جب ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئ تو عام ردِ عمل یہی تھا کہ چار پنجابی ججوں نے تین غیر پنجابی ججوں کی مخالفت کے باوجود بھٹو کو غیر بنجابی ہونے کی وجہ سے پھانسی دیدی۔ اگر وہ پنجابی ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔ ویسے بھی چھوٹے صوبوں میں پنجاب کیلئے کوئ خاص محبت نہیں پائ جاتی۔ نہ پنجاب میں چھوٹے صوبوں کیلئے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ سب خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان میں تیس چالیس صوبے بنادئے جائیں تو یہ لعنت ختم ہوسکتی ہے۔ پرانے ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے پنجابی بولنے والوں کے سب سے زیادہ صوبے ہونگے اور ان کے سب سے زیادہ سینیٹرز ہوں گے۔ لیکن جب تیس چالیس صوبے ہوں گے تو لسانیت ختم ہوجائے گی اور ہر صوبہ اپنی تعمیرو ترقی پر زور دے گا۔
اب جبکہ عدالت نے شہباز شریف، رعناء ثناء اُللہ اور ڈاکٹر توقیر پر طاہرالقادری کے بتیس کارکنوں کے قتل پر مقدمہ چلانے کا حکم دیدیا ہے تو اب پتہ چل جائے گا کہ پنجابی جج شہباز شریف، رعناء ثناء اُللہ اور ڈاکٹر توقیر کو سزائے موت دلواکر اس پر عمل کرواتے ہیں یا نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ بھٹو کی طرح انہیں موت کے گھاٹ اُتارا جائے گا۔ اگر انہیں عدالت نے سزائے موت سناد بھی دی تو ان کی سزا نواز شریف کے تابع صدر معاف کردیں گے۔ یہ تو میری اپنی رائے ہے۔ لیکن بھٹو کو تعصب کی وجہ سے پھانسی ہوئ یا نہیں اسکا فیصلہ شہباز شریف، رعناء ثناء اُللہ اور ڈاکٹر توقیر کا کیس کردیگا۔

السلام علیکم۔
دودھ کا دودھ پانی کا پانی۔ اس طرح کے انصاف کی توقع رکھنا پاکستان میں تو ممکن نہیں ۔
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں صرف دو ہی ادارے ہیں ۔ ایک ادارہ تو پڑھا لکھا نہایت منظم ۔ کئی سالوں کی روزانہ کی ٹرئینگ ۔تربیت اور جس کا نصب العین صرف منظم کے ساتھ طاقت ور بنناہے۔
دوسرا ادارہ خاندانی سیاست دان ۔ جس میں ان پڑھ لوگوں کا ہجوم ، وڈیرے جاگیر داراور ان کے مزارے ۔ اور ان ہی میں سے مذہبی جماعتوں کے فرقے اور ان کے پیرو کار۔ جن کا کام کسی نہ کسی طریقے سے ان خلیفوں پیروں وڈیروں کی اجارہ داری قائم رہے ۔ عوام اور ان کے مسائل جائے جہنم میں ۔ ان کے لئے جمہوریت صرف نعرے بازیاں ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ خاندانی سیاست دان عوام کی خدمت یا ملک کو بنانے کے لئے حکومت میں نہیں آتے یہ ان لوگوں کو صرف ایک اقتدار کا نشہ دولت اکھٹی کرنے کا نشہ ہے۔ خاندانی سیاستدانوں کے پاس اتنی دولت ہونے کے باوجود حکومت میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ دولت اور اکھٹی کی جائے ۔ ان خاندانی سیاستدانوں کو عوام کے مسائل کی نہ پرواہ ہے نہ کوئی غرض۔ یہ سارے جھوٹے نعرے لگاتے ہیں ۔
سب سے پہلے جو بھی سیاست دان حکومت میں وزیر اعظم پاکستان بن کر آتا ہے ۔ وہ سب سے پہلے نا انصافی فوج ہی سے شروع کرتا ہے۔ اپنی من مرضی کا کماندڑ انچیف۔دوسری نا انصافی عدالت عظمیٰ
سے۔ اپنی من مرضی کا جج ۔ تاکہ ملک میں جو بھی من مانیاں کرئے کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔اس کے بعد پاکستان کے تمام محکموں کے سروں پر عجیب و غریب وزیر بٹھا دیتے ہیں ۔ ایسے وزیر جو ان محکموں کی الف ۔بے سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہر بدھو وزیر کئی کئی مشیر رکھتا ہے ۔اور مشیر گھپلوں کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ۔ بجلی کا وزیر، پانی کا وزیر۔ ریلوے کا وزیر، جنگلات کا وزیر۔ معدنیات کا وزیر۔داخلی وزیر۔ خارجی وزیر۔ سینکڑوں وزیر سینکڑوں مشیر۔ وغیرہ وغیرہ۔
فوج کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ جب آپ کے کمانڈر انچیف بننے کی باری ہو اور آپ نے درجنوں امتحان پاس کئے ہوں درجنوں کورس کئے ہوں اور اُٹھا کر آپ کو ریٹائرڈ کرکے گھر بھیج دیا جائے اور آپ کے کسی جونئیر آفیسر کو پاکستان کی فوج کا کمانڈر انچیف بنا دیا جائے۔ پھر نئے کمانڈر انچیف کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ کہ وہ ایک کرپٹ سیاست دان کو سیلوٹ کرئے اور ساری فوج اس کے طابع رہے۔ کیا یہ پاکستانی فوج صرف اس قسم کے ملک کے کرپٹ سیاست دانوں کے مرنے کے لئے ہے۔ ؟
جس کا جتنا بس چلتا ہے ووٹوں میں دھاندلی کرتے ہیں دھاندلی کرنے والے حضرات بھی کوئی مفت میں نہیں کرتے کروڑوں میں سودہ کرتے ہیں۔پھر اس کا نام رکھتے ہیں جمہوری حکومت بیس کروڑ عوام نے منڈیٹ دیا ہے ۔ اپوزیشن کا مینڈیٹ بھی خود ہی لے لیتے ہیں ۔؟
سیاست دان اپنی کرسی بچانے کے لئے نئے نئے قانون پاس کروالیتے ہیں ۔ پہلے لمبے چوڑے قرضے لیتے ہیں پھر خود ہی معاف بھی کروا لیتے ہیں ۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے ۔چیف جسٹس کا حکم ہے کہ شاہرہ دستور خالی کی جائے کیا کسی بادشاہ کی سواری آرہی ہے ؟
۔ ایک شخص کے لئے ہزاروں لوگوں کی ادل بدل کیا جائے۔اور یہ ہی لوگوں نے پرویز مشرف کے وقت وکلا اور جج حضرات نے کئی کئی ماہ عدالتوں سے بائیکاٹ رکھا تھا اور عوام نے عدالتوں ہی کا ساتھ دیا تھا ۔ ان لوگوں سے پوچھیں جو کئی کئی میل دور سے عدلتوں کی تاریخ بھگتنے کے لئے آتے تھے اور ہر بار ان کو دوسرے ہفتے کی تاریخ دے دیتے تھے۔ میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں ۔ وکلا اور جج حضرات کی بائیکاٹ کی وجہ لوگوں کا کتنا پیسہ اور ٹائم برباد ہوا تھا۔ ؟ اب عدالتوں کو بھی چاہیے کہ کچھ انتظار کریں۔ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ عوام کی تحریک ہے ۔ عوام کو مکان ،روٹی، کپڑا، گیس وبجلی بل بیروز گاری میں تکلیفیں ہیں۔ عدالتوں اور جج حضرات کو چاہیے ۔ اب عوام کا ساتھ دیں۔ نہ کہ سیاست دانوں کا یہ ہی انصاف کا تقاضا ہے۔
شہباز شریف ۔ رعنا ثنا ئاللہ ، ڈاکٹر توقیر۔ ان کا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ پورے کا پور ا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ کس سے انصاف کی امید رکھیں ؟۔ سیاست دان بڑی مشکل سے بڑی بڑی رقمیں دے کر ووٹ خرید کر اس
حکومت کی فیکٹری میں آئے ہیں ۔ ابھی تک تو ان حضرات کے لگائے ہوئے پیسے بھی وصول نہیں ہوئے اور منافع الگ ہے یہ ابھی اتنی جلدی حکومت سے نہیں نکلیں گے ۔ اگر اسی طرح یہ حرکتیں کرتے رہے تو
جو منظم ادارہ ہے یہ ان کو نہیں روک سکتے وہ آکر ہی رہے گا۔ان عقل مند سیاست دانوں کی حالت یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی سیاست دان نے ۔ لیبیا۔مصر۔شام۔سے سبق نہیں سیکھا۔ اگر ہمارے سیاستدان اسی طرح اڑے رہے تو ان کے خود کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔
میری ذاتی رائے میں اسلامی ممالک میں یورپین جمہوریت چل ہی نہیں سکتی ۔جہاں دل کرتا ہے ہم یورپین جمہوریت کا حوالا دے دیتے ہیں کبھی کہہ دیتے ہیں یورپین جمہوریت عین اسلام ہے بس ایمان لانے کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ اسلامی نظام میں دنیا کے سارے نظاموں سے بہترین جمہوریت موجود ہے ۔اگر یہ ہی نظام طالبان کہیں تو ہمیں قبول نہیں اگر یہ ہی نظام اوباما کہے تو ہمیں منظور ہے ۔
میری ذاتی رائے ہے اگر سول حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان میں لنگڑی لولی ہی جمہوریت آئے ان کو چاہیے کہ پہلے انصاف کا نظام قائم کریں ۔ ہر سیاست دان صرف دو بار الیکشن لڑے ہارے اور جیتنے کی صورت میں گھر جائے۔دوسروں کو موقع دیا جائے ۔ اور خاندانی سیاست بھی خود بخود ختم ہوجائے ۔ہر محکمہ پر چیک اور بیلنس کا کنٹرول ہونا چاہیے۔
میری ذاتی رائے ہے۔سیاستدانوں کو چاہیے ۔ فوج کا کمانڈر انچیف فوج خود ہی میرٹ پر چنے اور اس کی تصدیق وقت کا وزیراعظم کرئے۔
اسی طرح جج حضرات بھی میڑٹ پر جج سوسائٹی ہی ان کو سلیکٹ کرئے اور وقت کا وزیر اعظم تصدیق کرئے۔ اور ان کے اس عظیم الشان عہدوں کے آنے اور جانے کے لئے حکومت کی طرف سے باعزت ایک نیشنل ڈے کی طرح اہتمام ہونا چاہیے۔
وسلام
آویز ۔ برمنگھم
سزا تو دور کی بات ہے اب تو FIR بھی نہیں کٹ رہی- عدالتوں کا جھکاؤ جانبدارانہ طو پر نواز شریف کی جانت ہے- واہ ری عدالت
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں ہر دورکی عدالت بکاؤ پوتی ہے یا جانب دار ہوتی ہے اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ جہاں ججوں کے لئے ان کی اولاد کے لئے ان کے خاندانوں کے لئے حکومت وقت خزانوں کے منہ کھول رکھتی ہے وہاں انصاف کے کٹہرے میں انصاف نہیں پیسہ بولتاہے،اللہ کا قائم کردہ میزان کے ترازوکا ایک پلّہ ظالم کے حق میں جھک جاتا ہے اور مظلوم کی دادرسی ہونے کے بجائے وہ دھکّے کھاتا ہوا دنیا سے چلا جاتا ہے پاکستان میں ظلم کی جیت ہے ظالم کی جیت ہے اللہ اور قرانی فرامین سب کچھ بھلا کر حاکمان وطن دولت کی ڈھیری پر سجدہ ریز ہیں ،یہ سوچے بغیر کہ ایک دن قارون بھی دھنس گیا تھا ایک دن نمرود بھی جہنّم واصل ہوا تھا ایک دن فرعون بھی غرق آب ہوا تھا ،
اب پاکستانی عوام بلبلا اٹھے ہیں ایک ایک گھر میں تیس تیس ہزار بجلی کا بل آرہا ہے اور قوم کی دولت سوئس بنکوں میں بلین بلین کے نقطے سے اوپر جا رہی ہے
آویز بیٹے تم نے اپنی تحریر میں بہت ہی سلجھا ہوا تجزیہ بھی کیا ہے اور ساتھ ہی اچھّے لوگوں کے انتخاب کے لئے بڑی اچھّی تجاویز بھی دی ہیں ،اللہ ہمارے حاکموں کو راہ راست نصیب کرے ورنہ تو دور کی بات نہیں جہاں باشاہ وقت کو گٹر سے گھسیٹ کر باہر نکال کر موت کے حوالے کیا گیا ،
بھیّا ظفر جعفری میں آپ کی بات سے سو فیصدی اتّفاق کرتی ہوں کہ زوالفقار علی بھٹّو کو غیر پنجابی ہونے کی بناء پر پھانسی دی گئ ،،
ہما رے وطن کی تاریخ کا کون سا رہنما گزرا جس کے دامن پر بے گناہوں کے لہو کے چھینٹے نہیں تھے ،کسی نے مشرقی پاکستان میں لہو بہایا تو کسی نے اپنے مغربی پاکستان میں بہایا کراچی میں آج بھی قبروں کی شکل میں یادگاریں موجود ہیں، لیکن کون سی عدالت نے کون سے حاکم کو بلا کر پرسش کی ،،
اب آگے انصاف کا بول بالا کیا ہوگا ،یہ بحران گزر کے ہی معلوم ہو گا ،ابھی تو بحران مذید خون خرابے کے بغیر گزرنے کی دعاہے،یہ جو مر گئے ان کے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعاہے