جب تک مولانا فضل الرحمٰن، جنرل حمید گُل، نواز شہباز شریف، عمران خان، شدت پسند ملا یا جنرل بیگ سے طالبان کے مدر پدر آزاد حمائتی آزاد گھومتے رہیں گے پاکستان میں عوام آرام سے نہیں سوسکتے۔
ہمارا رویہ ان حمائتیوں کے ساتھ وہی ہونا چاہئے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمن حکومت کا نازیز کے حمائتیوں کے ساتھ رہا ہے۔ جن جماعتوں کے گھروں سے القائدہ اور طالبان لیڈرز پکڑے گئے ہیں یا جن جنرلوں کو طالبان نے مبارک باد کے خط لکھے ہیں اگر اُن ہی کو بجائے سزادینے کے ٹی وی شوز پر آنے دیا جائے گا تو قتل و غارتگری کا بازار گرم نہیں ہوگا تو کیا ہوگا۔ دنیا مریخ پر جارہی ہے اور ہم تیرھویں صدی عیسویں کی طرف جارہے ہیں۔ اسلام کو جتنی بُری طرح زخمی مسلمان کررہے ہیں کوئ اور نہیں کررہا۔

گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
بے شک قبلہ آپ نے درست فرمایا جب تک ان ظالمان کے حمایتی ھماری صفوں میں چھپے بیٹھے ھیں اور اب تک سب عیاں بھی ھوچکے ھیں ان کے رخ سے نقابیں الت چکی ھیں اب وقت ھے کہ لوگون میں شعور بیدار ھو جو کہ بھی ھو رھا ھے اور انشااللہ ھمیں امید ھے کہ آنے والے وقتون میں ھم سب پاکستانی قوم مل کر اپنی پاکستان فوج کے ساتھ ان سب دوست دشمنوں کا قلعہ قمعہ کرنے میں کامیاب ھونگے انشااللہ
اور جوفوجیوںکے درمیان طالبان مزاج فوجی ہیں ان کا کیا ہو گا ؟
مودّبانہ سلام کے بعد عرض ہے کہ خدارا خارجی قوم کو مسلمان نہیں کہئے ،،یہ انشاللہ کہیں ماشاللہ کہیں یا اللہ کے نام کو جس طرح بھی استعمال کریں ان کا دینَ اسلام سے کوئ تعلّق ہو نہیں سکتا ہے ،مولائے کائنات نے اس قوم کو خارجی قو م کہا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جہاں ملیں مارڈالے جائیں
کیا آپ سب کو نہیں لگتا کہ ریاست کا ہر ستون طالبانی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ۔۔
اسلام کے نام پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب جائز ۔۔۔ یزید نے مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے تھے اور نمازیں نہ ہونے دیں تھیں ۔۔ طالبان ہر مسلم ملک میں گھوڑے باندھ کر خدا رسول کے نام پر انہیں کو مٹا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ آج کل تو مسلمان خود کومسلمان کہتے ہوئے ڈرتا ہے ۔۔۔ طالبان کا یہی ایجنڈا ہے نا
خوف ہی خوف برپا کیا جائے ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی کی انتہا دیکھئے
خوف ہراس پھیلا دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اغوا ، بھتہ اور تاوان
تعلیم نہ پھیلائی جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اسکول بند کرنے کے لئے حکومت بہانے ڈھونڈتی ہے
۔۔ مستقبل تباہ برباد کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرد و عورت بچوں کا سر عام قتل عام
طالبانی ایجنڈا کہاں سے اسلامی ایجنڈا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور یہی ایجنڈا پاکستانی ریاست کا ہے ۔۔ جبھی تو “ضرب عضب “کے باوجود دہشت گرد ختم نہیں ہو رہے ۔ لگتا ہے پاکستان میں ہر دوسرا بندہ دہشت گرد ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ پاکستانی ریاست دہشت گرد مارنا ہی نہیں چاہتی اس لیئے کوئی ٹھوس عمل نہیں ۔۔ جس طرح کھیل کھیلنے والوں نے پاکستان سیاسی ، دینی اور لسانی تحریکوں کو آباد رکھا ہے ۔ اسی طرح سے طالبان کو بھی خون پسینے کی کمائی سے پالا ہے ۔۔ اور کبھی کبھی تو مجھے پاکستان بھی اسی کھاتے میں پڑا لگتا ہے کہ دنیا کی دوسرے ملکوں کو بچانے کے لیئے “بدمعاش پاکستان “کا ہونا ضروری ہے ۔۔
ایک ایسے خطرناک بدمعاش کا جو بغل میں چھری لیئے منہ سے رام رام کرتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہن نسیم، غضنفر بھائ
میں آپ سے متفق ہوں۔ پڑھے لکھے لوگ بھی توصرف اسلام اور مسلمان کی بات کرتے ہیں۔ کیوں ہم تعلیم یافتہ ترقی کی طرف گامزن قوموں کی طرح انسان اور انسانیت کی بات نہیں کرسکتے۔ جن لوگوں نے ہمیں اعلیٰ تعلیم دی، ٹریننگ دی۔ نوکریاں دیں، کاروبار کے مواقع دئے، تحفظ دیا وہ سب انسان ہیں اور مسلمانوں سے بہتر انسان ہیں۔
ہم جسقدر وسیع ہوئے تنگ ہوگئے
Read the following link by Pope Francis
http://www.dawn.com/news/1157202/pope-on-charlie-hebdo-there-are-limits-to-free-expression
یقیناً فوج میں بھی طالبان کے ہمدرد موجود ہیں۔ مرزا اسلم بیگ اور حمید گُل افغانستان میں طالبان کی حکومت چاہتے ہیں۔
یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ مغرب میں ہولوکاسٹ پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن آزادئ اظہارِ رائے کے نام پر حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور رسلتمآب کا مذاق اُ ڑایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس خباثت کا مقابلہ قلم اور مکالمہ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی تو ایسے لوگوں کے حوصلے بڑھاتی ہے۔
اسلام علیکم ساتھیو
میں اآپ سب کی باتوں سے متفق ہوں ۔
لیکن کیا کبھی یہ بھی سوچا ہے ہم نے کہ اس حال تک ہم پہنچے کیسے ؟ اور اب بھی کسی میں دم نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ جو کچھ کہہ رہے ہو اُس پر فورآ عمل کرو ،ہم کمیٹیاں بناتے ہیں اور سو جاتے ہیں عوام کبھی اُٹھے ہی نہیں اور جب بھی اُٹھے انکی اآواز کودبا دیا گیا ۔جیسا کہ اآج ہی کی خبر ہےکہ احتجاج کرنے والوں پر تشدد کیا گیا پانی پھینکا گیا ۔کیا یہ مسلمان حکومت ہے ۔
ہم جو یہ کہتے کہتے نہیں تھکتے کہ ہماری جان قربان پیارے نبی (ص( پر وہ احتجاج تک تو کرتے نہیں ان لوگوں کے خلاف جو کھلم کھلا یہ حرکتیہں کرتے ہیں ۔اور سب ایک ہوجاتے ہیں اور مسلمان ممالک خاموش رہتے ہیں ۔کیا ہمارے ملک میںاتنا بڑا احتجاج ہوا ۔؟
دھشت گردی کا فروغ بھی حکومتوں کی مصلحت کی وجہ سے ہوا ہے اگر شروع ہی میں اس فتنے کی بیغ کنی کی جاتی تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔
ہم جب تک اچھے انسان نہ بنیں اچھے مسلمان بھی نہیں بن سکتے ۔ ہمارے نبی محسنَ انسانیت ہیں رحمت للعالمین ہیں سارے جہاں کے لئے رحمت ہیں ۔مگر شاید یہ بات ہم اپنے رویوں سے اپنی سوچ سے اپنے کردار سے اور اپنی محبت سے ان قوموں کو نہیں سمجھا پائے جو ہمارے دین ہمارے مذہب اور ہمارے پیارے نبی (ص(کےمخالف اور دشمن ہیں ۔
ہمیں ان قوموں کو اپنی محبت اور اپنے تعلق کا صحیح اور با کردار موقف دینا چاہئے ۔شاید ہم اب تک اس بات میں ناکام رہے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے کردار سے نبی (ص(کی تعلیم کو کم کر لیا ہے ۔اللہ کے خوف سے دور ہو گئے ہیں ۔جس دن ہمارا ایمان مضبوط ہو گیا کہ سب کچھ دینے والا اللہ جل شانہۃ ہے ہم ان قوموںکے سحر سے نکل اآئینگے اور ہم میں وہ قوت ایمانی پیدا ہو جائیگی جو ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا کریگی ۔
عالم آرا
وینکور
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہو گا۔