آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم معروف افسانہ نگار،نظم کی شاعرہ،کالم نگار اور عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلیٰ ڈاکٹر نگہت نسیم اپنی دو تازہ کتابوں کی تقریب اجراء کے لیئے اپنے شوہر محمد آفتاب کے ہمراہ لندن آئی ہو ئی ہیں جہاں سے وہ انہی دونوں کتابوں کی تقریب اجراء کے لیئے 18 دسمبر اتوار کے روز امریکہ روانہ ہو جائیں گی۔
ڈاکٹر نگہت نسیم کے اس سے قبل افسانوں کے دو مجموعے ”گرد بادِ حیات” اور ”مٹی کا سفر” شائع ہو چکے ہیں اور مٹی کا سفر کی تقریب اجرا بھی لندن میں ہی ہوئی تھی۔

اس مرتبہ انکی نظموں کی پہلی کتاب”سفید جھیل” اور کالموں کا پہلا مجموعہ ” یہی دنیا ہے اور یہیں کی باتیں ہیں ”شائع ہو کر منظر عام پر آیا ہے جنکی تقریب اجراء 17 دسمبر بروز ہفتہ لندن کے ایک مقامی ہوٹل میں ہو گی جس میں ادبی لندن کی اردو ادب کی دنیا کے منتخب خواتین و حضرات شرکت کریں گے
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

باجی
السلام علیکم
آپ کو دونوں کتابوں کی تقریب اجراء مبارک ہو
یہی دعا ہے کہ
یا ربّ کبھی نہ طے ہو یہ راہٴ اشتیاق
جو بھی قدم اٹھے قدم اوّلین رہے
آمین
عالمی اخبار کے تمام ادارتی بورڈ.قلم کاروں،ساتھیوں،احباب اور قارئین کی طرف سے آپکو نئی دو کتابوں کی اشاعت پر دلی مبارکباد. قلم کی دوستی سب سے بہتر دوستی ہے بشرطیکہ قلم کے ساتھ خیانت ہو اور ہم سب جانتے ہیں کہ آپ نے اس امانت میں کوئی خیانت نہیں کی اور اس قلم سے تمام تر مخالفتوں کے باوجود وہی کچھ لکھا جو حق اور سچ تھا. انشااللہ ان دونوں کتابوں کی تقریب بھی منفرد ہو گی.
آپا بہت بہت مبارک ہو!!!
پاکستان میں یہ کب ملیں گی؟
منفرد قلم کار حق وسچائ کی پاسبان ھم سب کی ان گنت خوبیوں اور خوبصورت شخصیت والی عزيز بہن اور بہت پیاری دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کو انکی نظموں کی کتاب سفید جھیل اور کالموں کی کتاب ‘‘ یہی دینا ھے اوریہں کی باتیں ھیں ؛؛ اشاعت پرمبارک باد پیش کرتے ھیں سفید جھیل اپنے پاکیزہ سرورق کی طرح قاری کو اپنی گرفت میں لے لیگی ۔ اور کالم نگاری میں ڈاکٹر نگہت نسیم ایک الگ مقام رکھتی ھیں۔ھم سب ڈاکٹر نگہت نسیم کی قلمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ھیں اور دعا گو ھیں کہ دونوں کتابیں انکی سابقہ کتب کی اھل نقد ونظر سے بھرپور داد و تحسین پائنگیں اور ھر اھل علم کے کتب خانے کی رونق میں اضافہ کرینگی۔اللہ کرے ڈاکٹر صاحبہ کی چاروں کتب پوری دینا میں دستیاب ھوں اور انشا اللہ معتدد ادبی انعام بھی حاصل کرینگی اور دینا کی بہت ساری زبانون میں انکی کہانی کے تراجم ھونگے آمین ثمہ آمین ایک بار پھر
بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت
بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت مبارک ھو
خدا مبارک کرے۔
خاموشی سے اتنا بڑا دھماکہ کردیا۔ مگر میں کیسے پڑھوں؟
ڈاکٹر نگہت نسیم صاھبہ کو بہت بہت مبارک ہو…..مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میٍں اپنے لندن آنے کے پروگرام کو بجائے 24 دسمبر کے 17 کرلیتا…………..خیر ہم ہوتے تو بھی کونسا تیر مارلیتے………….
اسلام علیکم بہن نگہت اور عالمی اخبار کے تمام ساتھیو
بہن نگہت بہت بہت مبارک
اللہ آپ کو ہمیشہ کامیابیوں سے نوازتا رہے آمین
شاھین حیدر رضوی بہن کی تمام دعاؤں پر میری طرف سے بھی آمین
عالم آرا
وینکور
السلام علیکم
نگہت جی آپ کو دو نئی کتابوں کی رونمائی مبارک ہو
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
والسلام
زرقا
بہن نگہت آپ کو اپنی دونوں کتابوں کی رونما ئی مبارک ہو،اللہ سبحانہ تعالٰی ان کو بے انتہا مقبو لیت عطا فرما ئے۔آمین
ماشااللہ بہت بہت مبارک باد قبول ھو کتب کی اشاعت کی نگہت بعض دفعہ انسان بہت کچھ کہنا چاھتا ھے لیکن خوشی ومسرت کے احساسات اتنے
شدید ھوتے ھیں کہ الفاظ نہیں ملتے میں بھی سب دوستوں کی آپ کی خوشیوں میں شریک ھوں خدا کرے آپ ادبی افق پر یونہی جگماتی رھیں آمین
ھر قلم کار ایک حساس طبقے سے تعلق رکھتا ھے اور وہ معاشرے کے تلخ و سنگین حقائق کو سچائی اور بے باکی سے بیان کرتا ھے
اور نگہت مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں کے کہ آپ بدست قلم جہاد مسلسل کر رھی ھیں سچائیوں کا اظہار و اقرار آپ کا طرہ امتیاز ھے
ایک بار پھر دلی مبارک باد قبول کیجئے
نگہت آبی
آداب
خاک در علم سے ملنے والے الفاظ پر مشتمل کتب کی رونمائی پر ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اسی در کی خاک میں پنہاں ہو کر یہ قلم حق اور سچ بات لکھنے کا روادار رہے آمین
نگہت آپی حق کے قرطاس پر سچ کے قلم سے موتی بکھیرتی دونوں کتابوں کی رونمائی کی مبارکباد قبول فرمائیں
اور یہی دعا ہے کہ
اللہ کرے زورِ قلم ہو اور زیادہ
پاکستان میں کب دستیاب ہونگی یہ کتب؟؟؟؟؟؟؟
ڈاکٹر نگہت نسیم کی خدمت میں ایک شعر میر انیس سے معذرت کے ساتھہ
گلدستہ معنی کو نیے ڈھنگ سے باندھو
ایک پھول کا مضمون ھو سو رنگ سے باندھو
کتاب بھی تو کاتب وتخلیق کارکی روح ھوتی ھے، کتابيں بھی انسانون کی طرح ھوتی ھیں، ھاتھوں ھاتھہ لیےجانے والے انسانوں کی کتابیں بھی بہت جلد بک جاتی ھیں ،
میں یہاں اچھی بہن فاطمہ ابرار کی یہ تحریر کردہ یہ خوبصورت سطور دوبارہ تحریر کررھی ھوں ۔ کیونکہ یہ میرے دل کی بھی آواز ھیں ، سلامت رھیں فاطمہ ، خوش رھیں آپکی تحریر کا انتظار رھتا ھے ۔ ھر لفظ کو میں بہت غور سے پڑھتی ھوں اور مجھے اس لفظی مشق کے دوران سیکھنے کو بہت کچھہ ملتا ھے۔
ھر قلم کار ایک حساس طبقے سے تعلق رکھتا ھے اور وہ معاشرے کے تلخ و سنگین حقائق کو سچائی اور بے باکی سے بیان کرتا ھے
اور نگہت مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں کے کہ آپ بدست قلم جہاد مسلسل کر رھی ھیں سچائیوں کا اظہار و اقرار آپ کا طرہ امتیاز ھے
میرے بہت ہی پیارے بہن بھائیو.کس طرح آپ سب کی محبتوں کا شکریہ ادا کروں. آپ سب نے جس طرح اپنی بے پایاں محبتوں کا اظہار کیا ہے اسکے شکریے کے لیئے لفظ نہیں مل رہے. یہاں لندن میں تقریب اجراء 17 دسمبر کو ہفتے کے روز ہے اور پھر انشاللہ امریکہ میں. آپ ان تقاریب کا حال یقینی طور پر عالمی اخبار میں پڑھیں گے اور یقین کریں ان تقاریب میں بھی آپ سب میرے ساتھ ساتھ ہونگے.میرے دلاری شاہین،تمہاری کمی بہت محسوس ہو گی لیکن محبت تمام فاصلوں کو ختم کر دیتی ہے.فاطمہ لو یہ کیا ہوا کہ الفاظ ہی نہیں ملے. آپ ایسا کرؤ کہ اب جلدی سے الفاظ تلاش کر لیں اور لکھ ڈالیں مزید. آپ سب کا ایک بار پھر نام بنام شکریہ
کتابیں اور وہ بھی میری مسیحا بیٹی کی ،بھئ واہ ماشاللہ ،سبحان اللہ ، روحانیت کے سفر کے ساتھ ساتھ تم اپنے گراں قدر وقت میں
دنیاوی علم کا بھی دامن تھامے ہوئے ہو ماشاللہ ،اللہ پاک مدینۃالعلم اور باب العلم کے علم کا صدقہ تم کو دل کھول کر عطا کرے آمین
اور تم کو بھی ،تمھاری اولاد کو بھی دینی و دنیاوی علوم سےاور نعمتوں سے بہرہ مند کرے ،آمین
دل کی گہرائ سے
دعاگو
زائرہ بجّو
لیجئے کتابوں کی رونمائی کا دن آ گیا۔ کل ہفتہ 17 دسمبر کو یہ تقریب لندن میں ہو رہی ہے۔ مجھے اس تقریب کی کامیابی کا یقین اس سلیئے ہے کہ یہ دوسری ایسی تقاریب سے بہت حد تک مختلف ہے اور اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسمیں صرف میرے اپنے موجود ہیں۔ گھر والے بھی اپنے اور ادیب شاعر بھی اپنے۔ اس تقریب میں سب کا حصہ ہے اس لیئے کسی ایک کا نام نہیں لکھ رہی کہ ان سب کا ایک ہی نام ہے”میرے دوست”۔ اصل مسلہ جس نے مجھے آج جمعے کو سارا دن سولی پر لٹکائے رکھا وہ کتابوں کا پاکستان سے پہنچنا تھا جو بالآخر جمع کی شام پہنچ گئیں اور میری جان میں جان آئی۔ میرے ہم سفر آفتاب،میری امی۔میری بھابھیاں اور پھر اکمل بھائی،سب جیسے چپ چاپ اپنے اپنے حصے کاکام کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ان سب کو جزائے خیر دے۔ اکمل بھائی ابھی کیا خوبصورت بینر بنوا کر دیکر گئے ہیں۔ اتوار کو صبح امریکہ کے لیئے روانہ ہونا ہے اور وہاں کی تقریب بھی ذرا عام تقاریب سے مختلف ہو گی.اسکی تفصیل ذرا ابھی خفیہ رکھتی ہوں.
انشا اللہ کل صبح ھم بلاگ میں 17 دسمبر کوھونے والی اس یادگار اور کسی حد تک منفرد تقریب کا احوال بھی سماعت اور قرات کرینگے ، میری بہت عزيز اور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم اللہ کا شکر کہ تم کو کتب بروقت مل گیئں، تم تو ویسے بھی رشتوں کو بہت اھمیت دیتی ھو، اور اس تقریب کی سب سے خوبصورت بات تو تمھارے والدین اور گھر والوں اور اچھے دوستوں کے ھمراہ تقریب اجراء ھے،ا
اس تقریب میں ،میں بھی تمھارے ساتھہ ھی ھوں ۔ ماں جی سے بات کرکے دل شاد ھوگیا ھے، اللہ پاک ان سب کو ھمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثمہ آمین اب میں اطمینان سے سونے جارھی ھو، شدید کھانسی ھے اور اواز بھی بہت تبدیل ھوچکی ھے،انشا اللہ امریکہ میں بھی تمھاری کتب کی تفریب اجراہ اتنی ھی خوبصورت اور بے مثال ھوگی ، اللہ تعالی تم کو اسی ھزاروں کامیابیاں عطا فرماۓ ، آمین ثمہ آمین
میں تمھاری اس بے مثال تقریب کی ہر ہر منزل پر کامیابی کے لئے دعاگو ہوں ،
اور ایڈ منٹن میں ہوتے ہوئے بھی تمھاری تقریب میں شریک بھی
دعاگو
زائرہ بجّو