..:: ایک حسین ع کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا ::..

ایک چشمٍ زدن میں منظر گھوم جاتا ہے.
کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے وطنٍ عزیز کے ایک متوسط شہر کی سرکاری ہسپتال ہے، جسے عرفٍ عام میں “سول ہسپتال” کا نام دیا جاتا ہے. فجر کے وقت سے ہی فرش پر فنائل کا پوچا دیا جا رہا ہے، ڈاکٹر اپنی اپنی ڈریس پہنے وارڈ میں رائونڈ کے لیے نکل پڑتے ہیں، آپریشن تھیٹر میں سرجن اپنے اپنے ماتحتوں کے ساتھ اس دن کے آپریشن ہونے والے مریضوں کی لسٹ بنا کر نوٹیس بورڈ پر چپسان کرکے اندر تھیٹر میں چلے گئے. باہر ہر دیوار پر ایک کمپیوٹر سے پرنٹ کیا ہؤا کاغذ دکھائی دیتا ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہؤا تھا کہ: “تمام سے گذارش کی جاتی ہے کہ کوئی بھی دوائی میڈیکل اسٹور سے خریدنے کے لیے اگر کوئی نرس یا ڈاکٹر کہے تو نیچے دیے ہوئے نمبر پر رابطہ قائم کریں، مھربانی.”
“بخشش کے لیے از راہٍ کرم کسی خاکروب، دایہ یا نرس کو پئسے نہ دیجیے، آپ تو دے دیں گے، ہوسکتا ہے کہ کوئی اور نہ دیکر شرمندہ ہو رہا ہو!”
“نظم و ضبط کا خیال کریں، یہ ہم سب کا ہسپتال ہے”.
وغیرہ وغیرہ!
تو یہ جناب میں نہ تو آپکو کوئی خواب کا منظر دکھا رہا ہوں اور نہ ہی خود محوٍ خواب ہوں، یہ سول ہسپتال سکھر کا منظر تھا جو کہ پچھلے برس کچھ اس طرح کا بن گیا تھا! ہؤا یہ تھا کہ میرے بھتیجہ کو گردے میں یکسر نو پتھریاں لاحق ہوگئی اور جب بڑے بھائی نے مجھے بتایا تو فطری طور پر میرا پریشان ہونا لازم تھا. سو اپنے ایک دوست ڈاکٹر نعیم سے بات کی تو وہ جلدی میں بولا: “کوئی بات نہیں، سول ہسپتال سکھر سے آپریشن کرواتے ہیں!”
میں جیسے چونک گیا: “سکھر سول ہسپتال!!!!؟” مجھے لگا کہ وہ مجھے چڑا رہا ہو، کیونکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ ابھی دو برس بھی نہ گذرے ہونگے، ہمارے گاؤں کے دو میت وہاں سے ایموبلینس لے آئی تھی. مجھے پتہ تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کیا کیا ہوتا ہے، اور یہ پاگل ہے کیا ہے؟
بہرحال، وہ مجھے لے گیا، اور میں نے اوپر والا حال آپ کو بتادیا، دوسرے دن میرے بھتیجے کا آپریشن ہوگیا، آپریشن کرنے والا نورانی چہرے والا مسیحا ڈاکٹر نور احمد شیخ تھا. بہت ہنس مکھ اور ملنسار انسان. بہرحال اسی شام جب بھتیجے کو پونے چار سؤ روپے کی انجیکشن (ہسپتال کی طرف سے) لگ رہی تھی تب پتہ نہیں کیوں میری آنکھیں بھرا اٹھی.
قصہ کوتاہ، پانچ دن سرکاری ہسپتال میں عیاشی سے گذارنے کے بعد ہمیں چھٹی ملی، تب میری پھوپھی کہنے لگی، کہ کھانا کتنا اچھا کھلا رہے تھے. میں نے اپنے بڑے بھیا سے پوچھا کہ خرچ کتنا آیا، بولا کچھ نہیں، بس جو آنے جانے میں لگا وہ ہی……
تو یہ پاکستان کے شھر سکھر کی سول ہسپتال تھی!
Dr Hussain Bux Memonجس کا تمام تر سہرہ میڈیکل سپرانٹینڈینٹ ڈاکٹر حسین بخش میمن کے جاتا تھا! پھر میں ملا اس حقیقی انسان سے. بڑا سادہ سا، لیکن پر جلال اور ہمت والا.
“بات یہ ہے امر کہ آپ ایک ضابطہ بناؤ، پھر دیکھو کہ اس کو کون پھیلانگ رہا ہے؟ میں نے وہ بنایا ہے یہاں….” ڈاکٹر میمن کہ رہا تھا: “دیکھیں، میں لاہور، کراچی، جامشورو، مختلف دوا ساز اداروں کے پاس گیا کہ بھئی، ہم آپ سے ویسے بھی دوائیاں تو لیتے ہیں تو ذرا مہربانی کریں، ہم آپ سے کمیشن نہیں لے رہے، لیکن معیاری دوائی تو حق ہے، سو وہ بنا کے دیں، اور وہ بنا کے دے رہے ہیں! اور یقین کریں ہمارے ملک میں اچھی اچھی فارما کی انڈسٹریز موجود ہیں، ہم کیوں باہر سے دوا لیں، ہاں اگر نہیں ہے کوئی تو بیشک ہم لیں گے!”
ڈاکٹر میمن مجھے بتا رہا تھا. اسی شام کو مجھے اس نے اپنے ساتھ راؤنڈ پر لیا، اور مجھے دل کا وارڈ دکھایا، جہاں اس نے اسٹیریو لگا رکھے تھے، جن سے بھینی بھینی موسیقی مریضوں کے کانوں میں پڑ رہی تھی.
“اصل میں مریض کو روحانی سکون چاہیے، سو یہ میری ایک سوچ ہے، میں دیکھتا ہوں کہ مریض بہت خوش ہیں!”
اس سے ایک روز پہلے ڈاکٹر میمن نے پاک ایکسان والوں سے میٹنگ کی تھی جس میں انہوں نے سکھر ہسپتال کے لیے دو “ڈائلاسز” مشین دینے کا وعدہ ہی نہیں کیا بلکہ انکے لیے عمارتیں بھی وہ خود ہی بنائیں گے.
“امر آپ صرف نیک نیت ہوں، بس کھوٹ نہ ہو، باقی مالک آپ کے الفاظ میں اثر کوٹ کوٹ کے بھریگا، اب انشاء اللہ، ایک برس میں یہاں اینجیوگرافی بھی ہوگی…..” میرے دل سے جلدی نکلا: “آمین…”
پھر ایک برس بھی نہ گذرا، ڈاکٹر میمن کو “لائین حاضر” کیا گیا، یعنی اس کی پوسٹنگ ایک میڈیکل ٹریننگ انسٹییوٹ میں ہوگئی، اور وہ وہاں ہولیا!
…………..
پرسوں میں سول ہسپتال گیا تھا، ایک دوست کا ایکسیڈینٹ ہوگیا، پولیس کیس تھا لہٰذا “میڈیکو لیگل کیس” سول ہسپتال کرتی ہے، رات دو بج رہے تھے، اوپر “ھڈیوں کے وارڈ” سے دو کتے ٹہل کر نکلے،
نیچے میڈیکل اسٹور والوں کی عید چل رہی تھی، جہاں سے بھاری بھاری رقوم کی دوائیاں حتیٰ کہ ایک “ڈسپوزل سرنج” بھی خریدی جارہی تھی، سب خوش تھے، نرسوں سے لے کر ڈاکٹرز تک، میڈیکل اسٹور سے لیکر خاکروب تک، اگر خوار تھے تو وہ بے یارومددگار مریض اور انکے تیماردار!
………..
ایک فقیر نزدیک سے گذرا : “اللہ کے نام پر پانچ روپے کا سوال ہے بابا!”
مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ فقیر گذشتہ برس یہاں نہیں تھا، کوئی فقیر نہیں تھا…..
دل چیخ اٹھا کہ فقیر سے کانسہ چھینوں، اور چیخ چیخ کے اللہ سے دعا مانگوں: “ایک ڈاکٹر حسین بخش میمن کا سوال ہے بابا!!!!!!!!!!”

6 thoughts on “..:: ایک حسین ع کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا ::..”

  1. امر بھائی ! سلام” علیکم

    میں تو سمجھا تھا کہ اس دفعہ بھی آپ کے قلم سے کوئی ہنستی مسکراتی تحریر پڑھنے کو ملے گی مثلاً “چاچوں کی اقسام” مگر ہائے ہائے ہائے، آپ سول ہسپتال کی دوائیوں کی طرح کا کڑوا سچ زیادہ پلاتے ہیں، یہ سچ نہ صرف کڑوا ہے بلکہ دل وجگر کو جلا ڈالتا ہے –

    پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے یہاں کے لوگ بُرے نہیں بلکہ نظام بُرا ہے، دریا کی مخالف سمت میں تیرنے والے خدا جانے کتنے ہی ڈاکٹر حسین بخش میمن روزانہ اپنی “جرات” کا مزہ چکھتے ہیں، پھر یا تو “حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیتے ہیں یا ایک دن ان کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ گئے کہاں؟ ساٹھ باسٹھ سالوں میں اب آہستہ آہستہ یہ ڈاکٹر حسین بخش میمن بہت کم رہ گئے ہیں، پھر بھی کبھی کبھار کہیں نظر آ ہی جاتے ہیں-

    میرا جی چاہتا ہے کہ کاسہ اُٹھاؤں اور اللہ تعالٰی سے چیخ چیخ کر دُعا مانگوں کہ ” یا اللہ کریم ہماری قوم کے لیے ایک خمینی کا سوال ہے جو ہمارے وطن میں ڈاکٹر حسین بخش میمن کی فصلیں کاشت کرے “

  2. درست کہا، ایک ڈاکٹر حسین بخش ممین کا سوال ہے بابا۔ ہمارا سرخ فیتہ اور افسر شاہی تو شاید درست ہونا مشکل ہے۔ تاہم ہم دعاگو ہیں کہ اللہ حسین بخش میمن اور ان جیسوں کو حاسدوں کی نظر سے بچا کر رکھے۔ یہ لوگ جہاں بھی ہونگے، ان سے خیر ہی وابستہ ہے۔
    اچھا بلاگ ہے۔ ایسے نیک افراد کو خراج تحسین پیش کرنا کم از کم ہمارے اپنے زندہ ضمیر کا ثبوت ہے۔

  3. سلام فیاض امر جی !!
    آپ کی تحریریں ؤآقعا امر ھوتی ہیں وہ سچائی جو کہ کافی کڑوی ھوتی ھے !
    پر ضرورت اس بات کی ھے کہ لوگ ان کو پڑھ کے سبق لیں اور آپ جیسا سوچیں اور عمل بھی کریں 🙂

  4. جی امر صا صب آپ ٹھیک فر ما رھےھیں یہاں جو حق کا راستہ اپنا تا ہے وھی پر یشا نی بھی ا ٹھا تا ھے ا للّہ سکھر سول ہسپال جیسے دیگر ہسپتا لوں کے حا ل پر رحم کرے آمین

  5. محترم بھائ امر فیاض صاحب اسلام علیکم۔ آپ سب کی طرح میری بھی دلی دعا ھے کہ میرارب حسین بخش میمن جیسے نیک اور رحم دل انسانوں کی اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کردے۔ میں کویت میں رھتی ھوں ۔۔تین سال قبل میں بھی یہاں کے ایک مہنگے تریں ھسپتال میں ایسے ھی دل خراش تجربے سے دوچار ھوئ۔۔۔۔اپنے مرحوم شوھر کی طویل بیماری کی وجہ سے میں نے کویت میں موجود اس
    پرایئوٹ ھسپتال میں ایسے یورپیں قصائ ڈاکٹر دیکھے جو صرف بل بڑھانے کے چکر میں کڈنی کے مریضن کے لیے ھارٹ سرجری تجویز کرتے ھیں۔۔۔7000 کویتی دینار ادا کرتے ھوۓ جو مجھہ پر گزری تھی وہ میں اور میرا رب جانتا ھے۔۔۔خدا کا شکر ھے سرکاری ھسپتالوں میں بہترین ڈاکٹر ھیں۔۔جہاں مفت علاج ومعالجے کی سہولتیں بھی ھیں۔۔ مگر میرا دل اور دھیان تو پاکستان میں پڑا
    رھتا ھے۔۔جہاں کسی اصلاح کرنے والوں کو نیک اور ایمان دار انسانوں کو ایک شیطانی گروہ ٹہرنے ھی نیہن دیتا ھے۔۔۔امر بھائ
    حسین بخش میمن جیسے لوک کم یاب سہی نایاب سہی مگر بدی کے گھپ اندھیرے میں بن نیک دل جگنووں کا وجود دل کو ڈھارس اور حوصلہ دیتا ھے۔۔۔

  6. محترمہ شاہین رضوی صاحبہ۔۔
    کویت میں بھی پاکستانی سسٹم کا نفاذ شروع ہو گیاہےآپ کے تاثرات پڑھ کرحیرانگی ہوئی ، عرب اخلاقی ، مذہبی اور سماجی طورپرروبہ زوال ہیں یہ بات ماننے میں آتی ہے لیکن قانون ، اورجواب دہی کانظام ان کے ہاں اب بھی سخت ہے، بڑے بزرگ بتاتے ہیں ، سعودی عرب میں اب بھی کھانےپینے کی اشیاء کا وہی معیارہےجوپندرہ سولہ سال پہلے تھا،اسی طرح صحت اور سکیورٹی کے حوالےسے بھی ان کے اقدامات قابل تحسین ہیں لیکن آپ کا احوال پڑھ کا اندازہ ہواصورتحال وہاں بھی خراب ہو رہی ہے۔۔جب معاشرے میں تفریق پیداکی جائے گی تو ادارے، معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکارتو ہوں گےہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *