کس جا کو وطن کہوں ۔۔۔۔ ؟

کس جا کو وطن کہوں

کس جا کو وطن کہوں ۔۔۔۔ ؟

ہائے
میرے صنوبر
چنار ، سفیدے
سارے گلاب جل گئے
گوشہ ہائے چشم میں
سارے
خواب جل گئے
ہائے
میری ماہ شب تاب کیا ہوئی
میری نسیم سحر کہاں گئی
اب
اس جہاں میں
کس جا کو وطن کہوں
کہاں طنابیں کھینچوں
کہاں آخری ایڑھ لگاؤں
ہائے ۔۔
میرا گھر کیا ہوا
میرا وجود کدھر گیا

ڈاکٹر نگہت نسیم
22.09-2013
(آج کا خود کش حملہ مسیح بہن بھائیوں پر نہیں ہوا بلکہ پوری انسانیت پر ہوا ہے ۔۔۔۔ 75 قیمتی جانوں کے جانے پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے )

7 thoughts on “کس جا کو وطن کہوں ۔۔۔۔ ؟”

  1. نگہت بہن یہ آپکے دل کی گہرئیوں کی آواز ہے۔ واہ

    جب تک ہم اپنے ہر جرم کے جواز میں محض قرآنی آیات، حدیث اور اقوالِ زرّیں پیش کرتے رہیں گے لیکن انکااطلاق نہیں کریں گے تو پھر دھماکے بھی ہوتے رہیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وکیل بولتا رہے اور جج سنتا رہے لیکن کوئ فیصلہ نہ دے۔ پتہ نہیں ہم محمد ابنِ عبداللہ کی اُمت ہیں یا محمد ابنِ عبدالوہاب نجدی کی۔

  2. کس جا کو وطن کہوں
    نوحہ الوقت ھے یہ مختصر مگر بہت مضبوط اور مکمل نظم ھے
    میں تو اب ھر روز ھی روتی ھوں
    میری انکھوں کی منڈیروں پر 17 کڑور سے زائد پاکستانیوں کے آنسو ھیں آھیں ھیں
    آہ و بکا ھے
    ھر روز میرے وطن میں ماتم ھوتا ھے
    مائيں روتی ھیں ‘بچے روتے ھیں بیٹیاں روتی ھیں
    جوان روتے ھیں بوڑھے روتے ھیں
    بیمار روتے ھیں صحت مند روتے ھیں
    یہاں خوش حال روتے ھیں
    یہاں بد حال روتے ھیں
    ھم جو کھبی فاتحین تھے اب غلام بن گیے ھیں

    عدو کی ھر جگہ رسائ ھے
    دھشت گرد ھر جگہ پہنچ جاتے ھیں
    ھمارے وطن کو کم زور کرنے ۔ توڑنے والوں کے ھاتھہ بہت مضبوط ھورھے ھیں

    آج یہ عالم ھے کہ عدو کی ھرجگہ رسائ ھے

  3. ائے میرے محترم مسیحی ہم وطنو ں ،

    میں عالمی اخبار کے توسّط سے تمھاری لاتعداد قیمتی متاع کے زیاں پر تعزیت پیش کر رہی ہوں ،پاکستان اس وقت خود جو لہو لہان ہے ،کسی کے لئے کچھ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ دہشت گردوں کو آ رام دہ ہنڈولنے میں پالنے کے لئے اس کے حاکموں نے آرام دہ با غ تیّار کئے ہوئے ہیں ،ہر حاکم ہاتھ باندھ کر ان دہشت گردون کے آگے سجدہ ریز ہے ،اس لئے ہمارا کام بس روتی ہوئ آ نکھوں سے اپنے مرجانے والوں کی تعزیت لینا اور دوسروں کے مر جانے والوً کے لئے پرسہ دینا رہ گیا ہے

  4. لگہت آپی ! بہت پردرد نوحہ ھے ۔ وطن سے دور رھنے والوں کا
    اللہ پاک وطن عزیز پر اپنا کرم فرمائیں ۔ آمین

  5. پہلے تو ایک غم تھا ، مسلمان مر رھے ھیں
    اب المیہ یہ ٹھہرا کہ انسان مر رھے ھیں

    ان دشمنان دین پہ لعنت ھے بےشمار
    اسلام کو جو کرتےھیں وحشت سے دا‏غدار

    خصلت ابولہب کی ، لبادہ ھے دین کا
    یا رب ! توھی امیں ھے، میری سرزمین کا

    (ارم نقوی )

  6. زعم مسلم کو بہت ایمان پر
    روتا ہے اسلام مسلمان پر

    جن لوگوں نے خدا کے گھر کو نہیں چھوڑا وہ نبی کے گھر کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔

  7. ھر روز بے گناھوں کا خون بہہ رھا ھے
    ھر روز گھروں سے جنازے نکل رھے ھیں
    ھر روز ھمارے شہروں میں دھشت گرد تباھی پھیلارھے ھیں
    کوئ محفوظ نیہں رھا ھے
    کوئ امان میں نیہں ھے
    ھر ایک شدت پسندوں کے نشانے پر ھے
    نہ ان دھشت گردوں سے مسجد محفوظ رھی
    نہ امام بارگاھیں محفوظ رھیں
    نہ کلیساء انکی دسترس سے محفوظ رھے
    کس نے ان ایذا پسند انسانی زندگی سے کھلینے والوں کے سینے سے دل نکال پتھر بھر دے
    یہ تو جنگل کے خطرناک درندوں سے زیادہ وحشی ھیں
    کاش کسی دھشت گرد کو تو پکڑا جاۓ
    کاش کسی دھشت گرد کو سزا ملے
    کسی دھشت گرد کو سرعام پھانسی دی جاۓ
    کاش ان دھشت گردوں کو زندہ جلا دیا جاۓ
    پشاور کے چرچ میں ھدشت گردوں کے دھماکوں میں جاں بحق ھونے والے ان گنت بے گناہ مسیحیی بھايئوں اور بہنوں د کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ھیں
    کاش مجرموں کو سزا ملے
    کاش مجرموں کو شدید سزاملے
    کاش مجرموں کو زندہ جلا دیا جاۓ
    آدمی غصے اور حالت غم میں بددعا ھی دیتا ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *