آخر عوام کیا کرے۔

نواز شریف ایک چاالاک اور کرپٹ بزنس مین ہیں۔ کیونکہ ہم قبائلی سوچ رکھتے ہیں اسلئے پنجاب میں ان کی پارٹی کو ہرانا ناممکن ہے۔ طاہرالقادری کے کارکنوں کا خون شہباز شریف کے سر ہے۔ شہباز شریف ایک اچھے مگر کرپٹ ناظم ہیں۔ نواز اور شہباز شریف کا جھکاؤ دائیں بازو کی جانب ہے۔ عمران خان نے اچھے فلاحی کام کئے ہیں۔ بظاہر وہ ایک ایماندار اور عیش پسند شخصیت ہیں۔ انکی ذاتی زندگی داغدار ہے۔ سیتا وھائٹ سے ناجائز بچی کے باپ ھیں انکا جھکاؤ بھی دائیں جانب اور طالباآن کی جانب ہے۔ پپلز پارٹی کے پاص کرپش کے سوا اور کچھ نہیں۔

ان سب سے لاکھ درجہ بہتر انصار برنی یا کوئ غیر مسلم وزیرِ اعظم ہوسکتا ہے۔

3 thoughts on “آخر عوام کیا کرے۔”

  1. سلام بھائی جعفری صاحب ، صحیح ھے عوام کیا کرے بس اچھے انسان کو پسند کریں وہ چاھے جو بھی ھوں ، جس سے کسی دوسرے انسان کو کوئی نقصان نا پہنچا ھو وہ اچھا انسان ھوتا ھے ، عمران خان صاحب کو بھی ھم برا نھیں کہہ سکتے وہ ان کے زاتی معاملات ھیں مجموعی طور پر یہ دیکھنا ھے کسی کی زات کو کوئی شخص کیا فائدے دے رہا ھے یا دے گا ، یا پھر کسی کو کیا نقصان ن دے رہا ھے میرے خیال میں تو یہ میعار رکھنا چاھئے ھمیں

  2. محترم جعفری انکل ،
    غریب عوام اگرچہ بہت مجبور اور مظلوم ھے لیکن یہ سوال کہ جیسا آپ نے کہا کہ
    ان سب سے لاکھ درجہ بہتر انصار برنی یا کوئ غیر مسلم وزیرِ اعظم ہوسکتا ہے۔
    کیا قائد اعظم نے الگ وطن اس لیے بنا یا تھا کہ ھم غیر مسلم کو صدر بنا کر
    ھندوستان کو یہ تاٹر دیں کہ مسلمان صدر اس قابل نہیں ھوتے کہ ملک کی باگ ڈور سنبھالیں ؟
    ھم سسٹم کی خرابی کا الزام حکمران کے مسلمان ھونے پر کیوں دھریں ؟
    کیا ایدھی صاحب مسلمان نہیں ؟
    کیا انصار برنی مسلمان نہیں ؟
    کیا فاطمید فاؤنڈیشن والے مسلمان مہیں
    کیا حکیم سعید مسلمان نہیں تھے ؟
    لیکن یہ سب لوگ اسی لی؁ے ابھی تک قوم کے لیے باعزت اور محترم ھیں کہ یہ لوگ پاکستان کی گندی سیاست کا حصہ بننے سے دور رھے ھیں
    ھماراسیاسی نظام انگریز کے زمانے سے مراعات یافتہ زمینداروں ، وڈیروں ، سرمایہ کاروں ، مولویوں اور گدی نشینوں ھاتھوں میں ھے ۔
    یہ عوام کو غلام بنانے کا فن بخوبی جانتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ھمیں ان بد عناصر سے چھٹکارا پانا ھے ۔۔۔نہ کہ غیر مسلموں کو عنان حکومت دینے پر مجبور ھونا ھے ۔ ۔۔

  3. میری دھرتی ہے یا اک مقتل ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    از : ارم نقوی

    میری دھرتی ھے یا اک مقتل ؟
    جہاں خون غریباں سستا ہے
    جہاں گرگ کو عزت ملتی ہے
    ھر روز تماشے ہوتے ہیں

    کہیں آمر کی مکاری کا
    کبھی جمہوری مداری کا
    کبھی شاہوں کی عیاری کا
    اک نوحہ لکھا جاتا ہے

    جہاں کھوٹے سکوں کی دولت
    جب ایوانوں میں آتی ہے
    سب گرگ اکھٹے ہوتے ہیں
    اور نوچ کے دھرتی کو ہر دم
    وہ اپنی بھوک مٹاتے ہیں

    مزدور سدا سے بھوکا ہے
    افلاس مقدر ھے اسکا
    ہر ظالم لوٹ کے جاتا ہے
    پھر کوئ مداری آتا ہے
    اور روٹی ، کپڑے کا نعرہ
    غربت کو آس دلاتا ہے

    پهر ایک تماشه سجتا هے
    پیغام مداری ملتا هے
    هر مشکل کو آسان کرو
    کچه بلوے کا سامان کرو

    اس بلوے کا ایندهن بن کر
    پهر خون غریباں بہتا هے
    اک تاج اچهالا جاتا هے
    پهر جمہوری ایوانوں میں
    کچه گرگ اکهٹے هوتے هیں

    اور باقی ماندہ دهرتی کو
    یہ کہہ کر لوٹا جاتا هے
    هم خیر خواہ ملت هیں
    عوام کی کثرت نے هم کو
    اپنا ضامن ٹهہرایا هے

    ان جمہوری ایوانوں کو
    جو بلوا کر کے ڈھاۓ گا
    قانون کا مجرم ٹھہرے گا
    اس واسطے مارا جاۓ گا

    لیکن جب غربت بڑھتی ھے
    پهر ایک تماشه سجتا هے
    پیغام مداری ملتا هے
    هر مشکل کو آسان کرو
    کچه بلوے کا سامان کرو

    میری دھرتی ھے یا اک مقتل ؟
    جہاں خون غریباں سستا ھے
    جہاں گرگ کو عزت ملتی ھے
    ھر روز تماشے ھوتے ھیں

    کہیں آمر کی مکاری کا
    کبھی جمہوری مداری کا
    کبھی شاھوں کی عیاری کا
    اک نوحہ لکھا جاتا ھے
    میری دھرتی ھے یا اک مقتل ؟

    ــــــــ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *