خوشیوں بھرے غبارے۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔دعا زہرا رضوی

dua1
مجھے آج اللہ کریم نے ایسی سعادت عطا کی کہ جی ہی جی میں اترا رہی ہوں . میں آج آپ سب سے ایک ایسی قلمکار سے ملوانے جا رہی ہوں جس کی عمر صرف 8 برس ہے ، جماعت چہارم کی طالبہ ہے ، قران کریم کی حافظہ ہے . اتنی پیاری سی بچی کا نام ” دعا زہرا رضوی : ہے . جو اپنے والد مشہور افسانہ نگار . بچوں کے لئے کہانیاں لکھنے سے لے کر ان کی فلاح بہبود کے لئے کئی تنظیموں کے سربراہ “صفدر رضا رضوی کی لاڈلی بیٹی اور ہم سب کی دلاری بہن مشہور افسانہ نگار ، شاعرہ اور کویت کے ادبی منظر نامے میں سب سے نمایاں ہستی ” شاہین حیدر رضوی کی بھتیجی بھی ہیں . امسال کراچی جانے پر مجھے دعا سے ملنے کا شرف ملا .. مّعصوم پری کو گلے لگاتے ہوئے میں نے کہا تھا روز حشر مجھے یاد رکھنا اور بخشش کے لئے میری سفارش بن جانا … اللہ ایسے تابناک قلمکار کو سلامت رکھے .. دین و دنیا کی بلندی عطا فرمائے . ہر مشکل وقت سے دور رکھے ..الہی آمین . آیئے اب دعا کی لکھی ہوئی کہانی “خوشیوں بھرے غبارے ” پڑھتے ہیں . کہانی کو پڑھتے ہوئے لکھنے والے کی خیال کی اڑان دیکھئے اور جذبوں اور خواہشوں کی تمثیل کی بلندی پر نظر رکھئے اور امید سے بھری آنکھوں کی روشنی کو محسو س کیجئے ..
image001
خوشیوں بھرے غبارے۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔دعا زہرا رضوی

میرے پاپا کہانیاں لکھتے ھیں اور خاص کر بچوں سے بہت محبت کرتے ھیں

پاپا بچوں کے لیے بہت اچھا ادب تخلیق کرتے ھیں پاپا کی طرح مجھے بھی کہانی لکھنے

کا شوق ھے ، پاپا جب آفس سے آکر رات گئے کچھہ لکھتے ھیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ھیں

وہ بہت محنت کرتے ھیں ۔بچوں کی کہانی لکھتے ھوۓ وہ اکثر ھم کو بھی اپنے پاس بھٹا کر

کہانی سناتے ھیں ،انکی ھر کہانی بہت سبق آمیز ھوتی ھے ، اور بچوں اور بڑوں میں انکی کہانیاں یکساں طور پر پسند کیجاتی ھے ..

پاپا نے میری سالگرہ پر مجھے بہت سارے تحائف کے ساتھہ بہت سارے غباروں سے بھرا ھوا ایک پیکٹ بھی دیا

ھم چار بہن بھائ ھیں اور رنگ برنگے غباروں میں ھوا بھرتے ھوۓ

ھم بہت خوش ھوۓ میری بہن انعمت میری بہت اچھی دوست بھی ھے

اور ھم مل کر بہت شرارت کرتے ھیں ، میں اپنی بہن کے ساتھہ

غبارے میں ھوا بھرتے ھوۓ بہت خوش ھورھی تھی ، مجھے نیلے رنگ کا غبارہ بہت اچھا لگا ھم نے ان غباروں میں ھوا بھری

اور ان کو دھاگے سے باندھ کر کمرے میں چھوڑ دیا، جیسے ھی وہ چھت پر پہنچے

ھم سب بہن بھائ شور مچاتے رھے

ھم نے بہت سارے غباروں میں ھوا بھری اور پھر انکو دھاگے سے باندھ کر چھوڑ دیا

میں تھوڑی دیر تو غباروں کو ادھر ادھر ڈولتے ،اڑتے خوش ھوتی رھی اور سوچتی رھی

کہ ان غباروں میں ھوا کے بجاۓ بہت ساری خوشیاں بھردوں

اور جن غریب بچوں کو یہ غبارے ملیں انکے چہرے پر بھی میرے غباروں جیسے دلکش رنگ پھیل جایئں

کاش میں ساری دینا کے بچوں کو خوشی کے غبارے بانٹ سکوں.

30 thoughts on “خوشیوں بھرے غبارے۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔دعا زہرا رضوی”

  1. میں واری جاؤں اپنی بیٹی کے اتنی پیاری کہانی لکھی ہے .. انشاللہ میری بیٹی دعا ضرور ساری دینا کے بچوں کو خوشی کے غبارے بانٹے گی .. میری دعائیں تمہارے ساتھ رہیں گی .. جگ جگ جیو .. آؤ میرے پاس آؤ میری بیٹی میں تمہارا ماتھا چوم لوں اور گلے سے لگا لوں .. سلامت رہو ہماری عالمی اخبار کے آنگن کے سب سے چمکتے اور معصوم ستارے .. اس وقت تمہاری روشنی مجھے چاند سورج سے بھی زیادہ لگ رہی ہے ..

  2. اوہ میرے خُدا ۔۔۔۔۔۔۔۔

    (ھم نے بہت سارے غباروں میں ھوا بھری اور پھر انکو دھاگے سے باندھ کر چھوڑ دیا
    میں تھوڑی دیر تو غباروں کو ادھر ادھر ڈولتے ،اڑتے خوش ھوتی رھی اور سوچتی رھی
    کہ ان غباروں میں ھوا کے بجاۓ بہت ساری خوشیاں بھردوں
    اور جن غریب بچوں کو یہ غبارے ملیں انکے چہرے پر بھی میرے غباروں جیسے دلکش رنگ پھیل جایئں
    کاش میں ساری دینا کے بچوں کو خوشی کے غبارے بانٹ سکوں.)

    میری بچی اِس عُمر میں اتنی اونچی اُڑان اتنے اُونچے خیالات ۔ واہ سُبحان اللہ ۔

    خوش نصیب ہیں وہ ماں باپ جن کے آنگن میں دعا زہرا رضوی کے نام کا پھول کِھلا ہُوا ہے۔ اللہ رحمان و رحیم اِس پھول کو زمانے کے سردو گرم سے محفوظ رکھے اور اپنی خوشبو سے اس دُکھ بھری دنیا کو مہکاتا رہے۔ آمین یا رب السمٰواتِ والارض َ۔

  3. دعائے زہرا رضوی،ہماری بہت ہی باصلاحیت،با اہلیت اور عالمی اخبار کی سب سے کم عمر قلم کار بیٹی. جیتی رہو،ہر قدم کامیابی کی طرف اٹھے،ماں ،باپ اور اہل خاندان کی نیک نامی کا سبب بنو. اس کم سنی میں ایسی پختہ تحریر. بھی کیوں نہ ہو. جس بچی کا نام ہی دعائے زہرا ہو،جس کے سر پر دعائے زہرا کا سائبان ہو،جس کے قلم میں خاتون جنت کے الفاظ کی خوشبو ہو،جس کے ذہن میں الفاظ و معانی کا فرات موجزن ہو،وہ کیوں نہ قلم اور حرمت قلم کی پاسبان بنے
    ہماری بیٹی کو ہم مبارک دیتے ہیں کہ وہ سرکاری طور پر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ کی طرف سے اخبار کی سب سے کم سن لکھاری قرار پائیں اور میں اپنے ادارتی بورڈ کے کلیدی ارکان سے مشورے کے بعداس امر کا اعلان کرتا ہوں کہ جلد ہی دعائے زہرا کو اس ضمن میں اخبار کی جانب سے خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا.
    بس اب لکھتی رہو اور خوب خوب لکھو .یہ اخبار بیٹی تمہارا ہی ہے. تمہارے والدین کو سلام.

  4. پیاری سی ننھی سی ،معصوم سی گڑیا ،

    دعاء زہرا رضوی

    اللہ تعالٰی نے تم کوباغ زہرا سلام اللہ علیہا کی زینت بنایا ہئے تو تم نے ابھی سے اتنی ننھی سی عمر سے ہی بتا دیا ہئے کہ تم واقعی اسی نصاب کی مستحق ہو جو ابھی سے اللہ پاک نے تم کو عطا کی شکل میں دینا شروع کر دیا ہئے اور تم نے اپنی زات کی بھر پور

    صلاحیتوں کے اظہار سے بتا دیا ہئے کہ تم واقعی شاہین حیدر کی ہم پلّہ و باصلاحیت بیٹی ہو ،(میں اپنی تمام بھتیجیوں کو اپنی بیٹیاں ہی کہتی ہوں )

    چہاردہ معصومین کے طفیل مالک دو جہاں تم کو نظر بد سے اپنی امان میں رکھے اور قلم کو یونہی رواں بھی رکھّٖے آمین ،

    دعاگو زائرہ بجّو

  5. پیاری بیٹی دعا زہرا کو کو عالمی اخبار کی جانب سے سب سے کم عمر قلمکار کا خصوصی سرٹیفکیٹ ملنے پر بہت بہت مبارک ہو ۔۔ اللہ کریم دین و دنیا کی ہر خوشی ہماری بیٹی کو عطا فرمائے ۔۔ ہربری گھڑی بری نطر سے بچائے ۔الہی آمین

  6. ماشااللہ ، یہ خوبصورت پھول پاکستان کی دولت ہے، اللہ اس کو نظر بد سے دور رکھے۔ آمین۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں دعا زہرا نے پیاری سی خواہش ظاہر کی ہے۔اللہ اس کی اس خواہش کو ضرور پورا کرے۔آمین۔میری دعا ہے۔کہ اللہ دعا کو بہت بلند مقام دے۔ اور یہ پوری دنیا میں پاکستان کا فخر ہو۔آمیں۔

  7. اے وطن تجھے مبارک کہ تجھ میں یاس و غم کی ہواوں کا راستہ روکنے کو اپنے غباروں میں خوشیاں بھر بھر بانٹنے والی دعا زہرا جیسی قابل فخر پود پروان چڑھ رہی ہے ۔
    قابل فخر ہیں وہ والدین جن کی مثالی تربیت عالم کے لئے مشعل راہ ہے اور ۔۔۔۔
    قابل تحسین ہے عالمی اخبار جس نے ایسی نادر دریافت کے بعد ’ گینس بُک ا ٓف ورلڈ ریکارڈ ‘ کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔

    چشم بد دور زہرا ، امن ، سلامتی اور غوشیاں بانٹنے کا جو پرچم اس عمر میں اٹھا لیا ہے اسے ہمیشہ سر بلند رکھنا ، ہماری دلی دعائیں ٓپ کے ساتھ ہیں۔

    ماشا اللہ ، مرحبا ۔

  8. سبحان اللہ ، صد آفرین ہے وہ گھرانہ جس میں ایسے نایاب گوہر موجود ہیں اور قابلِ تحسین ہیں وہ لوگ جو ان کو متعارف کروا رہے ہیں

    ”ھم نے بہت سارے غباروں میں ھوا بھری اور پھر انکو دھاگے سے باندھ کر چھوڑ دیا
    میں تھوڑی دیر تو غباروں کو ادھر ادھر ڈولتے ،اڑتے خوش ھوتی رھی اور سوچتی رھی
    کہ ان غباروں میں ھوا کے بجاۓ بہت ساری خوشیاں بھردوں
    اور جن غریب بچوں کو یہ غبارے ملیں انکے چہرے پر بھی میرے غباروں جیسے دلکش رنگ پھیل جایئں
    کاش میں ساری دینا کے بچوں کو خوشی کے غبارے بانٹ سکوں.“
    ———————————–
    پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
    انشا اللہ ایک دن ھماری گڑیا سارے جہان میں خوشیاں بانٹے گی
    شاباش بیٹی شاباش بہت عمدہ سوچ ہے

    جی چاہتا ہے کہ چلا چلا کر کہوں اے ھمارے ظالم حکمرانوں دیکھو خوشیا ں اس طرح بانٹتے ہیں

  9. پیاری دعا زہرا کو
    عالمی اخبار کی جانب سے
    سب سے کم عمر قلمکار کا
    ”خصوصی سرٹیفکیٹ“
    ملنے پر بہت بہت مبارک ہو ۔۔
    صفدر بھائی اور بھابی کو اور خاص کر شاہین باجی کو بھی بہت بہت مبارک ہو
    اللہ دعا زہرا کو شاد و آباد رکھے اور چہاردہ معصومین (ع) کی نظرِ کرم رہے آمین
    اللہ کریم دین و دنیا کی ہر خوشی ہماری بیٹی کو عطا فرمائے

  10. اسلام علیکم ، محترم ساتھیوں ۔سلامت رھیں ۔سچ پوچیھں تو میری کیفیت اس ماں جیسی ھورھی ھے جس کو اللہ تعالی اچھے بچوں کی شکل میں ایوارڈ اور اعزآز عطا کرتا ھے ، میں سب سے پہلے تو نام بہ نام آپ سب بہت اچھے دوستوں کا دل کی گہرایئوں سے شکریہ ادا کرتی ھوں
    کہ آپ نے دعا زھراء کی لکھی ھوئ معصوم مگر بامعنی کہانی کو اس توجہ سے پڑھا اور اسکی اس قدر پزیرائ کی ۔اور میں عالمی اخبار کے روح روا‎ں محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کی اور دیگر اراکین کی بہت سپاس گذار ھوں کہ دعا زھراء رضوی کو سب سے کم عمر قلم کا ر کی توصیفی سند عطا کی ۔ بہت شکریہ ، ھم سب آپ لوگوں کے ممنون ھیں ۔ اور دعاۓ خیر کرتے ھیں کہ اللہ پاک دینا میں جتنے بھی بچے ھیں
    دعا زھراء کے خوشیوں بھرے غبارے ان تک بھی پہنچے اور سارے بچوں کے چہروں پر خوشی کے خوش گوار رنگ ھمشیہ دمکتے رھیں آمین ثم آمین
    میری قلمی کم مائیگی آڑے آتی ھے کاش میں آپ احباب کو بتا سکتی کہ آپ کے لکھے ھوۓ ان لفظوں نے دعا زھراء رضوی اور میرا پیارا بھائ صفدر رضا رضوی اور مجھے کتنا معتبر کردیا ھے ،
    میں اپنی بہت عزيز اور بہت پیاری دوست اور پرخلوص بہن ڈاکٹر نگہت نسیم کی شکرگذار ھوں
    اللہ پاک اپ سبکی پریوں اور چاند ستاروں جیسی بچیوں کو سلامت رکھے آمین ثم آمین
    دعا بہت ھی معصوم اور پیار کرنے والی بچی ھے بہت حساس ارو دوسروں کا خیال کرنے والی بہت شائستہ بچی ھے ، کبھی کبھی تو ایسی حیران کن بات کہہ دیتی ھے کہ ھم سب دم بخود رہ جاتے ھیں ،دعا اور انعمت نے ريڈیو پر بھی کافی پروگرام کیے ھیں بچوں کے لیے
    حب صفدر بھائ ریڈیو کراچی جاتے تو یہ دونوں بھی ان کے ساتھہ ھوتی ھیں ۔ بچے تو سارے ھی پیارے ھوتے ھیں
    چاھے وہ آپ کے انگن کی رونق و روشنی ھوں یا صفدر بھائ کے آنگن کے چاند ستارے ھو،
    اللہ پاک ھماری دینا کے اس معصوم بچوں کو سلامت رکھنا ، یہ علم وھنر کے آسمان کے درخشاں ستارے بنیں امین ثم آمین

    قرآن پاک میں بھی بچوں کو دیناوی زندگی کی زینت کہا گیا ھے

    {الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا }

    (الکھف: 46)

    ( مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں)۔ ان قرآنی آيتوں سے بخوبی واضح ہوگيا ھیکہ بچے خدائ نعمت ہیں، اور انکی محبت انسان کیلۓ فطری ھے، او یہ کہ وہ دنیوی لطف اندوزی کا ذریعہ ہیں، ساتھ ہی پچھلی آیت نے اس بات کی تنبیہ بھی کی ھیکہ آخرت کی دولت زیادہ افضل ھے، اور اسکا رشتہ صرف او ر صرف دنیا میں اچھے اعمال ہی کے ذریعہ مل سکتا ھے۔

    اللہ پاک آپ سب کے دل کے چین اور آنکھوں کی روشنی آپ کے بہت پیارے بچوں کو سلامت رکھے، آمین ثم آمین

    شاہد اشتیاق بیگ صاحب سلامت رھیں ، آپ جیسے لوگ ھی اس دینا کا وقار ھیں اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے آمین ثم آمین

    {لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاء يَهَبُ لِمَنْ يَشَاء إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاء الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَن يَشَاء عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ}

    (الشوری:49-50)

    ((تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے )
    اللہ پاک ھمارے بچوں کو ھر بری گھڑی سے بچاۓ ، ھر مشکل میں انکی مدد فرماء آمین ثم آمین
    دنیا کے ھر بچے کو خوشیوں بھرے غبارے ملیں

    دینا کے ھر بچے کا حق ھے کہ والدین اورکنبے کے دوسرے افراد کی طرف سے ایسا مشفقانہ و منصفانہ برتاؤ ملے، اور اسکی مستقبل میں راہ نمائ کا موجب بنے ، ھمارا تھوڑا سا بچہ اور توجہ ھر بچے کا مقدر اور زندگی بدل سکتی ھے
    نوشین عقیل سلامت رھو۔ خوش رھو، اور تم نے بھی تو ایسے بہت سارے غبارے اپنے ھاتھوں میں آٹھاۓ ھوۓ ھیں جن میں خوشی ، محبت اور امن وسلامتی کا پیغام ھے ،اللہ کرے یہ محبت اور اخلاص کے رنگوں سے بھر ے غبارے ھماری ساری دینا کا منظر نامہ تبدیل کردیں آمین ثم آمین

    جعفر حیسن بھائ سلامت رھیں خوش رھیں اور اللہ پاک آپکو حجاز مقدس کے سفر میں قدم قدم پرآسانی اور سکون ملے اور اپنی اولاد کا سکھہ چین دیکھیں دعا زھراء رضوی کی حوصلہ افزائ کے لیے ھم آپکے تہہ دل سے سپاس گذار ھیں خوش رھو بھائ خوش رھو سلامت رھو میرے بھائ ،جزاک اللہ

  11. مرحبا، مرحبا، مرحبا۔۔۔اللہ تعالیٰ نے عالمی اخبارکے اآنگن میں ایساپھول کھلایاہے جس کی مہک چارسوہے ۔۔اللہ تعالیٰ دُعازہراچھوٹی بہن کونظربدسے بچائے ۔اآمین۔
    اس تحریرکوجب میں نے پڑھاتومجھے ایک بات یاداآئی کہ مسلمان گھرانوں میں وہ وہ اللہ تعالیٰ کھلاتاہے جن کی مہک سے دُنیامہک اُٹھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اآج مسلمانوں کے پاس اللہ تعالیٰ کادیاہواسب کچھ ہے ۔۔۔۔مسلمان اگرچاہیں توایک دوسرے کے ساتھ متحدہوجائیں یعنی مسلم امہ ایک ہوجائے توکسی بھی مسلمان کوشکست کامنہ نہ دیکھناہوگا۔ جوطاقت ایمان والے کے پاس ہے وہ کسی غیرایمان والے کے پاس نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دُعاگوہوں کہ یہ اآنگن یوں ہی مہکتارہے اوردُعاکی کہانیاں پڑھنے کوملتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بے اللہ تعالیٰ کامسلمانوں پربہت احسان ہے

  12. (مرثیہ )میر ی زبان پہ علم علی کا بیان ہے
    اللہ تعالی اچھے بچوں کی شکل میں ایوارڈ اور اعزآز عطا کرتا ھے یہ بات درست ہے کہ اچھی اولاد بھی نعمت اور عزاز ہے دالدین کےلئے ۔دعا گو ہوں کہ رب رحیم اس نو نہار اور نو بہار طالب علم کو اپنی امان میں رکھے اور دالدین کو توفیق بھی عطا کر کہ وہ اس کو تربیت کے اور درجے پر فائز کر سکیں جس کی وہ اہل ہے۔
    شاید قیصر بارہوی مرحوم نے 1991 میں جو پیام تربیت دیا وہ آپ سب سے شیئر کرتا ہوں
    تربیت سےآدمی کے ذہن کی تعمیر ہے
    تربیت رنگ عمل ہے آدمی تصویر ہے
    حکمت ہستی میں یہ اک نسخہ اکسیر ہے
    تربیت بے داغ ہو تو معنی تطہیر ہے
    کتنے محکم فیصلے ہیں اس عباد ت کے لئے
    تربیت کردار ہے معیار سیرت کے لئے

    زندہ قوموں کا تبسم تربیت کی داستان
    حوصلے جن کے ستارے تربیت وہ کہکشاں
    سن رہا ہوں پڑھ رہا ہوں اہل دانش کا بیان
    آسمان سے کم نہیں ہے تربیت کا سابیاں
    یہ حقیقت روح معنی ہے فسانے کے لئے
    تربیت میں جلوہ رب ہے زمانے کے لئے

    سب سے کم عمر قلمکار کا ”خصوصی انعام“ ملنے پر بہت بہت مبارک ہو ۔۔

  13. اللہ تعالی اچھے بچوں کی شکل میں ایوارڈ اور اعزآز عطا کرتا ھے یہ بات درست ہے کہ اچھی اولاد بھی نعمت اور عزاز ہے دالدین کےلئے ۔دعا گو ہوں کہ رب رحیم اس نو نہار اور نو بہار طالب علم کو اپنی امان میں رکھے اور دالدین کو توفیق بھی عطا کر کہ وہ اس کو تربیت کے اور درجے پر فائز کر سکیں جس کی وہ اہل ہے۔
    شاید قیصر بارہوی مرحوم نے 1991 میں جو پیام تربیت دیا وہ آپ سب سے شیئر کرتا ہوں
    تربیت سےآدمی کے ذہن کی تعمیر ہے
    تربیت رنگ عمل ہے آدمی تصویر ہے
    حکمت ہستی میں یہ اک نسخہ اکسیر ہے
    تربیت بے داغ ہو تو معنی تطہیر ہے
    کتنے محکم فیصلے ہیں اس عباد ت کے لئے
    تربیت کردار ہے معیار سیرت کے لئے

    زندہ قوموں کا تبسم تربیت کی داستان
    حوصلے جن کے ستارے تربیت وہ کہکشاں
    سن رہا ہوں پڑھ رہا ہوں اہل دانش کا بیان
    آسمان سے کم نہیں ہے تربیت کا سابیاں
    یہ حقیقت روح معنی ہے فسانے کے لئے
    تربیت میں جلوہ رب ہے زمانے کے لئے

    سب سے کم عمر قلمکار کا ”خصوصی انعام“ ملنے پر بہت بہت مبارک ہو ۔۔

  14. زائرہ بجو اسلام علکیم ، خوش رھیں سلامت رھیں اور اسی طرح اپنے علم سے دوسروں کے گھروں میں اجالا کیجیے ، آپکے لکھے ھوۓ الفاظ یقینا دعا زھراء رضوی اور ھم سب کے لیے باعث صد افتخار ھیں ، دعا کیجے کہ جس طرح دعا زھراء کے پاپا دوسروں کی ھرطرح کی مدد کرنے پر امادہ رھتے ھیں یہی جذیہ انکے بچوں میں بھی اسی بھرپور طریقے سے پروان چڑھے آمین ثم آمین
    نہیایت عجر وانکساری سے بارگاہ رب العزت میں دست دعا بلند کرتی ھوں کہ آپ بھی اپنے بچوں کا سکھہ چین خوشی اور اطمینان دیکھیں ، اچھی زائرہ بجو کھبی کھبی احساس تشکر سے انکھیں نم ھوجاتی ھیں بس اس وقت یہی کیفیت میری ھے، یہ بچے میرے زخموں کا مرھم بھی ھیں اور میری دینا کا اجالا بھی ھیں ، اللہ سارے بچوں کو سلامت رکھے ھر بیماری ، سے ھر آزار سے محفوظ رکھے امین ثم آمین

    محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب اسلام علیکم
    خوش رھیے جناب اس پر فتن دور میں بس ھماری امید اور سہارہ ھمارے پیارے بچے ھیں ،ھمارے بچے ھم سے کیہں بہتر ھیں حق گوئ میں علم کی طلب میں ، نیکی میں ، اللہ پاک سارے بچوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے امیں ثم آمین

  15. شاہین جب میں نے بھی 8 برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھی تھی پر وہ مجھ تک ہی رہ گئی تھی ۔ ہمیں پڑھنے والے اور سراہنے والے ایسی رمزوں سے آگاہ نہیں تھے ۔ انہیں لگتا تھا جیسے صرف کلاسوں والا علم ہی علم ہوتا ہے ۔ مجھے آٹھ بر س کی عمرسے لے کر آتھویں جماعت کا سفر اکیلے ہی کرنا پڑا اور میں نے ایسی ایسی کتابیں پڑھ ڈالیں اور ایسی ایسی کہنایاں سوچ ڈالی کہ میں اگر آج انہیں لکھنے بیٹھوں تو مجھے ایک عمر اور اتنی ہی چاہیئے ہو ۔۔۔

    جب دعا زہرا کی کہانی مجھ تک پہنچی تو مجھے لگا جیسے نگہت نسیم کا بچپن لوٹ آیا ہو ۔۔ اس کی آنکھوں کے خواب پھر سے جاگ اٹھے ہوں ۔۔ مجھے لگا جو مجھے نہیں ملا وہ اپنی بیٹی دعا کو دینے کا وقت آ گیا ۔۔ قربان جایئے پاک رب کے کہ میرے ہی ہاتھوں سب سے پہلے دینے کا وقت آیا ۔۔ میں اس سعادت پر نازاں ہوں ۔۔ میں نے نگہت نسیم کا خواب پورا کیا ۔۔۔ اسے اس کے مقام کو پہچان دینے کا اعزاز مجھے عطا ہوا ۔۔۔۔ میری دعا ہے کہ اس کائینات کی ہر بچی میری بیٹی دعا جیسی ہو جسے صرف خوشیوں بھرے غبارے ہی بانٹنے ہیں اور میں اس جہاں میں ان کا تعارف کروانے کی سعادت ہر بار حاصل کروں ۔۔ جگ جگ جیو میری بیٹی تم نے اس ماں کو بھی سرخرو کیا

  16. اسلام علیکم ساتھیو
    اسلام علیکم ساتھیو
    اتنے زبر دست بلاگ پر دیر سے آنے کے لئے معزرت
    بھئی واہ ننھی پری دعا اللہ تمہیں دنیا کی تمام خوشیاں دے ،کہ تم نے تو ہم سب میں بھی ہوا بھر دی خوشی کی ہوا جیتی رہو ،
    سرٹیفکٹ ملنے پر بہت بہت مبارکباد ، ۔ شاھین حیدر رضوی آپ کو بھی بہت مبارک ۔
    بہن نگہت نسیم ان ھیروں کو ہم سے ملانے کا بہت بہت شکریہ کہ بقول آپ کے کہ ہم جب ان عمروں میں تھے تو کوئی توجہ نہیں ہوتی تھی ۔یہ بچے بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں وہ آنکھیں ملی ہیں جو ان کی کاوش کو ڈھونڈھ نکالتی ہیں ۔ نگہت نسیم جیسی خوبصورت آنکھیں
    بیٹی دعا میری دعا ہے کہ تمہارے یہ غبارے خوشیوں سے بھرے غبارے ہر بچے کے پاس پہنچ جائیں آمین
    دعا زہرہ کے والدین کو بھی بہت بہت مبارک
    عالمی اخبار کی خوبصورتی میں اس ننھے اضافے سے اور چار چاند لگ جائینگے ۔
    عالم آرا
    وینکور کینیڈا

  17. بہت محترم بھائ طارق ابرار سلامت رھیں ، ھاں یہ بچے ھی تو ھیں جن سے ھماری دینا میں رنگ خوشی اور بہاراں ھے
    اللہ پاک آپ سب کے بہت پیارے بچوں کو سلامت رکھے ، آپ کا دل اور گھر لالہ وگل سے مہکتا رھے ،
    آپکی باتیں آچھی لگیں ، ھمارے پاس واقعی سب کچھہ ھے ،جس دن متحد ھوگے تو پھر تو انشا اللہ باذن اللہ ھمارے ارادوں کے آگے دینا کی کوئ طاقت بند نیہن باندھ سکتی ھے ، اس جوش ایمانی کا کیا کہنا ، اللہ پاک سارے دینا میں موجود مسلمانوں کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین
    اللہ کرے ھم یہی قوت ایمانی اپنے بچوں میں ورثہ کے طور پر چھوڑ کر جايئں آپ لوگوں کی تعریف وتوصیف نے ھماری بچی کی ھمت بڑھائ اور اس کے ساتھہ ھمارے سر بھی فخر سے بلند ھوۓ
    ایک بار پھر آپکی ھمت افزائ کا شکریہ
    سلامت رھیں بھائ میرے اچھے بھائ سلامت رھو، جزاک اللہ
    اللہ پاک ھمارے بچوں کو بلند فکری بلند نظری عطا فرماۓ انکے عمل میں خلوص گفتار میں صدق اور سچائ ھو ، آمین ثم آمین

  18. Masha\ALLAH
    Buhat aala or buhat khooob.. Nanhi Dua Keep it Up
    Dua Gu:
    Abdul Samad Muzaffar(Phool Bhai) Lahore

  19. محترم المقام شاہین صاحبہ بہت بہت شکریہ اآپ نے میری بات کی تائیدکی ۔تمام مسلمانوں کےلئے کی گئی دُعاکےلئے ۔اآمین۔
    اللہ بچوں کے ذہنوں کوکشادہ کرنے والاہے اورسب بڑائی اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہمیں سمجھ بوجھ دی ۔۔۔اللہ کااحسان کوئی چکانہیں سکا۔ہمیں مسلمان گھرانوں میں پیدافرمایااوروہ بھی اپنے پیارے حبیبْ کی اُمیت۔ہمیں رشک ہے کہ ہم حضرت محمدْ کے اُمتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے عمل میں خلوص ،گفتارمیں صدق اورسچائی پیداکرے۔اآمین۔

  20. شاہین جب میں نے بھی 8 برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھی تھی پر وہ مجھ تک ہی رہ گئی تھی ۔ ہمیں پڑھنے والے اور سراہنے والے ایسی رمزوں سے آگاہ نہیں تھے ۔ انہیں لگتا تھا جیسے صرف کلاسوں والا علم ہی علم ہوتا ہے ۔ مجھے آٹھ بر س کی عمرسے لے کر آتھویں جماعت کا سفر اکیلے ہی کرنا پڑا اور میں نے ایسی ایسی کتابیں پڑھ ڈالیں اور ایسی ایسی کہنایاں سوچ ڈالی کہ میں اگر آج انہیں لکھنے بیٹھوں تو مجھے ایک عمر اور اتنی ہی چاہیئے ہو

    معزّز ہم نشینوں ،بیٹوں ،بیٹیوں سب کو بہت سی دعائیں اور سلام

    نگہت بیٹی تمھارے الفاظ من وعن اتار دئے ہیں کیونکہ ایسا لگا جیسے میری بپتا تم نے تحریر کردی ،،مجھے بھی اس عمر سے پڑھنے کا جنون طاری ہو گیا تھا جب سے اردو پڑھنی آگئ تھی شروع شروع میں بچّوں کی کہانیاں پڑھتی رہی لیکن چوتھی جماعت میں تو بڑے ادیبوں کو پڑھنے کا چسکا لگ گیا ،

    گھر میں خالص ادبی ماحول تھا جس نے میرے شوق کو ہوا دی تھی،قبلہ رئس امروہوی کے پاس والدہ کے ساتھ جانا آنا لگا رہتا تھا ،ریڈیو پاکستان والے سجّاد ظہیر کے اور والدہ کے گھرانے کے لکھنؤ سے ہی مراسم چلے آرہئے تھے ،قصّہ مختصر ماحول کا اثر تو بچّے کو متاثّر ضرور کرتا ہئے ،ایسے میں ایک چھٹّی کے دن جب میرے والد گھر کے آنگن میں مٹکے رکھنے کے لئے پختہ گھڑونچی بنارہئے تھے اور میں اپنے بستر پر لیٹی بڑے اہماک سے راجہ مہدی علی خان کی شاعری کی کتاب‘‘ضرورت رشتہ ‘‘ معاشرتی علوم کی کتاب میں چھپا کر پڑھ رہی تھی(یہ کتاب مزاحیہ شاعری کی کتاب ہئے ) ،

    معلوم نہیں کیسے میرے والد کو اندازہ ہوگیا کہ کتاب میں کچھ اور ہئے میں جس کو اتنے انہماک سے پڑھ رہی ہون وہ دبے پاؤں خاموشی سے میرے سرہانے آئے اور کتاب میں سے کتاب برامد کر کے گھڑونچی کے اندر پھیک کر اوپر سے سیمنٹ ڈال کر پلستر کر دیا ،،یہ کتاب میں نے اپنے اسکول کے قریب کتابوں کی دکان سے ایک پیسے کرائے پر لی تھی ،،جس کا جرمانہ میں نے اپنے چار دن کے چار پیسے دے کر ادا کیا تھا ،،میں اب کبھی کبھی سوچتی ہوں وہ کتنے معصوم لوگ تھے جنکو یہ معلوم نہیں تھا کہ سوچون کو کون سی گھڑونچی میں پھینکا جا سکتا ہئے ،،یہ اللہ پاک کا بڑاہی کرم ہئے کہ آج کے بچّوں کو ہمّت افزائ کرنے والے والدین میسّر آئے ہیں

  21. ڈئر شاہین حیدر سلامت رہو ،

    تمھاری ہر ہر دعاء پر آمین ثمّہ آمین ،شاہین حقیقت یہ ہئے کہ نیک اولاد بڑھاپے میں زندگی کی ٹھنڈی چھاؤں بن جاتی ہئے میں آج اپنے چاروں جانب دیکھتی ہوں تو اکثر سوچتی ہوں اے مالک کیا میں گناہ گار اتنی نعمتوں کے قابل تھی جو تو نے مجھے عطا کردی ہیں ،

    یہ پھول سے بچّے ،،بھائیؤں کے بچّے بہنوں کے بچّے ،یہ بھی ہمارا سرمائہ ہوتے ہیں ،میں نے ان بچّوں کو اسی طرح چاہا جس طرح اپنی اولاد کو چاہا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل بھی میری جانب محبّت اور خلوص سے مائل ہو گئے اور ماشاللہ سب کے سب مجھے بھی اسی طرح چاہتے ہیں جس طرح میں ان کو چاہتی ہوں ،

    پرور دگار عالم تمھارے اس چمن کو صدا یونہی باغ و بہار رکھّے آمین ثمّہ آمین
    دعاگو زائرہ بجّو

  22. بہت خوب ،
    پہلے تو ننھی دعا کے لیے بہت ساری دعائیں ، اللہ دعا کو خوش و خرم اور صحت یاب رکھ آمین
    بے شک جو بات ہم بڑے لمبے لمبے کالم لکھ کر نہیں کہ سکتے وہ دعا نے چند سطروں میں کہ دی
    اور خوشیوں بھرے غباروں کو دکھی لوگوں تک پہنچا بھی دیا ، کیونکہ حدیث ہے کہ نیکی کے سوچنے پر بھی ثواب ہے
    تو دعا نے جو کہا ہے ، وہ بہت بڑی بات ہے ، ان لوگوں کے لیے جو خود تو خوشیوں کے غباروں سے کھیلتے ہیں
    مگر ان غباروں کو دکھی دلوں کے پاس نہیں جانے دیتے

    ایک بار پھر بھر تحریر پر دعا کو مبارک . . . . ننھی دعا .. . ہمیشہ خوش رہو اور خوشیاں بانٹتی رہو ، آمین

  23. اچھے بھائ اکمل سید قلم دوست سلامت رھیں ۔سب سے پہلے تو ھم سب کی طرف سے آپکا بہت بہت شکریہ کہ ھماری بیٹی دعا زھرآ کے لیے اتنی
    خوبصورت اعزازی سند بنائ ھے ، ھم تہہ دل سے اّ پ کے سپاس گذار ھیں ،بھائ اللہ پاک آپکوسلامت رکھے ، میرے پاس تو آپ جیسے قلم دوست انسان دوست اصول پسند اور نیک دل و نیک نیت لوگوں کے لیے دعا یئں ھی ھیں ، خوش رھیں اور اللہ پاک آپ کے ساحرانہ قلم کو معجزبیانی عطا فرماۓ آمین ثم آمین ، میرا دل تو مسرت اور خوشی کے باعث دعا زھراء کے خوشیوں بھرے غبارے کی طرح ساری دینا کی خیالی سیر کررھا ھے
    میں آپ سے ملتمس ھوں کہ جیسے آپ کے آنے سے بلاگ میں بہار آجاتی ھے ،اللہ پاک آپکو قدم قدم پر گل ولالہ سے معطر ومنور راہگذر ملے ،
    شاد وآباد رھیں ایک بار پھر بہت شکریہ اللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین

  24. بہت اچھی بہن عالم آراء اسلام علیکم ، آپکی حوصلہ افزائ پر دعا زھراء سے زیادہ صفدر رضا رضوی خوش ھیں کل شام کو میں نے دوبار کوشش کی کہ ھماری پری اور جان عزيز دعا زھراء سے بات ھوجا‌ۓ ، بہت مشکل کے بعد ان سے گفتگو کا شرف حاصل ھوا ، کویت او رپاکستان کے وقت میں دو ڈھائ گھنٹے کا فرق ھے ، میں اکثر تاخیر سے فون کرتی ھوں تو سحر خیز بچے تو خواب خرگوش کے مزے لیتے ھوتے ھیں
    کل شام کو دعا زھراہ سے بات کرنے کی کوشش کی تو موصوفہ میری دل جگر ٹیوشن پر گي ھوئ تھیں صدف میری بھابھی اور دعا زھراء کی والدہ نے ھسنتے ھوۓ بتایا کہ دعا زھراہ بہت خوس ھیں اپنے اعزآز پر اور اپنی کہانی کی اشاعت و اتنے اھتمام پر ،پھر دس بجے کے قریب ان سے بات ھوھی گی ، میں نے بہت سارے پیار کے بعد دعا زھرا کو بہت بہت مبارک دی تو وہ خوش ھوکر آپ سب کا شکریہ ادا کرتی رھیں اور پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کررھی ھو، عشاء کے بعد دادی کے پاس بیٹھی ھوئ تھی بہت ھی میھٹی آواز ھے اور باتیں بھی بہت پیاری کرتی ھے تو سب ھی اس سے بات کرکے خوش ھوتے ھیں ، میں نے انکو مبارک باد دی تو جواب میں فرمایآ کہ مجھے مبارک باد کے ساتھہ یہ بتایئۓ کہ آپ پاکستان کب آرھی ھیں ، میں نے کہا جب تم دل سے مجھے یاد کروگی میں اجاونگی
    پھر اپنے مخصوص اسٹايئل میں بولیں پھوپھو پلیز آجایئے ناں ، میں دعا زھراء ھوں اور آپکے جلد آنے کی دعا کررھی ھوں
    میں تو اپنے بچوں کی آواز سنتے ھی سکون کے گہرے سمندر میں اتر جاتی ھوں اور اللہ پاک کا شکر ادا کرتی ھوں کا بچوں کی اواز انداز میں کتنی معصومیت اور چین ھوتا ھے ، اللہ پاک سب بچوں کو ھر دکھہ آزار بیماری سے اپنے آمان میں رکھے آمیں ّثم آمین

  25. ۔ بڑے بوڑھو ں کا یہی کہنا ہے ” تلوار کا گھاﺅ تو بھر سکتا ہے لیکن زبان کا گھا ﺅ کبھی نہیں بھر تا ۔ “ ممکن ہے آپ کو اس با ت سے اتفاق نہ ہو لیکن ماہرین نفسیا ت کا یہی کہنا ہے کہ سنی او ر پڑھی ہوئی با تو ں کا بہت سا حصہ ہمارے ذہن کے مختلف گو شو ں سے سفر طے کر تا ہوا آخر کا ر لا شعور کی پنہا ئیو ں میں اتر جاتا ہے۔ پھر وقتا فوقتا ہوا کا کوئی بھی تا زہ جھو نکا راکھ میں دبی ہو ئی چنگا ری نئے سرے سے سلگا دیتا ہے اور دھواں اٹھنے لگتا ہے ۔
    شعور اور لا شعور پر کسی اور وقت با ت ہو گی ، زیر بحث مو ضوع کا اطلا ق نہ صر ف ہماری معا شرتی زندگی پر ہو تا ہے بلکہ ہماری انفرا دی زندگی بھی اس کے عمل دخل سے با ہر نہیں ۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک طر ف تو سادہ اور عام فہم ہے دوسری طرف کوئی اسے نہ تو مسئلہ سمجھتا ہے اورنہ ہی اس کے حوالے سے سنجید گی کے ساتھ کچھ سوچنے کی زحمت کرتا ہے ۔ نتیجے میں ہمارے معا شرے کے حساس اور نازک طبقے یعنی بوڑھے ، ننھے بچے اور عورتیں اس مسئلے کے گر د اب میں تیزی سے گرفتار ہو رہے ہیں۔
    ان سب میں شدید ترین ضرب بچو ں کو لگتی ہے کیو نکہ ان کی سوچ حساس ترین اور روح نا زک تر ہو تی ہے ۔ ان کی دنیا اور فکر محدود ہے ، ایک چھوٹے اور خاص دائرے سے با ہر ان کا ادرا ک جو اب دے جا تا ہے ۔ ان کے ذہنو ں میں بیک وقت ان گنت متضاد خیا لا ت اور سوالا ت کے بگولے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں ۔ ان کی شخصیت روزانہ تعمیر اور تخریب کے کئی مراحل سے گزر تی ہے ۔ ان کے سامنے ہر دن زندگی کے پیچیدہ معاملا ت کو سمجھنے اور بر تنے کے حوالے سے ایک نئی کتاب کا نیا ورق کھولتا ہے۔ ہر شب ان کے خوا بو ں کے لیے سوال و جوا ب کا ایک نیا سلسلہ ترتیب دیتی ہے ۔ ما ں با پ، بہن بھائی ، اور عزیز و اقارب سے لیکر کتا ب اور استا د تک تمام لو گ اور چیزیں اور تمام لو گو ں اور چیزو ں کی با تیں ان کی سوچ اور شخصیت پر اس حد تک اثر انداز ہو تی ہیں کہ ماہرین نفسیا ت کے ایک مکتبہ فکر نے یہا ںتک کہہ دیاکہ انسانی شخصیت کی نشو ونما اور تعمیر عمر کے ابتدائی دس سالو ں تک ہی ہو تی ہے ، با قی ماندہ عمر ابتدائی دس سالو ں میںجنم پانے والے خیا لا ت ، سوالات اور تفکرات اور جذبو ں اور سو چو ں کے عملی مظاہرے کے سوا کچھ نہیں ۔
    ماہرین نفسیا ت کے دیگر مکا تب اس فکر سے کلی طور پر اتفا ق تو نہیں کر تے البتہ اس حد تک ہم خیال ضرور ہیں کہ بچوں کی زندگی کی ابتدائی تجر با ت اور مشا ہدات آگے چل کر ان کی شخصیت پر بڑے گہرے اثرات مر تب کر تے ہیں ۔ بعض اوقات تو یہ اتنے دیر پا اور مستقل ثابت ہو تے ہیں کہ کوئی نیا ، رنگین ، دلفریب اور سو دمند تجر بہ بھی انہیں مٹانے میں ناکام رہتا ہے ، اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک تو بچو ں کی قوت مشا ہدہ کے ساتھ ساتھ قو ت حافظہ بھی با قی تمام افرا د سے زیا دہ ہو تی ہے اور دوسرے کو رے کا غذ پر جو حروف لکھ دیئے جا ئیں ، وہ لا کھ مٹانے کے با وجو د کہیںنہ کہیں سے ضرور ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ آگے نہ بڑھیں ، اگلی بات پڑھنے سے پہلے ذرا ٹھہر جائیں، اپنے ذہن پر زور ڈالیں اور یہ سو چیں کہ آپ کو اپنے بچپن یا لڑکپن کے کون سے اہم وا قعات ابھی تک یا د ہیں ؟ آپ کو ایسے کئی واقعات یا دآئیں گے جن کی یا د آپ کے لیے خوشی اور تسکین کا سبب بنے گی لیکن اچانک کسی نا معلوم جگہ سے آپ کے بچپن کا کوئی تلخ اور نا خوشگوار تجر بہ بھی آپ کے ذہن کے ور ق پر روشن ہو جائے گا جس کی یا د آنا ً فانا ً آپ کے منہ کا ذائقہ کڑوا کر دے گی ۔ تب آپ کی خوشی کا سامان بننے والے تمام واقعات اور تجر بات اسی طر ح غائب ہو نے لگیں گے جس طر ح بند مٹھی میں سے ریت پھسلتی ہوئی نیچے گرتی ہے اور آپ تمام تر کو شش کے با وجو د ریت کے ذروں کو نیچے گرنے سے نہیں روک سکتے ۔ جب بھی بڑے اپنی تمام تر تعلیم ، تربیت اور تجر بات کے باو جو د اپنے منہ کو ماضی کے کڑوے اور کسیلے ذائقے سے نہیں بچا سکتے ، تو ذرا سو چیں کہ بچے تو پھر بچے ہیں ۔ قدرت نے ان کی فطر ت میں تحیر اور تجسس کا ما دہ و دیعت کیا ہو تا ہے۔ ہما ری ہر با ت ان کی سو چو ں میں مدو جذر پیدا کر تی اور انکے ذہنو ں میں یہ سوال اٹھا تی ہے کہ ہم نے ان سے وہ با ت کیو ں کی …. خوا ہ اس با ت یا انداز میں ان کے لیے محبت ، اپنا ئیت اور عزت کے جذبات پو شید ہ ہو ں یا اس سے نفرت ، حقارت اور عدا و ت جھلک رہی ہو ۔ یا د رکھیے کہ بڑو ں کی ہر بات بچو ں کے جذبا ت کو مشتعل اور نفسیات کو منتشر کر تی ہے ۔ ان کی شخصیت میں پختگی اور تعمیری پن اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انہیں دیا جا نے والا ما حو ل خود اپنی جگہ ذہنی ، جذبا تی اور نفسیا تی ہم آہنگی کی اعلی مثال ہو ، بصورتِ دیگر بچو ں کے ساتھ ہما رے تعلقات میں اگر ہما رے روئیے کی مستقل تبدیلیاں آتی رہیں تو پھر بچو ں کی شخصیت اور نفسیات میں ایسے خلا رہ جا تے ہیں ۔ جنہیں پر کرنا آسانی سے ممکن نہیں ہو تا۔ بچو ں کو ما رنا ، پیٹنا اور ڈانٹنا ہما رے معا شرے میں خاصا عام ہے ۔ خصو صاً دیہا ت ، قصبو ں اور غیر تعلیم یا فتہ غریبو ں اور مزدورپیشہ افرا د میں یہ ایک عام مشغلہ ہے لیکن اس مشغلے سے پڑھے لکھے ، دولت مند اور با ثروت لو گ بھی نہیں بچ پاتے ۔ بچہ اسکو ل جا تے ہوئے ہچکچا رہا ہے یا شام میں کھیل کو د کے بعد دیر سے گھر آرہا ہے ، تو اسے مارپڑنے لگے گی۔ دوسرے بچو ں سے لڑ بیٹھا ہے یا کوئی شرارت کر بیٹھا ہے ، تو اسے ما ر پڑے گی ۔ کوئی چیز توڑ دی ، کپڑے گندے کر لیے تو وہ ما ر یا ڈانٹ سے نہیں بچ سکتا ۔ پڑھائی میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرے یا بڑو ں سے بد تمیزی اور بد تہذیبی کے ساتھ پیش آئے تو پھر ان کی خیر نہیں ۔ غرضیکہ اَن گنت بہا نے بچوں کو ما رپیٹ اور ڈانٹ کا نشانہ بنا تے ہیں ۔ ان بہانوں میں سو تیلے ما ں با پ اور عزیز رشتہ دارو ں کا سلو ک ، بڑے بہن بھائیو ں اور استا دو ں کا رویہ سبھی چیزیں شامل ہیں ۔ بچو ں کے حوا لے سے اس سلو ک اور روئیے کو ماہرین نفسیا ت نے جسمانی ایذا کا نام دیا ہے جو ایک دن کے بچے سے لے کر اٹھا رہ بیس سال تک کے افراد کو اپنی گر فت میں لے سکتا ہے ۔ والدین ، اساتذہ اور دیگر بڑے ،بچو ں کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیو ں رکھتے ہیں ؟ یہ الگ بحث ہے کیو نکہ اس کے حوالے سے بھی علم نفسیا ت میںکئی توجیحات اور معروضات پیش کی گئی ہیں ۔
    بچو ں کے ساتھ بڑوں کے نا روا سلوک کی ایک اور شکل بھی ہے جسے نفسیا ت کے ما ہرین جذباتی ایذا کا نام دیتے ہیں ۔ یہ بھی کوئی نیا یا کمیا ب مسئلہ نہیں ، ہمارے ارد گر د اس نو عیت کے واقعات ہو تے ر ہتے ہیں ۔ پھر بھی اللہ کا احسان ہے کہ مغربی معا شرے اور تہذیب کی بہ نسبت ہما را معا شرہ بڑی حد تک اس مسئلے سے بچا ہو اہے ۔ایسا کیو ں ہو تا ہے اور اس کے نتیجے میںبچو ں کی نفسیا ت پر کس طر ح کے منفی اثرات مر تب ہو تے ہیں ؟ یہ بھی ایک الگ بحث ہے۔ زیر بحث مو ضو ع کا تعلق اس مسئلے سے ہے جسے ماہرین نفسیات نے جذباتی ایذا کا نام دیا ہے ۔ا سکاشکا ر ہونے والے بچو ں کی شخصیت عموماً ادھوری اور ناپختہ رہتی ہے ۔ با ر بار ایک ہی با ت جب ان کے ذہنو ں میں بٹھا دی جائے کہ وہ گندے ہیں ، برے ہیں ، نا لا ئق ہیں ، بد تہذیب اور بد تمیز ہیں ، غرضیکہ جب ان کی شخصیت کے ساتھ بار بار منفی صفات منسوب کر دی جائیں تو نہ صرف اپنی ذات پر سے ان کا اعتما د اٹھ جا تا ہے بلکہ وہ دوسرو ں پر بھی اعتبا ر کرنے سے گھبراتے اور کترانے لگتے ہیں ۔ ان کے ذہن میں یہ بات گرہ بن کر بیٹھ جا تی ہے کہ وہ دوسرے لو گو ں سے کم تر ہیں اور ان کے اندر کسی قسم کی مثبت خو بی نہیں پائی جا تی اور یہ کہ وہ کبھی بھی اچھے انسان نہیں بن سکتے یہ باتیں ان کے ذہن میں طر ح طر ح کے سوال جنم دیتی ہیںجن کا تسلی بخش جواب حاصل کر نے کے لیے بچے کسی سے رجو ع کر تے ہوئے بھی گھبرا تے ہیں ۔ نتیجے میں جو ں جو ں وہ بڑے ہو تے ہیں ، توں توں ان کی شخصیت پیچیدہ اور متضا د خیالات میں الجھی چلی جا تی ہے۔ ایک وقت وہ آتا ہے جب وہ اپنے ذہن میں بر پا اس مستقل جنگ سے تنگ آکر یا تو کلی طور پر فرار کا راستہ ڈھو نڈ لیتے ہیں۔ یعنی با قی ما ندہ لوگو ں سے کٹ کر طر ح طر ح کی ذہنی اور نفسیا تی بیماریو ں میں مبتلا ہو جا تے ہیں یا پھر ان کے اندر کی جنگ انھیں چڑچڑا اور غصیلا بنا دیتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے ارد گر د کے افرا د سے الجھنے اور لڑنے لگتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف ان کی اپنی زندگی متا ثر ہو تی ہے ۔ بلکہ وہ اپنے ساتھ رہنے اور ساتھ کام کرنے والے افرا د کی زندگیا ں بھی دو بھر کر دیتے ہیں ۔ چونکہ بچپن میں انہو ں نے ہمیشہ اپنے آپ کو منفی کر دار کے حوالے سے سنا ہو تا ہے لہذا بڑے ہونے کے بعد ان کے لاشعور میں یہ ڈر اور خو ف یقین کی حد تک چھپا ہو تا ہے کہ اب ان کے تعلقات جن لو گو ں سے بھی استوار ہو ں گے وہ انہیں برا سمجھیں گے اور برا ہی کہیں گے ۔ یہ ڈر اور خوف دیگر افرا د سے ان کے تعلقات کو بری طر ح مجر وح کر تا ہے اور بعض اوقات یہ صورت سامنے آجا تی ہے کہ وہ از خود دیگر افرا د سے نفرت کر تے ہیں اور ان کے کر دار کی منفی خصوصیا ت کو اجا گر کرنے لگتے ہیں اس سے انہیں وقتی ذہنی سکو ن تو حاصل ہو تا ہے لیکن آخر کا ر وہ اپنے اندر پرورش پانے والے نفرت اور حقارت کے جراثیم دوسروں میں منتقل کر دیتے ہیں ۔
    یہ بات اگر ہمارے ذہن میں آجائے ، تو ہم یقینا کسی بھی بچے کو جذبا تی ایذا پہنچانے اور اس پر طنز و تشنیع کے تیر برسانے سے پہلے یقینا یہ سو چیں گے کہ اس طر ح ہم نہ صرف ایک بچے کے مستقبل کو نفسیا تی الجھنو ں کے سپرد کر رہے ہیں بلکہ اس بچے کے ذریعے کئی اور افراد کی زندگیا ں بھی داﺅ پر لگا رہے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی شعوری طور پر یقینا یہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے بچو ں کی نفسیات کو استحکا م بخشنے کی بجائے اضطرا ب میں مبتلا کر دے ۔ یہ با ت ہم سب کے اختیار میں ہے کہ اپنی با تو ں اور اپنے کر دار سے بچو ں کو کبھی بھی اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ برے ، کم تر اور حقیر ہیں ۔غصہ سب کو آتا ہے لیکن بچے بچے ہو تے ہیں ، ان سے نفرت وحقارت کے ساتھ پیش آنا ، ان کی حرکتو ں اور شرارتو ں کو مستقل منفی انداز میں ان کے سامنے پیش کرنا ہمیں قطعا ً زیب نہیں دیتا ۔ یقین کیجئے یہ بہت آسان ہے کہ ہم اپنی زبان سے انگا رے اگلنے کے بجائے محبت ، اپنا ئیت اور عزت کے ساتھ ان پھولو ں کی آبیا ری کریں ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے گھر کے آنگن میں خوشبو پھیلی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں یا ……

    گوگل سرچ مجھے یہ مضون اچھا لگا ، آپ سب کی بارگاہ فکر میں پیش کردیا ……

  26. اچھی زائرہ بجو اللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین سلامت رھیں ھم سب اپنے دلوں میں اپنی پہلی کہانی کا ملال لیے جی رھے ھیں ، مجھے بھی یاد ھے کہ کسی نے بچپن میں حوصلہ افزائ نیہن کی ، کتاب پڑھنا تو گویا جرم تھا ھم بھی اسکول کی کتابوں میں اپنی پسندیدہ کہانی کی کتب چھپا کر پڑھتے تھے ،
    اچھی بجو جب آپ نے یہ لکھا

    شاہین جب میں نے بھی 8 برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھی تھی پر وہ مجھ تک ہی رہ گئی تھی ۔ ہمیں پڑھنے والے اور سراہنے والے ایسی رمزوں سے آگاہ نہیں تھے ۔ انہیں لگتا تھا جیسے صرف کلاسوں والا علم ہی علم ہوتا ہے ۔ مجھے آٹھ بر س کی عمرسے لے کر آتھویں جماعت کا سفر اکیلے ہی کرنا پڑا اور میں نے ایسی ایسی کتابیں پڑھ ڈالیں اور ایسی ایسی کہنایاں سوچ ڈالی کہ میں اگر آج انہیں لکھنے بیٹھوں تو مجھے ایک عمر اور اتنی ہی چاہیئے ہو
    یقین کریں بچو میں نے اپنے دل میں آپکے اس گہرے دکھہ کو محسوس کیا ھے، انشا اللہ آپکو علم سے دوستی رکھنے والا رب ضرور اس قربانی کا اجر عطا فرماۓ گا اور ھم سب اپنی اس کہانی کو یہاں تحریر کرینگے ھم ایک قلمی کبنے کے افراد ھیں ایک دوسرے کے دکھہ درد میں شریک ھوتے ھیں یہاں آکر نہ صرف میری تھکن دور ھوتی ھے بلکہ آگے بڑھنے کی ھمت بھی ملتی ھے ، اللہ آپ سب کو سلامت رکھے آمین ثم آمین

  27. دعازھراکی تحریر پڑھی تو یہ اندازہ ہوا کہ اس کے اندر جذبات کاطوفان موجیں مار رہا ہے ۔ اس کے سینے میں ایک دردمند دل ہے جسے دوسروں کے غموں کا اندازہ ہے ان کی محرومیوں کا اندازہ ہے اس لےء وہ اپنی محبتوں اور خوشیوں میں دوسرے بچوں کو بھی شریک کرنا چاہتی ہے ۔ یقیناً ہماری دنیا جس دور سے گذر رہی ہے وہاں بہت پیاری ننھی دعا زہرا جیسے لوگوں کی شدید ضرورت ہے ۔ بہت خوب ۔ زندہ باد زندہ باد

  28. عالمی اخبار سارے عالم اردو کے ساتھہ اب ھمارا خاندانی اخبار بھی بن گیا ھے

    مجھے اس خوبصورت فکری ادبی ،ثقافتی مذھبی معلوماتی اور علمی خزانے سے معمور عالمی آخبار
    سے شاھین باجی نے متعارف کرایا تھا میں نے اس بات پر اپنی ھمشیرہ کا بہت دفعہ شکریہ بھی ادا کیا ھے
    آپ نیک دل احباب نے جس طرح میرے دل کی تکلیف کے دوران اپنی دعاوں محبتوں اور عنایتوں سے مجھے مسحور کیا ھے
    میں کتنا ھی شکر ادا کروں کم ھے۔ میری آدھی سے زیادہ فکریں اور مرض تو اسی دن دور ھوگیا تھا جب آپکی دعاوں سے مجھے اللہ تعالی ھر آزار سے محفوظ کردیا ، میرے پیارے بہن بھايئوں یہ تو ایک معجزہ ھی تو تھا ، میرے لیے جانے کہاں کہاں
    سے آپ سب نے دعاوں کا حصار کھنچ دیا تھا اور میں تو بس آپ لوگوں کے خلوص ومحبت کا مقروض ھوں ۔
    گذ شتہ دنوں ھماری بہت ھی عزیز ترین ھمشیرہ سڈنی مقیم پاکستان کی قابل فخر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے ھماری لخت جگر ھماری بینائ ونظر ھماری پیاری بیٹی دعا زھراء کی کہانی کو بلاگ میں لگایا، دعا بچپن ھی سے بہت مختلف بچی ھے، سب کا خیال رکھنے والی ، بہت زیادہ سوال کرنے والی اور بہت زیادہ سب کی بات ماننے والی ، بیٹی کی کہانی
    خوشیوں بھرے غبارے
    پڑھ کر میں بھی حیران رہ گیا تھا ، اس چھوٹی عمر میں اتنی حساس اور دوسروں کا درد محسوس کرنے والی فطرت
    لیکر پیدا ھونے والی دعا زھراء پر بہت پیار بھی آیا اور اتفاق سے اسی ھفتے دعا زھراء کی سالگرہ بھی ھے
    تو عالمی اخبار کی طرف سے دی گی اغزازی سند سے بڑھ کرکوئ اور تحفہ ھو نیہں سکتا
    میں عالمی آخبار کے توسط سے آپ سب محبی و مہربانوں کا تہہ دل سے سپاس گذار ھوں
    کہ میری بیٹی دعا زھراء کو بقول شاھین باجی جگنو سے ایک چمکتا ھوا ستارہ بنا دیا
    میری خوشی تو ناقابل بیان ھے ، بیٹاں تو والدین کو بہت ھی پیاری ھوتی ھیں مگر بیٹی باپ کے دل کا چین بھی ھوتی ھے
    دعا زھراء نے اتنی خوبصورت اور پر اثر کہانی لکھہ کر ھم سب کو حیران کردیا ، دعا اس سے قبل بھی کافی ساری کہانیاں لکھہ چکیں ھیں
    انشا اللہ میں دعا زھراء کی ایک اور کہانی بھی آپکی بارگاہ فکر میں پیش کرونگا ،
    اتوار 3 جون دعا زھراء اور ھم سب کے لیے یادگار دن تھا
    پاکستان چلڈرن رائٹر کی طرف سے ایک وفد نے دعا زھرآ ء کو عالمی آخبار کی جانب سے ملنے والے اعزازپر بہت مبارک باد دی اور اس کو انوکھی کہانی کی جانب سے مبلغ دو ھزار روپیے ھمت افزائ کے طور پر پیش کیے
    محبوب الہی مخمور چیف ایڈیٹر انوکھی کہانیاں کے ساتھہ ۔
    پاکستان چلڈرن رائٹر کے صدر نوشاد جو طویل ترین ناول لکھنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ھیں
    غلام محی الدین ترک
    اسامہ احمد
    محمد رفیع الزمان
    محمد شفیق
    بچوں کے رائٹرز نے گھر آکر دعا زھراء کی حوصلہ افزائ کی اور اس کو انوکھی کہانیاں کا سیٹ ، فری ممبر شپ اور دیگر مراعات کا اعلان کیا
    میں آیک بار پھر آپ لوگوں کا شکر ادا کرنا چاھتا ھو ں
    میری دعا ھے کہ میری بیٹی دعا زھراء باب علم کے صدقے میں بچوں کے لیے ناقابل فراموش کہانیاں لکھہ کر پاکستان میں اور ساری دینا میں ایک بہت بہترین لکھاری کے طور پر پہچانی جاۓ
    آمین ثم آمین

  29. صفدر سب سے پہلے تو بلاگ فیملی میں شمولیت پر خوش آمدید ۔ میں جانتی ہوں کہ تم بہت بہت مصروف ہوتے پر ویر وقت پر وقت کی قدر بھی تو کرنی ہے ۔۔ اور سب سے بڑی قدر دانی وقت کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے ۔۔ مجھے تمہاری باتییں پڑھ کر بہت بہت اچھا لگا ۔۔ ہم سب دعا زہرا کے لئے دعاگو ہیں اور اس کی بلند فکری کی دعا بھی کرتے ہیں ۔۔ تم کو ۔ تمہارے اہل خانہ کو یہ خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں ان ساری خوشیوں میں اپنے دوسرے بچوں کا بھی خیال رکھنا خاص طور پر انعمتا کا کیونکہ وہ بڑی ہے اور اس نے یہ اعزاز حاصل نہیں کیا ۔۔ بچے بے حد حساس ہوتے ہیں ۔۔ اتنے کہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور ان کی زندگی کسی اور رخ کی طرف مڑ جاتی ہے ۔۔ اللہ کریم تمہیں اپنی زمیداریوں کو نبھاہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔الہی امین

  30. السلام علیکم ! ’’ خوشیوں بھر غبارے ‘‘ دعا رضوی کی مزے دار کہانیوں پر مبنی کتاب ہے۔اللہ تعالی اس طالبہ کا ذوق و شوق برقرار رکھے۔آمین ! دعا آپ کے بہت ساری دعا ! آپ کا انکل (تایا) ۔۔۔
    ڈاکٹر پروفیسر سید مجیب ظفر انوار حمیدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *