگیوں کو اس سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس کے لیے اس نے ہمیں اس دنیا میں بھیجھا ،اور ہمیں توفیق دے کہ ہم صرف رمضانی ملا نہ بنیں بلکہ باقی گیارہ مہینے بھی اسی کی عطاعت میں گذاریں اور ویسے ہی عبادات و صدقات کا اہتمام کریں ،جیسے ہم رمضان میں کرتے ہیں ، آمین ، ثمہ آمین
عالمی اخبار کی انتظامیہ ، تمام مبصرین و قارئین کو ماہِ صیام مبارک ہو۔
اور اظہر صاحب کی اس دعا ” اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم صرف رمضانی ملا نہ بنیں “ پہ آمین ثمہ آمین ۔
تمام عالمِ اسلام کو رمضان شریف کی متبرک ساعتیں مبارک ہوں
اے اللہ ، اے دو جہان کے پالنے والے اے مشرق و مغرب کے رب ، اے کل آسمانوں اور زمینوں کے خالق ، اے شب کی تاریکی کو سحر کے اجالے میں بدلنے والے، اے کن فیکون کہہ کر تخلیق کرنے والے تیرے یہ گناہگار بندے عاجزی و انکساری کے ساتھ تیری
بارگاہ میں حاضری دینے آرہے ہیں ، تو ھمیں معاف فرما ، ھم پہ اپنا کرم فرما۔
تیرا فرمان ہے کہ شیطان اس ماہ میں قید کردیا جاتا ہے اے ربِ جہاں ھمیں ھمیشہ کے لیے شیطان کی قید سے آزادی دلا دے ، ھمارے قلوب کو صرف اور صرف اپنی طرف مائل کردے ھمیں اپنا اطاعت گزار بنا دے ، ھمارے نفسوں کو پاک کردے ، ھمیں نفرتوں ، حسد ، کینہ پروری ، انا پرستی ، ہر طرح کی گرہ بندی ، شر انگیزی فتنہ پروری ، اور دہشت گردی سے دور کردے۔
اے کریم ، اے غفورالرحیم اس ماہِ مبارک میں ھمیں عبادات کی معراج پر پہنجادے اور اس ماہ کے اختتام پر ھمیں پھر کسی شرانگیزی سے کوئی لگاؤ نہ رہے، کسی گناہ سے کوئی رقبت نہ رہے۔
اے پروردگار عالم تو اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آلِ پاک کے صدقے میں ھمیں اپنی امان میں رکھ ، ھمارے ملکِ پاکستان پر اپنا کرم فرما اس ملک کے تمام باسیوں کی جان مال عزت آبرو کی حفاظت فرما۔ آمین ثمہ آمین
اسلام علیکم
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری عبادات کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرماۓ ۔اس ماہ مقدس اور آگے آنیوالے مہینوں میں بہی ہمیں خلوص دل اور خشوع و حضوع سےعبادت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
اللہ ہمارے دلوں کو کدورتوں سے پاک کر وے اور آپس میں محبت اور خلوص سے جڑے رہنے کی توفیق عطا کرے ۔ ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بڑا بنا کر قبول فرماۓ ۔
آپ سب کو رمضان مبارک ۔اپنی دعاؤں میں مجھ ناچیز کو ضرور یاد رکھۓ گا ۔میں بھی اپنی دعاؤں میں آپ سب کو شامل رکھوں گی انشا ء اللہ
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
عالم آرا
وینکور
رمضان کریم کی بابرکت ساعتیں،سعادتیں،اوررحمتیں مبارک ہوں
اللہ تمام احباب کو اس ماہ مبارک کی برکتیں نصیب کرے
آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد بھائی اللہ آپ کو اور باباکو خیرکی باتیں تحریرکرنےپرجزائے خیرعطا فرمائے
آمین
عالمی آخبار کے ھر قاری کو انتظامیہ کو رمضان کریم کی بہت بہت بہت مبارک باد ۔یہ بڑی برکتوں اور شان والا میہنہ ھے ، گیارہ ماہ بندوں کے اور ایک ماہ اللہ تعالی کے لیے مخصوص ھے اسی لیے مالک دوجہان نے اس مبارک اورتقدس بھرے مہینے میں کی جانے والی ھر نیکی اور ھر عبادت کا اجر وثواب کي گنا بڑھا دیا جاتا ھے ، سارے مہینوں کے سردار مہینے رمضان ميں شیطان کو مقید کردیا جاتا ھے رمضان میں سب سے مفدس آسمانی صحفے قرآن الکریم کا نزول ھوا ، اسی میہنے لیلہ القدر بھی مومنوں کے لیے ھدیہ کی گی کہ یہ وہ رات ھے جس میں کی گی ھر عبادت کا ثواب ھزار راتوں کی عبادت کے مساوی مقرر کیا گیا ھے
کاش ھم سب اس متبرک مہینے کی ھر ساعت سے پوری طرح مستفید ھوسکیں لمحے لمحے سے برکت کشید کرسکیں ۔
کثرت سے عبادت کریں ، قیام وصیام کا خاص اھمتمام کریں
تلاوت قرآن کریم کی برکتوں سے فیضاب ھوسکیں
صدقہ وخیرات دعا واستغفار، صوم صلاۃ ،قیام اللیل ، یہ سارے اعمال اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ ترین ھیں ، انکا اجر اللہ تعالی خودعطا فرماتا ھے روزے کا معماملہ جدا ھے وہ جس فدر چاھے اجر وثواب عطا فرماۓ ، اللہ پاک اس ماہ کی جانے ھر عبادت کا ثواب بڑی شان سے عطا کرتا ھے ، اسکی مرضی وہ ایک نماز کا اجر ستر نمازروں کے اجر سے زیادہ عطا فرماۓ گا ، اس مہینے میں ابواب الجنت وا کر دیيۓ جاتے ھيں ، جنت خود نیکی کرنے والوں اور عبادت گذاروں کے لیے بیقرار ھوجاتی ھے
عاصی اور گناہ گاروں کے لیے یہ برکت مغفرت سعادت کا میہنہ ھے ،ھم کو مہلت دی گی ھے کیا خبر ھم آگلے رمضان اس دنیا میں رھیں یا نہ رھیں ، آج کل جو مللک وقوم کے حالات ھیں ھم سب اس مبارک میہنے میں اپنے رب کی عبادت کرکے اسکی خوشنودی اور
رضا حاصل کرسکتے ھیں ، لاکھوں محبان اسلام اس وقت مکہ المکرمہ میں ھیں اور اس ماہ میں کیا گیا عمرہ بھی اللہ کو اس قدر پسند ھے کہ اس عمرے کا ثواب بھی حج کے ثواب کے برابر عطا فرماتا ھے، دعايئں اور عبادت کا ثواب بھی خوب عطا کرتا ھے
اللہ تعالی اس ماہ ھر دعا کو شرف قبولیت عطا کرتا ھے مگر جو دعا اذان واقامت کےدوران مانگی جاۓ اس کو ضرور قبول کرتا ھے افطار سے قبل مانگی جانے والی دعا۔سحور میں مانگی ھوئ دعا کوھر نماز میں کی گی دعا کو قبول فرماتا ھے ، یہ بخشش مغفرت اور عطا کا میہنہ ھے
اللہ پاک ھم سب کو اس شہر صیام میں نیکی کرنے عبادت کرنے۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے کسی غریب کو عید سے قبل خوشی دینے کی توفیق عطا فرماء امین ثمہ امین
روزہ ایک عبادت ہے اور فرض ہے ۔ اس کے جسمانی ،ذہنی اور روحانی فائدے مسلم ہیں ۔ میرے نزدیک من جملہ دیگر فوائد وبرکات کے روزے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان جسے ہر قسم کی نعمتیں میسرہیں اور انکے خوردونوش پر قدرت رکھتا ہے ، وہ حسبِ حکم خداوندی جب اپنے نفس کو قابو میں رکھتاہے ، خود کواکل واثرب سے محروم کرتاہے اور اس میں جب محرومی کا احساس کرتاہے تو اسکو ضرور ان کا خیال آنا چاہئے جو بے بضاعتی کی بناء پر اشیاء خورد ونوش سے مجبوراً محروم رہتے ہیں ، ان کو اس گرسنگی اور تشنگی کا احساس ہونا چاہئے کہ جو ایک نادار کی قسمت ہوجاتی ہے اور اس پیاس کا ادراک ہونا چاہئے کہ جو کشمکش حیات اور اصول وفرائض کی بناء پر اختیار کی جاتی ہے ، جب ایک مسلمان روزہ رکھتاہے تو وہ خالق کائنات کے حکم کی تعمیل کرتاہے ۔روزے جفا کشی سکھاتے ہیں ، حق پر رہنے کی قوت پیدا کرتے ہیں اور ضبطِ نفس کی تعلیم دیتے ہیں ، جہدزیست میں حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں ، بھٹی کی آگ میں تپا کر مِس خام کو کندن بناتے ہیں ۔ روزہ انسان کو دینی ، مادی ،روحانی ، اخلاقی ، نفسیاتی برائیوں اور نقصانات سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ اسلام نے روزہ کو مومن کیلئے شفا قرار دیاہے۔یہ عبادت جہاں تزکیہ نفس اور روحانی طہارت کا بے نظیر ذریعہ ہے ، وہاں یہ انسان کی ظاہری اور جسمانی صحت کیلئے ایک نسخۂ کیمیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سال میں صرف ایک مبارک ماہ کے روزے فرض کرکے ہمیں اپنی صحت درست رکھنے اور تازہ دَم ہونے کے لئے ایک مجرب اور تیربہدف نسخہ تجویز کرکے ہم انسانوں پر بہت بڑااحسان فرمایاہے ۔سال کے گیارہ مہینوں میں ہم دن بھر صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔پُرخوری سے ہمارے جسم کے سبھی نظامِ ہا متاثر ہوتے ہیں ۔ ہم ہرساعت بعد چائے، کوفی یادیگر مشروبات سے لطف اندوز ہو کر اپنے نظام ہاضمہ کو ضرر پہنچاتے ہیں۔ کچھ لوگ جنسی افعال سے بھی پرہیز نہیں کرسکتے لیکن جب ہم اپنے خالق کے حکم کے آگے سرجھکاتے ہیں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں تو ہم وہ سب کچھ نہیں کرتے جس کی ترغیب ہمیں نفس دیتاہے ، اس طرح روزہ ہمیں خداوند کریم کے قریب لاکر ہر مضر اور غیر ضروری چیز سے دور رکھتاہے۔اور یوں ہم ایک ایسے تطہیری عمل سے گزرتے ہیں جس کی مثال کسی بھی مذہب کی کسی بھی عبادت میں نہیں ملتی ہے جہاں تک روزوں کے طبی فوائد کا تعلق ہے ، اس بارے میں یہ کہنا کافی ہے کہ آج تک کوئی ایسا محقق پیدانہیں ہوا جس نے یہ بات ثابت کی ہو کہ روزے رکھنے سے انسانی جسم پر کوئی مضر اثر پڑتاہو۔ طب اسلام کے علاوہ مغرب کے بلند پایہ معا لجین بھی روزوں کی طبی اہمیت تسلیم کرتے ہیں ۔ یورپ میں فاقہ کوعلاج کے ایک مستقل طریقہ کی حیثیت حاصل ہے اور کئی ایک امراض کا علاج صرف فاقہ ہی سے کیا جاتاہے ۔ چنانچہ یورپ کے طبی ماہرین عوام کو ہفتہ میں ایک روز فاقہ کی تلقین کرتے ہیں ۔ حکیموں اور ڈاکٹروںکی متفقہ رائے ہے کہ پُرخوری ہمیشہ صحت کے لئے ضرر رساں ہے ۔ بُلند فشار خون، ذیابیطس ، موپاٹا، نظام ہاضمہ کی متعدد بیماریوں کے علاوہ اعصابی تنائو ، دبائو،کھینچائو، اور ذہنی ودماغی کمزوری بھی پُرخوری ہی سے پیدا ہوتی ہے۔دنیا میں کروڑوںلوگ موٹاپا یا اضافی وزن سے چھٹکارہ پانے کے لئے فاقہ کشی کرتے ہیں یا مخصوص غذائی منصوبوں پر عمل پیر اہوتے ہیں ۔ان مخصوص غذائی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے سے انسان کی صحت پر زبردست منفی اثرات پڑتے ہیں لیکن جو روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے ہیں وہ عام ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ’’فاقہ کشی‘‘ سے بالکل مختلف ہیں ۔ روزے رکھنے سے کوئی بھی مسلمان دوچارِ سوء تغذیہ نہیں ہوتاہے اور نہ ہی اسکی صحت کے لئے لازم حراروں میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے ۔ اس مبارک ماہ میں مسلمانوں کو کسی خاص قسم کی غذا کھانے کی ہدایت نہیں دی گئی ۔ وہ اپنی مرضی سے ہر قسم کی حلال اور قوی غذا کھاسکتے ہیں ۔ ماہِ رمضان میں ہم صرف نہار(دن کا کھانا) کھانے سے اور آٹھ دس گھنٹے مشروبات پینے سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسانی جسم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے کارخانہ میں ایسا نظام بنایاہے کہ جسم کم آبی یا کم غذائی کے دوران اپنے ذخائر استعمال کرتاہے ۔
۴۹۹۱ء میں ’’ماہ رمضان اور ہماری صحت ‘‘ کے موضوع پر کاسابلانکا میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں پچاس طویل مقالے پیش کئے گئے ۔ ان میں روزوں کی طبی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ۔ جہاں روزوں کو مختلف بیماریوں سے چھٹکارہ پانے کے لئے نسخہ کیمیا قرار دیا گیا ،وہاں کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ روزوں سے جسم کو کسی طرح کا نقصان پہنچتاہویاکسی بیماری کی پیچیدگی ظاہر ہونے کے امکانات موجود ہوں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کچھ ایسی بیماریوں کی نشاندہی کی گئی جن میں مریض کو روزے رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ۔
روزوں کا اعصابی نظام پر ایک مثبت اثر پڑنے سے ، روزہ دار کو ایک خاص قسم کا سکون میسر ہوتاہے۔اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہئے کہ روزے کے دوران چند لوگوں میں چڑچڑاپن اور بے دلی کا اعصابی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتاہے ۔ اس قسم کی صورتحال ان انسانوں کے اندر انانیت یاطبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس روزے کے دوران اعصابی نظام مکمل سکون اور آرام کی حالت میں ہوتاہے ۔ روزے ،پریشانی ، افسردگی ، ذہنی دبائو ، تنائو ، کچھائو اور دیگر نفسیاتی امراض سے چھٹکارہ دلانے میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ انسانی تحت الشعور جو ماہِ رمضان کے دوران عبادت کی مہربانیوں کی بدولت صاف و شفاف اور تسکین پذیر ہوجاتاہے اور اعصابی نظام سے ہر قسم کے تنائو اور الجھن کو دور کرنے میں مدد دیتاہے ۔روزوں میں ، روزہ رکھنے والوں کا نفسیاتی طور پر سکون رہنے کی وجہ یہ ہے کہ خون میں شکر کی سطح ایک خاص اعتدال میں رہتی ہے ۔ ایسا عام دنوں میں ممکن نہیں ہے ۔
روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں ۔ ہڈیوں کا گودا حرکت پذیر ہوجاتاہے ۔ اسکے نتیجے میں لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر خون میں موجود خلیات کی تعداد کو بڑھا سکتے ہیں (جن افراد کو خون کی کوئی خاص بیماری ہو انہیں روزہ رکھنے سے قبل کسی ماہر معالج سے صلاح مشورہ کرنا چاہئے)۔ ایک ماہ روزے رکھنے سے ہمیں اپنے معدے، انتڑیوں ، جگر اور گردوں کو آرام دینے کا سنہری موقع فراہم ہوتاہے ۔ روزے انسانی جسم سے فاسد مواد کے تعتیہ کا باعث ہوتے ہیں ۔ معدہ میں پیدا ہونے والا گیسٹرک جوس خالی رہ کر بدن کی صفائی میں لگ جاتاہے اور ہر قسم کا زہریلا مادہ باہر نکلتاہے۔ روزہ کا اثر طحال اور جگر پر خاص طور پر پڑتاہے ۔ وقت پر اور اعتدال میں غذاکھانے سے معدہ اور جگر کے امراض میں نمایا ں کمی ہوتی ہے۔سانس کی بے اعتدالی ،شدید نزلہ ، زکام میں بھی روزہ بہترین علاج ہے ۔ روزہ رکھنے سے چھوٹے بڑے آنتوں کی صفائی ، معدہ کی اصلاح اور موٹاپے سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
جرمنی ، انگلینڈاورامریکہ کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم رمضان المبارک میں اس بات کی تحقیق کرنے کے لئے آئی کہ ماہ رمضان میں کان ، ناک اور گلے کے امراض کم ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ چوںکہ مسلمان نماز پڑھتے ہیںاور خاص طور پر رمضان المبارک میں زیادہ پابندی کرتے ہیں اس لئے وضو کرنے سے کان ناک اور گلے کے امراض کم ہوجاتے ہیں۔محققین نے ثابت کیا ہے کہ ایک ماہ روزے رکھنے سے بلند فشار خون اور ذیابیطس پر قابو پایا جاسکتاہے اور اس ماہ کے دوران اِن امراض میںمبتلا مریضوں کو خاطر خواہ فائدہ ملتا ہے۔
ماہ رمضان میں نماز تراویح پڑھنے کافائدہ یہ ہے کہ جسم میں اضافی حرارے استعمال ہوتے ہیں اورموٹاپے سے نجات مل جاتی ہے ۔ہر رکعت پڑھنے سے دس اضافی حرارے جلتے ہیں اور بار بار اٹھنے جھکنے اور بیٹھنے سے جسم کے جوڑوں پر ایک ہلکی پھلکی ورزش سے مثبت اثرات پڑتے ہیں اور پھرروزوں میں تلاوت قرآن سے نہ صرف دل ودماغ کو سکون ملتاہے بلکہ یا داشت میں بھی نمایاں بہتری آجاتی ہے ۔
