ایک غزل کے چند اشعار

بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر

کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار

غزل کے چند اشعار

چند تازہ اشعار آپ کی نذر

وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے

تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار

۔۔ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

“فلم سات سو چھیا سی” ہالینڈ میں ایک مووی بنی ہے، جس میں آپ (صلعم) کا مذاق اڑایا گیا ہے. ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلم مل کر ہالینڈ کی اکونومی تباہ کر سکتے ہیں اس میسیج کو پانچ منٹ لگا کہ “تمام” لوگوں کو فارورڈ کرو تاکہ کل (بارگاہٍ الاہی) میں شرمندہ نا ہو جب اللہ سوال کرے گا میرے حبیب کی ناموس کے لیے تم نے کیا کیا” Continue reading ۔۔ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔

معصوم مشکیزے

پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ Continue reading کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے

پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے

چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا Continue reading حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے

..:: ایک حسین ع کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا ::..

ایک چشمٍ زدن میں منظر گھوم جاتا ہے.
کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے وطنٍ عزیز کے ایک متوسط شہر کی سرکاری ہسپتال ہے، جسے عرفٍ عام میں “سول ہسپتال” کا نام دیا جاتا ہے. فجر کے وقت سے ہی فرش پر فنائل کا پوچا دیا جا رہا ہے، ڈاکٹر Continue reading ..:: ایک حسین ع کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا ::..

::.. کوئی نہ ہو تیمار دار ..::

ہزار بار منع کیا کہ میر صاحب کو مت بتائیے گا کہ میں ہاسپیٹل میں داخل ہؤا ہوں، لیکن نہ جانے کس فرشتہٍ اجل (میرے) نے اسے یہ خبر دے ہی دی. پھر کیا تھا، دوسرے دن Continue reading ::.. کوئی نہ ہو تیمار دار ..::

۔۔:: میرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا ؛؛۔۔

کہتے ہیں کہ ہم سب اس فانی جہان میں آتے ہی اسی لیے ہیں کہ واپس جائیں! Continue reading ۔۔:: میرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا ؛؛۔۔