میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ روزہ تو انسان کو قوت عطا کرتا ہے ذہنی بھی اور جسمانی بھی. جی جسمانی قوت میں نے سوچ سمجھ کر کہا ہے اور کوئی بھی ڈاکٹر یہاں بلاگ میں میری اس سوچ کی تنسیخ کر سکتا ہے. لیکن اسکے باوجود کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد روزہ رکھ کر سست ہو جاتی ہے اور اسلامی ممالک میں استعداد کار نہایت بری طرح متاثر ہوتی ہے

جی روزہ روحانی طور پر قوت دیتا ہے لیکن جسمانی طور پر سست کر دیتا ہے کہ شوگر کی مقدار خون میں کم ہو جاتی ہے .. لیکن میں جان سکتی ہوں کہ آپ نے یہ سب کیوں لکھا ہے کہ اس بار رمضان بلاگ میں وہ رونق نہیں ہے جو پچھلے دو برسوں سے تھی …. کوئی بات نہیں بابا سب لوٹ کر واپس اپنے ہی گھر آتے ہیں .. مجھے یقین ہے کہ سب ایک دن واپس لوٹ آئیں گے .. جو نہ آئے تو ہم یہ سمجھ لیں گے کہ وہ سب کبھی ہمارے تھے ہی نہیں .. انہیں ان کا کام کرنے دیجئے اور ہم اپنا کام کرتے ہیں یعنی انہیں دعاؤں میں آباد رکھتے ہیں .. ان کی خوشیوں کو لمبی عمر کی دعا دیتے ہیں .. آمین
” اس بار رمضان بلاگ میں وہ رونق نہیں ہے جو پچھلے دو برسوں سے تھی …. کوئی بات نہیں بابا سب لوٹ کر واپس اپنے ہی گھر آتے ہیں .. مجھے یقین ہے کہ سب ایک دن واپس لوٹ آئیں گے .. جو نہ آئے تو ہم یہ سمجھ لیں گے کہ وہ سب کبھی ہمارے تھے ہی نہیں .. انہیں ان کا کام کرنے دیجئے اور ہم اپنا کام کرتے ہیں یعنی انہیں دعاؤں میں آباد رکھتے ہیں .. ان کی خوشیوں کو لمبی عمر کی دعا دیتے ہیں .. آمین”
باجی آپ نے درست لکھا واقعی اس بار رمضان میں وہ رونق نہیں محسوس ہورہی جو پچھلے برسوں میں عالمی اخبار پر تھی باقی رہی دوستوں کے لوٹ آنے کی بات تو یہ تو ہوتا ہے جب قافلہ چلتا ہے تو لوگ اس قافلے میں شامل ہوجاتے کوئی ساتھ چلتا رہتا ہے اور کوئی راستے میں اترجاتا ہے
وہم تھا قافلہ ہم سفراں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مڑ کے دیکھا تو کوئی ساتھ نہ تھا
لیکن قافلہ سالار کو اس بات کا غم نہیں ہوتا کہ کون آیا اور کون چلا گیا اس کی نظر تو اپنی منزل پر ہوتی ہے بابا اور باجی عالمی اخبار کے قافلہ سالار ہیں اور قافلہ سالای عزم ہمت اور حوصلہ مند ہوں تو پھر سفر جاری رہتا ہے یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا انشاء اللہ
وہم
نماز اور زکوٰۃ کے بعد تیسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟ انسان کے نفس پر جب اس کی خواہشیں غلبہ پالیتی ہیں تو وہ اپنے پروردگار سے غافل اور اس کے حدود سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غفلت اور بے پروائی کی اصلاح کے لیے ہم پر روزہ فرض کیا ہے۔ یہ عبادت سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک کی جاتی ہے۔ رمضان آتا ہے تو صبح سے شام تک ہمارے لیے کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ خلوت کرنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے یہ عبادت ہم سے پہلی امتوں پر بھی اسی طرح فرض کی تھی جس طرح ہم پر فرض کی ہے۔ ان امتوں کے لیے، البتہ اس کی شرطیں ذرا سخت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے جس طرح دوسری سب چیزوں کو ہلکا کیا، اسی طرح اس عبادت کو بھی بالکل معتدل بنا دیا ہے۔ تاہم دوسری سب عبادتوں کے مقابلے میں یہ اس لیے ذرا بھاری ہے کہ اس کا مقصد ہی نفس کے منہ زور رجحانات کو لگام دے کر ان کا رخ صحیح سمت میں موڑنا اور اسے حدود کا پابند بنا دینا ہے۔ یہ چیز، ظاہر ہے کہ تربیت میں ذرا سختی ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔
سحری کے وقت ہم کھا پی رہے ہوتے ہیں کہ یکایک اذان ہوتی ہے اور ہم فوراً ہاتھ روک لیتے ہیں۔ اب خواہشیں کیسا ہی زور لگائیں، دل کیسا ہی مچلے، طبیعت کیسی ہی ضد کرے، ہم ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے جن سے روزے کے دوران میں ہمیں روک دیا گیاہے۔ یہ ساری رکاوٹ اس وقت تک رہتی ہے، جب تک مغرب کی اذان نہیں ہوتی۔ روزہ ختم کر دینے کے لیے ہمارے رب نے یہی وقت مقرر کیا ہے۔ چنانچہ مغرب کے وقت موذن جیسے ہی بولتا ہے، ہم فوراً افطار کے لیے لپکتے ہیں۔ اب رات بھر ہم پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ رمضان کا پورا مہینا ہم اسی طرح گزارتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وقتی طور پر اگرچہ کچھ کمزوری اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی تو محسوس کرتے ہیں، لیکن اس سے صبر اور تقویٰ کی وہ نعمت ہم کو حاصل ہوتی ہے جو اس زمین پر اللہ کا بندہ بن کر رہنے کے لیے ہماری روح کی اسی طرح ضرورت ہے، جس طرح ہوا اور پانی اور غذا ہمارے جسم کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا، بلکہ اس بات سے جیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے آتی ہے۔
روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، لیکن وہ اگر مرض یا سفر یا کسی دوسرے عذر کی بنا پر رمضان میں یہ فرض پورا نہ کر سکے تو جتنے روزے چھوٹ جائیں، ان کے بارے میں اجازت ہے کہ وہ رمضان کے بعد کسی وقت رکھ لیے جائیں۔ روزوں کی تعداد ہرحال میں پوری ہونی چاہیے۔
اس روزے سے ہم بہت کچھ پاتے ہیں۔ سب سے بڑی چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ ہماری روح خواہشوں کے زور سے نکل کر علم و عقل کی ان بلندیوں کی طرف پرواز کے قابل ہو جاتی ہے، جہاں آدمی دنیا کی مادی چیزوں سے برتر اپنے رب کی بادشاہی میں جیتا ہے ۔
اس مقصد کے لیے روزہ ان سب چیزوں پر پابندی لگاتا ہے جن سے خواہشیں بڑھتی ہیں اور لذتوں کی طرف میلان میں اضافہ ہوتا ہے۔ بندہ جب یہ پابندی جھیلتا ہے تو اس کے نتیجے میں زہد و فقیری کی جو حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے، اس سے وہ دنیا سے ٹوٹتا اور اپنے رب سے جڑتا ہے۔ روزے کا یہی پہلو ہے جس کی بنا پر اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں اپنے ہاتھ سے دوں گا، اور فرمایا کہ روزے دار کے منہ کی بو مجھے مشک کی خوش بو سے زیادہ پسند ہے۔
ہر اچھے کام کا اجر سات سو گنا ہو سکتا ہے، لیکن روزہ اس سے بھی آگے ہے۔ اس کی جزا کیا ہوگی؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ جب بدلے کا دن آئے گا تو وہ یہ بھید کھولے گا اور خاص اپنے ہاتھ سے ہر روزے دار کو اس کے عمل کا صلہ دے گا۔ پھر کون اندازہ کر سکتا ہے کہ آسمان و زمین کا مالک جب اپنے ہاتھ سے صلہ دے گا تو اس کا بندہ کس طرح نہال ہو جائے گا۔
دوسری چیز اس سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کے وجود میں فتنے کے دروازے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں۔ زبان اور شرم گاہ، یہی دونوں وہ جگہیں ہیں جہاں سے شیطان بالعموم انسان پر حملہ کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مجھے ان دو چیزوں کے بارے میں ضمانت دے گا جو اس کے دونوں گالوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان ہیں، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ روزہ ان دونوں پر پہرا بٹھا دیتا ہے اور صرف کھانا پینا ہی نہیں، زبان اور شرم گاہ میں حد سے بڑھنے کے جتنے میلانات ہیں، ان سب کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کے لیے وہ کام بہت آسان ہو جاتے ہیں جن سے اللہ کی رضا اور جنت مل سکتی اور ان کاموں کے راستے اس کے لیے بڑی حد تک بند ہو جاتے ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور جن کی وجہ سے وہ دوزخ میں جائے گا۔ یہی حقیقت ہے جسے اللہ کے نبی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ روزوں کے مہینے میں شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔
تیسری چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان کا اصلی شرف، یعنی ارادے کی قوت اس کی شخصیت میں نمایاں ہو جاتی ہے اور اس طریقے پر تربیت پالیتی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی طبیعت میں پیدا ہونے والے ہر ہیجان کو اس کے حدود میں رکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ارادے کی یہ قوت اگر کسی شخص میں کمزور ہو تو وہ نہ اپنی خواہشوں کو بے لگام ہونے سے بچا سکتا ہے ، نہ اللہ کی شریعت پر قائم رہ سکتا ہے اور نہ طمع، اشتعال، نفرت اور محبت جیسے جذبوں کو اعتدال پر قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں انسان سے صبر چاہتی ہیں اور صبر کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان میں ارادے کی قوت ہو۔ روزہ اس قوت کو بڑھاتا اور اس کی تربیت کرتا ہے۔ پھر یہی قوت انسان کو برائی کے مقابلے میں اچھائی پر قائم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی نے روزے کو ڈھال کہا اور انسان کو بتایا کہ وہ برائی کی ہر ترغیب کے سامنے یہ ڈھال اس طرح استعمال کرے کہ جہاں کوئی شخص اسے برائی پر ابھارے، وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔
چوتھی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ انسان میں ایثار کا جذبہ ابھرتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ کرتا ہے ۔ روزے میں آدمی کو بھوک اور پیاس کا جو تجربہ ہوتا ہے، وہ اسے غریبوں کے قریب کر دیتا ہے اور ان کی ضرورتوں کا صحیح احساس اس میں پیدا کرتا ہے روزے کا یہ اثر، بے شک کسی پر کم پڑتا ہے اور کسی پر زیادہ، لیکن ہر شخص کی صلاحیت اور اس کی طبیعت کی سلامتی کے لحاظ سے پڑتا ضرور ہے۔ وہ لوگ جو اس اعتبار سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، ان کے اندر تو گویا دریا امنڈ پڑتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ یوں تو ہر حال میں بے حد فیاض تھے، مگر رمضان میں تو بس جو دو کرم کے بادل بن جاتے اور اس طرح برستے کہ ہر طرف جل تھل ہو جاتا تھا۔
پانچویں چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزے دار کو جو خلوت اور خاموشی اور دوسروں سے کسی حد تک الگ تھلگ ہو جانے کا موقع ملتا ہے، اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے معنی کو سمجھنے کی طرف بھی طبیعت زیادہ مائل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب اسی ماہ رمضان میں اتاری اور اسی نعمت کی شکر گزاری کے لیے اس کو روزوں کا مہینا بنا دیا ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جبریل علیہ السلام بھی اسی مہینے میں قرآن سننے اور سنانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ روزے سے قرآن مجید کی یہی مناسبت ہے جس کی بنا پر امت کے اکابر اس مہینے میں اپنے نبی کی پیروی میں رات کے پچھلے پہر اور عام لوگ انھی کی اجازت سے عشا کے بعد نفلوں میں اللہ کا کلام سنتے اور سناتے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں نماز کے لیے کھڑا رہا، اس کا یہ عمل اس کے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔
چھٹی چیز یہ حاصل ہوتی ہے کہ آدمی اگر چاہے تو اس مہینے میں بہت آسانی کے ساتھ اپنے پورے دل اور پوری جان کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ اللہ کے بندے اگر یہ چیز آخری درجے میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لیے اسی رمضان میں اعتکاف کا طریقہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اگرچہ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے، لیکن دل کو اللہ کی طرف لگانے کے لیے یہ بڑی اہم عبادت ہے۔ اعتکاف کے معنی ہمارے دین میں یہ ہیں کہ آدمی دس دن یا اپنی سہولت کے مطابق اس سے کم کچھ دنوں کے لیے سب سے الگ ہو کر اپنے رب سے لو لگا کر مسجد میں بیٹھ جائے اور اس عرصے میں کسی ناگزیر ضرورت ہی کے لیے وہاں سے نکلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اکثر اس کا اہتمام فرماتے تھے اور خاص طور پر اس ماہ کے آخری دس دنوں میں رات کو خود بھی زیادہ جاگتے، اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور پوری مستعدی کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگے رہتے تھے۔
یہ سب چیزیں روزے سے حاصل ہو سکتی ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ روزے دار ان خرابیوں سے بچیں جو اگر روزے میں در آئیں تو اس کی ساری برکتیں بالکل ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ خرابیاں اگرچہ بہت سی ہیں، لیکن ان میں بعض ایسی ہیں کہ ہر روزے دار کو ان کے بارے میں ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے۔
ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینا بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں جو بھی خرچ کیا جائے، اس کا اللہ کے ہاں کوئی حساب نہیں ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگ اگر کچھ کھاتے پیتے بھی ہوں تو ان کے لیے تو پھر یہ مزے اڑانے اور بہار لوٹنے کا مہینا ہے وہ اس کو نفس کی تربیت کے بجائے اس کی پرورش کا مہینا بنا لیتے ہیں اور ہر روز افطار کی تیاریوں ہی میں صبح کو شام کرتے ہیں۔ وہ جتنا وقت روزے سے ہوتے ہیں، یہی سوچتے ہیں کہ سارے دن کی بھوک پیاس سے جو خلا ان کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے، اسے وہ اب کن کن نعمتوں سے بھریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو روزے سے وہ کچھ پاتے ہی نہیں اور اگر کچھ پاتے ہیں تو اسے وہیں کھو دیتے ہیں۔
اس خرابی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر کام کی قوت کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن اس کو جینے کا مقصد نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی اہتمام کے مل جائے، اس کو اللہ کا شکر کرتے ہوئے کھا لے۔ گھر والے جو کچھ دستر خوان پر رکھ دیں، وہ اگر دل کو نہ بھی بھائے تو اس پر خفا نہ ہو۔ اللہ نے اگر مال و دولت سے نوازا ہے تو اپنے نفس کو پالنے کے بجائے، اسے غریبوں اور فقیروں کی مدد اور ان کے کھلانے پلانے پر خرچ کرے ۔ یہ چیز یقینا اس کے روزے کی برکتوں کو بڑھائے گی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی نے رمضان میں اس عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ بھوک اور پیاس کی حالت میں چونکہ طبیعت میں کچھ تیزی پیدا ہو جاتی ہے، اس وجہ سے بعض لوگ روزے کو اس کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے، اسے بھڑکانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے نیچے کام کرنے والوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے، جو منہ میں آیا، کہہ گزرتے، بلکہ بات بڑھ جائے تو گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتے ہیں اور بعض حالتوں میں اپنے زیر دستوں کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ روزے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔
اس کا علاج اللہ کے نبی نے یہ بتایا ہے کہ آدمی اس طرح کے سب موقعوں پر روزے کو اس اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجائے اس کے مقابلے میں ایک ڈھال کی طرح استعمال کرے، اور جہاں اشتعال کا کوئی موقع پیدا ہو، فوراً یاد کرے کہ میں روزے سے ہوں۔ وہ اگر غصے اور اشتعال کے ہر موقع پر یاددہانی کا یہ طریقہ اختیار کرے گا تو آہستہ آہستہ دیکھے گا کہ بڑی سے بڑی ناگوار باتیں بھی اب اسے گوارا ہیں۔ وہ محسوس کرے گا کہ اس نے اپنے نفس کے شیطان پر اتنا قابو پالیا ہے کہ وہ اب اسے گرا لینے میں کم ہی کامیاب ہوتا ہے۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اس کے دل میں اطمینان اور برتری کا احساس پیدا کرتا ہے اور روزے کی یہی یاددہانی اس کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ وہیں غصہ کرتا ہے، جہاں اس کا موقع ہوتا ہے۔ وقت بے وقت اسے مشتعل کر دینا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
تیسری خرابی یہ ہے کہ بہت سے لوگ جب روزے میں کھانے پینے اور اس طرح کی دوسری دل چسپیوں کو چھوڑتے ہیں تو اپنی اس محرومی کا مداوا ان دل چسپیوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جن سے ان کے خیال میں روزے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بہل جاتا ہے۔ وہ روزہ رکھ کر تاش کھیلیں گے، ناول اور افسانے پڑھیں گے، نغمے اور غزلیں سنیں گے، فلمیں دیکھیں گے، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکیں گے اور اگر یہ سب نہ کریں گے تو کسی کی غیبت اور ہجو ہی میں لپٹ جائیں گے۔ روزے میں پیٹ خالی ہو تو آدمی کو اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں ویسے بھی بڑی لذت ملتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات صبح اس مشغلے میں پڑتے ہیں اور پھر موذن کی اذان کے ساتھ ہی اس سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔
اس خرابی کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھے اور زیادہ سے زیادہ یہی کوشش کرے کہ اس کی زبان پر کم سے کم اس مہینے میں تو تالا لگا رہے۔ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ آدمی اگر ہر قسم کی جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا ہے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جو وقت ضروری کاموں سے بچے، اس میں آدمی قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور دین کو سمجھے وہ روزے کی اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر اس میں قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعاؤں کا کچھ حصہ یاد کرلے۔ اس طرح وہ اس وقت ان مشغلوں سے بچے گا اور بعد میں یہی ذخیرہ اللہ کی یاد کو اس کے دل میں قائم رکھنے کے لیے اس کے کام آئے گا۔
چوتھی خرابی یہ ہے کہ آدمی بعض اوقات روزہ اللہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں اور ملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتا ہے اور کبھی لوگوں میں اپنی دین داری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ مشقت جھیلتا ہے۔ یہ چیز بھی روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتی۔
اس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روزے کی اہمیت ہمیشہ اپنے نفس کے سامنے واضح کرتا رہے اور اسے تلقین کرے کہ جب کھانا پینا دوسری لذتیں چھوڑ ہی رہے ہو تو پھر انھیں اللہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑتے۔ اس کے ساتھ رمضان کے علاوہ کبھی کبھی نفلی روزے بھی رکھے اور انھیں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرے۔ اس سے امید ہے کہ اس کے یہ فرض روزے بھی کسی وقت اللہ ہی کے لیے خالص ہو جائیں گے۔
” روزہ انسان کو قوت عطا کرتا ہے ذہنی بھی اور جسمانی بھی “
مرشد محترم ، ایمان و یقین کی رُو سے بے شک روزہ انسان کو ذہنی یعنی ایمان کی قوت اور جسمانی یعنی قوت برداشت عطا کرتا ہے ۔ روزے کی ذہنی اور جسمانی قوت کے انہی کرشموں سے ہماری تاریخ اسلام بھری پڑی ہے ، جن میں واقعہ کربلا ایک روشن باب ہے جو گو رمضان میں پیش نہیں آیا لیکن جسطرح امامِ عالی مقام اور ان کے خاندان و جانثاروں کو بھوکا پیاسا رہنے پہ مجبور کرتے ہوئے ان کی ذہنی اور جسمانی قوت کا امتحان لیا گیا وہ اسی بلاگ کے عنوان کی تصدیق ہے ۔ موجودہ صدی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب مسلمانوں کی قوت ایمان کا امتحان لیا گیا تو وہ اس میں کامیاب ہی اترے ۔ عراق اور افغانستان آج کے دور کی زندہ مثالیں ہیں کہ جب ظالم سامراج نے نہتوں پہ رمضان میں بھی بموں کی برسات جاری رکھی لیکن ایمان کی حرارت رکھنے والوں کی استقامت پہ دنیا دنگ رہ گئی اور آج وہی خونخوار درندے وہاں سے ناکام ہوکر واپسی کے باعزت راستوں کے متلاشی ہیں ۔
ایک مجاہد کے روزے کے برعکس ایک مُلا کا روزہ اس کے خون میں شوگر کی مقدار گراتے ہوئے اس کی توانائی پہ اثر انداز ہو کر اس پہ نقاہت طاری کر دیتا ہے کیونکہ :
” مُلا کی آذاں اور ہے مجاہد کی آذاں اور “
صفدر بھاءی بہت اچھا موضوع چنا ہے؟ اس کی وجہ نفسیاتی ہے، دراصل زمانہ جہالیت سے رمضان سمیت چونکہ تمام مہینے مقررہ موسم میں آتے تحے اور ان کے نام بھی صفاتی جیسے کہ رمضان کو یہ نام اپنی انتہاءی شدید گرمی کی وجہ سے دیا گیا تھا یعنی جلانے والا مہینہ۔ جس میں لوگ رات کو جاگتے تحے اور دن میں سوتے تحے۔ اور پورا مہینہ آرام کرتے تھے نہ اس میں کام ہو تا تھااور نہ ہی جنگ و جدال انہوں نے خود ہی اس کی شدت کی بنا پر اسکو اپنے اوپر حرام کر لیا تھاجس کو اسلام نے بھی اسی طرح رکھا۔ لہذا عربوں کا تو مزاج تو یہ تھا ہی ان کی دیکھادیکھی یہ ہمارا بھی مزاج بن گیا۔ اس پہ غضب یہ ہوا کہ ہم نے جیسے ہر پیغام کو الٹ سمجھا ویسے ہی اس پیغام کو بھی غلط سمجھاکہ یہ لوگوں کو اب صبر سکھانے کہ بجا ءے بے صبری سکھا تا ہے۔جس کو دیکحو آپے سے باہر بات بات پر ہو اجا تا ہے ؟کہ بولو مت مجحے روزہ لگ رہا۔ نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ وہ اپنا روزہ ہی کھوبیٹھتا ہے۔ اور اسے پتہ بھی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر جیسا کہ آپ نے فرما یا کہ دفاتر میں کار کردگی کا متاثر ہو نا؟ اصولی طور پر تو کار کردگی بڑھنا چا ہیء ے تھی کہ جو وقت دفا تر میں چا ءے پینے اور غیبت وغیرہ میں صرف ہو تا تھا وہ اب بچ رہا ہے۔ مگر وہ اب روزے کا رعب ڈالنے پر صرف ہو رہا ہے۔اور انجانے میں وہ اپنی روزی حرام کر رہا ہے۔ حدیث یہ ہے کہ ایک لقمہ حرام کحانے سے چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی؟ لہذا اس طرح ایک لقمہ حرام کے عیوض اس نے یہ بخشش اور رحمت کا پورا مہینہ ہی ضا ءع کردیا؟ اللہ ہم سب کو اس لعنت سے مھفوظ رکحے آمین۔ اب رہی سستی کی بات وہ بھی اسی لیءے آتی ہے کہ افطاری بھی پیٹ بھر ہو ہو تی ہے سحری بھی پیٹ سے با ہر بلکہ بعض اوقات تولوگوں کو دن بھر کھٹی ڈکا ریں آتی رہتی ہیں ۔
ورنہ اس میں تو دو را ءیں ہو ہی نہیں سکتیں کہ روزہ اور نماز دونوں عباد تیں سستی کی دشمن ہیں اور وہ سستی کے بجا ءے پھرتی لا تی ہیں ۔ میرا تجربہ ہے کہ نماز اور روزہ تو ہر مرض کی دوا ہیں ۔
اسلام علیکم
اللہ سے دعا ہہے کہ وہ ہماری ہر چھوٹی سے چھوٹی عبادت کو بھی بڑے درجات میں قبول فرماۓ ۔ محترم بھاي آپ نے صحیح فرمایا ۔ لیکن ہمارا یہ مسلہ صرف اس ماہ مبارک میں نہیں بلکہ شاید سارا سال ہی رہتا ہے ۔
یہ ماہ ہے روحانی اور جسمانی شفاء کا ۔ اور دلوں کو آئینہ رکھنے کا ۔ بس اللہ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم ان تمام برکتوں کو حاصل کر پائیں جو خاص اس ماہ مبارک سے جڑی ہیں ۔
اللہ ہمیں ہمت دے کہ ہم دین و دنیا دونوں کے کام خوش اسلوبی سے نباہ سکیں ۔ آمین
اللہ سب کے روزے اور عبا دات کو قبول فرمائے ۔
بہن نگہت کی طرح میں بھی سب کی خوشیوں اور لمبی عمر کی دعا کرتی ہوں ۔
مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
اللہ میرے ملک میں خیر رکھے آمین
عالم آرا
سلام ھمدانی صاحب…….. میرے خیال میں روزہ روح کی غذا ہے. مگر ہماری خوراک اور ماحول اب ایسا نہیںرہا……پہلے لوگوں کی ہمت اور شوق شامل تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو رہا ہے…. اللہ ہمارے اوپر کرم کرے ……..
بابا میں 13 سال بعد پاکستان میں رمضان گذار رہا ہوں ، میں آپ سے متفق ہوں ، وہ مزہ نہیں ، شاید ہم روحانی طور پر بہت بیمار ہو چکے ہیں ، ہماری روحیں یا تو زخمی ہیں یا بیمار ہیں اور روزہ انکا علاج ہے ، مگر کیا کریں ہم رمضانی ملا نہیں سمجھتے کہ گلوکوز بیماری میں اور بیماری کے بعد بھی ضروری ہوتا ہے ، ویسے میرا ایک اور بھی خیال ہے کہ ہماری روحیں نہ تو بیمار ہیں اور نہ زخمی بلکہ گندگی میں لتھڑی ہوئیں ہیں ، انہیں ایک غسل صحت کے علاوہ ، قرآنی صابن سے دھونا پڑے گا ورنہ ، .. . . . . ہم سے یہ تعفن اٹھتا ہی رہے گا
محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کی پیشکش ولائت ٹی وی
دنیاکے ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مذہب اسلام میں روزہ فرض ہے۔ اسلام ایک مکمل دین ہے۔ اس کی روشنی میں اگر غور کیا جائے توروزہ کے روحانی اور جسمانی فوائد کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہر مسلمان کے اوپر روزہ رکھنا فرض ہے ، ہاں اگر کسی کے پاس شرعی عذر ہوتو اس کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور معرفت حاصل کرنے کے لےے لازمی ہے کہ ہر مسلمان اس کی پابندی کرے۔ وہ حضرات جو بدہضمی و معدہ کی دیگر خرابی ، جگر کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور جسم میں چربی کی زیادتی خاص طور سے کولسٹرول کے بڑھنے جیسے امراض میں مبتلا ہوں، ان کے لےے یہ مہینہ اپنے آپ کو فٹ کرنے کے لےے بڑی نعمت ثابت ہوسکتا ہے۔ روحانی اور جسمانی طور پر صحت یاب رہنے کے لےے اللہ تعالیٰ نے رمضان شریف کا مہینہ روزے کی شکل میں ہمیں عنایت کیا ہے۔ یقینا اس میں اللہ تعالیٰ کی کریمانہ حکمت عملی شامل ہے۔ اعضاءرئیسہ خاص طور سے دل و دماغ اور جگر کو روزہ رکھنے سے تقویت ملتی ہے اور ان کے افعال میں درستگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ استحالہ کا عمل (Metabolic Function) بھی ترتیب میں آجاتا ہے، جسے سائنسدانوں نے بارہا ثابت کیا ہے اور اس کی رپورٹ نیشنل/ انٹرنیشنل میڈیکل جرنلوں میں شائع ہوچکی ہے۔ روزہ رکھنے سے اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔ روزہ ذہنی تناو¿ کو ختم کرنے میں ہم ادا رول کرتاہے۔ وقت پر سحر اور افطار کرکے موٹاپا کے شکار لوگ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ وہ عورتیں جو موٹاپا کا شکار ہیں اور اولاد سے محروم ہیں ان کے لئے روزہ نہایت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ جدید میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد بے اولاد خواتین کے یہاں اولاد کی پیدائش کے امکانات میں کافی اضافہ ہوتاہے۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمارے معدے کے فاسد مادے زائل ہو جاتے ہیں۔ روزہ کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ جولوگ منشیات ، شراب اور تمباکو نوشی جیسی بری عادتوں کے عادی ہوچکے ہیں وہ روزہ کی مدد سے اس ان عادتوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ تجربات بتاتے ہیں کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان کی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے ہمارا دل نظام ہضم میں اپنی توانائی صرف کرنے سے آزاد ہوجاتاہے اور وہ اس توانائی کوگلوبن پیدا کرنے پر صرف کرتا ہے ۔ گلوبن ہمارے جسم کی حفاظت کرنے والے مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتاہے۔ روزہ قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ روزہ رکھنے کی وجہ سے دماغی خلیات کو فاضل مادوں سے نجات مل جاتی ہے اور اسی طرح سے دماغی صلاحیتیوں کو جلا ملتی ہے۔ روزہ کی اہمیت وافادیت کا اندازہ پروفیسر نیکولای کے اس بیان ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب”صحت کی خاطر بھوک “ میں ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں”ہر انسان، خاص طور پر بڑے شہروں میں رہنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سال میں تین چار ہفتہ تک کھانا کھانے سے باز رہے تاکہ وہ پوری زندگی صحت یاب رہے“۔
پرہیز: روزہ کے طبی فائدے یونہی نہےں ہےں بلکہ نظام زندگی کو خوشگوار بنانے کے لےے ایک ماہ تک مسلسل مشق کرائی جاتی ہے اور اسی تسلسل اور مشق کی بنا پر جسم انسانی میں جو بھی خرابی پیدا ہوچکی ہوتی ہے اُسے درست کرنے کا رمضان شریف میں روزوں کے دوران موقع نصیب ہوتا ہے۔ رمضان شریف کے روزوں کا بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لےے ضروری ہے کہ اُصولوں کے مطابق افطار و سحر کا اہتمام کیا جائے۔ خاص طور سے بادی، ثقیل اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کیا جائے اور روزمرہ کے کاموں میں تخفیف کردی جائے اور وقت مقررہ کا تعین کرلیا جائے، جس کے دوران معمولات زندگی کے کاموں کو آسانی سے کیا جاسکے۔
مشورہ: گرمی کے روزوں کے دوران بہتر یہی ہے کہ کھجور اور سادہ پانی سے روزہ افطار کیا جائے اور حسب ضرورت مشروبات کا استعمال کیا جائے اور جو لوگ ذیابیطس (شوگر) کے مریض ہےں وہ خشک میووں کا مشروب استعمال کریں۔ اس کے علاوہ نماز مغرب کے بعد ہی کھانا کھائیں تاکہ سحری میں کچھ کھانا کھایا جاسکے اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ ختم سحری سے ٹھیک پہلے تک کھایا پیا جائے کیونکہ گرمی کے روزے میں دن بڑا ہوتا ہے اور راتیں چھوٹی ہوتی ہےں۔ ایسی صورت میں مغرب کے بعد طعام اور ختم سحری سے ٹھیک پہلے تک کھانا بہتر ہوگا۔
گوگل سرچ کی مدد سے یہ مضمون یہاں پیسٹ کیا ھے ،
گوگل سرچ کی مدد سے یہ مضمون یہاں پیسٹ کیا ہے،،،،،،،،،واہ واہ شاہین حیدر رضوی صاحبہ. دراصل جن لوگوں کے خمیر میں سچ ہوتا ہے انکی زندگی کا ہر رخ سچ سے عبارت ہوتا ہے. ہمارے ہاں ماخذ کا حوالہ دینا معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہی عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے مطالعہ کیا ہے. یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری جسے دنیاوی علم بلکہ تعلیم کا عروج سمجھا جاتا ہے یہ سب کیا ہے؟ مطالعہ اور ماخذ کا بیان. ببلوگرافی میں ان کتب اور پیپرز کا حوالہ جوموضوعات کے حوالے سے زیر مطالعہ آتے ہیں. آپ نے یہ لکھ کر اس تحریر میں گوگل کی سرچ اور مطالعہ بھی شامل ہے اپنے حامل مطالعہ ہونے کا ثبوت دیا ہے. مولا کریم آپکو اسی طرح مطالعے کی جانب راغب رکھیں.آمین
اسلام و علیکم
میرے بہت ہی پیارے اور عزیز عالمی اخبار کے تمام اہلِ خانہ کو ماہ رمضان بہت بہت مبارک ہوں ۔
میں مُعافی چاہتی ہوں کہ اس دفعہ میں نے پھر دیر کر دی ۔۔ بس وہ حال ہو چُکا ہے کہ بقول منیر نیازی شاید ، کہ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔
جی اس بار سچ میں اس مبارک مہنے میں لگنے والی رونق کم ہے ۔۔ مگر خدا سے دُعا ہے کہ اس خاندان کا ہر فرد جو جہاں ہے ضوش اور آباد رہے مولا اُن پر اپنی رحمتیں برساتے رہیں الہی آمین ۔
جی سر نے جو کہا میں سو فصید اس سے اتفاق کرتی ہوں ۔۔
آپی کی بات بھی بہت خوبصورت ہے کہ آخر لوٹ کر سب کو گھر واپس آنا ہی ہوتا ہے مگر صرف اُن کو جو گھر والے ہوں اور جو واُس نہ آئیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کبھی ہمارے تھے ہی نہیں ۔۔ میں شُکر کرتی ہوں مالک کا تھوڑی دہیر ضرور کر دی مگر گھر واپس آئی ہوں اور ہر بار آؤں گی اسی یقین کے ساتھ کہ میرے اس گھر کے دروازے ہمیشہ میرے لئے کھلے رہیں گے ۔
خدا ہماری عالمی اخبار کو ہر بری نظرے سے بچائے اور خوب خوب کامیابی عطا کرے الہی آمین ۔
آپ سب سے درخواست ہے کہ اپنی دُعاؤں میں مُجھے اور میرے اہل ِ خانہ کو بھی ضرور یاد رکھیں ۔
آپ سب کی دُعا کی طالب
سیدہ ثمرین بخاری
خدا حافظ و ناصر
ماہ رمضان، ضیافت الہی کا مہینہ ہے
ماہ رمضان ایک بار پھراپنی تمام برکتیں اور معنوی جلوے لے کر آگیا ہے ماہ رمضان آنے سے پہلے سرکاردوعالم(صلی اللہ علیھ وآلہ وسلم) لوگوں کو اس بابرکت اورباعظمت مہینے میں وارد ہونے کے لئے تیار کرتے تھے ” قداقبل الیکم شھراللہ بالبرکۃ والرحمۃ” ایک روایت کے مطابق آپ نے ماہ شعبان کی آخری نماز جمعہ کے خطبہ میں یہی فرماتے ہوئے لوگوں کو ماہ رمضان کی آمد کی طرف متوجہ کیا اگر ہم ایک جملہ میں اس مہینہ کی تعریف کرنا چاہیں توکہدیں کہ یہ ایک ” غنیمت موقع” ہے۔ ہمارے اور آپ کے لئے اس مہینہ میں بہت سارے غنیمت مواقع ہیں اگرہم ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجائیں توآخرت کے لئے ایک عظیم اورگراں قیمت ذخیرہ اکٹھا کر لیں گے اس بات کی میں تھوڑی وضاحت کرنا چاہوں گا یہ پہلا خطبہ ماہ رمضان اوراس بے نظیرموقع سے ہی متعلق ہوگا۔
پیغمبراکرم(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جس خطبہ کا میں نے تذکرہ کیا ہے اس میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں “شھردعیتم فیھ الیٰ ضیافۃاللہ” اس مہینہ میں تمہیں خداکی طرف سے مہمانی میں بلایا گیا ہے یہی جملہ اپنی جگہ قابل غور ہے خدا کی طرف سے دعوت ہے، مجبور نہیں کیا گیا ہے کہ دعوت میں سب کوآناہے۔ فریضہ قراردیا ہے لیکن دعوت میں جانا یا نہ جانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں دعوت نامہ بھی پڑھنے کا موقع نہیں ملتا اس قدر غافل ہیں، اتنا مادی اور دنیاوی معاملات میں غرق ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ماہ رمضان آیا اور کب چلا گیا ایسے ہی جیسے کسی شخص کوکسی بڑی بابرکت دعوت میں بلایا جائے لیکن وہ کارڈ تک کھولنے کی زحمت گوارانہ کرے یہ تو بالکل ہی خالی ہاتھ رہ جائیں گے کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں اتنا تو پتہ چل جاتا ہے کہ انہیں دعوت میں بلایا گیا ہے لیکن وہ شرکت نہیں کرتے۔ خدا کا لطف جن کےشامل حال نہیں ہے، جنہیں اس نے توفیق نہیں دی ہے یا یہ کہ خود ہی معذور ہیں وہ روزہ نہیں رکھ پاتے یا یہ کہ قرآن کی تلاوت اور ماہ رمضان کی دعاؤں سے محروم رہ جاتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو دعوت میں جاتے ہی نہیں جب جاتے ہیں نہیں تو ان کاجو ہونا ہے وہ واضح ہے لیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداداورہم جیسے لوگ اس دعوت میں شریک ہوتے ہیں لیکن ہم سب یہاں ایک سا فائدہ نہیں اٹھاتے کچھ اس دعوت میں سب سے زیادہ فوائد حاصل کرلیتے ہیں۔
اس دعوت میں جو ریاضت ہے روزہ رکھنا اوربھوکا رہنا شاید یہ اس خدائی دعوت کا سب سے بڑا فائدہ ہے روزہ میں انسان کے لئے معنوی برکتیں اتنی زیادہ ہیں اور دل میں اتنی نورانیت پیدا کرتی ہیں شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس ماہ مبارک کا سب سے بڑا فائدہ روزہ ہی ہے۔ جولوگ روزہ رکھتے ہیں وہ دعوت میں حاضرہوگئے ہیں اوریہاں انہیں کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا اس ماہ مبارک کی معنوی ریاضت یعنی روزہ رکھنے کے علاوہ کچھ لوگ بہترین انداز میں قرآن بھی سیکھتے ہیں قرآن کی تلاوت غور فکر کے ساتھ کرتے ہیں روزہ کی حالت میں یا روزہ سے پیدا ہوئی نورانی حالت میں رات، آدھی رات میں قرآن کی تلاوت کرنا، قرآن سے انس پیدا کرنا اور خدا کا مخاطب قرار پانا کچھ اور ہی معنوی لذت دیتاہے اس حال میں قرآن کی تلاوت کرنے سے انسان کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ عام حالات میں تلاوت کرنےسے نہیں ملتا کچھ لوگ یہ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اس کے علاوہ یہ لوگ خدا سے کلام کرتے ہیں، اس سے مخاطب ہوتے ہیں اس سے راز ونیاز کرتے ہیں، اس سے اپنے دل کی بات کہتے ہیں،اپنے راز کی باتیں اسے بتاتے ہیں یہ لوگ یہ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں مطلب یہ کہ یہی دعائیں، دعائے ابوحمزہ ثمالی، دن کی دعائیں، رات کی دعائیں، سحری کی دعائیں یہ سب خدا سے بات ہی کرنا تو ہے اس سے کچھ مانگنا اور دل کو اس کی بارگاہ عزت سے قریب کرنا یہی ہے تو یہ فائدہ بھی یہ لوگ اٹھاتے ہیں اورکل ملا کے ماہ رمضان کے تمام فوائد سے بہرہ مند ہوجاتے ہیں۔
اس سب سے بڑھ کے بلکہ ایک لحاظ سے ان سب سے افضل چیز گناہوں سے پرہیز ہے یہ لوگ گناہ بھی نہیں کرتے، پیغمبراکرم صلیٰ اللہ علیھ وآلھ وسلم کی طرف سے جمعہ کےخطبہ بیان ہونےوالی روایت میں مزیدآیا ہے کہ امیرالمومنین علیھ الصلاۃ والسلام سرکاردوعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ اس مہینہ میں سب سے افضل عمل کون سا ہے آپ جواب دیتے ہیں ” الورع عن محارم اللہ” محرمات الہی سے پرہیزتمام اعمال پر مقدم ہے، سب سے افضل عمل قلب وروح کوآلودہ ہونے اورانہیں زنگ لگنے سے بچانا ہے یہ لوگ گناہوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں روزہ بھی رکھتے ہیں، تلاوت بھی کرتے ہیں، ذکرودعا بھی پڑھتے ہیں اور گناہوں سے دور بھی رہتے ہیں یہ ساری چیزیں انسان کو اسلام کی مطلوبہ رفتاروکردارسے نزدیک کردیتی ہیں جب یہ سارے اعمال انجام پا جاتے ہیں تو انسان کا دل کینوں سے خالی ہوجاتاہے اس کے اندرایثاروفداکاری کا جذبہ بیدارہوجاتاہے غریبوں اورمسکینوں کی مدد اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے مادی امور میں دوسرے کے فائدہ اور اپنے نقصان میں کوئی قربانی دے دینا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان میں جرائم کم ہوجاتے ہیں نیکیاں بڑھ جاتی ہیں معاشرہ میں آپسی پیار، محبت زیادہ ہوجاتاہے یہ سب خدا کی اس دعوت کی برکتیں ہیں۔
اس طرح سے کچھ لوگ ماہ رمضان سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسا نہیں کرپاتے ایک چیز کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو دوسری چیز سے اپنے کو محروم کرلیتے ہیں ہرمسلمان کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اس دعوت الہی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوکرخداکی رحمت ومغفرت حاصل کرلے استغفار کے لئے میں تاکید کررہا ہوں خطاؤں سے استغفار، گناہوں سے استغفار، لغزشوں سے استغفار، چھوٹے گناہوں سے استغفار، بڑے گناہوں سے استغفارکیجئے ، اس مہینہ میں اپنے دل سے زنگ چھڑانا، اپنے آپ سے آلودگیاں دورکرنا اوراپنے نفس کو دھو ڈالنا بہت ضروری ہے اوریہ استغفارہی کے ذریعہ ممکن ہوگا بہت سی روایات میں آیا ہے کہ بہترین دعا یا سب سے افضل دعا استغفارہے استغفاریعنی خدا سے مغفرت چاہنا استغفار سب کے لئے ہے، پیغمبراکرم(صلیٰ اللہ علیھ وآلھ وسلم) جیسی ذات گرامی بھی استغفار کرتی تھی ہم جیسوں کا استغفار گناہوں کی معافی مانگنا ہے لیکن کچھ لوگوں کا استغفاران عام گناہوں کی وجہ سے جنہیں سب جانتے ہیں یا انسان کے اندرکی حیوانی خصلتوں کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ ترک اولی کی وجہ سے ہوتا ہے کچھ تو ترک اولی بھی نہیں کرتے پھربھی استغفار کرتے ہیں یہ استغفارخداکی ذات مقدس کی عظمت کے مقابلہ میں ممکن الوجود انسان کے فطری نقص کی بنا پر ہوتا ہے خدا کی کامل معرفت نہ ہونے کی وجہ سے استغفار کیا جاتا ہے یہ بزرگان اوراولیاء کا استغفارہے۔
ہمیں گناہوں سے استغفارکرنا چاہئے استغفار کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اپنے سلسلہ میں غفلت سے بازرکھتا ہے ہم بعض اوقات اپنے سلسلہ میں غلطی کرتے ہیں لیکن جب استغفارکرنے بیٹھتے ہیں توگناہ، خطائیں، لغزشیں، جتنی بھی خواہشات نفس کی پیروی کی ہے، جتنا بھی حد سے تجاوز کیا ہے، جتنا اپنے اوپرظلم کیا ہے، جتنا دوسروں پر ظلم کیا ہے سب ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ہمیں سب یاد آجاتا ہے کہ ہم نے کیا، کیا ہے لہذاغرور، تکبراورغفلت میں مبتلا ہونے سے ہم بچ جاتے ہیں استغفار کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے اس کے بعد خدا نے وعدہ کیا ہے کہ جوشخص استغفارکرے، یعنی حقیقی معنی میں گناہوں کی بخشش کے لئے خدا سے دعا کرے اور گناہوں پر شرمندہ بھی ہو ” لوجداللہ تواباً رحیماً” خدائے متعال توبہ قبول کرنے والا ہے اس استغفار کا مطلب خدا کی طرف لوٹ آنا اورخطا وگناہ سے منہ موڑلیناہے۔ اگراستغفارسچاہوتو اسے خدا قبول کرلیتا ہے۔
توجہ کے ساتھ استغفارکیجئےاگرآدمی ایسے ہی زبان سے استغفراللہ استغفراللہ استغفراللہ کہتا رہے اوراس کا ذہن ادھرادھر ہوتو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے یہ استغفار نہیں ہے استغفار دعا ہے استغفار کا مطلب مانگنا اور طلب کرنا ہے انسان کو حقیقی معنی میں خدا سے مانگنا چاہئے اوراس سے عفو ومغفرت طلب کرنی چاہئے میں نے یہ گناہ کیا ہے پالنے والے ! مجھ پر رحم کر میرے اس گناہ کو معاف کر دے ہر گناہ کا اگر اس طرح استغفار کیا جائے تو یقینا غفران الہی حاصل ہوجائے گی خدا نے توبہ واستغفارکا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
البتہ دین مقدس اسلام میں دوسروں کے سامنے گناہ کا اقرارکرنا ممنوع ہے بعض دوسرے مذاہب میں ہے کہ عباتگاہ میں جاکر وہاں روحانی یا مذہبی رہنما کے سامنے بیٹھ کر گناہوں کا اعتراف کیا جائے یہ اسلام میں نہیں ہے اس کی اسلام اجازت نہین دیتا اپنا پردہ فاش کرنا، اپنے راز اور گناہ دوسروں سے کہنا منع ہے اس کا فائدہ بھی کچھ نہیں ہے ان تحریف شدہ خیالی مذاہب میں تو کہا جاتا ہے کہ روحانی رہنما گناہ بخش دیتا ہے ایسا کچھ نہیں ہے گناہوں کو معاف کرنے والا صرف خدا ہے خود پیغمبرصلی ٰ اللہ علیھ وآلہ وسلم بھی گنا ہوں کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاءوک فاستغفراللہ واستغفرلھم الرسول لوجداللہ تواباً رحیماً” اگر گناہ اور اپنے اوپر ظلم کرنے کے بعد یہ لوگ تمہارے پاس آکر کہیں کہ تم پیغمبر ہوپھر خداسے مغفرت وبخشش طلب کریں اورتم بھی ان کے لئے بخشش طلب کرو تو خدا ان کی توبہ قبول کرلےگا یعنی پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے مغفرت مانگتے ہیں خودمعاف نہیں کرتے گناہ کوصرف خدائے متعال ہی بخش سکتا ہے اسے استغفار کہتے ہیں استغفارکی بہت فضیلت ہے اس ماہ مبارک میں اس سے غافل نہیں رہنا چاہیے خاص طورسے سحر کے وقت اور رات میں استغفار کیا کیجئے ماہ رمضان کی دعاؤں کوان کے معنی پرتوجہ دے کر پڑھا کیجئے۔
الحمدللہ ہمارا معاشرہ روحانی اورمذہبی معاشرہ ہے دعا، توسل اور ابتہال الیٰ اللہ لوگوں میں رائج ہے لوگ اسے پسند کرتے ہیں ہمارے نوجوانوں کے پاک ونورانی دل ذکرخدا کی طرف مائل ہیں یہ سب اچھے مواقع ہیں ماہ رمضان کی صورت میں ایک غنیمت موقع ہمیں دیا گیا ہے اس ماہ سے، اس سنہرے موقع سے پورافائدہ اٹھانا چاہیے اپنے دلوں کو خدا سے نزدیک کیجئے انہیں خدا سے آشنا کیجئے استغفارکے ذریعہ قلب روح کو پاک کیجئے اپنی دعائیں خدا کے سامنے پیش کیجئے ہماری قوم نے خدا سے معنوی ارتباط کے نتیجہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں خداسے ارتباط پیدا کرنے کا ماہ رمضان ایک زبردست موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھائیے۔
خدا وند متعال سےدعاکرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کرے تاکہ ماہ رمضان میں ہم اپنےفرشتہ صفت نفس کوحیوان صفت نفس پرغالب بنا دیں، ہمارا وجودایک رخ سے فرشتہ صفت ہے اوردوسرے رخ سے مادی اورحیوان صفت، نفسانی خواہشات مادی رخ کو فرشتہ صفت رخ پرغالب کردیتی ہیں۔ خداکرے ماہ مبارک رمضان میں ہم مادی رخ پرروحانیت ونورانیت کو غلبہ دینے میں کامیاب ہوجائیں اورپھراس حالت کوایک ذخیرہ کی طرح محفوظ رکھ لیں اس طرح ماہ رمضان میں کی گئی یہ مشق سال بھرہمارے کام آئے گی۔
( یہ تحریر ایک دینی فورم سے یہاں نقل کی جا رہی ہے آپ لوگوں کے مطالعہ کے لئے ماُمید کرتی ہوں آپ لوگ پسند فرمائیں گے )
روزے کا کفارہ
(۱۶۳۲)رمضان کا روزہ توڑنے کے کفارے کے طور پر ضروری ہے کہ انسان ایک غلام آزاد کرے یا اس طریقے کے مطابق جو اگلے مسئلے میں بیان کیا جائے گا دو مہینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھاناکھلائے یا ہر فقیر کو ایک مد تقریباً۴/۳ کلو طعام یعنی گندم یاجو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ افعال انجام دینا اس کے لئے ممکن نہ ہو تو بقدر امکان صدقہ دینا ضروری ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو توبہ واستغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جس وقت(کفارہ دینے کے)قابل ہوجائے کفارہ دے۔
(۱۶۳۳)جو شخص رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماہ روزے رکھنا چاہیئے تو ضروری ہے کہ ایک پورا مہینہ اور اس سے اگلے مہینے کے ایک دن تک مسلسل روزے رکھے اور اگر باقی ماندہ روزے مسلسل نہ بھی رکھے تو کوئی حرج نہیں۔
ّ(۱۶۳۴)جو شخص رمضان کے روزے کے کفارے کے طور پر دو ماہ روزے رکھنا چاہیئے تو ضروری ہے کہ وہ روزے ایسے وقت نہ رکھے جس کے بارے میں وہ جانتاہو کہ ایک مہینے اورایک دن کے درمیان عید قربان کی طرح کوئی ایسا دن آجائے گاجس کا روزہ رکھنا حرام ہے۔
(۱۶۳۵)جس شخص کو مسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں اگر وہ ان کے بیچ میں بغیر عذر کے ایک دن روزہ نہ رکھے تو ضروری ہے کہ دوبارہ از سر نو روزے رکھے۔
(۱۶۳۶)اگر ان دنوں کے درمیان جن میں مسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں،روزے دارکو کوئی غیر اختیاری عذر پیش آجائے،مثلاًحیض یا نفاس یا ایسا سفر جسے اختیار کرنے پر وہ مجبور ہو تو عذر کے دور ہونے کے بعد روزوں کا از سر نو رکھنا اس کے لئے واجب نہیں بلکہ وہ عذر دور ہونے کے بعد باقی ماندہ روزے رکھے۔
(۱۶۳۷)اگر کوئی شخص حرام چیز سے اپنا روزہ باطل کر دے خواہ وہ چیز بذات خود حرام ہو جیسے شراب اور زنا یا کسی وجہ سے حرام ہو جائے جیسے کہ حلال غذا جس کا کھانا انسان کے لئے کسی کلی ضرر کا باعث ہو یا وہ اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرے تو ایک کفارہ کافی ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ مجموعاً کفارہ دے۔یعنی ایک غلام آزاد کرے اور دو مہینے روزے رکھے اور ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یاان میں سے ہر فقیر کو ایک مد گندم یاجو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن نہ ہوں توا ن میں سے جو کفارہ ممکن ہودے۔
(۱۶۳۸)اگر روزے دار جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ اس پر کفارہ واجب نہیں لیکن احتیاط مستحب ہے کہ کفارہ دے۔
(۱۶۳۹)اگر روزے دار رمضان کے ایک دن میں کئی دفعہ کھائے،پئے یا جماع یا استمناء کرے تو ان سب کے لئے ایک کفارہ کافی ہے۔
ّ(۱۶۴۰)اگر روزے دار جماع کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو اور پھر اپنی زوجہ سے مجامعت بھی کرے تو دونوں کے لئے ایک کفارہ کافی ہے۔
(۱۶۴۱)اگر روزے دار کوئی ایسا کام کرے جو حلال ہو اور روزے کو باطل کرتاہو،مثلاً پانی پی لے اور اس کے بعد کوئی دوسرا ایسا کام کرے جو حرام ہو اور روزے کو باطل کرتاہو،مثلاً حرام غذا کھالے تو ایک کفارہ کافی ہے۔
ّ(۱۶۴۲)اگر روزے دارڈکارلے اور کوئی چیز اس کے منہ آجائے تو اگروہ اسے جان بوجھ کر نگل لے تو بنا بر احتیاط واجب،اس کا روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا کرے اور کفارہ بھی اس پرواجب ہوجاتا ہے اور اگر اس چیز کاکھانا حرام ہو، مثلاًڈکار لیتے وقت خون یا ایسی خوارک جو غذا کی تعریف میں نہ آتی ہو اس کے منہ میں آجائے اور وہ اسے جان بوجھ کر نگل لے تو بہتر ہے کہ مجموعی کفارہ دے۔
(۱۶۴۳)اگر کوئی شخص منت مانے کے ایک خاص دن روزہ رکھے گا تو اگر وہ اس دن جان بوجھ کر اپنے روزے کو باطل کردے تو ضروری ہے کفارہ دے اور اس کا کفارہ اسی طرح ہے جیسے کہ منت توڑنے کا کفارہ ہے۔
ّ(۱۶۴۴)اگر روزہ دار ایک ایسے شخص کے کہنے پر جو کہے کہ مغرب کا وقت ہو گیا ہے لیکن جس کے کہنے سے اطمینان حاصل نہ ہوا ہو، روزہ افطار کر لے اور بعد میں اسے پتاچلے کہ مغرب کا وقت نہیں ہو ایا شک کرے کہ مغرب کا وقت ہو ا ہے یانہیں تو اس پر قضا اورکفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں اور اگر وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کی بات حجت ہے تو اس پر صرف قضا واجب ہے۔
(۱۶۴۵)جو شخص جان بوجھ کر اپنا روزہ باطل کر لے اور اگر وہ ظہر کے بعد سفر کرے یا کفارے سے بچنے کے لئے ظہرسے پہلے سفر کرے تو اس پر سے کفارہ ساقط نہیں ہوتا بلکہ اگر ظہر سے پہلے اتفاقاً اسے سفر کرنا پڑے تب بھی کفارہ اس پر واجب ہے۔
(۱۶۴۶)اگر کوئی شخص جان بوجھ کو اپنا روزہ توڑ دے اور اس کے بعد حیض، نفاس یا بیماری جیسا کوئی عذر پیدا ہو جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے، خصوصاً جب کسی طریقے سے مثلاً دوائیوں کے استعمال سے خود کو حیض یا بیماری میں مبتلا کیا ہو۔
(۱۶۴۷)اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ آج رمضان کی پہلی تاریخ ہے اور وہ جان بوجھ کرروزہ توڑ دے لیکن بعد میں اسے پتا چلے کے شعبان کی آخری تاریخ ہے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
(۱۶۴۸)اگر کسی شخص کو شک ہو کہ آج رمضان کی آخری تاریخ ہے یا شوال کی پہلی تاریخ اور وہ جان بوجھ کر روزہ توڑ دے اور بعد میں پتا چلے کہ پہلی شوال ہے تواس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔
ّ(۱۶۴۹)اگر ایک روزے دار رمضان میں اپنی روزے دار بیوی سے جماع کرے تو اگر اس نے بیوی کو مجبور کیا ہو تو اپنے روزے کا کفارہ اور احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ اپنی بیوی کے روزے کا بھی کفارہ دے اور اگر بیوی جماع پر راضی ہوتو ہر ایک پر ایک ایک کفارہ واجب ہو جاتاہے۔
(۱۶۵۰)اگر کوئی عورت اپنے روزے دار شوہر کو جماع کرنے پر مجبور کرے تو اس پر شوہر کے روزے کاکفارہ ادا کرنا واجب نہیں ہے۔
ّ(۱۶۵۱)اگر روزے دار رمضان میں اپنی بیوی کو جماع پر مجبور کرے اور جماع کے دوران عورت بھی جماع پر راضی ہوجائے تو دونوں پر ایک ایک کفارہ واجب ہو جاتا ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مرد دو کفارے دے۔
(۱۶۵۲)اگر روزے دار رمضان میں اپنی روزے دار بیوی سے جو سو رہی ہو جماع کرے تو اس پر ایک کفارہ واجب ہوجاتا ہے اور عورت کا روزہ صحیح ہے اس پر کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔
(۱۶۵۳)اگر شوہر اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے شوہر کو جماع کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہو توان دونوں میں سے کسی پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے۔
(۱۶۵۴)جو آدمی سفر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھے وہ اپنی روزے دار بیوی کو جماع پر مجبور کر نہیں سکتا لیکن اگر مجبور کرے تو کفارہ مرد پر بھی واجب نہیں۔
ّ(۱۶۵۵)ضروری ہے کہ انسان کفارہ دینے میں کوتاہی نہ کرے لیکن فوری طور پر دینا بھی ضروری نہیں۔
(۱۶۵۶)اگر کسی شخص پر کفارہ واجب ہو اور وہ کئی سال تک نہ دے تو کفارہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
(۱۶۵۷)جس شخص پر ایک دن کے کفارے کے طور ساٹھ فقیروں کوکھانا کھلانا ضروری ہو،اگر ساٹھ فقیر موجو ہوں تو وہ یہ نہیں کر سکتا کہ کفارہ تو اتنا ہی دے لیکن فقیروں کی تعداد کم کردے۔مثلاً تیس فقیروں میں سے ہر ایک کو دو مد طعام دے کر اسی پر اکتفا کرلے۔ ہاں یہ کر سکتا ہے کہ وہ فقیرکے گھر کے افراد میں سے ہر ایک کے لئے چاہے وہ چھوٹے ہی ہوں،ایک مد اس فقیر کو دے اور وہ فقیر اپنے گھر والوں کی وکالت میں یا ان کے چھوٹے ہونے کے صورت میں،ان کی ولایت میں اسے قبول کرلے اور اگر اسے ساٹھ فقیر نہ ملیں بلکہ مثلاً صرف تیس فقیر ملیں توپھر ہر ایک کو دو مد طعام دے سکتاہے۔البتہ اس صورت میں احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جب بھی ممکن ہو تیس اور فقیروں کو بھی ایک مد دے۔
(۱۶۵۸)جو شخص رمضان کے روزے کی قضا کرے اگر وہ ظہر کے بعدجان بوجھ کرکوئی ایساکام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو تو ضروری ہے کہ دس فقیروں کوفرداًفرداًایک مد کھانادے اور اگر نہ دے سکتا ہو تو تین روزے رکھے۔
آیت اللہ سیستانی کی توضیح المسائل سے ماخوذ
ماہ مبارک میں بہشت کے دروازے کھلے ہیں
قال رسول الله (ص) :
إِنَّ ابواب السماء تفتح فى اول ليلة من شهر رمضان ولاتغلق الى آخر ليلة منه
رسول خدا [ص] نے فرمایا: آسمان کے دروازے رمضان کی پہلی رات کو کھل جاتے ہیں اور آخری رات تک بند نہیں ہوتے۔
– بحار الانوار , ج 96, ص 344, ح 8.
ماہ رمضان میں دوزخ کے دروازے بند ہیں
قال رسول الله (ص) :
اذا استهلَّ رمضان غلقت أبوابُ النار ۔
رسول خدا [ص] نے فرمایا:
جب رمضان کا چاند نظر آتا ہے دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
– بحار الانوار , ج 96, ص 348, ح 14.
قرآن کی بہار
قال ابوجعفر(ع) :
لكلّ شىء ربيع و ربيع القرآن شهر رمضان۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
ہر چیز کے لیے ایک بہار ہوا کرتی ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔
– كافى , ج 2 , ص 630 , ح 10.
رمضان میں ایک آیت کی تلاوت کا ثواب
عن ابى الحسن على بن موسى الرضا(ع]
من قرأ فى شهر رمضان آية من كتاب الله كان كمن. ختم القرآن فى غيره من الشهور ۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
جو شخص ماہ رمضان میں قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت کرے گا اس شخص کی طرح ہے جس نے دوسرے مہینوں میں پورے قرآن
کی تلاوت کی ہو۔
– بحار الانوار , ج 96, ص 341, ح 5.
زکوۃ فطرہ
قال الصادق (عليه السلام)
من تمام الصوم اعطاء الزكاة يعنى الفطرة كما ان الصلوة على النبى (صلى الله عليه و آله) من تمام الصلوة.
امام صادق (عليه السلام) فرماتے ہیں :
روزے کی تکمیل زکواۃ یعنی فطری کے ادا کرنے میں ہے جس طرح پیغمبر (صلى الله عليه و آله) پر درود بھیجنا نماز کے کمال میں
سے ہیں ۔
وسائل الشيعه، ج 6 ص 221، ح 5
شب قدر کی شب زندہ داری
عن فضيل بن يسار قال:
كان ابو جعفر (عليه السلام) اذا كان ليلة احدى و عشرين و ليلة ثلاث و عشرين اخذ فى الدعا حتى يزول الليل فاذا زال الليل صلى.
فضيل بن يسار کہتا ہے :
امام باقر (عليه السلام) اکسویں اور تیسویں رات دعا میں مشغول رہا کرتے تھے یہاں تک کی رات کا آخری پہر جاپہنچے پھر نماز صبح
پڑھ لیا کرتے تھے۔
وسائل الشيعه، ج 7، ص 260، ح 4
اعمال کی تقدیر
قال الصادق (عليه السلام)
التقدير فى ليلة تسعة عشر و الابرام فى ليلة احدى و عشرين و الامضاء فى ليلة ثلاث و عشرين.
امام صادق (عليه السلام) فرماتے ہیں:
اعمال کی تقدیر انسویں رات کو ہوتی ہے اور اکسویں رات ان کی تصویب ہوتی ہے اور تیسویں رات ان پر دستخط(نفاذ) ہوتی ہے
شب قدر کی فضیلت
قيل لابى عبد الله (عليه السلام)
كيف تكون ليلة القدر خيرا من الف شهر؟ قال: العمل الصالح فيها خير من العمل فى الف شهر ليس فيها ليلة القدر.
امام صادق (عليه السلام) سےسوال ہوا:
کیسے شب قدر ہزار راتوں سے افضل ہے؟
آپ نے فرمایا کہ اس رات ایک نیک کام کا ثواب دوسرے مہینوں جن میں شب قدر نہ ہو ، میں ہزار نیک کاموں سے بہتر ہے۔
وسائل الشيعه، ج 7 ص 256، ح 2
سرنوشت ساز رات
قال الصادق (عليه السلام)
راس السنة ليلة القدر يكتب فيها ما يكون من السنة الى السنة.
امام صادق (عليه السلام) فرماتے ہیں:
سال کا آغاز لیلۃ القدر ہے جس میں اگلے سال تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ دیتے ہیں۔
وسائل الشيعه، ج 7 ص 258 ح 8
رمضان کی اہمیت
قال رسول الله (صلى الله عليه و آله)
لو يعلم العبد ما فى رمضان لود ان يكون رمضان السنة
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
اگر خدا کا بندہ یہ جان لیتا کہ رمضان میں کیا ہے(کیا برکتیں اور رحمتیں) تو وہ خواہش کرتا کہ پورا سال رمضان باقی رہے۔
بحار الانوار، ج 93، ص 346
رمضان رحمت کا مہینہ
قال رسول الله (صلى الله عليه و آله)
… و هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخره عتق من النار.
پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
رمضان کی ابتداء رحمت اسکا وسط مغفرت اور اسکا انتہا جہنم سے آزادی ہے۔
بحار الانوار، ج 93، ص 342
خدا کا مہینہ
قال اميرالمومنين
شهر رمضان شهر الله و شعبان شهر رسول الله و رجب شهرى
امام على (عليه السلام) فرماتے ہیں:
رمضان خدا کا مہینہ ہے اورشعبان رسول خد اکا اور رجب کا مہینہ میرا مہینہ ہے۔
وسائل الشيعه، ج 7 ص 266، ح 23
افطاری دینا
قال الكاظم (عليه السلام)
فطرك اخاك الصائم خير من صيامك.
امام كاظم (عليه السلام) فرماتے ہیں:
اپنے مؤمن بھائی کو افطاری دینا مستحبی روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔
الكافى، ج 4 ص 68، ح 2
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول معروف دعائے سحر
۔
سحری کے وقت یہ عظیم القدر دعا پڑھے جو امام علی رضا-سے منقول ہے آپ (ع) نے فرمایا کہ یہ وہی دعا ہے جسے امام محمد باقر – سحری کے وقت پڑھتے تھے اور وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مِنْ بَہائِکَ بِٲَبْہاھُ وَکُلُّ بَہائِکَ بَھِیٌّ، اَللّٰھُمَّ إنِّی
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری روشنی میں سے جو روشن تر ہے جبکہ تیری تمام روشنی بڑی بھر پور روشنی ہے اے معبود ! میں
ٲَسْٲَلُکَ بِبَہائِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ جَمالِکَ بِٲَجْمَلِہِ وَکُلُّ جَمالِکَ
تجھ سے تیری تمام روشنی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے جمال میں سے جو بہت زیبا ہے اور
جَمِیلٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِجَمالِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ جَلالِکَ
تیرا سارا جمال زیبا ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے سارے جمال کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ
بِٲَجَلِّہِ وَکُلُّ جَلالِکَ جَلِیلٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِجَلالِکَ کُلِّہِ
سے تیرے جلال میں سے اسکی پوری جلالت کیساتھ اور تیرا سارا جلال پُر جلالت ہے اے معبود! میںتجھ سے تیرے پورے جلال کے ذریعے سوال کرتا ہوں
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ عَظَمَتِکَ بِٲَعْظَمِہا وَکُلُّ عَظَمَتِکَ عَظِیمَۃٌ
اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عظمت کے ذریعے جو بڑی ہی عظیم ہے اور تیری تمام عظمتیں بڑی ہی عظیم ہیں۔
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِعَظَمَتِکَ کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ نُورِکَ بِٲَنْوَرِھِ وَکُلُّ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عظمت کے واسطے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے نور کے پُر نور ہونے سے
نُورِکَ نَیِّرٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِنُورِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
اور تیرا سارا نور تاباں ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوںتجھ سے بواسطہ تیرے تمام نور کے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
مِنْ رَحْمَتِکَ بِٲَوْسَعِہا وَکُلُّ رَحْمَتِکَ واسِعَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِرَحْمَتِکَ
تیری رحمت میں سے اس کی وسعتوں کے ساتھ اور تیری ساری رحمت وسیع ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیری
کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ کَلِماتِکَ بِٲَ تَمِّہا وَکُلُّ کَلِماتِکَ تامَّۃٌ،
تمام رحمت کے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے کلمات میں سے جو کامل تر ہیں اور تیرے تمام کلمات کامل تر ہیں
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِکَلِماتِکَ کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ کَمالِکَ
اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمامی کلمات کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کمال میں سے
بِٲَکْمَلِہِ وَکُلُّ کَمالِکَ کامِلٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِکَمالِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی
جو بہت کامل ہے اور تیرا ہر کمال ہی کامل تر ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمامی کمال کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں
ٲَسْٲَلُکَ مِنْ ٲَسْمائِکَ بِٲَکْبَرِہا وَکُلُّ ٲَسْمائِکَ کَبِیرَۃٌ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِٲَسْمائِکَ
تجھ سے تیرے ناموں میں سے بڑے نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں اور تیرے سبھی نام بزرگتر ہیں اے معبود! میں تجھ تیرے
کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ عِزَّتِکَ بِٲَعَزِّہا وَکُلُّ عِزَّتِکَ
سبھی ناموں کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں تجھ سے تیری عزت میں سے بلند تر عزت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور
عَزِیزَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِعِزَّتِکَ کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ مَشِیئَتِکَ
تیری عزت ہی بلند تر ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیری تمامی عزت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری نافذ
بِٲَمْضاہا وَکُلُّ مَشِیئَتِکَ ماضِیَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِمَشِیئَتِکَ
ہونے والی مرضی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری ہر مرضی نافذ ہونے والی ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیری ہر مرضی کے ذریعے
کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ قُدْرَتِکَ بِالْقُدْرَۃِ الَّتِی اسْتَطَلْتَ بِہا عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری اس قدرت کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جس سے تو ہر چیز پر تسلط رکھتا ہے
وَکُلُّ قُدْرَتِکَ مُسْتَطِیلَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِقُدْرَتِکَ کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی
اور تیری تمامی قدرت تسلط رکھنے والی ہے اے معبود! میں تجھ سے تیری کلی قدرت کے ذریعے سوال کرتا ہوں۔اے معبود ! میں تجھ
ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ عِلْمِکَ بِٲَ نْفَذِھِ وَکُلُّ عِلْمِکَ نافِذٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِعِلْمِکَ
سے تیرے بہت نفوذ کرنے والے علم کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا تمامی علم نافذ تر ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیرے سارے
کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ قَوْ لِکَ بِٲَرْضاھُ وَکُلُّ قَوْ لِکَ رَضِیٌّ،
ہی علم کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے قول سے سوال کرتا ہوں جو پسندیدہ تر ہے اور تیرا ہر قول پسندیدہ ہے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِقَوْ لِکَ کُلِّہِ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ مَسائِلِکَ بِٲَحَبِّہا إلَیْکَ
اے معبود ! میں تجھ سے تیرے ہر قول کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے محبوب تر مسائل سے
وَکُلُّ مَسائِلِکَ إلَیْکَ حَبِیبَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِمَسائِلِکَ کُلِّہا،
کہ وہ سب کے سب تیرے نزدیک محبوب و مطلوب ہیں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے تمام مسائل کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مِنْ شَرَفِکَ بِٲَشْرَفِہِ وَکُلُّ شَرَفِکَ شَرِیفٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی
معبود ! میں تجھ سے تیرے شرف میں سے اعلیٰ تر شرف کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا ہر شرف اعلیٰ تر ہے اے معبود! میں تجھ سے
ٲَسْٲَ لُکَ بِشَرَفِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ سُلْطانِکَ بِٲَدْوَمِہِ وَکُلُّ
تیرے تمامی شرف کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری سلطنت سے جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہے اور
سُلْطانِکَ دَائِمٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِسُلْطانِکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ
تیری سلطنت ہے ہی ہمیشگی والی اے معبود! میں تجھ سے تیری ساری سلطنت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے
مُلْکِکَ بِٲَفْخَرِھِ وَکُلُّ مُلْکِکَ فاخِرٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِمُلْکِکَ
تیرے پر فخر ملک کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا تمام ملک ہی موجب فخر ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمام ملک کے ذریعے
کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مِنْ عُلُوِّکَ بِٲَعْلاھُ وَکُلُّ عُلُوِّکَ عالٍ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ
سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری بلند تر بلندی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری ہر بلندی بلند تر ہے اے معبود! میں تجھ سے
بِعُلُوِّکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ مِنْ مَنِّکَ بِٲَ قْدَمِہِ وَکُلُّ مَنِّکَ
تیری تمام تر بلندی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے احسان کی قدامت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا
قَدِیمٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِمَنِّکَ کُلِّہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ مِنْ آیاتِکَ
ہر احسان قدیم ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیرے تمام احسانات کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری آیات
بِٲَکْرَمِہا وَکُلُّ آیاتِکَ کَرِیمَۃٌ، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بآیاتِکَ
میں سے بزرگتر آیت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری سبھی آیات بزرگ ہیں اے معبود ! میں تجھ سے تیری تمام آیات کے
کُلِّہا ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِما ٲَ نْتَ فِیہِ مِنَ الشَّٲْنِ وَالْجَبَرُوتِ وَٲَسْٲَ لُکَ بِکُلِّ
ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے اس کے ذریعے سوال کرتا ہوں جس میں قدرت اور شان کے ساتھ ہے اور میں تجھ
شَٲْنٍ وَحْدَھُ وَجَبَرُوتٍ وَحْدَہا، اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِما تُجِیبُنِی بِہِ حِینَ ٲَسْٲَ لُکَ
سے سوال کرتا ہوں ہر نرالی شان اور یکتا بزرگی کے ذریعے اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ذریعے
فَٲَجِبْنِی یَا اﷲُ۔
جس سے تو حاجت پوری فرمائے ۔
اس کے بعد اپنی ہر حاجت طلب کرے تاکہ خدائے تعالیٰ اسے بر لائے۔
دعا ئے ابو حمزہ ثمالی ترجمہ کے ساتھ
شیخ نے مصباح میں ابو حمزہ ثمالی کی روایت نقل کی ہے کہ امام زین العابدین -رمضان مبارک کی راتیں نماز میں گزارتے اور سحری کے وقت یہ دعا پڑھے تھے:
إلھِی لاَ تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلاَ تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ ٲَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَا
میرے اﷲ!مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کر اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزما مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے
رَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِی
پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں سے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں نہ ہی کو نیکی کرنے
ٲَحْسَنَ اسْتَغْنی عَنْ عَوْ نِکَ وَرَحْمَتِکَ، وَلاَ الَّذِی ٲَسائَ وَاجْتَرَٲَ عَلَیْکَ وَلَمْ یُرْضِکَ
میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالا
خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِکَ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ
تیرے قابو سے باہر ہے اے پالنے والے اے پالنے والے اے پالنے والے۔
اس کو اتنی مرتبہ کہے کہ سانس ٹوٹ جائے اور اس کے بعد کہے:
بِکَ عَرَفْتُکَ وَٲَ نْتَ دَلَلْتَنِی عَلَیْکَ وَدَعَوْتَنِی إلَیْکَ ، وَلَوْلا ٲَ نْتَ لَمْ ٲَدْرِ مَا
میں نے تیرے ہی ذریعے تجھے پہچانا تو نے اپنی طرف میری راہنمائی کی اور مجھے اپنی طرف بلایا ہے اور اگر تو مجھے نہ بلاتا تو میں سمجھ
ٲَنْتَ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ٲَدْعُوھُ فَیُجِیبُنِی وَ إنْ کُنْتُ بَطِیئاً حِینَ یَدْعُونِی، وَالْحَمْدُ
ہی نہ سکتا کہ تو کون ہے حمد ہے اس خدا کیلئے جسے پکارتا ہوں تو جواب دیتا ہے اگرچہ جب وہ مجھے پکارے تو میں سستی کرتا ہوں حمد ہے
لِلّٰہِ الَّذِی ٲَسْٲَ لُہُ فَیُعْطِینِی وَ إنْ کُنْتُ بَخِیلاً حِینَ یَسْتَقْرِضُنِی، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
اس اﷲ کیلئے کہ جس سے مانگتا ہوں تو مجھے عطا کرتا ہے اگرچہ وہ مجھ سے قرض کا طالب ہو تو کنجوسی کرتا ہوں حمد ہے اس اﷲ کیلئے
الَّذِی ٲُنادِیہِ کُلَّما شِئْتُ لِحاجَتِی وَٲَخْلُو بِہِ حَیْثُ شِئْتُ لِسِرِّی بِغَیْرِ شَفِیعٍ فَیَقْضِی
کہ جب چاہوں اسے اپنی حاجت کیلئے پکارتاہوں اور جب چاہوں تنہائی میں بغیر کسی سفارشی کے اس سے راز و نیاز کرتا ہوں تو وہ
لِی حاجَتِی ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ ٲَدْعُو غَیْرَھُ وَلَوْ دَعَوْتُ غَیْرَھُ لَمْ یَسْتَجِبْ لِی
میری حاجت پوری کرتا ہے حمد ہے اس اﷲ کیلئے کہ جس کے سوا میں کسی کو نہیں پکارتا اور اگر اس کے غیر سے دعا کروں تو وہ میری دعا
دُعائِی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ ٲَرْجُو غَیْرَھُ وَلَوْ رَجَوْتُ غَیْرَھُ لاَََخْلَفَ رَجائِی
قبول نہیں کرے گا حمد ہے اس اﷲ کیلئے جس کے غیر سے میں امید نہیں رکھتا اور اگرامید رکھوں بھی تو وہ میری امید پوری نہ کریگا حمد
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَکَلَنِی إلَیْہِ فَٲَکْرَمَنِی وَلَمْ یَکِلْنِی إلَی النَّاسِ فَیُھِینُونِی، وَالْحَمْدُ
ہے اس اﷲ کیلئے جس نے اپنی سپردگی میں لے کر مجھے عزت دی اور مجھے لوگوں کے سپرد نہ کیا کہ مجھے ذلیل کرتے حمد ہے
لِلّٰہِ الَّذِی تَحَبَّبَ إلَیَّ وَھُوَ غَنِیٌّ عَنِّی، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی یَحْلُمُ عَنِّی حَتَّی کَٲَ نِّی لاَ
اس اﷲ کے لئے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اگرچہ وہ مجھ سے بے نیاز ہے حمد ہے اس اﷲ کیلئے جو مجھ سے اتنی نرمی کرتا ہے جیسے میں نے
ذَنْبَ لِی، فَرَبِّی ٲَحْمَدُ شَیْئٍ عِنْدِی وَٲَحَقُّ بِحَمْدِی اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَجِدُ سُبُلَ
کوئی گناہ نہ کیا ہو پس میرا رب میرے نزدیک ہر شئے سے زیادہ قابل تعریف ہے اور وہ میری حمد کا زیادہ حقدار ہے۔اے معبود !
الْمَطالِبِ إلَیْکَ مُشْرَعَۃً، وَمَناھِلَ الرَّجائِ لَدَیْکَ مُتْرَعَۃً، وَالاسْتِعانَۃَ بِفَضْلِکَ لِمَنْ
میں اپنے مقاصد کی راہیں تیری طرف کھلی ہوئی پاتا ہوں اور امیدوں کے چشمے تیرے ہاں بھرے پڑے ہیں ہر امید وار کے لئے
ٲَمَّلَکَ مُباحَۃً، وَٲَبْوابَ الدُّعائِ إلَیْکَ لِلصَّارِخِینَ مَفْتُوحَۃً، وَٲَعْلَمُ ٲَ نَّکَ
تیرے فضل سے مدد چاہنا آزاد وروا ہے اور فریاد کرنے والوں کی دعائوں کیلئے تیرے دروازے کھلے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تو
لِلرَّاجِین بِمَوْضِعِ إجابَۃٍ وَ لِلْمَلْھُوفِینَ بِمَرْصَدِ إغاثَۃٍ، وَٲَنَّ فِی اللَّھْفِ إلی جُودِکَ
امیدوار کی جائے قبولیت ہے تو مصیبت زدوںکے لئے فریاد رسی کی جگہ ہے میں جانتا ہوں کہ تیری سخاوت
وَالرِّضا بِقَضائِکَ عِوَضاً مِنْ مَنْعِ الْباخِلِینَ وَمَنْدُوحَۃً عَمَّا فِی ٲَیْدِی الْمُسْتَٲْثِرِینَ
کی پناہ لینا اور تیرے فیصلے پر راضی رہنا کنجوسوں کی روک ٹوک سے بچنے اور خود غرض مالداروں سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے
وَٲَنَّ الرَّاحِلَ إلَیْکَ قَرِیبُ الْمَسافَۃِ، وَٲَ نَّکَ لاَ تَحْتَجِبُ عَنْ خَلْقِکَ إلاَّ ٲَنْ تَحْجُبَھُمُ
نیز یہ کہ تیری طرف آنے والے کی منزل قریب ہے اور تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہے مگر ان کے برے اعمال نے ہی انہیں تجھ سے
الْاَعْمالُ دُونَکَ وَقَدْ قَصَدْتُ إلَیْکَ بِطَلِبَتِی وَتَوَجَّھْتُ إلَیْکَ بِحاجَتِی وَجَعَلْتُ بِکَ
دور کر رکھا ہے میں اپنی طلب لیکر تیری بارگاہ میں آیا اور اپنی حاجت کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہوا ہوں میری فریاد تیرے
اسْتِغاثَتِی، وَبِدُعائِکَ تَوَسُّلِی مِنْ غَیْرِ اسْتِحْقاقٍ لاِسْتِماعِکَ مِنِّی، وَلاَ اسْتِیجابٍ
حضور میں ہے میری دعا کا وسیلہ تیری ہی ذات ہے جبکہ میں اس کا حقدار نہیں کہ تو میری سنے اور نہ اس قابل ہوں
لِعَفْوِکَ عَنِّی بَلْ لِثِقَتِی بِکَرَمِکَ، وَسُکُونِی إلی صِدْقِ وَعْدِکَ وَلَجَائِی إلَی الْاِیمانِ
کہ تو مجھے معاف کرے البتہ مجھے تیرے کرم پر بھروسہ اور تیرے سچے وعدے پر اعتماد ہے تیری توحید پر ایمان میری پکی سچی پناہ ہے
بِتَوْحِیدِکَ وَیَقِینِی بِمَعْرِفَتِکَ مِنِّی ٲَنْ لا رَبَّ لِی غَیْرُکَ، وَلاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ وَحْدَکَ لاَ
اور تیرے بارے میں مجھے اپنی معرفت پر یقین ہے تیرے سوا میرا کوئی پالنے والا نہیں اور تو ہی صرف یگانہ ہے تیرا کوئی
شَرِیکَ لَکَ اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْقائِلُ وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَوَعْدُکَ صِدْقٌ وَاسْٲَلُوا اﷲَ مِنْ فَضْلِہِ
شریک نہیں۔ اے معبود! یہ تیرا فرمان ہے اور تیرا کہنا درست اور تیرا وعدہ سچا ہے کہ اﷲ سے اس کا فضل مانگو بے شک
إنَّ اﷲَ کانَ بِکُمْ رَحِیماً، وَلَیْسَ مِنْ صِفاتِکَ یَا سَیِّدِی ٲَنْ تَٲْمُرَ بِالسُّؤالِ وَتَمْنَعَ
اﷲ تم پر بڑا مہربان ہے اور اے میرے سردار ! یہ بات تیری شان سے بعید ہے کہ تو مانگنے کا حکم دے تو عطا نہ فرمائے
الْعَطِیَّۃَ وَٲَ نْتَ الْمَنَّانُ بِالْعَطِیَّاتِ عَلَی ٲَھْلِ مَمْلَکَتِکَ، وَالْعائِدُ عَلَیْھِمْ بِتَحَنُّنِ رَٲْفَتِکَ
تو اپنی مملکت کے باشندوں کو بہت بہت عطا کرنے والا ہے اور اپنی مہربانی و نرمی سے ان کی طرف متوجہ ہے
إلھِی رَبَّیْتَنِی فِی نِعَمِکَ وَ إحْسانِکَ صَغِیراً، وَنَوَّھْتَ بِاسْمِی کَبِیراً، فَیا مَنْ رَبَّانِی
اے اﷲ جب میں بچہ تھا تو نے مجھے اپنی نعمت اور احسان کے ساتھ پالا اور جب میں بڑا ہوا تو مجھے شہرت عطا کی پس اے وہ ذات
فِی الدُّنْیا بِ إحْسانِہِ وَتَفَضُّلِہِ وَنِعَمِہِ، وَٲَشارَ لِی فِی الاَْخِرَۃِ إلی عَفْوِھِ وَکَرَمِہِ،
جس نے دنیا میں مجھے اپنے احسان نعمت اور عطا سے پالا اور آخرت میں مجھے اپنے عفو و کرم کا اشارہ دیا ہے اے میرے مولا!
مَعْرِفَتِی یَا مَوْلایَ دَلِیلِی عَلَیْکَ، وَحُبِّی لَکَ شَفِیعِی إلَیْکَ، وَٲَ نَا واثِقٌ مِنْ دَلِیلِی
میری معرفت ہی تیری طرف میری رہنما ہے اور میری تجھ سے محبت تیرے سامنے میری سفارشی ہے اور مجھے تیری طرف لے جانے والے
بِدَلالَتِکَ وَساکِنٌ مِنْ شَفِیعِی إلی شَفاعَتِکَ، ٲَدْعُوکَ یَا سَیِّدِی بِلِسانٍ قَدْ ٲَخْرَسَہُ
اپنے اس رہبر پر بھروسہ اور تیرے حضور شفاعت کرنے والے اپنے شفیع پر اطمینان ہے اے میرے سردار !میں تجھے اس زبان سے
ذَنْبُہُ، رَبِّ ٲُناجِیکَ بِقَلْبٍ قَدْ ٲَوْبَقَہُ جُرْمُہُ، ٲَدْعُوکَ یَا رَبِّ
پکارتا ہوں جو بوجہ گناہ کے لکنت کرتی ہے پالنے والے میں اس دل سے راز گوئی کرتا ہوں جسے اس کے جرم نے تباہ کردیا اے پالنے
راھِباً راغِباً راجِیاً خائِفاً إذا رَٲَیْتُ مَوْلایَ ذُ نُوبِی فَزِعْتُ
والے میں تجھے پکارتا ہوں لیکن سہما ہوا ڈرا ہوا چاہتا ہوا امید رکھتا ہوا اے میرے مولا! جب میں اپنے گناہوں کو دیکھتا ہوں تو گھبراتا
وَ إذا رَٲَیْتُ کَرَمَکَ طَمِعْتُ فَ إنْ عَفَوْتَ فَخَیْرُ راحِمٍ، وَ إنْ عَذَّبْتَ فَغَیْرُ ظالِمٍ،
ہوں اور تیرے کرم پر نگاہ ڈالتا ہوں تو آرزو بڑھتی ہے پس اگر تو مجھے معاف کرے تو بہترین رحم کرنے والا ہے اور عذاب دے تو
حُجَّتِی یَا اﷲُ فِی جُرْٲَتِی عَلَی مَسْٲَلَتِکَ مَعَ إتْیانِی مَا تَکْرَھُ جُودُکَ
بھی ظلم کرنے والا نہیں اے اﷲ جو کام تجھے نا پسند ہیں وہ انجام دینے کے با وجود تجھ سے سوال کرنے کی جرأت میں تیرا جود و کرم
وَکَرَمُکَ، وَعُدَّتِی فِی شِدَّتِی مَعَ قِلَّۃِ حَیائِی رَٲْفَتُکَ وَرَحْمَتُکَ، وَقَدْ رَجَوْتُ ٲَنْ لاَ
ہی میری حجت ہے اور حیا کی کمی کے با وجود سختی کے وقت میں میرا سہارا تیری ہی مہربانی و نرم روی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ایسی
تَخِیبَ بَیْنَ ذَیْنِ وَذَیْنِ مُنْیَتِی فَحَقِّقْ رَجائِی، وَاسْمَعْ دُعائِی، یَا خَیْرَ مَنْ دَعاھُ
ویسی باتوں کے ہوتے ہوئے بھی تو مجھے مایوس نہ کرے گا پس میری امید برلا اور میری دعاسن لے اے پکارے جانے والوں میں
داعٍ، وَٲَ فْضَلَ مَنْ رَجاھُ راجٍ، عَظُمَ یَا سَیِّدِی ٲَمَلِی وَسائَ عَمَلِی فَٲَعْطِنِی مِنْ
سب سے بہتر اور جن سے امید کی جاتی ہے ان میں سب سے بلند تر اے میرے آقا ! میری آرزو بڑی اور میرا عمل برا ہے پس اپنے
عَفْوِکَ بِمِقْدارِ ٲَمَلِی، وَلاَ تُؤاخِذْنِی بِٲَسْوَئِ عَمَلِی فَ إنَّ کَرَمَکَ یَجِلُّ عَنْ مُجازاۃِ
عفو سے کام لے کر میری آرزو پوری فرما اور برے عمل پر میری گرفت نہ کر کیونکہ تیرا کرم گناہگاروں کی سزاؤں سے بہت بلند و بالا ہے
الْمُذْنِبِینَ، وَحِلْمَکَ یَکْبُرُ عَنْ مُکافٲَۃِ الْمُقَصِّرِینَ، وَٲَ نَا یَا سَیِّدِی عائِذٌ بِفَضْلِکَ،
اور تیرا حلم کوتاہی کرنے والوں کی سزاؤں سے عظیم تر ہے اور اے میرے سردار ! میں تیرے خوف سے بھاگ کر تیرے فضل کی پناہ
ہارِبٌ مِنْکَ إلَیْکَ، مُتَنَجِّزٌ مَا وَعَدْتَ مِنَ الصَّفْحِ عَمَّنْ ٲَحْسَنَ بِکَ ظَنّاً، وَمَا ٲَ نَا یَا
لیتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ جس نے تجھ سے اچھا گمان رکھا ہے اس سے در گزر کا وعدہ پورا فرما اور اے میرے
رَبِّ وَمَا خَطَرِی ھَبْنِی بِفَضْلِکَ، وَتَصَدَّقْ عَلَیَّ بِعَفْوِکَ، ٲَیْ رَبِّ جَلِّلْنِی بِسِتْرِکَ،
پروردگار! میں کیا اور میری اوقات کیا تو ہی اپنے فضل سے مجھے بخش دے اور اپنے عفو سے مجھ پر عنایت فرما اے میرے رب ! مجھے
وَاعْفُ عَنْ تَوْبِیخِی بِکَرَمِ وَجْھِکَ، فَلَوِ اطَّلَعَ الْیَوْمَ عَلَی ذَ نْبِی غَیْرُکَ مَا فَعَلْتُہُ،
اپنی پردہ پوشی سے ڈھانپ اور اپنے خاص کرم سے میری سرزنش ٹال دے اگر آج تیرے سوا کوئی دوسرا میرے گناہ کو جان لیتا تو میں
وَلَوْ خِفْتُ تَعْجِیلَ الْعُقُوبَۃِ لاَجْتَنَبْتُہُ، لاَ لاََِ نَّکَ ٲَھْوَنُ النَّاظِرِینَ إلَیَّ وَٲَخَفُّ
یہ کبھی نہ کرتا اور اگر مجھے جلد سزا ملنے کا خوف ہوتا تو ضرور گناہ سے دور رہتا لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ تو دیکھنے والوں میں کمتر اور جاننے
الْمُطَّلِعِینَ عَلَیَّ، بَلْ لاََِ نَّکَ یَا رَبِّ خَیْرُ السَّاتِرِینَ، وَٲَحْکَمُ الْحاکِمِینَ، وَٲَکْرَمُ
والوں میں کم رتبہ ہے بلکہ اس وجہ یہ ہے اے پروردگار کہ تو بہترین پردہ پوش سب سے بڑا حاکم اور سب سے زیادہ
الْاَکْرَمِینَ، سَتَّارُ الْعُیُوبِ، غَفَّارُ الذُّنُوبِ، عَلاَّمُ الْغُیُوبِ، تَسْتُرُ الذَّنْبَ بِکَرَمِکَ،
کرم کرنے والا عیبوں کو ڈھانپنے والا گناہوں کا معاف کرنے والا چھپی باتوں کا جاننے والا ہے تو اپنے کرم سے گناہ کو ڈھانپتا
وَتُؤَخِّرُ الْعُقُوبَۃَ بِحِلْمِکَ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ وَعَلَی عَفْوِکَ بَعْدَ
اور اپنی نرم خوئی سے سزا میں تاخیر کرتا ہے پس حمد ہے تیرے لئے کہ جانتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے تیری حمد ہے کہ تو توانا ہوتے
قُدْرَتِکَ، وَیَحْمِلُنِی وَیُجَرِّئُنِی عَلَی مَعْصِیَتِکَ حِلْمُکَ عَنِّی، وَیَدْعُونِی إلی قِلَّۃِ
ہوئے معاف کرتا ہے اور وہ میرے ساتھ تیری نرم روی ہے جس نے مجھے تیری نا فرمانی پر آمادہ کیا ہے تیرا میری پردہ پوشی کرنا مجھ
الْحَیائِ سَِتْرُکَ عَلَیَّ وَیُسْرِعُنِی إلَی التَّوَثُّبِ عَلَی مَحارِمِکَ مَعْرِفَتِی بِسَعَۃِ رَحْمَتِکَ
میں حیا کی کمی کا موجب بنا ہے اور تیری وسیع رحمت اور عظیم عفو کی معرفت کے باعث میں تیرے حرام کیئے ہوئے
وَعَظِیمِ عَفْوِکَ، یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا غافِرَ الذَّنْبِ، یَا قابِلَ التَّوْبِ،
کاموں کیطرف جلدی کرتا ہوںاے نرم خو اے مہربان اے زندہ اے نگہبان اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے
یَا عَظِیمَ الْمَنِّ، یَا قَدِیمَ الْاِحْسانِ ٲَیْنَ سَِتْرُکَ الْجَمِیلُ ٲَیْنَ عَفْوُکَ الْجَلِیلُ ٲَیْنَ
اے عظیم عطا والے اے قدیم احسان والے کہاں ہے تیری بہترین پردہ پوشی کہاں ہے تیرا بلند تر عفو، کہاں ہے
فَرَجُکَ الْقَرِیبُ ٲَیْنَ غِیاثُکَ السَّرِیعُ ٲَیْنَ رَحْمَتُکَ الْواسِعَۃُ ٲَیْنَ عَطایاکَ الْفاضِلَۃُ
تیری قریب تر کشائش کہاں ہے تیری فوری فریاد رسی کہاں ہے تیری وسیع تر رحمت کہاں ہیں تیری بہترین عطائیں کہاں ہیں
ٲَیْنَ مَواھِبُکَ الْھَنِیئَۃُ ٲَیْنَ صَنائِعُکَ السَّنِیَّۃُ ٲَیْنَ فَضْلُکَ الْعَظِیمُ ٲَیْنَ مَنُّکَ الْجَسِیمُ
تیری خوشگوار بخششیں کہاں ہیں تیرے شاندار انعامات کہاں ہے تیرا با عظمت فضل کہاں ہے تیری عظیم بخشش
ٲَیْنَ إحْسانُکَ الْقَدِیمُ ٲَیْنَ کَرَمُکَ یَا کَرِیمُ بِہِ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فَاسْتَنْقِذْنِی،
کہاں ہے تیرا قدیم احسان کہاں ہے تیری مہربانی اے مہربان اپنی مہربانی سے محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) کے صدقے مجھے عذاب سے نکال
وَبِرَحْمَتِکَ فَخَلِّصْنِی، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ، لَسْتُ ٲَتَّکِلُ فِی
اور اپنی رحمت سے مجھے اس سے رہائی دے اے نیکوکار اے خوش صفات اے نعمت دینے والے اے بلندی دینے والے تیری سزا
النَّجاۃِ مِنْ عِقابِکَ عَلَی ٲَعْمالِنا بَلْ بِفَضْلِکَ عَلَیْنا لاََِنَّکَ ٲَھْلُ التَّقْوی وَٲَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ
سے بچنے میں مجھے اپنے اعمال پر کچھ بھی بھروسہ نہیں بلکہ تیرے فضل کا سہارا ہے جو ہم پر ہے کیونکہ تو گناہ سے بچا لینے والا اور گناہ
تُبْدِیَُ بِالْاِحْسانِ نِعَماً، وَتَعْفُو عَنِ الذَّنْبِ کَرَماً، فَما نَدْرِی مَا نَشْکُرُ ٲَجَمِیلَ مَا
بخش دینے والا ہے تو احسان کے ساتھ نعمتوں کا آغاز کرتا اور مہربانی کرتے ہوئے گناہ کی معافی دیتا ہے پس ہم نہیں جانتے کہ کس
تَنْشُرُ ٲَمْ قَبِیحَ مَا تَسْتُرُ ٲَمْ عَظِیمَ مَا ٲَبْلَیْتَ وَٲَوْلَیْتَ ٲَمْ کَثِیرَ مَا مِنْہُ نَجَّیْتَ
بات پر شکر کریں آیا تیرے نیکی ظاہر کرنے پر یا برائی کی پردہ پوشی پر یا بہت بڑی غم خواری اور عطائے نعمت پر شکر کریں یا بہت چیزوں
وَعافَیْتَ یَا حَبِیبَ مَنْ تَحَبَّبَ إلَیْکَ، وَیَا قُرَّۃَ عَیْنِ مَنْ لاذَ بِکَ
سے تیرے نجات عطا کرنے اور امن دینے پر شکر کریں اے اس کے دوست جو تجھ سے دوستی کرے اور اے اس کا نور چشم جو تیری پناہ لے
وَانْقَطَعَ إلَیْکَ، ٲَ نْتَ الْمُحْسِنُ وَنَحْنُ الْمُسِیئُونَ فَتَجاوَزْ یَا رَبِّ عَنْ قَبِیحِ مَا
اور سب سے کٹ کر تیرا ہی ہو جائے تو بھلائی کرنے والا اور ہم برائی کرنے والے ہیں پس اے پالنے والے اپنی بھلائی سے کام
عِنْدَنا بِجَمِیلِ مَا عِنْدَکَ وَٲَیُّ جَھْلٍ یَا رَبِّ لاَ یَسَعُہُ جُودُکَ ٲَوْ ٲَیُّ زَمانٍ ٲَطْوَلُ مِنْ
لیتے ہوئے ہماری برائی سے در گزر فرما اے پالنے والے وہ کونسی نادانی ہے جس پر تیرا کرم وسعت نہ رکھتا ہو یا وہ کونسا زمانہ ہے جو
ٲَناتِکَ وَمَا قَدْرُ ٲَعْمالِنا فِی جَنْبِ نِعَمِکَ وَکَیْفَ نَسْتَکْثِرُ ٲَعْمالاً نُقابِلُ بِہا کَرَمَکَ بَلْ
تیری مہلت سے دراز ہو اور تیری نعمتوں کے سامنے ہمارے اعمال کی کیا وقعت ہے کس طرح ہم اپنے اعمال میں اضافہ کریں کہ
کَیْفَ یَضِیقُ عَلَی الْمُذْنِبِینَ مَا وَسِعَھُمْ مِنْ رَحْمَتِکَ یَا واسِعَ الْمَغْفِرَۃِ، یَا باسِطَ
انہیں تیرے کرم کے سامنے لا سکیں بلکہ تیری وہ رحمت گنہگاروں پر کیسے تنگ ہو جائے گی جو ان پر چھائی ہوئی ہے اے وسیع بخشش
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ، فَوَعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی لَوْ نَھَرْتَنِی مَا بَرِحْتُ مِنْ بابِکَ وَلاَ
والے اے مہربانی سے بہت زیادہ دینے والے پس تیری عزت کی قسم اے میرے آقا ! تو دھتکارے تب بھی میں تیرے دروازے
کَفَفْتُ عَنْ تَمَلُّقِکَ لِما انْتَہی إلَیَّ مِنَ الْمَعْرِفَۃِ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ، وَ ٲَنْتَ
سے نہ ہٹوں گا چونکہ مجھے تیرے جود و کرم کی معرفت ہے اس لئے میں اپنی زبان کو تیری تعریف و توصیف سے نہ روکوں گا تو جو
الْفاعِلُ لِما تَشائُ تُعَذِّبُ مَنْ تَشائُ بِما تَشائُ کَیْفَ تَشائُ، وَتَرْحَمُ مَنْ تَشائُ بِما تشائُ
چاہے کر گزرتا ہے تو جسے چاہے جس چیز سے چاہے اور جیسے چاہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہے جس چیز سے چاہے جیسے چاہے
کَیْفَ تَشائُ لاَ تُسْٲَلُ عَنْ فِعْلِکَ وَلاَ تُنازَعُ فِی مُلْکِکَ، وَلاَ تُشارَکُ فِی ٲَمْرِکَ، وَلاَ
رحم کرتا ہے تیرے فعل پر پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی تیری سلطنت پر جھگڑا نہیںہوسکتا اور تیرے کام میں کوئی شریک نہیں تیرے حکم میں
تُضادُّ فِی حُکْمِکَ وَلاَ یَعْتَرِضُ عَلَیْکَ ٲَحَدٌ فِی تَدْبِیرِکَ لَکَ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبارَکَ
کوئی ضدیت نہیں اور تیری تدبیر میں کوئی تجھ پر اعتراض نہیں کر سکتا تیرے ہی لئے پیدا کرنا اور حکم فرمانا با برکت ہے وہ
اﷲُ رَبُّ الْعالَمِینَ ۔ یَا رَبِّ ہذَا مَقامُ مَنْ لاذَ بِکَ وَاسْتَجارَ بِکَرَمِکَ
اﷲ جو جہانوں کا پالنے والا ہے اے پروردگار ! یہ ہے اس شخص کا مقام جس نے تیری پناہ لی تیرے سایہ کرم میں آیا
وَٲَلِفَ إحْسانَکَ وَ نِعَمَکَ، وَٲَ نْتَ الْجَوادُ الَّذِی لاَ یَضِیقُ عَفْوُکَ، وَلاَ یَنْقُصُ
اور تیرے ہی احسان اور نعمت کا خواہاں ہوا ہے اور تو ایسا سخی ہے کہ تیرا دامن عفو تنگ نہیں ہوتا تیرے فضل میں
فَضْلُکَ، وَلاَ تَقِلُّ رَحْمَتُکَ، وَقَدْ تَوَثَّقْنا مِنْکَ بِالصَّفْحِ الْقَدِیمِ، وَالْفَضْلِ الْعَظِیمِ،
کمی نہیں آتی اور تیری رحمت میں کمی نہیں پڑتی ہم نے اعتماد کیا ہے تجھ پر تیری درینہ در گزر عظیم تر فضل و کرم
وَالرَّحْمَۃِ الْواسِعَۃِ، ٲَفَتُراکَ یَا رَبِّ تُخْلِفُ ظُنُونَنا ٲَوْ تُخَیِّبُ آمالَنا
اور تیری کشادہ تر رحمت کے ساتھ تو اے میرے پالنے والے ! کیا تو ہمارے اچھے گمان کے خلاف کریگا یا ہماری کوشش ناکام بنائے گا
کَلاَّ یَا کَرِیمُ فَلَیْسَ ہذَا ظَنُّنا بِکَ وَلاَ ہذَا فِیکَ طَمَعُنَا یَا رَبِّ إنَّ لَنا فِیکَ ٲَمَلاً طَوِیلاً
نہیں اے مہربان تجھ سے ہم یہ گمان نہیں رکھتے اور نہ تجھ سے ہماری یہ خواہش تھی اے پالنے والے ! بے شک تیری بارگاہ سے ہماری
کَثِیراً، إنَّ لَنا فِیکَ رَجائً عَظِیماً، عَصَیْناکَ وَنَحْنُ نَرْجُو ٲَنْ تَسْتُرَ
بہت سی لمبی امیدیں ہیں بے شک ہم تیری بارگاہ سے بڑی بڑی آرزوئیں رکھتے ہیں ہم تیری نا فرمانی کرتے ہیں تو بھی ہمیں آس
وَنَحْنُ عَلَیْنا، وَدَعَوْناکَ نَرْجُو ٲَنْ تَسْتَجِیبَ لَنا، فَحَقِّقْ رَجائَنا مَوْلانا فَقَدْ عَلِمْنا
ہے تو ہماری پردہ پوشی کرے گا اور ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول کرے گا پس اے ہمارے مولا
مَا نَسْتَوْجِبُ بِٲَعْمالِنا وَلکِنْ عِلْمُکَ فِینا وَعِلْمُنا بِٲَ نَّکَ لاَ تَصْرِفُنا عَنْکَ حَثَّنا عَلَی
ہماری امیدیں پوری فرما اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اعمال کی سزا کیا ہے لیکن تیرا علم ہمارے بارے میں ہے اور ہمیںاس کا علم
الرَّغْبَۃِ إلَیْکَ وَ إنْ کُنَّا غَیْرَ مُسْتَوْجِبِینَ لِرَحْمَتِکَ فَٲَ نْتَ ٲَھْلٌ ٲَنْ تَجُودَ عَلَیْنا وَعَلَی
ہے کہ تو ہمیں اپنے ہاں سے پلٹائے گا نہیں چاہے ہم تیری رحمت کے حقدار نہ بھی ہوئے پس تو اس کا اہل ہے کہ ہم پر اور دوسرے
الْمُذْنِبِینَ بِفَضْلِ سَعَتِکَ، فَامْنُنْ عَلَیْنا بِما ٲَ نْتَ ٲَھْلُہُ وَجُدْ عَلَیْنا فَ إنَّا مُحْتاجُونَ
گنہگاروں پر اپنے وسیع تر فضل سے داد و دہش کرے پس ہم پر ایسا احسان فرما کہ جس کا تو اہل ہے اور سخاوت کر کیونکہ ہم تیرے
إلی نَیْلِکَ یَا غَفَّارُ بِنُورِکَ اھْتَدَیْنا وَبِفَضْلِکَ اسْتَغْنَیْنا، وَبِنِعْمَتِکَ ٲَصْبَحْنا وَٲَمْسَیْنا
انعام کے محتاج ہیں اے بخشنے والے تیرے ہی نور سے ہمیں ہدایت ملی تیرے فضل سے ہم مالا مال ہوئے اور تیری نعمت کے ساتھ ہم
ذُ نُوبُنا بَیْنَ یَدَیْکَ نَسْتَغْفِرُکَ اَللّٰھُمَّ مِنْہا وَنَتُوبُ إلَیْکَ، تَتَحَبَّبُ إلَیْنا بِالنِّعَمِ
صبح و شام کرتے ہیں ہمارے گناہ تیرے سامنے ہیں اے اﷲ! ہم تجھ سے ان کی بخشش چاہتے اور تیرے حضور توبہ کرتے ہیں تو
وَنُعارِضُکَ بِالذُّنُوبِ، خَیْرُکَ إلَیْنا نازِلٌ، وَشَرُّنا إلَیْکَ صاعِدٌ
نعمتوں کے ذریعے ہم سے محبت کرتا ہے اور اس کے مقابل ہم تیری نا فرمانی کرتے ہیں تیری بھلائی ہماری طرف آرہی ہے اور
وَلَمْ یَزَلْ وَلاَ یَزالُ مَلَکٌ کَرِیمٌ یَٲْتِیکَ عَنَّا بِعَمَلٍ قَبِیحٍ فَلا یَمْنَعُکَ ذلِکَ مِنْ
ہماری برائی تیری طرف جا رہی ہے تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے عزت والا بادشاہ ہے تیرے پاس ہمارے برے اعمال جاتے ہیں تو بھی تجھے
ٲَنْ تَحُوطَنا بِنِعَمِکَ، وتَتَفَضَّلَ عَلَیْنا بِآلائِکَ، فَسُبْحانَکَ مَا ٲَحْلَمَکَ وَٲَعْظَمَکَ
ہم پر اپنی نعمتوں کی بارش سے روک نہیں سکتے اور تو ہم پر اپنی عطائیں بڑھاتا رہتا ہے پس تو پاک تر ہے تو کیسا بردبار ہے کتنا عظیم ہے
وَٲَکْرَمَکَ مُبْدِئاً وَمُعِیداً تَقَدَّسَتْ ٲَسْماؤُکَ وَجَلَّ ثَناؤُکَ وَکَرُمَ صَنائِعُکَ وَفِعالُکَ
کتنا معزز ہے ابتدائ کرنے اور پلٹانے میں تیرے نام پاک تر ہیں تیری ثنائ بر تر ہے اور تیری نعمتیں اور تیرے کام بلند تر ہیں
ٲَنْتَ إلھِی ٲَوْسَعُ فَضْلاً وَٲَعْظَمُ حِلْماً مِنْ ٲَنْ تُقایِسَنِی بِفِعْلِی وَخَطِیئَتِی،
اے معبود! تو فضل میں وسعت والا اور برد باری میں عظیم تر ہے اس سے کہ تو میرے فعل اور خطا کے بارے میں قیاس کرے
فَالْعَفْوَ الْعَفْوَ الْعَفْوَ، سَیِّدِی سَیِّدِی سَیِّدِی ۔ اَللّٰھُمَّ اشْغَلْنا بِذِکْرِکَ، وَٲَعِذْنا مِنْ
پس معافی دے معافی دے معافی دے میرے سردار میرے سردار میرے سردار اے اﷲ ! ہمیں اپنے ذکر میں مشغول رکھ ہمیں اپنی
سَخَطِکَ وَٲَجِرْنا مِنْ عَذابِکَ وَارْزُقْنا مِنْ مَواھِبِکَ وَٲَنْعِمْ عَلَیْنا مِنْ فَضْلِکَ وَارْزُقْنا
ناراضگی سے پناہ دے ہمیں اپنے عذاب سے امان دے ہمیں اپنی عطاؤں سے رزق دے ہمیں اپنے فضل سے انعام دے ہمیں
حَجَّ بَیْتِکَ وَزِیارَۃَ قَبْرِ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ وَرَحْمَتُکَ وَمَغْفِرَتُکَ وَرِضْوانُکَ عَلَیْہِ
اپنے گھر ﴿کعبہ﴾ کا حج نصیب فرما اور ہمیں اپنے نبی(ص) کے روضہ کی زیارت کرا تیرا درود تیری رحمت تیری بخشش اور تیری رضا ہو
وَعَلَی ٲَھْلِبَیْتِہِ إنَّکَ قَرِیبٌ مُجِیبٌ، وَارْزُقْنا عَمَلاً بِطاعَتِکَ وَتَوَفَّنا عَلَی مِلَّتِکَ وَسُنَّۃِ
تیرے نبی(ص) کیلئے اور ان کے اہل بیت(ع) کیلئے بے شک تو نزدیک تر قبول کرنے والا ہے اور ہمیں اپنی عبادت بجا لانے کی توفیق دے
نَبِیِّکَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی
ہمیں اپنی ملت اور اپنے نبی کی سنت پر موت دے ان(ص) پر اور ان کی آل (ع) پرخدا تعالیٰ کی رحمت ہو اے معبود! مجھے بخش دے اور
وَ لِوالِدَیَّ وَارْحَمْھُما کَما رَبَّیانِی صَغِیراً اجْزِھِما بِالْاِحْسانِ إحْساناً وَبِالسَّیِّئاتِ
میرے ماں باپ کو بھی اور دونوں پر رحم کر جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا اے اﷲ! انہیں احسان کا بدلہ احسان اور گناہوں کے بدلے
غُفْراناً ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ الْاَحْیائِ مِنْھُمْ وَالْاَمْواتِ وَتابِعْ بَیْنَنا
بخشش عطا فرما اے معبود! بخش دے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو جو ان میں زندہ اور مردہ ہیں سبھی کو بخش دے اور ان کے اور
وَبَیْنَھُمْ بِالْخَیْراتِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنا وَمَیِّتِنا وَشاھِدِنا وَغائِبِنا ذَکَرِنا وَٲُ نْثانا
ہمارے درمیان نیکیوں کے ذریعے تعلق بنادے اے معبود! بخش دے ہمارے زندہ، مردہ، حاضر، غائب اور مرد و عورت،
صَغِیرِنا وَکَبِیرِنا، حُرِّنا وَمَمْلُوکِنا، کَذَبَ الْعادِلُونَ بِاﷲِ وَضَلُّوا ضَلالاً بَعِیداً
خورد و بزرگ اور ہمارے آزاد اور غلام سبھی کو بخش دے، خدا سے پھر جانے والے جھوٹے ہیں وہ گمراہ گمراہی میں دور نکل گئے ہیں
وَخَسِرُوا خُسْراناً مُبِیناً ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاخْتِمْ لِی بِخَیْرٍ،
اور وہ نقصان اٹھانے والے ہیں کھلا نقصان اے معبود! حضرت محمد(ص) اور آل محمد(ص) پر رحمت فرما اور میرا خاتمہ بخیر فرما
وَاکْفِنِی مَا ٲَھَمَّنِی مِنْ ٲَمْرِ دُنْیایَ وَآخِرَتِی، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیَّ مَنْ لاَ یَرْحَمُنِی،
اور دنیا و آخرت میں میرے اہم کاموں میں میری حمایت فرما اور مجھ پر اسے مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے
وَاجْعَلْ عَلَیَّ مِنْکَ واقِیَۃً باقِیَۃً، وَلاَ تَسْلُبْنِی صالِحَ مَا ٲَ نْعَمْتَ بِہِ عَلَیَّ، وَارْزُقْنِی
اور میرے لئے اپنی طرف سے باقی رہنے والا نگہبان قرار دے اپنی دی ہوئی اچھی نعمتیں مجھ سے چھین نہ لے اور
مِنْ فَضْلِکَ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَیِّباً اَللّٰھُمَّ احْرُسْنِی بِحَراسَتِکَ وَاحْفَظْنِی بِحِفْظِکَ
مجھے اپنے فضل سے روزی عطا کر جو کشادہ حلال اور پاک ہو اے معبود! مجھے اپنی پاسداری میں زیر نگاہ رکھ اور اپنی حفاظت میں محفوظ
وَاکْلاََْنِی بِکَلائَتِکَ، وَارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِنا ہذَا وَفِی کُلِّ عامٍ وَزِیارَۃَ
فرما اپنی حمایت میں مجھے امان دے اور مجھے ہمارے اس سال اور آیندہ سالوں میں بھی اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج نصیب فرما اور
قَبْرِ نَبِیِّکَ وَالْاَئِمَّۃِ عَلَیْھِمُ اَلسَّلاَمُ، وَلا تُخْلِنِی یَا رَبِّ مِنْ تِلْکَ الْمَشاھِدِ الشَّرِیفَۃِ
اپنے نبی (ص) و ائمہ (ع)کے مزاروں کی زیارت نصیب فرما کہ ان سب پر سلام ہو اے پروردگار! ان بلند مرتبہ بارگاہوں اور ان با برکت
وَالْمَواقِفِ الْکَرِیمَۃِ ۔ اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیَّ حَتَّی لاَ ٲَعْصِیَکَ، وَٲَ لْھِمْنِی الْخَیْرَ وَالْعَمَلَ بِہِ
مقامات سے مجھے بر کنار نہ رکھ اے معبود! مجھے ایسی توبہ کی توفیق دے کہ پھر تیری نا فرمانی نہ کروں میرے دل میں نیکی و عمل کا جذبہ
وَخَشْیَتَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہارِ مَا ٲَبْقَیْتَنِی یَا رَبَّ الْعالَمِینَ ۔ اَللّٰھُمَّ
ابھار دے اور جب تک مجھے زندہ رکھے دن رات اپنا خوف میرے قلب میں ڈالے رکھ اے جہانوں کے پالنے والے اے معبود!
إنِّی کُلَّما قُلْتُ قَدْ تَھَیَّٲْتُ وَتَعَبَّٲْتُ وَقُمْتُ لِلصَّلاۃِ بَیْنَ یَدَیْکَ وَناجَیْتُکَ ٲَ لْقَیْتَ عَلَیَّ
جب بھی میں کہتا ہوں کہ میں آمادہ و تیار ہوں اور تیرے حضور نماز گزار نے کو کھڑا ہوتا ہوں اور تجھ سے مناجات کرتا ہوں تو مجھے اونگھ
نُعاساً إذا ٲَنَا صَلَّیْتُ، وَسَلَبْتَنِی مُناجاتَکَ إذا ٲَ نَا ناجَیْتُ، مالِی کُلَّما
آلیتی ہے جب کہ میں نماز میں ہوتا ہوں اور جب میں تجھ سے راز و نیاز کرنے لگوں تو اس حال میں بر قرار نہیں رہتا مجھے کیا ہوگیا
قُلْتُ قَدْ صَلُحَتْ سَرِیرَتِی وَقَرُبَ مِنْ مَجالِسِ التَّوَّابِینَ مَجْلِسِی عَرَضَتْ لِی بَلِیَّۃٌ
میں کہتا ہوں کہ میرا باطن صاف ہے میں توبہ کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہوں ایسے میں کوئی آفت آپڑتی ہے
ٲَزالَتْ قَدَمِی وَحالَتْ بَیْنِی وَبَیْنَ خِدْمَتِکَ سَیِّدِی لَعَلَّکَ عَنْ بابِکَ
جس سے میرے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور میرے اور تیری حضوری کے درمیان کوئی چیز آڑ بن جاتی ہے میرے سردار ! شاید کہ تو نے
طَرَدْتَنِی، وَعَنْ خِدْمَتِکَ نَحَّیْتَنِی، ٲَوْ لَعَلَّکَ رَٲَیْتَنِی مُسْتَخِفّاً بِحَقِّکَ فَٲَ قْصَیْتَنِی،
مجھے اپنی بارگاہ سے ہٹا دیا ہے اور اپنی خدمت سے دور کر دیا ہے یا شاید تو دیکھتا ہے کہ میں تیرے حق کو سبک سمجھتا ہوں پس مجھے ایک
ٲَوْ لَعَلَّکَ رَٲَیْتَنِی مُعْرِضاً عَنْکَ فَقَلَیْتَنِی ٲَوْ لَعَلَّکَ وَجَدْتَنِی فِی مَقامِ الْکاذِبِینَ
طرف کردیا یا شاید تو نے دیکھا کہ میں تجھ سے روگرداں ہوں تو مجھے برا سمجھ لیا یا شاید تو نے دیکھا کہ میں جھوٹوں میں سے ہوں تو مجھے
فَرَفَضْتَنِی ٲَوْ لَعَلَّکَ رَٲَیْتَنِی غَیْرَ شاکِرٍ لِنَعْمائِکَ فَحَرَمْتَنِی، ٲَوْ لَعَلَّکَ فَقَدْتَنِی مِنْ
میرے حال پر چھوڑ دیا یا شاید تو دیکھتا ہے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا تو مجھے محروم کر دیا یا شاید کہ تو نے مجھے علمائ کی
مَجالِسِ الْعُلَمائِ فَخَذَلْتَنِی ٲَوْ لَعَلَّکَ رَٲَیْتَنِی فِی الْغافِلِینَ فَمِنْ رَحْمَتِکَ آیَسْتَنِی، ٲَوْ
مجالس میں نہیں پایا تو اس بنا پر مجھے ذلیل کر دیا ہے یا شاید تو نے مجھے غافل دیکھا تو اس پر مجھے اپنی رحمت سے مایوس کردیا ہے یا شاید
لَعَلَّکَ رَٲَیْتَنِی آلِفَ مَجالِسِ الْبَطَّالِینَ فَبَیْنِی وَبَیْنَھُمْ خَلَّیْتَنِی، ٲَوْ لَعَلَّکَ لَمْ تُحِبَّ
تو نے مجھے بے کار باتیں کرنے والوں میں دیکھا تو مجھے انہیں میں رہنے دیا یا شاید تو میری دعا
ٲَنْ تَسْمَعَ دُعائِی فَباعَدْتَنِی، ٲَوْ لَعَلَّکَ بِجُرْمِی وَجَرِیرَتِی کافَیْتَنِی، ٲَوْ لَعَلَّکَ بِقِلَّۃِ
کو سننا پسند نہیں کیا تو مجھے دورکر دیا یا شاید تو نے مجھے میرے جرم اور گناہ کا بدلہ دیا ہے یا شاید میں نے تجھ سے
حَیائِی مِنْکَ جازَیْتَنِی، فَ إنْ عَفَوْتَ یَا رَبِّ فَطالَمَا عَفَوْتَ عَنِ الْمُذْنِبِینَ قَبْلِی لاََِنَّ
حیا کرنے میں کمی کی تو مجھے یہ سزا ملی ہے پس اے پروردگار! مجھے معاف کردے کہ مجھ سے پہلے تونے بہت سے گناہگاروں کو معاف
کَرَمَکَ ٲَیْ رَبِّ یَجِلُّ عَنْ مُکافاۃِ الْمُقَصِّرِینَ، وَٲَ نَا عائِذٌ بِفَضْلِکَ، ہارِبٌ
فرمایا ہے اس لئے کہ اے پالنے والے تیری بخشش کوتاہی کرنے والوں کی سزا سے بزرگترہے اور میں تیرے فضل کی پناہ لے رہا
مِنْکَ إلَیْکَ، مُتَنَجِّزٌ مَا وَعَدْتَ مِنَ الصَّفْحِ عَمَّنْ ٲَحْسَنَ بِکَ ظَنّاً ۔
ہوں اور تجھ سے تیری ہی طرف بھاگا ہوں تیرے وعدے کی وفا چاہتا ہوں کہ جو تجھ سے اچھا گمان رکھتا ہے اسے معاف کردے
إلھِی ٲَ نْتَ ٲَوْسَعُ فَضْلاً، وَٲَعْظَمُ حِلْماً مِنْ ٲَنْ تُقایِسَنِی بِعَمَلِی، ٲَوْ ٲَنْ تَسْتَزِلَّنِی
میرے معبود! تیرا فضل وسیع تر اور تیری بردباری عظیم تر ہے اس سے کہ تو مجھے میرے عمل کے ساتھ تولے یا میرے گناہ کے باعث
بِخَطِیئَتِی، وَمَا ٲَ نَا یَا سَیِّدِی وَمَا خَطَرِی ھَبْنِی بِفَضْلِکَ سَیِّدِی وَتَصَدَّقْ عَلَیَّ
مجھے گرادے اور اے میرے آقا ! میں کیا اور میری اوقات کیا مجھے اپنے فضل سے بخش دے میرے سردار اور اپنے عفو کے صدقے
بِعَفْوِکَ، وَجَلِّلْنِی بِسَِتْرِکَ، وَاعْفُ عَنْ تَوْبِیخِی بِکَرَمِ وَجْھِکَ، سَیِّدِی ٲَ نَا الصَّغِیرُ
میں مجھے اپنے پردے میں لے لے اور اپنے خاص کرم سے مجھے سرزنش سے معاف رکھ میرے سردار ! میں وہی بچہ ہوں
الَّذِی رَبَّیْتَہُ، وَٲَنَا الْجاھِلُ الَّذِی عَلَّمْتَہُ، وَٲَنَا الضَّالُّ الَّذِی ھَدَیْتَہُ، وَٲَ نَا الْوَضِیعُ
جسے تو نے پالا میں وہی کورا ہوں جسے تو نے علم دیا میں وہی گمراہ ہوں جسے تو نے راہ دکھائی میں وہ پست ہوں جسے تو نے بلند کیا
الَّذِی رَفَعْتَہُ، وَٲَ نَا الْخائِفُ الَّذِی آمَنْتَہُ ، وَالْجائِعُ الَّذِی ٲَشْبَعْتَہُ، وَالْعَطْشانُ
میں وہ خوف زدہ ہوں جسے تو نے امن دیا میں بھوکا ہوں جسے تو نے سیر کیا اور وہ پیاسا ہوں جسے تو نے
الَّذِی ٲَرْوَیْتَہُ، وَالْعارِی الَّذِی کَسَوْتَہُ، وَالْفَقِیرُ الَّذِی ٲَغْنَیْتَہُ، وَالضَّعِیفُ الَّذِی
سیراب کیا میں وہ عریاں ہوں جسے تو نے لباس دیا میں وہ محتاج ہوں جسے تونے غنی بنایا میں وہ کمزور ہوں جسے تو نے قوت
قَوَّیْتَہُ، وَالذَّلِیلُ الَّذِی ٲَعْزَزْتَہُ، وَالسَّقِیمُ الَّذِی شَفَیْتَہُ، وَالسَّائِلُ الَّذِی
بخشی میں وہ پست ہوں جسے تو نے عزت عطا فرمائی میں وہ بیمار ہوں جسے تو نے صحت عطا فرمائی میں وہ سائل ہوں جسے تو نے بہت
ٲَعْطَیْتَہُ، وَالْمُذْنِبُ الَّذِی سَتَرْتَہُ، وَالْخاطِیَُ الَّذِی ٲَ قَلْتَہُ، وَٲَ نَا الْقَلِیلُ الَّذِی
کچھ عطا کیا میں وہ گناہگار ہوں جسے تو نے ڈھانپ لیا میں وہ خطاکار ہوں جسے تو نے معاف کیا میں وہ کمتر ہوں جسے تو نے
کَثَّرْتَہُ، وَالْمُسْتَضْعَفُ الَّذِی نَصَرْتَہُ، وَٲَ نَا الطَّرِیدُ الَّذِی آوَیْتَہُ، ٲَ نَا یَا رَبِّ الَّذِی
بڑھا دیا ہے میں وہ کمزور ہوں جس کی تونے مدد کی اور میں وہ نکالا ہوا ہوں جسے تو نے پناہ دی اے پرودگار میں وہی ہوں
لَمْ ٲَسْتَحْیِکَ فِی الْخَلائِ، وَلَمْ ٲُراقِبْکَ فِی الْمَلائِ، ٲَ نَا صاحِبُ الدَّواھِی الْعُظْمی،
جس نے خلوت میں تجھ سے حیا نہیں کی اور جلوت میں تیرا لحاظ نہیں رکھا میں بہت بھاری مصیبتوں والا ہوں میں وہ ہوں
ٲَنَا الَّذِی عَلَی سَیِّدِھِ اجْتَرٲَ، ٲَ نَا الَّذِی عَصَیْتُ جَبَّارَ السَّمائِ، ٲَ نَا الَّذِی ٲَعْطَیْتُ
جس نے اپنے سردار پر جرأت کی میں وہ ہوں جس نے اس کی نافرمانی کی جو آسمانوں پر مسلط ہے میں وہ ہوں جس نے رب
عَلَی مَعاصِی الْجَلِیلِ الرُّشی، ٲَ نَا الَّذِی حِینَ بُشِّرْتُ بِہا خَرَجْتُ إلَیْہا ٲَسْعی،
جلیل کی نا فرمانی کیلئے رشوت دی میں وہ ہوں جب مجھے اس کی خوشخبری ملی تو میں دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا
ٲَنَا الَّذِی ٲَمْھَلْتَنِی فَمَا ارْعَوَیْتُ، وَسَتَرْتَ عَلَیَّ فَمَا اسْتَحْیَیْتُ، وَعَمِلْتُ بِالْمَعاصِی
میں وہ ہوں جسے تو نے ڈھیل دی تو ہوش میں نہ آیا اور تونے میری پردہ پوشی کی تو میں نے حیا سے کام نہ لیا اور گناہوں میں حد سے گزر گیا
فَتَعَدَّیْتُ، وَٲَسْقَطْتَنِی مِنْ عَیْنِکَ فَما بالَیْتُ، فَبِحِلْمِکَ ٲَمْھَلْتَنِی، وَبِسِتْرِکَ سَتَرْتَنِی
تو نے مجھے نظروں سے گرایا تو میں نے کچھ پروا نہیں کی پس تو نے اپنی نرمی سے مجھے ڈھیل دی اور اپنے حجاب سے میری پردہ پوشی کی
حَتَّی کَٲَ نَّکَ ٲَغْفَلْتَنِی، وَمِنْ عُقُوباتِ الْمَعاصِی جَنَّبْتَنِی حَتَّی کَٲَ نَّکَ اسْتَحْیَیْتَنِی ۔
جیساکہ تو میری طرف سے بے خبر ہے تو نے مجھے نا فرمانیوں کی سزاؤں سے بر کنار رکھا گویا تو مجھ سے شرم کھاتاہے
إلھِی لَمْ ٲَعْصِکَ حِینَ عَصَیْتُکَ وَٲَ نَا بِرُبُوبِیَّتِکَ جاحِدٌ، وَلاَ بِٲَمْرِکَ مُسْتَخِفٌّ،
میرے معبود! جب میں نے تیری نا فرمانی کی تو وہ اس لئے نہیں کی کہ میں تیری پرودگاری سے انکاری تھا یا تیرے حکم کو سبک سمجھ رہا تھا
وَلاَ لِعُقُوبَتِکَ مُتَعَرِّضٌ، وَلاَ لِوَعِیدِکَ مُتَہاوِنٌ، لَکِنْ خَطِیئَۃٌ عَرَضَتْ وَسَوَّلَتْ لِی
یا خود کو تیرے عذاب کیطرف کھینچ رہا تھا یا تیرے ڈراوے کو کمتر سمجھتا تھا بلکہ حقیقت یہ تھی کہ خطایوں ابھری کہ میرے نفس نے میرے لئے
نَفْسِی، وَغَلَبَنِی ھَوایَ، وَٲَعانَنِی عَلَیْہا شِقْوَتِی، وَغَرَّنِی سِتْرُکَ الْمُرْخی عَلَیَّ،
مزین کر دیا تھا میری خواہش مجھ پر غالب آگئی تھی میری بدبختی نے اس پر میرا ساتھ دیا تیری پردہ پوشی نے مجھے مغرور کردیا
فَقَدْ عَصَیْتُکَ وَخالَفْتُکَ بِجُھْدِی، فَالاَْنَ مِنْ عَذابِکَ مَنْ یَسْتَنْقِذُنِی وَمِنْ ٲَیْدِی
یوں میں تیری نافرمانی اور تیرے حکم کی مخالفت میںکوشاں ہوا پس اب مجھے تیرے عذاب سے کون رہائی دے گا کل کو مجھے دشمنوں
الْخُصَمائِ غَداً مَنْ یُخَلِّصُنِی وَبِحَبْلِ مَنْ ٲَتَّصِلُ إنْ ٲَنْتَ قَطَعْتَ حَبْلَکَ عَنِّی
کے ہاتھوں سے کون چھڑائے گا اور اگر تو نے اپنی رسی مجھ سے کاٹ دی تو پھر میں کس کی رسی کو تھاموں گا ہائے افسوس کہ تیری کتاب
فَوا سَوْٲَتا عَلَی مَا ٲَحْصی کِتابُکَ مِنْ عَمَلِی الَّذِی لَوْلا مَا ٲَرْجُو مِنْ کَرَمِکَ وَسَعَۃِ
میں میرے ایسے ایسے اعمال درج ہوگئے کہ اگر میں تیرے فضل و کرم اور تیری وسیع رحمت کا
رَحْمَتِکَ وَنَھْیِکَ إیَّایَ عَنِ الْقُنُوطِ لَقَنَطْتُ عِنْدَما ٲَ تَذَکَّرُہا، یَا خَیْرَ مَنْ دَعاھُ
امید وار نہ ہوتا اور نا امیدی سے تیری ممانعت کو نہ جانتا تو جب میں اپنے اعمال کو یاد کرتا تو ضرور ناامیدہوجاتا اے پکارے جانے
داعٍ، وَٲَفْضَلَ مَنْ رَجاھُ راجٍ ۔ اَللّٰھُمَّ بِذِمَّۃِ الْاِسْلامِ ٲَ تَوَسَّلُ إلَیْکَ، وَبِحُرْمَۃِ
والوں میں بہترین اور امید کئے جانے والوں میں برتر اے معبود! میں اسلام کی پناہ میں تجھ کو اپنا وسیلہ بناتا ہوں احترام قرآن
الْقُرْآنِ ٲَعْتَمِدُ عَلَیْکَ، وَبِحُبِّی النَّبِیَّ الاَُْمِّیَّ الْقُرَشِیَّ الْہاشِمِیَّ الْعَرَبِیَّ التِّہامِیَّ
کے ساتھ مجھے تجھ پر بھروسہ ہے اور میں تیرے نبی(ص) امی قرشی ہاشمی عربی تہامی
الْمَکِّیَّ الْمَدَنِیَّ ٲَرْجُو الزُّلْفَۃَ لَدَیْکَ، فَلا تُوحِشْ اسْتِیناسَ إیمانِی، وَلاَ تَجْعَلْ
مکی مدنی سے محبت کے واسطے سے تیرے تقرب کا امیدوار ہوں پس میری اس ایمانی انسیت کو وحشت میں نہ ڈال اور میرے
ثَوابِی ثَوابَ مَنْ عَبَدَ سِواکَ، فَ إنَّ قَوْماً آمَنُوا بِٲَ لْسِنَتِھِمْ لِیَحْقِنُوا بِہِ دِمائَھُمْ
ثواب کو اپنے غیر کے عبادت گزار کا ثواب قرار نہ دے کیونکہ ایک گروہ زبانی کلامی مومن ہے تاکہ اس کے ذریعے ان کا خون محفوظ
فَٲَدْرَکُوا مَا ٲَمَّلُوا، وَ إنَّا آمَنَّا بِکَ بِٲَ لْسِنَتِنا وَقُلُوبِنا لِتَعْفُوَ عَنَّا فَٲَدْرِکْنا
رہے تو انہوں نے اپنا مقصد پالیا لیکن ہم تجھ پر اپنی زبانوں اور دلوں سے ایمان لائے ہیں تاکہ تو ہمیں معاف کردیے پس ہماری
مَا ٲَمَّلْنا، وَثَبِّتْ رَجائَکَ فِی صُدُورِنا، وَلاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا،
امید پوری فرما اور اپنی آرزو ہمارے سینوں میں بسادے اور ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اس کے بعد کہ جب تونے ہمیں ہدایت دی
وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ ٲَ نْتَ الْوَہَّابُ، فَوَعِزَّتِکَ لَوِ انْتَھَرْتَنِی مَا بَرِحْتُ
ہے اور اپنی طرف سے ہم پر رحمت فرما کہ بے شک تو بہت دینے والا ہے پس قسم ہے تیری عزت کی کہ اگر تو مجھے جھڑک دے تو بھی
مِنْ بابِکَ، وَلاَ کَفَفْتُ عَنْ تَمَلُّقِکَ لِما ٲُ لْھِمَ قَلْبِی مِنَ الْمَعْرِفَۃِ بِکَرَمِکَ
میں تیری بارگاہ سے نہ ہٹوں گا اور تیری توصیف کرنے سے زبان نہ روکوں گا کیونکہ میرا دل تیرے فضل و کرم اور تیری وسیع رحمت کی
وَسَعَۃِ رَحْمَتِکَ، إلی مَنْ یَذْھَبُ الْعَبْدُ إلاَّ إلی مَوْلاھُ، وَ إلی مَنْ یَلْتَجِیَُ الْمَخْلُوقُ
معرفت سے بھرا ہوا ہے تو غلام اپنے مولا و آقا کے سوا کس کی طرف جا سکتا ہے اور مخلوق کو اپنے خالق کے
إلاَّ إلی خالِقِہِ ۔ إلھِی لَوْ قَرَنْتَنِی بِالْاَصْفادِ، وَمَنَعْتَنِی سَیْبَکَ مِنْ بَیْنِ الْاَشْہادِ،
علاوہ کہاں پناہ مل سکتی ہے میرے اﷲ! اگر تونے مجھے زنجیروں میں جکڑ دیا اور دیکھتی آنکھوں مجھ سے اپنا فیض روک دیا
وَدَلَلْتَ عَلَی فَضائِحِی عُیُونَ الْعِبادِ، وَٲَمَرْتَ بِی إلَی النَّارِ، وَحُلْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ
اور لوگوں کے سامنے میری رسوائیاں عیاں کر دیں اور میرے جہنم کا حکم صادر کر دیا اور تو میرے اور نیک لوگوں کے درمیان حائل ہو
الْاَبْرارِ مَا قَطَعْتُ رَجائِی مِنْکَ وَمَا صَرَفْتُ تَٲْمِیلِی لِلْعَفْوِ عَنْکَ وَلاَ خَرَجَ حُبُّکَ مِنْ
جائے تو بھی میں تجھ سے امید نہ توڑوں گا تجھ سے عفو درگزر کی امید رکھنے سے باز نہ آؤں گا اور میرے دل سے تیری محبت
قَلْبِی، ٲَ نَا لاَ ٲَ نْسی ٲَیادِیَکَ عِنْدِی، وَسَِتْرَکَ عَلَیَّ فِی دارِ الدُّنْیا، سَیِّدِی ٲَخْرِجْ
ختم نہ ہوگی میں دنیا میں دی گئی تیری نعمتوں اور گناہوں پر تیری پردہ پوشی کو ہرگز نہیں بھول سکتا میرے آقا ! میرے دل
حُبَّ الدُّنْیا مِنْ قَلْبِی وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمُصْطَفی وَآلِہِ خِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ وَخاتَمِ
سے دنیا کی محبت نکال دے اور مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بہتر نبیوں کے خاتم
النَّبِیِّینَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَانْقُلْنِی إلی دَرَجَۃِ التَّوْبَۃِ إلَیْکَ، وَٲَعِنِّی
محمد مصطفی اور ان کی آل(ع) کے قرب میں جگہ عنایت فرما اور مجھے اپنے حضور توبہ کے مقام کی طرف پلٹا دے اور مجھے خود اپنے
بِالْبُکائِ عَلَی نَفْسِی فَقَدْ ٲَفْنَیْتُ بِالتَّسْوِیفِ وَالاَْمالِ عُمْرِی، وَقَدْ نَزَلْتُ مَنْزِلَۃَ
آپ پر رونے کی توفیق دے کیونکہ میں نے اپنی عمر ٹال مٹول اور جھوٹی آرزوؤں میں گنوا دی اور اب میں اپنی بہبودی سے
الاَْیِسِینَ مِنْ خَیْرِی فَمَنْ یَکُونُ ٲَسْوَٲَ حالاً مِنِّی إنْ ٲَنَا نُقِلْتُ عَلَی مِثْلِ حالِی إلی
مایوس ہو جانے کو ہوں تو مجھ سے برا حال اور کس کا ہوگااگر میں اسی حال کے ساتھ ہی اپنی قبر میں اتار دیا
قَبْرٍ لَمْ ٲُمَہِّدْھُ لِرَقْدَتِی، وَلَمْ ٲَ فْرُشْہُ بِالْعَمَلِ الصَّالِحِ لِضَجْعَتِی وَمَا لِی لاَ ٲَبْکِی
جاؤں جب کہ میں نے قبر کیلئے کچھ سامان نہیں کیا اور نیک اعمال کا بستر نہیں بچھایا کہ آرام پاؤں ایسے میں کیوں زاری نہ کروں
وَلاَ ٲَدْرِی إلی مَا یَکُونُ مَصِیرِی، وَٲَری نَفْسِی تُخادِعُنِی، وَٲَیَّامِی تُخاتِلُنِی
کہ مجھے نہیں معلوم میرا نجام کیا ہوگا میں دیکھتا ہوں کہ نفس مجھے دھوکہ دیتا ہے اور حالات مجھے فریب دیتے ہیں
وَقَدْ خَفَقَتْ عِنْدَ رَٲْسِی ٲَجْنِحَۃُ الْمَوْتِ فَما لِی لاَ ٲَبْکِی ٲَبْکِی لِخُرُوجِ نَفْسِی،
اور اب موت نے میرے سر پر اپنے پر آن پھیلائے ہیں تو کیسے گریہ نہ کروں میں جان کے نکل جانے پر گریہ کرتا ہوں
ٲَبْکِی لِظُلْمَۃِ قَبْرِی، ٲَبْکِی لِضِیقِ لَحْدِی، ٲَبْکِی لِسُؤالِ مُنْکَرٍ وَنَکِیرٍ إیَّایَ، ٲَبْکِی
قبر کی تاریکی اور اس کے پہلو کی تنگی پر گریہ کرتا ہوں منکر نکیر کے سوالات کے ڈر سے گریہ کرتا ہوں خاص کر اس لئے
لِخُرُوجِی مِنْ قَبْرِی عُرْیاناً ذَلِیلاً حامِلاً ثِقْلِی عَلَی ظَھْرِی ٲَ نْظُرُ مَرَّۃً عَنْ یَمِینِی
گریہ کرتا ہوں کہ مجھے قبر سے اٹھنا ہے کہ عریانی وخواری کے ساتھ اپنے گناہوں کا بار لئے ہوئے دائیں بائیں دیکھوں گا جب
وَٲُخْری عَنْ شِمالِی إذِ الْخَلائِقُ فِی شَٲْنٍ غَیْرِ شَٲْنِی، لِکُلِّ امْرِیٍَ مِنْھُمْ یَوْمَئِذٍ
دوسرے لوگ ایسے حال میں ہوں گے جو میرے حال سے مختلف ہوگا ان میں سے ہر شخص دوسروں سے بے خبر اپنے حال میں
شَٲْنٌ یُغْنِیہِ، وُجُوہٌ یَوْمَیِذٍ مُسْفِرَۃٌ ضاحِکَۃٌ مُسْتَبْشِرَۃٌ، وَوُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْہا
مگن ہوگا اس روز بعض چہرے کشادہ خنداں اور خوش ہوں گے اور بعض چہرے ایسے ہوں گے جن پر گرد و غبار
غَبَرَۃٌ تَرْھَقُہا قَتَرَۃٌ وَذِلَّۃٌ، سَیِّدِی عَلَیْکَ مُعَوَّلِی وَمُعْتَمَدِی وَرَجائِی وَتَوَکُّلِی،
اور تنگی و ذلت کا غلبہ ہوگا میرے سردار تو ہی میرا سہارا ہے تو ہی میری ٹیک ہے تو ہی میری امید گاہ ہے تجھی پر مجھے بھروسہ ہے
وَبِرَحْمَتِکَ تَعَلُّقِی تُصِیبُ بِرَحْمَتِکَ مَنْ تَشائُ وَتَھْدِی بِکَرامَتِکَ مَنْ تُحِبُّ، فَلَکَ
اور تیری رحمت سے تعلق ہے تو جسے چاہے رحمت سے نوازتا ہے اور جسے تو پسند کرے اس کو اپنی مہربانی کی راہ دکھاتا ہے پس حمد
الْحَمْدُ عَلَی مَا نَقَّیْتَ مِنَ الشِّرْکِ قَلْبِی، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی بَس
دعا سحر یا عُدَتِیْ
شیخ نے فرمایا ہے کہ سحری کے وقت یہ دعا بھی پڑھے:
یَا عُدَّتِی فِی کُرْبَتِی، وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی وَیَا غایَتِی
اے وقت مصیبت میری پونجی اے تنگی کے ہنگام میرے ہمدم اے نعمت دینے میں میرے سرپرست اور اے میری رغبت کے مرکز تو
فِی رَغْبَتِی ٲَنْتَ السّاتِرُ عَوْرَتِی وَالْمُؤْمِنُ رَوْعَتِی وَالْمُقِیلُ عَثْرَتِی فَاغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی
ہی ہے میری برائی کو چھپانے والا خوف سے امن دینے والا میری خطا سے درگزر کرنے والا پس میرے گناہ بخش دے
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ خُشُوعَ الْاِیمانِ قَبْلَ خُشُوعِ الذُلِّ فِی النَّارِ، یَا واحِدُ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں حالت ایمان میں زاری کا اس سے پہلے کہ میں جہنم کی ذلت میں پڑا فریاد کروں اے یگانہ
یَا ٲَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ، یَا مَنْ یُعْطِی مَنْ
اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے اے وہ جو اپنی مہربانی اور رحمت
سَٲَلَہُ تَحَنُّناً مِنْہُ وَرَحْمَۃً، وَیَبْتَدِیَ بِالْخَیْرِ مَنْ لَمْ یَسْٲَلْہُ تَفَضُّلاً مِنْہُ وَکَرَماً،
سے ہر سائل کو عطا کرتا ہے اور اپنے فضل وکرم سے اس کو بھی بھلائی سے نوازتا ہے جو سوال نہ کرے
بِکَرَمِکَ الدَّائِمِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَھَبْ لِی رَحْمَۃً واسِعَۃً جامِعَۃً ٲَبْلُغُ
اپنے ہمیشگی والے کرم کے واسطے سے محمد(ص) اور آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو ہر پہلو سے کشادہ رحمت سے بہرہ مند فرما کہ جس سے
بِہا خَیْرَ الدُّنْیا وَالاْخِرَۃِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْتَغْفِرُکَ لِما تُبْتُ إلَیْکَ مِنْہُ ثُمَّ عُدْتُ فِیہِ،
میں دنیا اور آخرت کی بہتری حاصل کرپاؤں اے اللہ! میں اس فعل کی معافی چاہتا ہوں جس سے میں نے تیرے حضور توبہ کی اور
وَٲَسْتَغْفِرُکَ لِکُلِّ خَیْرٍ ٲَرَدْتُ بِہِ وَجْھَکَ فَخالَطَنِی فِیہِ مَا
اور پھر وہی فعل کر گزرا اور میں بخشش چاہتا ہوں اس عمل پر جو میں نے خاص تیرے لیے کرنے کا ارادہ کیا اور پھر اس میں تیرے غیر
لَیْسَ لَکَ ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاعْفُ عَنْ ظُلْمِی وَجُرْمِی بِحِلْمِکَ
کو بھی شامل کرلیا اے معبود! حضرت محمد(ص) اور آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور معاف کردے میری بے انصافی اور برائی کو اپنے حلم اور
وَجُودِکَ یَا کَرِیمُ، یَا مَنْ لاَ یَخِیبُ سائِلُہُ، وَلاَ یَنْفَدُ نائِلُہُ، یَا مَنْ عَلا فَلا شَیْئَ
بخشش سے اے مہربان، اے وہ جس کا سائل ناامید نہیں ہوتا اور جس کی عطا کم نہیں ہوتی اے وہ جو بلند ہے جس کے اوپر کوئی چیز
فَوْقَہُ، وَدَنا فَلا شَیْئَ دُونَہُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی یَا فالِقَ الْبَحْرِ
نہیں اور اے قریب جس کے تحت کوئی چیز نہیں حضرت محمد(ص) اور آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور رحم فرما مجھ پر اے موسیٰ(ع) کے لیے دریا کو
لِمُوسَی، اللَّیْلَۃَ اللَّیْلَۃَ اللَّیْلَۃَ، السّاعَۃَ السّاعَۃَ السّاعَۃَ ۔ اَللّٰھُمَّ طَہِّرْ قَلْبِی مِنَ
چیر دینے والے رحم کر اسی رات، اسی رات، اسی رات، اسی گھڑی، اسی گھڑی، اسی گھڑی اے معبود! پاک کردے میرے دل کو نفاق
النِّفاقِ، وَعَمَلِی مِنَ الرِّیائِ، وَ لِسانِی مِنَ الکَذِبِ، وَعَیْنِی مِنَ الْخِیانَۃِ، فَ إنَّکَ تَعْلَمُ
سے میرے عمل کو دکھاوے سے میری زبان کو جھوٹ بولنے سے اور میری آنکھ کو بری نظر خیانت سے کیونکہ تو جانتا ہے آنکھوں کی
خائِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، یَا رَبِّ ہذَا مَقامُ الْعائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ، ہذَا مَقامُ
خیانت اور دل میں پوشیدہ باتوں کو اے پالنے والے یہ ہے جہنم سے تیری پناہ مانگنے والے کا مقام یہ ہے دوزخ سے تیری امان
الْمُسْتَجِیرِ بِکَ مِنَ النَّارِ ہذَا مَقامُ الْمُسْتَغِیثِ بِکَ مِنَ النَّارِ ہذَا مَقامُ الْہارِبِ إلَیْکَ
چاہنے والے کا مقام یہ ہے آگ سے بچنے میں تیری مدد کے طلب گار کا مقام، یہ ہے آگ سے تیری طرف بھاگ
مِنَ النَّارِ ، ہذَا مَقامُ مَنْ یَبُوئُ لَکَ بِخَطِیئَتِہِ، وَیَعْتَرِفُ بِذَ نْبِہِ، وَیَتُوبُ إلی رَبِّہِ
آنے والے کا مقام، یہ خطاؤں کا بار لے کر تیرے پاس آنے والے اپنے گناہوں کا اقرار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف لوٹنے والے
ہذَا مَقامُ الْبائِسِ الْفَقِیرِ ہذَا مَقامُ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِہذَا مَقام الْمَحْزُون
کا مقام، یہ ہے بے چارہ و نادار کامقام یہ ہے ڈرنے والے پناہ لینے والے کا مقام یہ ہے غم کے ستائے ہوئے مصیبت کے مارے ہوئے
الْمَکْرُوبِ، ہذَا مَقامُ الْمَغْمُومِ الْمَھْمُوم ہذَا مَقامُ الْغَرِیبِ الْغَرِیقِ ہذَا مَقامُ الْمُسْتَوْحِشِ
کا مقام، یہ ہے رنجیدہ و پریشان کا مقام، یہ ہے بے کس غرق شدہ کا مقام، یہ ہے ڈرتے کانپتے ہوئے کا مقام، یہ ہے اس کا مقام
الْفَرِقِ، ہذَا مَقامُ مَنْ لاَ یَجِدُ لِذَ نْبِہِ غافِراً غَیْرَکَ، وَلاَ لِضَعْفِہِ مُقَوِیّاً إلاَّ ٲَ نْتَ، وَلاَ
جس کے گناہ کا بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں نہ تیرے سوا کوئی اس کی کمزوری کو طاقت میں بدلنے والا ہے اور نہ تیرے
لِھَمِّہِ مُفَرِّجاً سِواکَ، یَا اﷲُ یَا کَرِیمُ لاَ تُحْرِقْ وَجْھِی بِالنَّارِ بَعْدَ سُجُودِی لَکَ
سوا کوئی اسکی پریشانی دور کرنیوالا ہے اے اللہ اے کرم کرنیوالے! میرے چہرے کو آگ میں نہ جلا جبکہ میں تیرے آگے سجدہ ریز ہوا
وَتَعْفِیرِی بِغَیرِ مَنٍّ مِنِّی عَلَیْکَ بَلْ لَکَ الْحَمْدُ وَالْمَنُّ وَالتَّفَضُّلُ عَلَیَّ، ارْحَمْ
اور اپنا چہرہ خاک پر رکھا کہ اس میں تجھ پر میرا احسان نہیںبلکہ تیرے لیے حمد ہے اور تیرا ہی مجھ پر فضل و احسان ہے رحم فرما
ٲَیْ رَبِّ ٲَیْ رَبِّ ٲَیْ رَبِّ جب تک سانس نہ ٹوٹے کہے جائے اور پھر کہے:ضَعْفِی، وَقِلَّۃَ
اے پا لنے والے اے پالنے والے اے پالنے والے ……….میرے کمزوری میری بے
حِیلَتِی، وَرِقَّۃَ جِلْدِی، وَتَبَدُّدَ ٲَوْصالِی، وَتَناثُرَ لَحْمِی وَجِسْمِی وَجَسَدِی،
چارگی میرے پوست کی نرمی میرے جوڑوں کے ٹوٹنے اور میرے گوشت میرے بدن اور میرے ڈھانچے کے ٹوٹ گرنے
وَوَحْدَتِی وَوَحْشَتِی فِی قَبْرِی وَجَزَعِی مِنْ صَغِیرِ الْبَلائِ، ٲَسْٲَ لُکَ یَا رَبّ
اور قبر میں میری تنہائی و گبھراہٹ اور چھوٹی سختی پر میری بلبلایت میں مجھ پر رحم فرما اے پالنے والے!
قُرَّۃَ الْعَیْنِ وَالاغْتِباطَ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ وَالنَّدامَۃِ، بَیِّضْ وَجْھِی یَا رَبِّ یَوْمَ تَسْوَدُّ
میں افسوس اور شرمندگی کے دن میں تجھ سے خنکی چشم اور قابل رشک ہونے کا سوال کرتا ہوں اے پروردگار! جس دن چہرے سیاہ
الْوُجُوھُ، آمِنِّی مِنَ الْفَزَعِ الْاَکْبَرِ، ٲَسْٲَ لُکَ الْبُشْریٰ یَوْمَ تُقَلَّبُ الْقُلُوبُ
ہوں گے میرا چہرہ روشن فرما مجھے قیامت میں بڑے غم سے امن میں رکھ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس دن دل اور آنکھیں تہ و
وَالْاَ بْصارُ وَالْبُشْری عِنْدَ فِراقِ الدُّنْیا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ٲَرْجُوھُ عَوْناً لِی فِی حَیاتِی
بالا ہوں مجھے اچھی خبر دے اور دنیا سے جاتے وقت بھی اچھی خبر دے حمد اس خدا کیلئے ہے جس سے زندگی میں مدد کا امیدوار ہوں
وَٲُعِدُّھُ ذُخْراً لِیَوْمِ فاقَتِی ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ٲَدْعُوھُ وَلاَ ٲَدْعُو غَیْرَھُ، وَلَوْ دَعَوْتُ
اور حاجت کے دن وہ میر اسرمایہ ہے حمد اس خدا کے لیے ہے جسے پکارتا ہوں اور اس کے غیر کو نہیں پکارتا اگر اس کے غیر کو پکاروں
غَیْرَھُ لَخَیَّبَ دُعائِی ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی ٲَرْجُوھُ وَلاَ ٲَرْجُو غَیْرَھُ، وَلَوْ رَجَوْتُ غَیْرَھُ
تو میری دعا ضائع ہوجائے حمد اس خدا کے لیے ہے جس سے امید رکھتا ہوں اور اس کے غیر سے امید نہیں رکھتا اگر اس کے غیر سے
لاَخْلَفَ رَجائِی الْحَمْدُ لِلّٰہِ الْمُنْعِمِ الْمُحْسِنِ الْمُجْمِلِ الْمُفْضِلِ ذِی الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
امید رکھوں تو وہ پوری نہیں ہوگی حمد ہے اللہ کے لیے جو نعمت دینے والا بھلائی کرنے والا سدھارنے والا بڑھانے والا بڑے مرتبے
وَ لِیُّ کُلِّ نِعْمَۃٍ وَصاحِبُ کُلِّ حَسَنَۃٍ وَمُنْتَہیٰ کُلِّ رَغْبَۃٍ، وَقاضِی کُلِّ حاجَۃٍ ۔ اَللّٰھُمَّ
اور بڑی عزت والا ہر نعمت کا مالک ہر اچھائی کا حامل ہر رغبت کی انتہا اور سبھی حاجتیں پوری کرنے والا ہے اے معبود!
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی الْیَقِینَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ، وَٲَثْبِتْ رَجائَکَ
محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو توفیق دے کہ تجھ پر یقین اور تیرے بارے میں اچھا گمان رکھوں میرے دل میں
فِی قَلْبِی،وَاقْطَعْ رَجائِی عَمَّنْ سِواکَ حَتَّی لاَ ٲَرْجُوَ غَیْرَکَ وَلاَ ٲَثِقَ إلاَّ بِکَ،
اپنی امید نقش کردے اور سوائے تیرے ہر ایک سے میری امید کٹ جائے یہاں تک کہ تیرے غیر سے امید نہ لگاؤں سوائے تیرے
یَا لَطِیفاً لِما تَشائُ اُلْطُفْ لِی فِی جَمِیعِ ٲَحْوالِی بِما تُحِبُّ
کسی پر بھروسہ نہ کروں اے جس پر چاہے مہربانی کرنے والے مجھ پر مہربانی فرما میرے تمام حالات پر جسے تو پسند کرے اور جس پر تو
وَتَرْضی، یَا رَبِّ إنِّی ضَعِیفٌ عَلَی النَّارِ فَلا تُعَذِّبْنِی بِالنَّارِ، یَا رَبِّ ارْحَمْ دُعائِی
راضی ہو اے پالنے والے میں دوزخ کی آگ سے کمزور ہوں پس تو مجھے آگ کا عذاب نہ دے اے پروردگار! میری دعا میری
وَتَضَرُّعِی وَخَوْفِی وَذُ لِّی وَمَسْکَنَتِی وَتَعْوِیذِی وَتَلْوِیذِی، یَا رَبِّ إنِّی ضَعِیفٌ
فریاد میرے خوف میری پستی میری بے چارگی میری پناہ طلبی اور آستاں بوسی پر رحم فرما اے پالنے والے! میں دنیا کی طلب
عَنْ طَلَبِ الدُّنْیا وَٲَنْتَ واسِعٌ کَرِیمٌ ٲَسْٲَلُکَ یَا رَبِّ بِقُوَّتِکَ عَلَی ذلِکَ وَقُدْرَتِکَ عَلَیْہِ
میں بہت ہی ناتواں ہوں اور تو وسعت والا عطا کرنیوالا ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہو ں اے پروردگار کہ تو اس پر حاوی اور اس پر
وَغِناکَ عَنْہُ، وَحاجَتِی إلَیْہِ، ٲَنْ تَرْزُقَنِی فِی عامِی ہذَا، وَشَھْرِی ہذَا، وَیَوْمِی ہذَا،
قابو رکھتا ہے اور تو دنیا سے بے نیاز اور میں اس کی حاجت رکھتا ہوںسوالی ہوں کہ مجھے دے اسی سال میں اسی مہینے میں اور آج کے
وَساعَتِی ہذِھِ رِزْقاً تُغْنِینِی بِہِ عَنْ تَکَلُّفِ مَا فِی ٲَیْدِی النّاسِ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ
دن میں اور اسی گھڑی وہ رزق جو مجھے اس سے بے پروا کردے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور تو اپنے حلال و پاک
الطَّیِّبِ، ٲَیْ رَبِّ مِنْکَ ٲَطْلُبُ، وَ إلَیْکَ ٲَرْغَبُ، وَ إیّاکَ ٲَرْجُو، وَٲَ نْتَ ٲَھْلُ
رزق میں سے مجھے دے اے پروردگار! تجھ سے مانگتاہوں تیری طرف توجہ کرتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں کہ تو ہی اس لائق
ذلِکَ لاَ ٲَرْجُو غَیْرَکَ وَلاَ ٲَثِقُ إلاَّ بِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، ٲَیْ رَبِّ ظَلَمْتُ
ہے میں تیرے غیر سے امید نہیں رکھتا اور بس تجھ پربھروسہ کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم والے اے پالنے والے! میں نے اپنے
نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعافِنِی، یَا سامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ فَوْتٍ،
آپ پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور آسائش دے اے سب آوازوں کے سننے والے اے سب مردوں کو اکٹھا کرنے والے
وَیَا بارِیَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ لاَ تَغْشاھُ الظُّلُماتُ، وَلاَ تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ
اور موت کے بعد نفسوں کو دوبارہ زندہ کرنے والے اے وہ ذات جسے تاریکیاں ڈھانپ نہیں سکتیں جسے طرح طرح کی
الْاَصْواتُ وَلاَ یَشْغَلُہُ شَیْئٌ عَنْ شَیْئٍ، ٲَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ ٲَفْضَلَ
آوازوں میں غلطی نہیں لگ سکتی اور جسے ایک چیز دوسری سے بے خبر نہیں کرپاتی تو حضرت محمد کو اس سے بہتر انعام دے جس
مَا سَٲَلَکَ، وَٲَ فْضَلَ مَا سُئِلْتَ لَہ، وَٲَ فْضَلَ مَا ٲَ نْتَ مَسْؤُولٌ لَہُ إلی یَوْمِ الْقِیامَۃِ،
کا تجھ سے سوال کیا ہے اس سے بہتر جو تجھ سے مانگا گیا اور اس سے بہتر جس کا تجھ سے سوال ہوسکتا ہے آج سے قیامت کے دن
وَھَبْ لِیَ الْعافِیَۃَ حَتَّی تُھَنِّیَنِی الْمَعِیشَۃَ وَاخْتِمْ لِی بِخَیْرٍ حَتَّی لاَ تَضُرَّنِی الذُّنُوبُ
تک اور مجھے ایسی آسائش دے جس سے میری زندگی خوشگوار ہوجائے اور میرا انجام بخیر فرما تاکہ گناہ مجھے تنگی میں نہ ڈال سکیں
اَللّٰھُمَّ رَضِّنِی بِما قَسَمْتَ لِی حَتَّی لاَ ٲَسْٲَلَ ٲَحَداً شَیْئاً ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے معبود! مجھے اس پر راضی کردے جو تو نے مجھے دیا تا کہ میں کسی سے کوئی چیز مانگنے کو آمادہ نہ ہوں اے معبود! محمد(ص) وآل محمد(ص) پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْتَحْ لِی خَزائِنَ رَحْمَتِکَ ، وَارْحَمْنِی رَحْمَۃً لاَ تُعَذِّبُنِی بَعْدَہا ٲَبَداً فِی
رحمت نازل فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے خزانے کھول دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحم فرما کہ اس کے بعد مجھ پر دنیا اور
الدُّنْیا وَ ا لْآخِرَۃِ، وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ الْواسِعِ رِزْقاً حَلالاً طَیِّباً لاَ تُفْقِرُنِی إلی
آخرت میں کوئی عذاب نہ آئے اور مجھے اپنے کشادہ فضل سے حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرما کہ اس کے بعد میں تیرے سوا
ٲَحَدٍ بَعْدَھُ سِواکَ، تَزِیدُنِی بِذلِکَ شُکْراً، وَ إلَیْکَ فاقَۃً وَفَقْراً، وَبِکَ عَمَّنْ سِواکَ
کسی اور کا محتاج نہ رہوںاور مجھے اس پر بہت زیادہ شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور اپنا ہی محتاج بنائے رکھ اس میں تیرے غیر سے
غِنیً وَتَعَفُّفاً، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ یَا مَلِیکُ
بے نیاز اور الگ رہوں اے احسان کرنے والے اے سنوارنے والے اے نعمت دینے والے اے بڑھانے والے اے بادشاہ
یَا مُقْتَدِرُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاکْفِنِی الْمُھِمَّ کُلَّہُ، وَاقْضِ لِی بِالْحُسْنی،
اے صاحب قدرت محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور مشکل کاموں میں میری مدد فرما میرے حق میں بہتر حکم جاری کر میرے تمام معاملوں
وَبارِکْ لِی فِی جَمِیعِ ٲُمُورِی وَاقْضِ لِی جَمِیعَ حَوائِجِی ۔ اَللّٰھُمَّ یَسِّرْ لِی مَا ٲَخافُ
میں امن و برکت دے اور میری سبھی ضرورتیں پوری فرماتا رہ اے معبود! جس تنگی سے میں ڈرتا ہوں اس میں
تَعْسِیرَھُ فَإنَّ تَیْسِیرَ مَا ٲَخافُ تَعْسِیرَھُ عَلَیْکَ سَھْلٌ یَسِیرٌ، وَسَہِّلْ لِی مَا ٲَخافُ
فراخی دینا تجھ پرآسان اور سہل تر ہیاور جس کٹھن سے میں ڈرتا ہوں وہ مجھ پر آسان کردے اور جس تنگی
حُزُونَتَہُ، وَنَفِّسْ عَنِّی مَا ٲَخافُ ضِیقَہُ، وَکُفَّ عَنِّی مَا ٲَخافُ ھَمَّہُ، وَاصْرِفْ عَنِّی
کا مجھے خوف وہ مجھ سے دور فرما جس معاملے میں پریشان ہوں اس میں میری حمایت کر اور جس مصیبت کا مجھے خوف ہے اسے ٹال
مَا ٲَخافُ بَلِیَّتَہُ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰھُمَّ امْلاََْ قَلْبِی حُبّاً لَکَ، وَخَشْیَۃً مِنْکَ وَتَصْدِیقاً
دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ! میرے دل کو اپنی محبت اپنے خوف اپنی تصدیق
لَکَ وَ إیماناً بِکَ وَفَرَقاً مِنْکَ وَشَوْقاً إلَیْکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ ۔ اَللّٰھُمَّ إنَّ لَکَ
اپنے ایمان اپنے ڈر اور اپنے شوق سے بھردے اے بڑی شان و عزت والے اے معبود!تیرے جو حقوق ہیں ان کو مجھ پر صدقہ
حُقُوقاً فَتَصَدَّقْ بِہا عَلَیَّ، وَ لِلنَّاسِ قِبَلِی تَبِعاتٌ فَتَحَمَّلْہا عَنِّی، وَقَدْ ٲَوْجَبْتَ لِکُلِّ
کردے لوگوں کے جو حق مجھ پر ہیں ان میں تو میرا ضامن بن جا اور تو نے ہر مہمان کی مدارات کا حکم دے
ضَیْفٍ قِریً وَٲَ نَا ضَیْفُکَ فَاجْعَلْ قِرایَ اللَّیْلَۃَ الْجَنَّۃَ، یَا وَہّابَ الْجَنَّۃِ، یَا وَہّابَ
رکھا ہے جب کہ اس وقت میں تیرا مہمان ہوںاس مہمانی میں آج رات مجھے جنت عطا کرنے والے اے معافی عطا کرنے والے
الْمَغْفِرَۃِ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِکَ ۔
اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہی جو تجھ سے ہے۔
﴿۶﴾دعائ ادریس(ع) بھی پڑھے کہ جسے شیخ (رح)نے مصباح میں اور سید (رح)نے اقبال میں ذکر کیا ہے۔ پس خواہش مند مومنین ان کتابوں کی طرف رجوع کریں-
اس دعا کے پڑھنے سے چالیس سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں
بلد الامین و مصباح میں شیخ کفعمی نے سید بن باقی سے نقل کیا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے شب وروز میں یہ دعا پڑھے تو اﷲ اسکے چالیس سال کے گناہ معاف کردیگا اور وہ یہ دعا ہے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ شَھْرِ رَمَضانَ الَّذِی ٲَ نْزَلْتَ فِیہِ الْقُرْآنَ، وَافْتَرَضْتَ عَلَی عِبادِکَ فِیہِ
اے معبود ! اے ماہ رمضان کے پروردگار کہ جس میں تو نے قرآن نازل کیا اور تونے اپنے بندوں پر اس کے
الصِّیامَ، ارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی ہذَا الْعامِ وَفِی کُلِّ عامٍ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
روزے فرض کیئے کہ مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج نصیب فرما اس سال میں اور آئیندہ سالوں میں اور میرے بڑے بڑے گناہ
الْعِظامَ فَ إنَّہُ لاَ یَغْفِرُہا غَیْرُکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ ۔
بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی انہیں نہیں بخش سکتا اے جلالت اور برزگیوں والے۔
امام محمد تقی[ع]: ماہ رمضان کے ہر دن رات یہ دعا پڑھے
کتاب مقنعہ میں شیخ مفید (رح) نے ثقہ جلیل علی بن مہزیار سے روایت کی ہے کہ امام محمد تقی -نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے دنوں اور راتوں میں اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھے :
یَا ذَا الَّذِی کانَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، ثُمَّ خَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ، ثُمَّ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْئٍ
اے وہ جو ہر چیز سے پہلے موجود تھا پھر ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو وہ جو باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی
یَا ذَا الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ، وَیَا ذَا الَّذِی لَیْسَ فِی السَّمٰوَاتِ الْعُلی، وَلاَ فِی
اے وہ جس کی مانند کوئی چیز نہیں اے وہ جو نہ بلند آسمانوں میں ہے اور نہ پست ترین
الْاَرَضِینَ السُّفْلی، وَلاَ فَوْقَھُنَّ وَلاَ تَحْتَھُنَّ وَلاَ بَیْنَھُنَّ إلہٌ یُعْبَدُ غَیْرُھُ، لَکَ الْحَمْدُ
زمینوں میں ہے اور نہ ان کے اوپر اور نہ ان کے نیچے ہے اور نہ درمیان میں ہے وہ معبود جس کے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے حمد
حَمْداً لاَ یَقْوی عَلَی إحْصائِہِ إلاَّ ٲَ نْتَ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاۃً لاَ
ہے وہ حمد کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے پس حضرت محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما
یَقْوی عَلَی إحْصائِہا إلاَّ ٲَ نْتَ ۔
وہ رحمت کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے
پہلی رمضان سے مخصوص دعا
زادلمعاد میں علامہ مجلسی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کلینی (رح) وشیخ طوسی(رح) اور دیگر بزرگوں نے معتبر سند کیساتھ روایت کی ہے کہ امام موسٰی کاظم -نے فرمایا: ماہ مبارک رمضان میں اول سال یعنی اس ماہ کے پہلے دن جو شخص دکھاوے یا کسی غلط ارادے کے بغیر محض رضائ الٰہی کیلئے اس دعا کو پڑھے تو خدا سال بھر تک فتنہ وفساد اور بدن کو ضرر پہنچانے والی ہر آفت سے محفوظ رکھے گا اور وہ دعایہ ہے :
اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی دانَ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ
اے معبود! میں سوال کرتاہوں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے ہر چیز جس کی مطیع ہے اور تیری رحمت کے واسطے سے جو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے
وَبِعَظَمَتِکَ الَّتِی تَواضَعَ لَہا کُلُّ شَیْئٍ وَبِعِزَّتِکَ الَّتِی قَھَرَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی
تیری بڑائی کے واسطے سے جس کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے تیری عزت کے واسطے سے جو ہر چیز پر حاوی ہے تیری قوت کے واسطے سے
خَضَعَ لَہا کُلُّ شَیْئٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبَتْ کُلَّ شَیْئٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذِی ٲَحاطَ بِکُلِّ
جسکے آگے ہر چیز سرنگوں ہے تیرے اقتدار کے واسطے سے کے جو ہر چیز پر غالب ہے اور سوالی ہوں تیر ے علم کے واسطے سے جو ہر چیز کو گھیرے
شَیْئٍ، یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا ٲَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَیَا باقِیاً بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، یَا اﷲُ
ہوئے ہے اے نور اے پاکیزہ تر اے اول جو ہرچیز سے پہلے تھا اے وہ جو ہرچیزکے بعد باقی رہے گا اے اﷲ،
یَا رَحْمنُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ وَاغْفِرْلِیَ
اے رحمن، محمد(ص) وآل محمد(ص) پر رحمت فرما اور میرے وہ گناہ معاف فرما جو نعمتوں کو پلٹا دیتے ہیں اور میرے وہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَقْطَعُ الرَّجائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
گناہ معاف فرما جو عذاب کا باعث ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما جو امید رحمت کو توڑتے ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما
الَّتِی تُدِیلُ الْاَعْدائَ وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی
جو مجھ پردشمنوں کو چڑھا لاتے ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا قبول نہیں ہونے دیتے میرے وہ گناہ معاف فرما جن کی
یُسْتَحَقُّ بِہا نُزُولُ الْبَلائِ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ غَیْثَ السَّمائِ، وَاغْفِرْلِیَ
وجہ سے مصیبت آن پڑتی ہے میرے وہ گناہ معاف فرما جو آسمان سے بارش کو روکتے ہیں میرے وہ گناہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تَکْشِفُ الْغِطائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ، وَاغْفِرْ لِیَ
معاف فرما جن سے پردہ دری ہوتی ہے ہے میرے وہ گناہ معاف فرما جو جلد زندگی ختم کر دیتے ہیں میں، میرے وہ گناہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ النَّدَمَ، وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَھْتِکُ الْعِصَمَ وَٲَلْبِسْنِی دِرْعَکَ
معاف فرما جو شرمندگی کی وجہ ہیں اور میرے وہ گنا ہ معاف فرما جو پردہ چاک کرتے ہیں اور مجھے اپنی و ہ پائیدار زرہ
الْحَصِینَۃَ الَّتِی لاَ تُرامُ وَعافِنِی مِنْ شَرِّ مَا ٲُحاذِرُ بِاللَّیْلِ وَالنَّہارِ فِی مُسْتَقْبَلِ سَنَتِی ھذِھِ
پہنا دے جسے کوئی اتار نہ سکے مجھے اس آنے والے سال کے شب وروز میں جن چیزوں کا ڈر ہے ان کے شر سے حفاظت میں رکھ
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاواتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْاَرَضِینَ السَّبْعِ وَمَا فِیھِنَّ وَمَا بَیْنَھُنَّ وَرَبَّ
اے معبود! اے سات آسمانوں اور سات زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے پروردگار اور
الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ السَّبْعِ الْمَثانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ إسْرافِیلَ وَمِیکائِیلَ
عرش عظیم کے پروردگار اور دوبار نازل شدہ سات آیتوں اور قرآن عظیم کے پروردگار اور اسرافیل(ع) میکائیل(ع) و
وَجَبْرائِیلَ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ وَخاتَمِ النَّبِیِّینَ،
جبرائیل(ع) کے پروردگار اور حضرت محمد کے پروردگار کہ جو رسولوں کے سردار اور نبیوں میں آخری ہیں
ٲَسْٲَلُکَ بِکَ وَبِما سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ یَا عَظِیمُ ٲَ نْتَ الَّذِی تَمُنُّ بِالْعَظِیمِ، وَتَدْفَعُ
تیرے واسطے سے تجھ سے سوالی ہوں اور اس کے واسطے جس سے تو نے خود کو موسوم کیا اے بزرگتر تو وہ ہے جو بڑا احسان کرنے
کُلَّ مَحْذُورٍ، وَتُعْطِی کُلَّ جَزِیلٍ، وَتُضاعِفُ الْحَسَناتِ بِالْقَلِیلِ وَبِالْکَثِیرِ وَتَفْعَلُ مَا
والا، ہر خطرے کو دور کرنے والا، ب ڑی ب ڑی عطائوں والا، کم اور زیادہ نیکیوں کو دوگنا کرنے والا ہے اور تو جو چاہے وہی کرنے والا ہے
تَشائُ یَا قَدِیرُ یَا اﷲُ یَا رَحْمنُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ وَٲَلْبِسْنِی فِی مُسْتَقْبَِلِ
اے قدیر، اے اﷲ، اے رحمن، حضرت محمد(ص) پر رحمت فرما اور ان کے اہل بیت(ع) پر رحمت فرما اور اس آنے والے سال میں اپنی طرف
سَنَتِی ہذِھِ سِتْرَکَ وَنَضِّرْ وَجْھِی بِنُورِکَ، وَٲَحِبَّنِی بِمَحَبَّتِکَ، وَبَلِّغْنِی رِضْوانَکَ،
سے میری پردہ پوشی فرما میرے چہرے کو اپنے نور سے شادماں کر اپنی محبت میں مجھے محبوب بنا مجھے اپنی رضا وخوشنودی، اپنی بہترین
وَشَرِیفَ کَرامَتِکَ، وَجَسِیمَ عَطِیَّتِکَ، وَٲَعْطِنِی مِنْ خَیْرِ مَا عِنْدَکَ وَمِنْ خَیْرِ مَا ٲَنْتَ
بخشش اور اپنی بڑی بڑی عطائوں سے حصہ دے اور مجھے اپنی طرف سے بھلائی عطافرما اور اس بھلائی میں سے عطا فرما جو تو اپنی مخلوق
مُعْطِیہِ ٲَحَداً مِنْ خَلْقِکَ، وَٲَ لْبِسْنِی مَعَ ذلِکَ عافِیَتَکَ، یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْویٰ، وَیَا
میں سے کسی کو عطا فرمائے اور ان نوازشوں کے ساتھ تندرستی بھی دے اے تمام شکایتوں کے سننے والے، اے
شاھِدَ کُلِّ نَجْویٰ، وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّۃٍ، وَیَا دافِعَ مَا تَشائُ مِنْ بَلِیَّۃٍ، یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ،
ہر راز کے گواہ،اے ہر پوشیدہ چیز کے جاننے والے اور جس کوچاہے دور کر دینے والے، اے باعزت معاف کرنے والے،
یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ تَوَفَّنِی عَلَی مِلَّۃِ إبْراھِیمَ وَفِطْرَتِہِ، وَعَلَی دِینِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ
اے بہترین درگزر کرنے والے مجھے ابراہیم (ع) کے دین اور ان کی سیرت پر موت دے اور مجھے حضرت محمد کے
عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسُنَّتِہِ، وَعَلَی خَیْرِ الْوَفاۃِ فَتَوَفَّنِی مُوالِیاً لاََِوْ لِیائِکَ، وَمُعادِیاً لاََِعْدائِکَ
دین پر موت دے اور اچھے طریقے سے موت دے پس موت دے مجھے جبکہ میں تیرے دوستوں کا دوست اور تیرے دشمنوں کا دشمن ہوں
اَللّٰھُمَّ وَجَنِّبْنِی فِی ہذِھِ السَّنَۃِ کُلَّ عَمَلٍ ٲَوْ قَوْلٍ ٲَوْ فِعْلٍ یُباعِدُنِی مِنْکَ، وَاجْلِبْنِی
اے معبود! اس سال مجھے ہر اس قول و عمل سے دور رکھ جومجھے تجھ سے دور کر دینے والا ہے اور مجھے اس سال
إلی کُلِّ عَمَلٍ ٲَوْ قَوْلٍ ٲَوْ فِعْلٍ یُقَرِّبُنِی مِنْکَ فِی ہذِھِ السَّنَۃَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،
ہر ایسے قول وعمل کی طرف لے جا جو مجھ کو تیری قربت میں پہچاننے والا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَامْنَعْنِی مِنْ کُلِّ عَمَلٍ ٲَوْ قَوْلٍ ٲَوْ فِعْلٍ یَکُونُ مِنِّی ٲَخافُ ضَرَرَ عاقِبَتِہِ، وَٲَخافُ
مجھے ہر قول یا عمل یافعل سے دور رکھ جس کے نقصان اور انجام سے ڈرتا ہوں اور خائف ہوں
مَقْتَکَ إیَّایَ عَلَیْہِ حِذارَ ٲَنْ تَصْرِفَ وَجْھَکَ الْکَرِیمَ عَنِّی فَٲَسْتَوْجِبَ بِہِ نَقْصاً مِنْ
کہ تو اس کو پسند نہ کرے تو میری طرف سے اپنی پاکیزہ توجہ ہٹا لے گا پس اس سے تیرے ہاں میرے
حَظٍّ لِی عِنْدَکَ یَا رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی مُسْتَقْبَِلِ سَنَتِی ھذِھِ فِی حِفْظِکَ
حصے میں کمی ہو جائے گی اے محبت والے، اے رحم والے، اے معبود! اس سال مجھے اپنی حفاظت ونگہداری میں قرار دے اپنی
وَفِی جِوارِکَ وَفِی کَنَفِکَ وَجَلِّلْنِی سِتْرَ عافِیَتِکَ وَھَبْ لِی کَرامَتَکَ عَزَّ جارُکَ وَجَلَّ
پناہ میں اپنے آستاں پر رکھ اور مجھے اپنی حفاظت کا لباس پہنا مجھے اپنی طرف سے بزرگی دے تیری قربت والا باعزت ہے اورتیری تعریف
ثَناؤُکَ، وَلاَ إلہَ غَیْرُکَ ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی تابِعاً لِصالِحِی مَنْ مَضیٰ مِنْ ٲَوْ لِیائِکَ،
بلند ہے اورتیرے سوا کوئی معبود نہیں اے معبود! تیرے دوستوں میں جونیک لوگ گزرے ہیں مجھے ان میں شمارکر اور انکے ساتھ ملا دے
وَٲَلْحِقْنِی بِھِمْ، وَاجْعَلْنِی مُسَلِّماً لِمَنْ قالَ بِالصِّدْقِ عَلَیْکَ مِنْھُمْ، وَٲَعُوذُ بِکَ اَللّٰھُمَّ
اور ان میں سے جس نے تیری طرف سے جو سچی بات کہی مجھے اس کا ماننے والا بنا اور اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں
ٲَنْ تُحِیطَ بِی خَطِیئَتِی وَظُلْمِی وَ إسْرافِی عَلَی نَفْسِی وَ اتِّباعِی لِھَوایَ وَاشْتِغالِی
اس سے کہ گھیرے مجھ کومیری خطا، میرا ظلم، اپنے نفس پر میری زیادتی اور اپنی خواہش کی پیروی اور اپنی چاہت
بِشَھَواتِی فَیَحُولُ ذلِکَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَحْمَتِکَ وَرِضْوانِکَ فَٲَکُونُ مَنْسِیّاً عِنْدَکَ،
میں محویت کو یہ چیزیں میرے اور تیری رحمت وخوشنودی کے درمیان حائل ہو جائیں پس میں تیرے ہاں
مُتَعَرِّضاً لِسَخَطِکَ وَ نِقْمَتِکَ ۔ اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِی لِکُلِّ عَمَلٍ صَالِحٍ تَرْضیٰ بِہِ عَنِّی،
فراموش ہو جائوں اور تیری ناراضگی میں پھنس جائوں اے معبود! مجھے ہر اس نیک عمل کی توفیق دے جس سے تو خوش ہو اور مجھے بہ لحاظ
وَقَرِّبْنِی إلَیْکَ زُلْفیٰ اَللّٰھُمَّ کَما کَفَیْتَ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ ھَوْلَ عَدُوِّہِ
مقام اپنے قریب کر لے اے معبود! جیسے تو نے مدد فرمائی اپنے نبی محمد کی خوف دشمنان میں
وَفَرَّجْتَ ھَمَّہُ وَکَشَفْتَ غَمَّہُ وَصَدَقْتَہُ وَعْدَکَ وَٲَ نْجَزْتَ لَہُ عَھْدَکَ اَللّٰھُمَّ فَبِذلِکَ
اور انکی پریشانی دور کی اور انکا رنج و غم مٹا دیا اور تو نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ان سے کیا ہوا پیمان پورا فرمایا تو اے معبود! اسی طرح
فَاکْفِنِی ھَوْلَ ہذِھِ السَّنَۃِ وَآفاتِہا وَٲَسْقامَہا وَفِتْنَتَہا وَشُرُورَہا وَٲَحْزانَہا وَضِیقَ
اس سال کے خوف میں میری مدد فرما اس کی مصیبتوں بیماریوں آزمائشوں تکلیفوں اور غموں اور اس میں معاش
الْمَعاشِ فِیہا وَبَلِّغْنِی بِرَحْمَتِکَ کَمالَ الْعافِیَۃِ بِتَمامِ دَوامِ النِّعْمَۃِ عِنْدِی إلی مُنْتَہی
کی تنگی وغیرہ پر مجھے اپنی رحمت سے بہترین آسائش دے مجھے تمام نعمتیں ملتی رہیں یہاں تک کہ میری موت کا
ٲَجَلِی، ٲَسْٲَلُکَ سُؤالَ مَنْ ٲَسائَ وَظَلَمَ وَاسْتَکانَ وَاعْتَرَفَ، وَٲَسْٲَ لُکَ ٲَنْ تَغْفِرَ لِی
وقت آجائے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کی طرح جس نے گناہ اور ظلم کیا اور وہ محتاج ہی گناہ کا اعتراف کرتا ہے اور سوالی ہوں
مَا مَضیٰ مِنَ الذُّنُوبِ الَّتِی حَصَرَتْہا حَفَظَتُکَ وَٲَحْصَتْہا کِرامُ مَلائِکَتِکَ عَلَیَّ وَٲَنْ
تجھ سے کہ میرے پچھلے گناہ معاف کر دے جنکو تیرے نگہبانوں نے لکھا ہے اور تیرے معزز فرشتوں نے شمار کیا جو مجھ پر مقرر ہیں اور
تَعْصِمَنِی اَللّٰھُمَّ مِنَ الذُّنُوبِ فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی إلی مُنْتَہی ٲَجَلِی یَا اﷲُ یَا رَحْمنُ
میرے اﷲ! باقی ماندہ زندگی میں مجھے گناہوں سے بچا اس وقت تک کہ میری عمر تمام ہو جائے اے اﷲ، اے رحمن،
یَا رَحِیمُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَآتِنِی کُلَّ مَا سَٲَلْتُکَ وَرَغِبْتُ إلَیْکَ فِیہِ
اے رحیم، حضرت محمد(ص) اور ان کے اہل بیت(ع) پر رحمت فرما اور مجھے وہ سب کچھ عطا کر جو میں نے مانگا اور جس کی تجھ سے خواہش کی ہے
فَإنَّکَ ٲَمَرْتَنِی بِالدُّعائِ، وَتَکَفَّلْتَ لِی بِالْاِجابَۃِ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
پس تو نے دعا کرنے کا حکم دیا اور میری دعا قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ فقیر ﴿مؤلف﴾ کہتے ہیں کہ سید نے اسکو رمضان کی پہلی رات کی دعائوں میں بھی ذکر کیا ہے
ماہ رمضان کے روزے کے آداب
روزہ بھی اسلام کے دیگر احکام کی طرح کسی حکمت اور مصلحت کے تحت واجب کیا گیا ہے۔ متعدد روایات کے اندر مختلف تعبیرات میں روزہ کی حکمت اور مصلحت کو بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں چار موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
الف: اخلاص اور خود سازی
حضرت زہرا سلام اللہ علیھا نے فرمایا:
« فرض الله الصیام تثبیتاً للاخلاص » (۱)
خدا وند عالم نے روزہ کو واجب قرار دیا ہے تاکہ اخلاص کو ثابت کرے۔
روزہ دار نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتے ہوئے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور عالم ملکوت سے معنوی رشتہ برقرار کرتا ہے اور حیوانی کاموں کو ترک کر کے اپنے اندر پاگیزگی اور طہارت پیدا کرتا ہے۔ اسی طریقے سے جسمانی اور مادی لذات سے دوری اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ غیر مادی اور روحانی حرام لذتوں سے بھی دور رہتا ہے اور چونکہ روزہ ایسی عبادت ہے جو بظاہر نہ دیکھنے کی وجہ سے بہت کم ریاکاری اور دکھاوے کا شکار ہوتی ہے لہذا اس عمل میں زیادہ اخلاص پائے جانے کا امکان ہے۔
ب: جسمانی قوتوں کو متعادل کرنا۔
انسانی بدن کی مشینریاں پورا سال کام کرنے سے سست، کمزور اور بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو انہیں صدمہ پہنچ سکتا ہے۔ اس وجہ سے خدا وند حکیم نے اپنے بندے کی صحت و سلامتی کی حفاظت کے لیے اور اس کے جسمانی قواہ کو متعادل رکھنے کے لیے روزہ کو واجب قرار دیا۔ رسول اسلام [ص] کی یہ حکمت آمیز حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے:
« صوموا تصحوا» (۲)
روزہ رکھو صحت پاو۔
ج: حصول تقوی کی مشق
روزہ رکھنے کی تیسری حکمت تقوی اور پرہیزگاری کی مشق کرنا ہے مسلمان ماہ مبارک میں خواہشات نفسانی کو پورا نہ کر کے اپنے نفس پر قابو پانے کی مشق کرتے ہیں تاکہ پورا سال اس کی نامناسب خواہشات کے مقابلہ میں مقاومت کر سکیں۔ مثال کے طور پر روزہ دار حلال غذا کا استعمال نہ کر کے یہ مشق کرتا ہے کہ اگر نفس حرام غذا کی طرف ہاتھ بڑھائے تو اسے منع کر سکے۔ اپنی بیوی کے پاس نہ جا کر یہ مشق کرتا ہے کہ دوسروں کی ناموس کی طرف لذت کی نگاہ کرنے سے نفس کو بچا سکے۔ خدا اور اس کے رسول [ص] پر جھوٹ باندھنے سے پرہیز کر کے بدکلامی، غیبت، تہمت اور دیگر فضولیات سے اپنی زبان کو پاک رکھ سکتا ہے۔
تقوی کی مشق اور اس کے درجات میں اضافہ کے مسئلہ کی طرف قرآن کریم کی “آیت روزہ” میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے:
« لعلکم تتقون » (۳)
شاید آپ تقوی اختیار کر لیں۔و
د: فقراء اور اغنیا میں فاصلہ کا کم ہونا
بھوک اور پیاس کا احساس بھی روزہ کی ایک حکمت ہے یعنی مالدار لوگ پورا سال ناز و نعمت میں غرق رہتے ہیں اور جب بھی جس چیز کی خواہش کرتے ہیں ان کے پاس حاضر ہوتی ہے اگر ماہ رمضان نہ ہو تو انہیں کبھی بھی کسی فقیر کی یاد نہ آئے۔ وہ کہاں سے سمجھیں گے کہ بھوک کیا ہوتی ہے پیاس کسے کہتے ہیں؟ وہ جب ایک مہینہ بھوک اور پیاس کا احساس کریں گے تو انہیں فقیروں کی سال بھر کی بھوک اور پیاس کا احساس ہو گا۔ اور کسی حد تک وہ ان کے حال پر رحم کھائیں گے۔ امام حسین علیہ السلام سے پوچھا: کیوں خدا نے روزہ واجب کیا ہے۔ فرمایا:
« لیجد الغنی مس الجوع فیعود بالفضل علی المسکین » (۴)
تاکہ مالدار بھوک کا احساس کرے اپنی ضرورت سے زیادہ کو مسکین کی طرف لوٹائے۔
ھ: آخرت کی یاد
روزہ کی ایک حکمت یہ ہے کہ روزہ انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے امام رضا علیہ السلام نے اپنی ایک گفتگو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیوں خدا وند عالم نے روزہ کو واجب قرار دیا، فرمایا:
« لکی یعرفوا ألم الجوع و العطش فیستدلوا علی فقر الاخره » (۵)
تاکہ لوگ بھوک اور پیاس کے درد کو پہچانیں اور اس سے آخرت کی بھوک اور پیاس پر رہنمائی حاصل کریں۔
پیغمبر اکرم – صلی الله علیه و آله – نے اپنے ایک خطبہ میں جو ماہ مبارک رمضان کے استقبال میں پیش کیا فرمایا:
« … واذکروا بجوعکم وعطشکم فیه جوع یوم القیمه و عطشه …» (۶)
اس مہینہ میں تم اپنی بھوک اور پیاس کے احساس سے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) بحارالانوار ، ج ۹۶ ، صفحه ۳۶۸
(۲) وہی ، صفحه ۲۵۵
(۳) بقره (۲) ، آیه ۱۸۳
(۴) بحارالانوار ، ج ۹۶ ، صفحه ۳۷۵
(۵) وہی ، صفحه ۳۹۶
(۶) وہی ، صفحه ۳۵۶
صحت کی مشکلات، ان کی علتیں اور علاج
کبج
کبج بواسیر،مقعد میں زخم ، درد اور بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے۔
علت: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال اور مایعات اور پانی کا استعمال کم۔
علاج: کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کا استعمال کم کریں، پانی زیادہ پیئیں۔ براون اور چوکر والے آٹے کی روٹی کھائیں۔
بدہضمی اور گیس
علت: پرخوری، تلی اور چربی دار چیزوں کا زیادہ استعمال، مرچ و مسالہ والی غذاوں کا استعمال، یا ان چیزوں کا استعمال جو گیس بناتی ہیں جیسے انڈا، گوبھی، لوبیا، پھلیاں، مسور کی دال اور کولڈ ڈرینک۔
علاج: پرخوری نہ کریں، پھلوں کا رس اور پانی زیادہ استعمال کریں، تلی چیزوں سے پرہیز کریں۔
کمزوری [ بی پی لو]
علامتیں: زیادہ پسینہ، کمزوری، تھکاوٹ، سر چکرانہ مخصوصا کھڑے ہوتے وقت، رنگ اڑ جانا اور ضعف اور ناتوانی کا احساس کرنا۔
علت: مایعات کا استعمال کم اور بدن سے نمک کی کمی۔
علاج: گرم جگہوں پر نہ جائیں۔ نمک اور مایعات کے استعمال کو زیادہ کریں۔
سر درد
علت: کیفین اور تنباکو کا استعمال نہ کرنا، دن میں کام زیادہ کرنا، کم سونا، بھوک کہ جو مخصوصا دن کے آخری وقت میں لاحق ہوتی ہے۔ وہ سر درد جو بی پی لو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ممکن ہے شدت پکڑ جائے اور افطار سے پہلے الٹی کی حالت کو ایجاد کرے۔
علاج: ماہ رمضان سے دو ہفتہ پہلے کیفین یا تنباکو کا استعمال کرنا کم کر دیں۔ اور اس کی جگہ سبز چائے کا استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہ رمضان میں اس طریقہ سے پروگرامینگ کریں کہ کافی مقدار تک نیند کر سکیں۔
شوگر کی کمی
علامتیں: ضعف، سرچکرانہ، تھکاوٹ کا احساس، پسینہ آنا، بدن کانپنا، دل دھڑکنا، کسی کام کو انجام دینے کے لیے بدن کا ساتھ نہ دینا۔
علامتیں: وہ لوگ جو مستقل طور پر شوگر کی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں اگر سحری میں شکر کا زیادہ استعمال کریں گے تو دن میں بدن زیادہ مقدار میں انسولین ایجاد کرے گا اور شوگر کی کمی کا باعث بنے گا۔
علاج: سحر میں کھانا کھانا، مایعات کا حد سے زیادہ استعمال نہ کرنا اور اسی طرح شوگر والی چیزوں کا استعمال بھی کم کرنا۔
معدہ میں زخم، دل میں سوزش
ماہ رمضان میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال معدہ میں زخم ہونے کا باعث بنتا ہے مرچ مسالہ والی غذائیں، کولڈ ڈرینک وغیرہ زخموں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔
علاج: خالی معدہ ہونے کی صورت میں اسیڈ والی چیزوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اسی طرح تلی بھنی یا مرچ مسالہ والی چیزوں کا۔
جوڑوں کا درد
علت: ماہ مبارک رمضان میں معمولا نمازیں زیادہ پڑھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے گھٹنوں پر زیادہ دباو پڑتا ہے سن رسیدہ افراد یا جوڑوں کے درد والے افراد میں درد کے اضافہ،ورم اور ناآرامی کا باعث بنتا ہے۔
علاج: وزن کو کم کریں تاکہ گھٹنے زیادہ وزن اٹھانے پر مجبور نہ ہوں۔ ماہ رمضان سے پہلے اٹھنے بیٹھنے کی ورزش کریں تاکہ بدن ماہ مبارک کے لیے پہلے سے تیار ہو جائے اور نمازوں کے دوران درد اور ناآرامی کا احساس نہ ہو۔
منبع : http://WWW.CRESCENTLIFE.CO
ماہ رمضان میں صحت کے لیے مشورے
ماہ مبارک رمضان میں ہماری غذا پہلے کی نسبت زیادہ تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور حتی الامکان سادہ ہونا چاہیے۔ اسی طریقے سے غذائی نظام اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ طبیعی وزن پر کوئی زیادہ اثر نہ پڑے۔
دن میں طولانی مدت کی بھوک کے بعد ایسی غذائیں استعمال کریں جو دیر ہضم ہوں۔ دیر ہضم غذائیں کم سے کم ۸ گھنٹے ہاضمہ کے سسٹم میں باقی رہتی ہیں۔ حالانکہ جلدی ہضم ہو جانے والی غذائیں صرف ۳ یا ۴ گھنٹے معدہ میں ٹک سکتی ہیں اور انسان بہت جلدی بھوک کا احساس کرنے لگتا ہے۔
دیر ہضم غذائیں عبارت ہیں: حبوبات، اناج جیسے جو، گندم، لوبیا، دالیں، چاول کہ جنہیں ” کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ” کہتے ہیں۔
غذا کا متعادل ہونا ضروری ہے۔ یعنی ہر نوع غذا کو استعمال کیا جائے جیسے پھل، سبزیاں، گوشت، مرغ ، مچھلی، روٹی، دودھ، اور دیگر دودھ سے بنی چیزیں۔
تلی ہوئی چیزوں کو بہت کم استعمال کیا جائے۔ اس لیے کہ یہ ہضم نہ ہونے، معدہ میں سوزش پیدا ہونے اور وزن میں خلل ایجاد ہونے کا سبب بنتی ہیں۔
کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
۱: تلی ہوئی اور چربی دار غذاوں سے
۲: زیادہ میٹھی چیزوں سے
۳: سحر کے وقت زیادہ کھانا کھانے سے
۴: سحر کے وقت زیادہ چائے پینے سے۔ چائے زیادہ پیشاب کا باعث بنتی ہے اور زیادہ پیشاب بدن سے نمک کو خارج کر دیتا ہے۔
۵: سیگرٹ: اگر سیگرٹ کو ایک بار چھوڑنا آپ کے لیے سخت ہے تو ماہ رمضان شروع ہونے سے ایک دو ہفتہ پہلے اس کام کی مشق کریں۔
کن غذاوں کا استعمال کریں؟
۱: سحر کے وقت کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ والی غذاوں کا استعمال کرنا مفید ہے اس لیے کہ یہ دیر ہضم ہوتی ہیں۔
۲: حلیم کہ جو پروٹین رکھنے والی ایک بہترین غذا ہے اور دیر سے ہضم ہوتی ہے سحر کے وقت اس کا استعمال کرنا مفید ہے۔
۳:خرما کہ جس میں شوگر ، کاربوہائیڈریت، پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتے ہیں کا سحر میں استعمال کرنا مفید ہے۔
۴:بادام اور کیلا بھی کافی حد تک مفید ہیں
۵: زیادہ پانی یا مایعات کا استعمال افطار سے سحر تک فاصلہ کے ساتھ استعمال کرنا دن میں بدن کی ضرورت کو پورا کر دیتا ہے۔
منبع: اسمبلی کی فارسی سائٹ
روزہ داروں کے لیے خوراکی تجویزات
اگر چہ روزہ دار کے لیے روزہ کے ظاہری فوائد اور جسم پر اثر انداز ہونے والے روزہ کے ظاہری آثار اس کا اصلی مقصد نہیں ہوتے، لیکن چوں کہ روزہ اسی بدن کے ذریعے ہی رکھا جاتا ہے لامحالہ اس پر روزہ رکھنے سے کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور روایات کے اندر بھی اس نکتہ پر تاکید کی گئی ہے کہ روزہ کے معنوی آثار کے علاوہ کچھ مادی آثار بھی پائے جاتے ہیں جو انسان کے جسم کی سلامتی پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ روزہ دار اسی صورت میں جسمی اور روحی سلامتی کو حاصل کر پائے گا جب اس کے اصول کی رعایت کرےگا۔ مثال کے طور پر روزہ جسم کے وزن کو کم کرنے، بلڈ پریشر کے لو ہونے اور بدن میں سستی اور کمزوری کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برخلاف بعض لوگوں میں وزن کے اضافہ ہونے کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ لیکن اگر افطاری اور سحری میں غذا اور خوراک کے نظام میں اعتدال سے کام لیا جائے تو جسم کو حد اعتدال میں منٹین رکھا جا سکتا ہے۔ درج ذیل تجویزات اس سلسلے میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں:
افطار کے لیے تجویزات
۱: بدن کی زیادہ انرجی سحری کھانے سے پورا ہونا چاہیے لہذا افطار میں ہلکا پھلکا استعمال کیا جائے تاکہ معدہ بھاری نہ ہو۔
۲: افطار میں کھانا ہلکا پھلکا اور مقوی ہونا چاہیے جو جلدی قابل ہضم ہو۔ جیسے خرما، کھجور، دودھ، چائے، وغیرہ۔
۳: بہتر ہے کہ چائے اور خرما سے افطار کیا جائے اور حتی المقدور افطار میں پانی پینے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ افطار میں پانی پینا بے حالی، کمزوری اور معدہ میں درد کا باعث بنتا ہے۔
۴: افطار کے وقت مایعات زیادہ استعمال نہ کئے جائیں۔ اس لیے کہ مایعات اس وقت بد ہضمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
۵: سحری اور افطار میں پرچرب غذائیں کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
سحری کے لیے تجویزات
۱: اس بات کو نہ بھولیے کہ سحری میں پرخوری نہ صرف آدھے دن کے بعد بھوک کے احساس کو کم نہیں کرتی بلکہ دن کے آغاز میں ہی معدہ پر شدید بوجھ ڈالتی ہے اور نظام ہاضمہ کو مختل کرتی ہے جس کے نتیجہ میں بد ہضمی، معدہ کا درد اور گیس کی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔
۲: ماہ رمضان میں کوشش کریں رات کو جلدی سو جائے تاکہ آذان صبح سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اٹھیں تاکہ بدن کا نظام ہاضمہ صحیح کام کرے نیند کی وجہ سے اس میں خلل پیدا نہ ہو اور آرام و سکون کے ساتھ مناسب مقدار میں سحری کھا سکیں تاکہ ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
۳: سحری کے لیے نہ اٹھنا بہت بڑی غلطی ہے معدہ کو حد سے زیادہ خالی رکھنا اس میں درد کا سبب بنتا ہے بدن سے پروٹین جل جاتے ہیں اور بدن میں کمزوری اور سستی چھا جاتی ہے۔
۴: سحر میں پروٹین والی غذاوں کو استعمال کریں جیسے انڈا، اناج، دودھ سے بنی چیزیں اور گوشت، اور پانی پینے کی جگہ میوں کے رس استعمال کئے جائیں۔
۵: سحری میں مایعات میں سے اگر ایک گلاس جیوس اور ایک گلاس شہد کا شربت پی لیا جائے تو نہایت مفید ثابت ہو گا۔
۶: سحری میں ضروری ہے کہ متنوع غذائیں استعمال کی جائیں۔ یہ چیز نوجوانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک طرح کی غذا کا استعمال نوجوانوں کو سحری کھانے سے متنفر کرتا ہے۔
۷: زیادہ نمک کھانے سے پرہیز کریں اس لیے کہ زیادہ نمک مایعات کو بدن سے دور کرتاہے اور دن میں پیاس لگنے کا سبب بنتا ہے۔ ایک معمولی کھانا کھانے سے کافی حد تک نمک آپ کے بدن میں پہنچ جاتا ہے اس زیادہ نمک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
روزہ داروں کے لیے کچھ دیگر تجویزات
۱: سحری اور افطار کے بعد کے اوقات طالب علموں کے مطالعہ کے لیے مناسب وقت ہے۔
۲: ورزش کاروں کو ماہ رمضان میں عام لوگوں کی نسبت زیادہ پروٹین اور شوگر کی ضرورت ہے۔ لہذا افطار کے تین گھنٹے بعد ورزش کو شروع کیا جائے تاکہ استعمال کی گئی خوراک ٹھیک طریقے سے ہضم ہو چکی ہو۔ کھانا کھانے اور ورزش کرنے کے درمیان فاصلہ ہونا چاہیے تاکہ خون کا جریان مکمل طریقے سے بدن کی تمام رگوں میں ہو سکے۔
۳: ماہ رمضان میں ورزش ہلکی پھلکی ہونا چاہیے اس لیے کہ ورزش کے دوران بدن کافی مقدار میں نمک اور پانی کو خارج کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بدن میں شدید کمزوری کا احساس ہو سکتا ہے۔ ورزش کاروں کو چاہیے کہ سحر تک کافی مقدار میں مایعات استعمال کریں تاکہ ان کے بدن میں پانی کی ضرورت پورا ہو سکے۔
۴: خرما، سوپ، سبزیجات، اور دودھ افطار میں ورزشکاروں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
۵: اگر ورزش کار افطار کے بعد سخت ورزش یا مسابقہ وغیرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے افطار میں گوشت، انڈے کی زردی اور مچھلی کا استعمال کرنا چاہیے زیادہ مایعات کا استعمال بھی ورزش سے پہلے مناسب نہیں ہے۔
۶: ورزش کاروں میں پروٹین سے حاصل شدہ انرجی ۱۵ سے ۲۰ در صد ہونا چاہیے اس سے زیادہ پروٹین مناسب نہیں ہیں اس لیے کہ خون میں زائد مواد کے پیدا ہونے اور ورزش کے دوران تھکاوٹ کے احساس کا سبب بنتا ہے۔
منبع: اسمبلی کی فارسی سائٹ
ثمرین جزاک اللہ ۔۔
بہت خوب ثمرین بخاری.ماشااللہ.
پیغمیر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : فرماتے ہیں : ماہ رجب «شهرالله الأصم» ہے اور اس وجہ سے اس کو «اصم» کہا گیا ہے کہ کوئی اور مہینہ اس مہینہ کی عظمت تک نہیں پہونچ سکتا ، جاهلیت کے زمان میں لوگ اس مہینہ کا احترام کرتے تھے ، اور جب اسلام طلوع ہوا تو اس نے اس کے احترام میں اور اضافہ کر دیا ۔ جان لو کہ رجب خدا کا مہینہ ہے ، شعبان ہمارا مہینہ ہے ،اور رمضان ہمارے امت کا مہینہ ہے ۔ (۱)
شعبان کا مہینہ شرف کا مہینہ ہے اور حضرت سید انبیاء، محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منسوب ہے ؛ قمری تاریخ کے مطابق اس مہینہ میں بے شمار مناسبتیں پائی جاتی ہیں مثال کے طور پر امام حسین(علیہ السلام) کی ولادت ، حضرت ابولفضل العباس (علیہ السلام ) کی ولادت ، حضرت امام زین العابدین ، سجاد(علیہ السلام ) کی ولادت ، حضرت علی اکبر(علیہ السلام ) اور حضرت صاحب الزمان، امام مهدی(عج) کی ولادت ، بھی اسی مہینہ کی برکت کا سبب ہے ۔ حقیقت میں دیکھا لائے تو قمری مہینہ میں شعبان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے کسی ائمه اطهار(علیہ السلام ) کی شهادت نہی ہوئی ہے ۔
روح الله امام خمینی (رہ) شعبان کے مہینہ کے برکت میں ایک مقام پر بیان فرماتے ہیں
« رجب ، شعبان اور رمضان المبارک کا مہینہ ، انسان کو بے شمار برکتیں نصیب ہونے کا مہینہ ہے ، انسان اس مہینہ کے برکتوں کا استعمال کرے جو خدا وند عالم کی طرف سے اس کو عنایت کی گئی ہے ۔
لیکن ان تمام برکتوں کا سر چشمہ مبعث گرامی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے ۔ رجب کے مہینہ میں مبعث بزرگ اور مولا على بن ابیطالب- سلام اللَّه علیه کی ولادت اور دوسرے آئمہ علیھم السلام کی بھی ولادت ہے ، شعبان کے مہینہ میں ولادت حضرت سیدالشهدا اما حسین – سلام اللَّه علیه- اور ولادت حضرت صاحب الزمان- ارواحناله الفداء اور رمضان کے مبارک مہینہ میں پیغمبر اکرم کے مبارک قلب پر قرآن مجید کا نزول ہوا ہے ۔
اس تینوں مہینہ کا شرف اور عظمت زبانوں میں بیانوں میں عقل میں فکر میں نہی سما سکتا ۔اور اس مہینہ کی برکتوں میں وہ دعائیں ہیں جو ان مہینہ میں وارد ہوئی ہیں
ہم لوگ آج کل شعبان کے مہینہ مین ہیں ، اور مناجات شعبانیه بہت ہی بڑی مناجاتوں میں سے ہے اوراس مناجات میں عظیمترین معارف الهى اور بہت ہی بڑے بڑے امور چھپے ہوئے ہیں جس سے صرف اھلیت رکھنے والے لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
ماخذ۔رسا نیوز ایجنسی
ذیابیطس کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں مگر چند احتیاطیں لازمی مد نظر رکھیں۔ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا کچھ مریضوں کو روزہ رکھنے میں خصوصی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ جن سے آگہی شوگر کے مریضوں اور جنرل پریکٹیشنر دونوں کیلئے ضروری ہے۔ پوری دنیا کے دو بلین مسلمان رمضان کے مہینے میں روزے رکھتے ہیں۔ جو پوری دنیا کی آبادی کا 25 فیصد ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو روزہ رکھنے کے رسک کے لحاظ سے چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جن کو ماہ صیام میں خصوصی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔شوگر کے مریضوں کے روزہ رکھنے کی صورت میں بعض اوقات خون میں شوگر کی بہت زیادہ کمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جو غنودگی اور بعد ازاں بے ہوشی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ خون میں شوگر اگر 60mg/di سے کم ہو تو روزہ فوراً توڑ دینا چاہئے۔ روزے کے دوران تین دفعہ شوگر گلوکومیٹر سے چیک کرنا چاہئے۔ ایک افطار سے پہلے اور دو گھنٹے افطار کے بعد اور تیسری سحری کے دو گھنٹے کے بعد۔ افطاری کے بعد اور سحری سے پہلے پانی بہت زیادہ پینا چاہئے اور سحری اور افطاری میں میٹھی اور مرغن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے جس میں کھجوریں اور جوسز کا استعمال بھی شامل ہے۔
رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے والوں کے کھانے پینے کے معمولات یکسر مختلف ہو جاتے ہیں یعنی سحری(سورج طلوع ہونے سے قبل )اور دوسری مرتبہ افطار (یعنی سورج غروب ہونے پر )کھانا کھایا جاتا ہے ۔اکثر افطار میں دستر خوان زیادہ وسیع ہو جاتا ہے ۔جس میں تلی ہوئی اشیاء ‘کھجور اور دیگر میٹھی اشیاء و میٹھے مشروبات کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ کاربو ہائیڈریٹس (نشاستہ)والے کھانے چاول’نان’چپاتی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔روزہ کے دوران ایک طویل وقفے کیلئے کچھ کھایا پیا نہیں ہوتا اور پھر یکدم بہت سا ایسا کھاناکھایا جاتا ہے جسے جسم فوری گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے جو ذیابیطس(شوگر)کے مریضوں کیلئے خوش آئند نہیں ہوتاکیونکہ ان کے خون میں کچھ وقت گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے اور پھر دوسرے وقت یہ سطح بہت زیادہ ہو سکتی ہے ۔اس صورتحال کو غذا ئی پرہیزاور ادویات کے شیڈول میں تبدیلی سے کنٹرول کر کے ماہ صیام کی برکتیںسمیٹی جا سکتی ہیں۔ روزہ رکھنے والے ڈایابیٹیز کے مریضوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر و تجاویز خون میں گلوکوز کی سطح کے اتار چڑھاؤ کو نارمل رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
شوگر کے مریض سحروافطار میں پھل ‘سبزیاں ‘دالیں اور دہی زیادہ استعمال کریں ۔نشاستے والے کھانے باسمتی چاول ‘چپاتی’بریڈ وغیرہ کھانے سے بھوک کم محسوس ہوگی ۔بہت زیادہ میٹھے کھانے و مشروب اور زیادہ تلی ہوئی اشیاء استعمال نہ کریں ۔بغیر سحری کھائے روزہ کبھی نہ رکھیں۔سحری کا کھانا بہت پہلے نہ کھائیں بلکہ سحری کا وقت ختم ہونے سے کچھ دیر قبل کھائیں اس طرح خون میں گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔پیاس کی صورت میںسادہ پانی زیادہ بہتر ہے ۔میٹھے مشروب کو دل چاہے تو بغیر چینی کے اسکوائش مشروب’لیموںپانی یا مصنوعی مٹھاس ‘’سوئیٹکس ‘کینڈرل یا اسپارٹم’وغیرہ سے میٹھے کئے گئے مشروب استعمال کریں ۔کولا مشروبات’فاسٹ فوڈز’جنک فوڈز’تلے ہوئے کھانے ‘پراٹھے’پوریاں ‘سموسے’کچوریاں وغیرہ استعمال کرنے سے گریز کریں ۔البتہ گھریلو تیار شدہ کم چکنائی والے بیسن کے پکوڑے ‘دہی پکوڑیاںاوربغیر نمک و چینی کے فروٹ چاٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔
روزہ رکھنے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور ایسا اس وقت ہو سکتا ہے جب خون میں گلو کوز کی سطح بہت زیادہ ہوگئی ہواس صورت میں جسم خون میں گلوکوز کی اضافی سطح کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس دوران اگر مریض روزہ سے ہو اور پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے اس میں پانی کی کمی واقع ہو جائے تو لازماً خون میں گلو کوز کی سطح اور بھی بلند ہو جائے گی جو طبیعت کی مزید خرابی کا باعث بن سکتی ہے ۔ایسے شوگر کے مریض جو ڈایا بیٹیز کو اپنی غذا اور دیگر جسمانی سرگرمیاں جاری رکھ کر کنٹرول کرتے ہیں یقینا اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ رمضان کے روزے رکھ سکیں لیکن جن کی شوگر کنٹرول میں نہ ہورہی ہو ‘امراض گردہ’قلب یا ضعف اعصاب کا شکا ر ہوں ۔ان افراد کو لازمی طور پر روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشاورت کر لینی چاہیئے ۔
خون میں گلوکوز کی سطح کو قابو میں رکھنے کیلئے ‘’میٹافارمِن’‘گولی استعمال کرنے والوں کیلئے روزہ رکھنا محفوظ ثابت ہو سکتا ہے لیکن آپ کو اس دوا کے استعمال کے اوقات میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی ۔اکثر یہ گولی روزہ افطار کرتے وقت شام کو لینے کی ہدایت کی جاتی ہے تاہم ہوسکتا ہے کہ مرض کے مطابق اس کی مقدار خوراک میں بھی کمی کی ضرورت ہو ۔جس کے بارے میں آپ کا معالج ہی بہتر رائے دے سکتا ہے۔اسی طرح ‘’گلیٹا زونز ‘’ استعمال کرنے والے مریض بھی روزہ رکھنے کے حوالے سے اپنے معالج سے ضرورمشورہ لیں۔
مجموعی طور پر آپ جو بھی دوا استعمال کررہے ہوںعام طور پر اس کی جتنی مقدارصبح لی جاتی ہے اس سے نصف افطار میں لیں اور شام میں جتنی مقدار لیتے ہیں اتنی ہی سحری میں استعمال کریں۔اسی فارمولے کے تحت انسولین کے یونٹ لئے جائیں۔ خون میں گلو کوز کی سطح متوازن رکھنے کیلئے اگر صرف صبح ہی دوا لی جاتی ہے تودوران رمضان اس کی نصف مقدارصرف افطار کے وقت لیں۔
اکثر شدید نوعیت کے مریضوں میں انسولین اور بعض گولیوں (سلفا نا ئلو ریاز وغیرہ)کے استعمال یا کھانے پینے میں کمی بیشی کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی سطح فوری گر جاتی ہے اور بعض دفعہ ‘’ہائپو ‘’ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔اسی طرح بعض مریض ‘’ہائیپر’’ کی پچیدگی کا شکا ر ہوجاتے ہیں ڈایا بیٹیز کے ایسے مریضوں کو روزہ رکھنے سے احتراز کرنا چاہئیے۔اور علمائے کرام سے رابطہ کرکے روزے کا متبادل’ فدیہ وغیرہ اپنانا چاہئیے۔ ایسے افراد اگر روزہ ضرور رکھنا چاہیں تو قبل ازیں اپنے معالج سے انسولین کی قسم اور دیگر ادویات کی مقدار خوراک واوقات نیز اپنے جسم کی روزہ رکھنے کی صلاحیت کے بارے میں ضرور مشورہ کر لیں ۔
آخر میں ذیا بیطس کے جو مریض روزہ رکھ سکتے ہیں وہ ضرور رکھیں کیونکہ روزہ ‘’اسٹریس’’ کا خاتمہ کرکے روحانی و قلبی سکون بخشتا ہے۔ شوگر لیول ‘بلڈپریشر’اور کولیسٹرول کو نارمل رکھتاہے اور غیر ضروری وزن کوبھی کم کرتا ہے۔
تحریر: حکیم قاضی ایم اے خالد
السلام علیکم
بہت مفید اور معلوماتی بلاگ ہے
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ رمضان کے دوران نیند نہ پوری ہونے کے باعث کارکردگی متاثر ہوتی ہے. مزید یہ کہ روزہ آپ کی صحت میں بہتری لاتا ہے مگر جسمانی قوت میں اضافہ نہیں کرتا.
والسلام
زرقا
ڈئير ثمرین بخاری خوش رھو، دل خوش کردیا۔ کتنی اھم اور خوبصورت باتوں سے اس بلاگ کو سجایا ھے۔ اور بہت محنت بھی کی ھے۔ اللہ پاک سے دعا کرتے ھیں کہ باب علم کے تصدق میں تمھیں ھر امتحان میں کامیابی ،و کامرانی عطا فرماۓ امین ثمہ آمین
علم جہاں سے ملے حاصل کرو اور پھر اسکو آگے تک پہچانا بھی عبادت ھے،آچھی بات صدقہ جاریہ ھے،خوش رھو شاباش گڑیا
وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo
’’اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہوo‘‘
روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ صحتِ انسانی کے لئے مفید چیز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی غذائیت (حرارے) عا م دنوں کے مقابلے میں جسم کو اکثر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں اس کے علاوہ جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کرکے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ روزے سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں :
1۔ روزہ سارے نظامِ ہضم کو ایک ماہ کے لئے آرام مہیا کر دیتا ہے۔ درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید اعمال بھی سرانجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اس پر تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف روزہ کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے جو روزہ کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔ کیونکہ بے حد معمولی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصے کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہو جائے تو پورا نظامِ انہضام اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر فوراً مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔
2۔ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان (Inter Celluler) مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک سکون آشنا ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں (Epitheliead) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام کی صورت میں ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔
3۔ پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
4۔ روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔
5۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ کھولا جاتا ہے اور غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق معلوم ہوا کہ صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔
رمضان المبارک سب سے اہم اور متبرک مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں ہر طرف برکتوں کا نزول ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے رحمت خداوندی ہر پل کائنات پر سایہ فگن رہتی ہے ۔ایسے میں وہ خوش قسمت لوگ جو شب کی پچھلے پہر کی تنہائیوں میں اپنے خالق کے حضور سجدہ بائے نیاز پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے قرب کو کچھ اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید “(ذات خدا وندی انسانی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے )کا فرمان بالکل صادق دکھائی دیتا ہے۔ ذات خداوندی جب پہلے آسمان پر اتر کر یہ دعوت دے رہی ہو کہ ”ہے کوئی سائل کہ میں اس کی دعا کو شرف قبولیت سے نواز دوں ”تو ان ہی لوگوں کی خوش بختی پر رشک ہوتا ہے۔جو ان سنہری لمحات کو اپنے وجود کا ایک حصہ بنا لیتے ہیں۔ جب یہ لمحات وجود انسانی کا ایک حصہ بن جاتے ہیں تو اس کا نا تواں جسم جہاں تمام آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے وہیں وہ ایسی قوت کے خزانے کا مالک بن جاتا ہے جس کے سامنے ماسواء اللہ دنیا کی ہر چیز ہیچ ہو جاتی ہے یہ طاقت روحانی بھی ہوتی ہے جسمانی اور نفسیاتی بھی۔جسمانی اعتبار کے لحاظ سے روزہ انسانی صحت کے محافظ کا کردار ادا کرتا ہے وہ انسان کے جملہ نظاموں کی خرابی کی اصلاح کرکے ان کے افعال کو درست کرتا ہے جس کی بدولت اس میں ایک ایسی نئی قوت جنم لیتی ہے جو امراض کا دفاع کرکے انسانی جسم کو پروان چڑھاتی ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے روزہ انسانی اخلاق ،کردار ،گفتار اور حسن سلوک پر بہت عمدہ اثر ڈالتا ہے اس سے انسانوں میں باہمی بھائی چارگی اور محبت کی فضاء قائم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان روزہ فقط اللہ کی رضا کے لئے رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی ادائیگی کے سلسلے میں اس کے دئیے ہوئے احکامات کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں رہتا اور انسان ان احکامات پر ہر ممکن عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔زبان درازی ،گالی گلوچ،دوسروں پر زیادتی اور بد اخلاقی سے روزہ دار پرہیز کرتا ہے چونکہ دین اسلام کا مقصد انسان کو ایک اعلیٰ زندگی پر گامزن کرنا ہے اس لئے روزہ اس کا تربیتی کورس بن جاتا ہے ۔غرض یہ کہ روزہ ایک ایسا امتیازی عمل ہے جو اللہ کے خوف کے حصول کا ذریعہ ہے اس سے انسان میں عاجزی و انکساری ،تونگری ،سخاوت ،شجاعت ،ہمدردی اور خود اعتمادی کی صفات پیدا ہوتی ہیں ۔
روزہ اور خود اعتمادی :۔اسلام نے انسانی فکر و عمل کی پاکیزگی اور تندرستی کیلئے جو عبادات و شعائر مقرر کئے ہیں ان میں روزے کو بڑی اہمیت ہے ۔اسلام جو دین فطرت ہے فطرت انسانی کی کمزوری سے بخوبی آگا ہ ہے اس نے روزے کو فرض قرار دے کر عادتوں کے مقابلے میں ہماری خود اعتمادی کو مضبوط بنانا چاہا روزے کی پہلی ضرب ہماری عادتوں پر پڑتی ہے وہ ہمارے سونے جاگنے کے اوقات تبدیل کرتا ہے کھانے پینے پر اور دوسری ضروریات پر پابندی عائد کرتا ہے یہ نہیں ہے کہ کوئی چیز ہماری دست رس سے باہر کردی جاتی ہے اور ہم مجبور اً اس کے بغیر گذار ا کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس کھانے پینے کا سارا سامان اور دوسری طبعی ضروریات ہمارے سامنے ہوتی ہیں لیکن ہم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ہم کوئی عادت پوری نہیں کرتے اور نہ ہی کسی عادت کا حکم مانتے ہیں اور پورا ایک مہینہ اس طرح گزارتے ہیں گویا ان عادتوں کے کبھی محکوم تھے ہی نہیں ۔
اسطرح ہر گیارہ مہینے کے بعد ایک مہینہ ہم اپنی عادتوں کو یکسر بدل دیتے ہیں ہم نیند کی زنجیروں کو توڑتے ہیں پیاس کے شدید مطالبے کو رد کرتے ہیں بھوک کی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہیں نفسانی خواہشات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتے ہیں پھر اگر ہمیں روزے کے حقیقی مقصد یعنی تقوی،کا پاس ہو تو ہم ہر قسم کے فواحش و منکرات سے بھی پرہیز کرتے ہیں جس سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم زندہ قوت ارادی کے مالک ہیں عادتوں کے ہم غلام نہیں بلکہ عادتیں ہماری غلام ہیں۔مضر عادتوں کو چھوڑ کر ہم مفید اور نئی عادتیں اختیار کر سکتے ہیں اپنے اخلاق و کردار کے لئے بہتر سانچے تلاش کرکے ان میں ڈھل سکتے ہیں عادتوں کی اس تبدیلی سے ہم میں اعتماد نفس کا جو ہر پیدا ہوتا ہے اگر ہم اس جوہر کو زندہ محفوظ رکھیں تو آئندہ زندگی کے دوسرے کئی مسائل پر ہم فتح حاصل کر سکتے ہیں ۔
روزہ کے تربیتی کورس کی مدت ایک مہینہ مقرر کی گئی ہے جس کے لئے ثابت قدمی اور استقلال کی ضرورت ہے جو شخص شروع سے آخر تک روزے کے تمام قواعد و شرائط کی پابندی کرے گا اس میں خود بخود یہ احساس پیدا ہوگا کہ وہ صبر آزما حالات سے مقابلے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور جب کبھی کوئی کٹھن مرحلہ پیش آئے تو مستقل مزاجی اور پامردی کا ثبوت دے سکتا ہے ۔
ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان المبارک میں ہمیں جو قوت ارادی ،خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کی دولت میسر آئی ہے وہ کسی صورت ضائع نہ ہونے پائے مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر حالتوں میں اخلاقی اوصاف کا یہ نہایت مفید موقع ضائع کر دیا جاتا ہے اس صورت حال کی ذمہ داری روزے پر تو ہر حال میں عائد نہیں ہو سکتی بلکہ در حقیقت وہ نقطہ نگا ہ ہی اس حالت کا ذمہ دار ہے جو روزے کے متعلق عوام میں پایا جاتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہنے سے روزے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اس کے برعکس قرآن حکیم نے واضح طور پر بتا دیا کہ روزہ وہ ہے جس سے انسان میں تقویٰ (پرہیز گاری )پیدا ہو دوسرے لفظوں میں روزہ ایک ”ذریعہ ہے اور پرہیز گاری اس کا مقصد مگر ہم نے ذریعہ کو مقصد سمجھ لیا اور مقصد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی نتیجہ ظاہر ہے ہم تیس دن بھوکے پیا سے بھی رہتے ہیں نماز قرآن مجید کی تلاوت بھی پابندی سے کرتے ہیں اور جب یہ مبارک مہینہ گزر جاتا ہے تو ہمارے ظاہر و باطن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اور پھر شوال میں ہم بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے شعبان میں تھے ۔
آج ضرورت ہے کہ ہم روزے کے متعلق اپنا نظریہ بدلیں اگر ہم اپنے طرز فکر کی اصلاح کرلیں اور ہمارا اعتقاد ہو کہ رمضان پر ہیز گاری کی مشق کا مہینہ ہے اور اس مشق کے جو نتائج حاصل ہوں وہ ہمیں برقرار رکھنا ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں حقیقی فوائد حاصل ہوں گے اور ہماری خود اعتمادی میں چار چاند لگ جائیں گے ساتھ ہی ہمارے ذہن اور اعمال میں پاکیزگی بھی پیدا ہوگی ۔
روزہ کے بارے میں اب تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے مگر جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہوا کہ روزہ تو ایک طبعی معجزہ ہے۔ قرآن حکیم میں سورة بقرہ کی آیات ۱۸۳سے ۱۸۷ تک دین کے اہم رکن روزہ کا حکم دیا گیا ہے اور تمام تفصیلات بتائی گئی ہیں۔آیت نمبر ۱۸۴ آخری حصہ میں بتایا گیا ہے کہ روزہ ایک اچھی چیز ہے جس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اس امر کا بھی اعلان کیا گیا کہ ہم اس سے حاصل کردہ رحمتوں کو سمجھ سکتے ہیں اگر ہم سچ کو پہچان سکیں تو قارئین آئیے ہم سائنس کے نظریہ سے دیکھتے ہیں کہ روزہ کس طرح ہماری صحت مند میں مدد دیتا ہے اور صحت کا محافظ ہے۔
روزہ اور خون کے روغنی مادے :۔ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران ہماری غذائی عادتیں بدل جاتی ہیں روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاً دل کے لئے مفید چکنائی ۔ایچ۔ڈی ۔ایل ۔کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ۔ایل۔ڈی۔ایل ۔اور ٹرائی گلیسر ائیڈ کی سطحیں بھی معمولی پر آ جاتی ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے احتیاطوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالہ (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔
دوران خون پر روزہ کے مفید اثرات :دن میں روزہ کے دوران جسم میں خون کی مقدار کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل کو انتہائی آرام ملتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤ ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls) کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاء جم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis) سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔اس کے علاوہ انسانی جسم کے اہم اعضاء کی بحالی بھی روزے کی برکت سے بحال ہو جاتی ہے ۔
روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں اس طرح روزے سے متعلق بہت سی اقسام کی حیاتیاتی برکات کے ذریعے ایک دبلا پتلا شخص اپنا وزن بڑھا سکتا ہے اور موٹے لوگ روزے کی عمومی برکات کے ذریعے اپنا وزن کم کر سکتے ہیں ۔
نظام اعصاب پر روزہ کے مفید اثرات :۔روزہ کے دوران اکثر لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے جس کا سبب لوگ روزے کو گردانتے ہیں مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس قسم کی صورت حال انسانوں کے اندر انانیت (egotistic) یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکو ن اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کر دیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں اس طرح دور حاضر کے شدید اور پیچیدہ مسائل جو اعصابی دباؤ کی صورت میں ہوتے ہیں تقریباً ناپید ہو جاتے ہیں۔روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔
روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعور جو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناو اور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
خلیات (Cells) رمضان المبارک کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں :۔روزہ کا سب سے اہم اثر جسمانی خلیوں کے درمیان اور اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم رکھنا ہوتا ہے چونکہ روزہ کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں جس سے خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح Epithelial Cells جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزہ کے ذریعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے ۔علم حیاتیات کے نقطہ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود ،گردن کے غدود تیموسیہ اور لبلبہ کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزہ کی برکت سے انہیں کچھ سستا نے کا موقع مل جائے اور آئندہ مزید کام کرنے کے لئے اپنی توانائیوں کو اکٹھا کر سکیں۔
نظام ہضم پر روزہ کے اثرات :نظام ہضم ہمارے جسم کا سب سے اہم نظام ہے اس کے اہم اعضاء لعابی غدود ،زبان ،گلا ،غذائی نالی ،معدہ ،بڑی آنت ،چھوٹی آنت ،مری ،جگر اور لبلبہ وغیرہ خود بخود ایک نظام سے عمل پذیر ہوتے ہیں جیسے ہی ہم کچھ کھاتے ہیں یہ خود کار نظام حرکت میں آجاتا ہے اور اس کا ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کر دیتا ہے اور ظاہر ہے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے مصروف عمل رہتا ہے تو اعصابی دباؤ اور غلط قسم کی خوراک کی وجہ سے یہ گھس جاتا ہے تب روزہ اسکے لئے تریاق ثابت ہوتا ہے اور ایک ماہ تک اس سارے نظام پر آرام طاری کر دیتا ہے مگر روزہ کا سب سے حیرت ناک اثر جگر پر یہ ہوتا ہے کہ اسے روزانہ چھ گھنٹوں تک آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی خون میں گلوبولین (جو جسم کو محفوظ رکھنے والے مناعتی نظام کو طاقت دیتا ہے )کی پیداوار پر صرف کر سکتا ہے ۔
روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اس کی پیداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے ۔
آنتوں پر روزہ کے بہت مفید اثرات ظاہر ہوتے ہیں یہ آنتوں کو توانائی بخشتا ہے انتڑیوں کے جال کو نئی توانائی اور تازگی عطا کرتا ہے آنتوں کے ہاضم رسوں کی خرابی کو دور کرتا ہے اس طرح ہم روزہ رکھ کر ان تمام بیماریوں کے حملے سے محفوظ ہو جاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوتے ہیں ۔
روزہ کے بے شمار فوائد:یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ روزہ خرابی معدہ کے مریضوں کیلئے یا بھاری جسم والوں کے لئے بہت مفید ہے طب یونانی کے علاوہ مغرب کے بلند پایہ ڈاکٹر بھی روزہ کی طبی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔غذا کے ہضم ہونے میں بدن کی جو قوت صرف ہوتی ہے روزہ رکھنے کی صورت میں یہی قوت بدن سے فاسد اور ردی مادوں کو خارج کرتی ہے جس سے جسم پاک وصاف ہو جاتا ہے پرانے امراض مثلاً دائمی نزلہ ،ذیابیطسی ،ہائی بلڈ پریشر اور معدہ کی خرابی میں روزہ بہت ہی مفید اثرات مرتب کرتا ہے اس سے بدن کی قوت مدافعت کو اس قدر طاقت ملتی ہے (قوت مدافعت جسم انسانی کو امراض وآلام سے محفوظ رکھتی ہے )کہ سال بھر تک بدن صحت مند رہتا ہے اس کے علاوہ ایسے لوگ جو غیر شادی شدہ ہیں روزہ رکھنے سے ان کے اندر ایک ڈسپلن صبر اور ضبط نفس پیدا ہو جاتا ہے ۔
کیا کھائیں کیا نہ کھائیں ؟:۔روزہ رکھنے سے نہ صرف روحانی ،پاکیزگی اور تزکیہ نفس ہوتا ہے بلکہ انسان مختلف امراض سے بھی نجات حاصل کرتا ہے روزہ میں جسم انسانی توانائی سے بھر جاتا ہے مگر یہ تمام فوائد صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم غذا کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں اور کھانے پینے میں اعتدال کی راہ اختیار کریں آج بھی اکثر لوگو ں کو یہ غلط فہمی ہے کہ روزہ رکھنے سے کمزوری آتی ہے یہ سراسر غلط ہے کیونکہ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائڈریٹ اجزاء سے پر غذا عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کی جاتی ہے پھر تمام روز سحری میں بھی غذا استعمال کی جاتی ہے اس طرح روزہ رکھنے سے کسی بھی قسم کی کمزوری لاحق نہیں ہوتی بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس صورت میں جسم سے فاسد مواد خارج ہو جاتے ہیں ۔
روزہ دار کمزوری کے خیال سے خوب کھاتے ہیں افطاری کے وقت پکوڑے ،سموسے ،مٹھائی ،کھجور اور پھل وغیرہ شوق سے کھاتے ہیں پھر کھانے میں گھی سے پر مختلف اقسام کے کھانے بڑے مزے سے کھائے جاتے ہیں سحری میں پر اٹھے انڈے ،گوشت وغیرہ سے کام و دہن کی تواضع کی جاتی ہے جس سے کھٹے ڈکار آتے ہیں طبیعت میں بوجھل پن ہوتا ہے اور معدہ خراب ہو جاتا ہے اس لئے رمضان المبارک میں ہلکی غذا استعمال کرنا سب سے عمدہ خیال کیا جاتا ہے خاص طور سے ایسی غذا جس میں گھی وغیرہ کی مقدار برائے نام ہو۔افطار کے وقت کھجور اور کوئی نمکین چیز استعمال کریں نمک پارے یا نمک استعمال کریں کیونکہ انسان تمام دن فاقہ سے ہوتا ہے اس لئے جسم میں نمک کی کمی ہو جاتی ہے اور جسم نمکین چیز کا طالب ہوتا ہے تاکہ اس کی کمی کو پورا کر سکے ۔کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے کیونکہ یہ دن بھر کی کمزوری کو دور کر دیتی ہے ایک چھٹانک کھجور میں ۱۶۰ غذائی حرارے قوت ہوتی ہے ایک چھٹانک انگور میں ۲۶ اور ایک چھٹانک انار میں ۳۲ حرارے غذائی قوت ہوتی ہے افطار کے وقت چائے اور دودھ بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔آلو ،بینگن ،ماش کی ڈال چنے وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں ۔پلاو یا کھچڑی کھائیں رات کا کھانا کھانے کے بعد تراویح پڑھیں تاکہ کھانا ہضم ہو جائے صبح سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں خاص طور پر سبزی اور بکری کے گوشت کا شوربہ اور پیالی بھر چائے نہایت مفید ہے ۔
روزہ کے سائنسی انکشافات :اسلام نے روزہ کو مومن کے لئے شفاء قرار دیا اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے ۔فرانس میں آج بھی یہودی ایک پروجیکٹ کے تحت کام کر رہے ہیں جس کا کام یہ تحقیق کرنا ہے کہ اسلام کے اندر کیا کیا اچھائیاں ہیں تو ہم بن کہے اسلام قبول کرلیں گے چنانچہ اس پر عمل کرتے ہوئے یہودی باقاعدہ مہینہ بھر روزہ رکھتے ہیں مسواک کرتے ہیں وضو کرتے ہیں نماز اور تلاوت کی پابندی کرتے ہیں باقاعدہ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں سحری و افطاری کرتے ہیں اور عید کی نماز بھی پڑھتے ہیں ۔
گاندھی جی فاقہ کے لئے مشہور تھے اور روزہ کے قائل تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لیتا ہے اگر تم جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دو اور روزے رکھو سارا دن جاپ الا پو اور پھر شام کو بکری کے دودھ سے روزہ کھو لو۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر مورپالڈ اپنا قصہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور جب روزے کے باب پر پہنچا تو میں چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولہ دیا ہے اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو اور کچھ نہ دیتا صرف روزے کا فارمولہ ہی دے دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کر ان کے پاس اور کوئی نعمت نہ ہوتی میں نے سوچا کہ اس کو آزمانا چاہیے پھر میں نے روزے مسلمانوں کے طرز پر رکھنا شروع کئے میں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Stomach Inflammation) میں مبتلا تھا کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقعی ہو گئی ہے میں نے روزوں کی مشق جاری رکھی کچھ عرصہ بعد ہی میں نے اپنے جسم کو نارمل پایا حتیٰ کے میں نے ایک ماہ بعد اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی ۔“
پوپ ایلف گال ہالینڈ کا سب سے بڑا پادری گزرا ہے روزے کے متعلق اپنے تجربات کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ ”میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور وزنی ہم آہنگی محسوس کی میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں کچھ اور طریقہ بتاؤں لیکن میں نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ ان میں وہ مریض جو لا علاج ہیں ان کو تین روز کے نہیں بلکہ ایک مہینہ تک روزے رکھوائے جائیں ۔میں نے شوگر،دل کے امراض اور معدہ میں مبتلا مریضوں کو مستقل ایک مہینہ تک روزہ رکھوائے ۔شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ا ن کی شوگر کنٹرول ہو گئی ،دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا سب سے زیادہ افاقہ معدہ کے مریضوں کو ہوا ۔“
فارما کولوجی کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے روزے دار شخص کے معدے کی رطوبت لی اور پھر اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا اس میں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ غذائی متعفن اجزاء(food particles septic)جس سے معدہ تیزی سے امراض قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں ڈاکٹر لوتر کا کہنا ہے کہ روزہ جسم اور خاص طور معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے ۔
مشہور ماہر نفسیات سگمنڈفنرائیڈ فاقہ اور روزے کا قائل تھا اس کا کہنا ہے کہ روزہ سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے روزہ دار آدمی کا جسم مسلسل بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کی صلاحیت پا لیتا ہے روزہ دار کو جسمانی کھِنچاؤ اور ذہنی تناو سے سامنا نہیں پڑتا۔
جرمنی ،امریکہ ،انگلینڈ کے ماہر ڈاکٹروں نے رمضان المبارک میں تمام مسلم ممالک کا دورہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رمضان المبارک میں چونکہ مسلمان نماز زیادہ پڑھتے ہیں جس سے پہلے وہ وضو کرتے ہیں اس سے ناک ،کان ،گلے کے امراض بہت کم ہو جاتے ہیں کھانا کم کھاتے ہیں جس سے معدہ وجگر کے امراض کم ہو جاتے ہیں چونکہ مسلمان دن بھر بھوکا رہتا ہے اس لئے وہ اعصاب اور دل کے امراض میں بھی کم مبتلا ہوتا ہے ۔
مغربی ماہرین سائنس ،ماہرین طب اور ماہرین نفسیات نے مل کر اسلامی زندگی پر تحقیق اور ریسرچ کا نیا باب کھولا ہے کیونکہ مغرب موجودہ طرز زندگی سے تنگ ہے اور اس وقت سب سے زیادہ خودکشی ،عصمت دری ،ہم جنس پرستی ،اغواء،قتل ،انتقامی کاروائیاں ،بم دھماکے ،اجتماعی قتل ،ناجائز اولاد ،طلاقیں وغیرہ جیسے مہلک خطرناک اور دنیا کو تباہی کے گڑھے میں ڈالنے و الے حادثات کی طرف یورپ اور مغربی معاشرہ گامزن ہے اب وہ اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں وہ بخوبی سمجھنے لگے ہیں کہ ان تمام سے نجات کا واحد راستہ صرف اور صرف اسلام ہی ہے ۔مستشرقین اس وقت اسلامی تعلیمات کو کھنگال کر ان میں اپنے لئے اصلاحی راستے اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں آج یورپ پھر پھرا کر واپس اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے اور ہم ہیں کہ یورپ کی تقلید میں اندھے دوڑے چلے جار ہے ہیں ۔روزہ کے بارے میں یورپی ماہرین آج بھی تحقیق کر رہے ہیں حتیٰ کی وہ اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ روزہ جہاں جسمانی زندگی کو نئی روح اور توانائی بخشتا ہے وہاں اس سے بے شمار معاشی پریشانیاں بھی دور ہوتی ہیں کیونکہ جب امراض کم ہوں گے تو ہسپتال بھی کم ہوں گے اور ہسپتال کا کم ہونا ہی معاشرہ کے پر سکو ن ہونے کی علامت ہے۔
گوگل سرچ کی مدد سے یہ مضون یہاں پیسٹ کیا ھے ۔۔
نبی کی نعت لکھوں یہ کہاں مجال مجھے
نبی کی نعت لکھوں یہ کہاں مجال مجھے
خدا کرےکہ ملے یہ بھی اب کمال مجھے
۔۔۔۔
قلم میں اب مرے خوشبو ہے نامِ احمد کی
میں جانتی ہوں نہ آئے گا اب زوال مجھے
۔۔۔۔
یہ کیا کہ چاروں طرف ہے منافقوں کا ہجوم
میں گر رہی ہوں خداوندا اب سنبھال مجھے
۔۔۔۔
اے خاکِ بطحا رگوں میں اُتر لہو کی طرح
محبتوں کے سمندر کبھی اچھال مجھے
۔۔۔۔
مدینے والے سے جس دن سے ہے سوال کیا
کسی سے آتا نہیں کرنا اب سوال مجھے
۔۔۔۔
ہو میری روح کے زخموں پہ سایہ ء رحمت
مرے وجود سے باہر دے اب نکال مجھے
۔۔۔۔
سوائے ارضِ مدینہ کے روئے جنت کی
زمیں پہ ملتی نہیں ہے کوئی مثال مجھے
۔۔۔۔
جمالِ خالقِ اکبر نبی کے نام میں ہے
اے کاش مرتے نظر آئے یہ جمال مجھے
۔۔۔۔۔
زمینِ شہرِ مدینہ کو اوڑھ کر سو لوں
نصیب میں جو زیارت ہو اگلے سال مجھے
۔۔۔۔۔
یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں
بروز حشر بچا لے نبی کی آل مجھے
ڈاکٹر نگہت نسیم
اسلام و علیکم
سر آپ کا آپی آپکا اور پیاری شاہین آنٹی آپ سب کا بہت شکریہ ۔۔ جزاک اللہ ۔۔ اور دُعا کے لئے بے حد سپاس گُزار ہوں شاہین آنٹی آج کل اس دُنیا کے بازار میں سب مل جاتا ہے کسی نہ کسی قیمت پر ۔۔ مشکل ہے تو بس کسی کے دل سے نکلی ہوئی سچی دُعا کا ملنا مشکل ہے میں دل سے شکر گزار ہوں آپ سب کی جو دُعا میں یاد رکھتے ہیں ۔
خدا کی ذات آپ لوگوں کو دین دُنیا کی ہر نعمت اور خوشی نصیب فرمائے الہی آمین
ماشا اللہ جزاک اللہ آپی آپ کی نعت بہت ہی خوبصورت ہے خدا آپ کو جزائے کثیر عطا فرمائے الہی آمین
طالب دُعا
سیدہ ثمرین بخاری
یہی تمنا ہے نگہت نسیم کے دل میں
بروز حشر بچا لے نبی کی آل مجھے
آمین ثمہ آمین