سنسان جیسے گلیاں آباد سارے تھانے

آج پاکستان کے ستانوے فیصد اور انڈیا کے چودہ فیصد مسلمانوں کوملا کر دنیا بھر میں 1.5 بلین سے زائد مسلمان ہیں لیکن انہیں اپنے ہہی ملکوں کے حصے بخروں نے مسلمانوں ہی کو اتنا بے دست و پا کردیا ہے کہ وہ ھر حصے میں اپنے مذھبی و قانونی حقوق سے محروم ھیں ۔ ہر خطے میں چور ڈاکؤں کا راج ھے ، بد امنی ، لاقانونیت ، اسلحے کے بے دریغ استعمال نے بدامنی اور عدم تحظ کے احساس کو جنم دیا ہے ۔جس سے تمام ترقی پذیر ریاستوں میں بشمول مسلم اور غیر مسلم صرف بھوک اور بیماری سے لڑ رہے ہیں ۔ اُنہیں علم اور ہنر کی طاقت سے محروم کیا جا رہا ہے تاکہ نسل در نسل غلام پیدا کیاجاسکیں … اسی تناظر میں محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کا تازہ کلام انہی کی زبانی حاضر خدمت ہے …

20 thoughts on “سنسان جیسے گلیاں آباد سارے تھانے”

  1. کسی نے خوب کہا ہے

    میرے شہر جل رہے ہیں
    میں یہ کس کے نام لکھوں جو عالم گزر رہے ہیں

    میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں

    کبھی رحمتیں تھیں نازل اس خطہ زمیں پر
    وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

    کوئی اور تو نہیں ہے بس خنجر آزما ئی
    ہم ہی قتل کر رہے ہیں ہم ہی قتل ہو رہے ہیں

    میں یہ کس کے نام لکھوں اے میرے وطن کے معصوم لوگو!

    اے مہنگائی میں پسنے والو!

    بھوک سے بچوں کو بیچنے والو!

    اے ڈرون حملوں اور میزائلوں کا نشانہ بننے والو!

    تم آخر چپ کیوں ہو؟

    کیوں تم نے اپنی زبان کو تالا لگا لیا ہی؟

    کیا تم یہ ظلم سہنے کے لیے پیدا ہوئے ہو؟

    یا پھر تمہاری ذہنیت بھی اپنے حکمرانوں کی طرح غلامانہ ہوگئی ہی؟

    زر خرید غلام، غیروں کی خاطر اپنے ہی لوگوں کو مارنے والے غلام….

    جن کی غیرت اور عزت ختم ہو چکی ہے

    جو اپنے ہی ملک کو غیروں کے ہاتھ بیچنا چاہتے ہیں

    اپنے ہی لوگوں میں موت تقسیم کررہے ہیں۔

    تم اُٹھو اور توڑ ڈالو یہ زنجیریں….

    غلامی کی زنجیریں….

    اور

    انکار کر دو طاغوت کا

    ہر طرح کا ظلم سہنے سے ….

    اور

    بدل ڈالو

    یہ چہرہ یہ نظام….

    کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے
    ”نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ،اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو“۔

    آج ہماری جو حالت ہے وہ ہماری اپنی بنائی ہوئی ہے
    آج ہم نے قرآن سے دوری اختیار کر رکھی ہے
    اور
    اس کی تعلیمات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے
    جس کی وجہ سے آج ہم راستہ بھٹک گئے
    اگر آج بھی ہم اپنی زندگیوں میں انقلاب لے آئیں تو اجتماعی طور پر بہت بڑی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے
    علامہ اقبال نے بھی فرمایا
    ”نہ ہو جس میں انقلاب موت ہے وہ زندگی“
    ہمارے پیارے نبی جنہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت ِدین میں گزاری
    آج ہم نے اسے چھوڑ دیا اور اپنے پیٹوں کو بھرنے میں لگ گئے….
    کیا ہم نے اپنی زندگیوں کا حق ادا کردیا ہے؟
    انبیاءکرام علیہ السلام کے بعد اللہ نے یہ ذمہ داری مسلمانوں کو سونپی کہ وہ نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں….
    کیا آج ہم نے فریضہ ادا کیا ہے
    آؤ تم لوگ بھی آگے بڑھو اور اللہ کے اس گروہ کا ساتھ دو،
    تمام تر نسلی اور قومی امتیازات کو بھلا کر اس ظالمانہ نظام کے خلاف باہر نکل آؤ
    آو ہم سب مل کر اللہ کا رنگ اختیار کریں کہ سب سے اچھا رنگ اسی کا ہے
    آؤ ہم سب مل کر ایک ہوجائیں اور ایک آواز بلند کریں
    اس ظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کا آغاز کریں
    کیوں کہ تمام جہانوں کے اس رب کے سامنے جو یوم حشر کا بھی مالک ہے
    جوابدہی تو کرنی ہے۔

  2. میں یہ کس کے نام لکھوں، جو الم گزر رہے ہیں
    میرے شہر جل رہے ہیں، میرے لوگ مر رہے ہیں

    کوئی غُنچہ ہو کہ گُل ہو، کوئی شاخ ہو شجر ہو
    وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بِکھر رہے ہیں

    کبھی رحمتیں تھیں نازل اِسی خطئہ زمیں* پر
    وہی خطئہ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

    وہی طائروں کے جُھرمٹ جو ہوا میں جُھولتے تھے
    وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

    بڑی آرزو تھی ہم کو، نئے خواب دیکھنے کی
    سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

    کوئی اور تو نہیں ہے، پسِ خنجر آزمائی
    ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں

  3. بابا آپ نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے اور باجی اس المناکی کی تصویر یون بیان کی ہے کہ”آج پاکستان کے ستانوے فیصد اور انڈیا کے چودہ فیصد مسلمانوں کوملا کر دنیا بھر میں 1.5 بلین سے زائد مسلمان ہیں لیکن انہیں اپنے ہہی ملکوں کے حصے بخروں نے مسلمانوں ہی کو اتنا بے دست و پا کردیا ہے کہ وہ ھر حصے میں اپنے مذھبی و قانونی حقوق سے محروم ھیں ۔ ہر خطے میں چور ڈاکؤں کا راج ھے ، بد امنی ، لاقانونیت ، اسلحے کے بے دریغ استعمال نے بدامنی اور عدم تحظ کے احساس کو جنم دیا ہے ۔جس سے تمام ترقی پذیر ریاستوں میں بشمول مسلم اور غیر مسلم صرف بھوک اور بیماری سے لڑ رہے ہیں ۔ اُنہیں علم اور ہنر کی طاقت سے محروم کیا جا رہا ہے تاکہ نسل در نسل غلام پیدا کیاجاسکیں …”
    ہم اشکبار آنکھوں سے سطور لکھ رہے یقین جانئے دل خون کے آنسو رو رہا ہے
    بد امنی ،لوٹ مار اقربا پروری اور خوئے غلامی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے
    پچھلےایک عشرے سے وطن عزیز میں روز ہی خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ….
    دھرتی ماں کے سینے پہ آئے روز جوان بیٹوں کے لاشے گرتے ہیں۔
    کتنے ہی بوڑھے ہاتھوں نے اپنی جوان اولاد کو منوں مٹی تلے اتارا ہے
    کتنی ہی سہاگنیں اُجڑ گئیں
    معصوم بچوں کی آہ و فغاں سے آ سمان بھی کانپ اٹھتا ہے
    انسانی خون پانی سے بھی ارزاں ہو گیا ہے
    میرا وطن جل رہا ہے۔
    میرا کراچی لٹ رہا ہے
    پشاور پر ہر روز قیامت برپا ہوتی ہے
    دیگر شہر بھی کربلا بنے ہوئے ہیں
    میرا لاہور جل رہا ہے

    سب جانتے ہیں یہ دھماکے کون اور کیوں کروا رہا ہے
    آج پاکستان امریکا کے ستونوں پر کھڑا ہے
    ذرا
    امریکا لڑکھڑاتا ہے تو پاکستان کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں
    ہمارے حکمرانوں نے اپنی نااہلی ثابت کر دی ہے
    آج بھی ہم لادین طاقتوں سے امید رکھتے ہیں
    کہ
    وہ ہمارے مسائل حل کریں گی
    کیا ہم نہیں جانتے کہ قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے
    ”یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“
    تو ایسے میں ان سے توقع رکھنا ماسوائے بے وقوفی کے کچھ بھی نہیں ہے
    آج
    پاکستان کو ضرورت اس مردِ قلندر
    جو وطن عزیز کو لغو اور بے سروپا معاہدوں کی بھینٹ نہ چڑھنے دے
    آج پھر ایک محمد بن قاسم کی ضرورت ہے
    جو
    آواز دے تو اس کی گونج دنیا کے ایوانوں کے ہر کونے میں سنائی دے
    جو
    سراسر انکار کر دے اس سودے بازی سے جہاں پاکستان کو ایک لونڈی کی طرح فروخت کیا جا رہا ہو

  4. پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں

    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    ہر طرف اندھیرا ہے
    نفرتوں کا پہرا ہے
    ظلم کی سیاست میں
    قاتلوں کا ڈیرا ہے
    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    بغض ہے اداؤں میں
    زہر ہے فضاؤں میں
    جل رہے ہیں شہر اور گاؤں
    آگ ہے ہواؤں میں
    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    جسم سوکھے سوکھے ہیں
    کتنے پیٹ بھوکے ہیں
    سوچتے نہیں اس پر
    لوگ کتنے روکھے ہیں
    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    رنگ ہی تجارت کے
    کاروبار عصمت کے
    خوش ہیں بے ضمیری میں
    بھوکے لوگ دولت کے
    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    دور ہے یہ وحشت کا
    ہے عروج رشوت کا
    اُٹھ گیا جنازہ اب
    پیار اور محبت کا
    پیار کے گیت میرے میت بتا کیسے لکھوں
    (اسحاق ساجد)

  5. زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں

    میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں

    ایسی فضا کے قہر میں ، ایسی ہوا کے زہر میں

    زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں

    اور بہت سی الجھنیں طوق و رسن سے بڑھ کے ہیں

    ذکر جمال کیا کریں ، فکرِ وصال کیاکریں

    ڈھونڈ لئے ہیں چارہ گر، ہم نے دیارِ غیر میں

    گھر میں ہمارا کون ہے ، گھر کا خیال کیا کریں

    چنتے ہیں دل کی کرچیاں ، بکھری ہیں جو یہاں وہاں

    ہونا تھا ایک دن یہی، رنجِ مآل کیا کریں

    اس کی نظر میں ہیچ ہیں اپنی تمام منطقیں

    تیغ خیال کیا کریں ، حرف کی ڈھال کیا کریں

  6. آج رونے اور ماتم کرنے کے لئے اس قدر عنوانات ہیں ہم مسلمانوں کے پاس کے سمجھ نہیں آتا کس دُکھ پر روئیں اور کس پر ماتم کریں ۔۔ ہر طرف ایک ہو کا عالم ہے ہر کسی کو صرف اپنی پڑی ہوئی ہے ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور آنسو بھی بہتے ہیں مگر صرف اس صورت میں اگر چھوٹ ہمیں لگی ہو یا ہمارے کسی بہت قریبی کو ۔۔ ہم ایک طرح سے دیکھا جائے تو خوار ہو چُکے ہیں ۔۔ جبکہ ہم مسلمان ہیں ۔۔ ہمیں اب یہ سوچنا چاہئے کہ جو ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے قصور کس کا ہے ؟ یقین کریں کہ اگر ہم لوگ صرف دس فیصد بھی ایمانداری سے اپنا احتساب کر لیں تو دُنیا میں موجود تمام مسلمانوں کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے ہم سب کو اُن سوالوں کے جواب مل جائیں گے جن کی تلاش میں ہم سب سرگرداہ ہیں ۔۔ اس لئے کہ جواب ہو یا ہمارے لا تعداد مسائل کا حل کُچھ بھی ہمیں باہر سے نہیں ملے گا یہ سب ہمارے پاس ہمارے اندر ہمارے دلوں میں ہماری روحوں میں موجود ہے ۔۔ ہماری ہر تکلیف ہر مشکل کا بہترین حل ہمارے گھروں میں کسی بلند مقام میں کسی غلاف میں لیپٹا ہوا پڑا ہے ہم سالوں سے بھری کاپیاں لئے در بدر بھٹک رہے ہیں مگر حل شُدا جوابی کتاب ہمارے ہی گھروں میں موجود ہے جس دن ہم نے وہ حل شُدا کتاب غلاف سے نکال کر صرف چند غروف ثواب کی نیت سے کھولنے کے علاوہ اپنے مسائل اور اپنی مشکلوں کے حل کے لئے کھولی اس دن تمام دُنیا میں امن بھی ہو گا سکون بھیی اور ہماری ہر پریشانی بھی ختم ہو جائے گی ۔۔ انشا اللہ اور وہ کتاب کلام َ الہی قرآن ہے جو منتظر ہے کہ کب ہم اس سے رجوع کریں اور کب مسلمان اپنے ہر سوال لو حل کر کے دُنیا میں ایک بار پھر سے مثالی معاشرے کے بنیاد ڈالیں ۔

  7. میں بھی دُعا کر رہی ہوں آپ سب سے بھی کہتی ہوں دُعا کیجئے گا مُجھے خبر ملی ہے کہ سلمان تاثیر کے بیٹے کو تین روز قبل قتل کر دیا گیا ہے ، دُعا کیجئے گا کہ یہ خبرجھوٹی ہو ۔ الہی آمین ۔۔ میں اس شخص سے ذاتی طور پر ہر گز واقف نہیں پر کسی ماں کی دُعا تو وہ بیٹا بھی ہے جس کی ماں راہ دیکھ رہی ہے اپنے بیٹے کے واپس لوٹ آنے کی ۔۔ خدا ہمارے وطن اور اہل ِ وطن کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے اور کرم کرے ہم سب پر الہی آمین ۔۔

  8. آج رونے اور ماتم کرنے کے لئے اس قدر عنوانات ہیں ہم مسلمانوں کے پاس کے سمجھ نہیں آتا کس دُکھ پر روئیں اور کس پر ماتم کریں .. ثمرین بہت اچھا کہا اور اس کا حل بھی دیدیا ..جس دن ہم نے وہ حل شُدہ ا کتاب (قران پاک ) غلاف سے نکال کر صرف چند غروف ثواب کی نیت سے کھولنے کے علاوہ اپنے مسائل اور اپنی مشکلوں کے حل کے لئے کھولی اس دن تمام دُنیا میں امن بھی ہو گا سکون بھیی اور ہماری ہر پریشانی بھی ختم ہو جائے گی .. جیتی رہو گڑیا .. یہی وہ پیغام ہے جس پر ہم سب کو عمل کرنا ہے .. اللہ تمہیں خوش رکھے ..آمین

  9. ثمرین تمہاری طرح مجھے بھی یہی ڈر ہے کہ اس غریب کو کہی ظالموں نے مار ہی نہ دیا ہو …کل تک تو ابھی تک تفتیش ابتدائی مرحلوں سے آگے ہی بڑھ نہ پائی ہے ..خدا خیر کرے ..آمین

  10. ڈھونڈ لئے ہیں چارہ گر، ہم نے دیارِ غیر میں
    گھر میں ہمارا کون ہے ، گھر کا خیال کیا کریں

    کیا سچا نقشہ ہے احمد بھائی ..سلامت رہیں

  11. کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔
    اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
    اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!
    اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔
    اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے ولوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔
    اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ: حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔
    کیا خیال ہے آپ بھی اپنے گردو نواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!
    تو پھر کیا خیال ہے شکوہ و شکایتیں بند، اور شروع کریں ایسے مسائل کو حل کرنا؟

  12. عمران الیاس بھائی
    السلام علیکم
    آپ نے ایک خوبصورت مثال کے ذریعے بہت پیاری بات سمجھائی ہے جو بہت حد تک درست ہے واقعی ہمیں اپنی بساط کے مطابق مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے
    مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے حکومت اور حکومتی ذمہ دار بری الذمہ ہوتے ہیں
    ہماری خیال میں اصل ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو اس وعدے پر عوام سے ووٹ لیتے ہیں اور برسراقتدار آتے ہیں
    لہذا اس تناظر میں انہیں کسی طور بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی ذمہ داری اپنے سر لی جاسکتی ہے۔

  13. اسلام و علیکم

    آپی دُعا کے لئے سپاس گزار ہوں ۔۔ بس ہمارے اندر خرابی یہ ہی ہے کہ ہمیں منزل نظر بھی آ رہی ہے اور راستہ بھی دیکھائی دے رہا ہے بس ہمیں چلنے کا شوق نہیں ہے اور جس وقت بھی ہم میں یہ شوق پیدا ہوا ہمارے مسائل ہم سے دور ہو جائیں گے ۔۔ خدا ہمیں دین کو سمجھنے اور زندگیوں میں شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین ۔۔۔

    دُعاؤں میں یاد رکھیں ۔۔

  14. کوئی بری نہیں ۔غلط ہیں وہ کیونکہ ہم اُنہیں غلطی پرغلطی کا موقع دیتے ہیں- ووٹ دے دینا ہی ذمہ داری ہے بس۔ سوال ہر کوئی کرے گا میرے سمیدھ مگر کون عمل کرے گا۔ سب کو کرنہ ہوگا۔ چہرے بدلنہ حل نہیں نطام درست کرنا ہوگا

    ہم پاکستانی ہیں اور یہ تب ہی سچ ثابت ہوگا کہ جب ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے ۔

  15. ہم پاکستانی ہیں اور یہ تب ہی سچ ثابت ہوگا کہ جب ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے ۔ واہ واہ کیا سچی اور کھری بات کی بھائی عمران الیاس نے .. جی خوش کر دیا .. سلامت رہیں بھائی

  16. عمران بھائی کی بات بالکل درست ہے ووٹ کا صحیح استعمال کیا جائے مگر ہمارا پچھلے کئی الیکشنوں کا تجربہ ہے کہ جب ہم ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے ہمارا ووٹ ڈالا جاچکا ہے
    کیا یہ ووٹ کا صحیح استعمال ہے ؟
    بھائی ہم یرغمال قوم کے لوگ ہیں
    جو ذات برادری فرقوں اور علاقوں میں بٹے اورقید ہیں اس صورت میں ہم کبھی بھی بائی ووٹ کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے اور نہ ہی ووٹ کے ذریعے نظام کو بدل سکتے ہیں
    اس ملک کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے
    ایک خونی انقلاب
    ایک ایسا انقلاب جیسا کہ ماضی قریب میں ایران میں آیا تھا
    یہ انقلاب ہی اس ملک کے حالات اور نظام کو بدل سکتا ہے
    بصورت دیگر ہم کسی کو بھی ووٹ دیں مگر اس موجودہ نظام کے تحت نتائج وہی نکلیں گے جو آج تک نکلتے آئے ہیں
    اور ہم اسی طرح بحث و مباحثہ کرتے رہیں گے
    لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے آپ کے ساتھ قوم کو اس انقلاب کیلئے تیار کیا جائے اس کیلئے اپنا کردار ادا کیا جائے
    یہ ہمارا تجزیہ ہی نہیں گذشتہ بیس سالوں کی تحریکی زندگی کا نچوڑ ہے
    انقلاب اور خونی انقلاب

  17. اس ملک کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے
    ایک خونی انقلاب
    ایک ایسا انقلاب جیسا کہ ماضی قریب میں ایران میں آیا تھا
    یہ انقلاب ہی اس ملک کے حالات اور نظام کو بدل سکتا ہے

    میں احًد بھائی کے ساتھ ہوں .. ہمیں اب ایک ایسا انقلاب چاہئے جیسا کہ ماضی قریب میں ایران میں آیا تھا

  18. دینِ اسلام کا انقلاب

    سب سے پہلی وہ علامت جو عظیم انقلاب کی آمد کی خبر دیتی ھے۔ وہ ظلم و فساد کا رواج ھے۔ جس وقت ھر طرف ظلم پھیل جائے، ھر چیز کو فساد اپنی لپیٹ میں لے لے۔ دوسروں کے حقوق پامال ھونے لگیں، سماج برائیوں کا گڑھ بن جائے اس وقت عظیم انقلاب کی آھٹ محسوس ھونے لگتی ھے۔ یہ طے شدہ بات ھے کہ جب دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو دھماکہ ضرور ھوگا یہی صورت سماج کی بھی ھے جب سماج پر ظلم و فساد کا دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو اس کے نتیجہ میں ایک انقلاب ضرور رونما ھوگا۔

  19. یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ مسلمانوں پر ساری دنیا میں ظلم و الم کی کیفیت ہے لیکن کبھی یہ بھی کسی نے خیال کیا ہے کہ اس کا سبب کیا ہے؟؟ اس کا سبب صرف اور صرف اپںی احساس ذمہ داری کی کمی اور آپس کی نا اتفاقی ہے۔ اگر مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو جائیں اور ایک دوسرے کے نام پر کفر و قتل کے فتوے دینا بند کر دیں تو یقینا یہ مصائب جلد اس قوم کا پیچھا چھوڑ دیں گے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو کافر کہہ کر دوسرے مخالف فرقہ کی بیخ کنی کرنے میں دشمنوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ ہمیں اس رواج کو ختم کر کے کم از مسلمان اور انسانیست کے نطے بھائی چارے کو فروغ دینا ہے اسی طرح ہی ہم امن کو بھی فروغ دے سکیں گے اور ان شدائد و الائم سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *