مجھے کچھ علم نہیں کہ میں اپنے اس استاد زادے کی موت پر اس تحریر کو کہاں سے شروع کرؤں اور کیسے ختم کرؤں۔ اب اس وقت جب میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں تو شبیہ الحسن کو اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ احباب،دست ،ساتھی،شاگرد،محبت کرنے والے اور اس سے فکری و ادبی اختلاف رکھنے والے اسے منوں مٹی تلے دباکر واپس آ چکے ہیں اور وہ شبیہ الحسن اپنے والد وحید الحسن کے پاس پہنچ چکا ہے۔ اسکے گھر میں جو کہرام بپا ہے اسکی آواز میں ہزاروں میل دور بیٹھا سن سکتا ہوں، عرفی آسٹریلیا سے لاہور پہنچ چکا ہے لیکن علم نہیں کہ وہ اپنے محسن صفت بڑے بھائی کا آخری دیدار بھی کر پایا کہ نہیں؟
مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک کو کلک کریں

بابا صاحب اس ملک کے حاکم ہی دراصل مجرم ہیں کہ انہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیئے قاتلوں اور دہشت گردوں سے سمجھوتے کر رکھے ہیں .. ابھی آنکھیں کچھ دیر کو صاف ہوں تو کچھ لکھوں .. یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی اپنا بہت ہی پیارا جہاں سے چل دیا ہو .. فریاد لوٹ کر واپس آ جاتی ہے ..
دکھ صرف اس بات کا ہے مسلمانوں کی کج رویاں اپنے ہی بہن بھائیوں کو نگل رہی ہیں اور سچ پوچھئے تو ہم سب آج کربلا ہی کے میدان میں ہیں ۔۔ بھوک بھی ہے ۔۔پیاس بھی ہے ۔۔۔ دوستوں کے روپ میں بے ایمان دھوکہ باز مسلمان دشمن بھی سامنے ہیں ، جابر ڈنڈا زور حکمران بھی سامنے ہے اور نبی کے دین کے رکھوالوں کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے میری نظر میں سارے منظر تازہ ہو رہے ہیں اور یوں لگ رہا ہے جیسے حضرت زین العابدین سجاد الساجدین نے پھر اعلان فرمایا ہو کہ جو کربلا کے عینی شاہدین ہیں وہ آ کر اپنی یاداشتیں لکھیں ۔۔۔۔ ہماری یہ یاداشتیں ظلم کی انتہا کی قلمبندی ہے اور ہم جیسے حکم ہی بجا لا رہے ہیں
قطع نطر اس بات کہ ہم سنی ہیں کہ شعیہ یا کچھ اور ۔۔ انسان کی موت کا جواز اس کا عقیدہ یا نظریہ حیات نہیں ہونا چاہیئے ۔۔ یہ کتنے تاسف کی بات ہے کہ سعودیہ اور اس کی زیر سایہ پلنے والی دینی جماعتوں کے لئے عیسایت سے تواسلام کے لئے کوئی خطرہ نہیں لیکن شعیہ مسلک اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے صد افسوس کہ کئی معتبر مسلمان بھی یہی یقین رکھتے ہیں ۔
ہائے دہائی ہے لوگو ۔۔ دہائی ۔۔
جن کے سخن میں خوشبوئے علمِ رسول تھی
دنیا سے آج کیسے وہ اہلِ سخن گئے
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کو ئی دہشت گرد کسی بھی تنظیم کسی بھی ملک کی سرپرستی میں ہو وہ آخر کتنے شعیہ مسلمان مار لے گا اور کیا انہیں ختم کر دینے اسلام کا پرچم جھک جائے گا یا اسلام سعودیہ کے شاہی گھرانے کی لونڈی بن جائے گا ۔ اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ مغربی ممالک جنہیں سعودی مسلمانوں کے علاوہ دنیا کا ہر مسلمان دہشت گرد یا بنیادپرست لگتا ہے کب تک آنکھیں بند کر کے آئی بلا کو ٹال سکیں گے ۔۔ اور اب تاریخ کویہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ صدیوں کی ملوکیت اور آمریت زدہ وہ مسلمان جنہوں نے اللہ کے نبی کو تقسیم کیا ۔۔ ان کی اولاد کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے ازواج کو تقسیم کیا ۔۔ ان کے اصحاب کو تقسیم کیا ۔۔اب عام مسلمانوں کو تقسیم کر رہے ہیں اور چن چن کر شیعہ کو مار رہے ہیں وہ کب تک عافیت میں رہ سکیں گے
جو اسلام کے صحیح معنی نہیں سمجھتا وہ سب سے بڑا منافق کہلا ئے گا معتبر مسلمان ہرگز نہیں کہلائے گا
اللہ پاک ہم سب کو سوچ کی درست سمت عطا فرما کر دوزخ کی آگ مین جلنے سے بچائے کہ منافق کی سزا کافر سے بڑھ کر ہئے
اسوقت حالت یہ ہئے کہ خانہ کعبہ میں مذہبی رسوم کی ادائیگی بھی ان کے خنزیر کھانے اور شراب پینے والے مغربی آقاؤں کی نگرانی میں ہوتی ہئے اور نپے تلے حساب سے اوپر الفاظ کا استعمال بھی ممنوع ہئے
اور خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت کے بدلنے پر راضی نا ہو ،،،
دنیا سے ایسے اہل علم کا جانا کتنا بے بسی پیدا کر رہا ہے اور مجھے تو انتہائی زمہ داری کا احساس ہو رہا ہے ۔ خدا ہم سے بھی ایسی ہی قربانی چاہتا ہے ۔۔ سچ کا پرچم ہم کیس اٹھاپائیں گے ۔۔ کیسے اتنی بہادری سے مر پائیں گے ۔۔۔ میں تو نڈھال ہوں اس سچ سے کہ کیا ہم میں سے کوئی بھی اس قابل ہو سکے گے کہ سید شبیہ الحسن کا کام مکمل کر سکے
ڈاکٹر سید شبییہ الحسن ہاشمی کا جانا در اصل ایک علم کے چراغ کا گُل ہوجانا ہے۔ انکی ایک بیٹی بھی یہیں آسٹریلیا میں بیاہی ہوئی ہے جو صرف ایک ہفتہ پہلے باپ سے مل کر لوٹی تھیں۔ مجھے معلوم ہے کہ عرفی بھائی نے کس مصیبت کے عالم میں رخت سفر باندھا اور اس سے ابتر حالت انکی بیٹی کی ہوگی جو کینبرا میں تھیں۔ ہاشمی صاحب ایک عرصے سے دشمنان دین کے نشانے پر تھے اور گھر والے انہیں محتاط رہنے کی درخواست بھی کرتے رہتے تھے۔ صرف چار دن پہلے حسنی صاحب کے کہنے پر عرفی بھائی نے ان سے کہا کہ تھوڑا عرصہ اپنی سرگرمیوں کو محتاط کر لیں تو انکا جواب نہایت خوبصورت اور بلیغ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر موت مجھے بند کمرے میں نہیں آ سکتی تو میں محتاط ہونے کو سوچ سکتا ہوں، لیکن اگر موت سے مفر ممکن نہیں تو پھر جب تک زندہ ہیں، اعلائے کلمة الحق جاری رکھنا میرا فریضہ ہے اور میں خالق کے سامنے یہ شرمندگی لے کر نہیں جانا چاہتا کہ حق کے ابلاغ کا جو کام میں کر سکتا تھا، اسکو میں نے ترک کر دیا۔ ان کے ان کلمات سے مجھے شہید سید عون محمد رضوی یاد آ گئے جنہوں نے اپنی شہادت سے چند روز قبل کم و بیش یہی الفاظ ہمارے سامنے کہے تھے۔
موت العالم موت العالم۔ حق ہم بچ جانے والوں کو ان اہل حق کے نقوش زندہ رکھنے اور اعلائے کلمة الحق جاری رکھنے کی سعادت نصیب کرے۔ آمین
اسلام علیکم
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے آمین
سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانیت کہاں جا کر سو گئی ہے کہ کوئی بھی جان محترم نہٰن رہی ،ایک مسلمان کی جان انتہائی قیمتی ہے وہ شعیہ ہو یا سنی ۔ اور یہ قاتل جو کھلے پھر رہے ہیں انہیں تو شاید جانوروں سے بھی تشبیہ نہیں دی جا سکتی ۔
بھاءئی صفدر ھمدانی بے حسی اپنے عروج پر ہے ،وہ لاہور ہو یا کراچی گولیاں چلانا کھیل ہو گیا ہے ،کتنی قیمتی قیمتی جانیں لے لیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہے ۔بہت دکھ ہوا کہ ایک اور ادبی ستارہ سفاکی کی نظر ہو گیا ۔میرے محترم بھائی ہمارے حاکموں کو تو اپنی عیاشیوں سے ہی فرصت نہیں ہے انہیں اس سے کیا کہ قیمتی جانیں کس طرح لی جارہی ہیں ۔اور آواز سننے والا ، انصاف دلانے والا کوئی نہیں ۔
عالم آرا
باباصفدرصاحب کابلاگ ”ارادوں کی شکست اوررب کی پہچان“ پڑھ کرارادہ کیاکہ باباکاحکم جوانہوں نے مجھے کیاتھاکہ بلاگ پرآتے رہناکی پیروی کروں ، اس لیے بلاگ پرچلاآیا۔باباصاحب ! اسلام وعلیکم ۔ ناچیزآپ کی شفقت کاہمیشہ طلب گاررہوں گااورآپ کے حکم کی تعمیل کی بھی بھرپورکوشش کروں گا۔
میری اطلاعات کے مطابق بلاگ کاسب سے کم عمرممبرشایدمیں ہی ہوں ۔ اس لیے کئی مرتبہ اعلیٰ پایہ کے ادیبوں وکالم نگاروں کی تحریروں سے متعلق کچھ کہنااپنے بس سے باہرسمجھتاہوں یاچھوٹامنہ بڑی بات کے مترادف سمجھتاہوں۔ اس لیے کئی بارخاموشی بھی اختیارکرلیتاہوں ۔ پچھلے کچھ دِنوں سے میں ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بلاگ پرنہ آسکا۔جس کے لیے میں آپ سے معذرت چاہتاہوں اورتہیہ کرتاہوں کہ انشاءاللہ آئندہ مسلسل بلاگ کاحِصّہ بننے کی کوشش کروں گا۔
طارق ابرار.اب جو انشااللہ کہہ دیا تو یہ معاملہ آپ کے اور اللہ کے درمیان ہو گیا. ہم تو اب فقط ناظر ہیں
انا اللہ وانا الیہ راجعون
یا اللہ ڈاکٹر سید شبیہ الحسن کی مغفرت فرماء آمین ثم آمین
یا اللہ مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے ، آمین ثم آمین
یا اللہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماء ۔ امین ثم آمین
ہائے دہائی ہے لوگو ۔۔ دہائی ۔۔
جن کے سخن میں خوشبوئے علمِ رسول تھی
دنیا سے آج کیسے وہ اہلِ سخن گئے
اِنالِلّہ ِ واِناّالیہ ِرَاجعون۔
یہ بزدلوں کاکام ہے۔اللہ تعالیٰ شبیہ الحسن کی مغفرت فرمائے۔
اللہ روزِمحشرمیں قاتلوں کوسخت سزادے گا۔
صفدر بھائی بہت افسوس ہوا اللہ ان کی مغفرت فرما ئے آمین۔ حضور(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ شہدا پرندوں کی شکل میں جنت میں ا ڑتے پھرتے ہیں اور ان قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ جو وہاں درختوں میں لٹکی ہوئی ہیں۔اور اسی کو باب العلم نےاپنے ایک خط میں دہرایا ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ہم انہیں رزق پہو نچاتے ہیں۔ رہی حکومت وہ ہے کہاں؟ آپ کی زمین میں کوشش کی ہے قطعہ حاضر ہے اگر غیر معیاری ہو تو معاف فرما دیجئے گا۔
سب مرثیہ کناں ہیں شبیہ الحسن گئے
لے کر گئے خیال تو کتنے متن گئے
لکھی خدا نےانکے شہادت نصیب میں
طائر ِ وہ بہشت تھے سوئے چمن گئے
سب مرثیہ کناں ہیں شبیہ الحسن گئے
لے کر گئے خیال تو کتنے متن گئے
لکھی خدا نےانکے شہادت نصیب میں
طائر ِ وہ بہشت تھے سوئے چمن گئے
شمس بھیّا بہت خوب اس سے بہتر تعزیت ہو نہیں سکتی ہئے
سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانیت کہاں جا کر سو گئی ہے کہ کوئی بھی جان محترم نہین رہی ،ایک مسلمان کی جان انتہائی قیمتی ہے وہ شعیہ ہو یا سنی ۔ اور یہ قاتل جو کھلے پھر رہے ہیں انہیں تو شاید جانوروں سے بھی تشبیہ نہیں دی جا سکتی ۔
بہن عام آراء ،اپ نے بلکل صحیح کہا قاتلوں کا کوئ مذہب نہیں یہ مسلمانوں کا روپ دھار کر مسلمانوں کی صفوں میں گھس بیٹھے ہیں
پورے ملک میں ریالوں سے تعمیر کتدہ انگنت مساجد ضرّار تعمیر ہو چکی ہیں جن کے اندر بڑے برے معتبر نام والے کرائے کے
قاتلوں کے ہم مشرب ہیں اور انہی کے زیر سایہ یہ منصو بہ بندی بھی کی جاتی ہئے کہ کس کو کب کہان مارنا ہئے ،،ابھی دیکھئے کہ ٹانگوں سے معذور ایک عالم کو چند روز پہلے کراچی میں شہید کیا گیا صرف اس لئے کہ سنّی اور شیعہ باہم دستو گریباں ہو جائیں اللہ
ناکرے ،،یہ صرف ہمارے دشمن ہیں ان کا نام کچھ بھی ہو
اِنالِلّہ ِ واِناّالیہ ِرَاجعون۔
کُلُّ نَفْس ذَائِقَۃُ الْمَوْت (القرآن)
(ترجمہ) ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکنا ہے
مگر وہ موت دینے والا بھی قادرِ مطلق ہی ہے اور اس ہی نے ہر بندہ کو موت دینی ہے کسی کو موت دینے کا اختیار بندے بشر کو نہیں ہے کاش مسلمان قرآن کو سمجھ لیتے۔
آپی آپ نے درست فرمایا ہے
دکھ صرف اس بات کا ہے مسلمانوں کی کج رویاں اپنے ہی بہن بھائیوں کو نگل رہی ہیں اور سچ پوچھئے تو ہم سب آج کربلا ہی کے میدان میں ہیں ۔۔ بھوک بھی ہے ۔۔پیاس بھی ہے ۔۔۔ دوستوں کے روپ میں بے ایمان دھوکہ باز مسلمان دشمن بھی سامنے ہیں ، جابر ڈنڈا زور حکمران بھی سامنے ہے اور نبی کے دین کے رکھوالوں کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے میری نظر میں سارے منظر تازہ ہو رہے ہیں اور یوں لگ رہا ہے جیسے حضرت زین العابدین سجاد الساجدین نے پھر اعلان فرمایا ہو کہ جو کربلا کے عینی شاہدین ہیں وہ آ کر اپنی یاداشتیں لکھیں ۔۔۔۔ ہماری یہ یاداشتیں ظلم کی انتہا کی قلمبندی ہے اور ہم جیسے حکم ہی بجا لا رہے ہیں
قطع نطر اس بات کہ ہم سنی ہیں کہ شعیہ یا کچھ اور ۔۔ انسان کی موت کا جواز اس کا عقیدہ یا نظریہ حیات نہیں ہونا چاہیئے ۔۔ یہ کتنے تاسف کی بات ہے کہ سعودیہ اور اس کی زیر سایہ پلنے والی دینی جماعتوں کے لئے عیسایت سے تواسلام کے لئے کوئی خطرہ نہیں لیکن شعیہ مسلک اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے صد افسوس کہ کئی معتبر مسلمان بھی یہی یقین رکھتے ہیں ۔
یہ ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ ہم ڈاکٹر صاحب کی طرح کے ملک کے مایہ ناز فرزند اس طرح کھو رہے ہیں. ڈاکٹر صاحب کا بے وقت جانا ملک اور ادبی حلقوں کے لئے ایک نقصان عظیم ہے .خدا مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.اآمین.
…………………………………………………………………….
پڑہئیے گا میرا تازہ ترین بلاگ : پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر
http://www.awazepakistan.wordpress.com
مرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے
فصیل شہر کے ہر برج، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمھارے ساتھ ہے کون؟آس پاس تو دیکھو
تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
فراز کی نظم جو نامکلمل ھی پسیٹ کررھی ھوں
اور مجھے اپ سب طرح یہ بھی امید ھے
کہ جب کوئ کم تر و کم ظرف ادمی کسی سورج جیسے شخص کو بے گناہ مارتاھے تو دوسرے دن کی صبح اسی سورج صفت کا نیا جنم ھوتا ھے
کھبی دل یہ سوچ کر دھلتا ھے کہ ھم کس عہد میں زندہ ھیں ھم کریلا کو روتے ھیں اج بھی یزیدی لشکر حق پرستوں کو قتل کررھے ھیں
میرا دل بہت غم زدہ ھے ، ھزارہ سے سوات اور بلوچستان پورا پاکستان خون میں ڈوبا ھوا ھے ، کوئ پاکستانی نیہں ھے بس فرقوں میں بٹے لوگوں کا تقسیم شدہ ملک پاکستان ،
جب دلوں کی تقسیم ھوجاتی ھے تو پھر تاریخ جغرافیہ لمحہ میں تبدیل ھوجاتا ھے
اللہ تعالی رحم فرماۓ
اللہ تعالی رحم فرماۓ
آمین
اے اللہ اًہ مسلمہ کوہدایت عطاکر!تفریق کی دیوارمٹادے، ایک دوسرے پرالزام تراشیاں، شیعہ، سنی ، وہابی اوردیگرناموں کوفروغ دینے والوں کوہدایت عطاکر۔اے میرے اللہ مایہ نازشخصیات کو اُمہ مسلمہ میں سدھارکےلئے کام کی توفیق عطافرمائے۔ اے میرے اللہ مسلمانوں کورسولَ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستہ حق پرچلنے کی توفیق عطافرما۔۔۔۔اللہ تعالیٰ مرحوم شبیہ الحسن کوجنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔اآمین۔
نوحہ گر چُپ ہیں کہ روئیں بھی تو کِس کو روئیں
کوئی اس فصلِ ہلاکت میں سلامت بھی تو ہو
کون سا دل ہے کہ جس کے لئے آنکھیں کھولیں
کوئی بِسمل کسی شب خوں کی علامت بھی تو ہو
شُکر کی جا ہے کہ بے نام و نسب کے چہرے
مسندِ عدل کی بخشش کے سزاوار ہوئے
کتنی تکریم سے دفنائے گئے سوختہ تن
کتنے اعزاز کے حامِل یہ گنہگار ہوئے
یوں بھی اِس دور میں جینے کا کِسے تھا یارا
بے نوا بازوئے قاتِل سے گِلہ مند نہ ہوں
زندگی یوں بھی تو مُفلِس کی قبَا تھی لیکن
دلفگاروں کے کفن میں بھی تو پیوند نہ ہوں
فراز
اقبال جہانگیر بھائی بہت عمدہ مضمون ہے بالکل صحیح عکاسی کی ہے آپ نے:
”یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کسی تنظیم یا فرد کا دفاع کرنا دہشت گردی کو فروغ دینے جیسا کا م ہے۔ اس لیے جو لوگ بھی صحیح معنوں مین انسانیت دشمن کارروائیوں کے مجرم ہیں انھیں عبرت ناک سزائیں دینا ضروری ہے ۔اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہیں۔ افغانستان سے لے کر عراق اور خودکشمیر کے اعداد و شمار جمع کریں تو اس میں مرنے والوں کی تعداد 90فیصد مسلمانوں پر ہی مشتمل ہے۔“
——————————
لیکن بھائی المیہ یہ ہے کہ اس ملک کا وزیرِ اعظم سزا یافتہ ہے اور صدر بے غیرت ہے اور سیاستدان کٹھ پتلی پھر عوام سے کیا توقع کی جاسکتی ہے