یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

السلام علیکم

22 جمادی الثانی امام الصحابہ ، سید المؤمنین ، خسر رسول ، یار غار ، امیرالمؤمین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یوم وصال ہے ۔

آں آمن الناس برمولائے ما
آں حکیم اول سہنائے ما
ہمت او کشت ملت راچوں ابر
ثانی اسلام و غار بدر و قبر
( علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ )

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے دیرینہ دوست اور سفر و حضر کے ساتھی تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان کیا ، تو سب سے پہلے آپ کو یہ شرف حاصل ہوا ، کہ آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی ۔آپ غار ثور میں رسول محمد صلی علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، جنگ بدر میں بھی ساتھ رہے اور رسول محمد صلی علیہ وسلم کے ساتھ پہلو اقدس میں مسجد نبوی ہی میں دفن ہوئے ۔
آصف احمد بھٹی

17 thoughts on “یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ”

  1. آصف بیٹے بہت بہت دعائیں ،

    میرا سلام ہو حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسّم اور آپ کے اصحاب باوفا پر جنہوں نے دین کی نصرت و پائندگی کے لئے دامے ،درہمے ،سخنے، اور قدمے سب کچھ راہ خدا میں پیش کر دیا ،

    ہم آج جن طاغوتی قوّتوں میں گھرے ہوئے ہیں ان کا بہترین حل ہئے کہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہوجائیں اور دنیا کو بتا دیں کہ سنّی اور شیعیہ ایک ہی کنبے کے دو افراد ہیں صرف نام کا فرق ہئے جس طرح ایک باپ کی بچّو ن میں ہوتا ہئے

    تاکہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے والی قوّتوں کو احساس ہو جائے کہ ان میں دراڑ ڈالنا آسان نہیں ہئے

    سلامت رہو ،اللہ پاک تمھیں دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے بہرہ مند کرتا رہئے آمین الٰہی آمین

    دعاگو زائرہ بجّو

  2. آصف بھٹی صاحب اسلام علیکم ورحمہ۔ میں اپنی ایک طویل منقبت میں سے یہاں چند اشعار پیش کر رہا جو کہ ان کی سیرت میں میں نے شامل کی ہے۔ شمس
    میراج مصطفیٰ کی تصدیق کی اسی دم
    صدیق ِ بے گماں تو صدیقِ با صفا تھے
    حاصل تھا شرف انکو ہمسایہ مصطفیٰ کا
    یوں رشک ِ آسماں تو صدیق ِ با صفا تھے
    تبلیغ کی حرم میں کفار پل پڑے سب
    کعبے میں نیم جاں تو صدیقِ با صفا تھے
    جتنے حصار بھی تھے دوہی برس میں توڑے
    بے خوف حکمراں تو صدیق با صفا تھے
    قرآں ہوا اکٹھا ان ہی کے دور میں تو
    قر آں کے پاسباں تو صدیقِ با صفا تھے
    توصیف شمس ان کی تم سے بیاں نہ ہوگی
    سر تاجِ عاشقاں تو صدیق ِ با صفا تھے

  3. آصف بھٹی صاحب.ماشااللہ.آپ نے نہایت اچھا بلاگ تحریر کیا ہے
    اللہ کے حبیب خاص اور نبی آخر کی اہلبیت کے ساتھ ساتھ انکے باوفا ساتھیوں کا بھی ذکر ضروری ہے۔ یہ تو امت مسلمہ کی بدقسمتی ہے کہ مسلمانوں نے ان ہستیوں کو مسالک میں تقسیم کر دیا ان مسالک کے ظالم ملاؤں نے ایسی ہستیوں کو متنازعہ بنا دیا صرف اپنی دوکانداری چمکانے کے لیئے

    اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ـ

    بےشک اللہ عزوجل کے تین سو اخلاق ہیں ، جو شخص توحید پر ہوتے ہوئے ، ان میں سے ایک خلق کے ساتھ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے گا وہ داخل جنت ہوگا ـ امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : کیا ان میں سے کوئی خلق مجھ میں بھی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ـ

    کلھا فیک یا ابابکر و احبھا الی اللہ تعالی السخاء ـ

    ترجمہ : ـ اے ابوبکر ! وہ تمام اخلاق تم میں پائے جاتے ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ خلق سخاوت ہے ـ

    ( مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا ، الحدیث : 29 ، ص 34 – 35 )

    حضور نبی کریم ، رءوف رحیم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا فرمان ذی وقار ہے : ـ

    میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے لٹکایا گیا ، اس کے ایک پلڑے میں مجھے اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا تو میرا پلڑا بھاری ہو گیا پھر ایک پلڑے میں میری امت کو اور دوسرے پلڑے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو رکھا گیا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا پلڑا بھاری ہو گیا ـ

    ( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی بکرۃ نفیع بن الحارث بن کلدۃ ، الحدیث : 29528 ، ج 7 ، ص 332 – 333 )

    ( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی امامۃ الباھلی ، الحدیث 22295 ، ج 8 ، ص 289 –

  4. سبحان اللہ ۔۔آصف بہت با سعادت بلاگ لگایا ہے ۔۔ اللہ کریم ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے ۔۔ الہی آمین

    ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب (روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین) میں لکھتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔

    ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟
    بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟

    بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

    حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، تو نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔

    سبحان اللہ کیا معیار حکومت تھا ۔۔۔

  5. میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے
    ( نامعلوم )

  6. سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رض کا حلیہ مبارک

    آپ کا رنگ سفید ، رخسار ہلکے ہلکے ، چہرہ باریک اور پتلا ، پیشانی بلند ، منحنی جسم ، چادرباندھتے تو نیچے ڈھلک جاتی اور داڑھی کو سرخ سیاہ مد بی لگایا کرتے (الکامل فی التاریخ ،ج2،ص420)

    قریش کے مشہور قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ نے آپ کے اوصاف حسنہ کا بایں الفاظ اعتراف کیا: إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتكسب المعدوم وتحمل الكل وتعين على نوائب الدهر وتقري الضيف.

    ترجمہ ؛ اے ابوبکر !بے شک آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں ، کمزورں کا بوجہ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ افراد کے کام آتے ہیں۔(تاریخ الخلفاء،12)
    (گوگل سرچ )

  7. چراغ ِ مسجد و محراب و منبر
    ابو بکر و عمر ،عثمان و حیدر

  8. پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق (رض) کے لئے ہے خدا کا رسول بس

  9. السلام علیکم
    آپ سب احباب کا شکریہ ، انبیاء اکرام علیہ السلام کے بعد افضل ترین شخص کی تعریف و توصیف کوئی کیا کر سکتا ہے ، مگر ہر شخص اپنی بساط بھر کوشش ضرور کرتا ہے ، آقا صلاۃ السلام کے تمام رفقاء کی شان انسانی بیان سے باہر ہے ، کچھ دن پہلے یہ چند اشعار کسی برقی چوپال میں ہی پڑھے تھے ۔

    کوئی پیدا نہ ہو گا ایسا انسان روز ِ محشر تک
    سبھی اس کے مقلد ہیں عمر رض ، عثمان رض ، حیدر رض تک

    اسی کے ساتھ چل کر ہم اتر سکتے ہیں جنت میں
    یہی جھرنا پہنچتا ہے محبت کے سمندر تک

    میری نظریں بچھی ہیں اس کے رستے میں عقیدت سے
    کھڑے ہیں باادب جس کے لئیے کرنوں کے لشکر تک

    آصف احمد بھٹی

  10. السلام علیکم
    محترم جناب شمس جیلانی صاحب ! آپ کی منقبت کا ہر ہر شعر لا جواب ہے ، میں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا جو ان اشعار کو پڑھ کر مجھ پر طاری ہوئی ہے ، آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
    آصف احمد بھٹی

  11. السلام علیکم
    جناب صفدر ہمدانی صاحب ،
    محترمہ سیدہ صاحبہ ،
    بے شک ! تمام امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عمارت ہے کے جس کی ہر اینٹ اپنی بنیاد سے مضبوطی سے جڑی ہے ، اور ہر اینٹ دوسرے کے لیے بھی لازمی ہے ، وقت کچھ ایسا آپڑا ہے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہے مگر مجھے یقین ہے جلد ہی ہم سب پھر سے ایک مضبوط قلعے کی مانند ہونگے ۔
    ہر وہ شخص جو کلمہ گو ہو اور مسلمانوں کا نام استعمال کرتا ہے اگر وہ بنیادی اسلامی نظریات اورعقائد سے انکار نہیں کرتا اگر وہ کسی طور بھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتا ، مقدس ترین ہستیوں کا احترام ویسے ہی کرتا ہے جیسا کہ اُن کا حق ہے تو وہ ویسا ہی مسلمان ہے جیسا کہ میں ہوں ۔
    آصف احمد بھٹی

  12. آصف بھائ سلامت رھو
    بہت بہترین بلاگ لگایا ھے ، جزاک اللہ خیر
    ایمان کی روشنی کو پھیلانے میں خاتم النبین کے ھمراہ انکے مدد گار تھے سیدنا ابوبکر صدیق،

    ابوبکر صدیق

    سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو آپ کے پاس کثیر تعداد میں جمع کی گئی دولت موجود تھی۔ آپ نے اس دولت کا بڑا حصہ غلاموں کی آزادی پر صرف کیا۔ ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ان کا لقب “عتیق” مشہور ہو گیا تھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ متعدد غلاموں کا ذکر اپنی سیرت کی کتاب میں کیا ہے۔ غلاموں کی آزادی کے پیچھے کیا مقصد کار فرما تھا، اس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔

    حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ بِلاَلاً بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، ثُمَّ أَعْتَقَهُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ بِلاَلٌ : يَا أَبَا بَكْرٍ إِنْ كُنْتَ إنَّمَا أَعْتَقْتنِي لِتَتَّخِذَنِي خَازِنًا , فَاِتَّخِذْنِي خَازِنًا وَإِنْ كُنْت إنَّمَا أَعْتَقْتنِي لِلَّهِ فَدَعَنْي فَأَعْمَلُ لِلَّهِ ، قَالَ : فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : بَلْ أَعْتَقْتُك لِلَّهِ. (مصنف ابن ابي شيبة، حديث 33002)

    سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بلال کو پانچ اوقیہ (چاندی) کے بدلے خریدا اور انہیں آزاد کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ بلال مجھ سے کہنے لگے، “اے ابوبکر! اگر آپ نے مجھے (اپنے مال کا) خزانچی بنانے کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے خزانچی بنا دیجیے۔ اگر آپ نے مجھے اللہ کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے چھوڑ دیجیے کہ میں اللہ کے لئے عمل کروں۔” ابوبکر یہ سن کر رونے لگے اور فرمایا، “میں نے تو آپ کو صرف اللہ ہی کے لئے آزاد کیا تھا۔”

    سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو چن چن کر کمزور غلام آزاد کرنےکا اتنا شوق تھا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ (جو اس وقت اسلام نہ لائے تھے) کی تنبیہ کو بھی اہمیت نہ دی۔

    حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببخارا حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ حدثنا سعيد بن يحيى الأموي حدثني عمي عبد الله بن سعيد عن زيادة بن عبد الله البكائي عن محمد بن إسحاق قال حدثني محمد بن عبد الله بن أبي عتيق عن عامر بن عبد الله بن الزبير عن أبيه قال قال أبو قحافة لأبي بكر أراك تعتق رقابا ضعافا، فلو إنك إذ فعلت ما فعلت أعتقت رجالا جلدا يمنعونك ويقومون دونك۔ فقال أبو بكر يا أبت إني إنما أريد ما أريد لما۔ نزلت هذه الآية فيه فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى إلى قوله عز وجل { وما لأحد عنده من نعمة تجزى إلا ابتغاء وجه ربه الأعلى ولسوف يرضى } هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. (مستدرک حاکم، حديث 3942)

    سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو قحافہ نے ابوبکر سے کہا، “میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بہت سے کمزور غلاموں کو آزاد کر رہے ہو۔ اگر تمہیں یہ کرنا ہی ہے تو جوان مردوں کو آزاد کرو جو تمہاری حفاظت کریں اور تمہاری حمایت میں کھڑے ہوں۔” ابوبکر نے کہا، “ابا جان! میں دنیاوی فائدے کے لئے ایسا نہیں کرتا” اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ “جس نے اپنا مال (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا، اور پرھیزگاری اختیار کی، اور نیک بات کو سچ سمجھا، اس کے لئے ہم نیکی کو آسان کر دیں گے۔” (سورۃ والیل)

  13. مشہور مستشرق پروفیسر ہنری جونز (Henry Jones) اپنی شہرہ آفاق کتاب (The vision of Islam) میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت کے ضمن میں ایک باب رقم کرتے ہوئے (The leadership of Muhammad (SAW) کے تحت لکھتا ہے کہ

    (Muhammad (SAW) was not only a commander of his companians but also leader of all the nations in the arab society)

    ’’یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف اپنے پیروکاروں کے قائد تھے بلکہ پورے عرب معاشرے کی اقوام کی سیادت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھی‘‘۔

    گویا مغربی مفکرین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قائدانہ اور مدبرانہ اوصاف حمیدہ کے قائل نظر آتے ہیں۔ اس امر کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت الی اللہ کی بنیاد اپنے بے مثل و بے مثال (Unchallengeable) کردار اور سیرت کو بنا کر پیش کیا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد و عادل ہیں کہ عرب کی جاہل اور اخلاقی اقدار سے نا آشنا قوم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کو ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم قانون دان، انسانی حقوق کا داعی، مساوات کا علمبردار، رواداری کا پیامبر مانتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیادت کی بنیاد اعلیٰ ترین کردار اور صاف شفاف شخصیت کو قرار دیا اور زندگی کے ہر شعبے میں قیادت کے فرائض انجام دیئے۔

    معروف مغربی مفکر ڈاکٹر پیٹر سوفٹ (Peter swift) اپنی کتاب (The revolutionary leaders) کے تحت رقم کئے گئے باب (Muhammad and his way) میں لکھتا ہے کہ

    According to my view there is a man who has presented the real political structure in the state of madina for equal based society is Muhammad (SAW)

    ’’یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے کی ریاست میں ایک عملی سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جس میں ہر فرد کو مساویانہ حقوق حاصل تھے‘‘۔

    یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت میں پروان چڑھنے والی قیادت کی نرسری سے ہر میدان کے شہسوار تیار ہوکر نکلے جنہوں نے ہر میدان میں انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آج بھی دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، فلاسفرز، ادیب اور دانشور چاہے وہ کسی بھی مذہب یا گروہ یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیار کردہ قیادت کے کارناموں کے معترف نظر آتے ہیں۔

    یہاں یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر شخص کی طبیعت اور اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اُس میدان کا شہسوار بنایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں قیادت کے جمیع اوصاف مجتمع کردیئے۔۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں عدل و انصاف کی اقدار منتقل کردیں۔۔۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو حلیم و بردباری اور سخاوت کا آئینہ دار بنادیا۔۔۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ذات میں علوم و معارف، شجاعت و بہادری اور طریقت و امامت کے جوہر جمع کردیئے۔۔۔ اسی طرح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے حفظ قرآن کا فیض حاصل کیا۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث و تفسیر کے فنون کی مہارت حاصل کی۔۔۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار کے جوہر اور فن سپہ گری حاصل کیا۔۔۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فقر و غنا اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز حق بلند کرنے کی طاقت حاصل کی۔۔۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے غلامی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب سیکھے۔۔۔ الغرض کوئی بے ذر سے ابوذر رضی اللہ عنہ بن گیا۔۔۔ کوئی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دائمی القابات سے نوازا گیا۔۔۔ کوئی حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی صورت میں سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پائے جانے والے جوہر شہادت کی تکمیل بنے۔۔۔ کوئی حمزہ، عمار اور حنظلہ رضی اللہ عنہم کی صورت میں اپنی جان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نچھاور کرتے نظر آئے۔۔۔ یعنی جس کی شخصیت میں جو جوہر نکھر کے سامنے آتا اسے اسی جوہر کی تکمیل کا فیض عطا کردیا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیار کردہ قیادت کی لڑی نے دنیا کو امن، انصاف اور رواداری کے عملی نظام کے عظیم تصورات سے آشنا کیا۔

    گوگل سرچ سے استفادہ کیا

  14. کائنات کا انتخاب عربستان کا ریگستان، دنیائے جہالت کا منبع ، ننگ انسانیت کامرکز ، ظلم واستبداد کی آماجگاہ ، کفر وشرک کی درسگاہ ، دنیوی جاہ وجلال کی تابناکی اور زور زبردستی کی بے باکی ، وہ جاہلیت کا عربستان جس کے شیطانی کارناموں کی داستان دنیا کے کونے کونے میں نفرت او رحقارت سے دہرائی جاتی تھی ۔جہاں لڑکیوں کو اس لئے زندہ درگور کیا جاتا تھاکہ کسی کے سامنے جھوٹی انا کا سرنیچے نہ جھکانا پڑے، اتنی گمراہیاں خاندانی رقابتیں ،ذات پاک کی کدورتیں غرض ہر طرف سے تاریکی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔اسی عربستان میں خالق کائنات نے اپنے نور کا ایک ایسا پر تو ڈالا کہ یہ ظلمت کدہ روشنی سے سراپا منور ہوگیا اور عربستان پوری دنیامیں رحمت ، برکت اور ہدایت کا مرکز قرار پایا اورپوری کائنات ایمان کی بارش سے سیراب ہوئی ۔ آنحضور کے تشریف لانے سے عرب کا کفر ستان گلستان ایمان کا مرکز بن گیا۔ وہ محبوب خدا تمام نبیوں کا سردار ، تمام پیغمبروں کا وسیلہ ، دُریتیم جو پیدائش سے پہلے ہی شفقت پدری سے محروم ہوگئے تھے ، جنہوں نے کسی دنیاوی علم ، کسی سکول ،کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہ کی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیور ایمان اور روحانی اسرار سے بہرہ ورہوکر سماج کے تمام فرسودہ روایات ،رسم ورواج اور معاشرے کے تمام جاہلانہ بدعتوں سے مبرا تھے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے تولد ہوتے ہی معصوم اور پاک قرار دیا تھا، جوبچپن ہی سے عرب قوم میں اپنی امانتداری اور سچائی کی وجہ سے امین اور صادق کے القابات سے مشہورہوئے۔ عرب کے اس ریگستان کو دنیا کیلئے ہدایت ورہبری کامرکز بنانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کیا خوب انتخاب کیا ۔اپنے عظیم مشن کو دنیا میں رائج کرنے کے لئے محبوب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیرت انگیز طریقے سے تربیت وحفاظت کی کہ دنیائے انسانیت کے علمبردار اور عقل ودانش کے وارث حیران وششدر ہوکے رہ گئے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب آنحضور کو نبی آخرالزماں ہونے کاشرف حاصل ہوا اور دین اسلام کو فطرت انسانی کے مطابق دنیاوالوں کے سامنے پیش کرنے کی ہدایات ملیں تو عرب کے مغرور خاندانی اجارہ داروں نے ڈٹ کر آنحضور کی مخالفت کی اور قدم قدم پر انتہا درجہ کی تکالیف پہنچاکر آنجناب کو دین حق کی تبلیغ وترویج سے روکنے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگر اللہ تعالیٰ کے پیغام حق کو آنچ نہ آئی اور اپنے اعلیٰ خلق عظیم حسن تدبر ، دوراندیشی اور حق گوئی کی بنیادوں پر ایسے جانثار تیار کئے جنہوں نے دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں ایک لمحہ کے لئے بھی آنحضورصلعم کو تنہا نہ چھوڑا بلکہ دیوانہ وار ہروقت ان کی ہدایات پر مر مٹنے کے لئے کمربستہ رہتے تھے ۔ آنحضور نے دین حق کو لوگوں کے سامنے ایسے حیران کن انداز میں پہنچایا اور آیات قرآنی کو ایسی فصاحت وبلاغت کے ساتھ پیش کیا کہ عرب جیسی دنیا کی جاہل ترین قوم نے بہت ہی قلیل عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے اس سچے نبی کی اطاعت قبول کی ۔ یہ آنحضور کی عظمت وپاکیزگی کا نتیجہ تھاکہ دین اسلام 23برسوں کے بہت قلیل عرصہ میں دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ۔ صحابہ کرامؓ ان کی ہر ہدایت پر لبیک کہتے تھے ۔ حضرت اویس قرنیؓ کی آنحضور کے یہ ساتھ والہانہ محبت کاہی نتیجہ تھاکہ جنگ احد میں آنحضور کا ایک دندان مبارک شہید ہونے پر مذکورہ صحابی نے اپنے تمام دانت توڑ ڈالے ۔ یہ حضرت بلال حبشیؓ کی آنحضور کے ساتھ عشق کی انتہا تھی کہ وہ اذان میں آنحضور کا نام پاک زبان پر لاتے ہی غش کھاگئے ۔ یہ ان کی عظمت اور سچائی کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کو دشمن کے نرغے سے نکال کر غارِ حرا پہنچا دیا اور یارِ غارکا لقب پایا ۔ یہ ان کی سچی دعاﺅں کا ہی اثر تھاکہ حضرت عمرفاروقؓ جو ابتداءمیں اسلا م کے سخت مخالف تھے ، قرآنی آیات سن کر اتنے متاثر ہوئے کہ فوراً مشرف بہ اسلام ہوئے اور اسلا م کے پھیلاﺅ کے لئے کافی جہدوجہد کی ۔ یہ ان کی اعلیٰ تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کو آیات قرآنی اکھٹا کرنے کا شرف حاصل ہوا جو آج چودہ سوسال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باوجود بھی ہمارے سامنے ایک زندہ معجزہ کی طرح موجودہے ۔ یہ ان کی مدبرانہ اور سچی قیادت کا ہی ثمرہے کہ شیرخدا حضرت علی ؓ ہر معرکہ حق وباطل میں حق کا عَلم بلندرکھنے اور عرب کے بڑے بڑے طاقتور سرداروں کوزیرکرنے میں ہمیشہ فتخ یاب ہوئے ۔ یہ آپ کی نبوت کی سچائی کا راز ہی ہے کہ نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسینؑ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام حق اسلام کو تحفظ کی خاطر ہر طرح کی قربانی پیش کرکے تیروں اور تلواروں میں سجدہ شکر بجالایا اور رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لئے اسلام کی بقاءکی خاطر مرمٹنے کے لئے ہروقت تیار رہنے کا راستہ متعین کیا۔ ایک سچا مسلمان ہر ظلم برداشت کرسکتاہے مگراپنے ہادی برحق کی خلاف ورزیکسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتا۔ آنحضور نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی سیرت پاک کی بناءپر انسانیت کی تعمیر کے لئے جو اصول یا عبادات دنیا والوں کے سامنے رکھے ہیں ان میں اتحاد و فکر وعمل ، رواداری ، بھائی چارہ ، انسانی ہمدردی ، مساوات اور اخلاقی قدروں کا عظیم درس ملتاہے ۔گویا اسلامی اصول وعبادت ” جیو اور جینے دو“ کے وسیع ترین فلسفہ حیات کے مظہر ہیں ۔ مسلمان کلمہ توحید پڑھ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوکر وحدت فکر وعمل کو قبول کرتاہے ۔ نماز پنچگانہ مسجدوں میں ادا کرنے سے محلہ برادری کے درمیان اتحاد فکر و عمل پیداہوتاہے ۔ نماز جمعہ جامع مسجدوں میں پڑھنے کا مقصد اردگرد کے تمام محلہ جات کی آبادیوں کے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی اور یکسوئی تصور کواُجاگر کرناہے ۔نمازعیدین ایک ہمہ گیر اتحاد کی علامت ہے ۔روزہ پابندی وقت ، تزکیہ نفس اور غریب ومجبور لوگوں کی فاقہ کشی کا احساس دلاتاہے اور ساتھ ہی جسم وروح میں صحت مندی وچشتی دلاتاہے ۔ اسی طرح فریضہ حج بھی عالمی سطح پر اہل اسلام کے عالمگیر میل وملاپ اور اخوت ومحبت کو مستحکم بنانے کا بہترین مرکزی موقعہ فراہم کرتاہے اور دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے مختلف ذاتوں ، قبیلوں ، رنگ ونسل ،زبانوں کے مسلمانوں کو اتحاد واتفاق اور جذبہ ہمدردی کی لڑی میں پرونے کا ذریعہ بنتاہے ۔ منشائے ایزدی کے تحت آنحضور نے جب کلمہ توحید کی تعلیم قوم کو دی تو قوم کی طرف سے دریافت کیا گیا کہ کلمہ توحید کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آنجناب کی رسالت کا اقرار کیاجاتاہے تو آنجناب کس کا کلمہ پڑھتے ہیں جبکہ رسول آپ خود ہیں ۔سچائی کے پیکر راست بازی کے علمبردار اور اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس پر غیر متزلزل اعتقاد و اعتماد رکھنے والے سچے نبی نے قوم سے فرمایا کہ ” میں بھی یہی کلمہ پڑھتاہوں جس میں میرے رسول ہونے کا اقرارہے “ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس سچائی کا اقرار آج گلوب کے حساب سے پوری دنیا میں مختلف اوقات پر مختلف ممالک میں مسلسل چوبیس گھٹنے اذان کے جاری رہنے سے ہوتاہے ۔ لہٰذا اگرہمیں امت نبی اکرم ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمیں اپنے رہبرکامل کی سیرت پاک پر دل وجان سے عمل پیرا ہوکر آپ کے فرمودات پر عملاً چلنا چاہئے اور اتحاد فکر وعمل کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں کا سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند پوری قوت ایمانی کے ساتھ مقابلہ کرکے اسلام کے بنیادی عقائد اور اعلیٰ اصولوں کا دفاع کرنا چاہئے

    گوگل سرچ سے مدد لی گی ھے

  15. اسلام علیکم
    بہت خوبصورت بلاگ ہے ۔اور علم کا خزانہ ۔ہماری جانیں قربان پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرپر اور ان اصحابِ کرام پر ۔
    حصرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے اقوال نقل کر رہی ہوں ۔کتاب کا نام ہے سیرۃ الصدیق
    آپ نے فرمایا ۔
    اے اللہ کے بندو آپس میں قطع تعلق نہ کرو بغض نہ رکھو ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور بھائی بھائی بن کر رہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے ۔
    فرما یا ہر گز فخر نہ کرو غور کرو کہیں وہ شخص بھی فخر کر سکتا ہے جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہو اور مٹی میں ملنے والا ہو اور اس کو چونٹیاں کھائیں ۔آج اگرچہ زندہ ہے مگر کل ضرور اُس کو موت آئیگی ۔
    فرما یا کہ عورتوں کو دو سُر خیوں یعنی سونے کی سُرخی اور زعفران کی زردی میں ملی ہوئی سُرخی نے ہلاک کر دیا ۔
    فرمایا اگر تم خدا کی رحمت کے امیدوار ہو تو اس کی مخلوق پر رحم کرو ۔
    آپ اپنی دعا میں اکثر یہ الفاظ فرمایا کرتے تھے “ الہ العالمین میری آخری عمر اچھی کر ،نیک عمل پر میرا خاتمہ فرما اور اپنی ملاقات کا دن سب دنوں سے بہتر کر دے ۔
    آپ نے فرمایا کہ صالحین یکے بعد دیگرے اُٹھا لئے جائینگے حتیٰ کہ ایسے لوگ باقی رہ جائینگے جو آٹے کی بھوسی کی طرح بالکل بیکار ہوں اور جن سے خد تعالیٰ کا کوئی تعلق نہ ہوگا ۔
    باوجودیہ کہ آپ سب سے افضل اور عقلمند تھے لیکن انکسار اور فروتنی کا یہ عالم تھا کہ آپ فرماتے بھائیو میرا تمہارے جیسا ہی دل و دماغ ہے جب تم دیکھو کہ میں سیدھی راہ پر چل رہا ہوں تو میری مدد کرو ، جب مجھے غصے میں دیکھو تو میرے پاس سے ہٹ جاؤ کہ میں خدانخواستہ ظلم نہ کر بیٹھوں ۔
    آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے کرنے میں اپنی رحمت کا وعدہ فرمایا اُس کے کرنے میں جلدی کرو ،سمجھو اور سمجھاؤ ،ڈرو اور ڈراؤ ،کیونکہ خدا تعالیٰ نے صاف طور پر بیان کردیا ہے کہ تم سے پہلے کون لوگ کن امور کے کرنے سے ہلاک ہوئے اور کون سے کام کرنے سے جنات پائی اُس نے اپنی کتاب میں حلال و حرام ،مکروہ و مستحب اور محبوب چیزیں بیان کر دی ہیں میں تمہیں اور اپنے نفس کو نصیحت کرنے میں دیر نہیں کرتا ۔
    فرمایا کہ جو شخص نفس کی پیروی ، طمع اور غصہ سے بچا وہ چھٹکارا پا گیا ۔
    آپ نے فرمایا مُردوں سے عبرت حاصل کرو ۔
    فرمایا اللہ تعالیٰ مخلوق پر سے کبھی مصیبت اور برائی نہیں ہٹاتے تا وقتیکہ مخلوق عبادت کی طرف نہ جھک جائے ۔
    فرمایا تم جان لو ! کہ حق تعالیٰ بغیر اعمال کی سزا دئیے کبھی نہ چھوڑینگے ۔
    آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈرا کرو اور جانو کہ وقت قریب ہے کہ ہر چھپا ہوا راز کھل جائیگا اور لوگ جان لینگے کہ ہر چیز میں تمہارا کتنا حصہ ہے تم نے کیا کھایا اور کیا چھوڑا

    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق اور سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے اور ہم ان گنجینوں سے اپنی زندگیاں سنوار سکیں ، آمین
    آصف بھٹی بھائی اتنا خوبصورت بلاگ سجانے پر جزاک اللہ خیر
    یہ مفتی محمد صابررحمہُ اللہ صاحب کی کتاب کے حوالے ہیں جو میں نے تحریر کئے ۔
    عالم آرا

  16. معافی چاہتی ہوں دسویں لائن میں ( نجات )پڑھئے گا ۔ جزاک اللہ خیر
    عالم آرا

  17. جزاکم اللہ خیر
    اس خوبصورت لڑی میں آپ سب کی امد اور معلوماتی تبصرے اسے مزید خوبصورت بنا گئے ہیں ۔
    نگہت نسیم آپی ! آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
    شاہین حیدر رضوی اپی ! آپ کا بھی بہت بہت شکریہ ۔
    محترمہ عالم آرا صاحبہ ! آپ کا بھی بہت بہت شکریہ ۔
    آصف احمد بھٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *