نادر لوگ

میں جب اس بار پاکستان گئی تو یہ سوچ کر گئی تھی کہ میں اپنے ملک کو مثبت آنکھوں سے دیکھونگی . اس بابت جو بھی دکھ اور ملال میرے دل میں ہیں، اسے بھول جاؤنگی . جتنی بھی اپنے ملک سے جڑی خواہشیں ہیں انہیں کہی ڈھوندونگی اور اگر میں کہی کوئی مثبت کام ، خیال یا بات وہاں چھوڑ کر آ سکی تو اپنی خوش نصیبی سمجھونگی .میری پاکستان سے واپسی 13 اپریل کی صبح تین بجے لاہور سے تھی . میں سب کو ایک بجے ہی خداحافظ کہہ کر اپنے سفر کے لئے عالامہ اقبال ائرپورٹ کے احاطے میں داخل ہو چکی تھی .

لاؤنج میں آہستہ آہستہ لوگ آتے جا رہے تھے . نڈھال . اداس اور تھکے ہوئے سے لوگ واپسی کی اڑان بھرتے ہوئے اپنے پیاروں سے بچھڑ آئے تھے . میں بھی انہی میں سے ایک تھی . دل کہی نہ لگ رہا تھا . میں لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ائر پورٹ کو پہلی بار اندر سے دیکھ رہی تھی … مجھے سب سے اچھی دوکانیں لگ رہی تھیں . پیتل کے برتنوں پر مختلف رنگوں کے نقش و نگا ر، ملتانی ، سندھی کشیدہ کاری کے نمونے ، رنگا رنگ کپڑے .. میں نے ہر دوکان سے کوئی نہ کوئی سوغات خریدی یہ سوچ کر کہ یہ میرا پاکستان ہے . اس کی آبیاری ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا .. میں نے اپنے اسٹاف کے لئے بھی کچھ سندھی کڑھائی والے پرس بڑے فخر سے خریدے ..

پھر مجھے اپنی پسند کی دوکان بھی نظر آگئی .. کتابوں کی دوکان، خوشی میں جس کا نام تک پہلی نظر میں نہیں دیکھا .. کوئی تیس منٹ ساری کتابیں دیکھتی رہی …پھر کتاب گھر کا نام دیکھا ، بورڈ پر“ بک شاپ“ لکھا تھا ۔ نام دیکھتی جاتی اور سوچتی جا رہی تھی کہ اپنے ساتھ کتابیں کیسے ساتھ لے جاؤں کیونکہ اب اپنے ساتھ ایک کتاب کے علاوہ کچھ نہیں رکھ سکتی تھی کہ میرے پاس ائیر پورٹ سے خریدا ہوا سامان بہت زیادہ ہو چکا تھا .. میں نے دوکاندار سے پوچھا” بھائی صاحب کیا آپ مجھے میری پسند کی کتابیں سڈنی بھیج سکتے ہیں .. انہوں نے کہا جی باجی ضرور کیوں نہیں .. میں نے جلدی جلدی انہیں کتابوں کے نام لکھوائے اور 100 ڈالر دیئے اور اپنا پتہ انہیں لکھ کر دے دیا … میں نے پھر پوچھا کہ انہیں پیسے اس سے زیادہ تو نہیں چاہیئے … انہوں نے اتنی حیرانی سے مجھے دیکھا جیسے میں کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں .. کیا اعتبار انسان کو مختلف بنا دیتا ہے یا وہ انسان سب سے جدا دیکھائی دیتا ہے .. ان کی آنکھیں تشکر سے یا شاید حیرانی سے جھلملا رہی تھی .. انہوں نے مسکراتے ہوئے مزید پیسے لینے سے انکار کر دیا اور اپنا کارڈ میری طرف بڑھا دیا .. تب مجھے پتہ چلا کہ ان کا نام ” نادر محمود ” ہے .. کارڈ پر ان کے دو فون نمبر درج تھے .

میں 995 روپے کی ” واصفیات ” خرید کر وہی ورق گردانی میں مشغول ہو گئی .. پھر خیال آیا کہ چیکنگ نہ شروع ہو چکی ہو پر ایئر پورٹ پر بس ایک ہی دوکان بچی تھی سوٹ کیس اور پرس کی .. سوٹ کیس مجھے چاہیئے نہیں تھے ..اور پرس میں خرید چکی تھی . پر مجھے اچھا نہیں لگا خالی ہاتھ نکل آنا سو ” ہاشمی کاجل ” ڈیڑھ سو روپے میں خریدا اور واپس لاؤنج میں آگئی .

میں شاپنگ سے بہت گھبراتی ہوں .. پر آج کی شاپنگ نے مجھے جو خوشی دی تھی وہ بیان سے باہر تھی .. میں نے اپنا اعتبار اپنے پاکستانی بھائی کو دیا تھا ، مجھے یقین تھا کہ نادر بھائی مجھے میرے 100 ڈالر کا اعتبار ملین ڈالر میں لوٹائیں گے .. یہ بھی سوچا کہ اگر نہ بھی لوٹایا تو میں اسی میں خوش رہونگی کہ میرے بھائی کے کام آگئے .. میرے پیسے میرے وطن کے کسی کام میں شامل ہو گئے… سو ڈالر میں اعتبار خرید لانا مجھے مسررور کرتا رہا ..

مجھے واپس سڈنی آئے دو ہفتے ہو چکے تھے . نادر بھائی کا فون آ گیا .. انہوں نے بتایا کہ انہیں گھر تک کتابیں پہنچانے کی سستی ڈیل نہیں مل رہی اس لئے کتابوں کو دیر ہو رہی ہے .. مجھے دیر سے زیادہ نادر بھائی کی احساس زمہ داری حیران کر رہی تھی .. کوئی بات نہیں بھائی آپ سکون سے بھیج دیجئے گا .. میں نے یہ کہہ کرفون رکھ دیا .. میری زندگی میں کئی خوشگوار لمحے اپنے ہونے کا یقین دلانے لگے تھے ..

پچھلے ہفتے نادر بھائی کا پھر فون آیا کہ انہیں ایک اچھی ڈیل مل گئی ہے اگر میں کہوں تو کتابیں بجھوا دیں .. میں نے ان سے کہا ضرور کیوں نہیں .. پر پیسے .. میری بات پر نادر بھائی نے کہا کہ وہ کام مکمل کرنے کے بعد مجھے بل بھیج دیں گے …

پر آج بڑی عجیب بات ہوئی ہے ..48 کتابیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں لیکن نادر بھائی نے ابھی تک بل نہیں بھیجا … شاید کوئی سمجھے کہ وہ مجھے دوگنا بل بھیجیں کہ تگنا کر کے مانگیں .. کاش وہ مجھ سے چار گنا زیادہ مانگیں .. اور میں انہیں ہنس کر ادا کروں .. انہوں نے میرے سو ڈالر کے اعتبار کو جس طرح سے ملین ڈالر کے اعتبار میں لٹایا ہے .. اس بھروسے اور یقین کا کوئی بدل ہے ہی نہیں ..وہ بھی تو سوچ سکتے تھے کہ اگر اس خاتون نے پیسے نہ بھجوائے تو …؟ پر انہوں نے کچھ نہیں سوچا اور مجھے کتابیں اسی بھروسے پر بھیج دی جس یقین کے ساتھ میں نے منگوائی تھی …

کاش نادر بھائی آپ میری تحریر کو پڑھ سکیں اور جان سکیں کہ آپ کتنے ” نادر” سے ” بھائی ” ہیں .. اللہ کریم آپ کو سلامتی عطا کرے .. آپ جیسے لوگ اس صدی کے پاس بہت کم کم ہیں

21 thoughts on “نادر لوگ”

  1. یہ تازہ شعر آپکی نذر۔
    خدا سے جوکہ ڈرتا ہے نبی پر جاں چھڑکتا ہے
    اگر ہے مسلماں باقی کہیں مشکل سے ملتا ہے

  2. اسلام علیکم ساتھیو
    بہن نگہت اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے اعتبار ہی اعتبار کو کھینچتا ہے ۔ اگر ہم دیکھیں تو ہمارے وطن میں ایسے نادر لوگوں کی کوئی کمی ہی نہیں ہے ،۔ ہم جب بھی اپنے وطن جاتے ہیں ہمیں یہ نادر لوگ ضرور ملتے ہیں ،
    اللہ میرے ملک کے ان نادر لوگوں کو ہمیشہ سلامت رکھے کہ یہ ہوا کا وہ جھونکا ہیں جو ہمیں سر شار کر جاتے ہیں ۔

    عالم آرا

  3. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ :خدا کا شکر ہے کہ نادر صاحب جیسے ایماندار پاکستانی اب بھی زندہ ہیں: انہی کی وجہ سے پاکستان زندہ رہے گا : انشااللہ ورنہ بہت سارے وحشت ناک قصے سننے میں آرہے ہیں کہ ایمان اور دیانت جیسی نعمتیں پاکستان سے عنقا ہوتی جارہی ہیں : کسی کو کسی پر اعتبار نہیں ؛ مہنگائی ، بے روز گاری ، کساد بازاری اور بد عنوانیون اور دھوکے بازی اور غنڈہ گردی ، چوری اور ڈاکوں اور قتل و غارت گری اور بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈ نگ کی وجہ سے محدود آمدنی رکھنے والوں کی زندگی تنگ ہوگئی ہے اور اچھے اچھے شریف اور ایماندار پاکستانی بھی یا تو ملک چھوڑنے کے لے بے تاب ہیں یا پھر زہر کھا کر خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں یا پھر بھیک مانگ کر جینے یا پھر حرام کی کمائی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، اللہ پاکستان کی حفاظت کرے : آمین

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ : اب جب کہ مجھے میر ے محبوب اخبار میں کچھ لکھنے کا موقعہ ملا ہےتو اس سے فائدہ اٹھاکر میں عالمی اخبار کی ان تمام ہستیوں کو سلام کہتا ہوں جن کی قربت نے مجھے اردو لکھنے کا ڈھنگ سکھایا ؛ نام بہ نام اگر شکریہ ادا کروں تو یہ صفحہ کافی نہین ہوگا۔ اللہ حافظ
    فقط:

    منظور قاضی : میونخ جرمنی سے

  4. نگہت آپی یہ تو خوبصورت کہانی ہے ۔ بھروسےاور یقین کی۔ کوی اعتبار کو قاہم رکھے تو ایک طرح کی عجیب خوشی ہوتی ہے،ہمارے ہاں کافی ایسے نادر لوگ ہیں جو بھروسے کے قابل ہیں۔شاہد اس لیے وطن جل رہا ہے۔اور نگہت آپی آپ کی سوچ کتنی اعلی ہے ۔آپ برا سوچنے کے بجاے کہ رہی ہیں کہ یہ روپے وطن کے کام آہیں گے۔سلام ہے آپ کی سوچ کو۔ کاش ہر کوی آپ جیسا سوچنے والا ہو جاے۔اللہ آپ کو ڈھیروں خوشیا ں اور لمبی عمر دے۔ آمین۔

  5. اور آپی نگہت جو ایرپورٹ کے اندر کا منظر بیان کیا ہے۔ ایسا ہی ہے، اور میں اب جب بھی وہاں سے جاوں گی۔ آپ بہت یاد آہیں گی۔میں سوجوں گی پتہ نہیں آپ کس جگہ بیھٹی ہوں گی۔ کس دکان میں گی ہوں گی۔ اور کتابوں والی دکان تو میں ضرور دیکھوں گی۔

  6. شمس بھائی بہت بہت شکریہ ۔۔ بہت ہی خوبصورت شعر پر داد لیجئے ۔۔ مجھے آپ نے جوخوشی دی ہے وہ بیان سے باہر ہے ۔سلامت رہئے ۔۔الہی آمین

  7. آپا عالم آرء مجھے اس بار اپنے وطن سے بہت محبت محسوس ہوئی ۔۔ مجھے لگا کہ اگر ہم سب مل کر اس سے محبت کریں اور اس کے تھوڑا سے بھی کام آجائیں تو شاید اپنے لوگوں کے کچھ غم دور کرنے کی کوششوں میں شامل ہو سکیں

  8. محترم منظور بھائی ۔۔ آپ کابلاگ میں آنا ہمیشہ ہی خوشی دیتا ہے ۔ آپ کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کے لئے ممنون ہوں

  9. پیاری نوشی تم بہت اچھی ہو ۔۔ ہمیشہ اچھا ہی سوچتی ہو ۔۔ سلامت رہو ۔۔ وہ ہے نہ کہ “ گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے ۔۔ وہ گھر جس نے ہماری شناخت بنائی ۔۔ ہمیں پہچان دی ۔۔ دعا کعرتی ہوں کہ اتنی ترقی کرے کہ لود وہاں کی نیشلٹی کے لئے ملین روپے دینے کو بھ تیار رہے ۔۔ لوگوں کے خوابوں کاجہان بن کر رہے ۔۔الہی آمین

  10. ابھی ابھی میری نادر بھائی سے فون پر بات ہوئی ہے ۔۔ بہت ہی سلجھے ہوئے نادر بھائی کو اب بھی پیسوں کی کوئی جلدی نہیں تھی ۔۔ کہنے لگے باجی آپ کوجب سہولت ہو بھیج دیجئے گا ۔۔ اور کبھی کچھ بھی پاکستان سے چاہیئے ہو اپنے بھائی کو یاد رکھئے گا ۔۔ میں نے ان کے بھروسے کا بہت بہت شکریہ ادا کیا ۔۔ وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ انہوں نے میری کتابیں بھی فیصل آباد سے منگوا لی ہیں تاکہ اسے “ بک شاپ“ پر رکھا سکیں ۔۔ انہوں نے میرا اور میرے ان پر بھروسہ کرنے کا بہت بہت شکریہ ادا کیا ۔۔ میں نادر بھائی کے لئے سچے دل سے دعاگو ہوں کہ اللہ کریم انہیں دنیا کی ہر خوشی عطا کرے ۔۔ ان کی ہر مشکل اپنی رحمتوں سے آسان فرما دے ۔۔الہی آًین

  11. اسلام علیکم ساتھیو
    جیتی رہئے بہن نگہت نسیم
    بھائی منظور قاضی آپ کی آمد ہمیشہ ہمیں بہت خوشی دیتی ہے ۔اللہ آپ کو صحت اور تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے آمین
    میری عمر کے لوگ شاید مجھ سے اتفاق کریں کہ پہلے اچنبھا جب ہوتا تھا جب کوئی دھوکا دے دیتا تھا کیونکہ اخلاق اتنے کمزور نہیں ہوئے تھے ۔اب اچنبھا جب ہوتا ہے جب کوئی اعتبار نہ توڑے ۔وعدہ نبھا دے ۔ وقت کس تیزی سے بدل رہا ہے وہ خوف میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
    پیاری بہن نگہت ہم سب ہی اپنے وطن سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔ ہم جو بھی ہیں پاکستانی پہلے ہیں ۔
    بہن نوشی جیتی رہو ۔تمہارا تبصرہ اچھا لگا ۔
    ہم سب کی دعائیں بھی نادر صاحب کے لئے ہیں کہ وہ اسی طرح سب کی دعائیں سمیٹتے رہیں ۔

    عالم آرا

  12. اآپاصاحبہ آپ کی محبت کے تئیں محبت وعقیدت قابلَ دادہے اورنادربھائی نے جس طرح سے بھروسے اوراعتبارکاثبوت دیاہے اُس نے پاکستانیوں کواعتباروبھروسہ کے لائق ثابت کیاہے ۔۔اللہ کرے نادربھائی جیسے تمام پاکستانی ہوجائیں اورملک کی فلاح وبہبودکےلئے جی توڑمحنت کریں ۔اآپاعلامہ اقبال ایئرپورٹ کامنظرجس طرح سے اآپ نے بیان کیاہے اُس سے مجھے بہت چاہت ہورہی ہے کہ کاش میں بھی پاکستان کایادگارایئرپورٹ دیکھوں اورموقعہ ملے تونادربھائی جیسے مخلص انسان سے ملوں۔اللہ تعالیٰ سے دُعاہے کہ تمام پاکستانیوں کواپنے ملک کاوقاربلندکرنے کی توفیق عطافرمائے۔اآمین۔

  13. اآپاصاحبہ ۔معاف کریں ۔پہلے جملے میں غلطی ہوئی ہے۔لکھنایوں تھاکہ اآپ کی اپنے پیارے پاک وطن پاکستان کے تئیں محبت وعقیدت قابل دادہے اورنادربھائی نے جس طرح سے اآپ پربھروسہ اوراعتبارظاہرکیااُس سے پاکستان کاوقاربلندہواہے اوریہ ثابت ہواہے کہ پاکستان میں ابھی بھی بے شمارلوگ ایسے ہیں جواپنے ملک کے وقارکی خاطرپیسے کوترجیح نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نادربھائی صاحب۔۔۔۔اآپ کوبہت بہت سلام۔۔۔۔

  14. میری بہت پیاری بہن اور عزيزدوست تم تو خود کتنے لوگوں کی نادر بہن اور بھائ ھو
    دل کو آچھا لگتا ھے کہ ھماری دینا میں ابھی بہت سارے لوگ ایسے ھیں جیسے تم تو اتنی ساری کتابیں بیھجنے والےنادر بھائ
    اللہ پاک ھر پاکستانی کے قالب میں ایک نادر الوجود نادر بھائ جیسی شخصیت کو سما دے ، مجھے بس اس بلاگ نے جکڑ لیا ھے
    ابھی عالم آراہ بہن کے بلاگ پر بھی تبصرہ کرنا ھے اور میں بھلا اپنے ٹرانسپورٹر کو کتنی دیر انتظآر کرا سکتی ھوں ۔

    اللہ پاک ھماری دینا میں جتنے بھی نادر بھائ ھیں انکی حفاظت فرماء انکو ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھنا اے میرے رب
    ان اچھے لوگوں کی حفاظت فرماء آمین ثم آمین تفصیلی تبصرہ رات کو
    سب کو سلام و دعا کے ساتھہ
    طالب دعا

  15. ارے نگہت آپی ! میری امی ، عنبرین بھا بھی ، گڑیا (بہن) آج میرے ساتھھ تھیں ۔ یہ کہانی ان سب نے پڑھی ہے۔ اور اتنا کمال کا لکھنے پر بہہت سارا سلام و پیار کہ رہی ہیں۔

  16. اسّلام م علیکم سب ساتھیوں ،،
    اللہ پاک تم سب کو اپنی اپنی جگہ شادوآباد رکھّے آمین ،

    مسیحا بیٹی ہمارے پیارے پاکستان میں اتنے اجلے دل والے لوگ بھی تو رہتے ہیں ناں! نادر ونایاب سہی لیکن ہیں ،اور اسی لئے پیارا پاکستان اور بھی زیادہ پیارا ہو جاتا ہئے

    کسی کے خلوص کا اعتراف اللہ کو بہت پسند ہئے،تم نے اپنے محسن کو بہت اچھے الفاظ اور عنوان سے یاد کیا اور حقیقت یہ ہئے کہ اعتبار کا بھرم تم دونون نے ہی رکھّا

    اللہ پاک میرے وطن کو بے شمار نادر عطا کردے آمین
    دعاگو زائرہ بجّو

  17. ’یہ ملک بے مثال ہے ، یہ ملک بے نظیر ہے ‘

    ویسے تو یہ مصرعہ زرداری راج کے آغاز میں ملک کے ’ گلی ، محلوں ، اور ندی نالوں ‘ کو بی بی کے نام سے موسوم کیے جانے کے موقع پہ لکھی جانے والی میری ایک نظم کا ہے لیکن حقیقت میں یہ پاکستان اور پاکستانیوں کی ترجمانی ہے جسکاثبوت ڈاکٹر صاحبہ ، آپ کا یہ بلاگ ہے ۔ نادر لوگوں کا نادر لوگوں سے ہی واسطہ پڑتا ہے ۔ آپ کا یہ بلاگ مجھے بھی واپس پاکستان لے گیا جہاں بالکل اسی طرح کی صورتحال سے میرا بھی پالا پڑا ۔ اس کی تفصیل تو پھر کبھی لیکن یہاں بلاگ کے حوالے سے نہایت افسوس سے یہ ضرور کہوں گا کہ انفرادی سطح پہ اس بھروسے و اعتماد کے باوجود ہم اجتماعی سطح پہ ، بدقسمتی سے، اس خوبی سے عاری قوم سمجھے جاتے ہیں ۔ ہم سادہ لوگ خود تو ہر ایک پہ اندھا اعتماد کر لیتے ہیں اور بسا اوقات ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے بھی جاتے ہیں لیکن باہر کی دنیا بحثیت ملک وقوم ہم پہ اعتبار نہیں کر رہی۔ کاش سارا ملک ہی ’ نادر‘ ہو جائے اور ہمیں دوست بھی ’ نادر‘ ہی ملیں، آمین ۔

    بلاگ میں نئے اور پرانے تمام ساتھوں کو میرا محبت وعقیدت بھرا سلام ۔

    جاوید کیانی
    ٹورنٹو ۔ کینیڈا (فی الحال)

  18. پاکستان عوام کے حوالے سے کبھی بھی غریب نہیں رہا. 65 کی جنگ ہو یا 71 میں ملک کی تقسیم.سیلاب ہوں یا زلزلے. ایسی باہمت اور صابر عوام بہت کم ممالک میں ہیں. اس سے زیادہ اس عوام کی بڑائی کیا ہو گی کہ ایسی ایسی حکومت کو برداشت کیا ہے کہ انکو خود انکے گھر والے برداشت نہیں کرتے. مسلہ عوام کا نہیں حکومتوں کا ہے. ایسا ملک ہے کہ رکشے والا آپکو شہر میں مہمان سمجھ کر منزل تک چھوڑ کر بھی آئے گا اور کم از کم ایک بار کہے گا کہ پیسے نہیں لینے.
    یہ ایک ہی نادر نہیں ایسے نادر ونایاب تو اکثر مل جاتے ہیں. مسلہ یہ ہے کہ ہم نیکی کی تشہیر نہیں کرتے اور برائی کو اچھالتے ہیں. نادر اور نادر شاہی میں فرق کرنا پڑے گا. اس ملک میں نادر بھی ہیں اور نادر شاہی بھی. یہ ڈاکٹر صاحبہ کی نیک نیتی اور خوش بختی ہیں کہ نادر سے پالا پڑا نادر شاہی سے نہیں
    بھائی نادر کو ہمار بھی سلام

  19. ڈ اکٹر نگہت نسیم صاحبہ ، محترمہ عالم آرا صاحبہ اور جناب صفدر ہمدانی صاحب: اور عالمی اخبار کے تمام بلاگ نگاروں کا شکریہ کہ مجھ دور افتادہ کو اپنی دعاوں میں شامل رکھتے ہیں : میری فیس بک کی بھول بھلیاں مجھے عالمی اخبار سے دور رکھتی ہیں مگر یقین مانیے کی میرے دل کو جتنا سکون عالمی اخبار کے بلاگوں میں ملتا ہے وہ فیس بک کی دنیا میں نہیں ملتا: فیس بک کی دنیا پر میرا ایک قطعہ ہے کہ :
    عجیب آئینہ خانہ ہے جس میں آتے ہی
    ہر ایک ہوگیا مرکوز اپنی ہستی میں

    ہر ایک جذب ہے اپنے ہی آپ میں قاضی
    بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے دو اور اشعار یہ ہیں :
    وہ عکس جو آئینے میں موجود ہے ہردم
    ویسا کوئی آئینے سے ہٹ کر نہیں دیکھا

    سایہ مرا ہمزاد عجب ہے کہ کبھی بھی
    ظلمت میں مجھے اس نےپلٹ کر نہیں دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرا یہ ایک اور شعر:
    شب۔ وصال کی نیرنگیوں کےصدقے میں
    مجھےتو قوس۔ قزح رات میں نظر آئی

    ایک اور شعر :
    خدا کا شکر ہے میں آگیا ہوں تیری محفل میں
    وگرنہ ختم کردیتیں مری تنہیائیاں مجھ کو
    ۔۔۔۔۔

    اللہ حافظ
    منظور

  20. اسلام علیکم منظور قاضی بھائی
    یہت خوبصورت اشعار ہیں ۔
    عجیب آئینہ خانہ ہے جس میں آتے ہی
    ہر ایک ہوگیا مرکوز اپنی ہستی میں

    ہر ایک جذب ہے اپنے ہی آپ میں قاضی
    بشر کو ڈھونڈتے کیوں ہو بتوں کی بستی میں

    بھائی محترم فیس بک تو ہے ہی ایسی جس میں داخل ہو کر سب کا حال آپ جیسا ہی ہو جاتا ہے ۔
    مگر خیر ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے ہمیں یاد رکھا ۔ جب جب فرصت ہو بلاگ پر ضرور آیا کیجئے ۔
    اللہ آپ کو صحت اور زندگی دے آمین
    دعاکی طالب
    عالم آرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *