دہشتگردی مسائل کا حل نہیں ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے مسلمان بالعموم اور پاکستان بالخصوص دنیا کی نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اگر کوئ بھی ملک مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے تو اُس ملک پر سارے مسلمان ممالک کو او آئ سی کے پلیٹ فارم پر کھڑا ہوکر اُس ملک پر سینکشنز لگادینے چاہئیں۔ سب سے بڑا سینکشن یہ ہوگا کہ مسلمان ممالک ایسے ملکوں سے درآمداد بند کردیں۔ اُنکی اشیا استعمال نہ کریں۔

مسلمان ممالک؟ مسلمان اور اسلام اب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دہشتگردی تو مسلمان ممالک بھی کرواتے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کو کس کھاتے میں دالیں گے۔ رہی بات فرانس جیسے ممالک سے درآمدات بند کرنے کی بات تو میں جانتا ہوں کہ معیشی مقاطع اس دور میں سنگین ترین ہے لیکن پہلے مسلمان ممالک کچھ تیار تو کریں۔ سوئی تک تو چین سے اتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خواب ہی خواب کہاں تک دیکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او آئی سی سے بڑا مردہ گھوڑا دنیا میں نہیں ہے
اسلام علیکم
جی ہاں بھائی ظفر جعفری ضرور کرنا چاہئے ۔
مگر دیکھ تو لیں کہ ہمارے کھیسوں میں ہے کیا ۔کوئی ایک چیز پاکستانی بنی ہوئی ہو تو ٹھیک ہے ۔ وہاں جائیںتو انڈین کرا کری انڈین کپڑے جیولری ۔اور جو اآپ چاہیں ۔چائنا برتن سے لے کر ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر لکھا ملے گا ۔
پہلے ہم اس قابل تو ہوں کہ ایسے فیصلے کر سکیں ۔
میں صفدر بھائی کی بات سے بالکل متفق ہوں کہ
خواب ہی خواب کہاں تک دیکھوں
عالم آرا
اسلام علیکم !
محترم آپا جان عالم آرا ، معزرت کا طلبگار
کم تو ھم بھی نہیں ھم نے بھی بہت کچھ تخلیق کیا ھے ، غریبی کو ھم نے جنم دیا، پسماندگی، بے روزگاری ، کرپشن ، بے حیائ ، ھر قسم کا بہران آئے دن دیکھنے کو مل رھا ھے ،پیٹرول، بجلی، گیس آٹا ، چینی ، اور سب سے بڑی تخلیق دھشت گرد ،
اس لیئے ھم کسی سے کم نہیں
اسلام علیکم
بھائی سید غضنفر حسین سلامت رہیں
معزرت کی تو ضرورت ہی نہیں بھائی یہ تو وہ سچائیاں ہیں جن سے ہم نظریں چراتے پھرتے ہیں ۔
محترم بھائی اس تخلیق کی فہرست تو اتنی لمبی ہے کہ لکھتے جائیں لکھتے جائیں ختم ہی نہیںہوگی ۔اسی لئے مارے شرمندگی ان تخلیقات اور ترقیوں کا زکر نہیں کیا تھا ۔ واقعئی ہم کسی سے کم نہیں ۔
آپ نے ہمت کی ۔جزاک اللہ خیر ۔
عالم آرا
اسّلام علیکم محترم ساتھیوں ،
ہماری معاشیات اب سے نہیں برسہا برس سے ایسی ہیں ہین کہ ہر ہر یورپی ملک سے درامدات بند کر کے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے اور اب جبکہ ہمارے خلاف گھناؤنی سازشیں ہو رہی ہیں تو ہم کو فی الفور کم سے کم فرانس کا مکمّل سماجی اور اقتصادی بائکاٹ کران ضروری ہے ،لیکن یہ سب عوام کے کہنے سننے کی باتیں ہیں ،حاکم تو بدستور اندھے بہرے ہین لنگڑے نہیں ہیں کیونکہ اپنے پیروں سے چل کر بھیک کا پیالہ یورپ کے دروازے پر لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور خیرات کی بھیک اپنے اکاؤنٹس میں ڈالنے جاتے ہیں
ایک فقیر شکل سے شریف ہاتھ میں کشکول امیر سے بائکاٹ کیسے کرئے۔؟