امریکا نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے بند کرنے کا پاکستانی پارلیمنٹ کا مطالبہ مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس اسلام آباد سے تعلقات میں تنائو کم کرنے کیلئے سلالہ چیک پوسٹ حملے پر معافی مانگنے پر غور کررہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھے گا.
یہ آخر مشترکہ مفادات کیا ہیں؟

پاکستان کو مل بانٹ کر کھانا
پاکستان کو مل بانٹ کر کھانا
پاکستان کو مل بانٹ کر کھا نا
پاکستان کھپے
آج 14 اپریل کے روزنامہ جسارت کا اداریہ قابل توجہ ہے جسارت لکھتا ہے
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو امریکا کے ساتھ تعلقات اور خارجہ پالیسی کے لیے قومی سلامتی کی کمیٹی کی 14 نکاتی سفارشات کو متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد حکومت پاکستان‘ افغانستان پر قابض امریکی ناٹو‘ ایساف افواج کے لیے زمینی راستے سے بند رسد بحال کرنے کے لیے مذاکرات شروع کردے گی۔ قومی سلامتی کی کمیٹی نے 14 نکات پر مشتمل سفارشات متفقہ طور پر منظور کرکے پیش کیں جسے بغیرکسی مباحثے کے دو گھنٹے کے اندر اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قرارداد کی منظوری کے بعد اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں پر من وعن عمل کیا جائے گا۔ 25‘ 26 نومبر کی رات کو پاکستان افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی فوجی چوکی سلالہ پر حملہ کرکے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کردیا تھا۔ پاکستانی سپاہ پر امریکی فوج کے براہ راست حملے نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جاری نام نہاد جنگ کی حقیقت پاکستانی قوم کے سامنے ظاہر کردی تھی۔ اس واقعے کا ردعمل عوام کے ساتھ ساتھ خود افواج پاکستان میں بھی ہوا تھا اور ممکن تھا کہ امریکا کے خلاف عوامی غیظ وغضب کا رخ خود پاکستانی حکمرانوں کی طرف مڑ جائے۔ دس برسوں میں جاری امریکی دہشت گردی کی جنگ نے فوج اور عوام کے درمیان محبت وعقیدت کے تعلقات میں بال پیدا کردیا ہے۔ اس واقعے نے فوج کے اندر بھی اضطراب اور بے چینی پیدا کردی۔ اندرونی اضطراب اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے نمائشی اقدامات ناگزیر ہوگئے تھے۔ وزیراعظم نے 26نومبر کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا‘ جس نے اس مسئلے کو غور وفکر کے لیے پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو سفارشات مرتب کرنے کے لیے بھیج دیا۔ حکومت نے اس واقعے کے بعد فوری طور پر افغانستان پر قابض ناٹو افواج کے لیے رسد بند کرنے اور امریکی فوج سے شمسی ہوائی اڈہ خالی کرانے کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد سے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ناٹو کی رسدکی بحالی کا مسئلہ سرفہرست آچکا تھا۔ پاکستان کی فوجی قیادت کی سفارش پر ایک بار پہلے بھی حکومت ناٹو کی رسد بند کرچکی تھی لیکن بعد میں اسے بحال کردیا گیا۔ عالمی اور جنگی امور کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ناٹو کی رسد کی بحالی پر قدغن زیادہ عرصے تک برقرار رہنے کی کوئی امید نہیں تھی‘ لیکن اس میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ افغانستان پر امریکی جنگ کے امور بہت پے چیدہ ہیں۔ افغانستان کا محاذ ایک بڑے محاذ کا حصہ ہے۔ مسئلہ صرف اس وجہ سے بنا ہے کہ امریکا اپنی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کے باوجود 10 برسوں میں افغانوں کی مزاحمت پر قابو نہیں پاسکا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کا محاذ امریکا کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیاہے۔ پاکستان کے امور کو دیکھنے کے لیے واشنگٹن میں نیا شعبہ افپاک کے نام سے بنا دیا گیا ہے جو محکمہ خارجہ اور پنٹاگان کے ساتھ امریکی صدر کی مشاورت کرتا ہے۔ اس شعبے کا نام ”افپاک“ رکھا گیا ہے۔ ”افپاک“ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اور آنجہانی رچرڈ ہالبروک کے جانشین مارک گراسمین نے واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینگ میں گفتگو کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک دو اہم خطوں یعنی وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کو منسلک کرتے ہیں‘ افغانستان اور پاکستان ان کے درمیان راستے میں واقع ہیں۔ پاکستان اور صرف وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کا ملک ہی نہیں ہے بلکہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ سے بھی منسلک ہے ۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت جسے امریکا مستقبل کی علاقائی عالمی طاقت بنانا چاہتا ہے مسلمانوں کے وسیع سمندر میں ایک جزیرہ ہے۔ امت کا تصور مسلمانوں کو جغرافیائی حدبندی سے ماوارا کردیتا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد افغانستان کی کامیابی نے امت کے تصور کی قوت کو دنیا کے سامنے دکھا دیا ہے۔ امریکی سی آئی اے کو جس نے افغانستان کے جہاد اور جذبہ شہادت کا براہ راست مشاہدہ کیا تھا جہاد اور امت کی قوت کا احساس ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے تصور جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر ایک ایسی عالمی جنگ چھیڑ دی ہے جس کی صفیں واضح نہیں ہیں۔ افغانستان کے محاذ کی فوجی کمان سینٹرل کمان کے پاس ہے جسے سینٹ کام کہا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کا دائرہ افغانستان سے مصر تک پھیلا ہوا ہے گویا اسرائیل افغان جنگ کا اہم کردار ہے ناٹو کی رسد کی بندش نے یہ بتادیا ہے کہ پاکستان امریکا کی کتنی بڑی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کے حکمرانوں نے ناٹو کی رسد بند کرکے اس مسئلے کو پارلیمان میں بھیج دیا تو امریکا نے اس کی زیادہ مزاحمت نہیں کی۔ اس لیے کہ خود امریکا کی یہ ضرورت ہے کہ جنرل پرویزمشرف کے دور میں کیے گئے معاہدوں کو پارلیمان کی توثیق حاصل ہوجائے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت جن اتحادیوں پر مشتمل ہے اس کے بارے میں امریکی تھنک ٹینگ بروکنگز کے اسکالر اور پاکستان اور فوج کے امورکے ماہر اسٹیفن کوپن نے 22 مارچ کو واشنگٹن میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں موجودہ حکومت سے بہترکوئی حکومت نہیں آئی ہے۔ اس حکومت کا ایک کردار یہ بھی ہے کہ وہ پاکستانی عوام میں امریکی نفرت کو تحلیل کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی امریکا نواز حکومت کی جانب سے امریکی رسد کی بندش کا اعلان کیا گیا اور اب ایسے انداز میں رسد بحال کی جارہی ہے جس سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ انہوں نے پاکستان کی خود مختاری کو بحال کرالیا ہے۔ یہ ایسا جال ہے جس کے دھوکے میں پاکستانی عوام پھنسنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس عرصے میں جو بھی بحث مباحثہ ہوا ہے وہ ایک ڈرامہ ہے۔ قومی سلامتی کی کمیٹی نے 12 جنوری کو 16 مرکزی اور 24 ذیلی نکات پر مبنی سفارشات حکومت کو پیش کردی تھیں۔ ان سفارشات پر تمام جماعتوں کے نمائندوں نے جن میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شامل تھے‘ دستخط کردیے تھے۔ صرف اختلافی نوٹ جماعت اسلامی کے نمائندے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے تحریر کیے اور اس کے ساتھ ہی قومی سلامتی کی کمیٹی اور سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ بھی جمع کرادیا۔ دوسری طرف دفاع پاکستان کونسل نے ناٹو کی سپلائی کی بحالی کے خلاف عوامی مہم شروع کردی۔ اس مہم نے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کو مزاحمت پر مجبور کردیا لیکن بالآخر صدر آصف علی زرداری میاں نوازشریف اور مولانافضل الرحمان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ ناٹو کی رسد کی بحالی کے لیے متفقہ سفارشات مرتب کرنے میں مدد کریں۔ مولانا فضل الرحمان کے بائیکاٹ ختم کرنے کے بعد ترمیم شدہ مسودہ دوگھنٹے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہوگیا اور اس پر کوئی بحث بھی نہیں ہوئی۔ قرارداد کی متفقہ منظوری سے ناٹو رسد کی بحالی کے بظاہر مخالف عناصر کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ جو شرائط عائد کی گئی ہیں وہ دکھانے کے لیے ہیں۔ ان کو باقاعدہ دستاویزکا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ بعد میں حکومت اپنے مطالبات سے بھی دستبردار ہوجائے گی‘ کیونکہ وزیراعظم اور وزیرخارجہ کہہ چکے ہیں کہ ہم امریکا سمیت دنیا سے نہیں لڑسکتے اس قرارداد کی منظوری کے بعد افغانستان اور پاکستان میں بہنے والے ہر خون اور انسانیت کی پامالی کے ہر واقعے کے ذمہ دار پاکستان کی موجودہ پارلیمان بھی ہوگی۔
پارلیمنٹ ایک قدم اورپیچھے …
جناب مظفر اعجاز کا مضمون روزنامہ جسارت 14 اپریل 2012 ء
یہ سب کیا ہواہی؟ شاید سمجھنے میں آسان نہ ہولیکن وزیراعظم نے قوم کی مشکل آسان کردی یہ کہہ کر کہ امریکا کی طاقت سے آگاہ ہیں دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتے۔ ہوایہ ہے کہ پاکستانی عوام اور قوم کے مطالبات کے باوجود پارلیمنٹ نے ناٹو سپلائی کی بحالی کی سفارشات منظورکرلیں اورناٹو سپلائی کو قانونی جوازعطاکردیا۔ وزیراعظم نے اعلان کیاکہ ہم نے ایک اور سنگ میل عبورکرلیا۔ پارلیمنٹ اورپارلیمانی کمیٹیوں کی جمہوریت میں بڑی اہمیت ہوتی ہے لہذا ان سب نے متفقہ طورپر فیصلہ کیاہے کہ ناٹو سپلائی بحالی کی اجازت دے دی جائے۔ایک قدم مزید پیچھے آگئے ہیں یہ کہہ کر کہ ڈرون حملوں کی بندش سے سپلائی کی بحالی کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرون حملوں کے معاملے سے نمٹنے کی ہدایت حکومت کو دے دی گئی ہے۔ یہ شرط عائدکی گئی ہے کہ اسلحہ وگولہ بارودافغانستان نہیں جائے گا۔ امریکا سے برابری کی بنیادپر تعلقات ہوں گے۔ سلالہ حملے پرامریکا غیرمشروط معافی مانگے زبانی معاہدے کسی سے نہیں ہوں گے۔ سینیٹر رضاربانی نے خوش خبری سنائی کہ خارجہ اورقومی سلامتی پالیسی پر پارلیمنٹ کو اختیارحاصل ہوگیاہے۔ ایک صاحب جوہر کچھ دن بعد ناراض ہوجاتے ہیں اور پھراصولی طور پربات مان لیتے ہیں ایک دفعہ پھرچشم فلک نے یہ منظردیکھا کہ حکومت نے رحمان کو رام کرلیا۔ جی ہاں اخبارات میں تو یہی خبرآئی کہ وزیراعظم نے ملاقات کی اوررحمن کو پاکستانی قوم پر بم برسانے والی ناٹو سپلائی بحال کرانے پررام کرلیا ۔ جس کے فوراً بعد پارلیمنٹ نے متفقہ طورپر ناٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ کرلیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پہلے تو یہ دباﺅ تھا کہ ڈرون حملے بندکروائے جائیں‘ ڈاکٹرعافیہ کو لایاجائے۔ امریکا سے کولیشن سپورٹ کے تمام پیسے نکلوائے جائیں اور اس کے بعد امریکی افواج کے انخلاءکی تاریخ لے کر مخصوص اشیاءکی سپلائی بحال کی جائے۔ لیکن نہ تو عافیہ کو شامل کیاگیا نہ ہی ڈرون حملوں کو۔ اورلطیفہ یہ ہوا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ حکومت پر چھوڑدیاگیا۔ یہ کام تو پارلیمنٹ پہلے بھی متفقہ طورپر کرچکی ہے کہ اب کے مار….اب ڈرون طیارے گرادیے جائیں گے لیکن اس کے بعد حکومت نے ایک بھی ڈرون نہیں گرایا۔ ایران سے بھی سیکھ لیں ۔ اس کے مقابلہ میں تو ہم ٹیکنالوجی میں آگے ہیں اور ڈرون اتارسکتے ہیں تو ہم بھی کام کرسکتے ہیں۔ ایسا بھی کرلیں کہ ڈرون اتاراتارکر واپس کرتے رہیں۔ جیسے کہ ہیلی کاپٹرکی دم پکڑادیتے ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم یہ کہتاہے کہ ہم امریکاکی طاقت سے واقف ہیں۔ جب خوف اتنا زیادہ ہوکہ ملک کا وزیراعظم خوف کا اظہارکررہاہو تو یہی ہوتاہے۔ جنرل پرویزتو اکیلے تھے شاید اس لیے ڈرگئے ہوں‘ انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ اگرامریکیوں کی نہیں مانتے تو وہ ہمارا تورا بورا بنادیتا۔ ہمیں پتھرکے دورمیں بھیج دیتا۔ لیکن وزیراعظم کے پیچھے تو صدرمملکت اور پارلیمنٹ بھی ہے وہ کیوں ڈررہے ہیں؟ وہ اپنی عدالت سے نہیں ڈرتے کہتے ہیں کہ مقدمہ بناناہے تو میرے خلاف بناﺅمیرے بیٹے کو کیوں پھنساتے ہو۔ لیکن امریکا سے اتنے زیادہ خوفزدہ ہیں کہ صاف کہہ دیا کہ دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتے۔ انہوں ے یہ لالی پاپ دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا مطمح نظریہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی نہ ہو۔ لیکن جب سے ناٹو سپلائی بندہوئی ہے خودکش حملے اور دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی ہوئی ہے۔ جہاں تک پارلیمنٹ کی جانب سے یہ خواہش ظاہرکی گئی ہے کہ اسلحہ وگولہ بارودافغانستان نہ جائے اور امریکا سے برابری کی بنیادپر تعلقات ہوں گے۔ اسے معصوم خواہش یا احمقانہ خواہش کہہ سکتے ہیں پہلے کہاجاتاتھا ۔کوئی ہے جو بتادے کہ جب ناٹو سپلائی بندہوئی تھی اس وقت تک کیاکہا جارہاتھا۔ اسلحہ تو اس کے بعد سے جانا ویسے ہی بندہوگیا تھا جب کراچی سے جانے والے کئی ٹرالر اسلحہ سمیت غائب ہوگئے اس کے بعد سے کراچی کے راستے ناٹوکااسلحہ تو جاہی نہیں رہا تھا اور اسلحہ کے لیے وسط ایشیائی ریاستوںکا راستہ اختیارکیاجاسکتاہے کیونکہ بھاری اسلحہ افغانستان تک پہنچانا وہاں سے زیادہ محفوظ ہوگا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ پاکستان پر حملے کرنے والی فورسزکوخوراک‘کپڑے‘ادویات‘پیمپرز ‘دوربینیں‘ واکی ٹاکی ‘پیپسی‘برگرزوغیرہ کی فراہمی ان کو ہرطرح قوت بخشیںگے۔ ناٹو فوجی پیمپرز پہن کر بسکٹ وخوراک کھاکردوربینوں سے کیا چانددیکھیں گے‘ واکی ٹاکی کے ذریعہ کیا ایک دوسرے کو لطیفے سنائیں گے۔ ظاہری بات ہے ناٹو سپلائی پاکستان اورافغانوں پرحملے کرنے والوں کو ہر طرح تقویت کا باعث ہی ہوگا۔ یہ ہے ہماری منتخب پارلیمنٹ کا کارنامہ….لیکن اسے منتخب پارلیمنٹ ہی کی ذمہ داری سمجھیں جولوگ انہیں منتخب کرتے ہیں یا اپناکہتے ہیں وہ بھی ذمہ دارہیں۔
بھائی احمد ترازی شکریہ یہ معلوماتی تحریریں بہم پہنچانے کا۔ سلامت رہیں
اسلام علیکم ساتھیو
بھائی ترازی بہت شکریہ کہ آپ نے یہ تحریر ہم تک پہنچائی ۔جزاک اللہ خیر
بھائی کارنامہ تو ہے پارلیمنٹ کا ۔ لیکن یہ الزام بھی ہم سب پر ہی آگیا ہے کیونکہ جیالے کہتے ہیں کہ کبونکہ پارلیمنٹ عوام نے منتخب کی ہے لہزا یہ فیصلہ بھی عوام کا ہے ۔
اور دھائی دیتے ہیں اٹھارہ کروڑ عوام کی کہ سب ان کی مرضی سے ہو رہا ہے ۔
امید کہ اس الیکشن میں عوام اپنی درگت بنانے والوں سے حساب ضرور لینگے ۔
سوچنے میں کیا حرج ہے ۔ کہ آج تک تو ہماری کوئی بات پوری ہوئی نہیں ؟
اللہ سب کی حفاظت فرمائے ۔ آمین
عالم آرا
سیاستدانوں کے چند دلچسپ مگر شرمناک تبصرے سنتا جا شرماتا جا کے مصداق
قارئین محترم تبصروں سے قبل عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان کی حکومت کےساتھ ”نیمے دروں‘ نیمے بروں“ پالیسی بری طرح کھٹک رہی ہے۔ جب حکومت کو انکی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی پارلیمنٹ سے متفقہ منظوری کی ہی سہولت فراہم کر دی گئی تو ان سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا معنی رکھتا ہے۔
قوم اپنی نمائندہ پارلیمنٹ‘ اس میں بیٹھے اپنے منتخب نمائندوں اور عسکری قیادتوں سے یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ ملکی اور قومی مفادات پر کوئی آنچ نہ آنے دیں اور پاکستان کی سرزمین پر امریکی بوٹ برداشت کریں‘ نہ ڈرون حملے۔ اگر پاکستانی پارلیمنٹ کی سفارشات اور پاکستانی عوام کے جذبات کا امریکہ پر کوئی اثر نہ ہو تو اسکے دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے کے دعوﺅں کا بھی پول کھل جائیگا۔ کیا امریکہ ایسی ہی جمہوریت چاہتا ہے جو امریکہ نواز ہو؟
آب آئیے تبصروں کی طرف دیکھیں محترم مولانا فضل الرحمن کیا خوبصورت بات کہتے ہیں
حکومت انتظامی حکم سے ناٹو سپلائی بحال نہیں کرسکتی‘ فضل الرحمن
جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت ایگزیکٹو آرڈ کے ذریعے ناٹو سپلائی بحال نہیں کر سکتی‘ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات جنہیں پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر منظور کیا ہے اس کے تحت ناٹو سپلائی کی بحالی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ناٹو سپلائی کی بحالی کو ان سفارشات میں بالکل ممنوع قرار دیا جاچکا ہے اگر حکومت نے ان سفارشات سے انحراف کرتے ہوئے ناٹو سپلائی کی بحالی کی کوشش کی تو جے یو آئی (ف) اسے بزور قوت روکے گی اور قومی یکجہتی کا شیرازہ بکھرنے کی ذمہ دار حکومت ہوگی‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی جانب سے منظور کردہ سفارشات ایک مثبت قدم ہے کیونکہ اس کے تحت پہلی دفعہ خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر کی بات نہیں مانتا بلکہ اپنی ہر بات منواتا ہوں‘ مجھ پر امریکی سفیر کیمرون منٹر سمیت کسی کا بھی منتر نہیں چلتا بلکہ ان کا منتر دوسروں پر چل جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی پارلیمنٹ سے منظوری کو ناٹو سپلائی کی بحالی کی اجازت نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ان سفارشات پر من وعن عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور ناٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے کوئی بھی غلط اقدام نہ کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کو سپلائی لائن کھولنے سے مشروط کرنے کی تجویز (ق) لیگ اور (ن) لیگ کی تھی ہم نے سپلائی لائن کھولنے کی کسی صورت اجازت نہ دینے کا مؤقف اختیا رکیا۔
انہوں نے کہا نیٹو سپلائی بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس پر مزاحمت کی جائے گی۔ اس حوالے سے ان کا موقف اصولی ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سپلائی لائن کے حوالے سے کوئی معاہدہ کرے گی تو وہ منظور شدہ سفارشات کی خلاف ورزی ہوگی۔ حکومت اس حوالے سے کوئی انتظامی فیصلہ نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کیے جانے والے تمام خفیہ معاہدے ان سفارشات کی منظوری کے بعد ختم کیے جاچکے ہیں۔ پاکستان میں غیرملکی ایجنسیوں کا کردار بھی یکسر ختم کردیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم کرانے میں کامیاب رہے ہیں اور ان کی پیش کردہ ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کی نئی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمرون منٹر کا منتر نہیں بلکہ ان کے منتر نے کام دکھایااور نیٹو سپلائی کی بحالی کا تصور ہی ختم کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سفارشات کے بعد ڈرون حملے کیے گئے تو طاقت سے روکا جائے۔ حکومت نے غلط فیصلے کیے تو ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فضل الرحمن کے یو ٹرن پر افسوس ہے ،جنرل حمید گل
جنرل حمید گل کا کہنا ہے کہ فضل الرحمن کے یو ٹرن پر افسوس ہے انہوں نے کہا مولانا سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آصف علی زرداری سے ایک ملاقات میں ہی موقف تبدیل کرلیں گے ان کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے اس سے ان کے پیروکاروں کے بھی دل زخمی ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ مولانا کا یہ فیصلہ درست نہیں ہے انہوں نے اگر پارلیمنٹ نے سپلائی پر مہر لگادی تو یہ طوق غلامی پہنے کے مترادف ہوگا۔
پاکستان کی بڑی بیماری زرداری اورمولاناڈیزل پھراکٹھے ہوگئے‘عمران خان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فرید ٹائون میں خواتین کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سونامی انقلاب کی آمد سے گھبرا کر رائے ونڈ کے سرکس کے شیر ، پاکستان کی بڑی بیماری زرداری اور مولانا ڈیزل پھر اکھٹے ہوگئے ہیں لیکن ان تمام کو تحریک انصاف خوفناک شکست دے گی اور پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے پاکستان کے سبز رنگ کے پاسپورٹ کی دنیا میں عزت ہوگی ۔
نیٹو سپلائی کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ نیٹو سپلائی کھولی جا رہی ہے اور اس پر وہ مولانا فضل الرحمن کو مبارکباد دیتے ہیں کیونکہ مولانا نورا کشتی جیت گئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ انھوں نے جس طرح بھارت کو کرکٹ میں پھینٹی لگائی تھی اب اقتصادی میدان میں بھی شکست دینگے۔ خواتین کےحوالےسے عمران خان نے کہا کہ خواتین ملک میں انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہونگی۔
ناٹو سپلائی میں اسلحہ نہ لے جانے کی باتیں دھوکا ہیں‘ حافظ سعید
پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ ناٹو سپلائی میں اسلحہ نہ لے جانے کی باتیں بہت بڑا دھوکا اور محض عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہیں‘ پاکستان بچانے کے لیے امریکا سے دوستی اور تعاون کی سوچ درست نہیں ‘امریکا اور ناٹو سے جان چھڑانی ہے توسپلائی بحالی جیسے فیصلے کرنے کے بجائے اللہ کے احکامات کو پورا کرنا ہو گا‘ ناٹو سپلائی بحالی کے خلا ف تحریک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ پاکستان اور امت مسلمہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ سپلائی بحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہاں سے اسلحہ لے جائیں اور افغان بھائیوں پر جس قدر چاہیں ظلم ڈھائیں۔ وزیرستان او ر دیگر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے نتیجہ میں 36ہزار سے زائد پاکستانیوں کی شہادت اسی سپلائی بحالی کا ہی نتیجہ ہیں‘سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجہ میں اگر حکمرانوں نے سپلائی منقطع کرنے کا جرأتمندانہ قدم اٹھا ہی لیا تھا تو انہیں اس پر استقامت اختیار کرنا چاہیے تھی مگر افسوس کہ حکمران بیرونی دبائو کے سامنے نہیں ٹھہر سکے اور قومی و ملکی سلامتی اور خودمختاری کے تقاضوں کو مدنظر رکھے بغیر ناٹو سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ناٹو کنٹینرزاور سپلائی روٹس کی حفاظت کے لیے امریکا اپنی فوج پاکستان بھیجے گا۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں اور پوری پاکستانی قوم کو متحدہوکر ان سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے
ن لیگ اور جے یو آئی کا حکومتی اتحادی بن کر امریکی کیمپ میں جانا المیہ ہے،
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ ن لیگ اور جے یو آئی کا حکومت کااتحادی بن کر امریکی کیمپ میں جانا المیہ ہے، حزب اختلاف کے طور پر ان کی جو تھوڑی بہت شناخت موجود تھی اسے بھی ختم کر بیٹھے ہیں، قوم کی شدید خواہش کے باوجود ان کا پی پی پی، ایم کیو ایم، ق لیگ اور اے این پی کے ساتھ اتحاد ثابت کرتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ قومی مفادات پر امریکی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں اور امریکی غلامی میں سب ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن سے گلہ ہے کہ وہ کل تک طالبان سے ہمدردی کر رہے تھے اور اب منٹر اور صدر کی ایک ہی ملاقات کے بعد اپنا موقف بدل چکے ہیں۔ چوہدری نثار احمد بھی انجمن غلامان امریکہ کے ہمنوا بن چکے ہیں
عوام کراچی سے خیبر تک ناٹو سپلائی کے راستے بند کر دے گی ‘قاضی حسین احمد
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمدنے واضح کردیاہے کہ جماعت اسلامی عوام کے تعاون سے کراچی سے خیبرتک ناٹو سپلائی کے تمام راستے بندکردے گی،قاضی حسین احمدنے کہاکہ حکومت نے پارلیمنٹ کے کندھوںپرافغانستان کے لیے پاکستان کے راستے سپلائی بحال کرنے کاجوفیصلہ کیاہے اس لیے جماعت اسلامی ناٹو سپلائی کے تمام راستے بندکرے گی ۔
حکومت واپوزیشن امریکا کے سامنے سرنڈر کرگئے،فضل الرحمن خلیل
دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما مولانافضل الرحمن خلیل نے کہاہے کہ حکومت واپوزیشن جماعتیں امریکا کے سامنے سرنڈرہوگئی ہیں پارلیمنٹ کے نام پرملکی سلامتی کاسوداکیاگیاہے۔ناٹوسپلائی بحالی کے بعد عسکری قیادت اپنامئوقف واضح کرے، سلالہ چیک پوسٹ ہی نہیں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے تمام بے گناہ افرادکی امریکا سے جواب طلبی کی جائے۔ خنزیرکے گوشت وشراب کی سپلائی کی کسی صورت اجازت نہیں، اس سپلائی کوطاقت سے روکے گیں۔ ناٹوسپلائی کی مشروط بحالی شوربہ حلال اورگوشت حرام کے مترادف ہے۔فضل الرحمن خلیل نے کہاکہ پارلیمنٹ ایک مرتبہ پھرسیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بن گئی اورعوامی مفادات وملکی سلامتی کاسوداکردیاگیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشا ت میں مبہم اندازمیںناٹوسپلائی کی بحالی کی اجازت دے کرحکومت واپوزیشن جماعتوں نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ غلط کام کرنے جارہے ہیں اس لیے ان کوہمت نہیں ہورہی کہ وہ واضح اندازمیں قوم کے سامنے اپنامئوقف پیش کرتے۔
نیٹو سپلائی کی بحالی ملک وقوم سے غداری کے مترادف ہے، مولانا سمیع الحق
جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کو رسد کی بحالی ملک وقوم سے غداری کے مترادف ہے
بے شک بقول وزیر اعظم کے ہم نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ قوم اس کی سمت معلوم کر رہی ہے۔یہ وہ نہیں بتا ئیں گے ؟ “میں بتا دیتا ہوں بے غیرتی کی طرف“
یہ خلیفہ ہارون الرشید کے الف لیلوی بغداد پر اتری ہوئی ایک رات کا سچا واقعہ ہے۔ امام شافعی جامع مسجد بغداد میں موجود اپنے دو شاگردوں ربیع بن سلمان اور اسمٰعیل بن یحییٰ مزنی کے ساتھ علمی گفتگو میں مصروف تھے ۔ رواج کے مطابق کئی دوسرے مسافر، بے گھر اور نادار لوگ بھی ادھر ادھر سوئے پڑے تھے۔ اچانک امام نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور مشعل کی روشنی میں سوئے ہوئے لوگوں کو باری باری اس طرح دیکھنے لگا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔ فرزند مکہ امام شافعی کچھ دیر انتہائی انہماک سے اسے دیکھتے رہے اور پھر اپنے مخصوص دھیمے دھیرے اور نپے تلے لہجے میں ربیع بن سلمان سے کہا
”ربیع ! جاؤ اور کسی کے متلاشی اس آدمی سے پوچھو کہ تمہارا وہ حبشی غلام جس کی ایک آنکھ ناقص ہے کہیں غائب یا گم تو نہیں ہو گیا؟“
استاد کے حکم کی تعمیل میں ربیع اس اجنبی کے پاس گیا اور امام کا سوال دہرایا تو وہ شخص متعجب سا ہو کر ربیع کے ساتھ ہی امام کے حضور حاضر ہو گیا اور سلام کے بعد بولا ،
”آپ کے علم میں ہے تو بتایئے میرا غلام کہاں ہے؟“
”وہ تو کسی قید خانہ میں بند پڑا ہو گا“ امام نے کچھ ایسے یقین کے ساتھ کہا کہ وہ اجنبی اور خود ان کے ہم نشین حیرت زدہ سا ہو کر امام کو دیکھنے لگے۔ وہ شخص اسی وقت عجلت میں مسجد سے رخصت ہو گیا تو امام دوبارہ اپنے شاگردوں کے ساتھ مکالمہ میں مصروف ہو گئے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص دوبارہ آیا اور عاجزی سے بولا،
”حضرت! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرا گمشدہ غلام ڈھونڈنے میں میری مدد اور راہنمائی فرمائی“۔
امام کے شاگرد حیران و ششدر یہ سوچ رہے تھے کہ کیا امام کو غیب سے خبریں ملنے لگی ہیں۔ وہ شخص شکریہ کے بعد سلام کر کے رخصت ہوا تو اسمٰعیل مزنی سے رہا نہ گیا تو اس نے بیتاب ہو کر پوچھا
”اے استاد محترم و مکرم! آپ کو اس شخص کے غلام سے کیا لینا دینا، مکہ سے تشریف لائے ہیں نہ جان نہ پہچان تو پھر یہ سب کیا ہے؟“
امام شافعی ہلکا سا مسکرائے اور فرمایا
”یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو اس کی چال ڈھال اور تیور بتا رہے تھے کہ یہ کسی کی تلاش میں ہے“
”درست لیکن آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ وہ کسی غلام کو ہی تلاش کر رہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے غلام کو جس کی ایک آنکھ میں نقص بھی ہو“
اس بار ربیع نے سوال کیا تو امام شافعی نے کہا ،
”وہ اس طرح کہ سوئے ہوئے لوگوں میں یہ شخص ادھر زیادہ متوجہ تھا جہاں سیاہ فام حبشی سوئے ہوئے تھے اور پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ ہر خوابیدہ حبشی کی بائیں آنکھ پر زیادہ روشنی اور توجہ دے رہا ہے اس لئے میں نے اندازہ لگا لیا کہ اس کا کوئی ایسا غلام غائب ہے جس کی ایک آنکھ میں کجی ہے“
پر جوش شاگردوں نے اگلے سوال پوچھا
”امام آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ اس شخص کا گمشدہ غلام کسی قید خانے میں ہو گا“
امام نے پوری متانت سے کہا
”میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور اگر پیٹ بھرا ہو تو بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے سو میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہ ان دونوں میں سے ایک حالت کا شکار ہو گا جس کا منطقی انجام قید خانہ ہی ہو سکتا ہے۔
ایسے ہوتے ہیں امام نہ کہ وہ جن کی لگام ہوس اقتدار و زر کے ہاتھ میں ہو اور ایسی ہوتی ہے مومن کی وہ فراست جس سے ڈرنے کا حکم ہے لیکن جن کی روحوں تک میں صدیوں سے غلامی سرایت کر گئی ہو وہ بھوک کے عالم میں چوری، دھوکے، فریب، فراڈ، ملاوٹ وغیرہ پر اتر آتے ہیں اور اگر ان کے پیٹ بھرے ہوں تو یہ بدکاری اور عیاشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں کہ یہی کچلی ہوئی شخصیات والے غلاموں کی نفسیات ہوتی ہے۔غلام ابن غلام ابن غلام ”کیریکٹر لیس“ ہوتا ہے کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا۔یہ سب غلام ابن غلام ہیں
شاعر بھي ہيں پيدا ، علما بھي ، حکما بھي
خالي نہيں قوموں کي غلامي کا زمانہ
مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ايک
ہر ايک ہے گو شرح معاني ميں يگانہ
بہتر ہے کہ شيروں کو سکھا ديں رم آہو
باقي نہ رہے شير کي شيري کا فسانہ
کرتے ہيں غلاموں کو غلامي پہ رضامند
تاويل مسائل کو بناتے ہيں بہانہ
کبھی کبھی گماں گزرتا ہے کہ لمبے عرصے تک کسی سامراج تلے زندگی گزارنے اور غلامانہ خو بو اپنا لینے والی قومیں، زنجیریں کٹ جانے کے بعد بھی برس ہا برس تک آزاد نہیں ہوپاتیں۔ ان کی سوچ، اُن کا مزاج، ان کی نفسیات اور ان کا عمومی کردار عہد غلامی کے موسمی اثرات کے غلبے تلے رہتا ہے۔ اس کیفیت کے دوپہلو بڑے نمایاں ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حکمران، بیوروکریسی کے کل پرزے، سرکاری عمال اور عام اہلکار اپنے آپ کو سامراج کا حقیقی وارث خیال کرتے ہوئے خلق خدا کو بے بس و لاچار رعایا سمجھ کر موقع بے موقع ان کی پشت پر تازیانے برساتے رہتے ہیں۔ انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنا، ان کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنا، انہیں اذیتوں سے دوچار کرنا اور انہیں پیہم احساس کمتری میں مبتلا رکھنا۔ اس زور آور اشرافیہ کا شیوہ ہوتا ہے۔ اس بے رحمانہ طرز عمل سے اہل سرکارو دربار اپنے اقتدار کے حسن و جمال اور جاہ و جلال کا پیکر تراشتے ہیں۔ رسمی آزادی کے بعد مدتوں یہ دیسی سامراج نسبتاً زیادہ مہذب پرکشش اور قابل قبول نعروں کے ساتھ گردنوں پر سوار رہتا اور عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے، انہیں پیچ درپیچ مشکلات کے گھنے جنگلوں میں بھٹکتے رہنے پر مجبور کردینے کو اپنی کشت اقتدار کی کھاد بناتا رہتا ہے۔
طویل غلامی کا دوسرا افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ عوام کو احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ کب ان کی زنجیریں ٹوٹ گریں اور کب ان کے دست و پا آزاد ہوگئے۔ برسوں پنجرے میں بند رہنے والے پرندے کو کھلا چھوڑ بھی دیا جائے تو پر پھڑ پھڑانے اور ساری توانائیاں سمیٹ کر اڑان بھرنے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے۔ سامراج کے سائے تلے پروان چڑھنے والے عوام نئے حکمرانوں کو بھی سامراج کی معنوی اولاد خیال کرتے اور ہر ناانصافی، ہر ظلم، ہر زیادتی، ہر تذلیل، ہر تحقیر کے باوجود ہاتھ باندھے، گردن جھکائے کھڑے رہتے ہیں۔ 64 برس بعد بھی پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے سر میں سامراجی خناس سمایا ہوا ہے اور عوام کے دل و دماغ میں خوئے غلامی کنڈلی مارنے بیٹھی ہے-
پچھلے دنوں اقوام متحدہ کے ادارے ہیومن ڈویلپمنٹ نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں پاکستان ایسے ممالک میں شامل ہو گیا ہے کہ جہاں انسانی زندگی پریشانیوں اور مسائل میں گھری رہتی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی زندگی کی بیشتر سہولتوں سے محروم ہے۔ اب پاکستان انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے انتہائی کم ترقی والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ گویا ایک طرح سے پاکستان میں ترقی کا سفر رک سا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے 187 ممالک میں پاکستان 145 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے 134 ویں نمبر پر ہے۔ اس طرح چین جوکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے’ انسانی وسائل کی ترقی کے لحاظ سے اس کا 10 واں نمبر ہے۔ سری لنکا اس لحاظ سے 97 ویں نمبر پر ہے اور بھوٹان جیسا ملک 141 ویں نمبرپر ہے جبکہ اسی گروپ میں بنگلہ دیش’ یمن’ افغانستان’ ایتھوپیا’ نائیجیریا’ نیپال’ سوڈان اور کینیا بھی شامل ہیں۔ اس فہرست کے حساب سے تو پاکستان سری لنکا’ بھوٹان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہو گیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مملکت خداداد پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں کس کا ہاتھ ہے۔ بدعنوان اور خود غرض حکمرانوں کا’ آمروں کا’ مفاد پرست سیاستدانوں کا’ کرپٹ اور راشی سرکاری افسران کا’ کام چور سرکاری ملازموں کا یا پھر ہماری اس غفلت کی نیند سوئی ہوئی ساری قوم کا۔ اس موقع پر شاعرنے کیا خوب کہا ہے کہ
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغبان ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
یقینا ہمارے ملک کی اس حالت زار کے ہم سب ہی ذمہ دار ہیں۔ وہ بدعنوان اور بے حس حکمران بھی کہ جنہوں نے ہمیشہ ملک کا خزانہ لوٹا اور بیرون ممالک جائیدادیں بنائیں۔ ہمیشہ ہی ملک اور قوم کو بے وقوف بنا کر من پسند پالیسیاں اپنا کر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ فوجی آمر بھی وطن عزیز کی حالت کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر خود اقتدارپر قبضہ کر لیا اور پاک وطن کو نت نئے تجربات کرکے ایک سیاسی تجربہ گاہ بنا ڈالا۔ وہ مفاد پرست سیاستدان بھی اس تباہی میں برابر کے حصے دار ہیں جنہوں نے محض اپنے مالی مفاد کیلئے ہر حکومت کی ہر پالیسی پر سر تسلیم خم کیا۔ اپنی سیاست چمکانے کیلئے قوم کو مختلف لسانی اور مذہبی گروپوں میں تقسیم کرکے لڑواتے رہے اور خود ہر دفعہ ہر ایک حکومت سے مالی فائدہ حاصل کرتے رہے۔ انہی بے ضمیر سیاستدانوں نے ملک میں لوٹے اور لفافے کی سیاست کو فروغ دیا او ریہ مُردہ ضمیر سیاستدان ہر حکومت سے لفافہ لیکر لوٹے بنتے رہے ہیں۔ انہیں ملک اور قوم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس طرح وہ تمام کرپٹ اور راشی سرکاری افسران اور کام چور سرکاری ملازم بھی اپنے اس پیارے وطن کی اس حالت زار کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے محض اپنے ذرا سے مالی فائدے کیلئے ملک کے اہم ترین اداروں کو تباہ کیا اور ملک کی بنیادیں ہلا ڈالیں اور ہماری یہ ساری قوم تو اپنے اس وطن کی حالت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے کہ جس نے کبھی اپنے ووٹ کی اہمیت نہیں سمجھی اور محض خوش کن فریبی نعروں کے سحر میں آکر ہمیشہ نااہل لوگوں کو منتخب کیا۔ یہ قوم کبھی سوشلزم کے نام پر’ کبھی اسلام کے نام پر اور کبھی روشن خیالی کے جھوٹے دعوئوں کی خاطر بے وقوف بنتی رہی ہے تو کبھی حقوق اور مذہبی اسلامی نظام کی سیاست کی بھینٹ چڑھتی رہی ہے مگر اب ہماری قوم کو جاگنا ہوگا اور مخلص’ دیانتدار لوگوں کو حکمرانی کیلئے منتخب کرنا ہوگا اور تمام لسانی’ و مذہبی تعصبات کو ملکی سا لمیت پر قربان کرکے یکجہتی اور اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اپنے پیارے وطن کی ترقی’ خوشحالی’ آزادی اورسا لمیت کیلئے رنگ و نسل اور مذہبی منافرت کے تمام بتوں کو توڑ کراتحاد اور حمیت کو فروغ دینا ہوگا اور مل جل کر محنت سے کام کرنا ہوگا کیونکہ اپنے قبلے کی حفاظت ہمیں خود کرنا ہو گی۔ اب کوئی لشکر ابابیلوں کا نہیں ہے آنے والا ۔ اقوام متحدہ کے اس ادرے کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی پاکستان میں ہے اور مسلسل دو سالوں سے موسمی تبدیلیوں کے باعث خطے کی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے جبکہ پاکستان معاشی طورپر کمزور ہو چکا ہے۔ 2010ء میں پاکستان میں آنے والے سیلاب سے دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ سترہ لاکھ سے زائد گھر تباہ ہوئے۔ پچھلے برس برساتوں کے بعد آنے والے سیلاب سے ایک کروڑ کے قریب لوگ متاثر ہوئے اور پندرہ لاکھ سے زائد گھر تباہ ہوئے تھے۔ پاکستان میں مسلسل دو برسوں سے آنے والے بدترین سیلابوں کے باعث زندگی کی اہم بنیادی ترقی کے اس ٹھہرے ہوئے سفر نے پاکستانیوں کی زندگیوں کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ آنے والے سالوں میں پاکستانیوں کو ترقی’ خوشحالی’ بھائی چارگی اور امن عطا کرے اور پاکستانیوں کو تمام موجودہ مسائل سے چھٹکارا مل جائے۔ آمین۔
گوگل سرچ سے یہ معلومات حاصل کی گی ھیں
حسب نسب سے سادات ، علماء اور بڑے ناموں والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے یہ فطرتا چھوٹے اور حقیر لوگ ! جب جب ان کے ہاتھوں میں قوم کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار آیا ، انہوں نے قوم کو رسوا ہی کیا ۔
آصف احمد بھٹی
اچھے بھائ محمد احمد ترازی سلامت رھیں
آپ کی جداگانہ تحریرقاری کو متوجہ کرتی ھے ، سیاسی سماجی اور ادبی ثقافتی مذھبی موضوعات پر آپ خوب لکھتے ھیں
آپ کی تازہ بہ تازہ تحریروں کو پڑھ کر ان سے استفادہ کرتی ھوں
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
جزاک اللہ بہن شاہین حیدر رضوی صاحبہ
ہمیں ایک باد یاد شدت سے آرہی ہے کہ آزادی کے لیے غلامی ضروری ہے
کہتے ہیں اُس کے گھر میں بہت سے غلام رہ چکے تھے مگر اس وقت اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ نیا غلام سب سے جدا ہے۔ اس نے اس سے پوچھا، کیا کھاؤ گے؟ غلام نے جواب دیا،
آقا، جو آپ کھلائیں۔
پوچھا، کیا پیو گے ؟
آقا، جو آپ پلائیں۔
کیا پہنو گے؟
آقا، جو آپ پہنائیں۔
کہاں رہو گے ؟
آقا، جہاں آپ رکھیں۔
کیا کیا کام کرو گے ؟
آقا، جو آپ کروائیں۔
اس کے ہر سوال کے جواب میں غلام کے پاس ایک ہی جواب تھا کہ آقا جو آپ کی پسند، وہی اس کی پسند، جو آپ کی چاہت وہی اس کی چاہت، جو آپ کی منشا، وہی اس کی منشا، جو آپ کا ارادہ، وہی اس کا فیصلہ۔
مالک اس کے جواب سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
جب بہت دیر گزر گئی تو غلام نے عرض کیا مالک، کیا میں نے کوئی نامناسب بات کہہ دی۔
مالک نے کہا، نہیں تو، بلکہ تو نے تو مجھے آداب غلامی سکھا دیے۔
سوچ رہا ہوں، میں بھی تو کسی کا غلام ہوں۔
مجھے بھی آخر کچھ کرنا چاہیے۔ اسی سوچ نے اس ‘مالک’ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اور اس پر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ وہ بھی اصل میں آزاد نہیں غلام ہے، دولت و شہرت کا، عزت و وجاہت کا، اقتدار و اختیار کا، حرص و ہوس کا اور اپنی خواہشات کا غلام۔
اس نے اپنے نئے غلام سے پوچھا کہ وہ ان بہت سی غلامیوں سے کیسے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
غلام نے جواب دیا، آقا، آزادی اصل میں ایک مالک کی غلامی میں آجانے کا نام ہے۔
جیسے مجھے دیکھیں کہ میں آپ کا غلام ہوں، مجھے صرف آپ کا حکم پورا کرنا ہے باقی میری ہر ضرورت کے ذمہ دار آپ ہیں۔
ایسے ہی انسان اگر ”ایک مالک” کا غلام بن جائے تو وہ مالک اسے ہر غلامی سے نجات دے دیتا ہے۔ حقیقی آزادی کا مزہ تو آتا ہی تب ہے جب انسان بس ”اس” کا غلام بن کر رہے۔
اس دن کے بعد سے اس مالک نے یہ مشن بنا لیا کہ وہ یہ پیغا م دنیا کے ہر انسان، ہر گروہ، ہر جماعت، ہر قوم، ہر ملک اور ہر ملت تک پہنچائے گا کہ حقیقی آزادی کے حصول کے لیے ”مالک” کا غلام بن کر رہنا لازم ہے۔
سو ہمارے ارباب اقتدار اور ان کے حواریوں نے سوچا کہ اہل پاکستان کو یہ بتا دیا جائے کہ ان کو بھی حقیقی آزادی اُس دن نصیب ہوگی جب وہ ایک ”مالک” کے غلام بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیں گے۔
اس کے علاوہ وہ جتنے بھی فیصلے اور کوششیں کر لیں، جتنا بھی زور لگا لیں، جتنے بھی فلسفے بھگار لیں اور جتنی بھی حکومتيں تبدیل کر لیں وہ نہ عالمی طاقتوں کی غلامی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور نہ معاشی، تہذیبی اور ذہنی غلامی سے۔
ہاں جس دن وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ اعلان کر دیں گے کہ وہ آج سے صرف ایک ہی مالک کے غلام ہیں تو باقی مالک ان کا گھر چھوڑ کر یوں ہی خاموشی سے رخصت ہو جائیں گے جیسے ابھرتے سورج کے سامنے سے دھند چھٹ جایا کرتی ہے۔
البتہ ان کا اعلان اس ‘ایک مالک’ کے نزدیک موثر اسی دن اور اسی وقت سے سمجھا جائے گا جس دن اور جس وقت سے ان کی زندگیوں، ان کے گھروں، ان کے معاشروں، ا ن کے ملکوں اور ان کی حکومتوں میں اس اعلان کی تنفیذ کا آغاز ہو گا۔