السلام علیکم
اہل مغرب اور خصوصا انگریزوں کی ایک وصف ہے کہ وہ جس فن کے پیچھے پڑتے ہیں تو پھر اُسے کمال تک پہنچاتے ہیں ، ایسا ہی کمال اُنہوں نے جھوٹ در جھوٹ اور کسی کی کردار کشی کے فن میں بھی حاصل کر لیا ہے ، بلکہ اب تو اُن کے دیکھا دیکھی اس فن سے اہل مشرق کے بھی کچھ لوگ استفادہ کر رہے ہیں ، ملائشیا کا ایک مسافر طیارہ دوران پرواز لاپتہ ہو گیا ، ابتدائی دو تین روز اُسے تلاش کرنے میں گزرے پھر اچانک برطانوی اور امریکی میڈیا کو علم ہوا کہ جہاز کو طالبان نے اغوا کر لیا ہے اور اب وہ پاکستان کے علاقے وزیرستان میں موجود ہے، ( میں حیران ہوں کہ یہ دو تین دن بھی کیوں صبر کیا گیا ) مذکورہ جہاز ملائشیا سے چین جا رہا تھا ، اور اکثریت چینی مسافروں کی ہی تھی ، ملائشیا اور چین کے درمیان ہوائی گزرگار سے پاکستان کو دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ، مسافروں میں کوئی بھی پاکستانی یا افغانی نہیں تھا ، مگر یہ جھوٹ اس شدت اور تواتر سے بولا گیا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کو کئی بار اس بات کی تردید کرنی پری کہ مذکورہ جہاز پاکستا نی حدود میں داخل نہیں ہوا ، مگر ۔ ۔ ۔ ملائشیا اور پاکستان کی ہوائی گزرگاہ کے درمیان جو کئی ممالک ہیں ، تھائی لینڈ ، برمودہ ، بنگلہ دیش ، اور پورا بھارت ، اور ان میں سے کسی ایک ملک کے ایوی ایشن ریڈار نے جہاز کی پرواز نہیں دیکھی ، پھر کہا گیا کہ جہاز نے انتہائی نیچی پرواز کی جس کے سبب جہاز کسی ریڈار پر نظر نہیں آیا ، جھوٹ کے اس تسلسل نے کم و بیش اُسے سچ بنا ہی دیا تھا مگر برا ہو ملائشین وزیر اعظم کا کہ آج اُنہون نے اعلان کر دیا ہے کہ جہاز بحرہ ہند میں گر کر تباہ ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔
اسی طرح تواتر سے کہا جاتا رہا کہ طالبان پاکستان سے مجاہدین کو شام بھیج رہے ہیں ، اور جو شامی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں ، مگر اب یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کہ شام میں ایک بھی پاکستانی لڑائی کے لیے نہیں آیا البتہ خود مغرب سے مسلمان نوجوان انفرادی حیثیتوں سے ہزاروں کی تعداد میں شام میں آئے اور لڑائی میں شامل ہوئے ، خود برطانیہ اس بات کا اقرار کر چکا ہے کہ کم و بیش تین ہزاراہل مغرب کے نوجوان اس وقت بھی شام میں موجود ہیں ، جن میں اکثریت برطانوی و امریکی شہری ہیں ، کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان سے آئی ایس آئی اپنے لوگ شام بھیج رہی ہے مگر لڑائی میں جان بحق ہونے والے کی میتیں ایران اور حزب اللہ وصول کر رہی ہے ۔
اب ایک اور بات تسلسل سے کہی جا رہی ہے کہ پاکستان اپنی افواج سعودی عرب اور بحرین بھیج رہا ہے ، حالانکہ وزیر اعظم پاکستان اس کی تردید کر چکے ہیں ، اور اگر بھیج بھی رہا ہے تو اس میں کیا برائی ہے ؟
اگر شامی حکومت کی درخواست پر عوامی باغی فوج کے خلاف لڑنے اور مزاحمت و بغاوت کچلنے کے لیے ایران اپنی افواج اور حزب اللہ اپنی ملیشیا شام بھیج سکتا ہے اور یہ بات غلط نہیں ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا ، اور امریکہ و نیٹو کی افواج کا افغانستان میں آنا اور پھر اب بھی وہاں موجود رہنا کس طرح جائز ہے ؟

بھٹی صاحب
سب سے پہلے تو میں آپکو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ صوبہء ہزارہ کی تحریک کامیاب ہوتی ہوئ نظر آرہی ہے۔
جہاں تک ملیشیاء کے جہاز اور طابان کا تعلق ہے تو کم از کم میں نے امریکی میڈیا میں ایسی کوئ خبر نہ سنی نہ پڑھی۔
امام محمد باقر علیہ السلام کا قول ہے کہ
‘وہ شخص جسکی Konwledge سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے ستّر ہزار عبادت کرنے والوں سے بہتر ہے۔
غالب نے سر سیّد احمد خان سے کہا تھا کہ مسلمانوں کو فرنگی سے علم وہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ سرسیّد نے علی گڑھ کا مدرسہ بنایا۔ اس ہی طرح آج ہمیں علم وہنر کے میدان میں یہودیوں سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہودی جنہیں ہم برا بھلا کہتے ہیں یہی یہودی امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق کیلئے لڑتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انکے خلاف بھی تعصب ہے جس کا مقابلہ وہ اپنی تعلیم سے کرتے ہیں۔ جو ہمیں تعلیم دے سکتی ہے وہ نہ طالبان دے سکتے ہیں نہ مذہبی جماعتیں نہ شاہانِ عرب۔
السلام علیکم
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ! صوبہ ہزارہ کے بارے میں خیبر پختون خواہ کی اسمبلیوں میں پاس ہونے والی قراردادوں پر آپ کی مبارک باد پر خیر مبارک اور بہت بہت شکریہ ۔
محض صوبہ ہزارہ کبھی میری ترجیح نہیں رہا ، بلکہ یہ ہزارہ کی عام عوام کی ترجیح بھی نہیں ہے ورنہ عام انتخابات میں تحریک صوبہ ہزارہ اس بری طرح ناکام نہ ہوتی ، وہ ایک وقتی اشتعال تھا جو خیبر پختون خواہ کے نام کے سبب پیدا ہوا اور کچھ لوگوں نے اُسے استعمال کیا ، البتہ میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے صوبے پاکستان کی اشد ضرورت ہیں ، یا پھر تمام صوبے ختم کر کے کنفڈریشن قائم کر دی جائے ، البتہ پہلی ترجیح مزید چھوٹے صوبے بنانے کو دی جائے ، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر بقیہ صوبوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور صرف ایک مرکزی حکومت ہو ، اور بلدیاتی اسمبلیاں بنا کر تمام تر ترقیاتی کام اُن کے سپرد کر دئیے جائیں ۔ ۔ ۔
بات طالبان یا شاہان عرب کی حمایت اور یہود و نصارا کی مخالفت کی نہیں ، کچھ اصولوں کی ہے ، میں کبھی بھی طالبان ( تحریک طالبان پاکستان ) کا حامی نہیں رہا ، میں اعتدال پسند ہوں اس لیے جب کبھی کسی طرف سے بھی انتہا پسندی ہوتی ہے یا کم از کم مجھے محسوس ہوتی ہے تو مجھے یہ پسند نہیں آتا ، امریکہ و یہود کی مثبت باتوں کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں ، میں تسلیم کرتا ہوں کہ امریکی نظام حکومت فل وقت موجودہ دُنیا کے تمام نظام ہائے حکومت میں سب سے بہتر ہے ، تمام تر طاقت و اختیارات صدر صاحب کے پاس ہیں ، جو کہ کسی بھی نظام کے بہتر انداز میں چلانے کا فطری طریقہ ہے ، حکومت و ریاست کا سربراہ ایک ہی شخص ہونا فطری تقاضہ ہے ، امریکی صدر کو برائے راست عام عوام خود منتخب کرتے ہیں اور صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے وزیر مقرر کر دے ، اس کے لیے مزکورہ شخص کا انتخابات لڑنا یا سینٹ کا ممبر ہونا لازمی نہیں ، اور یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ شخص امریکی صدر کی پارٹی کا ہی ممبر ہو ، یہ نظام اس حد تک تو خلافت کے بہت قریب ہے ۔
البتہ مجھے آپ کی اس بات سے کسی حد تک اختلاف ہے کہ یہود تعصب کا شکار ہیں ، یورپ میں (انگلینڈ کو سوا ) تو شاید یہ بات کسی حد تک درست ہے مگر امریکہ میں تو امریکی حکومت اور زرائع ابلاغ پر یہود کا مکمل کنٹرول ہے ، اور یہود کسی طور پر بھی پاکستان اور افغانستان کا وجود برداشت نہیں کر سکتے ، اسی لیے وہ پروپیگینڈہ کے زریعے ہر ممکن طریقے سے ان دو ممالک اور کسی حد تک ایران کو ہر قسم کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، زائینسٹ ( یہود ہو یا نصارا ) کی پہلی ترجیح تو پاکستان کا مکمل خاتمہ ہے یا کم از کم اُسے بھارت کا طابع مہمل کر دینا چاہتے ہیں یعنی ایک اور نیپال کہ جو بس رقبے کے لحاظ سے نپال کا دس گنا ہو ۔
نائن الیون کا واقع ہوا ، ( کس نے کیا اس سے بحث نہیں ) جن پر الزام لگایا گیا اُن میں ایک بھی پاکستانی یا ایک بھی افغانی شامل نہیں تھا ، مگر شامت ان دو ملکوں کی آئی ، اس کا سبب کیا ہے ؟ کبھی غور کیجئے گا ۔
عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے لیکن ہے یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
آقآ صلاۃ السلام کی حدیث شریف ہے ( اللہ کمی بیشی معاف فرمائے ) علم مومن کی میراث ہے ، جہاں پائے اُسے حاصل کر لے ۔ سو علم کے حصول کے لیے ہر مسلمان کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہے ۔
آقا صلاۃ السلام کی ایک اور حدیث شریف ہے ( اللہ کمی بیشی معاف فرمائے ) مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں ۔
اس حدیث شریف کو علامہ اقبال اپنے شعر میں یوں بیان فرما گئے ہیں ۔
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے ۔
آقآ صلاۃ السلام کی حدیث شریف ہے ( اللہ کمی بیشی معاف فرمائے ) مشرق کے ایک ملک سے فوجیں آئینگی اور جو ( امام ) مہدی کی حکومت قائم کرینگی ۔
آقآ صلاۃ السلام کی ایک اور حدیث شریف ہے ( اللہ کمی بیشی معاف فرمائے ) مشرق کے ایک ملک سے فوجیں آئینگی جن کے جھنڈوں کا رنگ کالا ہو گا اُنہیں دُنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی اور وہ اپنے جھنڈے ایلیا ( موجودہ یروشلم ) میں نصب کرینگے ۔
یہ تمام احادیث اہل یہود کے علم میں بھی ہیں ، اور وہ اس کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں ، وہ مشرق کی اُس فوج کو کسی طور منظم ہی نہین ہونے دینا چاہتے ۔
اچھے بھائ آصف احمد خوش رھو سلامت رھو
حسب معمول اپنے سبجیکٹ سے انصاف کیا ھے اور اپنے موضوع کو خوب اچھی طرح نبھایا بھی ھے
جھوٹ کا تسلل – – – عین سچ
میں تو ابھی تک فلائٹ 370 کے ان بدنصیب 239 مسافروں کے لیے پریشان ھوں جنکو زمین کھا گی یا آسمان نگل گیا اپنے مقررہ رستوں سے ھزاروں میل دور کیسے چلی گی جنوب کے بجاۓ شمال کیسے چلی گی ابھی تو جتنے منہ اتنی باتیں مگر بہرحال اتے سارے لوگوں کی موت نے افسردہ کردیا ھے اور اب تو دینا میں کیہں بھی کچھہ ھوگا پاکستان کا نام ضرور لیا جاۓ گا اس سے ھمارے دشمنوں کو دو فائدے حاصل ھوجاتے ھیں ایک تو ھر عالمی واقعے کے بعد دینا کو یہ یقین دھانی کہ پاکستان سب سے خطرناک ملک ھے اور دوسری کہ اصل واقعے سے لوگوں کی توجہ موڑ دی جاۓ ۔۔۔ ابھی تو ساوتھہ انڈین اوشن میں اس جہاز کا ڈوبنا بھی حیرت اور اب جو کہانیاں سامنے آرھی ھیں وہ بھی پریشان کن،،
اللہ کرے زور قلم اورزیادہ
مجھے تمھارا انکسار اور عاجزي بہت اچھی لگتی ھیں اور تم انشا اللہ ھم سب کا سر فخر سے اونچا کروگے
ابھی تو بس بلاگ میں حاضری دینی تھی ۔۔۔ سبکو سلام اور جہاز کے بدنصیب مسافروں کے لواحقین کو اللہ صبر عطا فرماۓ آمین ثم آمین
محترم بھٹی صاحب سلام مسنون۔ آپ نے اہم موضوع پر قلم اٹھایا۔ اگر برا نہ لگے تو تھوڑی زیادہ گہرائی سے بات کرناچاہوں گا، امید ہے آپ طوالت اور ضخامت کو نظر انداز کر کے نفس مضمون کو پسند فرمائیں گے۔

مسلمان کے لئے لازم ہے کہ اپنے ظاہری حواس خمسہ کے ساتھ حقائق کے ادراک کے ساتھ ساتھ اپنے دل و دماغ کے کواڑ بھی کھلے رکھے اور حاصل شدہ معلومات کو میزان عقل پر ضرور پرکھے۔ جھوٹ مغرب کا خاصہ ہے نہ مشرق کا، بلکہ یہ روگ ہے انسانیت کا جو حسد اور شکستگی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس لئے اس بیماری سے بچنے کے لئے لازم ہے کہ انسان اپنا محاسبہ کرتا رہے تا کہ اس کے نزدیک حسد آئے نہ شکستگی کا احساس اسے کھا جائے۔ حسد اور خوف انسان کو کھانے لگے تو آدم ، نوح اور یعقوب علیھم السلام جیسے نبیوںؑ کے بیٹے جھوٹ کی بیساکھی پر اپنا راستہ طے کرنے لگتے ہیں اور اگر ضمیر کا طائر ملکوتی جاگ جائے تو ایتھنز کی تاریک فضا میں سقراط کی زبان پر کلمہء حق جاری کر دیتا ہے، آتش کدہء فارس سے سلمان فارسی کو مدینے لاکر سلمان محمدیؐ بنا دیتا ہے۔ ۔ جھوٹ طاقت پکڑ لے تو سچ کو مدینے سے نکال کر ربذہ کے صحرا میں مارڈالتا ہے اور سطوت اسلامی کو ملوکیت دمشق میں بدل ڈالتا ہے لیکن سچ قوت میں آ جائے تو فتح مکہ پر لا تثریب علیکم الیوم کی نوید سناتا ہے۔
ابلیس کو حسد نے بزم ملکوت سے اٹھایا تو مسلمان کو بزم پیمبر ؐ میں قوموا عنی کا نوشتہء دیوار سنایا۔ اگر مسلمان اپنے دل و دماغ کی آنکھیں کھلی رکھتے تو میدان احد میں پیمبرؐ تنہا نہ رہ جاتے ، مدینہء منورہ میں عثمان اپنے گھر میں قید ہو کر نہ مارے جاتے،مسجد کوفہ میں علی ابن ابیطالب کا سر نہ کٹتا، کربلا میں حسین ؑ ابن علی بہتر ساتھیوں سمیت نہ مارے جاتے۔ چند قدم آگے بڑھیں تو یہ ہمارے ضمیر کی خفتگی تھی جس نے اہل حجاز کو علی ابن ابیطالب کےخلاف صف آرائی پر لا کھڑا کیا، اہل شام کو نسلوں تک علی ابن ابیطالب پر سب شتم کی مشق پر قائم رکھا ۔
یہ جھوٹ کا ہی تسلسل (نہ کہ تسلل) تھا جس نے امت کی آنکھوں کو بند کر دیا اور انہوں نے دوش نبوتؐ کے سواروں کے مقام کوپہچاننے سے انکار دیا اور اسی راکب دوش نبی کو نوک سناں پر بلند کردیا۔ نبی زادیاں جن کے دروازے کے ادب میں سورہء حجرات اترتی ہے، وہی کوفہ و شام کے بازاروں میں پا بجولاں اسیر بنا کر پھرائی جاتی ہیں، لیکن امت خود کو وقف آسودگی رکھتی ہے۔
آپ نے جس ملائیشین طیارے کی گمشدگی کی خبر کا ذکر کیا ہے، اسکے کسی دوسرے ملک جانے کے مفروضے میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کا نام آیا تھا۔ اس لئے یہ الزام تراشی ہر گز نہ تھی۔ ریڈار ڈاٹا کئی ممالک سے مانگا گیا جن میں بھارت کے سوا ہر ایک نے مکمل تعاون کیا۔ اب جبکہ مضبوط شبہات موجود ہیں کہ طیارہ آسٹریلیا جا رہا تھا تو کیا اس سے آسٹریلیا کو کوئی خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی ہے؟؟؟؟؟ ہمیں ہر شے کو اپنی داڑہی کا تنکا بنانے سے اغماز برتنا چاہئے۔ میڈیا میں کسی حوالے سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی، سوائے ان تحقیقاتی شبہات کے جن میں بنگلہ دیش سے لیکر ایشیائے وسطیٰ کی ریاستوں کا نام آیا تو آسٹریلیا کا بھی نام آیا۔ اس میں گھبرانے کی اس وقت تک ضرورت نہیں جب تک پاکستان کا کوئی عملی ہاتھ نظر نہ آ جائے۔
اب آپ نے دو باتوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیا ہے۔ شام میں جنگ بازوں کے متعلق عرض ہے کہ خود طالبان لیڈر عبد الرشید عباسی طالبان کے شام میں نازل ہونے کا اقرار فرما چکا ہے، اللہ جانے آپ کس کا دفاع کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ ملاحظہ ہو
http://www.aljazeera.com/news/middleeast/2013/07/20137167916826540.html
مزید ملاحظہ ہو
http://www.bbc.com/news/world-asia-23285245
جس کارنامے پر طالبان ناز کریں گے، نجانے کیوں آپ اس حقیقت کا انکار کرنا چاہتے ہیں۔ شام میں پولیو وائرس کی آمد کیا اشارے کرتی ہے، جبکہ شام پولیو سے پاک ملک تھا۔
ہاں ممکن ہے پاکستان نے عرب ممالک میں سرکاری نگرانی میں طالبان یا جنگجو نہ بھجوائے ہوں، مگر انکی وہاں موجودگی سے انکار کیسا؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں او پی ایف بحرین میں وہاں کی سرکار کی طرف سے عوام کی قتل و غارت کے لئے لوگ بھیج چکی ہے۔ یقیقن نہیں آتا تو اشتہار لف ہذا ہے۔
اب رہا سوال ہماری افواج کے مشرق وسطیٰ کے امراء کے تحفظ کا۔ اس میں برائی ہی کیا ہے۔ درست کہا آپ نے۔ جب یہ فوج امریکا کے لئے بِک سکتی ہے تو مسلمانوں کے لئے کیوں نہیں۔ ہمیں تو یہ بھی ڈر نہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو خانہ کعبہ پر یلغار کر کے اگر سعودی خاندان کے دشمنوں کو مارنا پڑا تو ہم ماریں گے۔ نومبر 1979 میں پاک فوج کا آپریشن ایک زندہ دلیل ہے جب ہم نے خانہ کعبہ میں پانی چھوڑ کر اس میں بجلی چھوڑ دی اور صحن حرم یا مسجد الحرام میں نہیں، عین بیت اللہ کے اندر سعودی دشمنوں کو مار ڈالا۔ اب کہ دیں یہ سب جھوٹ ہے!
جہاں تک حزب اللہ کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ حزب اللہ شام میں اسد افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔۔۔۔۔یہ وہی حزب اللہ ہے جس نے اسرائیل کے دانت کھٹے کر رکھے ہیں اور ہمیں ہر وقت اسکا وجود کھٹکتا ہے۔ حزب اللہ اور شام کا بارڈر ایک ہے اور مفادات مشترکہ۔۔۔۔۔دوست دشمن ایک۔ پاکستانی طالبان کا وہاں مشترکہ مفاد سوائے شیعہ کُشی کے کچھ اور ہے تو ہمیں نہیں معلوم۔
تا حال ابھی تک ہمارے پاس ایک بھی ضعیف روایت موجود نہیں کہ ایرانی شام میں جا کر لڑ رہے ہیں۔ تاہم ایسا ہونے کے امکان ہو کم از کم فدوی نہیں جھٹلاتا، کیونکہ فلسطین کے دفاع ، اسرائیل کی کے محاسبے سے لیکر اسد دوستی تک سب کچھ ایران اور شام میں مشترک ہے۔ اس لئے ممکن ہے ایرانی وہاں لڑ رہے ہوں۔ ہمیں تو جس چیز کا ڈر ہے وہ یہ کہ ایرانی کل کو ہماری سرحدوں میں گھس کر نہ لڑنے لگیں کہ انکے شہری اغوا ہو ہو کر پاکستان میں لائے جا رہے ہیں۔
بندہء مومن کو اس قابل ہونا چاہئے کہ حالات کا درست تجزیہ کر سکے اور سچ و جھوٹ کے مابین تمیز کر سکے۔
آپ کا موضوع نہایت مناسب ہے اور ہمیں چشم کشائی کی دعوت دیتا ہے۔ اگر کچھ برا لگا ہو تا معاف فرما دیں۔
السلام علیکم
محترم جناب سید صاحب ! میں کسی کا دفاع نہیں کر رہا ، اپنے علم کے مطابق حقائق بیان کر رہا ہوں ، شام میں لڑنے جانے کے لیے کسی طالبانی ( تحریک طالبان پاکستان ) کا اقرار سوائے نمبر بنانے کے کچھ نہیں ، شام میں پولیو وائرس تو مل گیا مگر پاکستانی شہید میت اب تک نہیں مل سکی ، یا کم از کم کسی طالبانی کو وہاں لڑتے نہیں دیکھا گیا ، پروپیگینڈا اور کسے کہتے ہیں ؟ حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف جہاد پر کس نے اُن کی توصیف نہیں کی مگر شام میں نہتے مسلمانوں کے خلاف اسدی افواج کا ساتھ دینا کیا معنی رکھتا ہے ، آپ اسے مشترکہ مفاد کیسے کہہ سکتے ہیں ، کیا یہ سُنیون کے خلاف اہل تشیع کا اتحاد سمجھا جائے ؟ اب تک سینکڑوں ایرانی انقلابی گارڈ کے جوان شام میں جان بحق ہو چکے ہیں ، وہ وہاں اسرائی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ، اس لیے وہاں وہ بھی تحریک طالبان پاکستان جیسا کام ہی کر رہے ہیں ۔
میں خود کو ایک اعتدال پسند مسلمان سمجھتا ہوں اس لیے بہت بار اشتعال دلانے کے باوجود میں نے ( جان بوجھ کر ) کبھی یہاں کچھ ایسے الفاظ نہیں لکھے جس سے کسی کی دل آزاری ہو ، اہل تشیع پر ہونے والے ہر ظلم کی کھل کر مخالفت کرتا رہا ہوں مذمت کرتا رہا ہوں اور ایسے ہر شخص کو کہ جو اس قسم کا قبیح فعل سر انجام دیتا رہا ہے کو میں ظالم کہتا رہا ہوں ، ظالم صرف سنی ہی نہیں غیر سنی مسلمان بھی ہیں ، پاکستان میں اہل تشیع مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو تو پوری دُنیا میں بیان کیا جاتا ہے ( مین خود اس ظلم پر احتجاج کرنے والون میں شامل ہوں ) مگر ایران میں سُنیوں پر ہونے والے مظالم کوئی کیا نہیں بیان کرتا ، پاکستان میں تو قبیح حرکت دہشت گرد کرتے ہیں ، اور وہ صرف اہل تشیع حضرات کو شہید نہیں کرتے بلکہ سُنی بھی اُن کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں بلکہ اگر اعداد و شمار دیکھے جائیں تو سُنی مسلمان کی شہادتیں اہل تشیع سے بہت زیادہ ہیں ، مگر ایران میں تو سُنی مسلمانوں کو حکومتی سطح پر ظلم و ستم کا شکار کیا جاتا ہے ، اب تک سینکڑوں نوجوان سر عام پھانسی چڑھائے جا چکے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ میڈیا میں اس کا ذکر نہیں آتا مگر سچ کو تسلیم کرنے کے لیے اُس کی گردان ضروری نہیں ، اسدی رجیم اور ایران کے مفادات تو ایک ہو سکتے ہین مگر پاکستان اور سعودی عرب کے مفادات ایک نہین ہو سکتے ، حزب اللہ اور اسدی فوج شامی عوام پر ظلم ڈھا سکتی ہین مگر بحرین میں یہ نہیں ہو سکتا ، ظلم ہر جگہ ظلم ہے ، بحرین میں ہونے والا ظلم اور شام میں ہونے والے ظلم میں فرق کیسے کیا جاسکتا ہے ،
اگر آپ کے علم میں نہیں تو میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ بحرین اور کچھ عرب ریاستوں میں دہائیوں سے پاکستانی نوجوان وہاں کی پولیس اور نیشنل گارڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ، اس لیے ایسے کسی اشتہار کو بنیاد نہین بنایا جاسکتا ، اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ، اس لیے اس اشتہار کو بنیاد بنا کر یہ الزام لگا دینا کہ اس طرح پاکستانی وہاں جاکر اہل تشیع پر ظلم کر رہے ہیں کچھ زیادہ مناسب نہیں ،
ملائیشین جہاز کے بارے میں عرض ہے کہ آپ کی بات درست ہے کہ ملائیشن حکام نے پاکستان سمیت کئی ممالک سے رابطہ کر کے مدد کی اپیل کی تھی ، مگر شاید اپ کے علم مین نہیں کہ مغربی اور خصوصا برطانوی میڈیا میں تسلسل سے اس جہاز کو طالبان کی جانب سے اغوا کر لیے جانے کا پروپیگینڈا کیا گیا تھا ۔
پس تحریر : – میری اس تحریر کا مطلب کسی طور بھی کسی ظالم کا حمایت نہیں ہے ، مجھے کسی طور بھی شاہان عرب سے کوئی ہمدردی ہے ، بلکہ میں ان شاہان عرب کا غاصب سمجھتا ہوں ، اس تحریر کا مقصد صرف ہر قسم کے ظلم کو ظلم کہنا ہے ، اگر میرے کسی لفظ سے کسی دوست کا دکھ پہنچا ہوں تو معذرت خواہ ہوں ، یہ حقیقت ہے کہ بہت سے حقائق ( یا کم از کم جنہین میں حقائق سمجھا ہوں ) صرف اس خوف سے تحریر میں نہیں لاتا کہ دوستوں کی دل آزاری ہو گی ، لیکن اس کا مطب یہ ہر گز نہیں کہ مین مجبور ہوں ۔ ۔ ۔
میرا بہت دل کرتا ہے کہ ان موضوعات پر لکھوں مگر کیوں لکھوں ؟؟ کیا میرے لکھنے سے کچھ بدلے گا ، کسی کی سوچ بدلے گی ؟؟ نہیں ، میں نے بہت دیکھ لیا ہے لکھ کر ، ہم میں ہر بندہ اپنے آپ میں ایک فرعون رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ جو اسے کہتا ہے کہ وہ ہی خُدا ہے باقی سب مخلوق ہے ۔ ۔ وہ ہی صحیح ہے باقی سب غلط ہیں ۔ ۔ ۔
ہماری اسی کمزوری کی وجہ سے آج ہم دن بہ دن انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ۔۔ بے حسی ہمارے معاشرے کی انتہا کو پہنچ چکی ہے ، عجیب لوگ ہیں ہم ۔۔ ۔ اخبار دیکھو ، ٹی دیکھو ، انٹر نیٹ دیکھو بھرا پڑا ہے نفرتوں سے ، اور لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ کوئی مسلمان ہی نہیں اور بس ہماری سوچ ہی حرف آخر ہے
یہ نہ مانو کی تصویر جو ہم نے بنا رکھی ہے اسی نے ہمیں برباد کر کہ رکھ دیا ہے ، اور ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں خود سے لڑ نہیں سکتے ، سچ کو سچ نہیں کہ سکتے ، جھوٹ کی مخالفت نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ آخر کیوں ؟؟
شام میں پاکستانی جا رہے ہیں ، ظاہر ہے جا رہے ہیں ، ہمارے ہاں شعیہ سنی فساد ہوتا ہے ، جی ہوتا ہے ، ہمارے ہاں اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے ، ہوتا ہے ، ہمارے ہاں غریب مظلوم ہے ، جی ہے ۔ ۔ ہمارے ہاں امیر ظالم ہے ، ہے ۔ ۔۔ مگر ۔ ۔۔ ایک بہت بڑا مگر یہ بھی ہے
پاکستانیوں کو پاکستان میں ملازمت کے مواقع نہیں تو وہ باہر جانا چاہتے ہیں ، اور عرب ممالک سب سے زیادہ ہمارے خون پسینے سے بنے محل موجود ہیں ۔ ۔۔ کسی بھی شہر میں جائیں وہاں شعیہ سنی ساتھ ہیں ۔ ۔ ۔ اور اقلیتوں کی بات کیا کرتے ہیں ، اببھی 23 مارچ کے فلائی پاسٹ کی قیادت ایک غیر مسلم افسر نے کی ۔ ۔۔ ۔
ہاں ہمارے ہاں تقسیم ہے مگر صرف امیر و غریب کی ، طاقتور اور کمزور کی ۔ ۔ ۔ اور بس اپنی پہچان پر شرمندگی کی ۔ ۔ ۔۔ عجیب قوم ہیں ہم ۔ ۔۔ ۔ جو ایک کرکٹ میچ پر ایک قوم بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر دنیا کے سامنے دست و گریباں ہی نظر آتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور مذہبی طور پر ہماری حالت ۔ / // /
ناداں گر گئے سجدے میں ۔۔ ۔ ۔ جب وقت قیام آیا
محترم بھٹی صاحب، مجھے آپ سے اتفاق ہے۔ بس ہمیں بچنا ہوگا اس عالمی سازش سے جسکا ذکر کل عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی میں کیا کہ یہ مخفی قسم کے تحفے شیعہ سنی کو لڑانے کی سازش ہیں۔
————-
اظہر الحق صاحب خدا نے آپ کو قلم کو جو قوت دی ہے اسکا اعتراف نہ کرنا بخل ہوگا۔ سچ کہا، اور بہت کچھ سوچنے کا موقع پیدا کیا۔ اللہ آپکا قلم رواں دواں رکھے۔ آمین
Aslamo Aleikum
جب کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو کسی قانون اور قائدے کے مطابق ترقی کرتی ہے۔
وہ ہی قوم جب زوال کی طرف جاتی ہے توبھی کسی قانون قائدے کے مطابق ہی جاتی ہے۔
نہ تو کوئی قوم راتوں رات ترقی کرسکتی ہے نہ ہی راتوں رات زوال کی طرف جاسکتی ہے۔ یہ سارے قانون قائدے کسی نہ کسی ایک کتاب میں درج ضرور ہیں۔
بت پرست۔ لادینی اور مشرک قومیں بھی ترقی کرتی ہیں اور زوال کی طرف بھی جاتی ہیں۔بڑٹش ایمپائر ہمارے سامنے جیتی جاگتی اسی صدی کی ایک بہترین مشال ہے۔
وہ قانون اور قائدے کائنات کے سارے انسانوں کے لئے یکساں ہیں۔اس قانون اور قائدے کو جو بھی اپنائے گا وہ قوم ترقی ہی کرئے گے۔ جب یہ قوم اس قانون قائدے سے لاپرواہی کاہلی سُستی
برتے گے وہ زوال کی طرف ہی جائے گی۔اس کے علاوہ دنیا میں اور کوئی قانون نہیں۔
برٹش ایمپائر نے اپنے ملک کے اندر انصاف اور عدل کے قانون پر عملی عمل تو رکھا مگر اپنے ملک سے باہر خارجی قانون سے نا انصافی کی اور وہ دنیا کے ہر کونے سے سکڑتا گیا۔
ُ قوم پڑھی لکھی ہو مشرک ہو یا دینی ۔ عدل اور انصاف سے کام نہیں لے رہی تو اسکا نتیجہ وہ ہی ہے یعنی۔زوال۔عدل اور انصاف کی لاپرواہی سے انسانیت کا نقصان۔
پاکستان میں کسی بھی محکمے میں نہ تو عدل ہے نہ ہی انصاف۔ جب کسی ملک، شہر۔ محکمہ۔محلے سکول کالج ۔ دفاتر۔ گھر باہر۔ میاں بیوی بہن بھائی، دوستوں میں۔گھر گھر عدل اور انصاف ہی نہیں تو ایسے ملک کا کیا ہوگا۔جس ملک میں گھر گھر نا انصافی ہو تو وہاں نوکروں، ورکروں غریب غربا کم پڑھے لکھے۔ کمزور لاچار اپاہج لوگوں کو کیا حال ہوگا۔ سار امعاشرہ ناانصافی کے قانون میں جکڑھ چکا ہو۔ملک میں انصاف اور عدل نہ ہونے کا نتیجہ ملک لا قانونیت کی طرف گامزن ہے۔جس میں صرف اور صرف فساد ہی فساد ہے۔ اور ایسے میں پاکستان۔ لسانی۔فرقہ پرستی، مزہبی، دینی اور علاقائی لحاظ سے سکڑنے کی طرف گامزن ہے۔یہ میرا اور آپ کا قانون نہیں۔ کائنات کا وہ مالک جس نے کائنات کی ہر چیز عدل اورانصاف سے بنائی جس میں کو ئی جھگڑا نہیں۔
اگر ہم طاقت ور قوم ہوں ہماے پاس اسلحے کی فیکٹریاں عام ہوں اور ہمارے ارد گرد دشمنوں کے ملک ہوں اور اُن کا حال پاکستان جیسا ہو تو ہم وہ ہی کچھ کریں گے جو یورپین ممالک یا طاقت ور ملک ہم سے کررہے ہیں۔
Munira
منیرہ بہن
بہت خوب۔ توحید کے بعد اسلام کا سب سے بڑا ستون عدل ہے۔ لیکن یہ بات ہملوگوں میں اقوال تک موجود ہے۔ اعمال زیرو ہیں۔
پاکستان کو بجائے فریق بننے کے ایران اور سعودی عرب کے بیچ پلُ بننا چاہئے۔ ہم مسلمانوں میں واحد ایٹمی طاقت ہیں۔ پاکستان ہر مسلمان ملک کیلئے باعثِ تقویت ہے۔
اس موضوع پر سب نے کھل کر اظہار کیا ہے۔ ماشااللہ۔ مجھے علالت اور معالجین کی رائے تفصیل سے لکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ویسے بھی میں آپ سب سے بہتر کب لکھ سکتا
ہمدانی صاحب
اللہ آپکو جلد صحتیاب کرے۔ آمین
السلام علیکم
اپنی کچھ مصروفیات کے سبب میں کچھ دن تک آنے اور اپ سب دوستوں کے تبصرے پڑھنے کے بعد بھی جواب نہ دے سکا ، البتہ یہ یقین ہو گیا کہ مین اپنا نکتہ ابلاغ کرنے مین کسی حد تک کا میاب ہو گیا ہوں ، پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا میں غیر ہی نہیں اپنے بھی شامل ہیں ، پچھلے کچھ عرصے سے برادر اسلامی ملک ایران کی طرف سے مسلسل سخت قسم کے بیانات آ رہے ہیں ، جبکہ ہماری حکومت مسلسل افیون کھائے پڑی ہے ، ایران ہر کچھ عرصے بعد اپنے ملک مین ہونے والی دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے ، اس بار بھی پانچ ایرانی گارڈز کے اغوا کا الزام پاکستان پر لگا کر مسلسل ہماری سرحدو پر بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی رہی جس کے سبب متعدد پاکستانی شہری زخمی ہوتے رہے ، ایرانی حکام مسلسل پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہے جبکہ پاکستانی حکام خاموش اور دفتر خارجہ کی ترجمان ڈھیلے ڈھالے انداز میں تردید کرتی رہی ، کل تمام مغوی گارڈز خود ایرانی کی سرزمین سے اور ایرانی قبیلے کے ثالث کی ثالثی کے سبب بازیاب ہو گئے ، اور ہماری حکومت اب بھی افیون کھائے مست پڑی ہے ۔ ۔ ۔