دوستو بہت عرصے کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت اور پرسوز تحریر پڑھی ۔ ایک ایسی تحریر جس نے مجھے اداس کر دیا یہ سوچ کر کہ کیا ہمیں اللہ کا محبوب بندہ بھی میسر نہیں رہا ۔۔ دنیا کے بدلتے رویوں پر اخلاق کیسے ہاتھ سے نکلا اور کس رنگ میں رچا ۔۔ اسے اتنی دلیری اور دلبری سے لکھنے والی کا نام ہے ہم سب کی پیاری دوست اور بہن ” زرقا مفتی ” ۔۔ان کے مضمون کا عنوان ہے ” صوٖٖفی” ۔۔۔ ایک حساس موضوع پر ایک شیشے جیسی تحریرجس میں ہر چہرہ کسی نہ کسی سے ملتا جلتا ہے ۔۔۔
آئیے زرقا مفتی کی تحریر ” صوفی ” پڑھتے ہیں ۔۔۔
اس قدر کامیاب اور نایاب تحریر لکھنے پر زرقا بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے ۔

پیاری زرقا
اس قدر عمدہ اور سادگی سے اتنی گھمبیر بات کہہ ڈالی کے ایک ہی نشست میں پورا مضمون پڑھ لیا اور دل سے تمہارے قلم کی لمبی عمر کی دعائیں مانگی اور جی میں آیا کہ اس مضمون کی جتنی داد دے سکوں دونگی ۔ لو اس قدر کامیاب اور نایاب تحریر لکھنے پر مبارکباد لو ۔
یہ تحریردل پر یوں لگی کہ تم نے میرے دل کی باتیں ہی لکھی ہیں ۔۔ ایسی باتیں جو دن رات مجھے تنگ کرتیں ہیں ۔تم نے کچھ جملے انتہائی سلیقے اور مہارت سے ادا کئے ہیں ۔۔جیسے ” سمجھ میں نہیں آتا کہ طرز کہن پر اڑے رہیں یا آئین نو پہ چلیں” یا یہ کہ “اس ہزارئیے کا سب سے بڑا نعرہ ہے” بیچو”جو کچھ بک سکتا ہے۔ پھر یہ کہ ” کچھ افراد نے سوچا کہ صوفیا کی زندگی سے کچھ ایسے اصول مستعار لئے جائیں جو بے سکونی کی بیماری سے نجات دلا سکیں” … بہت خوبصورتی سے لکھا کہ ” اپنے من میں ڈوب چکے ہیں مگر سراغ زندگی کو نہیں پا سکے تاہم چہرے پر اطمینان لکھا ہوا ہے”
اور
ایک بہت بڑا سوال ہم سب کے سوچنے کو دے دیا کہ ” کیا قول و فعل میں تضاد رکھنے والا شخص صوفی ہو سکتا ہے ؟؟ ”
اس فیشن ایبل صوفی کا مستقبل کیا ہو گا ؟ کہیں یہ ڈھونگ ہمارے اعتبار کا خسارہ نہ کر دے
سلامت رہو
شاد و آباد رہو
ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی
محترمہ زرقا صاحبہ۔ ایک طویل عرصے کے بعد آپکی تحریر سامنے آئی اور ایک سوال کے جواب کی متقاضی ہے جو ظاہر ہے مجھ جیسا طالب علم نہیں دے سکتا۔دراصل جس طرح ہم نے لا تعداد الفاظ کا استحصال کیا ہے اسی طرح یہ لفظ صوفی بھی وفا کے تناظر میں کوفی کے مماثل بن گیا ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے عالمی اخبار کی پیشانی پر سورہ الصحف کی یہ آیت لکھ رکھی ہے کہ ۔۔۔۔اے ایمان والو تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں کیا کرؤں کہ اللہ پاک کا خطاب یہاں ہے ہی اہل ایمان سے۔ تو قول وفعل کی بنیاد اور معیار کا فیصلہ تو یہیں ہو گیا کہ مسلہ اہل ایمان کا ہے۔ایمان سے عاری کا نہیں اور نصف ایمان والے کا بھی نہیں بلکہ مکمل ایمان والے کا ہے۔ اب ذرا ہم اپنے سمیت اپنے ارد گرد نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا اکثریت بلکہ بہت بڑی اکثریت حقیقی معنوں میں حامل ایمان ہے؟ ایک ایسا لوٹ کھسوٹ کا اور نفسا نفسی کا بازار گرم ہے کہ وہ بھی جس نے عام آدمی کو ایمان بتانا،اسکی تلقین کرنا اور ایمان کے مدارج سے آگاہ رکھنا ہے اسکا ایمان بھی زر نقد کی نذر ہو چکا ہے۔ مادیت نے روحانی سلسلوں کو تہس نہس کر دیا ہے اور صوفیا کا سلسلہ تو سارے کا سارا ہے ہی روحانی۔ لیکن اسکا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ صوفی تارک الدنیا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں اس دنیا میں رہنا بھی ایک امتحان ہے اور اللہ نے اپنے سارے انبیا کو دنیا کی اس تکالیف سے گزارا ہے۔دھوکہ اور دھوکہ اور دھوکہ۔ بس اس ناہنجار دور میں یہی کامیابی کی کلید بن گیا ہے اور جو اس کلید کامیابی کا حامل نہیں وہ گھر سے باہر تک زمانوی اعتبار سے رسوا ہے۔
ایک بات اور بھی ذہن میں رہے کہ تصوف کا سلسلہ صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ غیر مسلم بھی تصوف سے آشنا اور اس پر عمل پیرا ہیں۔اسلام میں اسکی اہمیت اس لیئے زیادہ ہے کہ تو حید کا فلسفہ ہی سارا اس پر بنیاد ہے کہ اسکو لاشریک مان کر خود کو اللہ کی مکمل سپردگی میں دینا۔میں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں تو اپنا میلا کچیلا من بھی اسوقت صاف ستھرا دکھائی دیتا ہے جب ایک عام آدمی سے لیکر صاحبان جبہ ودستار اور وعظ و تبلیغ والے بھی حرص و ہوس اور شہرت و زر کے مارے دکھائی دیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے قول و فعل کی ضد بنے ہیں۔ خود ہمارا قلم قبیلہ بھی غالب طور پراپنی تحریر کی ضد ہے۔ صوفی ہونا تو بہت بڑی بہت ہے اور بہت مشکل سفر ہے۔ پہلے کم از کم ہم آدمی ہوں،پھر انسان بن سکیں اور مسلمان ہو سکیں اور پھر حامل ایمان ہو سکیں اور پھر مومن کی معراج پر پہنچ پائیں پھر کہیں تصوف کے مدرسے میں داخل ہونے کی بنیادی شرط پوری ہو سکے گی۔
اسلام علیکم
بہن زرقا بہت خوبصورت تحریر ہے ۔ ہماری پیڑھی جس منافقت کا شکار ہے اس کا چہرہ آپ نے بہت حد تک دکھایا ہے ۔ ہمارا ہر عمل آج کل ان ہی تضادات کا شکار ہے جن پر ہر کوئی بلا سوچے سمجھے گامزن ہے ۔صرف خود کو منوانا مقصود ہے پھر چاہے وہ صوفی کا لبادہ اوڑہ کر ہو یا حاجی کا طرہ لگا کر ۔میں بہت حیران ہوتی ہوں جب لو گوں کے نام کے ساتہھ حاجی لگا دیکھتی ہوں مجھے یہ بھی ایک خود نمائی ہی لگتا ہے ۔کہ د
وسروں کو اپنی عزت کرنے پر ابھارا جائے ۔
ہمارا جزبہ خود نمائی آج کل انتہائی عروج پر ہے اپنے اندر جہانکنے کی ضرورت کوئی محسوس ہی نہیں کرتا ۔ہاں اپنے فائدے کے لئے ہر کوئی سوچ رہا ہے پھر چاہے وہ کسی صورت حاصل ہو ۔چاہے صوفی بن کر ،چاہے ملا بن کریا پھر حاجی بن کر ۔
بہت پیاری تحریر ہے اللہ پاک آپ کے قلم کو اور روانی بخشے آمین
عالم آرا
السلام علیکم
نگہت جی اس تحریر کو بلاگ میں چسپاں کرنے کے لئے آپکی ممنون ہوں۔ میں نے بھی اپنے دل و دماغ میں اُٹھنے والے سوالات ہی پیش کئے ہیں۔ اپنی زندگی میں بہت سےدینداروں کوقریب سے دیکھا اور مایوس ہوئی ۔ قول و فعل کا تضاد بھی زمانے میں فیشن کی طرح رواج پا چکا ہے۔ مگر میں سمجھتی ہوں کہ زمانے کی دیکھا دیکھی میں ہم کسی کو بھی صوفی کا رُتبہ نہیں دے سکتے۔ہمارے عہد کے لوگ مادہ پرست ہیں روحانیت سے کوسوں دور ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم اپنی حقیقت سے آنکھیں کیوں چراتے ہیں۔ پرانے فرنیچر کو پالش کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے مگر مادہ پرستوں کے چہروں پر نقلی روحانیت کا ملمع نہیں ٹھہر سکتا۔ میں جانتی ہوں کہ میرا شمار صاحب عمل افراد میں نہیں ہوتا مگر مجھے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔
والسلام
زرقا
محترم ھمدانی صاحب
آپ کی سبھی باتیں سچ ہیں۔ کبھی سوچتی ہوں کہ ایک ڈیڑھ صدی پہلے پیدا ہو جاتے تو شاید اقدار کی اتنی تنزلی نہ دیکھتے۔ نہ جانے ہم اپنی اگلی نسل کو کیا دے کر جائیں گے۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم شرف انسانیت کھو چکے ہیں ایک عجیب سی دوڑ میں شریک ہیں جس کا مقصد صرف دوڑ میں شریک باقی لوگوں کو نیچا دکھانا ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے
والسلام
زرقا
زرقا صاحبہ شکریہ. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے ایک بہت بڑی اکثریت شرف انسانیت خود اپنے اعمال کے ہاتھوں کھو چکی ہے. ہم میں سے ہر انسان خود ہی خود کو مومن کہتا ہے جو معراج انسانیت ہے. حد تو یہ کہ اکثریت آدمی اور انسان کے درمیان باریک فرق سے بھی آگاہ نہیں. جس دوڑ کا آپ نے ذکر کیا یہ زندگی کے ہر شعبے میں ہے یہاں تک کہ نمازیوں کی.دین کی تبلیغ کرنے والوں کی.قاریوں کی اور حاجیوں کی بھی دوڑ ہے کہ کس نے کتنے حج کیئے اور کس نے کتنے قرآن ختم کیئے. شاید کوئی یہ سوچتا ہو کہ قرآن پر کتنا عمل کیا؟ حج سے پلٹ کر گناہوں کی تعداد کتنی کم کی؟
رہی یہ بات کہ ہم اگلی نسل کو کیا دے کر جائیں گے؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن یہاں صرف اتنا عرض کرؤں کہ کسی کی طرف دیکھنے کی بجائے پہلے اپنے گھر کو درست کریں،اپنا قبلہ درست کریں، ہم اپنے بچوں کو وہ دیں جو انکے کامیاب مستقبل کے لیئے ضروری ہے.پہلے اپنا فرض ادا کریں.
قول و فعل کا متضاد شخص محض صوفی ہی نہیں، اس سے بڑھ کر بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ لاکھوں جاہلوں کو اپنا مرید بھی بنا سکتا ہے۔ تاریخ ایسے بیشمار کرداروں سے بھری پڑی ہے اور ہم آج بھی اپنے گردونواح میں ایسے ہی لاتعداد منافقین کو دیکھتے ہیں جنکی زبانیں کچھ تو دل کچھ ہیں لیکن شکل اولیا والی۔
یہی اس دنیا کی ریت ہے جس کو امام العارفین امیرالمومنین نے تین مرتبہ طلاق دی اور اسے اس سانپ سے تشبیہ دی جو دیکھنے میں خوشنما مگر زبان تک زہر سے بھرا ہوا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اسلامی تعلیمات کے ذریعہ زندگی کے جو آداب سکھائے ہیں ان میں سے ایک ادب قول وفعل میں مطابقت ہے۔احکام اسلام میں اس ادب کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کی خلاف ورزی کو منافقت قرار دیا گیا اور نفاق کی نشانیوں میں شمار کیا گیا۔
”حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں چار باتیں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں باتوں میں سے کوئی ایک بات پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور وہ چار باتیں یہ ہیں جب امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ، بات کرے تو جھوٹ بولے ، عہد کرے تو اسے توڑ دے، جھگڑے تو بد زبانی کرے۔“
منافقت، منافق یا نفاق عربی زبان کے الفاظ ہیں اور یہ اصل میں نفق سے بنے ہیں، عربی میں نفق دو منھ والی سرنگ کو کہتے ہیں ، اس لیے منافقت دو غلے پن کو کہتے ہیں ۔ اندر کچھ اور ہو اور ظاہر میں کچھ اور ظاہر وباطن ایک جیسے نہ ہوں تو اسے منافقت کہتے ہیں او رجس انسان کے اندر یہ انداز پایا جائے اسے دوُر خایا دو چہروں والا کہا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق منافقت دو طرح کی ہوتی ہے، ایک اعتقادی اور دوسری عملی ، اعتقادی منافقت تویہ ہے کہ کوئی انسان دل سے اسلام کی سچائی او راس کے حق ہونے کو نہ مانتا ہو، صرف زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ سورة البقرہ کے دوسرے رکوع میں کیا گیا۔ ان کے قول وفعل میں تضاد تھا، جب ایمان اولوں سے ملتے تو کہتے ہم ایمان لائے اور جب کفار کے پاس جاتے تو کہتے ہم تو ان کا مذاق اڑا رہے تھے، ورنہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ایسے منافق حقیقت میں کافر ہی ہوتے ہیں بلکہ ان کا جرم کافر سے بڑھ جاتا ہے۔
دوسرے قسم کے عملی منافق ہیں، جو دل سے اسلام کی سچائی او راس کے حق ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اپنی انسانی کمزوریوں کی وجہ سے احکام اسلام پر عمل کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں ،ایسے منافق کی اصلاح تربیت کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔
اب یہ کام بہت قابل توجہ ہے کہ نفاق او رمنافقت کو کیسے پہچانا جائے ۔ جیسے کسی بیماری کی کچھ علامات ، نشانیاں ہوتی ہیں ان نشانیوں کو دیکھ کر معالج بیماری کی تشخیص کرتا ہے اور پھر اس کا علاج شروع کر دیتا ہے۔
اسی طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بتائی ہیں اور فرمایا کہ اگر کسی شخص کے اندران میں سے کوئی ایک نشانی بھی پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کی ایک علامت پائی گئی ۔ پہلی علامت یہ بیان فرمائی ”اذا حدث کذب“ جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ دوسری نشانی یہ بتائی ”اذا وعد أخلف“ وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ”اذا عاھد غدر“ جب معاہدہ کرے تو غداری کرے۔ تیسری نشانی نفاق کی یہ بتائی ”اذا اوتمن خان“ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور چوتھی نشانی یہ بتائی ”اذا خاصم فجر“جب جھگڑے تو بدزبانی کرے۔
آپ صلی الله علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی گئی ان نشانیوں میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی بنیاد قول وفعل میں تضاد ہے۔
دیکھیے ایک شخص ایک بات کرتا ہے خبر کے طور پر ، حالاں کہ ایسا نہیں ہوا تو اس شخص کا قول جھوٹ ہو گا اور یہ نفاق کی نشانی ہے ۔ پھر کوئی شخص وعدہ کرے یا باہمی معاہدہ کرے او رکہے میں یہ کروں گا یا میں اس بات کی پابندی کروں گا۔ پھر وہ بات پوری نہ کرے یا معاہدہ سے پھر جائے، یہ بھی قول وفعل کا تضادہوا۔ یاکسی شخص کے پاس امانت رکھی جائے گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا، پھر وہ امانت میں خیانت کرنے لگے تواب اس کی بات او راس کے عمل میں تضاد آگیا اور یہ بھی نفاق کی نشانی ہو گئی، چناں چہ الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ صف کی دوسری اور تیسری آیت میں ارشاد فرمایا:﴿یٰایھا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون، کبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون﴾․
یعنی اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جوکرتے نہیں؟ الله کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ ایسی بات کہو جو نہ کرو۔
اس آیت سے ایک او رپہلو بہت واضح طور پر سامنے آرہا ہے کہ اس میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی کہ جو کام تم نے کرنا نہیں اس کا دعویٰ کیوں کرتے ہو ؟ لہٰذا ایسے کام کا دعویٰ کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی جس کو کرنے کا عزم اور ارادہ ہی انسان کے دل کے اندر نہ ہو ۔ کیوں کہ یہ دعوی جھوٹا ہوگا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، دل میں کام کرنے کا عزم بھی ہوتا ہے، لیکن وہ کام کسی وجہ سے نہیں ہوتا تو پھر بھی انسان پر قول وفعل میں تضاد کا الزام آجاتا ہے ۔ اس لیے الله رب العزت نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر دل میں کسی کام کرنے کا ارادہ اور پختہ عزم ہو، پھر بھی اپنے نفس او راپنی ذات اور اپنی قوت پر اعتماد کرتے ہوئے انسان براہ راست یہ نہ کہے کہ میں یہ کام کروں گا، بلکہ یوں کہے ان شاء الله میں یہ کام کروں گا، یعنی اگر الله نے چاہا۔
قول وفعل میں تضاد کا ایک پہلو تو دعویٰ کا تھا۔ لیکن دوسرا پہلو دعوت کا ہے، یعنی کوئی شخص دعوت وتبلیغ کا کام کرتا ہے، وعظ ونصیحت کرتا ہے، لوگوں کو بھلائی کا کام کرنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن خود نہیں کرتا۔ یہ بھی قول وفعل کے تضاد کی ایک شکل ہے ،لیکن یہ نفاق کی نشانیوں میں شمار نہیں، بلکہ عملی کمزوریوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ جس کا ذکر الله تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا: ﴿اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم﴾ تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خوداپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟! دعوت وتبلیغ کے کام میں واقعی یہ بڑی کمزوری شمار ہوتی ہے۔ اس کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ دعوت وتبلیغ کا صحیح طریقے سے اثر نہیں ہوتا۔
لیکن قول وفعل کا وہ تضاد جو نفاق کی نشانیوں میں شمار کیا گیا اس کے نقصان دینی اور دنیوی اعتبار سے بہت شدید ہیں۔ پہلا نقصان تو یہ کہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے بری حالت دو چہرے والوں یعنی منافقین کی ہو گی، معاشرتی نقصانات میں سے سب سے بڑا نقصان قول وفعل میں تضاد رکھنے والے کو یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے، اس کی وقعت ختم ہو جاتی ہے اور اسے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا لوگ ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔ اعتماد کی دیوار بڑی محنت اور بہت زیادہ وقت میں تعمیر ہوتی ہے، لیکن اس دیوار کو گرانے کے لیے قول وفعل کے تضاد کے صرف ایک دھکے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیے معاشرتی زندگی میں انسان کو اپنے قول وفعل میں مطابقت کی بہت فکر کرنی چاہیے ۔ تاکہ دنیا وآخرت میں سرخ رو ہو سکے او رمعاشرے کے افراد کا باہمی اعتماد حاصل رہے۔
دیکھئے قرآن وحدیث میں مؤمنین کومخاطب کرنے کے لیے کئی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں مثلاً:
ذاکرین (ہمیشہ اللہ تعالیٰ کویاد کرنے والے)
صابرین (اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمابرداری میں ہرمشکل وکٹھن دور سے گذرکر اس کی رضا وخشنودی حاصل کرنے والے)
خاشعین (عاجزی وانکساری کرنے والے)
صادقین (سچ بولنے والے)
قانتین (اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمابرداری کرنے والے)
موقنین (اللہ تعالیٰ پر یقین وبھروسہ کرنے والے)
مخلصین (خالص اللہ ہی کی عبادت کرنے والے)
محسنین (خوب اچھی طرح عبادت کرنے والے)
خائفین (اللہ تعالیٰ کے غیض وغضب سے ڈرنے والے)
وجلین (اللہ تعالیٰ کے ڈر خوف سے کپکپا جانے والے)
عابدین (اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے)
متوکلین (اللہ تعالیٰ ہی پربھروسہ کرنے والے)
متقین (گناہ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے پرہیز کرنے والے)
مقربین (اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے کہ جن کوقریب کیا گیا ہو)
ابرار (اللہ تعالیٰ کے نیک بندے)
فقراء (اللہ تعالیٰ ہی کے بھکاری بندے)
عباد (اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنے والے)
اولیاء (اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے)
سلفِ صالحین ایک دوسرے کومخاطب کرنے کے لیے ان میں سے مختلف الفاظ وقتا فوقتا استعمال کیا کرتے تھے؛ تاہم دوالفاظ (فقراء، عباد) نے زیادہ قبولیت پائی، دونوں کی ایک ایک مثال درجِ ذیل ہے:
ایک موقع پرحضرت حسن بصریؒ نے ارشاد فرمایا:
“يَامَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ إنَّكُمْ تُكْرَمُونَ بِاَللَّهِ وَتُعْرَفُونَ بِاَللَّهِ تَعَالَى فَانْظُرُوا كَيْفَ تَكُونُونَ مَعَ اللَّهِ تَعَالَى إذَاخَلَوْتُمْ بِهِ”۔
(الرسالۃ القشیریۃ:۱/۱۲۳، شاملہ، موقع الإسلام،المؤلف: أبوسعيد محمد بن محمد الخادمي،المتوفى ۱۱۵۶ھ)
اے فقراء کی جماعت! بے شک تم اللہ کوپہچانتے ہو اور اللہ کی تعظیم کرتے ہو؛ پس! دیکھو کہ جب تم خلوت میں ہوتو اللہ کے ساتھ کیسے ہو۔
علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت عمر بن الخطابؓ میں صفحہ نمبر:۲۱۶/ پر لکھا ہے:
“قَالَتْ الشفاء رَأَت فتياناً يقصدون في المشي، ويتكلمون رويداً، فقالت: ماهؤلاء؟ قالوا: نساك (یعنی عباد)”۔
(دراسة نقدية في المرويات الواردة في شخصية عمر بن الخطاب وسياسته الإداريةؓ:۱/۳۵۸،المؤلف: عبد السلام بن محسن آل عيسى، شاملہ،موقع مكتبة المدينة الرقمية،الناشر: عمادة البحث العلمي بالجامعة الإسلامية، المدينة المنورة، المملكة العربية السعودية)
شفاءؓ (بنت عبداللہ) نے چند نوجوانوں کودیکھا کہ ان کی رفتار اور گفتار میں آہستگی پائی جارہی تھی، دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں، بتایا گیا کہ یہ عباد ہیں۔
فقراء اُن لوگوں کوکہتے ہیں جن میں فقر ہو اور عباد ان لوگوں کوکہتے ہیں جوعبادت گزار ہوں؛ چونکہ یہ دونوں لفظ اپنے موصوف کی صفت کی طرف اشارہ کرتے تھے؛ لہٰذا سلفِ صالحین اپنی باطنی صفات ومقامات پرنام پکارے جانے میں ریاکاری سے ڈرتے تھے، طبیعت کا انشراح اور ادب کا تقاضا یہی تھا کہ عادات ظاہرہ پر نام پکارا جائے، ظاہراً ان حضرات میں قدر مشترک صوف کا لباس تھا جسے یہ سنت سمجھ کر پہنتے تھے دواحادیث درجِ ذیل ہیں:
(۱)شیخ ابوزرعہ طاہر بن محمد بن طاہر نے اپنے مشائخ کی اسناد کے حوالے سے حضرت انس بن مالکؓ کی حدیث بیان کی ہے:
“كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس الصوف، ويركب الحمار”۔
(الزهد للمعافى بن عمران الموصلي:۱/۹۷، شاملہ، موقع جامع الحديث)
نبی اکرمﷺ اون کا لباس پہنتے اور گدھے کی سواری کرتے تھے۔
(۲)حضرت علی ہجویریؒ نے”کشف المحجوب”میں ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا:
“علیکم بلبس الصوف تجدون حلاوۃ فی قلوبکم”۔
تم اون کا لباس پہنو! ایمان کی حلاوت اپنے دلوں میں پاؤ گے۔
چونکہ صوف کا لباس اُونی کپڑا پہننا انبیاء علیہم السلام کی عادت اور اولیاء واصفیاء کا شعار تھا؛ لہٰذا انہیں ظاہری لباس کی طرف منسوب کردیا گیا؛ پس!صوفی ایک مجمل اور عام نام ہوا جوان کے تمام علوم، اعمال، اخلاق اور تمام شریف اور قابل ستائش احوال کی خبردیتا ہے، حضرت ابونصر سراج طوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاص اصحاب کاقرآن مجید میں تذکرہ کیا توانہیں ان کے ظاہری لباس کی طرف منسوب کیا”إِذْقَالَ الْحَوَارِيُّونَ”(المائدۃ:۱۱۲)”ترجمہ:جب حواریوں نے کہا”یہ لوگ سفید لباس پہنا کرتے تھے؛ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی طرف منسوب کردیا اور جن علوم واحوال سے یہ موسوم تھے ان میں سے کسی نوع کی طرف منسوب نہیں کیا، میرے نزدیک صوفیہ کا بھی یہی معاملہ ہے”۔
(کتاب اللمع فی التصوف:۵۵)
مندرجہ بالا بات معلوم ہوا کہ صوفی کا لفظ صوف سے مشتق ہے یہی قول اقویٰ ہے، شیخ ابوبکر ابراہیم بخاریؒ القلابازی نے اپنی کتاب”التعارف المذہب التصوف”میں لغوی تحقیق کے حوالے سے اس بات کوثابت کیا ہے جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(۱)بعض حضرات کہتے ہیں کہ صوفی کا لفظ”صفا”سے بنا ہے وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ صوفی کا مقصود صفائی باطن کا حاصل کرنا ہے؛ اگرایسا ہوتا تویہ لفظ”صفاوی”ہونا چاہیے تھا۔
(۲)بعض حضرات کہتے ہیں کہ صوفی کا لفظ”صف”سے بنا ہے وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اگلی صفوں میں ہوں گے؛ اگرایسا ہوتا تویہ لفظ”صفی”ہونا چاہیے تھا۔
(۳)بعض حضرات کہتے ہیں کہ صوفی کا لفظ”صفہ”سے بنا ہے وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ اصحاب صفہ کی یادگار ہیں اگرایسا ہوتا تویہ لفظ”صُفِی”ہونا چاہیے تھا۔
(۴)بعض حضرات کہتے ہیں کہ”صوفی”کا لفظ”صُوف”سے بنا ہے وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ صوف کا لباس پہنتے تھے؛ اگرایسا ہے تو یہ لفظ”صوفی”ہی ہونا چاہیے تھا معلوم ہوا کہ صوفی کا لفظ مشق”صوف”سے ہے مقصود اس کا”صفا”ہے نسبت اسے اصحاب”صُفہ”سے ہے اور قیامت کے دن اس کا مقام”صف”اوّل ہوگا۔
صوفی کے لفظ کی نسبت صوف (پشمینہ، یعنی وہ اُونی کپڑا جومویشیوں کے بالوں سے تیار کیا جاتا ہے) سے ہونے میں کئی حکمتیں بھی ہیں:
(۱)اونی کپڑا نرم ہوتا ہے پس! صوفی وہ شخص ہے جودل کونرم بنانے کے لیے محنت کررہا ہو۔
(۲)اونی کپڑا سفید ہوتا ہے پس! صوفی وہ شخص ہے جواپے دل کوصوف کی طرح سفید کرنے کے لیے محنت کررہا ہو۔
(۳)اونی کپڑا کسی رنگ کوجلدی قبول نہیں کرتا پس! صوفی وہ شخص ہے جو”صبغۃ اللہ”اللہ کے رنگ میں ایسا رنگا جاچکا ہو کہ اب ماسوا کا رنگ اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔
خیال رہے کہ صوفی کا لفظ جن الفاظ سے ماخوذ ہے ان کا تذکرہ قرآن وحدیث میں موجود ہے،
(۱)ایک قول کے مطابق صوفی کا لفظ صف سے ماخوذ ہے توقرآن پاک میں ہے:
“إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ”۔ (الصف:۴)
بیشک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوپسند فرماتا ہے جواللہ کے راستہ میں صفیں باندھ کرجہاد کرتے ہیں؛ یوں لگتا ہے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
دوسرے قول کے مطابق صوفی کا لفظ صفا سے ماخوذ ہے توحدیث پاک میں ہے:
“عن أبي جحيفة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم متغير اللون فقال: “ذهب صفو الدنيا وبقي الكدر، فالموت اليوم تحفة لكل مسلم”۔
(الرسالۃ القشیریۃ:۱/۱۲۶، شاملہ، موقع الوراق،المؤلف: أبوسعيد محمد بن محمد الخادمي،المتوفى ۱۱۵۶ھ)
حضرت ابوجحیفہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام ہم پر نکلے آپ کا رنگ متغیر تھا آپ نے فرمایا کہ دنیا کی صفائی چلی گئی اور میل کچیل رہ گئی پس آپ توموت ہرمسلمان کے لیے تحفہ ہے۔
تیسرے قول کے مطابق صوفی کا لفظ صفہ سے ماخوذ ہے توحدیث پاک میں ہے:
“عن ابن عباس قال وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على أصحاب الصفة فرأى فقرهم وجهدهم وطيب قلوبهم فقال أبشروا ياأصحاب الصفة فمن بقي من أمتي على النعت الذي أنتم عليه راضيا بمافيه فإنه من رفقائي”۔ (کشف المحجوب)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرمﷺ اصحاب صفہ پر تشریف لائے، آپ نے ان کے فقر اور مشقت کومحسوس کیا توفرمایا: خوش ہوجاؤ اہلِ صفہ، پس! جوشخص میری امت سے تمہاری روش پر رہنا پسند کریگا وہ بہشت میں میرا ساتھی ہوگا۔
چوتھے قول کے مطابق صوفی کا لفظ صوف سے ماخوذ ہے توحدیث پاک میں ہے:
“كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس الصوف، ويركب الحمار”۔(الزهد للمعافى بن عمران الموصلي:۱/۹۷، شاملہ، موقع جامع الحديث)
نبی اکرمﷺ صوف کا لباس پہنتے اور گدھے کی سواری کرتے تھے۔
کسی لفظ کا من وعن قرآن وحدیث میں موجود نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ لفظ غیراہم یاغیراسلامی ہے، مثال کے طور پر متکلمین کا لفظ قرآن وحدیث میں من وعن کہیں موجود نہیں توکیا علم کلام غیراسلامی ہوگیا، اس کے بغیر تواسلامی عقائد بھی ثابت نہیں کیئے جاسکتے؛ اسی طرح نحو کا لفظ قرآن وحدیث میں موجود نہیں توکیا علم النحو فضول اور غیراہم ہے، اس کے بغیر توقرآن وحدیث کوسمجھنا بھی ممکن نہیں۔
رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہنے کی ایک خاص عظمت اور خصوصیت تھی، جسے یہ نعمت نصیب ہوگئی اس پرکوئی اور نام چسپاں کرنا گستاخی تھی، صحابہ کرامؓ تونسبت اور صحبت کی وجہ سے زاہدوں، عابدوں، متوکلوں، صابروں، اطاعت گزاروں اور فقراء کے پیشواء ہیں تمام احوال میں سے بہترین اور بزرگ تیرن حال ان کونصیب تھا، اب انہیں کسی اور فضیلت کی وجہ سے فضیلت دینا ناروا ہے، حدیث پاک میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
“خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ”۔(مسند البزار كاملا،حدیث نمبر:۴۵۰۸، صفحہ نمبر:۲/۱۴۹، شاملہ،القسم:کتب المتون)
بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھران لوگوں کا زمانہ جواُن کے بعد آئیں گے؛ اسی طرح پھران لوگوں کا جوان کے بعد آئیں گے۔
پس ساری دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں مل کربھی صحبت رسولﷺ کا نعم البدل نہیں ہوسکتیں، امام شافعیؒ سے پوچھا گیا کہ سیدنا امیرمعاویہؓ افضل ہیں یاحضرت عمربن عبدالعزیزؒ؟ توامام شافعیؒ نے جواب دیا کہ سیدنا امیرمعاویہؓ جب نبی علیہ السلام کی معیت میں جہاد پر نکلے توان کے گھوڑے کی ناک میں جومٹی گئی وہ مٹی بھی عمربن عبدالعزیزؒ سے افضل ہے اس لیے علماء کرام نے لکھا ہے کہ ساری دنیا کے اتقیاء، اصفیاء اور اولیاء مل کر بھی کسی ادنی صحابیؓ کے درجے کونہیں پہنچ سکتے۔
پس جن لوگوں نے رسول اللہؐ کی صحبت پائی وہ خوش نصیب حضرات صحابی کہلائے؛ جنھوں نے صحابہؓ کی صحبت پائی وہ تابعین کہلائے اور جنھوں نے تابعین کیص حبت پائی وہ تبع تابعین کہلائے یہ تینوں نسبتیں مندرجہ بالا فرمان نبویﷺ کی بنا پر خیرکی غمازی کرتی تھیں؛ لہٰذا ہرشخص اس نسبت کے ساتھ پکارا جانا اپنی سعادت سمجھتا تھا؛ پس! صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد امت کے مشائخ صوفیا کے نام سے مشہور ہوئے حضرت امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق مطابق یہ لفظ دوسری صدی ہجری سے پہلے زبان زدعام تھا۔
حضرت ابونصر سراج طوسیؒ نے تاریخ مکہ کے حوالے سے محمد بن اسحاق بن یسارؒ اور دیگرلوگوں کی روایت سے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ:”اسلام سے پہلے ایک بار مکہ خالی ہوگیا تھا یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کرنے والا کوئی نہ تھا دوردراز سے ایک صوفی آتا اور بیت اللہ کا طواف کرکے واپس چلا جاتا”۔
تاریخ کے اس حوالے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ نام اہلِ عرب کواسلام سے پہلے بھی معلوم تھا صاحب فضیلت اور صالح لوگ اسی نام سے موصوف ہوتے تھے، واللہ اعلم۔
حضرت حسن بصریؒ جنھوں نے اٹھارہ بدری صحابہؓ کی صحبت کا شرف حاصل کیا اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے باطنی فیض پایا، ان کے وقت میں صوفی کا مستعمل ہونا تویقینی امر ہے، حضرت ابونصر سراج طوسیؒ فرماتے ہیں:
“لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ نام بغدادیوں نے گھڑلیا ہے غلط ہے؛ چونکہ یہ نام توحسن بصریؒ کے عہد میں بھی مستعمل تھا، حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ میں نے طواف کے دوران ایک صوفی کودیکھا اور اسے کچھ دیا، اس نے نہیں لیا اور کہنے لگا، میرے پاس چار دانق پڑے ہیں اور کافی ہیں”۔(کتاب اللمع فی التصوف:۶۵)
معلوم ہوا کہ صوفی کا لفظ تابعین کے دور میں احیاناً استعمال ہوتا تھا، تبع تابعین کے دور میں نسبتاً زیادہ استعمال ہونے لگا اور ان کے بعد دوسری صدی ہجری سے پہلے زبان زد عام ہوگیا، امام سفیان ثوریؒ اپنے وقت کے ایک شیخ کوابوہاشم صوفی کہا کرتے تھے، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے ایک شیخ ابوحمزہ بغدادیؒ کوصوفی کہتے تھے۔
حضرت حسن بصریؒ کے شاگرد عبدالواحد بن زیدؒ سے پوچھا گیا صوفیاء کون ہوتے ہیں؟ فرمایا جواپنی عقلوں کے ذریعہ اپنے ارادوں پر قائم ہوتے ہیں اور اپنے دلوں سے اس پر ڈٹے رہتے ہیں اور اپنے شر سے بچنے کی خاطر اپنے آقا کومضبوط پکڑے رہتے ہیں۔
حضرت ذوالنون مصریؒ سے پوچھا گیا تو فرمایا: “صوفی وہ ہے جسے جستجو تھکانہ سکے اور محرومیت کی وجہ سے بے چین نہ ہو”۔
حضرت ابومحمدرویمؒ سے پوچھا گیا توفرمایا:”جس کا کردار اس کی گفتار کے موافق ہو”۔
کسی عارف نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یوں فرمایا کہ صوفی وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی وگناہوں کے میل کچیل سے پاک صاف ہو اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی یاد اس کے دل ودماغ پر چھائی رہے وہ ہمیشہ آخرت کے معاملہ میں متفکر رہتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے حاضر ناظر اور اس کے قریب ترین ہونے کے استحضار نے اُس کو مخلوق سے دور کردیا ہو اور اس کی نگاہ میں سونا اور مٹی برابر ہو۔
حضرت شبلی ؒ نے فرمایا:”صوفی وہ ہے جومخلوق سے کٹے اور اللہ سے جڑے”۔
پس صوفی وہ ہوتا ہے جس کوجانوروں کی آواز، ہرایک سوزوساز، چڑیوں کی چہک، پھولوں کی مہک، سبزے کی لہک، جواہرات کی دمک، سورج کی چمک، سماء وسمک، درختوں کے رنگ، شیشہ وسنگ، پتھر کی سختی، خوشحالی وبدبختی، زمین کی نرمی، آتش کی گرمی، دریا کی روانی، کواکب آسمانی، پہاڑوں کے ابھار، جنگلوں وبیابانوں کی سبزہ زاریاں، خزاں وبہار، غرض یہ کہ دنیا کی ہروہ چیز جس پر وہ نظرڈالے ایک ہی نادیدہ ہستی یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد دلائے اس میں اس کو اللہ تعالیٰ نظر آئے، یعنی اس کی قدرت وکرشمات کہ جس کے ذریعہ سے وہ اللہ کی ذات کوپالے۔ ( نحوالہ تصوف وسلوک:۱۵ تا ۲۲، حضرت مولانا پیرذوالفقار احمد صاحب نقشبندی مدظلہ،ناشر:فریدبک ڈپو، نیودہلی
آج تصوف اور صوفیا کے حوالے سے بہت سے راگ الاپے جاتے ہیں اس کی اصل وجہ دراصل جعلی پیروں فقیروں اور نام نہاد عالموں کی دکان داری ہے
لیکن اس حوالے سے اہل تصوف کیا کہتے ہیں آئیے دیکھتے ہیں
عارف باللہ سیدی عبدا لوہاب شعرانی قدس سرہ فرماتے ہیں –
” تصوف کیا ہے ؟ بس احکام شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے “( طاقت الشافیہ الکبری )
سیدی ابو عبد الله محمّد بن خفیف ضبی قدس سرہ فرماتے ہیں
” تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جاتے اور شریعت میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیروی ہو “(طبقات کبری الامام العشرانی )
تصوف طریقت ہی کا دوسرا نام ہے اور طریقت اس راہ کا نام ہے جو خدا تک پنہچانے والی ہو – اب خدا تک پنہچانے والی راہ کون سی ہے ؟ اُسے سید نا غوث اعظم شیخ عبد القدر جیلانی راضی الله عنہ کی زوبان فیض ترجمان سے سنیے
“الله عزوجل کی طرف سب سے زیادہ قریب راستہ قانون بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ کو تھامے رہنا ہے ”
ہر صوفی کامل درجہ ولایت پر فائز نہیں ہوتا اور ہر والی صوفی کامل ضرور ہوتا ہے – ولی کون ہے ؟ اس کی تعریف میں بھی بہت سے اقوال ہیں لکین قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہوتا ہے
الذین امنوا و کانوا یتقون ترجمہ : اولیا الله وہ ہیں جو ایمان اور تقوی کے کمال سے سرفراز ہوں
دوسری بات یہ ہے کہ ولایت کے لیے کرامت لازم ہے مگر کرامت دو طرح کی ہے – ایک وہ جس میں کسی دھوکہ کا دخل نہیں ہو سکتا دوسری وہ جس میں استدراج اور شعبدہ کا شبہہ ہو سکتا ہے – اسی لیے سید نا غوث اعظم شیخ عبد القدر جیلانی راضی الله عنہ فرماتے ہیں
” ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا فعل نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اترے ”
حضرت شیخ اکبر محی الدین محمّد بن العربی قدس سرہ فرماتے ہیں
ایک کرامت تو حسی ہوتی ہے جسے عوام بھی جانتے ہیں جیسے ہوا میں اڑنا ، پانی پر چلنا ، گزشتہ و آیندہ حالت کی خبر دینا ، سیکڑوں منزل بیک قدم طے کرلینا – دوسری کرامت معنوی ہوتی ہے جسے صرف خواص پہچانتے ہیں – وہ یہ ہے کہ
” اپنے نفس پر آداب شرعیہ کی حفاظت رکھے ، عمدہ خصلتیں حاصل کرنے اور بری عادتوں سے بچنے کی توفیق پاۓ – تمام واجبات ٹھیک وقت سے ادا کرنے کا التزام رکھے ”
ان کرامتوں میں مکر و استدراج کو دخل نہیں — اور وہ کرامتیں جنھیں عوام پہچانتے ہیں ان سب میں مکر نہاں کی مداخلت ہوسکتی ہے —- کرامت معنیویہ میں مکر و استدراج کی مداخلت نہیں “(فتوحات مکیہ )
علماے باطن کے ان ارشادات کی روشنی میں تصوف ، صاحب تصوف کرامت ، صاحب کرامت اور ولی کا اجمالی تقشہ ذہین میں آجاتا ہے کہ اصل تصوف ، تصفیہ قلب اور اتباع شریعت ہے حقیقی اور عالی کرامت شریعت پر استقامت ہے سچا ولی وہی ہوگا جو سید الکونین صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی میں سچا ہو گا
حضرت ابو القاسم قشیری رضی الله تعالی رسالہ مبارکہ قشیریہ میں سیدی ابو العباس احمد بن محمد الادمی معاصر سیدنا جنید بغدادی قدس سرہ کا فرمان نقل کرتے ہیں
“جو اپنے اوپر آداب شریعت لازم کرے الله تعالیٰ اس کے دل کو نور معرفت سے روشن کردے گا – اور کوئی مقام اس سے بڑھ کر معظم نہیں کہ نبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام ، افعال ، عادت سب میں حضور کی پیروی کی جاۓ”(مقال عرفا ص )
حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ فرماتے ہیں
” اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ ایسی کرامت دی گئی کہ ھوا پر چار زانو بیٹھ سکے تو اس سے فریب نہ کھانا جب تک یہ نہ دیکھو کہ فرض و واجب ، مکروہ و حرام اور محافظت حدود و آداب شریعت میں اس کا حال کیسا ہے ؟ (قشریہ )( بحوالہ مقال عرفا تصنیف امام احمد رضا بریلوی رحمتہ الله علیہ )
یہ حکمت ملکوتي، يہ علم لاہوتي
حرم کے درد کا درماں نہيں تو کچھ بھي نہيں
يہ ذکر نيم شبي ، يہ مراقبے ، يہ سرور
تري خودي کے نگہباں نہيں تو کچھ بھي نہيں
يہ عقل، جو مہ و پرويں کا کھيلتي ہے شکار
شريک شورش پنہاں نہيں تو کچھ بھي نہيں
خرد نے کہہ بھي ديا ‘لاالہ’ تو کيا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھي نہيں
عجب نہيں کہ پريشاں ہے گفتگو ميري
فروغ صبح پريشاں نہيں تو کچھ بھي نہيں
ممتاز کالم نگار جناب ہارون الرشید کے ایک کالم سے اقتباس
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر … لیکن کیا مسلمان واقعی بیچارے ہیں؟ کیا وہ خدا کی رحمت کے آرزو مند ہیں یا محض اس کے منتظر ۔ صوفی سے سوال کیا تو اس نے کہا : امن اور انصاف سمیت وہ سبھی کچھ دیتا ہے لیکن گاہے بن مانگے،گھاس بھی نہیں۔ پھر ایک دوسرے موقع پراضافہ کیا، اپنی کائنات تخلیق کرچکنے کے بعد، وہ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ رہا، جیسے کوئی ٹھیکیدار مزدوروں کو مشقت سونپ کر چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا ہو۔ یہ جزا و سزا کی دنیا ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے مگر یہ کہ معافی مانگ لو ۔ اس کا فرمان یہ ہے کہ جب اس نے آدم زاد کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے آپ پر رحمت کو لازم کرلیا تھا لیکن رحمت کے سزا وار وہی ہیں، جو اس کے آرزو مند ہوں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے جو محض محو انتظار ہوں، ان کے مقدر میں محض انتظار ہے۔
منہ اٹھائے ایک لاابالی سا آدمی محفل میں چلا آیا۔ بجھا ہوا ، آرزدہ گنواروں کی سی بے نیازی اور مایوسی سے اس نے کہا: سرکار ، کیا میرے لئے بھی کوئی ٹھکانہ ہے ۔ کیا مجھ ایسے بدبخت کیلئے بھی کوئی راہ نجات ہے۔ صوفی اس کائنات کا واحد معالج ہے، جس کے دروازے پر ہر مریض کیلئے شفاء ہے، اس لئے کہ وہ شافع محشرﷺ کا بستہ بردار ہوتا ہے۔ خود پر نہیں ، وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ دوا نہیں دیتا، اس دروازے کاراستہ بتاتا ہے،جہاں تقدیریں تخلیق ہوتی ہیں اور جس نے تقدیریں لکھی ہیں، وہ انہیں بدل دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
تو اس مریض سے درویش نے یہ کہا: مایوسی آدمیوں سے ہوتی ہے، اللہ سے نہیں۔ اگر تم اس سے یہ کہو ”میں خطاکار ہوں اور صرف تو ہے جو پاک ہے“۔ مجرم کی آنکھوں میں چمک آگئی اور اس نے کہا ”کیا صرف یہی؟ بس اتنا ہی ؟”…، ہاں“ صوفی نے کامل سنجیدگی سے کہا ”صرف اتنا ہی“۔ دن میں ایک ہزار بار” اے میرے مالک تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے اور بے شک میں ظالموں میں سے ایک ہوں“ صبح ، دوپہر ، شام ، تقریباً بیس بیس منٹ ، یہ ایک گھنٹہ ہوتا ہے ۔ اگر اتنی مشقت کر سکو تو بیس برس کی میل دھل جائے گی اور تم اجلے ، نئے ملبوس کی طرح“۔
طالب علموں میں سے ایک نے کہا” استادگرامی ، ایسی کڑی ریاضت؟ ایک ہزار بار روزانہ؟“۔ زیر لب صوفی نے کہا ” جی ہاں، اتنی ہی بڑی۔ یہ ناچیز دس ہزار بار روزانہ پڑھا کرتا ہے۔ دعا وہی بتائی ہے جو خود لاکھوں بار پڑھ لی ہو اور ایک شرط یہ ہے کہ وہ قرآن کریم میں رقم ہو یاحصن الحصین میں جو رحمتہ اللعالمین کی دعاؤں کا مجموعہ ہے“۔
چودہ صدیاں گزر گئی ہیں ۔ مدینہ کے ریگزار میں بیٹھے پیغمبر صحراﷺ نے ان زمانوں کو دیکھ لیا تھا، جن میں ہم جیتے ہیں۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی اور چہرے پر سکوت۔ جان نثاروں کو گمان ہوا کہ شاید گستاخی ہوگئی۔ پوچھا ! یا رسول اللہ ﷺ کیا خطاء سرزد ہوئی۔ فرمایا: کچھ بھی نہیں ۔ میں نے ان لوگوں کو یاد کیا جو تمہارے بعد آئیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہ ہوگا۔ مگر مجھ سے اتنی ہی محبت کریں گے جتنی تم کرتے ہو۔ کیا وہ زمانہ جو ہم سے پہلے گزر چکا یا وہ جو ہمارے بعد آئے گا؟۔ صوفی کہتاہے: یہی تو ہے ۔ چار برس بیت گئے تین باقی ہیں ۔ دجال کا دور ہے ۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے کہا تھا : ایک تہائی دجال سے جا ملیں گے ۔ ایک تہائی اس سے لڑیں گے اور برباد ہوں گے۔ ایک تہائی اس سے لڑیں گے اور فتح پائیں گے۔ بے شک صادق و امینﷺ کا قول ہی سچا، صادق و امینﷺ کا قول ہی سچا ۔خود پروردگار کی گواہی یہ ہے ”اپنی آرزو سے وہ کچھ نہیں کہتے ، مگر وہی جو ان پر اتارا جائے“۔ کون جانے کب ؟صوفی غیب کا علم تو نہیں رکھتا، اندازہ ہی کرسکتا ہے … اور خود اس نے یہ کہا تھا کہ بن مانگے گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا۔… تو کیا ہم انصاف اور امن کے آرزو مند ہیں یا محض منتظر؟ کتاب تو یہ کہتی ہے کہ وہ مضطرب کی دعا سنتا ہے۔ کیامضطرب دعا کرتے ہیں یا بھیک کے انتظار میں پڑے ہیں، ہمارے حکمرانوں کی طرح۔
یاد آ کر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو
شام شہر ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو
حضرت داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کے مطابق اللہ کاارشادہے کہ رحمان کے بندے وہ ہیں جوزمین میں انکساری اوراخلاق سے چلتے ہیں اورجب جاہل لوگ انہیں پکارتے ہیں تووہ سلام کرتے ہیں۔حدیث نبوی ص ہے کہ جوصوفیاکی آوازسنے اوراسکی دعاپرآمین نہ کہے تووہ اللہ کے نزدیک غافلوں میں شمارہوگا۔
تصوف باب تفعل سے ہے جس کاخاصہ ہے کہ بہ تکلف فعل کامتقاضی ہواوریہ اصل کی فرع ہے لغوی حکم اورظاہری معنی میں اس لفظ کی تعریف کافرق موجودہے۔تصوف کی تین قسمیں ہیں صوفی،متصوف اورمستصوف۔اول الذکروہ ہے جوحق کے ساتھ پیوستہ ہوکرخودفناہوجائے اورحقیقت کی پہچان کے لیے نفس کوماردے۔متصوف وہ کہ جواس مقام کے حصول کے لیے ریاضت اورمجاہدے کرے۔جبکہ مستصوف وہ کہ جوگمراہ ہوعرفا کے بقول وہ جعلی صوفی ہے۔
حضرت جنیدبغدادی رح کے مطابق
تصوف ایسی خوبی ہے جسمیں بندے کوقائم کیاگیاہے۔
حضرت ابوالحسن نوری کے مطابق
تصوف تمام نفسانی خواہشات کی بیخ کنی کانام ہے۔
حضرت ابوعمردمشقی رح کے مطابق
تصوف دنیاکے عیب دیکھنے کانام نہین بلکہ اسے ہیچ سمجھنے کانام ہے۔
حضرت محمدبن علی بن امام حسین رح کے مطابق
پاکیزہ اخلاق کانام تصوف ہے۔
حق اورصداقت کی راہ میں اگرتم صوفی بنناچاہتے ہوجان لوصوفی ہوناحضرت ابوبکرصدیق رض کی شان تھی۔صفائے باطن کے لیے کچھ اصول اورفروع ہیں۔فروع یہ کہ دنیاپرستی چھوڑدے اوراصول یہ کہ دل کوغیرسے خالی کردے یہ دونوں صفتیں حضرت ابوبکرصدیق رض میں موجودتھیں۔(کشف المحجوب)
کہتے ہیں کہ جو شخص مذہب کا پیروکار ہے مگر تصوف پر عامل نہیں اس کی مثا ل اس شخص کی ہے جس نے حلوائی کی دوکان پر ساری عمر حلوہ بنایااورخود کبھی حلوہ نہ کھایا۔
تصوف کی بدولت انسان اس اللہ سے مکمل رابطہ پیدا کر سکتا ہے جسے وہ ا پنا معبود و مسجود یقین کرتا ہے۔ تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت دل کا نام ہے۔ اور اگر دل کا نام ہے اور دل مسلمان نہ ہو سکا تو رکوع وسجود یا زبان سے خدا کا اقرار دونوں بے معنی ہیں۔
؎ خرد نے کہ بھی دیا لا ا لٰہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
پس تصوف دل و نگاہ کو مسلمان بنا دیتا ہے اور یہ بات یقین کامل کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ تصوف کے علاوہ دل و نگاہ کو مسلماں بنانے کی اور کوئی صورت نہیں خود اقبال کا مشورہ بھی یہی ہے۔
؎ می نروےد تخم دل از آب و گل بے نگا ہے از خدا و ندان دل
یعنی جب تک کوئی شخص خدا وندان دل کی صحبت اختیار نہیں کرے گا اس وقت تک دل حقیقی معنٰی میں دل نہیں بن سکتا اور بات بھی معقول ہے۔چراغ سے ہی چراغ روشن ہو سکتا ہے۔
تصوف کی لغوی تعریف
اشتقاق کے اعتبار سے تصوف کے لغوی معنی میں علمائے اسلام کو سخت اختلاف رہا ہے۔ان میں سے چند اقوال درج ذیل ہیں۔
۱۔ عام طور پر صوفی کے لفظ کو ’’ صوف‘‘ سے مشتق کےا جاتا ہے۔ ابن خلدون کا یہی قیاس ہے عربی لغت کے اعتبار سے تصوف کے معنیٰ ہیں ’’ اس نے لباس پہنا‘‘ جیسے ’’تقمّض َ ‘‘ کے معانی ہیں اس نے قمیض پہنی۔ ابتدا میں صوفیاء کو ان کی صوف پوشی کی وجہ سے صوفی کہنے لگے ۔ لیکن صو فیاء صرف صوف پوشی سے مخصوص و مختص نہیں اور نہ ہی صوف پوشی ہی اہل معرفت کی پہچان ہو سکتی ہے۔
۲۔ بعض لوگ لفظِ صوفی کو صفا سے مشتق خیال کرتے ہیں۔ یعنی صوفی وہ ہے جس کو حق تعالیٰ نے صفائی قلب سے زےنت بخشی ہے اور قلب کی صفائی اور اصلاح سے ظاہر ہے کہ سارے جسد کی اصلاح ہوتی ہے لیکن لغوی اعتبار سے یہ اشتقاق درست قرار نہےں دےا جا سکتا کےونکہ صفا سے جو لفظ مشتق ہو گا وہ لغت صحیح کی رو سے صفوی ہوگا نہ کہ صوفی۔
۳۔ بعض کی رائے سے صوفی لفظ صف سے مشتق ہے یعنی صوفیا ء حضور ِ حق میں اپنے قلوب کے ساتھ صفِ ا و ل میں حاضر ہوتے ہیں یہاں بھی معنیٰ کے اعتبار سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن لغت کے اعتبار سے صف کی طرف نسبت ہو تو ’’ صفیِ ‘‘حاصل ہو گانہ کہ صوفی۔
۴۔ بعض نے صوفی کو ’’ صُفہ ‘‘ کی طرف منسوب کیا ہے۔ حضور انور ؐ کے زمانے میں بعض صحابہ جن کی تعداد ستر سمجھی جاتی تھی۔دنیوی تعلقات کو ترک کر دیا تھا اور ’’فقر الی اﷲ‘‘ اختیار کر لیا تھا وہ صرف ایک کپڑے میں زندگی بسر کرتے تھے۔ان کو اہل صفہ کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے’’ صفہ‘‘ مسجد نبوی کو اپنی قیام گاہ بنا لیا تھا۔صوفیا ء کو بھی اپنی اوصاف کی بنا پر اہل صفہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر اشتقاق ِ لفظی کی نظر سے دیکھا جائے تو صفہ کی طرف نسبت ’’صُفّی‘‘ کا لفظ پیش کرتی ہے نہ کہ صوفی کا۔
۵ ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ یونانی لفظ ’’ سو فوس‘‘ سے بنا ہے۔جس کے معنیٰ حکمت کے ہیں مگر مشہور محقق نولڈکی NOLDEKE نے اس کی تردید میں لکھا ہے کہ دو یونانی حرف SIGMA عربی میں ہمیشہ ’’ س‘‘ صورت میں آتا ہے نہ کہ ’’ص‘‘ صورت میں اور صوفی ’’ص‘‘ سے ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس لفظ کا اشتقاق ’’سوفوس ‘‘ سے نہیں ہو سکتا۔
قول راجح
راجح قول یہی ہے کہ لفظ صوفی ’’صوف‘‘ سے مشتق ہے کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ لفظ اپنے مادہ کے زیادہ قریب ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ زمانۂ قدیم میں صوفیاء اکثر و بےشتر یہی لبا س استعمال کرتے تھے۔
تیسری بات یہ ہے کہ صوف کے استعمال میں اس چیز کا اظہار تھا کہ صاحب لباس دنیوی تعیشات کی طر ف بہت کم مائل ہےںااور کسی نہ کسی درجے میں ’’زھد فی الدنیا ‘‘ کی طر ف رجحان رکھتا ہے۔اکثر انبیا ٔصوف کا لباس استعمال کرتے تھے چنانچہ حضرت عیسٰی ؑ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوںے فرمایا ۔ لباسی صوف و شعاری الخوف۔ ترجمہ (میرا لباس صوف اور میرا شعار خوف الہٰی ہے)۔
جب سرکار دو عالم صلَّی اﷲعلیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت عمر ؓ نے آپ کی صفات عالیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ لبس الصوف۔( آپ صوف کا لباس پہنتے تھے)۔
اسی طرح آپ ؐکے صحابہ ؓ میں سے حضرت ابو ذر غفاریؓ حضرت سلمان فارسیؓ جیسے حضرات بھی صوف ہی کے کپڑے پہنتے تھے۔
ایک دن حضرت موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا۔ میرے بچے اگر تو اس وقت ہم لوگوں کو دیکھتا جب ہم حضو ر ؐ کے ساتھ رہتے تھے اور جب بارش میں ہمارے کپڑے بھیگ جاتے تھے اور ہمارے کپڑوں سے بھیڑ کے اون کی طرح بو ُ آتی۔ حضرت خواجہ حسن بصری ؒنے فرمایاکہ میں نے ستر بدری صحابہ ٔکرامؓ سے ملاقات کی ہے ان سب کا لباس صوف تھا۔ حضر ت اویس قرنیؓ معرکۂ صفین میں حضرت علیؓ کی طرف سے لڑنے کے لئے تشرےف لائے تو ان کے جسم پر صوف کا لباس تھا اور سر منڈا ہوا تھا۔
علمِ تصوف قرآن کی روشنی میں
۱۔کمَاَ اَر’سَلنَا فِیکُم رسولاَ مِنکُم یتلُو عَلیکُم اٰیٰتِنا و یُزکِیکُمُ وَ یُعَلّمُکُم الکتٰبَ وَ الحکمۃَ وَ یعلّمُکُم مَّا لم تَکُونُو تَعلَمُونَ۔
ترجمہ۔ جس طرح تم میں ہم نے ایک رسولؐ بھیجا ۔ تم ہی میں سے ہماری آیات تم کو پڑھ کر سناتے ہیں اور تم کو پاک کرتے ہیں اور تم کو کتا ب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس چیز کی بھی تم کو تعلیم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے۔
تعلیم کو دو مرتبہ ذکر فرمانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری تعلیم اور قسم کی ہے ممکن ہے اس دوسری تعلیم سے مراد علم ِلدنی ہو جو ظاہر قرآن سے ماخوذ نہیں بلکہ باطن قرآن سینۂ بے کینہ جنابِ رسول اﷲؐ سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے حاصل کرنےکا سوائے انعکاس نورکے اور کوئی طریقہ نہیں۔(تفسیر مظہری)
یہی وہ علم ہے جس کے سیکھنے کے لیے حضرت موسٰی کلیم اﷲ ؑ کو اﷲتعا لٰی نے حضرت خضر ؑ کی خدمت میں دریا کے کنارے بھیجاتھاجس کا مفصل ذکر سورہ کہف میں ہے۔
اس علمِ لدنی کے معارف و حقائق اور علوم کی تعلیم زبان سے بالکل نہیں ہو سکتی ۔ ہو سکتی ہے تو زبانِ حال یا ایک قلب کا ایک دوسرے پر عکس پڑنے سے ۔چنانچہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتیؒ لکھتے ہیں کہ معارف و حقائق انعکاس قلب سے حاصل ہوتے ہیں یا ا لقا سے دستیاب ہوتے ہیں۔اور کثرت ِ ذکر و مراقبہ خواہ مجلس ذکر میں ہو خواہ خلوت میں اس انعکاس کی صلا حیت پیدا کر دیتے ہیں۔اور انعکاس خواہ خود جناب رسول اﷲؐ سے بلا واسطہ ہو یا وسائل (مشائخ) کے ذریعے سے۔
۲۔ واذکر اسم رَبِّکَ وَ تَبتَّل اِلےہِ تبتیلاَ ۔یاد کر نام اپنے پروردگار کا ہمیشگی کے طور پر۔ یعنی ہمیشہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ۔اور سب سے توڑ کر اس سے جوڑ۔ اسم رب سے اسم ذات یا اسم اشارہ یا اسمائے حسنیٰ سے کوئی ایک ( صفاتی) نام مراد لیا جا سکتا ہے مگر عام طور پر صوفیائے کرام اسم ذات (اﷲ) ہی مراد لیتے ہیں کیونکہ یہی ایک نام ذات ِ باری ہے ۔ جس کی طرف سب دوسرے (صفاتی نام )منسوب ہو جاتے ہیں۔ کےو نکہ یہی اسم علَم ہے اور یہی اسم اعظم ہے۔ اور اسی میں وہ جذب و کشش اور تاثیر و فناو بقا ہے کہ بےان میں نہیں آ سکتی تو حید اُسی کو ایک کہنا اور ایک دیکھنا ہے۔عدم کو بود کرنا اور بود کو نابود کرنا اُسی کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔اس لفظ پاک اﷲ کا ہر جزو (اﷲ،ﷲ،لہُ،ہُ) اس کی ذات اور صفات پر دلالت کرتا ہے۔نزول قرآن سے پہلے عربی زبان میں اﷲ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا۔اور خدا کی تمام صفتیں اسی طرف منسوب کی جاتی تھے۔یہ نام کسی خاص صفت کے لیے نہیں بولا جاتا تھا ۔ قرآن میں بھی یہی لفظ بطور اسم ذات کے اختیارکیا گیا اور تمام صفتوں کو اس سے طرف نسبت دی۔ وﷲِ الاسما ء ُ الحسنیٰ۔ اور اﷲ کے لئے ہی حسن و خوبی کے نام ہیں۔ چونکہ یہ اسم خدا کے لیے بطور اسم ذات کے استعمال میں آیا ہے اس لئے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر حاوی ہو گیا ہے۔ جن کا خدا کی ذات کے لئے تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم خدا کا تصور کسی خاص صفت کے ساتھ کریں مثلاَ الرب یا الرحمن یا الرحیم تو یہ تصور صرف ایک خاص صفت ہی میں محدود ہو گا۔مگر جب ہم اﷲ کا لفظ بولتے ہیں تو فوراَ ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو ان تمام صفات حسن و کمال سے متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کی گئی ہیں جو کہ اس میں ہونی چاہئیں۔یہی وجہ ہے کہ اولیا ئے عظا م اسی لفظ پاک (اﷲ) کا ذکر کراتے ہیں حضرت اما م ر بانی مجدد الف ثانیؒ اسم ذات (اﷲ) کا ذکر کرنے کا طریقہ میں فرماتے ہیں کہ بوقت ذکر لفظ مبارک اﷲ کے معنی کو بے چونی اور بےچگونی کے ساتھ ملاحظہ کرے اور کسی صفت کو اس کے ساتھ شامل نہ کرے۔قرآن پاک میں جہاں جہاں بھی اسم رب کے الفاظ آتے ہیں وہاں ہی اسم ذات (اﷲ)ہی مراد ہے۔
۱۔ اِقرا باسمِ ربّک الذی خلق۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے ، جس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ گویا یہ کہا گیا ہے کہ بسم اﷲ کہہ کے پڑھ۔
۲۔وَمَن اَ ظلم ممن مَسٰجِدَ اﷲَ اَن یذکرَ فیھا اسمہُ۔(پ:۱ ،ع:۴۱)اس سے بڑھ کے ظالم کونسا ہے جو اﷲ کی مسجدوں میں اس کا نام ( اﷲ، اﷲ) لیے جانے سے روکے.
۳۔وا ذ کُرُواسمَ اﷲ ِ عَلَیہ(پ۶:ع۵) اس پر ا ﷲکا نام بھی لیا کرو ۔یعنی شکا ری جانور جب شکار پر چھو ڑ دو تو بسم اﷲبھی کہا کرو۔
۴۔ فَکُلو مِمَّا ذُکِرَ اسم اﷲ عَلَیہ۔(پ:۸،ع:۱)جس جانور پر اﷲ کا نام لیا جائے اس میں سے کھائو۔
۵۔ وَماَ لَکُم ا لاّ تا کُلُو مِمَّا ذُکِرَ اسمُ اﷲ عَلَیہ۔(پ:۸،ع:۱)اور کیا وجہ ہے کو اس جانور میں سے اس کا گوشت نہ کھائو جس پر اﷲ کا نام لیا گیا ہے۔
۶۔ واذکرِ اسمَ ربِّکَ بُکُرَۃ وَّ اصِیلاَ۔(پ:۹۲،ع:۰۲)اور اپنے پروردگا ر کا نام صبح و شام ( علی الدوام) لیا کیجیے ۔
اگر لفظی معنیٰ کے لحاظ سے صبح و شام ہی اﷲ کا نام کا ذکر کرنا مرادلیا جائے تو صبح و شام کا مراقبہ ثابت ہوا جو صوفیائے کرام کا معمول ہے اور جیسا کہ آنحضرت ؐ کی عادت شریفہ روبقبلہ بیٹھ کر ان اوقات میں ذکر کرناتھا ۔ اور اگر صبح و شام سے محاورۃ علی الدوام مراد لیا جائے تو صوفیائے کرام کا معمول بہ ذکر دائمی ثابت ہوتا ہے جس کا مفصل ذکر اس آیہ کریمہ میں ہے۔
وا ذکر ربک فی نفسک تضرّعا وّخیفتہَ و دونَالجھرِ من القول بالغدوِّ وَ الاصال ولا تکُن مِنَ الغافِلِین۔(پ:۹،ع:۴۱)ترجمہ۔ اپنے رب کو یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور نیچی آواز کے ساتھ صبح اور شام (علی الدوام) اور اہل غفلت میں سے نہ بن جانا۔و لا تکن من الغٰفلین کا جملہ مبارک علی الدوام ذکر کرنے کی طر ف دلالت کر رہا ہے۔یعنی ہر سانس کی رفت کے ساتھ اﷲ اﷲ کرتے رہنا اسی کو اصطلاح صوفیاء میں ذکرِ پاس انفا س بھی کہتے ہیں۔
تفسیر اتقان میں ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کا جو حصہ نازل ہوا وہ اقرا باسم ِ ربک تھا اس کے بعد سورۃ نٓ بعد ازاں یایھا المزمل یعنی سورۃ مزمل شریف کا نزول ابتدائے اسلام میں اس وقت ہوا جبکہ ابھی نمازِ پنجگانہ فرض نہ تھی بالفاظ دیگر ابھی اسلام کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی کہ سورۃ مزمل شریف میں طریق صوفیانہ و سلوک سالکاں کی تعلیم اور ساتھ ہی اس پر عمل شروع ہو گیا تھا ۔سورۃ مزمل شریف اوّل سے آخر تک پڑھ جائیے ،تصوف ہی بیان فرمایا گیا ہے۔تزکیہ و تصفیہ کے وظائف ،دستور عمل سالکاں، ذکر و فکر، مراقبہ و تہجد وغیرہ نہایت پیارے الفاظ میں اپنے محبوب آنحضرت ؐ کو مخاطب فرما کر بتائے ، سکھائے اور بیان فرمائے ہیں زہد و ریاضت و مجاہدہ کے گر ُ بتا کر راہِ سلوک کی تکمیل اور اعلیٰ مقامات تک کے نشانات بتائے ہیں۔ مثلاً
۱۔رات کو جاگنے میں بڑی کوشش کرنا قرآن شریف کو ترتیل کے ساتھ تہجد کی نماز پڑہنا کہ نفس کے ساتھ بڑا جہا د ہے۔
۲۔ دن کے وقت بھی ہر وقت اپنے مالک کی بندگی میں رہنا۔
۳۔ اﷲ کے ذکر کی مداومت کرنی اور اس کے نام سے ہمیشہ اپنی زبان کو تازہ رکھنا
۴۔ سب تعلقات اور علاقوں کو کاٹنا ترک کرنا ، اور تجرید حاصل کرنا۔
۵۔ ہردور میںﷲ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا اور اپنی تئیں کسی چیز میں دخل نہ دینا۔
۶۔ خلق اﷲ کے ایذا و ظلم کو سہنا اور اس پر صبر کرنا۔
۷۔ اہل دنیا کی صحبت سے احتراز کرنا لیکن ان کی خیر خواہی میں قصور نہ کرنا وغیرہ وغیرہ ۔گویا کہ سورۃ مزمل پوری درسِ تصوف ہے۔
تصوف حدیث کی روشنی میں
حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ؐ سے علم کی دو برتن حاصل کیے ایک تو میں نے تم میں تقسیم کر دیا ہے اور اگر دوسرا میں تم میں بانٹ دوں تو میرا حلقوم کاٹ دیا جائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کو اس علم کی دوسری برتن سے مراد علم لدنی ہے ۔
حدیث عن الحسن قال العلم علمان فعلم فی القلب فذالک علم نا فع وعلم اللسان فذاک حجتہ اﷲ عزوجل علیٰ ابن آدم۔
حضرت شیخ الحق محدث دہلویؒ اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتی ہیں کو علمِ نافع وہ علم ہے کہ اسکی رو شنی د ل میں پھیلتی ہے اور اس سے دل کے پردے ا ٹھتے ہیں اور علمِ زباں وہ علم ہے کہ تاثیر نہ کرے اور دل کو نورانی نہ کرے ۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اس کی ایک مثال دیتے ہیں اور بیان فرماتے ہیں کہ خدا کا ہر جگہ حاظر،ناظر ہونا عقا ئد اسلام میں ہے ۔ عالم و جاہل خاص و عام اس پر اعتقاد رکھتے ہیں چونکہ عام لوگوں کو یہ علم تقلید اور استدلال سے حاصل ہوتا ہے اس لئے اس سے کوئی خاص حالت پیدا نہیں ہوتی ۔ اعمال اور افعا ل پر اس کا چنداں اثر نہیں پڑتا ۔ بخلاف اس کے تصوف میں اس مسئلے کا علم مشاہدہ و کشف سے ہوتا ہے۔ یعنی صوفی کو چاروں طرف خدا ہی خد ا نظر آتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر خشوع اور خضوع، ہیبت ، خوف اور ادب کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کسی ظاہری علم سی حاصل نہیں ہو سکتی۔
الحدیث:۔ العلماء وارثہُ الانبیاء۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ؒ اپنی ایک مکتوب میں اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کو وہ علم جو انبیا ؑ سے باقی رہا ہے دو قسم کا ہے ایک علم احکام اور دوسرا علم اسرار (علم باطن) وارث انبیا وہ عالم ہے یا عا لم وارث وہ شخص ہے جس کو ان دونوں علو م سے حصہ حاصل ہو نہ کہ وہ شخص جس کو ایک ہی قسم کا علم نصیب ہو اور دوسر ا علم نصیب نہ ہو یہ بات وراثت کے منافی ہے۔
تصوف بزرگانِ دین کی نظر میں
۱۔حضرت معروف کرخیؒ نی یہ تعریف کی ہی۔ التصوف الا خْذ بالحقائق و الیاس مما فی ایدی الخلائق۔تصوف حقیقت کی معرفت حاصل کرنے اور ان چیزوں سے نا امید ہو جانے کا نام ہی جو مخلوقات کی ہا تھ میں ہے ۔
۲۔حضرت جنید بغداد یؒ سی تصوف کی ماہیت کی باری میں دریافت کیا گیا تو انہوں نی فرمایا۔ان تکون مع اﷲ بلا علا قۃ (عوارف:۳۵)یہ کہ تو بغیر کسی نسبت و ظاہری تعلق کی ہر وقت اﷲ کی ساتھ رہے۔
۳۔ابوتراب الخنشی ؒ نی فرمایا۔الصوفی لا یکدرہ شی و یصفوبہٰ کل شئی۔
صوفی وہ ہی جس کو کوئی چیز گندا نہ کر سکی ہر چیز اس کی ذریعہ صاف اور پاک ہو جائی ۴۔ حضرت سہل بن عبداﷲ التستری نی فرمایا ۔الصوفی من صفا من الکدرومتلاء من الفکرو ا نقطع الی اﷲ من البشر و استویٰ عندِہ الذھب والمدِر ۔( نشاۃ التصوف )۔صوفی اسی کہتی ہیں جو گندگی سی پاک ہو غورو فکر میں مصروف ہو لوگوں سی انقطاع اختیار کر کی واصل باﷲ ہو اور اس کی نظر میں سونا اور مٹی کا ڈھیلہ برابر ہو
۵۔حضرت ذوالنون مصری ؒنی فرمایا۔الصوفی من لا یتعبہ طلب و یز عجہ سلب (نشاۃ التصوف)۔صوفی وہ ہی جو کسی چیزکی طلب میں سرگرداں نہ ہو۔ نہ کسی چیز کی چھن جانی سی غمزدہ ہو ۔
۶۔حضرت ابو محمد الجریزیؒ نی تصوف کی تعریف کرتی ہوئے فرمایا۔ھو الد خول فی کل خلِق سنی و الخروج من کل خلق دنی (الرسالۃ القشیریہ)۔تصوف جملہ اخلاق فاضلہ کو حاصل کرنے اور جملہ عادات دنیوی سی چھٹکارا حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔
۷۔حضرت ابوالحین امزین ؒنے تصوف کی تعریف کی ہی۔التصوف الانقیاد الحق۔اﷲ تعا لیٰ کی مکمل فرما نبرداری کا نام تصوف ہے۔
۸۔شیخ ابو علی رو زباری نے فرمایا ہے۔الصوفی من لبس الصوف علی الصفا و اذاق الھوی ٰ طعم الجفا و لزم طریق المصطفیٰ وکانت الدنیا منہ علی القفا۔صوفی وہ ہےجو صفائی قلب کی ساتھ صوف پوشی اختیار کرتا ہے۔ ہوائے نفسانی کو سختی کا مزہ چکھاتا ہے۔ شرع مصطفوی ؐکو لازم قرار دیتا ہی۔ اور دنیا کو پس پشت ڈال لیتا ہے۔
۹۔حضرت امام قیشری ؒ(صاحبِ رسالۃ قیشریہ جو تصوف پر شاید ’’ کتا ب اللمع ‘‘کے بعد پہلا رسالہ ہے) تصوف کی معنی صفائی کے لئی ہیں یعنی صفائی باطن یا تصفیہء اخلاق و اصلاح و تعمیر ظاہر و باطن اسی لئی تصوف کی تعریف یوں فرماتے ہیں۔الصفاء محمودبکل لسان و ضدۃ الکدورۃ و ھی َ مذمومہ
۰۱۔ نو ری ؒ نے فر مایا ۔ تصو ف کسی رسم و مرتبی کا نام نہیں ہے نہ کسی علم کا۔یہ تو صرف مکا رم اخلا ق کا نام ہے۔ کیو نکہ اگر یہ کو ئی مر تبہ ہوتا تو مجا ہدہ سے حا صل ہو جا تا یا کو ئی علم ہو تا تو تعلیم سی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اوپر دی گئی تمام بحث واضح کرتی ہے کہ صوفی کون ہوتا
وہ جس کے قول و فعل میں تضاد ہو
یا
وہ جس کا قول و فعل قرآن و سنت کے مطابق ہو
زرقابہن آپ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے بہن نگہت نے سب کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی ہے لہذا مجھ جیسے کم فہم اور کم علم کے لیئے بھی اس پر خاموش رہنامشکل ہے۔ پہلا سوال تو آپ کا یہ ہے کہ اس دور میں اللہ والے نہیں رہے۔ اس پر پھر اس سلسلہ میں دو صوفیوں کی مثالیں بھی دی ہیں۔ایک صاحب کی آپ نے مثال دی ہے کہ وہ علامہ اقبال کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں دو بیویوں کو طلاق دے کر صوفیانہ زندگی گزار رہےہیں۔ دوسری خاتون ہیں جو آپ کے اپنے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جواب سب سے لا تعلق ہو کر صوفیانہ زندگی گزار رہی ہیں ۔ اس میں یہ آپکی بڑائی ہے کہ آپ نے اپنے خاندان کی بڑائی بیان نہیں کی حالانکہ آپ بھی ایک ایسے ہی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں، جو ہم جیسوں کو پتہ ہے کہ کبھی وہ بھی ہدایت کا سر چشمہ تھا۔چونکہ آپ نے کبھی ہمیں یا قارئین کو نہیں بتایا؟ ہم بھی اپنے پڑھنے والوں کو نہیں بتا ئیں گے کہ ہمیں کیسے معلوم ہوا؟
میں جواب دیتے ہوئے اس کی صرف تر تیب بدلنا چاہو نگا کہ آخری سوال کا جواب بعد میں دونگا۔ جبکہ دوسرا پہلے اور تیسرا اس کے بعد؟
پہلے کا جواب یہ ہے۔ ہم لوگوں کے یہاں شخصیت پرستی اس قدر آگئی ہے جو بڑھ کر بت پرستی تک پہونچ گئی ہے؟ آپ معلوم تا ریخ میں جا ئیں تو پتہ چلے گا کہ پہلی بت پرستی شخصیت پر ستی سے شروع ہو ئی ؟ سب سے پہلے آدم علیہ السلام کے بعد چار بزرگ ایسے گزر ے جن کے نام قر آن میں موجود ہیں ۔ ان کی اولاد اور ان کے ماننے والوں نے ان کی یاد زندہ رکھنے کے لیئے کچھ کرنا چاہا، شیطان نے انہیں سجھا یا کہ ان کی تصویر یں بنالی جا ئیں ۔ پھر اس نے اس سلسلہ میں مزید ترقی کی راہ دکھائی کہ انہیں کے بت بنا لیئے اور رفتہ رفتہ ان کی پو جا ہو نے لگی۔ جب لوگ گمرا ہی کی انتہا پر پہونچ گئے تو حضرت نوح علیہ السلام کو بھیجا گیا جوکہ تقریباً اتنے ہی عرصے تک تبلیغ کر تے رہے کہ جتنا عرصہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد انہیں بگڑنے میں لگا یعنی کم و بیش ایک ہزار سال؟ آخرمیں انہوں نے بد دعا فر مائی؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب تک وہ عذاب نازل نہیں کرتا تب تک کہ اس دور کے نبی (ع)بد عا نہ کریں ۔ وہاں طوفا ن آیا اور ان (ع) کے ہی ایک صاحبزادے کوڈبو کے یہ بتا دیا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ نبی کابیٹا بھی نبی (ع)جیسا ہو؟اس سلسلہ کی اور بھی بہت مثالیں ہیں۔ جو آپ سب نے پڑ ھ رکھیں ہیں لہذا میں مضمون کو طول نہیں دینا چاہتا۔ یہ اس کا جواب ہے جوکہ آپکی پہلی مثال ہے؟
دوسری مثال میں جن خاتون کا آپ نے ذکر کیا ہے ان کو میں نہیں جانتا مگر قیافے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بھی کسی ایسے ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں شخصیت پرستی را ئج ہے؟ اور کوئی شخصیت جب مایوس ہو جاتی ہے تو اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ لہذا وہ بھی اسی طرف لوٹیں تو، مگر ان کے سامنے وہ اصل تعلیمات عملی طور پر بظاہر کہیں موجود نہیں تھیں جسکو وہ معیار بنا سکتیں ؟ لہذا جو اب اس کی شکل ہے وہ اس پر عامل ہوگئی ہیں ؟
اب رہا آپ کے تیسرے سوال کاجواب کہ کیا اللہ والوں سے جہاں خالی ہو گیا؟ تو عرض یہ ہے کہ جب ایسا ہو جا تا ہے توعذاب نازل ہو جا تا ہے۔ کیونکہ قرآن میں موجود ہے کہ جب تک کسی شہر میں اللہ والے موجودرہتے ہیں تب تک وہاں عذاب نازل نہیں ہو تا؟ جس کو قر آن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً مکہ معظمہ کے بارے میں فرما یا کہ جب تک آپ (ص) اوراللہ والے وہا ں موجود ہیں، کفار کے عذاب طلب کرنے باوجود ان کا مطالبہ پو رانہیں کیا جا سکتا ؟
جبکہ لوگوں کو ڈرانے کے لیئے وہ اپنی نشانی دکھاتا رہتا ہے وہ بھی قرآن میں بیان ہوا ہے کہ ً کیا تم دیکھتے نہیں کہ سال میں جو چھوٹی موٹی آفات آتی رہتی ہیں وہ ڈرانے کے لیئے ہوتی ہیں ً
جنکا ہم آجکل آئے دن مشاہدہ کر رہے ہیں؟
اوپر کی وضاحت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ دنیا کے قائم رہنے کے لیئے۔ اللہ والوں کا موجود رہنا ضروری ہے اور وہ موجود ہیں؟ اب آپکا سوال یہ کہ وہ دکھا ئی کیوں نہیں دیتے ؟ اس کے لیئے جو لوگ اس سلسلہ کے ماہر اور رہنما تھے۔ ان کی طرف دیکھنا پڑے گا ۔ چونکہ آپ کوئی بھی صوفیا ئے کرام کا شجرہ اٹھا کر دیکھیں تو وہ حضور (ص) سے شروع ہو تا ہے؟ ان (ص) کے بعد سترہ یا اٹھارہ سلسلوں میں بالاتفاق را ئے دوسرا نام جو آتا ہے ،وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا ہے۔ جبکہ ایک سلسلہ حضرت ابو بکرصدیق (رض) سے بھی مو سوم ہے ؟ اب ہما رے سامنے ان تینوں کی زندگی موجود ہے انہیں کی اور ان کے تابعین کی سیرتوں میں آپ کے ہر سوال کا جواب موجود ہے؟
پہلے حضور (ص) سے شروع کر تے ہیں جو جیتا جاگتا قر آن تھے؟ جن کے اسوہ حسنہ کے مثالی ہونے کی تصدیق خود قر آ ن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادی اور اپنی محبت کو بھی اس سے مشروط فرمادیاکہ ً آپ فرمادیجئے اگرتم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو ً ان (ص) کی سیرت ہمارے سامنے ہے جو ان کی یہ صفت ثابت کرتی ہے کہ وہ (ص)سراپا عمل تھے ۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت ابو بکر (رض) کا کردار دیکھئے کیا وہ اپنے کر دار میں حضور (ص) کا پرتو نہیں تھے کیا ان کے یہاں کہیں پر حضور(ص) سے سرو مو فرق نظر آتا ہے ؟اس کاجواب ہر ایک یہ ہی دے گا کہ نہیں !۔
اب حضور (ص) کا یہ ارشادِ گرامی پڑھ لیجئے۔ وہ فلاح پاگیا جس نے میرا اتباع کیا یا میرے ان صحابہ (رض) کا اتباع کیا جو کہ آج پوری طرح میرا اتباع کر رہے ہیں ً ؟ ان تمام مثالوں سے یہ بات میرے خیال میں ثابت ہوجاتی ہے کہ کوئی بے عمل انکا ماننے والا نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے اتباع اور محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو جتنا قریب ہو گا وہ عمل میں بھی ان ہی جیسا ہی ہوگا؟
اورجواب یہ ہی ہو گا اگر ایسا نہیں ہے تو وہ مسلمان ہی نہیں ہے ،اور مسلمان نہ ہو تو صوفی کیسے ہو سکتا ہے، کیونکہ قرآن ہر جگہ جہاں ایمان لا نے کی بات کرتا ہے اس کے فوراً بعد عمل کی بات کرتا ہے ،کہیں صرف کلمہ پڑھ لیناکافی نہیں کہتا؟ کیونکہ اسلام نام ہی عمل کا ہے۔ا س کی روشنی میں کسی مغرور ، بد اخلاق اور گوشہ نشین کی گنجا ئش کہاں ہے؟ جواب ہمیشہ کی طرح قارئین پر چھوڑ تا ہوں ؟
یہ تو ہم جڑ کی بات کر رہے تھے اب تنوں کی بات کرتے ہیں پھر شاخوں کی بات کرینگے؟
پھر یہ سلسلہ امام حسن ، امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہو کر دوسرے نامور بزرگوں سے ہو تا ہوا گزرتا ہے، ان تمام مشہور بزرگوں میں سنت کے خلاف کوئی بات ملتی ہے، یا قول و فعل میں تضاد ملتا ہے ۔ جواب یقینی طور میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا سب کابھی یہی ہوگاکہ نہیں ؟اب اسی جواب سے پھر یہ سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو گا کہ اب جو خود کو انکا جانشین کہلاتے ہیں۔ ان میں یہ خرابیاں کہاں سے آئیں؟ جواب میں وہی بات دہراؤنگا کہ وراثت کی بناپر شخصیت پرستی سے۔ جبکہ ابتداء میں اس کی بنیاد تقویٰ پر تھی جوکہ ہم نے شخصیت پرستی میں نظر انداز کردی۔جس طرح ہمیں حضور(ص) کے اخلاق اور کردار سے بحیثیت مسلمان کوئی نسبت نہیں ہے، اسی طرح ان کے جانشینوں کو اپنے اجداد (رض)سے کوئی نسبت نہیں ہے کیونکہ حضور (ص) کی ذاتِ گرامی ان کے لیئےمنبہ ہدایت تھی ؟ نہ ان میں بے عملی تھی نہ ان میں بد اخلاقی تھی نہ غرور تھا۔ ہر ایک کا زور اس بات پر تھاکہ کو ئی انکا (رض)فعل خلاف ِقرآن اور سنت نہ ہو ؟ اس کی بہت سی مثالیں ہیں مگر یہاں ایک مثال دیکر بات ختم کر تا ہوں۔ سنیوں میں تمام سلسلوں میں جہاں ولایت کاسلسلہ ہے وہاں حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ کو اپنا رہنما ماناجاتا ہے۔ ان کا قول یہ ہے کہ ً ایک شخص ہوا میں اڑ رہا ہو، پانی پر چل رہا ہومگر اس کا ایک فعل بھی خلاف سنت ہو تووہ شیطان ہے، ولی نہیں ً
اب سوال یہ کہ اللہ والے دکھائی کیوں دیتے ،اس پر بھی میں حضرت عبد القادر جیلانی (رض) کی کتاب غنیة الطالبین سے سندپیش کرتا ہوں کہ انہوں نے فرما یا کہ دنیا میں ہر وقت ٣٥ ہزار ولی موجود رہتے ہیں، جن میں سے بہت سوں کوخود پتہ نہیں ہو تا کہ وہ ولی ہیں اور اللہ جو چاہتا ہے وہ ان سےکام لیتا ہے؟ رہا یہ کہ وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چودہ سو سال میں وہ اس حساب سے کتنے گزر ےہونگے اور ہم ان میں سے کتنوں کو جانتے ہیں ؟ ہم جنہیں جانتے ہیں انکی تعداد ہزاروں میں بھی بمشکل ہو گی جب کہ دنیا کی تا ریخ دیکھتے ہو ئے ، تعدادکرو ڑوں میں ہو نا چا ہیئے؟ وجہ یہ ہےکہ جن کے سپرد تبلیغ تھی وہی ظاہر ہو ئے انہیں کو ہم جانتے ہیں، جو دوسرے کاموں پر مامور تھے ان کو چونکہ شہرت اور کرا مات دکھانے کی ضرورت نہیں تھی لہذا نہ وہ مشہور ہوئے نہ ہم انہیں جانتے ہیں جبکہ نبی (ع)کو نبوت ظاہر کرنے کا حکم ہے اور ولی جوتبلیغ پر مامور نہیں ان کو خود کو مخفی رکھنے کا حکم ہے ؟جب کہ یہ سلسلہ بھی پہلے دن سے تھا۔ جس کا ثبوت قر آن میں حضرت خضر (ع)اور موسیٰ (ع) کے قصے میں موجود ہے۔ چونکہ اب اللہ کی کتاب مکمل ہو چکی تھی حضور(ص) کے بعد کوئی نبی (ع) نہیں آنا تھا، لہذا دین کو بچانے کے لیئے یہ سلسلہ اولیا ء بھی قائم رکھا گیا، جس نے جب بھی کوئی دین میں بگاڑ پیدا ہوا آگے بڑھ کر دین کی حفاظت کی اگر یہ سلسلہ بھی آج کی طرح پہلے ہی گمراہ ہو گیا ہو تا تو دین ہی نہیں ہوتا مگر اللہ نے اس کی بقا کا وعدہ کیا ہوا ہے لہذا یہ بظاہر اضافی چیز پہلے حضور (ص) کوعطا فرما ئی گئی اور ان سے امت کو منتقل ہوئی؟ کیونکہ اس سے پہلے جو نبی(ع) آپکو قر آن میں ملیں گے ان کے ذمہ یتلو علیہم کی خدمت تھی ، جبکہ اس کے ساتھ ہی یزکیھہم کی خدمت صر ف حضور (ص) کے ساتھ مقرر ہوئی ۔ یعنی اور نبی (ع) صرف اللہ کاکلام پڑھ کر سناتے تھے جبکہ ہمارے آقا (ص) کے سپرد اک اضافی خدمت یہ تھی کہ وہ ان کو پاک بھی فر ما ئیں۔ کیونکہ عملی طور انہیں ہی کو دین کو نافذ کرنا تھا اور ان کے بعد یہ ہی تربیت یافتہ لوگ اقامت دین کر نے اور اللہ کا نظام چلانے کے ذمہ دار تھے ۔ اب رہا یہ سوال کہ ان کی پہچان کیا ہے۔ وہ سورہ البقر ہ میں آیت نمبر ٢٥٦، ٢٥٧میں بیان ہو ئی ہے ۔ کہ پہلی تاکید تو یہ ہے کہ “ زبردستی کسی کومسلمان مت بنا ؤ اس لیئے کہ ہم نے گمراہی سے ہدایت کو ممتاز فرمادیاہے اور ایمان والے وہی ہیں جو کفر اور طاغوت سے تا ئب ہوگئے اور اللہ پر ایمان لا ئے اور اس کے کڑے کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ دوسری آیت میں ارشاد ہو تا ہے “اللہ ایمان والوں کا ولی ہے اور جوکہ اندھیرے سے نکال کراجا لے کی طرف لاتا ہے۔اور کفار کا ولی طاغوت ہے جو نور سے ظلمات کی طرف کھینچتاہے یہ ہی لوگ کافر ہیں جو ہمیشہ جہنم میں پڑے رہیں گے “
سبحان اللہ احمد بھائی کیا مفصل تشریح عطا کی ہے ۔۔ اللہ کریم آپ کو اپنی اماں میں رکھے اور ہر دکھ تکلیف سے دور فرما دے ۔۔آمین
محترم شمس بھائی جزاک اللہ ۔۔ آپ نے اتنے سادہ انداز میں موضوع کی وضاحت فرمائی کہ ہر بات سمجھ آ گئی ۔۔ جزاک اللہ ، اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ آپ کا سایہ شفقت ہم پر یونہی دراز رکھے اور ہم آپ سے دن رات سیکھتے رہیں ۔۔آمین
بہن نگہت اپ کی دعاؤ کا بہت بہت شکریہ ۔ اللہ سبحانہ تعالٰی آپ پر اور آپ کے خاندان پر اپناکرم ِ خا ص فر ما ئے اور آپ کو اسی طرح دین کی خدمت کر نے کا موقعہ عطا فر ما ئے(آمین )
جزاک اللہ باجی
اللہ کریم آپ کو
اور
تمام اہل ایمان
کو
آسانیاں عطا فرمائے
اور
اپنی
امان میں رکھے
آمین
خوب صورت تحریر بہن زرقا مفتی کی بلکہ ایک سچ اور اسکے جواب میں جڑی ساری تحریریں استفادہ علم کا سبب
قابل صد احترام شمس جیلانی صاحب۔ اجرکم اللہ۔آپ کی تحریر سے اس فقیر شہر نجف کی معلومات میں بھی اضافہ ہوا۔ بس اسی کو اسلام نے علم اور حصول علم کہا ہے جس کے لیئے کسی یونیورسٹی کی اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کی ضرورت نہیں۔ نیت نیک ہو اور طلب راسخ ہو تو علم خود سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ واقعی اس شخصیت پرستی کے زہر نے اس ملت کو عمل سے دور کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مولائے متقیان باب شہر علم علی علیہ السلام نے اسی لیئے تو فرمایا تھا کہ یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔ اب اس شخصیت پرستی نے محافل و مجالس کا یہ حال کر دیا ہے کہ سننے والا یہ استفسار کرتا ہے کہ کون پڑھ رہا ہے؟ کیا پڑھ رہا ہے اس سے کوئی مطلب نہیں۔ یہی وہ بے عملی اور حق سے دوری ہے جسکی فصل ہم کاٹ رہے ہیں۔
رہا نہ حلقہ صوفی میں سوز مشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی
کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز
کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی
اقبال لاہوری۔
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
………
میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
………
کس کومعلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و میخانہ ہیں مدت سے خموش
………
دل ہے مسلماں تیرا نہ میرا
تو بھی نمازی ، میں بھی نمازی
میں جانتا ہوں انجام اس کا
جس معرکے میں ملا ہوں غازی
………
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر
………
نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت وہ اندیشہ نظر کا فساد
اقبال لاہوری
محمد وارث کانام اقبال کے عشاق کے لیئے کوئی اجنبی نہیں۔اقبال کی اس جہت کے حوالے سے اقبال کی ایک غزل کے حوالے سے لکھتے ہیں
علامہ اقبال، سر راس مسعود اور سید سلیمان ندوی نے 1933ء میں اس وقت کے افغان بادشاہ، نادر شاہ کی دعوت پر افغانستان کا سفر کیا، جس کا بنیادی مقصد افغانستان کے نظامِ تعلیم کا مطالعہ اور اسکے متعلق سفارشات مرتب کرنا تھیں۔ علامہ نے اس سفر کی رُوداد ایک فارسی مثنوی “مسافر” کی صورت میں لکھی جو 1934ء میں پہلی بار الگ حیثیت سے شائع ہوئی اور پھر 1936ء میں انکی ایک اور مثنوی “پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق” کے ساتھ شائع ہوئی اور تب سے ایسے ہی چھپ رہی ہے۔
اس مثنوی “مسافر” میں زیادہ تر زیارات کا احوال قلمبند ہے، مثلاً کابل میں شہنشاہ بابر کے مزار پر حاضری، غزنی میں مشہور فارسی شاعر حکیم سنائی اور سلطان محمود غزنوی کے مزارات پر حاضری اور قندھار میں احمد شاہ ابدالی کے مزار پر علامہ کی حاضری۔
قندھار میں ایک خانقاہ میں رسولِ پاک (ص) کا ایک خرقۂ مبارک محفوظ ہے، علامہ نے اس خانقاہ پر بھی حاضری دی اور خرقۂ مبارک کی زیارت کی اور اپنے تاثرات کو قلمبند کیا اور اس کیلیے انہوں نے مثنوی کی بجائے غزل کا سہارا لیا کہ اس طرح کے تاثرات و کیفیات و احساسات غزل میں ہی صحیح طور پر قلمبند ہو سکتے تھے۔
اور یہی غزل درج کر رہا ہوں۔
از دیرِ مغاں آیم بے گردشِ صہبا مست
در منزلِ لا بودم از بادۂ الّا مست
میں دیرِ مغاں (لفظی معنی شراب کشید کرنے والے کے مندر، مجازی معنی مرشد کی خانقاہ) سے شراب کو گردش میں لائے بغیر یعنی شراب پیے بغیر ہی مست ہو کر آیا ہوں۔ میں ابھی لا (نفی) کی ہی منزل میں تھا لیکن الّا (اثبات) کی شراب سے مست تھا۔ نفی اور اثبات صوفیا کا خاص شغل ہے اور علامہ نے اسی رنگ میں یہ شعر کہا ہے۔
دانم کہ نگاہِ اُو ظرفِ ھمہ کس بیند
کرد است مرا ساقی از عشوہ و ایما مست
میں جانتا ہوں کہ اُس (ساقی) کی نگاہ ہر بادہ خور کا ظرف پہچانتی ہے (اور اسکے ظرف کے مطابق ہی ساقی اسے شراب دیتا ہے) لیکن میرے ساقی نے مجھے صرف اپنے ناز و انداز سے ہی (بغیر شراب پلائے) ہی مست کر دیا ہے یعنی ہمیں ہمارے محبوب کی نگاہ ہی نے مست کر دیا ہے اور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور یہ بات ہماری اعلیٰ ظرفی پر دلیل ہے۔
وقت است کہ بکشائم میخانۂ رُومی باز
پیرانِ حرم دیدم در صحنِ کلیسا مست
یہ وقت ہے کہ مرشدِ رومی کا میخانہ دوبارہ کھولوں کیونکہ میں نے حرم کے پیروں کو کلیسا کے صحن میں مست دیکھا ہے۔ یعنی متاثرینِ فرنگ کا علاج رومی کی شراب میں ہے۔
ایں کارِ حکیمے نیست، دامانِ کلیمے گیر
صد بندۂ ساحل مست، یک بندۂ دریا مست
یہ کام(یعنی مسلمانوں میں دینِ اسلام کا صحیح فہم پیدا کرنا) عقل و دانش و حکمت کا کام نہیں ہے بلکہ اس کیلیے کسی کلیم اللہ (موسیٰ) کا دامن تھامنا چاہیے کیونکہ ساحل پر سرمستی اور باتیں کرنے والے سو آدمی بھی اس ایک کے برابر نہیں ہو سکتے جو سمندر کے اندر اتر کر مست ہے۔ حکیموں (فلسفیوں) کو “سبکسارانِ ساحل” سے تشبیہ دی ہے کہ فقط ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کی باتیں کرتے ہیں جب کہ موسیٰ سمندر کے اندر اتر کر اس کو پار کر جاتے ہیں سو ایسے ہی کسی “ایک” آدمی ضرورت ہے نہ کہ سو سو آدمیوں کی جو سو سو باتیں کرتے ہیں۔
دل را بہ چمن بردم از بادِ چمن افسرد
میرد بہ خیاباں ہا ایں لالۂ صحرا مست
میں اپنے دل کو چمن یعنی محفلوں میں لے گیا لیکن وہ بادِ چمن (محفل کی رونقوں) سے اور افسردہ ہو گیا، (اور ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ) صحرا میں مست رہنے والا لالہ جب شہر کے چمن کی کیاریوں میں جاتا ہے تو مرجھا جاتا ہے۔
از حرفِ دل آویزش اسرارِ حرم پیدا
دی کافرَکے دیدم در وادیٔ بطحا مست
اسکی دل آویز باتوں سے حرم کے اسرار پیدا ہو رہے تھے، وہ چھوٹا سا (عشق کا) کافر جسے کل میں نے وادیٔ بطحا میں مست دیکھا۔
سینا است کہ فاران است؟ یا رب چہ مقام است ایں؟
ہر ذرّۂ خاکِ من، چشمے است تماشا مست
یا رب یہ مقام (جہاں خرقۂ مبارک رکھا ہے) سینا ہے یا فاران ہے کیا مقام ہے کیونکہ میرے جسم کا ذرّہ ذرّہ اور بال بال نظارے میں مست رہنے والی آنکھ بن گئی ہے، یعنی سینا میں موسیٰ پر تجلیات وارد ہوئیں اور فاران سے حضور پاک (ص) کا نورِ نبوت چمکا سو علامہ یہ فرما رہے ہیں کہ یا رب یہاں اس مقام پر بھی تیری تجلیات نازل ہو رہی ہیں۔
اس غزل کو منشی رضی الدین قوّال نے گایا بھی ہے
سالک صاحب نے علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا، عمر کی آخری تہائی میں وہ ہر چیز سے دستبردار ہوگئے تھے۔ ان کے قلب کا یہ حال تھا کہ آن واحد میں بے اختیار ہو کر رونے لگتے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا نام آتے ہی ان کے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی، پہروں اشکبار رہتے۔ ایک دفعہ میں نے حدیث بیان کی کہ مسجد نبوی میں ایک بلی نے بچے دے رکھے تھے، صحابہ نے بلی کو مار کے بھگانا چاہا، حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے منع کیا، صحابہ نے عرض کی، مسجد خراب کرتی ہے
حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
اسے مارو نہیں، یہ ماں ہوگئی ہے
حدیث کا سننا تھا کہ علامہ بے اختیار ہوگئے، دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ ‘سالک صاحب کیا کہا، مارو نہیں، یہ ماں ہوگئی ہے، اللہ اللہ امومت کا یہ شرف ?
سالک صاحب کا بیان تھا کہ حضرت علامہ کوئی پون گھنٹہ اسی طرح روتے رہے، میں ہریشان ہوگیا۔ ان کی طبیعت بحال ہوئی تو مجھے بھی چین آیا، ورنہ جب تک وہ اشکبار رہے، میں ہلا رہا گویا مجھ سے کوئی شدید غلطی سرزد ہوگئی ہو۔
عبدالمجید سالک از شورش کاشمیری
قابلِ صد ہزار احترام بھائی صفدر ھمدانی اسلام علیکم ورحمہ
میرے پاس الفا ظ نہیں کہ میں جن سے آپ کو مخاطب کرسکوں ؟ آج کے دور میں سب کچھ ملتا ہے مگر انسان نا پید ہو گیا ہے۔ وہ بھی آپ جیسا جوکبھی کبھی پیدا ہو تا ہےجس کےاندر علم حاصل کر نے کی لگن ہو جس کا دل قوم کی بے راہ روی پر کڑھتا ہو؟ جس طرف دیکھئے سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سب کا خوف ہے !مگر نہیں ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کاکہ اس کے سامنے یوم ِآخرت میں پیش ہو ناہے؟اور جب انسان کے دل سے اللہ کا خوف نکل جا ئے تو پھر وہ انسان نہیں رہتا بلکہ درندہ بن جا تا ہےاور اگر کوئی صاحبِ تقویٰ جو اس دورمیںموجود ہو تو وہ خودکو نثار کر کے کربلا برپا کر نے کا با عث بنتا ہے۔ جس کی مدد کے لیئے اس وقت ظالم کے ڈر کی وجہ سے قوم نہیں اٹھتی اور بعد میں کف ِ افسوس ملتی ہے۔
اگر کوئی نفرتیں پیدا کرے تو اس کی دکان چمکتی ہے ، ایسے میں اگر کوئی اتحاد کی بات کرے تو اسے کون سنتا ہے کہ اس میں نمک مرچ کہاں، جو ذائقہ پیدا ہو؟ آج کے دور میں اگر کوئی پیسے پہ بظاہر نہیں مرتا تو اسے یاتو لوگ پاگل کہتے ہیں، یا پھر ولی سمجھ کر سٹے کے نمبر معلوم کرناشروع کر دیتے ہیں، اور بناسپتی پیروں عاملوں مجذوبوں کے ہاتھوں ٹھگے جاتے ہیں۔ حالان کے ولا یت کادرجہ بہت بلند ہےاس کی پہچان اللہ تعالٰی کی صفتِ بے نیازی ہے ،جو کہ ہر فقیر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، بس یہ ہی اس کی پہچان ہے اگر وہ مال کی طرف ہاتھ بڑھا ئے تو اس کا ہاتھ وہیں پکڑ لینا چاہیئے ،اس لیئے کہ وہ ولی نہیں شیطان ہے ۔ مگر جس طرح ایک زمانے میں انسان کو ہزار سے اوپر کی گنتی نہیں معلوم تھی تووہ سو اور ہزار تک ہی گنناجانتا تھا۔ لہذا وہیں تک گنتا تھا۔ اسی طرح ہم تنزل کا شکار ہوکر من حیثیت القوم واپس وہیں پہونچ گئے ہیں۔ کہ رقم اب ما شا اللہ حرام و حلال پہچانے بغیر اربوں کھربوں تک گن لیتے ہیں۔ مگر حلال اور حلال نہیں پہچانتے؟
ہم جن کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ شروع سے ہی دوسرے کے کاتے ہو ئے سوت پر تھان بنتے اور تھان پھاڑتے رہے ؟اب رہی سہی کسر انٹر نیٹ نے پوری کردی لہذا کچھ یہاں سے کاپی کی اور پیسٹ کیا اور کچھ وہاں سے،مولوی صا حب کا خطبہ اور لیکچر تیار ہو گیا ۔ نام بڑا پہلے ہی سےمشہور ہو تا ہےوہی جاکے پڑھا ، دھیاڑی کھری کی اور گھر آگئے ۔ اب علم اور عالم کو کوئی صا حب علم ہی پہچانتا ہے وہ بھی وہ، جو دیانتدار بھی ہو وہ۔ جیسے کہ جواہرات کے لیئے مشہور ہے کہ اس کو یا جوہری پہچانتا ہے یا با دشاہ؟
یہ ہی حال آجکل ادب کا بھی ہے۔ اب بتا ئیے اس دور میں آپ کسے کسے رو ئیں گے؟لیکن ہمیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے علم عطا کیاہے ہم صرف اس کو پہونچا نے کے ذمہ دار ہیں ۔ لہذا اس صدقہ کو جاری رکھئے تا کہ روز ِ قیامت سر خرو ہوسکیں؟ باقی دلوں کا پلٹنا اس کا کام ہے ہمارا نہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے خاندن کو خوش و خرم رکھے (آمین)
السلام علیکم
بلاگ کی علمیت میں اضافے کے لئے احمد ترازی صاحب کی ممنون ہوں
والسلام
زرقا
برادر بزرگ شمس جیلانی. میرا آپکا مسلہ یہ ہے….
آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں
میں ہائے گل پکاروں تو چلائے ہائے دل
میں کسی کسی وقت سوچتا ہوں کہ میر اللہ نے یہ قلم ہم جیسوں کو دیکر آخر کس امتحان میں ڈال دیا ہے. نہ گھر والے خوش نہ باہر والے راضی. اللہ راضی ہے یا نہیں اسکا علم نہیں. اس سچ اور حق کہنے اور لکھنے کے ہاتھوں دشمنوں کی تعداد اب ضرورت سے زیادہ ہو گئی ہے. لیکن کیا کریں کہ سچ کہنے کی بیماری اب کینسر کی طرح مرنے کے ساتھ ہی جا ئے گی.
آپ نے سچ کہا ہے کہااس انٹر نیٹ نے ایسے ایسے کو شاعر،ادیب،خطیب اور دانشور بنا دیا ہے کہ ہم جیسے انکے دربان ٹھہرے. پاکستان کے ایک بہت بڑے اخبار میں ابھی ایک معروف کالم نگار کے بارے میں علم ہوا ہے کہ انہوں نے ماہانہ مشاہرے پر اپنا کالم نگار رکھا ہوا ہے جو انکے نام پر کالم لکھتا ہے. بھارت میں اب تو یہ اشتہار اخبارات میں بھی آتا ہے کہ پچاس ہزار روپے میں دیوان لکھوایئے بھی اور شائع بھی کروایئے. ایسے میں ہم جیسے پہلے ہی اس منڈی سے باہر تھے اور اب تو اپنے قلم قبیلے میں ناشناسا ہو گئے ہیں. جو اللہ کو منظور.
الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ صہف کی دوسری اور تیسری آیت میں ارشاد فرمایا:﴿یٰایھا الذین اٰمنوا لم تقولون مالا تفعلون، کبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون﴾․
یعنی اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جوکرتے نہیں؟ الله کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ ایسی بات کہو جو نہ کرو۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بتائی ہیں اور فرمایا کہ اگر کسی شخص کے اندران میں سے کوئی ایک نشانی بھی پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کی ایک علامت پائی گئی ۔ پہلی علامت یہ بیان فرمائی ”اذا حدث کذب“ جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ دوسری نشانی یہ بتائی ”اذا وعد أخلف“ وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ”اذا عاھد غدر“ جب معاہدہ کرے تو غداری کرے۔ تیسری نشانی نفاق کی یہ بتائی ”اذا اوتمن خان“ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور چوتھی نشانی یہ بتائی ”اذا خاصم فجر“جب جھگڑے تو بدزبانی کرے۔
آپ صلی الله علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی گئی ان نشانیوں میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی بنیاد قول وفعل میں تضاد ہے۔
مگرمشکل یہ ہے کہ ہمیشہ سے ایسے لوگ یہ سمجھتے آئے ہیں کہ جو کچھ کہا گیا یا لکھا گیا وہ ہمارے بارے میں نہیں، کسی اور کے بارے میں ہے حتیٰ کہ رئیس المنا فقین نے بھی کبھی مان کے نہیں دیا کہ میں منافق ہوں؟
اس قیمتی بلاگ کا حاصل اگر نکالا جائے تو میرے محترم المقام بھائی جناب شمس جیلانی کا یہ تبصرہ ہے ۔۔ جسے میں یہاں نکات کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت حا صل کر رہی ہوں ۔۔
1۔ جب انسان کے دل سے اللہ کا خوف نکل جا ئے تو پھر وہ انسان نہیں رہتا بلکہ درندہ بن جا تا ہے۔
2۔ کوئی صاحبِ تقویٰ جو اس دورمیںموجود ہو تو وہ خودکو نثار کر کے کربلا برپا کر نے کا با عث بنتا ہے۔ جس کی مدد کے لیئے اس وقت ظالم کے ڈر کی وجہ سے قوم نہیں اٹھتی اور بعد میں کف ِ افسوس ملتی ہے۔
3۔ اگر کوئی نفرتیں پیدا کرے تو اس کی دکان چمکتی ہے ، ایسے میں اگر کوئی اتحاد کی بات کرے تو اسے کون سنتا ہے کہ اس میں نمک مرچ کہاں، جو ذائقہ پیدا ہو؟
4۔ آج کے دور میں اگر کوئی پیسے پہ بظاہر نہیں مرتا تو اسے یاتو لوگ پاگل کہتے ہیں، یا پھر ولی سمجھ کر سٹے کے نمبر معلوم کرناشروع کر دیتے ہیں، اور بناسپتی پیروں عاملوں مجذوبوں کے ہاتھوں ٹھگے جاتے ہیں۔
5۔ ولا یت کادرجہ بہت بلند ہےاس کی پہچان اللہ تعالٰی کی صفتِ بے نیازی ہے ۔
6۔ ایک زمانے میں انسان کو ہزار سے اوپر کی گنتی نہیں معلوم تھی تووہ سو اور ہزار تک ہی گنناجانتا تھا۔ لہذا وہیں تک گنتا تھا۔ رقم اب لوگ اربوں کھربوں تک گن لیتے ہیں۔ مگر حلال اور حلال نہیں پہچانتے؟
7۔ ہم جن کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ شروع سے ہی دوسرے کے کاتے ہو ئے سوت پر تھان بنتے اور تھان پھاڑتے رہے ؟ ۔ اب علم اور عالم کو کوئی صا حب علم ہی پہچانتا ہے وہ بھی وہ، جو دیانتدار بھی ہو وہ۔ جیسے کہ جواہرات کو یا جوہری پہچانتا ہے یا با دشاہ؟
8۔ ہمیں جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے علم عطا کیاہے ہم صرف اس کو پہونچا نے کے ذمہ دار ہیں ۔ لہذا اس صدقہ کو جاری رکھئے ۔
انشاللہ شمس بھائی ہم سب اس صدقہ جاریہ کو مل کر جاری رکھیں گے ۔۔ دعائے ربی ہے کہ آپ کی راہنمائی ہمیں یونہی میسر رہے ۔۔آمین ثمہ آمین
السلام علیکم
جیلانی بھائی
آپ کے تبصرے سے بہت سے سوالات کے جواب سامنے آگئے. خود پرستی، انا پرستی اور شخصیت پرستی ہمارے معاشرے کو کینسر کی طرح کھوکھلا کر رہی ہیں. حق بات کہنے ولا نا پسندیدہ بن جاتا ہے چاہے وہ اپنی بات خاندان میں کرے اخبار میں لکھے یا سیاست میں اپنائے. یہ شخصیت پرستی ہی ہے جو ہمارے ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتی.
اللہ تعالیٰ آپ کو عمر خضر عطا کرے
والسلام
زرقا
اسلام علیکم
ہم جیسے کم علموں کو جب ان بلاگوں سے اتنا بے بہا علم ملتا ہے تو بے اختیار علم دینے والوں کے لئے دعائے خیر نکلتی ہے ۔اللہ آپ سب کو حیات جاوداں عطا کرے ۔
در اصل ہمارے اندر منافقت اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہمیں کیا کرنا ہے اس سے بھی صرف نظر عام ہے ۔ کیونکہ ہم نے اصل تعلیم سے خود کو دور کر لیا ہے جو پسند ہے او رآسان ہے اس پر عمل کرتے ہیں لیکن جہاں ہمیں اپنی خواہش کو مارنا ہوتا ہے وہاں ہمیں نہ کوئی تعلیم یاد آتی ہے اور نہ ہی کوئی خوف ۔
بہت دکھ کے ساتھ لکھ رہی ہوں لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی عبادات کو بہی اپنی اہمیت اور فخر کا زریعہ سمجھ لیا ہے ۔جو میں اکثر محفلوں میں سنتی ہوں ۔اللہ کا خوف جن دلوں میں ہوتا ہے وہ تو اپنی عبادات سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں کہ نہ معلوم ہماری عبادت میں خشوع و خضوع ہے بھی کہ نہیں نہ کہ اپنی تعریف و توصیف کے لئے اسے استعمال کریں ۔
سب سے بڑی بات ہے خوف خدا۔ دل میں یہ بات راسخ ہونی چاہئے کہ ہمیں اللہ کو جواب دینا ہے ۔جب تک ہمیں جواب دہی کا خوف نہیں ہوگا ہم خود کو سنبھال نہ سکینگے ۔
جمارے قول و فعل کا تضاد ہی ہماری تمام خرابیوں کی اصل ہے ۔ اور اس پر عامل ہونا ہی سب سے بڑی کامیابی اور فلاح ہے شاید اور سب سے بڑا جہاد بھی ۔
پڑھتے تو ہم بہت ہیں کاش خود کو اس پر منطبق کر سکیں ۔
اللہ ہمارے قول و فعل کے تضاد کو ہم سے دور کر دے اور ہمیں اپنے نیک اور با عمل لوگون میں شامل کر لے آمین
جب اتنی با علم تحریریں لکھی جاتی ہیں تو میں بہت ڈر ڈر کر لکھتی ہوں اس لئے کسی بھی سہو کے لئے معزرت ۔
میں کیسے سر کشی کر لوں میں کیسے خود سری کر لوں
کہ دل میں خوف ہے راسخ کہ میرے ساتھ تو وہ ہے
عالم آرا
بہن نگہت اور بہن زرقا اسلام علیکم ورحمہ
آپ دونوں کی اس مو ضوع پر محنت اور اس فقیر کے لیئے دعا ؤ ںکا بہت بہت شکریہ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ جزا ئے خیردے (آمین) اگر لوگ باہر والے یا گھر والے ناخوش ہو تے ہیں تو ہوں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نا راض نہ ہو۔ اس کی بندیاں اور اس کے بندے صرف اسی ہی کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اور اس نے یہ بھی کہہ رکھا کہ“ شہادت مت چھپا ؤ چا ہیں تمہا رے اپنو ں یا خود تمہا رے ہی خلاف کیوں نہ ہو“ لہذا سچ کہنے سے مسلمان کبھی پس و پیش نہیں کر تا۔ البتہ منافقوں کی بات اور ہے۔