میں آج وزارت اور تمام پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں ، ذوالفقار مرزا

سماج دشمن عناصر کی سرکوبی اور امن قائم کرنے کے لیے لیاری میں رینجر ز آپریشن خود حکمران پارٹی کے اپنے گلے ہی پڑگیاہے اور اس میں بڑے پیمانی پر ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی ہے۔ ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کراچی کے عہدیداراور ذوالفقار مرزا مستعفی ہوگئے ہیں۔

کراچی پریس کلب میںپریس کانفرنس کے آغاز پر اُنہوں نے صحافیوں سے التجاء کی ہے کہ اُن کو پہلی اورآخری مرتبہ سنجیدہ لیاجائے اوراُن کے طرز گفتگو کو چھوڑ کر اُن کی بات پرتوجہ دی جائے جبکہ اُنہوں نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہاکہ اُنہوں نےآج تک جو بھی بات کی ہے وہ سچ پر مبنی ہے اور تاقیامت اُس پر قائم رہیں گے جبکہ آج بھی سچ کے علاوہ کچھ نہیں‌کہیں گے.

اُنہوں نے شاہی سید کے ڈنر میں اپنے الفاظ پر اردوبولنے والوں سے معذرت کرتے ہوئے کہناتھا کہ آج وہ اپنی ذندگی کا نہایت اہم فیصلہ کرنے جارہے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے لیاری کے عوام سے گذارش کی ہے کہ وہ خاموش رہیں اور اُنہوں نے واضح کیاکہ اُن کا پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں‌ہے اور صدرزرداری اُن کے دوست ہیں اور دوست ہی رہیں گے. ذوالفقار مرزا نے کہاکہ آج وہ جو کچھ ہیںوہ بے نظیر بھٹو اورآصف علی زرداری کی وجہ سے ہیں.

اُن کاکہناتھاکہ آج صبح ایسے لگتاتھاکہ کراچی میں کوئی جیسے اُسامہ بن لادن آگیاہے. مرزاکاکہناتھاکہ وہ ہرچیز قربان کرکے سچ کے لیے لڑے ہیں اورآئندہ بھی لڑتےرہیں گےاور ایک دن ظالموں کا خاتمہ ہوگاجبکہ آج اُن کے مستعفی ہونے سےقاتلوں کے دل ٹھنڈے ہوجائیں‌گے. ذوالفقارمرزا کاکہناہے کہ لیاری آپریشن بہت بڑی سازش ہے اور آج وہ تمام سیاسی بندھن توڑ دیں گے۔ اُن کاکہناتھاکہ آج جوبچہ گھر سے نکلتاہے تواُسے پکڑ کر ماردیاجاتاہےاورجس پر ہمدردی ہوتی ہے تو اُسے لاش مل جاتی ہے ورنہ مظلوم بننے کے لیےاپنا جھنڈا اورنمبرلگا کردفنا دیاجاتاہے.

اُنہوں نےاعلان کیاکہ وہ آج وزارت، نائب صدر اور اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہورہے ہیں اورآج باہراُن کی گاڑی پر سے باقی جھنڈے اتارے جاچکے ہوں گےاور اب وہ واپس صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے جائیں گے اور یہ حیثٰت اُن سے مرتے دم تک کوئی نہیں چھین سکتااور انشاء اللہ پیپلز پارٹی کا جھنڈا ہی اُن کا کفن بنے گا. اُن کاکہناتھاکہ آج وہ اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرنے کے لیے تمام حکمرانوں کووفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت دکھانا چاہتے ہیں.

اُن کاکہناتھاکہ رحمن ملک پیدائشی اور سو فیصد جھوٹا ہے اور وہ صرف بھائی لوگوں کی حفاظت میں‌مصروف ہے جس کے بارے میں وہ کئی مرتبہ پارٹی قیادت کو آگاہ کرچکے ہیں. ذوالفقار مرزا کاکہنا تھاکہ سنٹرل جیل سے درجنوںٹارگٹ کلرز کو پے رول پر رہاکروالیاگیااور وہ آج تک واپس جیل میں نہیں گئے جس کے بارے میں اُن کے پاس ثبوت موجود ہیں اورکراچی میں نوجوانوں کے قتل کا صرف ایک آدمی ذمہ دارہے.

اُنہوں نے کہاکہ اگر پاکستان، صدر، وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کی دیگرقیادت کو کوئی نقصان پہنچاتو اُس کے ذمہ دار صرف رحمن ملک ہیں اور اگر کوئی نقصان ہوا تو وہ رحمن کے ہاتھوں سے ہی ہوگا کیونکہ رحمن ملک کاپاکستان میں‌اپنا گھر ہی شاید نہیں ہےجبکہ آج تک ملک کو فوج اور آئی ایس آئی نے ملک کو بچایاہواہے. اُن کاکہناتھاکہ اُنہوں نے صدر تک یہاں تک کہاکہ ملک میں‌ ایسی یونیورسٹیاں بنادیں جہاں‌جھوٹ کی تعلیم دی جاتی ہو.

سابق وزیرداخلہ نے کہاکہ سی پی ایل سی کے سربراہ کا تعلق خدمت خلق فاؤنڈیشن سے ہے جو ایک سیاسی تنظیم ہے اوراس تنظیم کی ویب سائٹ پراحمد چنائے کا نام بھی موجود ہے. اُنہوں نے احمد چنائے سے سوال کیاکہ وہ بتائیں‌کہ بھتہ بابا لاڈلا نہیں‌لے رہا؟ اُنہوں نے بتایاکہ وہ احمد چنائے کو سی پی ایل سی کا سربراہ نہیں لگانا چاہتے تھے تاہم گورنر سندھ کی ضداور لندن سمیت دیگر علاقوں سے ٹیلی فون کے بعد اُنہوں نے اُنہیں نامزدکیا لیکن صرف احمد چنائے کا عرصہ ایک سال رکھاگیا جبکہ سی پی ایل سی کا تقرر چار سال کے لیے ہوتاہے.

ذوالفقار مرزا نےانکشاف کیاکہ اُنہیں معلوم نہیں کہ اور کتنے صحافی موت کے منہ میں جانے والے ہیں جبکہ جیو نیوز کے رپورٹر ولی باربر کو ایم کیوایم کے ٹارگٹ کلرز نے قتل کیااور لیاقت نامی کارکن کی گاڑی واردات میں استعمال ہوئی جبکہ اس ساری واردات کا بنیادی کردارجس نے گولیاں ماری ہیں وہ لاپتہ ہے اور ابھی تک اُس کے بارے میں اُن کو معلوم نہیں‌جبکہ اُنہوں نے ہرفورم پر الطاف حسین بھائی کی جماعت ایم کیوایم کو دہشت گرد تنظیم قراردیاہے.

زوالفقارمرزا نےبتایاکہ ایک پولیس اہلکاراشتیاق ایم کیو ایم کاسرکاری ٹارگٹ کلرہے جسے ایک دفعہ معطل کیاگیا اوربعدازاں ایک وکیل کی سفارش پر بحال کردیاگیاجبکہ وہ خود جانتے ہیں کہ اُن کے دن گنے جاچکے ہیں‌. اُن کاکہناتھاکہ اُن سے پہلے تھانے نیلام ہواکرتے تھے اور وزیروں کو ڈانس پارٹیوں میں شمولیت کے لیےکوکین تک تھانے سے مہیا کی جاتی تھی جبکہ اُن کے آنے کے بعد اُنہوں نے تمام تھانوں کو احکامات جاری کیے کہ آج کے بعد اُن کے نام پر یا دفتر کے لیے کوئی تھانہ پیسے مہیانہ کرے.

ذوالفقار مرزا نے بتایاکہ اُنہوں نے اپنی جیب سے پولیس افسران کو تین کروڑ روپے ادا کیے جبکہ بیس لاکھ روپے تک کسی اہلکار کی شہادت پر معاوضے کا اعلان کیا. اُنہوں نے واضح کیاکہ آج تک اُنہوں نے کسی کا ایک روپیہ نہ کھایاہے اور نہ کسی کو کھانے دیں گے. سابق وزیرداخلہ نےکہاکہ آج وہ وزارتیں چھوڑ کر مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیےجارہے ہیں اور وہ تاجروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ کھڑے ہوں‌.

اس ساری تقریر کے دوران اُن کا دایاں ہاتھ قرآن پاک پر موجود رہا جبکہ اُنہوں نے ان تمام الزامات کا دستاویزی ثبوت بھی دیا.
لیجئے اب ہم تبصرے شروع کرتے ہیں ..

27 thoughts on “میں آج وزارت اور تمام پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں ، ذوالفقار مرزا”

  1. مبینہ اطلاعات کے مطابق الطاف حسین اسکاٹ لینڈ کی تفتیشی ٹیم کی حراست میں ہیں ۔۔ آج اگر زولفقار مرزا کی تقریر کے جواب میں الطاف کی لائیو تقریر آتی ہے تو وہ اسکاٹ لینڈ کی حراست میں نہیں ہیں اور اگر صرف بیان آتا ہے تو یقیننا وہ حراست میں ہیں ۔۔۔

  2. زرداری آج جشن آزادی رحمان ملک اور الطاف حسین منا رہا ہو گا ۔۔ او مائی گارڈ واٹ آ ریلیف فور پی پی پی

  3. سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ سب ہو رہا تھا اس وقت حکومت اور زولفقار کہاں تھے .. اس وقت ایم کیو ایم کے تلوے کیوں چاٹے گئے .. اب حکومت کی کریڈٹ ایبلٹی خطرے میں پڑ گئی ہے .آخر حکومت کیوں خاموش رہی اور اب بھی کیوں ہے ..

  4. اوہ میرے خدا اب رحمان ملک کے ستارہ امتیاز کا کیا ہو گا ۔۔؟ وہ اب زولفقار مرزا کو ملنا چاہئے یا رحمان ملک کو خود ہی انہیں دے دینا چاہئے

  5. سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے
    قاتل کون ہے اور ظالم کون
    کون ہے جو کراچی کی بدامنی اور انارکی کا ذمہ ہے
    اس سے زیادہ اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ
    کل کیا ہوگا
    کل کراچی میں کتنے بے گناہوں کے جنازے اٹھیں گے
    کتنی گاڑیاں جلیں گی
    کتنے بچے یتم ہونگے
    کتنی ماوں کی گود اجڑے گی
    کتنی بہنوں کے بھائی بچھڑیں گے
    دیکھنا یہ ہے کہ کل کا سورج اہلیاں کراچی کیلئے کیا لے کر طلوع ہوتا ہے

    اہمیت کی بات یہ ہے کہ کل کا سورج

  6. ایم کیو ایم کے ذرائع کہ رہے ہیں ، کہ الطاف بھائی بیمار ہیں
    اسکے علاوہ اس وقت جب میں یہ لکھ رہا ہوں امریکی ایمبیسی میں اس پریس کانفرنس پر اجلاس جاری ہے
    اور بہت جلد آپ امریکی موقف بھی جانیں گے
    ویسے
    رمضان کے مہینے میں ، 27 رمضان کو ، عصر کے وقت ، جس کی قسم اللہ نے سورہ عصر میں قسم کھائی ہے ، ویسے عصر زمانے کو کہتے ہیں ، قرآن پاک کو سر پر رکھ کہ ایک گرا پڑا مسلمان بھی جھوٹ بولنے کا رسک نہیں لے سکتا ، تو میں تو ذولفقار مرزا کی باتوں پر یقین کروں گا ، اور ویسے بھی ایم کیو ایم نے ایک دن کھل کہ سامنے آنا ہی ہے ، سو اب وہ آ جائے گی ، ہاں افسوس اس بات کا ہے ، کہ پاکستان والوں کی عید شاید اچھی نہ گذرے اب

  7. اگر زولفقار مرزا کے لگائے ہوئے سارے الزامات درست ہیں تو الطاف حسین اور رحمان ملک دونوں ہی پاکستان کے غدار ہیں اور دہشت گرد ہیں ۔۔سپریم کورٹ پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان دونوں کی گرفتاری اعلان کرے اور مکمل تفتیش کرے ۔۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ الزامات ہیں جس میں امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان توڑنے کی کوشش میں امریکی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بات کی گئی ہے ۔۔۔ جو ملک و قوم کا غدار ہے اسے پھانسی لگنی چاہئے

  8. باجی آپ نے درست کہا کہ ” الطاف حسین اور رحمان ملک دونوں ہی پاکستان کے غدار ہیں اور دہشت گرد ہیں ؛؛لیکن میں اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں کے علاوہ پوری حکومتی ذمہ بمشول صدر اور وزیر اعظم بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہیں
    لہذا صرف سپریم کورٹ ہی نہیں بلکہ پاک فوج اور ملکی دفاع کی ذمہ دار تمام اداروں کا فرض اولین ہے کہ وہ ان ملک دشمن عناصر کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے پاکستان بچانے کی کوشش کرے اور ان الزامات کو ثابت کرکے انہیں پاکستان آئین و قانون کے مطابق نشان عبرت بنائے

  9. ذوالفقا مرزا
    بھی
    ناہید خان
    اور
    شاہ محمود قریشی
    کے
    نقش قدم پر چل پڑا ہیں
    اپنی پارٹی
    کے
    کالے کرتوتوں
    سے پردہ اٹھانے
    کے
    ساتھ ساتھ
    ملک دشمنوں
    کے
    خلاف واضح موقف اپنانے
    پر
    مرزا صاحب واقعی قابل تحسین ہیں
    یوں لگتا ہے
    کہ
    ملک میں سیاست دانوں کا ضمیر جاگنا شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

  10. ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
    ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

  11. السلام علیکم
    ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ، گناہوں کا گھڑا بھر چکا ہے اور اب چھلکنے لگا ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. مرزا جی کا ایک ہی نعرہ
    زرد ہوا زردار بچارہ
    بھائی الطاف کوتوال سدھارے
    باؤ رحمان ہے’ بُکل ‘ اندر
    دم دما دم مست قلندر
    دما دما دم مست قلندر

  13. تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی
    تم نے بازاروں میں عقلوں کی خریداری کی

    اینٹ سے اینٹ بجادی گئی خود داری کی
    خوف کو رکھ لیا خدمت پہ کماداری کی

    اور آج تم مجھ سے میری جنس گراں مانگتے ہو؟
    حلف ذہن و وفاداری جاں مانگتے ہو ؟

    جاؤ یہ چیز کسی مدح سراں سے مانگو
    طائف والوں سے ڈھولک کی صدا سے مانگو

    مجھ سے پوچھو گے تو عدو بولے گا
    گردنیں کاٹ بھی دوگے تو لہو بولے گا

    گردنیں کاٹ بھی دوگے تو لہو بولے گا

  14. پاکستان کی سیاست نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ کراچی کے مسئلے کو مرکزیت حاصل ہو گئی ہے۔ تمام سیاسی مبصرین اور قائدین کو اس امر کا احساس ہے کہ کراچی کا مسئلہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بات کا احساس ہونے کے باوجود ملکی سلامتی کی حفاظت کے اداری، سیاسی حکومت، وزارت عظمیٰ اور صدارت کے منصب پر فائز افراد کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھا رہے ہیں جس سے امید کی جاسکے کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری اور بدامنی تو 1986ءسے جاری ہے لیکن اس صورت حال میں سنگینی گزشتہ 10 برسوں میں آئی ہے کہ جب سندھ اور کراچی میں ایم کیو ایم کو مکمل حکومت دے دی گئی اور سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کی مکمل سرپرستی کی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ 12 مئی کو ایم کیو ایم نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال کرنے والے سیاسی جماعتوں کے کارکن اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے اور عام شہریوں کے قتل کا بازار گرم کر دیا اور اسی روز جنرل (ر) پرویز مشرف نے راولپنڈی، اسلام آباد میں جلسہ¿ عام سے خطاب کرتے ہوئے عام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے قتل عام کو عوامی قوت کا مظاہرہ قرار دیا۔ چاہے جنرل (ر) پرویز مشرف ہوں یا ایم کیو ایم، ان کو امریکا، برطانیہ جیسی عالمی قوتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے آخری دور میں جو تحریک چل پڑی تھی اس کی وجہ سے امید ہوئی تھی کہ پاکستان کا نظام حکومت و سیاست کم از کم آئینی طرز حکمرانی اور قانون کی بالادستی کی بنیاد پر قائم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا، اب اس کی ذمہ داری سیاسی قوتوں اور بالخصوص پاکستان میں انتخابی نظام کو یرغمال رکھنے والے عناصر پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت لندن میںکل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 2 اہم سیاسی رہنما یعنی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف اپنی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ملک میں واپس نہیں آسکتے تھے۔ نئے انتخابی مرحلے پر جنرل (ر) پرویز مشرف کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اب وہ ان رہنماوں کو ملک واپس آنے سے مزید روک سکیں۔ یہ مرحلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نازک موڑ تھا۔ اس موقع پر لندن کی کل جماعتی کانفرنس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ کوئی جماعت بھی ایم کیو ایم کو اپنا اتحادی نہیں بنائے گی۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ تھی کہ ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے ہی نہیں اس کا کردار کسی سیاسی جماعت سے کوئی مماثلث نہیں رکھتا۔ دوسرا فیصلہ یہ ہوا تھا کہ جب تک جنرل (ر) پرویز مشرف باوردی صدر ملک میں برسر اقتدار ہیں ان کی نگرانی میں انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ اس فیصلے کی خلاف ورزی سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے کی جو اپنی اہلیہ کی موت کے بعد پاکستان کی سیاست میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ ہمدردی کی لہر کی وجہ سے تقریباً تمام سیاسی قوتوں نے ان کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ دوسری خلاف ورزی یہ کہ انہوں نے ایم کیو ایم کو اپنا کلیدی حلیف بنایا۔ یہ بات واضح ہے کہ اوّل دن سے امریکی اور برطانوی سفارت کار، سیاست کار اور حکومتی عہدیدار پاکستان میں مستقبل کی سیاست گری کی نگرانی کرتے رہی، صدر آصف علی زرداری نے امریکی سفارت خانے جاکر خفیہ مذاکرات کیے اور موجودہ حکومتی سیاسی انتظام بروئے کار آیا۔ اس نظام نے پاکستان کے مستقبل سے پوری قوم کو مایوس کر دیا ہے۔ صرف 3 برسوں میں کراچی کی جو صورت بنی ہے اس نے ملک کی سلامتی کے بارے میں بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنے سر پر قرآن رکھ کر پریس کانفرنس کی ہے۔ اس پریس کانفرنس سے پاکستان کی قومی زندگی کی نزاکت اور سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پہلی بار صاف الفاظ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے انہوں نے سندھ صوبائی اسمبلی کی رکنیت، صوبائی کابینہ اور پارٹی کے صوبائی نائب صدر کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات بھی انہوں نے درست کہی ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کیا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی اور صدر کے بارے میں کوئی بات نہیں، کی البتہ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو کراچی کے قاتلوں کا سرپرست قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس صرف 2 جماعتوں اور خود پارٹی کے داخلی اختلافات کا شاخسانہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق قومی سلامتی سے ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے واضح طور پر رحمن ملک اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو پاکستان توڑنے کی امریکی سازش کا آلہ کار قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایک اور صوبائی وزیر پیر مظہر الحق کی گواہی کے ساتھ یہ انکشاف کیا ہے کہ الطاف حسین نے ان سے کہا کہ امریکا پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے اور وہ اس سازش میں امریکا کے ساتھ ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو پہلی بار نہیں کی گئی ہیں۔ لیکن یہ بات کسی ذمہ دار منصب سے تعلق رکھنے والے فرد نے پوری ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنی پارٹی قیادت سے کہا تھا کہ وہ 15 دن کے اندر کراچی میں امن قائم کر سکتے ہیں، لیکن ایم کیو ایم کی بلیک میلنگ کی وجہ سے انہیں وزرات سے ہٹا دیا گیا۔ تمام قاتلوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی کی ذمہ داری سابق صوبائی وزیر داخلہ نے وفاقی وزیر داخلہ پر عائد کی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس نے پاکستان اور سندھ کی سیاست کے سارے منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے اس معاملے میں سب سے اہم سوال صدر آصف علی زرداری کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اس پوری صورت حال میں صدر آصف علی زرداری کے کردار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ امریکا صدر آصف علی زرداری کی حکومت کا سرپرست ہے اس کا انکشاف وکی لیکس رچرڈ ہالبروک اور سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی گفتگو میں کر چکا ہے۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی کا اتحاد امریکا نے کرایا ہے۔ یہ تینوں جماعتیں اپنے سیکولر نظریاتی پس منظر کی بنا پر اسلام اور اسلامی بیداری کے خلاف امریکی جنگ کی اتحادی بن گئی ہیں۔ اسی کا حصہ بن کر الطاف حسین نے کراچی میں طالبانائزیشن کا شوشا چھوڑا اور پختونوں کا قتل عام شروع کرا دیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم کے بارے میں تو شہادت دے دی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور عبدالرحمن ملک دونوں صدر آصف علی زرداری کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ایک ہی شخص کے دو قریبی ساتھیوں میں اختلاف ہو لیکن یہ مسئلہ امور مملکت سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے عبدالرحمن ملک کو پاکستان توڑنے کی امریکی سازش کا کردار بتایا ہے۔ اس صورت حال میں صدر آصف علی زرداری کی پوزیشن کیا بنتی ہی؟ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس پاکستان اور سندھ کی سیاست پر اثر انداز ہو گی۔ اس سے سیاست میں انتشار مزید بڑھے گا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد برطانیہ اور امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے بارے میں اپنے مو¿قف کا اظہار کریں۔ الطاف حسین برطانیہ کے شہری ہیں۔ ایم کیو ایم ایک دہشت گرد تنظیم ہی، امریکی دہشت گردی کی جنگ فروغ دہشت گردی کی جنگ ثابت ہو چکی ہے اور اس کی علامت کراچی ہے۔

  15. ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ دشمنوں کے متحدہ کے خلاف اس قسم کے الزامات اور اس پر مبصرین کے بھنگڑے کوئ نئی بات نہیں ہے۔ کل یہی الزامات لگانے والے خود ان الزامات کی تردید کردیں گے جیساکہ یہ ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ پھر یہ بھنگڑے ماتم میں بدل جائیں گے۔ جب متحدہ اپنی شرائط منواکر پھر حکومت میں شامل ہوجائے گی تو ایک بار پھر دلوں پر چھریاں چلنی شروع ہوجائیں گی۔ کیونکہ متحدہ کی جڑیں عوام میں ہیں اسلئے متحدہ کو اپنے خلاف اس پروپیگنڈے اور بھنگڑوں کا یہ فائدہ ہوگا کہ ان کا ووٹ بینک اور بڑھ جائے گا اور ہمیشہ کی طرح وہ پھر ماضی سے زیادہ ووٹ اور نشتیں حاصل کریں گے۔ سپریم کورٹ کراچی میں بیٹھی ہوئ ہے اور وہ چھان بین کررہی ہے۔ ابھی تک پولس اور حکومت نے جو شواہد پیش کئے ہیں ان پر کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔

    میں متحدہ کا جواب یہاں چسپاں کررہا ہوں۔

    KARACHI: 28TH AUGUST 2011:

    A joint meeting of the Co-ordination Committee of Muttahida Quami Movement (MQM) was held in Karachi and London simultaneously today and it strongly condemned the false accusations and malicious and disparaging allegations made against the MQM by Zulfiqar Mirza. In a statement after the meeting the Co-ordination Committee said that Zulfiqar Mirza has been trying to drive a wedge between the permanent residents of Sindh. Following this malicious agenda, Mirza inflamed the fire of hatred in Sindh several times, and today he has once again made a vicious conspiracy to kindle the fire of hatred, violence and turmoil in Sindh.

    Referring to the absurd allegations by Zulfiqar Mirza the Co-ordination Committee said that such allegations have always been leveled against the MQM ever since its inception these ludicrous allegations have been proved wrong in the fullness of time. The MQM was accused of Jinnahpur in the past but those who leveled the allegation later admitted that it was a drama.

    The Co-ordination Committee said that Zulfiqar Mirza should have told the nation why the incidents of kidnapping for ransom of the children of businessmen, industrialists, traders and shopkeepers and extortion started in Karachi soon after his becoming the Home Minister. Zulfiqar Mirza should have informed as to who soaked the shopkeepers of Kabari Market in Sher Shah in blood a few months ago. The accused against whom the shopkeepers had registered the case were handed over to the police in whose office and who threatened the shopkeepers with murder if they identified the killers.

    The Co-ordination Committee said that Zulfiqar Mirza should have also told as to who was involved in the butchery in Karachi in the past few days. Acting on whose behest were the Urdu-speaking people abducted and taken to the torture cells of People’s Amn Committee where they were subjected to inhuman torture and their heads were cut off? Zulfiqar Mirza should have also informed as to the place from where the kidnapped people were recovered.

    The Co-ordination Committee said that Zulfiqar Mirza should have also informed as to who was stoking the fire disturbances in Karachi in collusion with the drug mafia, land mafia and arms mafia. The Committee asserted that it was Zulfiqar Mirza, who was aiding and abetting killers, terrorists, kidnappers, dacoits and other criminals involved in heinous offences

    The Co-ordination Committee said it was because of his patronage to the killers, terrorists, extortions and kidnappers that Zulfiqar Mirza kept silent when the Rangers carried out operation in other parts of Karachi but when the Rangers moved against the criminal elements in Lyari, Zulfiqar Mirza started criticizing Rehman Malik, who was overseeing the operation thereby amply demonstrating that he was directly involved in the bloodbath in Karachi.

    The MQM maintains that the operation against killers, terrorists, kidnappers and hardened criminals involved in heinous crimes must continue. The Co-ordination Committee demanded of President Asif Zardari and the higher leadership of the PPP to take serious notice of the absurd allegation of Zulfiqar and explain their position.

    The Co-ordination Committee appealed to the public not to get provoked at the malicious and absurd allegations of Zulfiqar Mirza and restrain their emotions. The committee hoped that the conspiracies against the MQM would come to naught, and the enemies of the MQM would not succeed in their efforts.

    آپ سبکو عید مبارک ہو۔

  16. سامراجی پٹھو اور غدار وطن الطاف حسین کے ، نائین الیون کے بعد ، ٹونی بلئیر کو لکھے گے خط میں سے چند اقتسابات :

    ۔

    سامراجی آقاؤں کو پیش کی جانے والی خدمات :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایم کیو ایم ( اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ) پانچ روز کے نوٹس پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کے حق میں مظاہروں کا اہتمام کر ا سکتی ہے جس میں لاکھوں افراد حصہ لیں گے ۔

    ۔۔

    ایم کیو ایم صوبہ سندھ کے دیہاتوں اور قصبوں اور کسی حد تک پنجاب میں انسانی انٹیلیجنس مہیا کرنے کے لیے لامحدود وسائل بروئے کار لائے گی جو انتہا پسندوں اور طالبان سے روابط رکھنے والی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مدارس کی بھی نگرانی کرے گی ۔

    ۔۔

    امدادی کارکنوں کے بھیس میں مخصوص گروہوں کو افغانستان بھیجا جائے گا تاکہ مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو مدد فراہم کی جاسکے۔

    ۔

    ایم کیو ایم کی خدمات کے عوض اس کے مطالبات :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایم کیو ایم کو صوبہ سندھ میں برابر کی شرکت داری چاہیے اور وفاقی سطح پر حقیقی پارٹنر بنایا جائے۔

    ۔

    ایم کیو ایم کو تعلیم، روزگار، فوج اور انتظامیہ سمیت تمام شعبہ زندگی میں برابری کا حصہ ملنا چاہیے۔

    ۔

    مقامی سطح پر پولیس میں مہاجر اور سندھی بھرتی کیے جائیں۔

    ۔

    صوبوں کو مکمل خودمختاری دی جائے اور وفاق کا کنٹرول صرف دفاع، خارجہ امور اور مالی پالیسی پر ہی ہو اور ان پالیسیوں میں ہر صوبے کی برابر کی نمائندگی ہو۔

    ۔

    پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو تحلیل کر دینا ضروری ہے ورنہ یہ ادارہ اسامہ بن لادن اور طالبان پیدا کرتا رہے گا۔

    ۔

    شاید یہ خط جھوٹ کا پلندہ ہو کیونکہ الطاف حسین ایک محب وطن لیڈر ہے جو ہے تو برٹش پاسپورٹ ہولڈر اور انڈیا کا بھی ایک اعزازی شہری لیکن دل میں درد پاکستان کا رکھتا ہے ؟

  17. کہاں وہ دن تھے جب الطاف حسین ایک سانس بھی زیادہ لیتے تھے تو میڈیا کی “ بریکنگ نیوز“ بن جاتی تھی اور کہاں آج الطاف حسین ایک ہفتے سے بیمار ہیں اور نہ صرف بیمار ہیں بلکہ ہوسپٹل میں داخل ہیں یعنی لندن میں بھی ایک لیاقت نیشنل ہوسپٹل ڈھونڈ لیا ہے جہاں وہ آج کل داخل ہیں اور بلکل ایسے ہی زوالفقار مرزا کے بیانات کے تناظر میں عوام سے چھپ رہے ہیں جیسے کبھی پاک میں وہ لیاقت نیشنل ہوسپٹل میں آنے والے وقت کی سنگینی سے چھپ جایا کرتے تھے ۔۔۔

  18. میں تویہ سوچ رہی ہوں کہ صرف ایک شخص زولفقار مرزا کے آدھے سچ نے تاج برطانیہ و امریکہ اور پاکستان کوہلا کر رکھ دیا ہے ۔۔ اگر اس طرح صرف دس اشخاص ہی میرے وطن کو نصیب ہو جائیں تو کون ہے جو میرے وطن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکیں کجا تویہ کہ اسے بیروت بنا دے

  19. ” یہ کراچی میں فسادات کروانے کی سازش ہے “

    گویا کراچی بھی دنیا کا پُر امن ترین شہر ٹھرا جہاں فسادات کے نام سے ہی لوگ بے خبر ہیں !
    یہی تو وطیرہ رہا ہے پاکستان کی اس نازی پارٹی کا کہ اِدھر ذرا سا سچ سامنے آنے کی دیر ہے اُدھر فسادات کی دھمکیاں اور بوریاں تیار !

    اے اللہ عید الفطر کے صدقے میرے ملک پہ رحم فرما اور اسے دہشت گردوں ، وطن فروشوں اور سامراجی ایجنٹوں سے نجات دلا ، آمین یا رب العالمین ثمہ آمین ۔

  20. مجھے بیحد افسوس ہے کہ ذولفقار مرزا کے ہاتھ سے ڈگڈگی چھین لی گئ۔ اب کیانی صاحب کیسے ناچیں گے۔ خدا نہ کرے کہ اب کراچی میں پھر فساد ہو ورنہ کیانی صاحب کا مست قلندر پھر شروع ہو جائے گا۔ جب بھی کراچی میں خون کی ہولی ہوتی ہے کیانی صاحب کا دھمادم مست قلندر شروع ہوجاتا ہے۔ بہر حال آرمی سے فارغ ہوکر ایسا آدمی اور کیا کرے جسے وقت سے پہلے آرمی فارغ کردیتی ہے۔

    مجھے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ اسکاٹ یارڈ نے الطاف کے دشمنوں کا دل توڑ دیا۔ کم از کم ان دشمنوں کا دل رکھ لینے کیلئے دو چار دن ہی اسکاٹ لینڈ یارڈ الطاف حسین کو اپنی تحویل میں رکھ لیتی۔

    اب فیصل سبزواری نے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ ہم عدالت میں ہر الزام کا جواب دینے کو تیار ہیں۔ اب ذولفقار مزا ساری دستاویزات کے ساتھ عدالتِ عالیہ چلا جانا چاہئے۔ کرایہ بھی بچ جائیگا کیونکہ عدالتِ عالیہ اس وقت کراچی میں موجود ہے۔

    ذولفقار مرزا کے ساتھ پاکستان کی عدالت وہ زیادتی نہیں کرے گی جو انگلستان کی عدالت نے تحریکِ نا انصاف کے گمراہ خان کے ساتھ کی تھی۔

    پاکستان کو نقصان پہچانے کی نہ بھارت کو ضرورت ہے نہ امریکہ کو نہ برطانیہ نہ کسی۔ اس کام کیلئے ہمارا تعصب اور تنگ نظری ہی کافی ہے۔

    خدا کرے کہ مری ارضِ پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

  21. میری کیا مجال کہ میں تلقین کروں لیکن یہ میرا مشاہدہ ہے کہ زندگی میں سب سے بڑی چیز Credibility ہے۔ اگر کوئ خبر بغیر تصدیق کے پیش کی جائے اور وہ خبر غلط ثابت ہوجائے تو پھر آدمی کی صحیح بات بھی مشکوک ہوجاتی ہے اور پھر قاری یا دوسرے مبصر کے لئے کسی بھی خبر کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ کسی بھی شخص یا پارٹی کو پسند یا ناپسند کرنے کا حق ہر آدمی کو ہوتا ہے۔ لیکن disinformation وقتی طور پر تو آدمی کو با اثر بناسکتی ہے لیکن بعد میں یہ بات صرف اور صرف رسوائ کا باعث ہوتی ہے۔

  22. ذولفقار مرزا کے ہاتھ سے ڈگڈگی چھین کر امریکہ بھجوا دی گئی ہے کہ بچے جمہورے وہاں بجائیں ۔

    کراچی میں فسادات تب ہی رکیں گے جب وہاں کی لسانی نازی پارٹی بلیک میلنگ کی سیاست اور سامراجی ایجنڈے پہ کام بند کرے گی ۔

    اسکاٹ یارڈ اپنے ایجنٹوں کا صرف اپنے حکومتی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر تھوڑا سا بازو مروڑتی ہے ورنہ ان کی بلا سے ایک عمران فاروق مارا جائے یا مادر ملکہ اپنے کئی بچوں کو کھا جائے !

    پاکستان کو نقصان پہچانے کی نہ بھارت کو ضرورت ہے نہ امریکہ کو نہ برطانیہ کو بلکہ اس کام کے لئے انہیں وہاں کرائے کے ٹٹو وافر مقدار میں دستیاب ہیں ، جن کی تربیت وہ اپنی مرضی سے اپنی نرسریوں میں کرتے ہیں ۔

    ” اپنی پارٹی کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ملک دشمنوں کے خلاف واضح موقف اپنانے پر مرزا صاحب واقعی قابل تحسین ہیں “

    ذوالفقار مرزا تمھاری عظمت کو سلام
    بیداریء ضمیر کو سلام ۔۔۔۔۔اور
    اس ملک کو گروی رکھنے والوں کے خلاف جنونی بغاوت کو سلام ۔

  23. ذولفقار مرزا نے کرڑوں لوگوں کے سامنے فرمایا

    ٰٰ ہم نے پاکستان کو توڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن زرداری صاحب نے ہمیں روک دیا ٰٰٰ

    ٰٰ ہم سندھ میں مسلم لیگ نواز کے ہر آفس میں آگ لگادیں گے ٰٰٰ

    ٰٰ میں نے سندھیوں کو اسلحہ کے تین لاکھ لائسنس جاری کئے۔ یہ لوگ کھڑے کیوں نہیں ہوتے ٰٰٰ

    بغض ،عناد اور تعصب انسان کے حواصِ خمسہ کو ختم کردیتا ہے۔ خالی برتن کھنکتے ہیں۔ مرزا صاحب کی سپریم کورٹ میں پیشی پاکستان کی ضرورت ہے۔

  24. کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کےحوالے سے کی گئی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ کے مطابق دو ہزار پانچ سے اب تک ٹارگٹ کلنگز میں سرگرم چھ گروہوں میں سے ایک گروہ کا سربراہ اجمل پہاڑی تھا۔اجمل پہاڑی کو ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں دیگر ملزمان کے ساتھ اجمل پہاڑی کی بھی جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پیش کی گئی ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق ملزم نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ میں جیل سے رہائی کے تقریباً دو ماہ بعد اسے محمد انور نے ایم کیو ایم کے لندن سیکریٹیریٹ سے ٹیلیفون کر کے دبئی بلایا، جہاں ایک ہوٹل میں محمد انور سے ملاقات ہوئی جس میں لیاقت قریشی، شکیل عمر، امتیاز مانڈو اور سعید بھرم پہلے سے موجود تھے۔اجمل پہاڑی نے اعتراف کیا کہ محمد انور نے انہیں دبئی بلا کر حکم دیا کہ کراچی جاکر ٹیمیں بنانی ہیں تا کہ متحدہ کے مخالفین کا کراچی سے صفایا کیا جاسکے اور اس سلسلے میں انہیں ایک لسٹ بھی فراہم کردی گئی۔

    جوائینٹ انٹروگیشن رپورٹ
    رپورٹ میں اجمل پہاڑی کے اعترافی بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ محمد انور نے دوران میٹنگ حکم دیا کہ انہوں نے واپس کراچی جا کر ٹیمیں بنانی ہیں تا کہ متحدہ کے مخالفین کا کراچی سے صفایا کیا جا سکے۔ بقول اجمل پہاڑی اس سلسلے میں انہیں ایک لسٹ بھی فراہم کر دی گئی۔اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق دبئی سے واپسی پر کراچی میں آٹھ ٹیمیں بنائی گئیں جو بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، پاک کالونی، لیاقت آباد، لائنز ایریا اور لیاری کے علاقوں میں سرگرم رہی۔ ان ٹیموں کے پاس کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی اور دیگر جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ملزم نے ٹیم کو بتایا ہے کہ جب کسی کی ٹارگٹ کلنگ کرنی ہو تو احکامات دیتے وقت کوڈ ورڈز استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے فائل خرید لو یا پیمنٹ لے لو جیسے الفاظ شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اجمل پہاڑی نے انیس سو چھیاسی میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور علاقائی طور پر پارٹی کے کاموں میں دلچسپی کے ساتھ کام کرتا رہا۔انیس سو چھیانوے میں اجمل پہاڑی بھارت میں تربیت کے لیے گئے جہاں ایک جنگل میں قائم آرمی ٹریننگ سینٹر میں انہیں اسلحہ چلانے کی خصوصی تربیت دی گئی۔اجمل پہاڑی نے پولیس کو ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا اس کے علاوہ اقبال رعد ایڈووکیٹ، مسلم لیگ ن کے رہنما بدر اقبال، ایم کیو ایم حقیقی، پیپلز پارٹی، اور اورنگی میں گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات کے موقع پر ہلاک ہونے والے بہاری قومی موومنٹ کے سربراہ سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اور انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ۔

    اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق ایک ماہ کی تربیت مکمل ہونے کے بعد سنی نامی شخص ملزم اور دوسرے چار لڑکوں کو لینے آیا اور واپس دلّی والے اسی گھر لے گیا جہاں وہ پہلے رکے تھے اور یہاں وہ آئندہ چھ ماہ تک رہائش پذیر رہے۔اجمل پہاڑی کے بیان کے مطابق سب کی یہی تربیت کی جاتی تھی کہ اگر حقوق نہ ملے تو الطاف حسین کی زیر قیادت کراچی اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں کو الگ کرکے علیحدہ ریاست بنائیں گے۔ملزم نے بتایا کہ دلّی میں قیام کے دوران ملزم اور اس کے ساتھیوں کو سنی انقلاب کے موضوع پر کتابیں لا کر دیتا تھا اور سب کی یہی تربیت کی جاتی تھی کہ اگر حقوق نہ ملے تو الطاف حسین کی زیر قیادت کراچی اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں کو الگ کر کے علیحدہ ریاست بنائیں گے۔ملزم اجمل پہاڑی نے بتایا کہ فروری یا مارچ 1997 میں دلّی میں سنی نے ملزم اور ذیشان کو غیر قانونی طور پر پاکستانی بارڈر کراس کر کے پاکستان لے جانے کے لیے بھارتی گائیڈ مہیا کیا جو انہیں دلّی سے بھارتی پنجاب لے گیا اور ایک رات تقریباً نو بجے بذریعہ سوزوکی پِک اپ لاہور پہنچا کر خود واپس چلا گیا جہاں سے ملزم اور ذیشان بذریعہ ٹرین کراچی پہنچ گئے۔ ملزم نے بتایا کہ سنہ انیس سو چھیانوے میں سندھ سیکریٹیریٹ پر راکٹ لانچرز سےحملے کے تقریباً دو ماہ بعد ملزم کو لندن سے ندیم نصرت نے حکم دیا کہ وہ ذیشان پی آئی بی والے کے ہمراہ ایران چلے جائیں اور جانے سے پہلے نائن زیرو گئے جہاں سے انہیں خرچے کے لیے پچاس ہزار روپے فراہم کیے گئے۔

    جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ کے مطابق اجمل پہاڑی پر ٹارگٹ کلنگز کے سو واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

    بشکریہ : بی بی سی

  25. بہت اچھی بات ہے۔ عدالت عدل کرے گی۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *