میری اچھی ماں مجھ میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ آپ کی وجہ سے ہے ۔۔ ہیپی مدرز ڈے

میری اچھی ، میری پیاری ، میری دوست ، میری غمگسار ماں مجھ میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ آپ کی وجہ سے ہے اور مجھ میں جتنی بری باتیں ہیں وہ میری اپنی وجہ سے ہیں ۔ اللہ کریم سے دعا کرتی ہوں کہ آپ کا سایہ الفت و شفقت تا حیات ہمارے سروں پر قائم رہے ۔۔بے شمار سلامتی اور سکون کی دعاؤں کے ساتھ ساری ماؤں کو ہیپی مدرز ڈے ۔

ماں
مجھے یا دہے وہ دن جب میں نے تجھے خود سے الگ دیکھا تھا
خود کو تجھ سے بڑا سمجھا تھا
اپنی عقل کل سے تیری محبت کو پرکھا تھا
اپنی گڑیوں کو تجھ سے “تیری نہیں “ کہہ کر چھینا تھا
خود کھانے کی ضد میں تیرے ہاتھوں کو جھٹکا تھا
تیرا ہاتھ پکڑنے کی بجائے دیواروں کو سہارا سمجھا تھا
میرے ہاتھ میں کئی کتابیں تھیں اور تجھے علم کی پڑی تھی
کتنی آسانی سے “تجھے کچھ نہیں آتا ماں “ یہ کہہ دیا تھا
اور
تو نے بھی تو ہنس کر کہہ دیا تھا ۔۔ مجھے بھی بتاؤ نا کیا لکھا ہے ان میں
وہ تیرا میرے ساتھ دن رات کا جاگنا
مجھے ہر آفت سے محفوظ رہنے کی دعا دینا
میری دوستوں کی لمبی فہرستیں ۔۔ اور تیرا مسکرا دینا
وہ میری لغزشیں
وہ میری نافرمانیاں
وہ میری نادانیاں
سب کچھ اپنے آنچل میں چھپا کر سب سے چھپا لینا
میری آنکھوں میں تیری یادیں دعاؤں کی صورت نم ہیں
میری اچھی ماں ۔۔ سنو ۔۔
میری بیٹی اب بڑی ہو گئی ہے
میری عقل اور سمجھ سے بھی بڑی ۔۔
مجھے معاف کر دو ماں ۔۔۔ بس ایک شکوہ ہے میراتجھ سے
میں تجھ جیسی ہوتی ۔۔ یہ دعا کیوں نہیں کی تھی ۔۔۔!

ڈاکٹر نگہت نسیم

42 thoughts on “میری اچھی ماں مجھ میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ آپ کی وجہ سے ہے ۔۔ ہیپی مدرز ڈے”

  1. میری پیاری ماں ،
    اس بھری دنیا میں میرے لئے
    تیرا بھی کوئ ہمسر سا بدل ہئے
    یا کبھی ہو سکتا ہئے کہیں
    نہیں ،نہیں ،کبھی بھی نہیں
    تو ،تو رہتی ہئے میرے دل کے قریں
    تیرا بے لوث یہ رشتہ
    جس کی نسبت کو اللہ نے خود سے ہئے نسبت دی
    یہی تیری عظمت کا سب سے بڑا ہئے حوالہ
    میری پیاری ماں! تیرے لئے ہئے میری دعاء
    خدا تجھ کو دنیا وعقبیٰ کی سب نعمتیں پیہم دیتا رہئے
    اور مجھ کو توفیق کی نعمت بھی عطا کرتا رہئے
    کہ تیرے انمول رشتے کی پہچان بنوں میں
    جس قدر ہو سکےتیرے حق کو ادا کر سکوں میں
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    جیو بیٹی ،اللہ تعالٰی تمھین تمھاری سعادتوں کا بہترین انعام عطا کرے آمین
    دعاگو زائرہ بجّو

  2. میری ماں نے سب سے پہلے تو مجھے سب سے اچھی بیٹی بنایا ۔۔ پھر اچھی بہن بنایا ۔۔ پھر اس نے مجھے سنوارا کہ میں سب سے اچھی دوست بن گئی ۔۔ انیوں نے مجھے بتایا کہ ایک لڑکی کے لئے تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی کسی لڑکے کے لئے بلکہ لڑکی کو ہر سورت پڑھا لکھا ہونا چاہیئے کہ اسے ایک نسل کی تربیت کرنی ہوتی ہے ۔ انہوں نے مجھے یہ سیکھایا کہ ایک لڑکی کو تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کی دیکھ ریکھ کے ہنر بھی سیکھنے چاہیئے ۔

    انہوں نے ساری دنیا کے مخالفت کے باوجود مجھے کراچی سے فیصل آباد بھیجا کہ میں پنجاب میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی ڈگری لے سکوں ۔ انہوں نے مجھے کھانا پکانا سیکھایا ۔ سینا پرونا ۔ کرشیا ۔ اون سلایہ سے دوستی کرنی سیکھائی ۔ پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ اب مجھے اپنے اندر فیصلہ کرنے والی اور ایثار دینے والے کی صف میں شامل ہو جانا چاہئے سو انہوں نے بڑی چاہ سے میری شادی کر دی ۔۔ پھر انہوں نے سمجھایا کہ ہر عورت میں ایک ماں رہتی ہے ۔۔ اسے روپ کے کئی رنگ ہیں ، کئی مرحلے ہیں اور عورت کی سب سے کڑی منزل اور اس کا سب سے بڑاامتحان بھی ۔۔

    میری ماں نے سارے ہنر سیکھائے ۔۔ ۔۔ مجھے کامیاب عورت کے روپ میں دیکھنے کے لئے ساری سارئ رات جاگتی رہتی تھی ۔۔ وقت پر کھانا ۔۔ میری دمساز میری غمگسار ، میرے اچھے برے فیصلوں کو عزت دیتی رہی ۔ جب میں نے افسانے ، کہانیاں لکھنی شروع کی تو وہ میری پہلی استاد بھی تھیں ۔۔ میرے اندر کو روشن کرنے والی میری ماں ہی تھیں ۔۔

    میری اچھی ، پیاری ماں پر کتنی عجیب بات ہے کہ آپ نے آج تک ہر قدم پر میرا ساتھ دیا ۔۔ پر میں نے آپ کا کبھی ڈھنگ سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا ۔۔ مجھے معاف کر دیجئے میری پیاری ماں ۔۔ میری کوتاہیاں ۔۔ میری غلطیاں ۔۔ میری کج ادائیاں ۔۔ مجھے بس معاف کر دیجئے ہمیشہ کی طرح ۔۔

    آپ کی صحت و سلامتی کی بے شمار دعاؤں کے ساتھ آپ سے بس اتن اکہنا چاہتی ہوں کہ مجھ میں جو کچھ بھی اچھا ہے وہ سب آپ کی وجہ ہے ہے اور مجھ میں جو کچھ بھی برا ہے وہ میری اپنی وجہ سے ہے

    اے اللہ میری حوروں جیسی پاکیزہ اور حسین ماں کو تاحیات مجھ پر مہربان رکھنا ۔۔ الہی آمین

  3. ایک سب اچھی بات میری ماں نے مجھ میں بوئی تھی کہ کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چہایئے ۔ ان کا بویا ہوا بیج اب گھنا درخت بن گیا ہے ۔ الحمدوللہ میں نے کبھی اپنی مریض تک کو شرمندہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔۔ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بن جاتی ہوں ۔۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب کے صدقے مجھے پردہ داروں میں رکھے ۔۔الہی آمین

  4. میری ماں ہی نے مجھے آل بیت سے محبت سیکھائی ۔ میری ماں نے مجھ سے کہا بیٹی انہیں نہ ماننے سے ان عزت نہ کرنے سے ہم مسلمان ہی نہیں رہ سکتے تو کس کام کی یہ عبادتیں جو انہیں کو نہ جانا ۔۔ الحمدوللہ میرا پورا گھرانہ پنجتن پاک کا غلام ہے اور انہی کا صدقہ کھاتا ہے

  5. میری ماں نے مجھے بزرگوں اور بڑوں کی عزت سیکھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ “جھوٹ “ بھی بول رہے ہو تو انہیں نرمی سے بتانا کہ وہ “ غلط “ کہہ رہے ہیں ۔۔ انہیں جھوٹاکہنے سے انہیں بہت تکلیف ہو گی ۔۔

  6. میری ماں نے ہمیشہ اپنے کردار اپنے عمل سے سیکھایا کہ رشتوں سے محبت نہیں کی جاتی بلکہ محبتوں سے رشتے بنائے جاتے ہیں ۔ امی جی کی اپنی ساس یعنی مری بی بی جی سے محبت مثالی تھی اور ان کی وفات تک وہی ان کے ساتھ رہیں ۔ امی جی آپا کے نام سے خاندان بھر میں معروف ہیں ۔ میری چچی خالدہ جب تک حیات رہی وہ امی کی دمساز رہیں ۔ حتی کہ امی جی جب لندن آگئیں تو وہ امی جی کے بغیر اتنی اداس ہوئیں کہ بیمار پڑ گئیں اور لندن آ کر ہی امی جو دیکھ صحیح ہوئیں ۔۔ پھر دونوں نے مل کر عمرہ ادا کیا ۔۔ میری چیچی جان نے حج پر آپا کے بغیر جانے سے انکار کر دیا ۔۔ اور آپا آج بھی ان کی یا دمیں بے قرار ہو جاتی ہیں ۔۔۔

  7. میری امی جی اتنی اچھی ماں ہیں کہ انہوں میرے تین چچھا کو پھر ہم سب کو ماں بن کر پالا ۔۔ اور دنیا کی ہر مشکل کو بہادری سے سہا ۔۔ انہوں نے اپنے عمل سے وفاداری ، نبھہانے والوں میں رہنا سیکھایا ۔۔

  8. میری امی جی کو کتب بینی کا بہت شوق ہے اور یہ شوق انہوں نے ہم سب میں اس طرح ڈالا کہ وہ کتابوں پر اور کہانیوں پر ہمارے ساتھ بے لاگ تبصر کرتی ہیں اور ہمیں سمجھاتی ہیں کہ ایسا لکھو کہ سب کی سمجھ میں آئے نہ کہ کوئی کوئی سمجھے ۔۔ اس لئے قلم اللہ کی امانت ہے اس کو اس کی رحمت کی طرح سب کے لئے یکساں ہونا چاہیئے

  9. میری ماں نے سیکھایا کہ کھانا پکاتے وقت جو عورت بسم اللہ نہیں پڑتی وہ کھانے میں محبت پیدا نہیں کر سکتی ۔ سو محبت سسے کھانا پکایا کرو تاکہ اسے جو بھی کھائے وہ صرف محبت ہی کر سکے ۔ ۔۔ محبت کا راز بسماللہ میں رکھا ہے ۔ محبت میں بھی برکت کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔ آج انہی کی محنت اور محبت سے ہم سب بہن بھائی انہی کے ساتھ رہتے ہیں ۔۔ انہی کے پاس رہنے کی تمنا رکھتے ہیں

  10. میری ماں کے نزدیک ایک عورت کی تشریح یہ ہے کہ اسے سر سے پیر تک صرف محبت کی تصویر ہونا چاہئے ۔ اس سے بات کرتے ہوئے کسی کو ڈر نہ لگے ۔۔ اس کے اندر چھپا لینے کا ہنر ہونا چاہیئے ۔۔ جیسے مٹی میں یہی ہنر ہے ۔

  11. ماں اور مٹی میرا محبوب استعارہ ہے کیونکہ یہی میری جنت میری پہچان ہے ۔۔ اللہ کریم میری جنت میری پہچان کو سلامت رکھنا ۔۔ مجھے اپنی ماں ہی کی طرح احسان ماننے والوں ، پیار کرنے والوں اور ایثار کرنے والوں میں شامل رکھنا ۔۔ الہی آمین

  12. اللہ سوہنا آپ کی امی جان کو سداسلامت رکھے
    انہیں اپنی اولاد کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے
    ان دونوں جہانوں کی نعمتوں سے مالامال کرے
    آمین ثم آمین

  13. ماں اس دنیا کی تپیتی دھوپ میں سایہ دار شجر ہے۔ اللہ آپ کی ہماری اور سب کی ماوں کو صحت ،تندرستی اور دراز عمر عطا کرے ۔آمین
    ماں زندگی کا مرکز صبر و قرار ہے۔
    ماں اک چمن ہے، جس میں مساسل بہار ہے۔

    ماں لطف ہے۔سکوں ہے،شفقت ہے، پیار ہے۔
    ماں اک عظیم نحمت پروردگار ہے۔
    آپی نگہت بہت پیاری باتیں آپ

  14. ناصر دعاؤں کے لئے ممنون ہوں ۔۔ اللہ کریم اپمے حبیب پاک کے صدقے دنیا کی ساری ماؤں ک واپنے حفظو امان میں رکھے ۔الہی آمین

  15. نوشین میری چھوٹ سی بہن خوش رہو ۔۔ اپنی ماں کی خدمت گزار رہو ۔۔آمین

  16. سلام ھے اس ماں کو اور دنیا کی تمام ماوں کو جو خود تو زمانے کے سرد و گرم موسم کا سامنا ھنس کرلیتی ھیں لیکن اپنے جگر گوشوں کے لیے ٹھنڈی چھاوں کا کردار ادا کرتی ھیں۔ماں ایک خبصورت احساس بچوں کے لیے ماں کے انچل سے زیادہ محفظوظ پناہ گاہ اس دنیا میں کوی نھیں جھاں چپھکر وہ اپنے اپ کو محفظوظ سمجتا ھے کہ اس کو دینا کی کوی تکلیف چھوکر بھی نھیں گزرسکتی۔ دنیا جھاں کی تمام چاشنی لفظ ماں میں سماگی ھے۔ اس رشتے کی سچای اور معنویت سے انکار ممکن نھیں ھے۔ ماں کی محبت اس کی بے لوث چاھت، پیار اور خلوص دینا کی انمول دولت ھیں۔ اولاد کی خوشی میں خوش ھونا، ان کی ھر تکلیف کا دکھ اپنے دل پر محسوس کرنا ماں کا فطری جذبہ ھے۔ یہ ھی اس انمول تصویر کا بھی خبصورت احساس ھے جو ایک ماں اپنی بے لوث چاھت کا اظھار ھے جو وہ اپنے معذور بچے سے کرکے دیھکا ررھی ھے۔ اس عمر میں جب خود اسکو پیار اور نگھاداشت کی ضرورت ھے پر وہ اپنی بے مثال ممتا سے مجبور جو قدرت کی طرف سے صرف اور صرف ماں کو ھی نصیب ھوتی ھے۔ یہ ھی وہ واحد رشتہ ھے جس سے ھم اپنی ھر بات بلاجھجک کھیہ سکتے ھیں۔ شاید اسی محبت اور انسیت کا ثبوت ھے کہ پروردگار عالم کی محبت اور ماں کی محبت کو اپس میں تشبہ دی گی ھے۔ حدیث مبارکہ ھے کہ

    اللہ تعالی اپنے بندوں سے کسی ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ھے۔

    ماں کے رتبے اور مقام کا پتہ اس سے چلتا ھے کہ اللہ تعالی نے تخلیق کا رتبہ اور شرف اپنے بعد صرف ماں کو عطا کیا ھے اور اسکے قدموں کے تلے جنت رکھ دی ھے۔

    تاریخ اسلام ایسے عظیم قصوں اور واقعات سے بھری پڑی ھے۔
    نپولین کا قول ھے کہ ؛تم مجھے اچھی ماییں دو میں تم کو اچھی قوم دوں گا۔
    کیونکہ کسی بھی انسان کا کردار اس بات کا ثبوت ھوتا ھے کہ اس کی پرورش اور تربییت کس نھج پر ھوتی ھے۔ دنیا میں جتنے لوگوں نے عظیم کارنامے انجام دیے ھیں ان کے پس پردہ ان کی ماوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا انداز تھا۔
    ماں ھی وہ ھستی ھے جس کو رب ذولجلال نے تخلیق کا اعجاز عطا کرکے اپنی صفات سے بھرہ مند فرمایا۔ اس کا وجود محبت کا وہ بیکراں سمندر ھے کہ جس کی وسعت کا اندازہ نھیں کیا جاسکتا۔ اسکا دل اتنا وسیع ھے کہ سارے زمانے کے دکھ الام بھی سمٹ اییں تو اس کی وسعت میں فرق اتا ایک ایسا صایبان عافیت جس کی چھاوں میں کوی دکھ پریشانی ھمیں چھو نھیں سکتی۔
    اج تعلیم یافتہ مھذب معاشرے میں رھنیے والے طبقات نہ صرف اسلامی تعلیمات بھول چکے ھیں یعنی حکم خدا کی نفی کررھے ھیں بلکہ انکو نہ :ماں : کی وہ مھربایناں بھی یاد نھیں جو وہ اس وقت کرتی ھے جب انسان اپنی ایک مکھی اڑانے کا بھی متحمل ھوسکتا۔
    حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کی وفات ھوگی اور جب اپ علیہ السلام اللہ تعالی سے کلام کرنے طور پر چڑھے تو اللہ تعالی نے کھا ؛اے موسی اب تم سنبھل کر انا تمھارہ ماں کا انتقال ھوگیا ھے جب تم ھمارے پاس اتے تھے تو تمھاری ماں سجدہ میں جاکر ھم سے دعا کرتی تھی ؛اے سب جھانھوں کے رب میرے بیٹے سے کوی چوک ھوجاے تو اسے معاف کردینا.
    ثابت ھوا کہ ماں وہ عظیم ھستی ھے جس کی دعاوں کی ھم جیسے گنھگاروں کو ھی نھیں پیغبروں، انبیا اکرام، اولیا علہہ رحمہ کو بھی ضرورت ھوتی ھے۔ جس کے لبوں سے نکلی دعا بارگاہ الھی میں شرف قبولیت حاصل کرتی ھے۔
    اللہ تعالی قران میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرماتا ھے، قران میں اللہ تعالی نے بارھا والدین کی اطاعت کی تلقین فرمای ھے بلاشبہ والدین انسان کے لیے تحفہ خداوندی ھیں نعمت عظیم ھیں۔
    اگر اج کے دور کا جایزہ لیں تو دیکھ کر دکھ ھوتا ھے کہ ھم نے جنت کو اپنے ھاتھوں سے گھروں سے نکال دیا ھے۔ اگر ماں باپ بوڑھے ھوجایں تو ھم ان کو محفلوں میں لے جانے سے کترانے لگتے ھیں۔ اخر ھمارے معاشرے میں ایدھی ھوم اور اولڈ سینڑ جیسے ادارے کیوں جنم لے رھے ھیں۔ اگر ھم غور کریں تو ھماری تباھی کا اصل سبب ماں کی دعاوں سے دوری ھے۔ ماں تو وہ ھے جو ھم کو معاشرے کی پتھریلی راھوں پر چلنا سکھاتی ھے، محبت سے لبریز زشتہ ، ماں کا احترام کریں، ماں کے دست بارگاہ الھی میں جب بھی اٹھتے ھیں وہ اپنی اولاد کے لیے دعاگو ھوتی ھے اور اسکی کامیابی پر ھمشہ شاداں ھوتی ھے اور اسکی ناکامی اور تکلیف پر خود بھی اتنی ھی تکلیف محسوس کرتی ھے جسیسے اس کا بچہ محسوس کرھا ھوتا۔ یہ ھی اس تصویر کا ھم سب کو پیغام ھے جو یہ معذور انسان بھی اپنے دل میں بے شک یہ دعا کرھا ھوگا۔
    میری ماں کو سدا شاد رکھنا
    خوشیوں سے دامن انکا اباد رکھنا
    مفکریں و اھل علم ایسے گھروں کو ویرانے سے تشبہ دیتے ھیں جھاں ماں نہ ھو۔ قلبی سکون اور راحت ماں کی دعا سے حاصل ھوتا جو لوگ ان دعاوں کی دل سے قدر کرتے ھیں وھی دینا اور اخرت میں بھتیرین زندگی بسر کرتے ھیں۔اخر میں اللہ سے دعا ھے کہ ھماری ماوں کو سلامت رکھے کیونکہ ان کا سایہ عافیت ھی ھماری بھتر زندگی کے لیے مشعل راہ ھے۔
    گوگل سرچ

    اللہ پاک ھم سب کی ماوں کو سلامت رکھنا آمین ثم آمین

  17. میری اچھی ، میری پیاری ، میری دوست ، میری غمگسار ماں مجھ میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ آپ کی وجہ سے ہے اور مجھ میں جتنی بری باتیں ہیں وہ میری اپنی وجہ سے ہیں ۔ اللہ کریم سے دعا کرتی ہوں کہ آپ کا سایہ الفت و شفقت تا حیات ہمارے سروں پر قائم رہے ۔۔بے شمار سلامتی اور سکون کی دعاؤں کے ساتھ ساری ماؤں کو ہیپی مدرز ڈے ۔’

    میری جانب سے دینا کی ساری ماوں کو سلام یوم الام مبارک ھو
    عالمی آخبار کی سب سے پیاری اور خوش اخلاص وخوش نظر ماں کو میرا سلام

    میں ڈاکٹر نگہت نسیم کو اس دن کی مبارک باد دیتی ھوں اللہ پاک انکے خانوداے کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین
    ھماری بہت خوش افکار اور بہت خوش قلم دوست زرقا مفتی کو مدر ڈے کی مبارک باد اللہ پاک آپ سب کا سايئہ آپکے بچوں پر قايم رھے کہ آپ بھی ان معتبر اور خاص لوگوں میں شامل ھیں جن کے سروں پر میرے رب نے ماں جیسا خوبصورت اور قیمیتی جذیوں سے منور تاج رکھا ھے ، ڈيئر بجو آپ کو اس دن کی بہت مبارک ھو، اور اللہ پاک آپ کا سايہ تادیر آپکے بچوں کے سروں پر قا‏يم رکھے آمین ثم آمین
    اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم
    اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی عطا فرماۓ آپکی دینا کے چاند ستارے آپکے بچوں کے سروں پر آپ کا سايئہ تادیر قائم رکھے امین ثم آمین
    عابدہ مظفر سلامت رھو ، اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھو
    دلشاد نسیم سلامت رھو ، اللہ پاک تمھارے دل کو ھمشیہ شاد رکھے ، بچوں کو سلامت رکھے آمین ثم آمیں تم صحت وتندرستی کی دولت عطا فرما‎ اور اپنے بچوں کی لا تعداد خوشیاں دیکھو،آمین ثم آمین
    ساری ماوں کو عید الام مبارک ھو۔

  18. السلام علیکم
    نگہت آپی ! آپ سب لوگوں نے تو ہمارے لکھنے کے لیے کچھ چھوڑا ہی نہیں ، اللہ امی جی کا سایہ ہمیشہ آپ اور آپ کے سب بہن بھائیوں کے سر پر سلامت رکھے ۔ آمین ۔
    آصف احمد بھٹی

  19. Happy Mothers Day, Mummabear!
    I don’t think one day is enough to appreciate everything you have done, and will do, for me.. But I promise you that I’ll try to make you the happiest and the proudest that you can be, to the best of my abilities.
    You brought me into this world with your love and grace, and without you – I wouldn’t be half of what I am; you give me confidence, strength and most importantly stubbornness. We fight a lot, and sometimes we never get along or are on the same page – but you know me better than anyone else.
    You always give me and others second, third and fourth chances – even when they aren’t deserved.. You’re so forgiving, “cuddly”, and humble, this day is for you – and all the other incredible mothers out there.
    I love you Mom Nighat Nasim.

  20. sweetheart u r my darling — u r my light – u r a reason to live — mum always proud on u and love u the most . u r the best daughter , stay blessed my baby my sohni beti Amna– yours proud mom

  21. happy mothers day my dearest and sweetest appi jaan Nighat
    آپی جان! اللہ آب کی ماں کو بہت لمبی عمر دے۔آمین۔
    یہ نظم آپ کی امی کے نام ، جہنوں نے آپ کو اتنا اچھا انسان بنایا ۔اور اچھی باتیں سکھاہیں ،
    میری پیاری سی ماں
    تجھھ کو دیکھا کروں
    صبح بھی شام بھی
    پیار سے ہر گھڑی
    میری پیاری سی ماں
    تو ہے ٹھنڈی سی چھاوں
    تو ذخیرہ محبت کا انمول ہے
    تیری چاہت میں بالکل نہں جھول ہے
    ماں تو عظمت کا دریا ہےبہتا ہوا
    کتنی بھولی سی محصوم میری ہے ماں
    میری ماں کی دعایہں
    میرے ساتھھ ہیں ساہیبان کی طرح
    —————————

    and happy mothers day to all mothers

  22. نوشی سلامت رہو ، آبا درہو ، ہمیشہ خوشیوں میں رہو ۔۔ ایک ماں ہی توہے جو سانجھی ہوتی ہے ۔ تمہاری ماں میری ماں بس مائیں ہیں ۔۔ شکر خدا کا جس نے ہمیں ان کے ایثار اور قربانی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی

  23. اسلام علیکم بہت پیاری بہنوں ۔بیٹیوں ، بیٹوں
    اللہ تم سب کو سلامت رکھے ۔ہمیشہ خوشیوں کے جھولوں میں جھولو ۔ کبی کوئی گرم ہوا تمہیں چھو کر بھی نہ گزرے آمین
    میری ماں کو مجھ سے بچھٹرے سات سال ہوگئے ۔مگر وہ میرے ہر کام میں ہر سوچ میں ہر عمل میں جو اچھا ہے شامل ہے ۔برے اعمال میرے اپنے ہیں مگر ان پر پشیمان ہو کر اللہ کے حضور جھکنا مجھے میری ماں سے ملا ہے ، اور میں اپنی خامیوں کی تلاش میں بھی اپنی ماں کی تربیت ہی کی وجہ سے لگی رہتی ہوں ،کہ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ اگر خود کو ٹھیک نہ کیا تو کچھ نہ کیا ۔
    میں نے اپنی ماں سے صبر کرنا سیکھا وہ اتنی صابر تھیں کہ تکلیف میں کبھی کراہتی بھی نہ تھیں کی کوئی پریشان نہ ہو ۔وہ انتہائی در گزر کرنے والی تھیں ۔ کبھی کسی سے شکوہ نہیں کرتی تھیں ۔اپنی اولاد سے بھی نہیں ۔
    میری ماں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کسی کا برا نہیں چاہتی تھیں اور نہ کبھی کسی کو کوستی تھیں ۔ مجھے بھی کوسنا اچھا نہیں لگتا ۔ میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ میں کبھی بھی کسی کے لئے برا نہ سوچوں ۔
    وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ دل بڑا رکھو تو تمہارے اندر ایسی روشنی پیدا ہوگی جو خود تمہیں نکھار دے گی ۔میری ماں صرف گھر میں پڑھی ہوتھیں لیکن اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ وہ ایسی تعلیم کا خزانہ تھیں جنہوں نے اپنی اولاد کو دین و دنیا دونوں کی طرف اس طرح راغب رکھا کہ آج ہم اپنی خامیوں پر نظر رکھنے کے قابل ہیں ۔جو اللہ کا کرم اور فضل ہے ۔
    میں جب اپنی ماں کو بخشتی ہوں تو اس مالک کا شکر بھی ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے ایسی ماں عطا کی تھی جو مجھے بھی ایک اچھی ماں بننے کی ترغیب دے گئی ۔ میری دعا ہے کہ میں اپنے ماں باپ کے لئے صدقئہ جاریہ بن جاؤں اور میرے بچے میرے لئے ۔
    میرا سلام

  24. میرا سلام تمام ماؤں کے لئے اور دعائیں ان ماؤں کے لئے جو اب اپنے بچوں کو پروان چڑھا رہی ہیں کہ اللہ ان سب کی مدد فرمائے اور انہیں آسانیاں فراہم کرے آمین

    پیاری بہن شاھین رضوی اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے جگ جگ جئیو ۔
    پیاری بہن نگہت اللہ سب ماؤں کو سرخرو کرے اور وہ اپنی اولاد کی خوشیاں مناتی رہیں ۔خوش رہیں صحت مند رہیں ۔آمین
    قابلِ فخر ہے وہ اولاد جو اپنے والدین کا احترام کرتی ہے ۔اللہ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین
    عالم آرا

  25. پروردگار ماں کی محبت کی ہے دلیل
    اور ماں ہے خود خلوص کی ایثار کی فصیل
    سینے پہ کائنات کے احساس کی ہے جھیل
    عادل خدا کی ذات تو یہ ماں بھی ہے عدیل
    اس ماں سے بڑھ کے کون ہے بالا بتایئے
    اس ماں سے بڑھ کے چاہنے والا بتایئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الفت ہے ماں کی الفتِ خالق کی جستجو
    اسکا مزاج صرف محبت کی گفتگو
    انسانیت کی نسل کی ماں قوتِ نمو
    اولاد صرف ماں کی دعا سے ہے سرخرو
    موضوع ملا ہے مادرِ حسنین سے مجھے
    عزت ملی ہے خالقِ کونین سے مجھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خلاقِ دو جہان ہو احسانِ معرفت
    ہر بیت مرثیے کی ہو بس شانِ معرفت
    ہر ایک بند جیسے دبستانِ معرفت
    خود مرثیے کا لکھنا ہے عرفانِ معرفت
    اس ماں کے صدقے اپنی دعائیں قبول ہیں
    یہ چاند تارے ماں کے ہی قدموں کی دھول ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماں سوچیئے تو زینت ہستی کا ناز ہے
    تفسیرِ عشقِ حق ہے محبت کا راز ہے
    اولاد کے لیئے دلِ مادر گداز ہے
    سچ پوچھیئے تو صبحِ ازل کی نماز ہے
    صحرا کی دھوپ میں یہی چھاؤں کا نام ہے
    اللہ کے نبی کی دعاؤں کا نام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماں پر ہر ایک عہدِ محبت تمام ہے
    قدموں پہ ماں کے دنیا کی عزت تمام ہے
    آغوشِ ماں میں لزتِ راحت تمام ہے
    پاؤں کے نیچے اس کے ہی جنت تمام ہے
    ماں آیتِ وفا ہے تو تفسیرِ صبر ہے
    برسے دکھوں کی دھوپ میں جو ایسا ابر ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کی رحمتوں کا یہ ماں اختصار ہے
    سچ تو یہ ہے کہ محورِ صبروقرار ہے
    جس پر خزاں نہ آئے یہ ایسی بہار ہے
    جنت تو ماں کے قدموں کا اک افتخار ہے
    رشتہ بھی ماں سے ارفع و اعلیٰ نہیں کوئی
    اس کی نظر سے بڑھ کے اُجالا نہیں کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماں کا مقام پوچھیئے پروردگار سے
    پیار اسکا منسلک ہوا اللہ کے پیار سے
    انسان معتبر ہے اسی اعتبار سے
    اولاد کو بچاتی ہے ہر انتشار سے
    بے نور آنکھ کو بھی یہ ماں روشنائی دے
    سجدے میں ہو جو ماں تو مُصلہ دکھائی دے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ساری محبتوں کی ہوئی ماں سے ابتدا
    بے شک ہے ماں خدا کی محبت کا سلسلہ
    معراج ماں کی ذہنِ بشر سے ہے ماورا
    یہ مرثیہ ہے مادرِ حسنین کی عطا
    یہ ماں فلک مقام،محبت نشان ہے
    یہ سورئہ نسا بھی تو ماں ہی کی شان ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر ایک کامیابی کا ساماں ہے ماں کا نام
    انوارِ عرش و فرش میںتاباں ہے ماں کا نام
    آلِ نبی کے عشق میں میزاں ہے ماں کا نام
    ناموں کی انجمن میں نمایاں ہے ماں کا نام
    ماں کے حضور عرش بھی سر خم کیئے ہوئے
    اک دل میں کتنے بحرِ محبت لیئے ہوئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    از سر تا پا یہ ماں ہے محبت میں فیضِ عام
    قندیلِ حُسنِ ذوق ہے ایثار کی امام
    تکمیلِ نسلِ آدمیت ہے اسی کا نام
    قائم اسی کے خُلق سے اخلاق کا نظام
    مرکز عقیدتوں کا عقیدت شناس ہے
    دنیا میں بیٹیوں کی فقط ماں پہ آس ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پوشیدہ ماں کے لفظ میں ہے ساری کائنات
    اولاد پر ہے سایہ کُناں صرف ماں کی ذات
    شرمندہ اس کے سامنے ہے لُطفِ شش جہات
    ماں جوہرِ حیات ہے ماں گوہرِ حیات
    اللہ کی بارگاہ میں اس کی دُعا قبول
    طالب رہے ہیں ماں کی دُعاؤں کے سب رسول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلی کریم ذات خدائے علیم ہے
    پھر اُس کے بعد سب سے بڑی ماں کریم ہے
    یہ ماں دکھوں کی دھوپ میں بادِ نسیم ہے
    ماں میں بھی دیکھو حرفِ محبت کا میم ہے
    انساں کی شخصیت کو نکھارے ہے ماں کی ذات
    بچوں پہ اپنے سُکھ سبھی وارے ہے ماں کی ذات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غم کا پہاڑ موت ہے ماں کی خدا گواہ
    یہ جو نہیں تو دن بھی ہیں جیسے شبِ سیاہ
    دامن میں اس کے ملتی ہے آفات سے پناہ
    خواہش کو ہم بہشت کی کہتے ہیں ماں کی چاہ
    اولادگر ہو دُکھ میں تو جل جائے ماں کا دل
    بچوں کے غم میں اشکوں میں ڈھل جائے ماں کا دل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر بچہ لفظ پہلا جو کہتا ہے وہ ہے ماں
    پھر عمر بھر کو ملتی ہے اس لفظ میں اماں
    کتنی کڑی ہو دھوپ مگر ماں ہے سائباں
    بچے کا پیار ماں کی محبت کا امتحاں
    پیار اس کا ایک لمحے کا صدیوں کا پیار ہے
    لاریب ماں ہی رحمتِ پروردگار ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماں درس گاہِ فکر بنائے شعور ہے
    ماں کی کنیز جنتِ ماویٰ کی حور ہے
    ہر جزبۂ خلوص کا ماں میں ظہور ہے
    یہ نورِ حُسن بھی ہے یہی حُسنِ نور ہے
    اپنی مثال آپ ہے یہ شش جہات میں
    ماں کی کوئی مثیل نہیں کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رحمت خدا کی عظمتِ نسواں ہے ماں کا نام
    افسانۂ حیات کا عنواں ہے ماں کا نام
    دولت وفا کی عزتِ انساں ہے ماں کا نام
    بے شک خدائے پاک کا احساں ہے ماں کا نام
    لفظوں سے جس کے آتی ہے خوشبو وہ پھول ہے
    معراج ساری ماؤں کی بنتِ رسول ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بے مثل ایک تحفۂ ربِ رحیم ہے
    جیسے خدا عظیم ہے ماں بھی عظیم ہے
    احساں خدائے پاک کا لطفِ عمیم ہے
    شدت کی لُو میں ماں ہی تو بادِ نسیم ہے
    کی ہے تلاش ہم نے جہاں میں کہاں کہاں
    ہے فاطمہ سی دوسری دنیا میں ماں کہاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دریائے علم اجرِ رسالت ہیں فاطمہ
    قرآن اختصار، فصاحت ہیں فاطمہ
    محرومِ عدل، روحِ عدالت ہیں فاطمہ
    اللہ کے نبی کی محبت ہیں فاطمہ
    رازِ حیات بنتِ نبی کی حیات میں
    ماں ایسی ہم نے دیکھی نہیں کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بے شک امامِ صبر و قناعت ہیں فاطمہ
    ہاں معدنِ متاعِ امامت ہیں فاطمہ
    صلیٰ علیٰ نبی کی مودت ہیں فاطمہ
    اطہر مزاج، شانِ طہارت ہیں فاطمہ
    اس در سے بھیک مانگی ہے خیر جمال نے
    پائی ہے پر ورش یاں محمد کی آل نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مریم سے جو سوا ہے فضیلت انہی کی ہے
    کھائی قسم خُدا نے جو عصمت انہی کی ہے
    یہ کربلا میں ساری ریاضت انہی کی ہے
    اور روزِ حشر سچ ہے شفاعت انہی کی ہے
    حق کا وہی شعار جو ان کا شعار ہے
    ان کی رضا مشیعتِ پروردگار ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارے ہیں جس کے بارہ وہ قرآں ہیں فاطمہ
    ہر آیۂ یقین کا عنواں ہیں فاطمہ
    بحرِ حیا و قلزمِ عرفاں ہیں فاطمہ
    شانِ نبی کی نظموں کا دیواں ہیں فاطمہ
    یہ رحمتِ خُدا کی مدلل دلیل ہیں
    یہ افتخار و نازشِ ربِ جلیل ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے نفس نفس میں طہارت بسی ہوئی
    گھر میں ہے ان کے پھیلی نبوت کی روشنی
    کہتے ہیں اِن کی فکر کو آئینِ سرمدی
    قرآن کی طرح سے ہے معصوم زندگی
    رُتبے میں ساری ماؤں سے یہ سربلند ہیں
    اولاد ارجمند ہے خود ارجمند ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی ساری ماؤں کی یہ ترجمان ہیں
    جانِ حسن حسین ہیں زینب کی جان ہیں
    قرآن کی طرح سے ہدایت نشان ہیں
    خود اپنی ذات میں یہ امامت کی شان ہیں
    ایمان جس کا ان پہ نہیں بد سرشت ہے
    سچ پوچھیئے تو ان کی وِلا میں بہشت ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چکی کا پیسنا بھی عبادت بتول کی
    قرآں کی آیتوں میں صداقت بتول کی
    ہے طاعتِ رسول اطاعت بتول کی
    کام آئی کربلا میں ریاضت بتول کی
    چوکھٹ پہ ان کی سجدے کوجھکتا ہے آسماں
    رُک جائیں گر یہ چلتے میں رُکتا ہے آسماں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاگیر ان کی خُلد ہے اور مِلک ہے اِرم
    یہ ہیں زمانے بھر کی خواتیں میں محترم
    رحمت خُدا کی خاص محمد کا ہے کرم
    حشمت کا وہ مقام کہ ہے ہیچ ہر حشم
    باتوں کے پھول جیسے نگینے جڑے ہوئے
    جن کے لیئے رسول بھی خود اُٹھ کھڑے ہوئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے کربلا دلیلِ بقائے حُسینیت
    اُٹھی ہے اس زمیں سے صدائے حُسینیت
    اب تک ہے سر بُلند نوائے حُسینیت
    زینب کے سر سے اُتری ردائے حُسینیت
    اک اور ماں ہے فخر زمانے کی ماؤں کا
    یہ بھی صلہ ہے شب میں نبی کی دعاؤں کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زینب ہے کربلا کے شہیدوں کی یادگار
    بنتِ علی کے سر کی ردا دیں کاافتخار
    دیکھا فلک نے قید میں بھی ان کا اختیار
    خطبہ علی کی بیٹی کا جوں موجِ ذوالفقار
    زینب خدا کے دین کا بھی زیب و زین ہے
    بعد از حسین اصل میں زینب حسین ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زینب وہ ماں کہ جس سے امامت ہے سرخرو
    زینب ہے ایک سلسلئہ حق کی جستجو
    زینب سے کربلا میں شہادت کی آبرو
    قرآن کا مزاج تھی زینب کی گفتگو
    ان کی رگوں میں خونِ رسالتمآب ہے
    زینب بھی ایک علمِ رسالت کا باب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زینب ہے ساری ماؤں کی ممتا کا افتخار
    کچھ ایسے اختیار کو لائیں بروئے کار
    بچوں کو ہنس کے کر دیا شبیر پر نثار
    لکھے جبینِ وقت پہ معنیء اقتدار
    یہ سلسلئہ عصمتِ زہرا کا نام ہے
    یہ ماں بھی اک تسلسلِ فکرِ امام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چادر علی کی بیٹی کی نسوانیت کی لاج
    اس گھر کے ہی طفیل میں پردے کا ہے رواج
    ہر فرد اس گھرانے کا انسانیت کا تاج
    رکھی ہے قید ہو کے بھی مظلومیت کی لاج
    اللہ کے نبی کا یہ گھر انتخاب ہے
    زہرا کے بعد چادرِ زینب حجاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پردے کو اہلبیت سے عظمت عطا ہوئی
    اس گھر کو ہر قدم پہ شہادت عطا ہوئی
    عصمت عطا ہوئی ہے طہارت عطا ہوئی
    اس در پہ چاند تاروں کو عزت عطا ہوئی
    احسان ہے حجاب یہ زہرا کی آل کا
    چادر بھی کام دیتی ہے اِک رُخ سے ڈھال کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کربلا ہے دنیا کی ماؤں کا انتخاب
    اس کربلا کی شان ہے اک ماں کا انقلاب
    عاشور میں زمین پر اُترا جو آفتاب
    کُملا کے جیسے رہ گئے فردوس کے گلاب
    چہرے کو شیر خوار کے دیکھا رباب نے
    ڈالی نگہ فلک پہ وہاں آں جناب نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ممتا کا ماں کی سچ ہے یہ رُخ بھی ہے جاوداں
    ان ماؤں نے اٹھائے مصائب کے امتحاں
    گریہ کُناں ہیں ان کے مصائب پہ انس و جاں
    عظمت پہ ان کی آیا سلامِ شہِ زماں
    دنیا میں دوسری نہیں ملتی کہیں رباب
    یہ ماں بھی اہلِ بیت کے گھر کا ہے آفتاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کربلا کی مائیں ہیں توقیرِ انقلاب
    تاریکیوں میں ان سے ہے تنویر انقلاب
    ہاں ان کی بے ردائی ہے تشہیرِ انقلاب
    ہیں خواب ان کی آنکھوں کے تعبیرِ انقلاب
    ان کے عمل سے دیدہ و دل جگمگاتے ہیں
    اب ہاتھ مِل کے سارے دُعا کو اٹھاتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خلاقِ دو جہاں تجھے حسنین کی قسم
    ہیں وقت کے یزید کے نرغے میں آج ہم
    طالب کرم کی بھیک کے اے اکرم الکرم
    اے کاش ڈگمگائیں نہ محشر میں بھی قدم
    چاروں طرف فضا ہے جو اک شورو شین کی
    دنیا کو آج پھر ہے ضرورت حُسین کی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اولاد سے جو مائیں ہیں محروم آج تک
    اصغر کے صدقے آنکھوں میں انکی بھی دے چمک
    دیکھیں نجف میں روضۂ مولا کی اک جھلک
    ہو مہرباں زمین تو راضی رہے فَلَک
    بے بال و پر ہیں طاقتِ پرواز دے ہمیں
    اس موت کے سکوت میں آواز دے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صفدرخدا کو دو علی اصغر کا واسطہ
    جکڑے رسن میں ہاتھ کھُلے سر کا واسطہ
    عباسِ باوفا، علی اکبر کا واسطہ
    جو کربلا میں لُٹ گیا اُس گھر کا واسطہ
    تاحشر ماں کی ممتا کاسایہ بنا رہے
    سر پر یہ شامیانہ فلک کا تنا رہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صفدر دو رب کو ماں کی محبت کا واسطہ
    بنتِ نبی کی عفت وعصمت کا واسطہ
    اُن کے کرم کا رحمت و عظمت کا واسطہ
    اصغر سے شیر خوار کی تُربت کا واسطہ
    یہ مرثیہ بھی بنتِ نبی کو قبول ہو
    ہر ماں کی قبر پر تری رحمت نزول ہو

  26. صفدر دو رب کو ماں کی محبت کا واسطہ
    بنتِ نبی کی عفت وعصمت کا واسطہ
    اُن کے کرم کا رحمت و عظمت کا واسطہ
    اصغر سے شیر خوار کی تُربت کا واسطہ
    یہ مرثیہ بھی بنتِ نبی کو قبول ہو
    ہر ماں کی قبر پر تری رحمت نزول ہو
    آمین ثمہ آمین

  27. سلام اس ماں پر جس کو رسول (ص) اپنی ماں کا درجہ دے
    سلام ہو اس ماں پر جو جنت کے جوانوں کی ماں ہے
    سلام ہو اس ماں پر جو کلِ ایمان کا نصف ایمان ہے
    سلام ہو اس ماں پر جس کی دعاوں کاسایہ رہتی دنیا تک ہر ماں پر قائم رہے گا
    سلام ہو اس ماں پر جس نے ماں ہونے کا سلیقہ سکھایا
    سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا
    سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا
    سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا سلام یا زہرا
    http://www.youtube.com/watch?v=f0Q5ulKg9iw&feature=related

  28. ان کے نفس نفس میں طہارت بسی ہوئی
    گھر میں ہے ان کے پھیلی نبوت کی روشنی
    کہتے ہیں اِن کی فکر کو آئینِ سرمدی
    قرآن کی طرح سے ہے معصوم زندگی
    رُتبے میں ساری ماؤں سے یہ سربلند ہیں
    اولاد ارجمند ہے خود ارجمند ہیں
    (صفدر ھمدانی)
    http://www.youtube.com/watch?v=A2zFIriUmDw&feature=watch_response

  29. بوڑھے ماں باپ کے حقوق کوئی قسمت والا ہی ادا کر سکتا ہے۔اکثر اوقات اولاد اپنی غفلت اور نادانی سے اس سعادت سے محروم رہ جاتی ہے.

    اسی غفلت سے بچنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ نظم لکھی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی

    توفیق دے آمین۔
    ————————————————————————-
    میرے بچو،گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو
    اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو
    مشکل ماہ و سال میں دیکھو
    صبر کا دامن تھامے رکھنا
    کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا
    ’’اُف ‘‘ نہ کہنا،غصے کا اظہار نہ کرنا
    میرے دل پر وار نہ کرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاتھ مرے گر کمزوری سے کا نپ اٹھیں
    اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو
    مجھ کو نفرت سے مت تکنا،لہجے کو بیزار نہ کرنا

    بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا
    جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے
    میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی
    کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں
    مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر ، اور مجھے بیمار نہ کرنا
    بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی
    اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں
    میرا ہاتھ پکڑ لینا تم ،تیز اپنی رفتار نہ کرنا
    بھول نہ جانا،میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا
    میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب میں باتیں کرتے کرتے،رُک جاؤں ،خود کو دھراوں
    ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں،یادِ ماضی میں کھو جاؤں
    آسانی سے سمجھ نہ پاؤں،مجھ کو نرمی سے سمجھانا
    مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،مجھے سمجھنا
    اکتاکر، گھبراکر مجھ کو ڈانٹ نہ دینا
    دل کے کانچ کو پتھر مار کے کرچی کرچی بانٹ نہ دینا
    بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے
    ایک کہانی سو سو بار سنا کرتے تھے
    اور میں کتنی چاہت سے ہر بار سنا یاکرتی تھی
    جو کچھ دھرانے کو کہتے،میں دھرایا کرتی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر نہانے میں مجھ سے سُستی ہو جائے
    مجھ کو شرمندہ مت کرنا،یہ نہ کہنا آپ سے کتنی بُو آتی ہے
    بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے اور نہانے سے چڑتے تھے
    تم کو نہلانے کی خاطر
    چڑیا گھر لے جانے میں تم سے وعدہ کرتی تھی
    کیسے کیسے حیلوں سے تم کو آمادہ کرتی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گر میں جلدی سمجھ نہ پاؤں،وقت سے کچھ پیچھے رہ جاؤں
    مجھ پر حیرت سے مت ہنسنا،اور کوئی فقرہ نہ کسنا
    مجھ کو کچھ مہلت دے دینا شائد میں کچھ سیکھ سکوں
    بھول نہ جانا
    میں نے برسوں محنت کر کے تم کو کیا کیا سکھلایا تھا
    کھانا پینا،چلنا پھرنا،ملنا جلنا،لکھنا پڑھنا
    اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس دنیا کی ،آگے بڑھنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اٹھوتو
    مجھ کو تم جھڑکی نہ دینا
    یہ نہ کہنا،جانے دن بھر کیا کیا کھاتی رہتی ہیں
    اور راتوں کو کُھوں کھوں کر کے شور مچاتی رہتی ہیں
    بھول نہ جانامیں نے کتنی لمبی راتیں
    تم کو اپنی گود میں لے کر ٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گر میں کھانا نہ کھاؤں تو تم مجھ کو مجبور نہ کرنا

    جس شے کو جی چاہے میرا اس کو مجھ سے دور نہ کرنا
    پرہیزوں کی آڑ میں ہر پل میرا دل رنجور نہ کرنا
    کس کا فرض ہے مجھ کو رکھنا
    اس بارے میں اک دوجے سے بحث نہ کرنا
    آپس میں بے کار نہ لڑنا
    جس کو کچھ مجبوری ہو اس بھائی پر الزام نہ دھرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گر میں اک دن کہہ دوں عرشیؔ ، اب جینے کی چاہ نہیں ہے
    یونہی بوجھ بنی بیٹھی ہوں ،کوئی بھی ہمراہ نہیں ہے
    تم مجھ پر ناراض نہ ہونا
    جیون کا یہ راز سمجھنا
    برسوں جیتے جیتے آخر ایسے دن بھی آ جاتے ہیں
    جب جیون کی روح تو رخصت ہو جاتی ہے
    سانس کی ڈوری رہ جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شائد کل تم جان سکو گے ،اس ماں کو پہچان سکو گے
    گر چہ جیون کی اس دوڑ میں ،میں نے سب کچھ ہار دیا ہے
    لیکن ،میرے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے
    تم کو سچا پیار دیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب میں مر جاؤں تو مجھ کو
    میرے پیارے رب کی جانب چپکے سے سرکا دینا
    ا ور ،دعا کی خاطر ہاتھ اُٹھا دینا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے پیارے رب سے کہنا،رحم ہماری ماں پر کر دے
    جیسے اس نے بچپن میں ہم کمزوروں پر رحم کیا تھا
    بھول نہ جانا،میرے بچو
    جب تک مجھ میں جان تھی باقی
    خون رگوں میں دوڑ رہا تھا
    دل سینے میں دھڑک رہا تھا
    خیر تمہاری مانگی میں نے
    میرا ہر اک سانس دعا تھا

    سعودیہ سے ایک ایمیل ،

  30. Dear amna,

    It nice to see you in this blog.
    Its so nice to read your feeling towards your humble mother,

    My baby,

    You are so luck to have such a wonder full mother,
    GOD bless you & your mom & papa &both brothers & whole family & both of your grand mothers amen suma amen

    آمنہ آفتاب کی آمد بہت اچھی لگی اور یہ بلاگ آفتاب وماھتاب جیسا ھوگيآ ، ھر طرف روشنی دلکشی اور رونق ھوگی

    درستان عزیز ، سلامت باشد

    اچ میں مدر ڈے کے بارے میں پڑھ رھی تھی تو مجھے علم ھوا کہ مدر ڈے تفریبا ساری دنیا میں سارے سال ھی منایا جاتا ھے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی شان سے منایا جاتا ھے ، کیونکہ دینا بھر میں ماں کی عزت کی جاتی ھے، دینا کے ھر مذھب میں ماں معتبر ھے ، میں ساری دینا کی ماوں کو سلام کرتی ھوں جو اپنے آنگن میں چراغاں کرنے کے لیے 9 ماہ تخلیق کا دکھہ سہتی ھے، ایک معصوم اور بے پر کے پرندے کو اڑنا سکھاتی ھے اس کے لیے اپنی راتوں کی نیند اپنا سکھہ چین اپنا آرام سب کھچھہ قربان کرتی ھے ۔ماں کی دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول ھوتی ھے ، ماں کا دل ھمہ وقت اپنی اولاد کی بہتری اور بھلائ کے لیے دھڑکتا ھے ، اولاد کسی پریشانی یا تکلیف میں مبتلا ھوتی ھے تو ماں کے دل کو سب سے پہلے خبر ھوتی ھے ،اور وہ دست دعا کو بلند کرکے اس وقت عرش ھلا دیتی ھے ،
    ماں قربانی اور ایثار کا نام ھے
    بغیر کسی ایوارڈ وریوارڈ کے ھر لمحہ اولاد کی خدمت کرتی ھے ، ماں
    ماں ایک ایسے گمنام سپاھی کی طرح جو ھر جنگ میں فاتحین کی فہرست میں شامل ھوتی ھے

    ماں اپنا سکھہ چین اپنی بھوک پیاس اپنا آرام سب کچھہ تج کرکے نومود تچے کو ایک تندرست و توانا نونہال بناتی ھے
    آج جو ھم سب بس ایک ھستی کی وجہ سے ،کہ جس کے دل میں اللہ پاک اولاد کی محبت کو روانی خون کے ساتھہ شامل کردیتا ھے
    ماں وہ خاص ھستی ھے جس کے سر پر اللہ تعالی نے عزت وتوقیر کا تاج رکھا اور اپنی سب سے قیمتی شے یعنی جنت کو ماں کے پیروں تلے رکھہ کر ھم کو اس کا احترام کرنے کی ھدایت کی ھے
    ماں جو اپنے بچے کو جنم دیتی ھے
    ماں جو نو ماہ اس بجے کی حفاظت کرتی ھے
    اس بچے کے لیے تکلیف سہتی ھے
    عورت جب ماں بنتی ھے اور درد کا دریا عبور کرکے جب اس لمحے اس کے کان میں اپنے بچے کی پہلی صدا پڑتی ھے
    تو عورت تخلیق کے اور اپنے دیگر
    دکھہ بھول جاتی ھے
    جب دینا میں کوئ بچہ جنم لیتاھے تو ماں کا بھی نیا جنم ھوتا ھے
    ماں ساری ساری رات اپنے بچے کو جاگ کر پروان چڑھاتی ھے ۔
    ھم تو اس کے ایک رات جاگنے کا حق ادا نیہں کرسکتے ھیں ،
    ھم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والی ماں اپنی ساری طاقت و دولت اولاد میں تقسیم کرتی ھے

    دنیا کی ساری ماؤں کی یہ ترجمان ہیں
    جانِ حسن حسین ہیں زینب کی جان ہیں
    قرآن کی طرح سے ہدایت نشان ہیں
    خود اپنی ذات میں یہ امامت کی شان ہیں
    ایمان جس کا ان پہ نہیں بد سرشت ہے
    سچ پوچھیئے تو ان کی وِلا میں بہشت ہے

    ماں ھے تو سب کچھہ ھے ، دینا ھے روشنی ھے برکت ھے اللہ کی خوشنودی ھے ، زندگی ھے اور صرف خوشیاں ھیں صرف خوشیآں
    ساری دینا کی ماوں کے لیے میری دعا
    یا اللہ
    یا مالک ارض وسماء
    یا رحیم و کریم
    یا معبود
    ھماری ماوں کا سايئہ ھمارے سروں پر قائم رکھنا
    ماں تیرا وجود ھمارے لیے باعث برکت وعطا ھے
    ماں ھم تیرے احسان کا بدلا کیسے اتار سکتے ھیں
    ماں بس تو راضی اور ھم سے خوش رھے تو ھمارا رب بھی ھم سے راضی اور خوش رھے گا

    پروردگار ماں کی محبت کی ہے دلیل
    اور ماں ہے خود خلوص کی ایثار کی فصیل
    سینے پہ کائنات کے احساس کی ہے جھیل
    عادل خدا کی ذات تو یہ ماں بھی ہے عدیل
    اس ماں سے بڑھ کے کون ہے بالا بتایئے
    اس ماں سے بڑھ کے چاہنے والا بتایئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الفت ہے ماں کی الفتِ خالق کی جستجو
    اسکا مزاج صرف محبت کی گفتگو
    انسانیت کی نسل کی ماں قوتِ نمو
    اولاد صرف ماں کی دعا سے ہے سرخرو
    موضوع ملا ہے مادرِ حسنین سے مجھے
    عزت ملی ہے خالقِ کونین سے مجھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  31. محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب سلامت رھیں خوش رھیں اللہ پاک آپ کو صحت وھمت اور طویل العمری عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    آپ نے جو ماں کے بارے میں لکھا ھے وہ لاجواب ھے ، یہ عطاۓ ربی ھے ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    رحمت خدا کی عظمتِ نسواں ہے ماں کا نام
    افسانۂ حیات کا عنواں ہے ماں کا نام
    دولت وفا کی عزتِ انساں ہے ماں کا نام
    بے شک خدائے پاک کا احساں ہے ماں کا نام
    لفظوں سے جس کے آتی ہے خوشبو وہ پھول ہے
    معراج ساری ماؤں کی بنتِ رسول ہے
    ایک ایک شعر آب زر سے لکھنے کے قابل ھے ، اللہ پاک آپکے قلم کو تابندگی عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  32. اسّلام علیکم مہربان ہم نشینوں ،بیٹوں بیٹیوں،
    سب سے پہلے معذرت کہ اچانک ہی فیمیلی میں بہت اہم مصروفیت نکل آئ تھی ،بہت چاہا کہ اپنے عالمی اخبار کے کنبے پر بھی جلدی حاضری لگا لون لیکن ممکن نہیں ہو سکا

    ڈئر شاہین حیدر میں کتنی خوش نصیب خاتون ہون الحمد للہ کہ مجھے تم سب کی جانب سے دعائیں ملتی ہیں ،جیو سلامت رہو ،
    دیکھو بھئ میں آج تم سب سے ایک اہم بات شئر کروں گی کہ میری ماں نے بھی مجھے ساری دنیا کہ ماؤں کی طرح بہت کچھ سکھایا ،بتایا لیکن ان کی توجّہ ایک بات پر زیادہ رہی کہ انہوں نے مجھے شکر خدا کرنا سکھایا تو آج میں نے اپنی ماں کی نصیحت کو یاد کرتے ہوئے کتنی بار شکر خدا ادا کیا ،اور پھر میں نے سب سے پہلے کہ میں ابھی تک زندہ ہوں شکر اداکیا الحمدللہ،،

    دوسرا شکر اس بات کا اس نے مجھے بہترین اعضاء و جوارح اور بہترین ھواس عطا کئے کہ مین ابھی تک کام کر رہی ہوں ورنہ دنیا میں کتنے لوگ مخبوط الحواس پیدا ہوتے ہیں اور اسی طرح لمبی عمر جیتے ہیں

    میں نے پھر شکر اداکیا کہ میری مان نے میری شادی کے لئے باوجودیکہ دو رشتے قریبی عزیزوں سے آئے ہوئے تھے لیکن میرے لئے سب سے بہترشریک زندگی کا بہترین انتخاب کیا

    پھر میں نے شکر اداکیا کہ اس مالک نے مجھے بھرا پرا نیک میکہ اور نیک سسرال عطا کی ،کیونکہ ادھر سے ادھر تک سب حق حلال کی کماتے تھے اور کھاتے تھے ،،اگر اللہ نا کرے رشوت کی کمائ کھانے والا کنبہ اور شوہر ملتا تو کیا ہوتا

    اور پھر میں نے اس بات پر اللہ تعالٰی کا بے حد شکر ادا کیا کہ یہان کینیڈا آنے کے بعد میری سماجی تنہائ دور کرنے کے لئے عالمی اخبار کا مخلص اور بے لوث کنبہ عطا کیا ،پھر میں شکرن ،شکرن کہتی رہی یہاں تک کہ میرا دل ٹہر گیا

  33. بہن عالم آرا جیتی رہئے ،

    بلاشبہ ماں کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ء انمول ہئے کہ اس پر لکھنے کے لئے دفتر چاہئے ہھر بھی قلب کو تسکین نہیں ہو سکتی ہئے
    مسیحا بیٹی نے اپنی پیاری ماں کی خدمات کا کتنے پیارے انداز میں اعترا ف کیا ہئے پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا ،انشاللہ اگر فرصت نے اجازت دی تو میں بھی اپنی پیاری ماں کی سنگت میں گزارے ہوئے وقتوں اور لمحوں کی دلچسپ باتیں تحریر کرون گی

  34. اسلام علیکم
    بہن ذا ئرہ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔اور آپ صحت اور تندرستی کی دولت سے مالا مال رہیں ۔ آمین
    لکھنے کو تو واقّئی دفتر کے دفتر چاہئیں ۔ بس دل یہ چاہتا ہے کہ ہم بھی ایسی مائیں بنیں جنہیں ہمارے بچے بھی فخریہ یاد کریں ۔انشاء اللہ ۔ ماں بننا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ صبر آزما ہے اچھی ماں بننا اس کی عظمت کو قائم رکھنا ۔ بس یہ میری سوچ ہے ۔
    بھائی صفدر ھمٰدانی آپ کا ایک ایک شعر سونے سے لکھنے کے قابل ہے اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔آمین

    پیاری بہت پیاری بہن شاھین آپ نے تو رلا دیا ۔اور لگا کہ یہ ایسی حقیقت ہے کہ فرار ناممکن اور سنبھال بچوں پر ۔اللہ ہمیں سرخرو کرے کہ اپنے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں ۔اس مالک نے فرمایا کہ مفہوم
    کہ ‘پھر پہنچا دینگے ہم تمہیں ارزلل عمر تک ،‘ بس اس وقت ہی کا خوف ہے ۔ اللہ عزت رکھنے والا ہے ،بس اسی سے مدد چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر قسم کی معزوری سے بچاتا رکھے مگر ہے یہ سب حق ۔
    اللہ ہماری اولاد کے دل میں ہماری عزت اور اھترام اور محبت قائم رکھے آمین
    عالم آرا

  35. اسّلام علیکم محترم ساتھیوں سلامت رہو پھلو پھولو ،دنیا کے جس جس گوشے میں ہو وہان وہاں ا س کی رھمت کا سایہ تم سب پر سایہ فگن ہو آمین ،

    بہن عالم آراء جہاد زندگانی کے کینوس پر ہمارے لئے سب سے پہلے اس نے اپنی محبّت میں پہلا حق قرابت داروں کا رکھ دیا ،پھر یتیم کا پھر مساکین کا پھر مسافر کا ،قرابتدار میں سب پہلا حق والدین کا ہوا اور بہن بھائ کا ہوا پھر والدین کے بھی بہن بھائ ،

    اب ہمیں کسی کا بھی حق ادا کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہئے کہ اس نے ہمارا حق ادا کیا کہ نہیں ،بس ہم کو اپنی جگہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے دینی ہئے انشاللہ
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

    دوسری بات یہ ہئے کہ بڑھاپے میں لاچاری کی اس عمر کے لئے جہاں انسان دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہئے ،اس سے پناہ کے لئے تو میں نے خود بعض انبیاء کرام علیہاسّلام کی دعائیں پڑھی ہیں ،کہ وہ گڑگڑا کر اللہ پاک سے دعاگو ہوئے کہ انہیں لاچاری اور معزوری کی حیات نا دینا ،بس میں بھی تب سے ہی یہی دعاء مانگنے لگی ہوں

    جہاں تک اولاد کی سعادتمندی کا سوال ہئے تو اس کے لئے میرا ایمان ہئے کہ انسان دنیا کی اس کھیتی میں گلاب کاشت کرے گا تو گلاب کے حسین پھولوں سے اس کی جھولی بھرے گی اور کیکیر کاشت کرے گا تو اس کا دامن کیکر سے الجھے گا ،

    خداوندعالم ہم ماؤں کو توفیق دئیے رکھّے کہ ہم اپنی اولاد کی دلداری کے بہترین سامان مہیّا کر سکیں آمین ،اور پھر نتیجہ اس مالک دو جہاں پر چھوڑ دیں
    تحریر میں کوئ بھی بات بارخاطر ہو تو پیشگی معزرت کے ساتھ

    رخصت کی اجازت

  36. میرے پیارے رب سے کہنا،رحم ہماری ماں پر کر دے
    جیسے اس نے بچپن میں ہم کمزوروں پر رحم کیا تھا
    بھول نہ جانا،میرے بچو
    جب تک مجھ میں جان تھی باقی
    خون رگوں میں دوڑ رہا تھا
    دل سینے میں دھڑک رہا تھا
    خیر تمہاری مانگی میں نے
    میرا ہر اک سانس دعا تھا

    سعودیہ سے ایک ایمیل ،

    اللہ اسی دعاء کے من وعن ہر اولاد کو توفیق خاص عطا کردے ،آمین

    اور صفدر بھیّا کی شاعری بہت ہی لاجواب ہئے ،زہن و دل پر ادراک کے دروازے کھوتی چلی جاتی ہئے،جزاک اللہ صفدر بھیّا

    ڈئر شاہین حیدر بہت ہی لاجواب شاعری ہئے بھئ تمھاری آنکھوں کے راستے صرف دل میں نہیں روح تک میں سرائت کرتی چلی گئ ہئے،اور میں حرفوں کے موتیوں کی مالا بن رہی ہوں

  37. جعفر بیٹے سلامت رہئے پاک پروردگارعالم آپ کو اور آپ کی اولاد کوبہ طفیل آل عباء زمانے کے ہر سردو گرم سے بچاکر رکھّے آمین
    میں آپ کے بھیجے ہوئے لنکس دیکھنے سے ابھی تک مجبور ہوں کیونکہ میرا کمپیوٹر بیچارہ زرا لاغر ہو گیا ہئے،اور کینیڈا میں لاغر چیزوں کا علاج نہیں ہوتا ہئے ان کو گار بیج میں ڈال کر نئ چیز خرید لی جاتی ہئے ،سو ابھی وہ بیچارہ گاربیج میں جانے کے جائے یونہی کا م چلا رہا ہئے، لیکن مجھے یہ تو یقین ہئے کہ آپ کے دئے ہوئے لنکس پر بہت مفید اور کارآمد عنوان ملیں گے انشاللہ موقع ملتے ہی دیکھنے کی کوشش کروں گی
    فی امان اللہ
    دعا گو زائرہ بجّو

  38. —–××(میری ماں بُھول جاؤں میں)××—–

    میری ماں بھول جاؤں میں—-
    کہاں تک بھول جاؤں میں —–
    یرے لہجے کی وہ نرمی ۔۔۔۔۔—-
    ترنُم ریز سی لوری ۔۔۔۔ وہ باتوں کا سحر تیری
    کہ
    جن میں اک درس تھا مداوا تھا ۔۔۔۔۔
    کُچھ کر گُزرنے کا
    مزاجِ ذات میں میری تیری باتیں ہی رہبر تھیں
    جواں سا ولولہ تھیں ۔۔۔۔ مُحبت کا سراپا تھیں ۔۔۔۔
    ہر یک دُکھ کا مداوا تھیں ۔۔۔۔۔
    اور اب ۔۔۔۔جب کہ میں
    تُجھسے کوسوں میل دور بیٹھا ہوں
    کوئی بھی دُکھ رولاتا ہے
    مُجھے ڈستی ہے تنہائی
    تو میری ماں ۔۔۔۔۔
    یاد آتی ہے ۔۔۔تیری آغوش کی گرمی ۔۔۔
    تنُم ریز سی لوری
    وہ باتوں کا سحر تیری

    اور پھر
    مچل کر میری آنھکوں سے
    ٹپک پڑتے ہیں جب آنسو ۔۔۔۔
    تو میری ماں ۔۔۔۔کوئی آنچل نیں ہوتا ۔۔۔۔۔
    یہی آنسو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرا تکیہ بھگوتے ہیں

    میری ماں بُھول جاؤں میں
    کہاں تک بُھول جاوں میں
    کہاں تک بھُول جاؤںمیں
    زوار قمر عابدی

  39. ماں ایک ایسا احساس ہے جس کی محبت کے اآگے کسی کی محبت کا کوئی بھی وزن نہیں۔

  40. تُم تھے تو زندگی کی حاصل تھی ہر رعنائی
    اب میں ہوں اور بس میری یہ تنہائی
    تیرے دو ہاتھ ہی اُٹھتے تھے دُعاؤں کے لیے
    اب تو خُونِ دل ہوا اور آواز تلک نہ آئی
    بند آنکھوں سے دیکھا جو تیرا حسین چہرہ
    جانے کیوں تیری آنکھوں میں ویرانی پائی
    کچھ خواب تھے تیری ان ویراں آنکھوں میں
    جانے تعبیر سے پہلے زندگی نے کی بے وفائی
    سختیوں کے سبھی موسم اکیلے برداشت کیے
    گلشن چُھوڑ دیا تونے جب اُمیدِ بہار آئی
    پُورا نشیمن بکھر گا تیرے بعد کچھ اس طرح سے
    دیکھایا اثر اپنوں نے اور کچھ تیز ہوا آئی اب شکوه کسی سےکیاکرنایہی اپنی قسمت ہےاےناز
    جانے والے جاتے ہیں کوئی مجبور ہے کوئی ہرجائی

    ایم آصف ناز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *