بابا صاحب (محترم المقام جناب صفدر ہمدانی )کہتے ہیں کہ احسانمندی ورثے کی طرح نسل در نسل چلتی ہے ۔ احسانمندی کے زمرے میں سب سے پہلے ماں باپ بہن بھائی اور اساتذہ آتے ہیں پھر اس کے بعد بھی بے شمار اپنے قریبی رشتہ دار ۔۔ میری خواہش ہے اس بلاگ میں ہم سب مل کر ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کریں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ وہ ہماری زندگیوں میں کتنے خاموشی سے آئے اور اہم ترین تبدیلیاں کر کے چلے گئے اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا ۔۔
میں نہیں جانتی تھی کہ یہ لمحہ مجھے کتنا امیر ترین کر جائے گا ۔ یہ ان دنوں کی بات جب میں 2005 میں لیور ہوپسپٹل میں نئی نئی سائیکاٹری کی پوسٹنگ پر آئی تھی ۔ میری ڈیوٹی ہفتے کے روز تھی ۔ مجھے ریسپشن سے کال ملی کہ ایک مریضہ آئی ہے اور پولیس بھی ساتھہ ہے ۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے پڑوسیوں نے پولیس بلوائی تھی کہ یہ مریضہ خود کو مارنا چاہتی ہے ۔ اور چھری سے اپنی کلائی کاٹ ڈالی ہے ۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد جب میں نے اسے نفیساتی تجزیہ کے لئے دیکھا تو اس نے بتا یا کہ اس کی پانچ سالہ بیٹی کو پیدائیش کے وقت سے ہی گورمنٹ نے لے لیا تھا کہ اس کے گھر میں اس کا شوہر ہر وقت لڑتا رہتا تھا (ڈومیسٹک وائیلنس ) اور وہ دونوں کبھی کبھی ڈرگس بھی لے لیتے تھے ۔
بچی کے جدا ہو جانے کے بعد ان دونوں نے ری ہیبلیٹیشن سے علاج کروایا اور اب وہ دونوں گورمنٹ کو ثبوت دینے کے کی کوشش میں مختلف کورس وغیرہ بھی کر رہے تھے ۔ انہیں پہلے خود گورمنٹ کے آفس جا کر اپنی بچی سے ملنا پڑتا تھا ۔ پر آج پہلی بار انہیں اپنی بیٹی کو گھر لے جانے کی اجازت ملی تھی ۔ اس کی بیٹی کو پمپکن سوپ بہت پسند تھا ۔ پمپکن (میٹھا کدو)کو چھیلتے ہوئے اسے کلائی میں چھری لگ گئی ۔ جس کو اس کی پڑوسن نے دیکھ لیا ۔ اس نے روتے ہوئے مجھ سے التجا کی کسی طرح بھی اس پر یقین کر لوں ورنہ اس کی بیٹی کبھی اس کے گھر واپس نہیں آ سکے گی ۔ اوراب اس کی بیٹی کے آنے میں صرف 30 منٹ بچے ہیں ۔ اس نے اور اس کے شوہر نے مجھے یہ بھی کہا کہ ابھی اسے صرف ایک گھنٹہ کے لئے جانے دوں وہ دونوں بعد میں دوبارہ آجائیں گے اور جیسا میں کہونگی وہ وہی کریں گے ۔۔
جانے اس لمحے میں کیا تھا کہ مجھے لگا جیسے مجھے ان کی مدد کرنی چاہئے ۔۔ مدد کی مد میں اعتبار وہ بھی ایک مریضہ پر جو پہلی بار میرے پاس آئی تھی بلکہ لائی گئی تھی ۔ میں نے اسے جانے دیا ۔ صرف یہ کہا کہ مجھے فون پر بتا دے کہ سب خیر ہے اور اس کی بیٹی ان سے مل کر واپس چلی گئی ہے ۔
ٹھیک ایک گھنٹہ بعد میرا نام ایمرجنسی ڈیسک سے مائک پر پکارا گیا۔ اف قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میری بس جان نکلنے والی تھی کیونکہ مجھے میرا اعتبار دھوکہ بھی دے سکتا تھا ۔ میں اس ڈیسک تک کیسے پہنچی نہیں جانتی ۔ پر جب میں وہاں پہنچی تو ریسپشنسٹ نے بتایا کہ کوئی میری مریضہ اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھی اور وہ یہ ایک کارڈ اور خوبصورت پھولوں کا گلدستہ تمہارے لئے دے گئے ہیں ۔
میری آنکھیں تشکر سے نم ہو گئیں ۔۔ کارڈ پر لکھا تھا “ ڈیر ڈاکٹر نسیم تمہارے اعتبار نے ہمیں جینا سکھا دیا اور ہمیں جینے کی وجہ بھی دے دی ۔ ہم تمہارا شکریہ کسی بھی لفظوں میں ادا نہیں کر سکتے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے مریضوں پر اپنے اعتبار کوہمیشہ قائم رکھنا “
میں اس کے چہرے کو ۔۔۔ اس کی زخمی کلائی کو ۔۔۔ اس کی ملتجی نظروں کو ۔۔اس کے کارڈ ۔۔ اس کے گلدستے کو ۔۔ اس کے یقین کو کبھی نہیں بھول سکی ۔۔ اس چند لمحوں نے ، اس اجنبی ماں نے مجھے سر سے پیر تک بدل ڈالا ۔۔
کاش وہ مجھے کبھی دوبارہ مل جائے تو میں سب سے پہلے اس کا شکریہ ادا کروں اور پھر کہوں کہ میں نے اس کی بات مانی ہے اوراپنے مریضوں پر اعتبار کرنے میں ہمیشہ پہل کی ہے اور میرے اس اعتبار نے مجھے بہت اچھا ڈاکٹر بنایا ہے ۔ اتنا اچھا کہ میرے مریض مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔ میرے لئے مندر ، مسجد ، گردوارے ، چرچ ۔۔ جہاں کہی بھی ہوں دعا کرتے ہیں ۔۔۔
میری دعا ہے تم جہاں کہی بھی ہو محفوظ ہو اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوش رہو ۔۔ آمین

السلام علیکم
میرے زندگی پر میرے نانا جان کی بہت گہری چھاپ ہے ، وہ بلکل چٹے ان پڑھ تھے ، مگر ان کا سینہ علم کا سمندر تھا ، میرے عمر کے ابتدائی سال ان کی زیر سایہ ہی گزرے ہیں ، اس لیے میں ان کے بہت قریب تھا ، وہ مجھے سے بہت محبت کرتے تھے ، میرا رشتہ بھی انہوں نے طے کیا تھا ، میری بیوی ان کے ماں کے خاندان سے ہے ، وہ میری شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد انتقال کر گئے تھے ۔ مین نے اپنی پوری زندگی میں ان جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا ، زندگی کی مشکلات کو ہو جوان مردی اور حوصلے سے جھیلتے تھے ، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے تھے بلکہ ہمیشہ پر امید رہتے تھے اور مجھے بھی ہمیشہ حوصلہ مند رہنے کی تاکید کرتے تھے ، میر شخصیت میں ان کے رنگ ہر سو بکھرے ہوئے ہیں ، انہین جاننے والے اکثر لوگ ، میری ہر بات پر بے اختیار کہہ اُٹھتے ہیں ، فضل احمد بھی ایسا ہی تھا ۔
آصف احمد بھٹی
آصف زندگی میں اپنوں کے احسان تو ختم ہی نہیں ہوتے ، میں توبات کر رہی ہوں اجنبیوں کی جو اتنی خآموشی سے آتے ہیں جیسے کوئی لہر کنارے سے ہو کر لوٹ جائے ۔ میں تو ان لوگوں کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں ۔
بہت خوبصورت تحریر کیا ہے،مجھے بہت پسند آی ہے۔سچ ہے زندگی میں ایسے کافی سارے لوگ مل جاتے ہیں۔جو رہ چلتے مہربانی کر جاتے ہیں۔ اور ہم ان کو زندگی میں یاد کرتے اکثر یاد کر تے ہیں۔کبھی جہاز میں کبھی راستے میں کافی سارے لوگ ملے۔ اور میں ان کو آج تک یاد کرتی ہوں۔ آپی نگہت ، آپ ہیں ہی بہت اچھی انسان۔ مریصوں کے علاوہ ہم بھی آپ سے بے حد پیار کرتے ہیں،اور اعتبار کرتے ہیں۔
میرے دل کو اس تحریر نے چھو لیا ہے،اللہ اس اچھی ڈاکڑ کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔آمین
السلام علیکم
نگہت اپی ! انسان شعوری اور لاشعوری طور پر زندگی میں ہر روز کسی نہ کسی کا احسان مند ہوتا رہتا ہے ، ہر روز ہم کسی نہ کسی کے احسان تلے دبتے رہتے ہیں ، بہت سے لوگ آپ کی زندگی پر اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں ، نوجوانوں میں بد نظری ایک عام سا مرض ہے اور کم و بیش ہر نوجوان اس میں مبتلا رہتا ہے ، بہت سال پہلے کی بات ہے ، میری عمر قریب سولہ سال تھی ، اور میں نوجوانی کے آغاز میں ہونے والے حادثات سے گزر رہا تھا ، اور اس مرض کی ابتدائی حملے مجھ پر شروع ہو چکے تھے ، ایک روز میں اپنے دوست ولی محمد کے ساتھ گھر کے قریب ہی تھڑے پر( محلے کے نوجوانوں کی مل بیٹھنے کی ایک مخصوص جگہ ) بیٹھا تھا ، گرمیوں کے دن تھے اور گلیاں کم و بیش ویران ہی تھی ، ہم دونوں بھی ہونے والے امتحانات پر بات چیت کر رہے تھے ، ولی میٹرک کے بعد ائر فورس مین جانے کا پروگرام بنا رہا تھا اور اسی حوالے سے مجھے بتا رہا تھا اس کا پورا دھیان ہاتھ مین پکرے درخواست فارم کی طرف تھا ، اسی وقت مجھے گلی میں کاغذ چننے والے کم عمر افغان لڑکا اور لڑکی نظر آئے ، لڑکا کم و بیش نو دس سال کا تھا اور لڑکی اس سے دو تین سال بڑی تھی ، لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ بے اختیار میرے منہ سے سبحان اللہ نکل گیا ، جسے لڑکی کے ساتھ آنے والے افغان لڑکے نے سن لیا ، ولی درخواست فارم پر درج شرائط پڑھ کر مجھے سنا رہا تھا اور میں ٹکٹکی باندھے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا ، ولی نے ابھی انہیں نہیں دیکھا تھا ، اس کے ساتھ موجود افغان لڑکا کچھ دیر تو یہ سب دیکھتا رہا پھر میرے پاس آکر ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولا ، اُسے عورت ہی رہنے دو ۔
مجھے لگا کہ کسی نے مجھے سر بازار ننگا کر دیا ہے ، میری نظریں خود بخود جھک گئی ، برہنی کا احساس اتنا شدید تھا کہ میں بلکل ہی سمٹ گیا ، مجھے نہیں معلوم اس کے بعد وہ لوگ کب گلی سے گئے ، اس کے بعد سے لیکر آج تک میری نظر جب بھی کسی لڑکی یا عورت پر پڑتی ہے اس افغان بچے کے الفاظ میرے کانوں میں گھونجنے لگتے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
کبھی سوچا ہی نہیں کتنی خاموشی سے زندگیاں بدل جاتی ہیں۔
میری بہت پیاری بہن میری گڑیا شہزادی میری دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ،سلامت رھو خوش رھو خوش حال و خوش خیال رھو آمین ثم آمین
سب سے پہلے تو بلاگ ميں تاخیر سے آنے پر معذرت ، افس ميں ھمارے کمپوٹر پر کیرج کا کوئ کام ھورھا ھے ، تو اس کی وجہ سے بھی بلاگ پر آ نہ سکی اور سنو جس دن تم نے یہ بلاگ لگایا میں رات دیر گیۓ تک ایک خاص کیفت میں بلاگ پر لکھتی رھی اور تبصرہ ارسال کریں کی ھدایات پر عمل کیا تو پتہ چلا میرا بڑی محنت سے لکھا ھوا تبصرہ جو ابھی تھا اور اب کیہں نیہں ھے ، ایسا میرے ساتھہ بہت ھوتا ھے میری یاداشت اچھی نیہں ھے بہرحال یہ تو اپنے دوستوں کو اس بلاگ سے غیرحاصزی کا سبب تھا
مجھے تمھارا بلاگ بہت اچھا لگا ، دراصل ڈاکٹر صاحبہ ، اگر معالج اچھا ھوتا ھے تو آدھا مرض تو اسی وقت ٹھیک ھوجاتا ھے او رباقی اچھی دیکھہ بھال اور بہترین دوايئوں سے مایوس مریض صحت یاب ھوجاتا ھے، زندگی میں ایسے مواقع کم ھی آتے ھیں جب آپ کسی فرشتہ صفت انسان سے ملتے ھیں اور اسکی وجہ سے جو تغیر آپکی زندگی میں آتا ھے وہ ایسا ھی ھوتا ھے جیسے کسی تند و منہ زور لہروں سے جنگ کرتے مایوس ڈوبتے انسان کے ھاتھوں میں کوئ مضبوط رسی یا کوئ کشتی یا کوئ کنارہ آجاۓ ،
دینا کے ھر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ھیں
جب اس کو صرف اپنے دل پر یقین کرنا پڑتا ھے
حب اس کو اپنے اور کسی انجانے کے درمیان اعتماد کا ان دیکھا میثاق قائم کرنا پڑتا ھے
اور
اکثر انسان اس امحتان میں کامیاب ھوجاتا ھے
تبدیلی کا مطلب ھی تحریک ھوتا ھے ، میں ھر تبدیلی کو خیر و برکت سے منسوب کرتی ھوں
ابھی حوار جاری ھے تھوڑی دیر میں زندگی رھی تو دوبارہ حاضری دیتی ھوں انشا اللہ
بہت اچھے اور خوشگوار دن کی دعا کس ساتھہ
(ان متقین کے لیے)جو خواہ آسودگی میں ہوں یا تنگی میں ہر حال میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
سورة آل عمران (3) _ آيت: 134
میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے بڑے دل کے لوگ دیکھے اور انکے بارے میں سنا ھے ، مگر میں اس بلاگ میں اپنے پیارے ساتھیوں کو ایک نہایت پیاری اور ھر کسی کی مدد کو ھر وقت تیار ایک ایسی شخصیت سے متعارف کرانے کا شرف حاصل کررھی ھوں انکو آپ سب بہت اچھی طرح سے جانتے ھیں ، اور بہت ھی عزت کرتے ھیں ، انکی شخصیت میں کچھہ ایسی کشش ھے کہ ھر آدمی انکو اپنی دعاوں میں یاد رکھتا ھے آپ سب انکے نام اور کام سے بخوبی واقف ھیں ،اور وہ حاتم طائ کے قبیلے سے تعلق رکھتی ھیں ، میری ابھی تک ان سے روبرو ملاقات نیہں ھو ئ ھے ،مگر میری مشکلوں میں وہ جس طرح مجھے مدد فراھم کرتیں ھیں کہ آدمی دم بخود سوچتا رھتا ھے کہ دینا ان جیسے اچھے لوگوں کی بدولت ھی قائم ھے ، کیونکہ ھم لوگوں کو اس بارے میں زیادہ بات کرنی کی انکی طرف سے اجازت نیہن ھے اس لیے میں اّ لوگوں کو یہ بات بتانے میں فخر محسوس کررھی ھوں کہ وہ نہ صرف اپنے مایوس مریضوں کی ھمت افرائ مدد اور ھر طرح سے انکو زندگی کی طرف مائل کرنے میں مدد فراھم کرتیں ھیں،بلکہ اپنی کسی نیکی کا چرجا بھی پسند نیہں کرتیں مگر
یہ تو اللہ تعالی کی طرف سے بھی حکم ھے کہ جو احسان کرے اس کا شکریہ ادا کرو اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے اور میری زندگی بھی انکی وجہ سے بہت تبدیل ھوئ ھے ، مجھے 24 برس بعد ڈاکٹر نگہت نسیم ھی نے دوبارہ لکھنے کی طرف راغب کیا تھا ، اور میں دل کی گہرايئوں سے اللہ تعالی کی شکر گذار ھوں کا مجھے اتنے پیارے لوگوں سے ملوایا جو انسان دوست ھیں اللہ پاک تم کو ھمشیہ کامیابی خوش بختی کی مسند پر رونق افزاء رکھے آمین ثم آمین ، تمھارے بارے میں لکھتے ھوۓ مجھے بہت اچھا لگتا ھے سلامت رھو
اللہ رحیم و کریم ھماری بہت پیاری بہن اور بہت عزیز دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کو ھمشیہ اپنے حفظ واماں میں رکھے اور انکو دارین کی ھر نعمت عطا فرماۓ ھر دکھہ پریشانی سے محفوظ رکھے آمین ثم امین
میں نے بہت سارے لوگ دیکھے ھیں مگر میرے لیے تو وہ واقعی ایک فرشتہ سیرت نیک دل انسان ھیں انکا نام ھے سڈنی میں آباد اپنے مریضوں کے دل میں گھر نیہن بلکہ شاھی قعلہ بنانے والی ڈاکٹر نگہت نسیم کو اللہ پاک ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے امین ثم آمین
شاہین آپی ! شاہی قلعے پتھر کے ہوتے ہیں ، ہا ہا ہا ۔
آصف بھائ اللہ کرے ھمشیہ ھسنتے مسکراتے رھو،
تمھارا جملہ اچھا لگا مگر ابھی میری اچھی کھنچائ تو محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کرینگے
مجھے اچھا لگتا ھے اپنے پیارے دوستوں کو عزت سے پکارنا اور انکو تعظیم دینا ، گاڑی آگی ھے ابھی اس موضوع پر رات کو گفتگو ھوگی
جو لوگ ھمارے دلوں میں گھر کرتے ھیں ، اور وہ گھر شاھی قعلوں جیسے مضبوط و دايم ھوتے ھیں ، ان میں پھتر نیہن خلوص اور محبت کا گارا ھوتا ھے
اسّلام علیکم محترم نشینون
مسیحا بیٹی کا پیش کردہ موضوع ایک خوبصورت موضوع ہئے ،تحریر کی روح اعتبار ہئے ،میری زندگی میں ایسے بے شمار واقعات پیش آئے جنہون نے میری زندگی پر بہت خوشگوار اثرات مرتّب کئے ،
لیکن ایک سچعا واقعہ جو بہت ہی اثر انگیز تھا اور اگر میں آنے والی ہستی پر اعتبار نا کرتی تو شائد تمام عمر اپنے آپ کو معاف نا کر پاتی
بس ابھی اتنا کافی ہئے،ایڈ منٹن میں صبح کے دس بجنے والے ہین ،،باقی رات میں لکھوں گی انشاللہ ،،،،ابھی باہر جا رہی ہوں ،،،
اللہ نگہبان
زائرہ بجّو
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم ہ
سورہ بلد قران کریم کا سورہ نمبر نوّے
اللہ کریم اس سورے میں فرما رہا ہئے مجھے اس شہر مکّہ کی قسم اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو اور تمھارے باپ آدم اور اس کی اولاد کی قسم کہ ہم نے انسان کو مشقّت میں رہنے والا پیدا کیا ہئےکیا وہ سمجھتا ہئے کہ اس پر کوئ قابو نا پاسکے گا وہ کہتا ہئے کہ میں نے الغاروں مال اڑا دیا کیا وہ یہ خیال رکھتا ہئے کہ اس کو کسی نے دیکھا ہی نہیں کیا ہم نے اسے دونو ں آنکھین اور زبان اور دونوں لب نہیں دئے اور اس کو اچھّی اور بری دونو ں راہیں بھی دکھا دیں ،پھر وہ گھاٹی پر سے ہو کر کیوں نہیں گزرا ،اور تم کو کیا معلوم کہ گھاٹی کیا ہئے کسی کی گردن کا غلامی یا قرض سے چھڑانا یا بھوک کے دن رشتے دار ،یتیم یا خاکسار محتاج کو کھانا کھلانا
پھر تو ان لوگوں میں شامل ہوجاتا جوایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور ترس کھانے کی وصیّت کرتے رہئے یہی لوگ خوش نصیب ہیں اور جنلوگوں نے ہماری آئتوں سے انکارکیا ہئے یہی بد بخت ہیں کہ ان کو آگ میں ڈال کر ہر طرف سے بند کر دی جائے گی
ختم شد
اس سورے میں لفظ گھاٹی کو اللہ کریم نے استعمال کیاہئے ،
گھاٹی کی لغوی معنی یہ ہوتے ہیں کہ دو جگہو ں کے درمیان جو خالی جگہ ہوتی ہئے اس کو کراس کرنا ہو تا ہئے اور یہ بڑا ہی سخت کا م ہوتا ہئے ،تو اب دیکھتے ہیں کہ ہماری اپنی زندگی میں یہ گھاٹی کب کہاں کیسے آجاتی ہئے یہ واقعہ بہت پرانا نہیں زیادہ سے دیادہ سات یا آٹھ برس پہلے کاہئے صبح نو بجے لے لگ بھگ ایک سیاہ برقع پوش ضعیف العمر خاتون نے میرے دروازے کی بیل بجائ میں نے گیٹ کھولا تو ان محترمہ کو دیکھا انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہا مجھے اس گھر میں جانا ہئے ساتھ ہی انہوں نے پینے کے لئے پانی مانگا میں پانی کی بوتل لے آئ تو انہوں نے دو گلاس پانی پیا پھر میں پرچہ دیکھا تو ان کا مطلوبہ گھر میری گلی کا آ خری گھر تھا جو ایک وڈیرے کا تھا ،میں گلی میں باہر آ ئ اور ان محترمہ کو گھربتا کر اندر آکر گیٹ بند کر لیا ،چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ وہ محترمہ پھر میرے گیٹ پر تھیں بیل ہونے پر میں دوبارہ گئ اور گیٹ کھولا تو وہ کہنے لگیں بٹیا انہون نے تو گیٹ بھی نہیں کھولا گیٹ کے اوپر سے پچاس روپئے پکڑا دئے ہیں ،اور اس کے ساتھ وہ محترمہ ایک دم روپڑیں ،اور کہنے لگیں تم صرف میری بات سن لو
اتنے میں انوار صاحب نے مجھے گیٹ پر باتین کرتے دیکھا تو کہنے لگے خاتون کو گھر میں بلالو گیٹ پر کب تک کھڑی رہو گی میں نے ان کو گھرکے اندر بلا کرڈرائینگ روم میں بٹھا لیا اور خود ان کے برابر میں بیٹھ کر ان سے کہا جی اب بتائے کیا معاملہ ہئے
تووہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہنے لگیں پرسو ن رات کو شارع فیصل پر آئل ٹینکر نے موٹر سائکل پر جاتے ہوئے میرے داماد اور
ٹکّر جو ماری تو داماد تو موقع پر ہی ختم ہو گئے اور بیٹی کی تین پسلیاں ٹوٹ گئ ہیں ان ٹوٹی ہوئ پسلیوں میں سات مہینے کو بچّہ جو اس کے پیٹ میں تھا اس کے پیر پھنسے ہوئے ہیں اور بیٹی کا آپریشن اگر آ ج نہیں ہوا تو اس کے بدن میں مردہ بچّے کا زہر پھیل جائے گا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ساتھیوں بہت بہت معذرت کہ رات کے سوا دو بجے کاوقت ہئے اور انشاللہ زندگی بخیر کل لکھوں گی
خاتون نے پھر کہا کہ بیٹی خیراتی ہسپتال میں ہئے ار اسپتال والے اس کے آپریشن کا خرچہ بھی ساڑھے سات ہزار روپے مانگ رہئے ہیں اور اگر خرچہ نہیں دیا تو آپریشن نہیں ہو سکا گا ،پھر انہوں نے آنسو صاف کئے اور کہنے لگیں اگر میری بیٹی بھی مر جائے گی تو میں بوڑھی جا ن اس کے تین چھوٹے بچّے کس طرح پال سکون گی ،ماں تو ماں ہوتی ہئے ،اس وقت ناجانے مجھے کیا ہوا کہ میں وہ بول رہی تھین اور میرا زہن ناجانے کہاں چلا گیا تھا کہ مجھے کیا کروں کی چپ لگ گئ تھی اور دماغ میں جیٹ جہاز کا انجن شور کر رہا تھا
وہ خاتون کہنے لگیں میری بیٹی حدیث خواں ہئے ،میرے گھر کا دروازہ امام بارگا ہ کے دروازے کے مقابل ہئے میرا گھر سامنے بنی ہوئ اما بارگاہ کی زمین کے خمس سے مولانا نے بنوایا ہئے ،،اب مین اٹھ کھڑی ہوئ اور میں نے آہستہ سے ان محترمہ سے کہا بہن اپ اللہ پر بھروسہ رکھئے اور ابھی آپ مسجد کی پچھلی دیوار کے ساتھ کھڑی ہو جائے میں کچھ توقّف کے بعد آپ تک آتی ہون میرا گھر مسجد سے ساٹھ ستّر قدم کے فاصلے پر ہئے ،،ان محترمہ کو رخصت کر کے مین کمرے میں آئ جہاں انوار صاحب موجود تھے اور میں ان کے سامنے اپنے اس وقت اکلوتے پندرہ سو روپئے نکال نہیں سکتی تھی ورنہ سوال جواب کے درمیان مسائل کھڑے ہو جاتے چنانچہ الماری کھول کر ایک دو کپڑے ہینگر پر ٹھیک کرنے کے بہانے پندرہ سو نکال کر اپنے دوپٹّے میں چھپا لئے اور پھر کمرے سے چلی گئ پھر زرا سا توقّف کر کے آنگن سے انہیں آواز دے کر کہا کہ انوار صاحب میں زرا باہر جارہی ہوں،ابھی اتی ہوں اور پھر گیٹ کھول باہر نکل کر سیدھی ان خاتون کے پاس چلی گئ
خاتون سراپا انتظار ملیں ،میں نے وہ پندرہ سو روپئے ان کے ہاتھ پر رکھے اور ان کو لے کر جلدی جلدی ان تین گھروں میں گئ جہاں خالی ہاتھ واپس آنے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا تین گھروں میں کہا کہ یہ میری بہن ہیں ،وہاں سے مذید بارہ سو روپئے مل گئے ابھی آٹھ سو کی کمی باقی تھی اور مجھے اپنے اوپر بہت غصّہ بھی آرہا تھا کہ میں اتنے کڑے وقتوں کے لئے سونے کا کچھ زیور کیو ن نہیں رکھتی جو کسی مجبور کے کام آسکے بہر حال ابھی تو آٹھ سو روپئے کا سوال تھا اللہ نے پھر ایک اور گھر کا پتا زہن میں ڈالا اور میں نے ان سے کہا اس گھر میں جاکر میرا نام لے کر کہئے میں نے بھیجا ہئے آٹھ سو کا سوال ہئے جو ابھی ابھی زائرہ بجّو کو چاہئے ،ان خاتون کو مولا کے حوالے کرکے گھر آگئ تا کہ انوار صاحب میری سرگرمیوں سے آگاہ نا ہو جائیں ورنہ وہ تو صاف صاف کہ دیتے کہ یہ سارا فراڈ ہئے اور اسی طرح کراچی کے لو گوں کو لوٹا جارہا ہئے ،گھر آکر مین نے ان محترمہ کی مشکلات حل ہونے کی دعاء کی ،شام کو حسب معمول خواتین سے ملاقات ہوئ تو محلّے میں خبر گردش کر رہی تھی کہ ایک عورت بجّو سے اتنی رقم دھوکے سے لے گئ ،میں نے سب سے کہا بس اب خاموش ہو جاؤ اللہ کے نام پر کئے گئے کاموں میں دھوکہ نہیں ہوتا ہئے،بس چند روز کاوقت گزر گیا اور مجھے شارع فیصل جانے کا اتّفاق ہوا تو میں نے کہا جب یہاں آنا ہوا تو زرا ان خاتو ن کی بیٹی کی بھی خیرخبر لے لوں ،جب میں ان کے گھر پہنچی تو دروازۃ بند ملا لیکن امام بارگا ہ کے ہی سامنے دو حضرات کھڑے ملے انہون بتایا کہ وہ ابھی ابھی بیٹی کے ہی گھر گئ ہیں اور انہوں نے یہ بھی بتا یا کہ ان کی بیٹی آپریشن کے بعد ماشاللہ حیات ہئے اور اپنی سسرال آگئ ہئے ،اور وہ محترمہ اسی کے پاس اکثر چلی جاتی ہیں ،اس وقت میری آنکھوں میں خود بخود شکرانے کےآنسو آگئے اور مجھے اپنے اللہ پر بے حد پیار آیا جس نے مجھے اس اعتبار کے قابل جانا کہ مین جس طرح بھی ممکن ہو گا آپریشن کی رقم اکھٹّی کر کے انہیں دے سکوں گی
زرا سی تصحیح ،گھاٹی دو پہاڑوں کے درمیان کی خا لی اس جگہ کو کہتے ہیں جو پہاڑون کی بلندی سے لے کر نیچے زمین تک ایک چوڑی دراڑ کی شکل میں چلی جاتی ہئے اور انسان کو منزل مقصود تک جانے لئے اس چوڑی دراڑ کو اس طرح عبور کرنا ہوتا ہئے کہ اس کے قدم ہرگز نا لڑکھڑائیں ورنہ تو وہ اسی گھاٹی کی خوراک بن جاتا ہئے
نمبر دو کسی کے ساتھ کئے ھوئے حسن سلوک کا پر چار نہیں کرنا چاہئے میں نے یہ قصّہ محض ان آزمائشی گھڑیوں کے کے لئے تحریر کیا ہئے جن کا ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا ہئے
اگر کسی ناقد کو میری تحریر میں تنقید کا کوئ پہلو نظرآئے تو میرے سر آنکھوں پر میں اپنی اصلاح کی پوری کوشش کرونگی
میری مسیحا بیٹی نے بہت ہی فکر انگیز بلاگ تحیریر کیا ہئے مجھے فرصت ملی تو اور بھی کچھ لکھنے کی کو شش کرونگی
اللہ تبارک و تعالٰی آپ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھّے آمین الٰہی آمین
خدا جانے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ جیسے کچھ لکھنے بیٹھتی ہوں کو فون کال کوئی مریض ، کچھ نہیں تو کوئی گھر کا ہی کام ایسا نکل آتا ہے کہ مجھے اٹھنا پڑھ جاتا ہے ۔ اللہ مجھے نظر بد سے محفوظ رکھے ۔کی دعاؤں کے ساتھ لکھ رہی ہوں ۔۔۔ سچی اگر منظور بھائی مجھے بلاگ سے غیر حاظر دیکھ لیتے تو میری آج “ کلاس“ پکی تھی ۔ مجھے منظور بھائی کی ڈانٹ بہت اچھی لگتی ہے کیونکہ وہ ہمارے بڑے ہیں اور وہ ہمیں غلط کیوں ڈانٹیں گے ۔ بھلا یہی دیکھئے بلاگ لگا کر ۔۔۔۔۔۔ یقین کیجئے ایک گھنٹہ کے بعد یہ جملہ پورا لکھنے لگی ہوں ۔۔ ہوسپٹل میں ہوں سو سٹاف کو مجھھ سے کسی مریض کی بابت کام تھا ۔۔ ۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی ۔۔ کیا کہہ رہی تھی ابھی بتاتی ہوں ۔۔ فون بج رہا ہے ۔۔۔ یا اللہ
آچھی بجو اسلام علیکم ، بہت اچھا لگا آپ کا تبصرہ پڑھا اور خوشی ھوئ کہ آپ کے دل میں اللہ تعالی نے وہ یقین بھردیا کہ آپ ایک بے بس ولاچار خاتون کی مدد کرنے اٹھہ کھڑی ھويئں ۔ یہ آپکی شخصیت کا بہت خوبصورت پہلو ھے ، میرا دل کہتا ھے کہ اللہ پاک انسانوں کو اسی طرح آزماتا ھے کھبی کسی ضرورت مند کو آپکے دروازے پر بھیج کر کبھی بشر کی شکل میں کھبی ملائک کی صورت ،
بس اسی لمحے انسان کی قسمت بدلتی ھے۔ بجو آپکی زندگی میں بھی ایسا بارھا ھوا ھوگا ، آپ کی زندگی میں بھی کوئ بڑا انقلاب آیا ھوگا جبھی تو آپ اپنے آپ کو انقلابی خاتون کہتیں ھیں ۔اللہ پاک آپ جیسے خوش تہذیب انسانوں کو سلامت رکھے ، آمین ثم آمین
میری بہت پیاری بہن اور عزیز تر دوست مسیحاء ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو۔ میری شہزادی تمھاری مصروفیات تو ایسی ھیں کہ انسان اپنا نام بھول جاۓ مگر افرین ھے میری دوست تم پر کہ یورپ میں زبان اردو کو زندہ وپايئندہ رکھنے کا کام کر رھی ھو، تم جیسے لوگ نایاب نیہن تو کم یاب ضرور ھیں ،ھم سب ھمہ تن گوش ھیں ۔تمھاری دوا اور دعا اور توجہ سے اتنے سارے بیمار ٹھیک ھوجاتے ھیں ، اللہ پاک تم کو ھر لمحہ ساعت بد سے بری نظر سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین
اپنی زندگی مزے سے گذر رھی ھے ، اللہ پاک نے ھر اندیشے اور فکر سے آزاد کردیا ھے ، اب فکر ذاتی کے بجاۓ فکر فردا کا جنون طاری ھے ۔ اللہ کی مخلوق سے پیار کرنے کی خواھش ساری خوشیوں پر بھاری ھے ،،ورنہ دریا ۓ دل کا پانی تو کھاری ھے ،
آج جمعہ ھے اور ھماری آفس میں باری ھے ، اور اسی بات پہ آنکھوں سے لہو جاری ھے
اب فکر ذاتی کے بجاۓ فکر فردا کا جنون طاری ھے
اللہ کی مخلوق سے پیار کرنے کی خواھش ساری خوشیوں پر بھاری ہے
ورنہ دریا ۓ دل کا پانی تو کھاری ھے
آج جمعہ ھے اور ھماری آفس میں باری ھے
، اور اسی بات پہ آنکھوں سے لہو جاری ھے
آج جمعہ ھے اور ھماری آفس میں باری ھے
اور اسی بات پہ آنکھوں سے لہو جاری ہے
او ہو میری نازک سی بہن پر اتنا ظلم
کر دیتی ہوں سب کے وارنٹ جاری
زائرہ بجو آپ کی کہانی بہت بہت اچھی تھی ۔ بہتہی سبق آموز اور معلوماتی بھی ۔ سلامت رہئے
بھئی مجھے تو آصف تمہاری بات بہت بہت پیاری لگی ۔ کتنی سادگی اور معصومیت سے کتنی اچھی بات ہمیں سمجھا دی ۔ سلامت رہئے
سلامت بخیر ساتھیون ،
اس بلاگ کی تحریر کل پر ادھار رہی انشاللہ پہلی فرصت پر یہیں حاضر ہوںگی ابھی اجازت کے ساتھ اللہ حافظ
تم سب کے لئے دل و جانسے دعاگو
زائرہ بجّو
سیانے کہتے ہیں آج کا کام کل پر مت ٹالو ،وہی ہوا میری کل آکے نا دی
آپی ڈھیروں دعائیں
سداسکھی رہیں ۔۔
اچھّے مہربان و محترم ساتھیوں بیٹوں بیٹیوں ،اللہ تعالٰی تم سب کو سلامت رکھّے اور غم حسین کے سوائے کبھی کوئ غم نا دے آمین ،
بیٹی نگہت نسیم جب بھی تم کو محسوس ہو کہ لکھتے ہوئے قلم رک رہا ہئے تو نادعلی پڑھنا شروع کردو قلم ایک دم ہی رواں ہو جائے گا انشاللہ ،
اللہ تعالٰی تم کو سارے جہان کی نعمتوں سے بہرہ مند کرے ،اور نظر بد سے محفوظ رکھّے آمین
ڈئر شاہین حیدر،سلامت رہو اور دنیا و عقبٰی کی بیش بہا نعمتوں سے فیض اٹھاؤ ،آمین ،میں خود بھی نگۃت بیٹی کو بہت دعائیں دیتی ہوں اور اس کا قلم رب کی عطا ہئے ،کیونکہ یہ اپنے مریضوں کی بے لوث مھیحا ہئے ،اللہ پاک اس کے سر پر پنجتن پاک کا سائہ رکھّے آمین
،بے شک وہ بہت بڑا اور عظیم الشّان ہئے اور وہاں سے ہم کو آزماتا ہئے جہا ں کا تصّور بھی ہمارے گمان میں نہیں ہوسکتا ہئے ،بس یہی تو وہ گھڑیا ں ہوتیں ہیں جہاں پر ہمین اپنے اوپر یہ یقین کرنا ہوتا ہئے کہ ہم جو کچھ کرنے جارہئے ہیں وہ اس کے حکم کے تحت کرنے جارہئے ہیں ،
میرے لئے یہ واقعہ ایک گھاٹی کا ہی تھا جس کو پھلانگنے کے لئے اللہ کریم و رحیم نے مجھ گناہ گار و خطا کار کو چنا تھا ،
پھر اس لڑکی کے جی جانے کی خبر سن کر میں نے اپنے بہترین مالک و خالق سے دعاء کی کہ اگر میری یہ نیکی اس نے پسند کی ہئے تو اس کا صلہ میرے والدین مرحومین کو اس جہان میں عطا کر آمین ،