ابھی کچھ عرصہ قبل تک یہ سمجھا جاتاتھاکہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہاضمہ کوآرام ملتاہے ۔ جیسے جیسے طبی علم نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہواکہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے ۔ اس کے ہزاروں فائدے ہیں اور ایک بھی نقصان نہیں۔ اسلئے ہر بالغ ،ہوشمند اور تندرست مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس ماہ کے دوران پورے روزے رکھے اوربے شمار طبی فوائد حاصل کرلے ۔
گوگل سرچ سے اس مضمون کو کاپی پیسٹ کی سہولت سے یہاں نقل کیا گیا ،
رمضان المبارک کی آمد سے ہر مسلمان کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ایک نیکیوں کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ عبادتوں کاسلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جو زیادہ تر مسجدوںمیں نہیں جا پاتے وہ مساجد کی آبادی بڑھاتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ گویا ایک اٹھتی ہے۔۔نیکیاں کرنے کی۔۔دعائیں سمیٹنے کی۔۔عبادتوں میں رب تعالی کوراضی کرنے کی۔۔دوسروں کا خوب خیال رکھا جاتا ہے۔۔افطار کی دعوتوں کے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔۔رمضان میں زیادہ تر لوگ بدے ہوئے پائے جاتے ہیں۔۔۔
یہ بہت ہی اچھا منظر ہوتا ہے۔۔مسلمانوں کو یونہی کرنا چاہیے۔۔ دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ ہمیشہ ایسے ہی برقرار رہنا چاہیے۔ افطار کی دعوتوں میں غریبوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔۔ اور روٹھے ہووں کو بھی اسی ماہ مبارکہ کی برکت سےمنا لینا چاہیے۔۔ ہم میں سے ہرکوئی ایمانداری کی قسم کھائے۔۔ جو عہدیدار ہیں وہ فرائض پوری تندہی سے سرانجام دینے کا پکا ارادہ کرلیں۔۔ ہم اپنی زندگیوں میں اسلامی طرز زندگی کی زیادہ سے زیادہ آمیزش کرنے عہد کریں۔۔ کوئی جھوٹ سے توبہ کرے تو دوسرا دھوکہ دہی سے بیزاری کا اظہار کرے۔۔
اگر ہم اس ماہ رمضان کو اپنی زندگیوں میں تھوڑی سے تبدیلی کا ذریعہ بنالیں تو یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔۔آسمانوں کا رب تو راضی ہوگا ہی دنیا والے بھی آپ کی نیک نامی کے قائل ہوں گے۔۔کتنا ہی اچھا ہوکہ یہ ماہ رمضان ہماری زندگیوں پر کچھ ایسے نقوش چھوڑ جائے کہ ہر غریب ، محکوم اور مظلوم شخص اس کے جلد از جلد آنے کی دعا کرے۔ غیر مسلم اور دین سے دور افراد اس قدر متاثر ہوں کہ دین محمدی کی حقانیت اور عملیت کے قائل ہو جائیں۔۔۔
آو! آج سے ہی ہم سب بدلنے کا عہد کریں۔۔پھر تھوڑی سی کوشش بھی۔۔۔اور خلوص دل سےعمل بھی۔۔۔
ماہ رمضان کا یہی پیغام ہے۔۔اور تقوی کے حصول کے لیے اس مہینے کو اتارا گیا ہے۔۔جس کا حصول یقینا خود کو اللہ تعالی کے مزید قریب کرنے سے ہی ممکن ہے۔۔۔
(یہ تحریر ایک ایک فورم سے یہاں نقل کی جا رہی ہے ۔۔)
دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان المبارک کی فضیلت چند اعتبار سے ہے ۔
دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان المبارک کی فضیلت چند اعتبار سے ہے ۔
٭ قرآنِ مقدس میں یہ تو مذکور ہے کہ مہینے بارہ ہیں اور یہ بھی مذکور ہے کہ ان میں سے چار حرمت والے ہیں لیکن صرف ماہِ رمضان المبارک کا نام قرآنِ مقدس میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے باقی کسی بھی مہینے کا نام صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ‘‘ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔
٭ رمضان میں قرآنِ مقدس کا نزول ہوا، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ہے ۔
٭ اسی ماہ میں شبِ قدر ہے ، جس کا قیام ہزار مہینوں کے قیام سے بہتر ہے ۔
٭ ہر ماہ میں عبادت کے لئے وقت مقرر ہے مگر اس ماہ میں روزہ دار کا لمحہ لمحہ عبادت میں شمار ہوتا ہے ۔
٭ اس ماہ میں نیکیوں کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک بڑ ھا دیا جاتا ہے ۔
٭ نفل کا ثواب فرض کے برابراور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ہوجاتا ہے ۔
٭ اللہ تعالیٰ اس ماہ میں اپنے بندوں پر خصوصی توجہ فرماتا ہے ۔
٭ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ۔
٭ جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں ۔
٭ آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور بندوں کی جائز دعائیں بابِ اجابت تک بالکل آسانی کے ساتھ پہونچ جاتی ہیں ۔
(یہ تحریر ایک ایک فورم سے یہاں نقل کی جا رہی ہے ۔۔)
٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اسی ماہ کی ایک تاریخ کو نازل ہوئے ۔
٭ توریت شریف اسی ماہ کی ۶تاریخ کو نازل ہوئی۔
٭ انجیل شریف اسی ماہ کی ۱۳تاریخ کو نازل ہوئی۔
٭ قرآنِ مقدس اسی ماہ کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔
٭ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہراء (ع) کا وصال اسی ماہ کی ۳تاریخ کو ہوا۔
٭ جنگِ بدر اسی ماہ کی ۱۷تاریخ کو ہوئی۔
٭ فتحِ مکہ اسی ماہ کی ۲۰تاریخ کو ہوئی۔
٭ حضرت علی مشکل کشا شیرِ خدا (ع) کی شہادت اسی ماہ کی ۲۱تاریخ کو ہوئی۔
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
اللہ علیہ و آلہ سے منقول دعا اردو ترجمہ کے ساتھ:
یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا غَفُورُ یَا رَحِیمُ أَنْتَ الرَّبُّ الْعَظِیمُ الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ وَھُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ
اے بلند تر اے بزرگی والے اے بخشنے والے اے مہربان تو ہی بڑائی والا پروردگار ہے کہ جس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے
دیکھنے والا ہے
وَھذَا شَھْرٌ عَظَّمْتَہُ وَکَرَّمْتَہُ وَشَرَّفْتَہُ وَفَضَّلْتَہُ عَلَی الشُّھُورِ، وَھُوَ الشَّھْرُ الَّذِی فَرَضْتَ صِیامَہُ عَلَیَّ
اور یہ وہ مہینہ ہے جسے تونے بزرگی ,عزت اوربلندی عطا فرمائی اور سب مہینوں پر فضیلت عنایت کی اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے
روزے تونے مجھ پر فرض کیئے ہیں
وَھُوَ شَھْرُرَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیہِ الْقُرْآنَ ھُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْھُدی وَالْفُرْقانِ وَجَعَلْتَ فِیہِ لَیْلَةَ الْقَدْرِ
اور وہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں تو نے قرآن نازل کیا جو لوگوں کیلئے رہبر ہے اس میں ہدایت کی دلیلیں اور حق و باطل کی تفریق
ہے اوراس مہینے میں شب قدر قرار دی
وَجَعَلْتَہا خَیْراً مِنْ أَ لْفِ شَھْرٍ، فَیا ذَا الْمَنِّ وَلاَ یُمَنُّ عَلَیْکَ مُنَّ عَلَیَّ بِفَکاکِ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ فِی مَنْ تَمُنُّ عَلَیْہِ
اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے پس اے احسان کرنے والے تجھ پر احسان نہیں کیا جا سکتا تو میری گردن آگ سے چھڑا کر
مجھ پر احسان فرما انکے ساتھ جن پر تونے احسان کیا
وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
اور مجھے داخل جنت فرما اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے ۔