اسکو نوحہ سمجھ کے پڑھ لیجے

نہ جانے کب یہ شعر کہا تھا جو آج یاد آ گیا۔۔۔۔
اس کو نوحہ سمجھ کے پڑھ لیجئے
خط میں جو حال میں نے لکھا ہے
lady-gaga-tea-cup

13 thoughts on “اسکو نوحہ سمجھ کے پڑھ لیجے”

  1. السلام علیکم
    جنابِ محترم ہمدانی صاحب ، اہل مغرب تو اپنے اہل فن ، شعراء اور ادیبوں کو بھی سونے میں تولتے ہیں ، جبکہ ہمارے ہاں عطاء اللہ عیسی خیلوی کی نئی البم آج بھی پچیس سے پچاس روپے میں مل جاتی ہے ، اور مجھے اس میں کوئی تقابل بھی نظر نہیں آتا ۔ مغرب اور ہمارے معاشروں میں کچھ بنیادی فرق ہیں ، جو شاید آئیندہ کئی صدیوں تک باہم نہ مل سکیں ، پاکستانی معاشرے میں آج بھی عام گھروں فلم بینی معیوب سمجھی جاتی ہے ، سنیما گھر یا تو شاپنگ سینٹرز میں تبدیل ہو گئے یا پھر ویران پڑے ہیں ، حالانکہ کوشش کرنے والوں نے ہر ہر کوشش کر دیکھی ہے ، غیر ملکی فلمیں تک کی نمائش کرائی گئی ، مگر ایک مخصوص طبقے کے سوا کوئی بھی سینما گھروں تک نہ آیا ، کیبلز کے زریعے غیر ملکی چینلز کو گھروں تک پہنچایا گیا اور پھر اپنے چینلز کو بھی ان جیسا کیا گیا مگر لوگ آج بھی ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے والے صوتی ڈراموں اور پی ٹی وی پر دکھانے جانے والے چند سال پہلے تک کے ڈراموں کے سحر سے نہ نکل سکے ، آج ہر ٹی وی چینل پر سوپ سیریز کے بھر مار ہے مگر ایک مخصوص حد تک گھریلوں خواتین کے علاوہ انہیں کوئی نہیں دیکھتا ، حالات ِ حاضرہ کے پروگرامز بھی غیر ملکی طرز پر حجان خیز بنائے گئے کچھ عرصہ تو لوگوں نے انہیں دیکھا مگر اب وہ بھی اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ اہل علم و ہنر کے نا قدرے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. ویسے ہمدانی صاحب ! آپ کا شعر بہت خوبصورت ہے ۔ اور موقع بر محل بھی ہے ۔
    آصف احمد بھٹی

  3. اہ آہ آہ آہ آپکی بات سو فیصد سچ ھے ۔۔اس کو نوحہ سمجھ کے پڑھ لیجئے، ھم مجرم وزیراعظم اور ایسا یونیک صدر جیسے ساری دنیا جسے چورکہہ کرمخاطب کرتی ھے والی بے عمل قوم ھیں ، ھمارے رونے کو یہی جملے کافی ھیں ، علم کو ھم سے دور رکھنے کے کیسے کیسے جتن کیے جارھے ھیں ، ایک دروازے سے علم نکل رھا ھے اور جہالت اور ساری معاشرتی خرابیاں دوسرے باب غلاظت سے ھمارے معاشرے میں داخل ھورھی ھیں ،
    ھم صاحب کتاب امت ھیں کتاب ھماری پہچآن ھونی چاھیے تھی مگر صدحیف لوگ تو گفٹ میں دی جانے والی کتاب بھی نیہن پڑھتے اور اس کا ّثبوت پاکستان میں ردی فروخت کرنے والوں کا ھائ اسٹنڈر ھے ،
    جان کی امان پاوں تو عرض کروں کہ لیڈی گاگا کا ٹی کپ بھی وھی لوگ خرید رھے ھیں جو کتابوں سے محبت کرتے ھیں ادیبوں کی عزت کرتے ھیں ، ھیری پورٹر کی ادیبہ اور الکیمسٹ لکھنے والوں کی دولت بادشاھوں سے زیادہ ھوتی ھے خوش حالی علم کے ذریعے ھی آتی ھے
    کاش ھمارے ادیبوں کو بھی ھمارے معاشرے میں کوئ عزت و رفعت ملی ھوتی

  4. اسی لیئے کبھی کبھی انسان ہونے کے ناطے جب حوادث زمانہ سے تھک جاتا ہوں تو کہہ بھی دیتا ہوں کہ والد مرحوم نے قلم کی امانت کا بوجھ مجھ پر لاد کر شاید اچھا نہیں کیا.اگر ویلڈنگ ہی سکھا دیتے تو اچھا ہوتا……………جرمنی میں کبھی جانا ہو تو انکے شاعر گوئٹے کا گھر ذرا فرینکفرٹ میں دیکھئے جیسے محفوظ کیا گیا ہے.اسکے جوتوں کے تسمے تک محفوظ ہیں اور برسوں سے روزانہ ہزاروں سیاح اور سکولوں کے بچے یہاں آتے ہیں اور اس گھر کی خوشبو ساتھ لے کر جاتے ہیں.ایک ہم ہیں کہ شاعروں ادیبوں کو تو چھوڑیں اللہ کے گھر کو محفوظ نہیں رکھ سکے.پہلے لوگ تحفظ کے لیئے مسجد میں پناہ لیتے تھے اب مسجد بھی محفوظ نہیں.یہ سب ام الکتاب اور کتاب سے دوری کا نتیجہ ہے

  5. بہر حال ہمیں گلیمر اور ادب میں فرق تو رکھنا ہی ہو گا ۔

  6. علم کی اہمیت و افادیت

    علم کی اہمیت،افادیت،اس کی نافعیت،معنویت اور ضرورت ایک طے شدہ حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے،علم نورہے،علم روشنی ہے،علم انسان کو عقل سکھاتاہے،علم ہر شے میں شعورولیاقت کوجنم دیتاہے۔علم نعمت وبرکت کاخزینہ ہے اورہرطرح کے عروج کا زینہ ہے، جس نے اس کی طرف کماحقہ توجہ دی وہ ترقی کے بام عروج پرفائز ہوااورحکمرانی کافریضہ انجام دیا،جس نے غفلت برتی،لاپرواہی اورعدم دلچسپی کا ثبوت دیا وہ پستی کے غارمیں جا گرا، تاریکی میں زندگی گذارنااس کا مقدر پایا،دنیا نے اس سے آنکھیںپھیرلیں اوروہ اجنبی بن گیا۔
    خالق کائنات نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تو خلافت کے ساتھ ساتھ علم وحکمت بھی عطاکی اور علم کی بدولت ہی انسانوں کو دیگرمخلوقات پرفضیلت حاصل ہوئی اور ہرفرشتے بھی سجدہ ریز ہوئے،علم وقلم کی انتہاقدرومنزلت ہی تھی کہ ربِ قدیر نے رسول گرامی وقار ﷺپرسب سے پہلے جو وحی نازل کی اس کی ابتدا اقرأ سے کی اور اہل علم کی قدروقیمت،مقام ومنزلت کوکچھ اس طرح سے واضح اورنمایاںکیا۔کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابرہو سکتے ہیں؟
    مزیدیہ کہ رب علیم وخبیرنے محسنِ آدمیت اورمعلمِ انسانیت ﷺکو حکم دیا کہ آپؐ علم میں زیادتی اوراضافہ کے لئے دعاء کریں اور رسول خدا ﷺ نے معمول بنا لیاکہ وہ صبح جب نیند سے بیدارہوتے تو دعاء مانگتے: اے خدا! علم نافع،رزق طیب اورعمل مقبول عطا فرما۔تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سے قبل علم کی کوئی خاص قدروقیمت نہیں تھی، جب پیغمبرِاسلام ہادی عالم معلم انسانیت تشریف لائے توان کے وجودمسعود نے مسلمانوں کے اندرجستجوئے علم وفن اورتلاش شعوروآگہی کا جذبہ بیکراں پیداکردیااورعلم کی ایسی بادِبہارچلی جس سے جہالت کی تاریکی دورہوئی اوردنیاعلم کی روشنی سے جگمگااٹھی،پوراعالمِ انسانیت علم و حکمت اورصنعت وحرفت کے زریں اصولوںسے آگاہ ہوا، ہرطرف علم کا بول بالاہوااورپوراکرّئہ ارض منورہوا،دنیائے علم وفن،طب وجرّاحیت،طبعیات،کیمیات،ریاضیات وغیرہ میں مسلمانوں نے قیادت کی جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ خلفائے عباسیہ نے علوم و فنون کو ان کے خزانوں اور معدنوں سے نکال کر انھیںحدکمال تک پہنچا دیا۔ اس کے لئے سلاطین روم سے تعلقات پیدا کئے،اوربڑے بڑے ہدایا و تحائف بھیج کر اس کے بدلہ میں فلسفہ کی کتابیں طلب کیں،شاہان روم کے پاس افلاطون، ارسطاطالیس، بقراط، جالینوس، اقلیدس اور بطلیموس وغیرہ کی کتابیں موجود تھیں ماہر مترجمین نے خلفاء کی زیرنگرانی ان کتابوں کا ترجمہ کیا اورلوگوں کو ان کتابوں کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق دلایا گیاجس کانتیجہ یہ ہوا کہ ہرچہارجانب علم کا بازارگرم ہو گیااورجب علماء اورصاحبِ وجاہت ،لوگوں نے دیکھا کہ صاحبانِ علم وفن کو خلفاء اپنامقرب خاص بنا کر ان کوعظیم مراتب پرفائز کرتے ہیں توان میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا ذوق پیداہو گیااس قدردانی اورعلماء کی مسابقت فی العلم سے اس دورمیںماہرین علم وفن کی ایک ایسی جماعت پیداہوگئی جس نے اپنے بعدوالوں کے لئے ایساراستہ کھول دیاکہ اس کی روشنی میں آئین واصول وضع کئے گئے جبکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ عقلی علوم ایک مصیبت سمجھے جاتے تھے اور یہاں سے علم وفن کاچرچااٹھ چکاتھاچنانچہ قیصرروم کے پاس جب خلیفہ مامون عباسی کاخط پہنچااوراس نے کتابوں کی تلاش وجستجوکی توایک خانقاہ نشین راہب نے بتایا کہ فلاں مقام پر ایک مقفل مکان ہے جس میں قسطنطین نے تمام یونانی کتابیں بندکرادی تھیںاس وقت سے جوبادشاہ ہوتاہے وہ اس پرایک قفل کااضافہ کرتاہے قیصر نے رعیان سلطنت سے مشورہ کیا توسب نے کھولنے کامشورہ دیا چنانچہ مقفل خزانہ کھولا گیااوراس میںبے شماریونانی کتابیں برآمدہوئیں اوروہ سب مسلمانوں کے ملک میں روانہ کردی گئیں مامون نے ان سب کا ترجمہ کرایا جوتاریخ کااہم باب ہے۔
    لیکن آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔اوریہ ا نتہائی تعجب خیزاورحیرت انگیزحقیقت ہے کہ جوقوم ابتداہی سے علم وقلم کی طاقت وقوت اورعرفان ومعرفت کی معنویت سے پوری طرح سے واقف تھی، جوارض وسمائ،بحروبر،نباتات وحیوانات کی تخلیق کی بدولت مقام بلند پر فائز تھی اوردنیائے علم وعرفان کے میدان میں جس کی امامت تسلیم کی جا چکی تھی،آج وہی قوم تعلیم وتعلم سے دور ہے، بصارت وبصیرت سے دور ہے، جہالت و ناخواندگی اس کی پہچان ہے، غربت وافلاس اس کا مقدرہے،شکست خوردگی اورذلت وخواری کی وہ شکارہے،مایوسی،ناامیدی اورتاریکی کے ماحول میں زندگی گذارنااس کی مجبوری ہے اورپوری قوم تعلیمی ناخواندگی کے سبب پسماندگی اور زوال کی انتہاکوپہنچ گئی ہے اورحالت یہ ہے کہ جوقومیں عقل و خردسے عاری اورعلم وہنر سے بے بہرہ تھیں وہ تعلیمی میدان میں ہم سے آگے نکل کرہمیں آئینہ دکھارہی ہیں
    گوگل سرچ

  7. اسّلام علیکم معزّز ساتھیون ،

    جی ہاں صفدر بھیّا اب سے بیس برس پہلے میرے چھوٹے بیٹے نے بھی گھر واپس اکر اپنی انجینئرنگ کی ڈگری بیڈ پر پھینکتے

    ہوئے آنسوؤں سے رونے لگا تھا اور پھر بولا امّاں مجھے آپ نے مزدور کیوں نہیں بنایا جو آج میں بے روزگار ی کا شکار نا ہوتا تب میں نے اس کو امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ،اس وقت آپ کے الفاظ پڑھ کر مجھے وہی وقت بے اختیار یاد آگیا

    ایک تو ویسے ہی تعلیم کا شعبہ ہمارے ملک میں کون سا روشن تھا اس پر سے یہ جب سے یہ تعلیم دشمن حکومت آئ ہئے تب سے تو کیا ہی کہنے

    اگر آپ کی نظر سے ڈاکٹر عطا لرّحمٰن کا مضمون گزرا ہوگا تو ضرور پڑھا ہو گا اس بد بخت حکومت نے تعلیم کے شعبے پر کیسا کلہاڑا چلایا ہئے ،

    کاش کوئ صاحب علم و ہنر ہمارا سر پرست بن جائے اورعلم سے بے بہرہ اقتدار کے ان دیوانوں، اندھوں، بہروں، کانوں سے ہماری قوم کی جان چھڑائے

  8. اسلام علیکم ساتھیو
    واقعئی یہ نوحہ ہی ہے کہ ہم وہ لوگ جن کی ذندگی میں کتاب کی ہی اہمیت ہے اور ساری زندگی اسی علم کے گرد گھومتی ہے وہ علم سے بیگانہ ہو رہے ہیں ۔ یہ ہی وجھ ہے کہ لکھنے والے کے دکھ زیادہ ہیں ۔کسی سے متعلق کپ بک جاتا ہے ،پلیٹ بک جاتی ہے ،شرٹ کروڑوں میں بکتی ہے ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لیڈی کا ہو اور گا گا کا ہو تو کیا ہی بات ہے ۔
    لیکن ایک کتاب کوئی خریدنے کو تیار نہیں اور اگر تحفہ دے دی جائے تو بھی پڑھی نہیں جاتی ۔
    ایک زمانہ تھا کہ سب سے قیمتی تحفہ سمجھا جاتا تھا کتاب کا تحفہ ۔اب یہ تحفہ جتنا بے قدری کا شکار ہے اتنا شاید کبھی نہیں تھا ۔
    آج کل جتنا تکلیف میں لکھنے والا ہے اتنا شاید ہی کوئی ہو ۔کیونکہ ناقدری تکلیف پہنچاتی ہے ۔
    لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ علم کا دینا اور علم کا پھیلانا کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہے ۔ خاص کر آج کل کے دور میں ،اور جو لوگ ثابت قدم ہیں وہ ہی مجاہد ہیں ۔اور ایسے لکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو انتہائی نا مساعد حالات میں اپنی تصانیف چھپواتے بھی ہیں اور اپنا علم پھیلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔لیکن کچھ انتہائی خوبصورت ستارے غروب بھی ہو جاتے ہیں خاموشی کے ساتھ ۔
    آج کل ہر طرف گلیمر کا زور ہے ،اور اس کے پھیلانے والے علم کے پھیلانے والوں سے زیادہ طاقتور ہیں شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کتاب کا مول پانچ سو روپئے بھی اتنا زیادہ ہے کہ کوئی نہیں خریدتا ۔یہ ہماری سوچ ہے ۔
    لیکن ہم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کے سامان میں کتابیں زیادہ ہوتی ہیں بہ نسبت اور سامان کے ۔ اس وقت ہم بہت طاقت محسوس کرتے ہیں ۔
    اللہ ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائے ۔ آمین
    عالم آرا
    وینکور

  9. در بدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
    ڈگریاں جلا دینا بیلچے اٹھا لینا

  10. کسں نے پھول سے ہاتھوں میں اوزار دیئے. از : نگہت نسیم

    کسں نے پھول سے ہاتھوں میں اوزار دیئے
    کھیل ہی کھیل میں سارے جگنو مار دیئے

    کوڑا کرکٹ چُننے والے بچے نے
    حوصلے اپنے بچپن میں ہی ہار دیئے

    جدت کے اس عہد کے تحفے دیکھو تو
    غربت اور جہالت دی ، بیمار دیئے

    جنگوں میں بھی بچے جھونکے جاتے ہیں
    اس دنیا نے جنگ پہ بچے وار دیئے

    گاڑی دھونے والا بچہ میرا ہے
    کس نے اسکے ہاتھ میں یوں زنگار دیئے

    روٹی ڈھونڈتی ہے جو بچی کچرے سے
    سوچیئےاسکو کس کس نے آزار دیئے

    ان چہروں پر کیوں یہ جہالت لکھی ہے
    بچپن میں یہ خواب ہیں کس نے مار دیئے

    جرم بتاؤ آخر کو یہ کس کا ہے
    پھولوں کے بدلے میں انکو خار دیئے

    میری آنکھوں میں وہ سب بچے ہیں نسیم
    جن کو دکھوں کے ہم سب نے انبار دیئے
    نگہت نسیم
    سڈنی

  11. اسلام علیکم ساتھیو

    میری آنکھوں میں وہ سب بچے ہیں نسیم
    جن کو دکھوں کے ہم سب نے انبار دیئے

    بس یہ ہی ہم سب کا دکھ ہے بہن فگہت نسیم ۔ مِن حیث القوم ہم سب ہی زمے دار بھی ہیں اور شاید بے حس بھی ۔
    عالم آرا

  12. آصف بیٹے جیتے رہئے

    بہت اچھّا بلاگ تحریر کیا ہئے

    بس مجھے اتنا کہنا ہئے کہ ہم من حیث القوم اللہ کی مہربانی سے ناقدرے نہیں ہیں وہ بد بخت بے علم ،اور علم سے بے بہرہ ہیں جو ا ج ہم پر مسلّط ہیں ،اگر ہم اور آپ آج اہل علم و ہنر سے بیگانہ اور ان کی ناقدر شناسی کے مجرم ہوتے تو یہ جو پوری دنیا مین ہماری قوم کے آپ جیسے ہنر مند اپنی صلاحیتوں کا جادو جگا رہئے ہیں وہ اپنے وطن کے کسی گمنام گوشے میں خاموشی کی زندگی جی رہئے ہوتے ،خدا نخواستہ

    بے شک ہم اہل علم و ہنر کو سونے اور چاندی میں نہیں تول سکتے لیکن ہم اس دولت سے بڑھ کر انہیں دعاؤں کی دولت دے سکتےہیں اوریہی ان کے لئےہماری قدر شناسی کی ایک ادنٰی سی کوشش ہو سکتی ہئے

    ۔

  13. السلام علیکم
    سیدہ صاحبہ ! یقینا آپ کی بات درست ہے اور میں اسے تسلیم کئے لیتا ہوں کہ من حیث القوم ہم لوگ علم و ادب ناقدرے نہیں ہیں ۔
    دراصل ہم میں سے اکثر دوست گلیمر اور علم و ادب میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *