میں اس نئے بلا گ کا افتتاح عرشی صاحبہ کی دو نعتیہ نظموں سے کررہا ہوں۔
چونکہ میں بلاگ لکھنے کی فانٹ سے ناواقف ہوں اس لیے انہی الفاظ پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں۔ ۔
باقی آئیندہ۔:
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
میں اس نئے بلا گ کا افتتاح عرشی صاحبہ کی دو نعتیہ نظموں سے کررہا ہوں۔
چونکہ میں بلاگ لکھنے کی فانٹ سے ناواقف ہوں اس لیے انہی الفاظ پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں۔ ۔
باقی آئیندہ۔:
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
اس نئے بلاگ کی افتاح کے لیے میں اس میں عرشی صاحبہ کی ان پیج میں بھجوائی ہوئی دو نعتیہ نظموں کو پیش کررہا ہوں۔ یہ نظمیں عرشی صاحبہ نے ربیع لاول کی مناسبت سے عطا کی ہیں۔
پہلی نظم کا عنوان ہے:
ازل سے ہی تو خاتم الانبیا (ص) تھا
از : ارشاد عرشی ملک ۔ پاکستان
عرشی صاحبہ کے الفاظ ہیں :
“ اس نعت کا محرک وہ مشہور و معروف حدیث ہے ، جس میں رسول پاک محمد مصطفےٰ (ص) نے فرمایا کہ میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب آدم اپنی تخلیق کی مٹی میں لت پت تھا “ :
۔۔۔۔
ازل سے ہی تو خاتم الانبیا(ص) تھا
ازل سے ہی تو نقطہِ منتہا تھا
جب ارض و سما ء نہ زمان ومکا ں تھا
اندھیرا خلاتھا دھواں ہی دھواں تھا
نہ تھے چاند سورج نہ تھیں کہکشائیں
نہ بادل ، نہ بارش ، نہ ٹھنڈی ہوائیں
سمندر نہیں تھے فضائیں نہیں تھیں
یہ موسم نہیں تھے گھٹائیں نہیں تھیں
تھی بزمِ عناصر عجب زلزلوں میں
جب آدم تھا تخلیق کے مرحلوں میں
تھا مٹی میں پانے کے گارے میں لت پت
کل انسانیت تھی خسارے میں لت پت
ملائک تھے حیراں عجب بے کلی تھی
تجسس تھا وہ سب کی جاں پر بنی تھی
نظر تب بھی خالق کی تجھ پر لگی تھی
اور ایسی نظر جس میں وارفتگی تھی
ترے واسطے ہی یہ سب غلغلہ تھا
ترے واسطے ہی جہاں سج رہا تھا
تو اس وقت بھی نقطہِ منتہا تھا
تو اس وقت بھی خاتم الانبیا ( ص) تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاتب کے الفاط:
عرشی صاحبہ کی اس بہت ہی پر اثر نعتیہ نظم کے بعد میں انکی دوسری نظم ( جو نسبتا ً طویل ہے ) آنے والے تبصرہ میں پیش کرونگا۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
جزاک اللہ عرشی صاحبہ
دربار رسول میں قبول ہو یہ ہدیہ نعت
کیا معجزہ ہو قبر میں کہہ دیں ملائکہ
صفدر سنا دو شعر کوئی نعت کا ہمیں
ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی اس بار بار پڑھنے کے قابل دوسری نظم کا عنوان ہے :
تم کون ہو ؟؟؟
از ارشاد عرشی ملک ۔ اسلام آباد
arshimalik50@hotmail.com
ایک دن دنیا میں آپہنچی جو روحِ مصطفےٰ (ص)
دیکھ کر اُمت کی حالت رہ گئی حیرت زد ہ
سب کے سب دنیا کے عاشق سب کا دنیا مدعا
دل بھر آیا لب سے نکلی یہ صدا بے ساختہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
الاماں ، تم کو نہیں میں جانتا : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو ؟
۔۔۔
دین کو رسمیں بنا ڈالا ہے اور رسموں کو دیں
لب پہ نام اللہ کا دل میں نہیں ذوقِ یقیں
نفسِ امارہ کی چوکھٹ پر جھکاتے ہو جبیں
دل خدا کاگھر تھا پر شیطان ہے اس کا مکیں
۔۔۔۔۔
تو ڑ ڈالا تم نے ہر عہدِ وفا : تم کون ہو ؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو ؟
۔۔۔۔۔
ڈر تھا مجھ کو شرکِ اصغر تم کروگے جا بجا
ہر عبادت کو تمہاری چاٹ جائے گی ریا
روح سے خالی نمازیں سوز سے خالی دعا
چند رسموں کا نہیں مجموعہ دینِ مصطفے ٰ (ص)
۔۔۔۔
گرچہ لگتے ہو بظاہر پارسا : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو ؟
۔۔۔
آخری خطبے میں تھا میں نے کیا تم کو گواہ
میں نے کیا پیغامِ حق اچھی طرح پہنچادیا ؟
یک زباں ہو کر کہا تھا تم نے ہاں پہنچا دیا
تم بھُلا بیٹھے ہو لیکن اب و ہ پیغامِ بقا
۔۔۔۔۔
ہے الگ مجھ سےتمہار راستہ : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو؟
۔۔۔۔۔
دین کو سمجھے بنا بڑھ چڑھ کے فتویٰ دے دیا
بے دھڑک اک دوسرے کو تم نے کافر کہ دیا
جان و مال اور آبرو کا پاس نہ کچھ بھی کیا
مسجدوں میں بم چلائے ، فائرنگ کی جا بجا
۔۔۔۔
خونِ انسانی کو یوں سستا کیا : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو؟
۔۔۔۔۔
دین میں جبرو تشدد کے تمہیں ارمان ہیں
داغدار اسلام کو کرنے کےیہ سامان ہیں
حکم سب اللہ کے تو سادہ و آسان ہیں
مو شگافی کرکے جو بدلیں انہیں ، نادان ہیں
۔۔۔۔۔
تم نے خود اسلام کو رسوا کیا : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو؟
۔۔۔۔۔۔
کاتب کے الفاظ:
مرحبا عرشی صاحبہ سبحان اللہ :
اگر میری کمپوزنگ میں کوئی خطا ہوگئی ہو تو براہ کرم تصحیح کردیجیے ۔
۔۔۔۔
امید کہ شاہین رضوی صاحبہ آہستہ آہستہ اس بلاگ کی نظا مت کے لیے تیا ر ہوجائینگی ۔ شکریہ
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
نفسِ امارہ کی چوکھٹ پر جھکاتے ہو جبیں
دل خدا کاگھر تھا پر شیطان ہے اس کا مکیں
۔۔۔۔۔
جزاک اللہ۔۔ماشااللہ ۔۔۔۔۔منظور قاضی صاحب ۔۔۔۔۔اپ کا حسن انتخا ب
عرشی ملک صاحبہ سے تو اب ملنے کا اشتیاق پیدا ہو گیا ھے
صفدر ھمٰدانی صاحب ۔۔ماشااللہ کیا خوب فرمایا اپ نے۔۔۔۔
کیا معجزہ ہو قبر میں کہہ دیں ملائکہ
صفدر سنا دو شعر کوئی نعت کا ہمیں
۔
محترم صفدر ہمدانی صا حب
السلام علیکم
نیچے دی گئی خط و کتابت کو اس لئے بلاگ میں لگا رہی ہوں،کیونکہ یہ زہن کے بہت سے بند گوشوں کو وا کرتی ہے۔
اور غور و فکر کے نئے دروازے کھولتی ہے۔اور غالباً ہمارے عالمی اخبار کے دوستوں کو بھی انسپائر کرے گی کہ وہ اس موضوع پر اظہارِ خیال کریں۔
کیونکہ ہم اس فورم پر کچھ سیکھنے اور سکھانے کے لئے ہی اکھٹے ہوئے ہیں۔
عرشیؔ ملک
——————————————————————————–
From: arshimalik50@hotmail.com
To: ahsanlhr@hotmail.com
Subject: RE: باپ ،بیٹا اور چڑیا۔۔۔۔ عرشیؔ ملک
Date: Fri, 12 Feb 2010 11:52:18 +0500
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سورت شعرا میرے سامنے ہے اور تھوڑی بہت قرآن کریم کی سمجھ بھی اللہ تعالیٰ نے اس عاجز گنہگار کو عطا فرمائی ہے۔
میرے سامنے اس سورت کی آخری آیات ہیں۔
ترجمہ
کیا آگاہ کروں میں تم کو ان پر کہ جن پر اترتے ہیں شیاطین۔۔۔اُترتے ہیں ہر بہت جھوٹے گنہگار پر۔۔۔رکھتے ہیں کان اور اکثر ان میں سے جھوٹے ہیں۔
اور شاعر کہ پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ۔۔۔۔کیا نہیں دیکھا تو نے کہ وہ ہر وادی میں سر گرداں ہیں اور یقینناً وہ کہتے ہیں جو نہیں وہ کرتے۔۔۔۔۔۔۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے
اور کیں نیکیاں اور یاد کیا اللہ کو بہت،اور بدلہ لیا انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور عنقریب جان لین گے،وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا،کہ کونسی پھرنے کی جگہ وہ پھریں گے
جہاں تک میری ناقص سمجھ کا تعلق ہے یہاں،جھوٹے،عشق کی فرضی وادیوں میں بھٹکنے والے اور بے مقصد شاعری کرنے والے اور گھٹیا اور عامیانہ شاعری کرنے والے شاعروں کی مذمت کی گئی ہے۔
با مقصد شاعری کے ذریعےاگر معاشرے کی کسی خرابی کی اصلاح کی کوشش کی جائے ،یا کسی ظلم کا بدلہ لیا جائے تو میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے
ہمارے پیارے نبی کریمؐ،شاعر حسان بن ثابت کے لئے مسجدِ نبوی میں منبر رکھوایا کرتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ شعروں میں کفار شاعروں کےاسلام پر حملوں کا جواب دیا کرتے تھے۔ اور رسولِ کریم ؐ کی مدح میں اشعار پڑھا کرتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے’’ دربارِ نبوی کے شاعر ‘‘ کا لقب بھی پایا
اس عاجز نے حمد اور نعتِ نبی کے علاوہ، قرانِ کریم کی شان میں ،نماز، رمضان، لیلۃالقدر،آجکل کے مسلمانوں میں پائی جان والی خرابیوں،نیز معاشرتی خرابیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔اور یہ سب کچھ محض خدا تعالیٰ کے فضل وکرم اور احسان سے لکھا ہے۔ کیونکہ وہ نہ چاہے تو ایک مصرع موزوں کرنا بھی مشکل ہے۔اور اس کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے
سو انسان کا فرض ہے کہ اپنی سب کی سب طاقتیں جو کے اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہیں ،اپنے اللہ کے سامنے رکھ دے کہ جس طرح چاہے وہ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے کام لے۔
اور اپنے آپ کو ایسا بنا لے جس طرح میتّ غسال کے ہاتھوں میں ہوتی ہے
اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا
ترکِ رضائے خویش پئے مرضیِ خدا
پس اگر اس نے لکھنے کی طاقت بھی دی ہے تو کوشش کرنی چاہیے کہ اسی کی راہ میں استعمال ہو
یہ قلم کو تھامنے کی بھی جو طاقت ہے مجھے
قرض ہے مجھ پر چکانا ہے مجھے سارا ادھار
اسی طرح جب اس خاکسار نے قرآن مجید کو پڑھا سمجھا اور جانا تو یہ قطعہ لکھا
اول ہے قرآن کی ’’ب‘‘ اور آخر ’’س ‘‘ ہے گویا ’’بس‘‘۔
گند ہمارے دل کا عرشیؔ ،ایک اسی نے دھویا بس
رحمتِ ربی آگے بڑھ کر اس کو تھام لیا کرتی ہے
جس نے اس کو پڑھا ،سمجھا اور سمجھ کے رویا بس
اور پھر مجھ ناقص کی سمجھ کے مطابق تو حلق سے پانی کے ایک گھونٹ کا اترنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے بغیر ممکن نہیں تو پھربکھرے ہوئے الفاظ کا شعروں میں پرویا جانا کیونکر ممکن ہے۔
میں نے اپنی کم علمی کے باوجود آپ کے اعتراض کو سمجھنے اور اپنے طور پر آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کی ہے گو یہ کام بھی ’’اللہ کے فضل کے بغیر ‘‘ ممکن نہیں
خاکسار
عرشیؔ ملک
——————————————————————————–
From: ahsanlhr@hotmail.com
To: arshimalik50@hotmail.com
Subject: FW: باپ ،بیٹا اور چڑیا۔۔۔۔ عرشیؔ ملک
Date: Fri, 12 Feb 2010 10:01:12 +0500
Dear Sister Arshi
Thanks for the nice poem.
If you dont mind I will like to draw your attention to a matter.
You wrote that Allah made you write this.
If you have read quran properly with understanding you would have never said that because in Quran Allah clearly rejects All Type of Poets and poetry.
If you like to understand in more detail. Please do write to me I will give you sufficiant information.
Best regards,
Khawaja Ahsan
Lahore, Pakistan
———- Forwarded message ———-
From: Arshi Malik
Date: 2010/2/9
Subject: FW: باپ ،بیٹا اور چڑیا۔۔۔۔ عرشیؔ ملک
To:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
اللہ تعالیٰ کے فضل نے ایک نئی نظم لکھنے کی توفیق عطا فرمائی گو کہ
یہ موضوع اور یہ دکھ بہت ہی پرانا ہے۔
مجھے آپ کی رائے کا انتظار رہے گا
والسلام
عرشیؔ ملک
——————————————————————————–
Hotmail: Free, trusted and rich email service. Get it now.
منظور قاضی صاحب
بہت شکریہ آپ نے اتنی جلدی میری نظمیں لگا دیں۔یہ نیا بلاگ ہے یا پہلے بلاگ کی ایکسٹینشن ہے۔
بہر حال اس پیش قدمی پر مبارک باد قبول فرمائیے
اور ھمدانی صاحب،اللہ تعالیٰ آپ کو عمرِ خضر عطا فرمائے۔
قبر میں ملائکہ کو ضرور نعتیہ اشعار سنائیے گا لیکن فی الحال ہمیں بھی کچھ عطا ہو
شاہین رضوی کی نئے سال کی دعائیہ نظم پر میں بھی آمین ثم آمین کہتی ہوں۔
شاھین تم خوش قسمت ہو کہ ابھی تک ایسی دعائیہ نظمیں لکھ سکتی ہو،ورنہ اس کربِ مسلسل کے تو دل و زہن کو جیسے پتھرا سا دیا ہے
زہن اس طرح ہوئے سارے کے سارے پتھر
پھول ہیں سنگ یہاں اور ستارے پتھر
کائی نفرت کی دلوں سے نہ کسی طور چھٹی
ہم نے ورنہ یہاں کیا کیا نہ سنوارے پتھر
ان کی آنکھوں میں نمی؟ آپ کا دھوکا ہو گا
آئینوں کے بھی مقابل کبھی ہارے پتھر
جسم و جاں تو کئی برسوں سے تھے پتھر عرشیؔ
ہو گئے آج مگر خواب ہمارے پتھر
مکرمی خواجہ احسان ۔ یہ واقعی اللہ کا احسان ہے کہ آپ کی اس بلاگ پر تشریف آوری عزیزی عرشی ملک کی اس رومن ای میل کی وساطت سے ہوئی جو آپ نے شاعری کے حوالے سے لکھی ہے۔
مجھے آپ سے بہت زیادہ استدلالی گفتگو اس لیئے نہیں کرنی کہ جب آپکا ایک نکتہ نظر ہے اور آپ قرآن کے الفاظ پر تفکر اور تدبر کیئے بغیر اسکے معانی اپنی مرضی سے استعمال کر رہے ہیں تو ایسے مواقع پر استدلال بے معنی ہو جاتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ آپ نے سورہ شعرا یا تو پڑھی ہی نہیں یا پھر وہ حصہ نہیں پڑھا جس میں اللہ تعالی نے شعرا کی تعریف بھی کی ہے۔
شاعری سچ پوچھیں تو ورثہ انبیا ہے اور جیسے اللہ نے انبیا کو نبوت اور رسالت عطا نہیں کی ودیعت کی ہے اسی طرح حقیقی شعرا کو اس ذات پاک نے شاعری کا ہنر اور وصف ودیعت کیا ہے۔
جی چاہتا ہے کہ آپ سے درخواست کرؤں کہ آپ 5 شعر بامعنی لکھ کر بتائیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ شاعری کوئی منجھی پیڑھی ٹھونکنا نہیں ہے۔ فکر،تخیلق اور تدبر ہے۔
میں قافیہ پیمائی کی نہیں فکری اور تخلیقی شاعری کی بات کر رہا ہوں اور تخلیق اللہ پاک کا ذاتی وصف ہے جس سے اس نے اپنے چنیدہ بندوں کو موصوف کیا ہے۔
میں اس موضوع پر دنیا بھر میں سیمیناروں میں اظہار خیال کر چکا ہوں اور یہاں بھی صفحے کے صفحے لکھ سکتا ہوں لیکن اسکے لیئے جو کچھ سیکھنا چاہتا ہے اور ہٹ دھرمی پر قائم نہیں۔
قرآن شاعری ہر گز نہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے نا۔۔ کہ کفار مکہ نے پہلا اعتراض یہ کہہ کر کیا کہ یہ تو شاعری ہے اور اللہ پاک نے انہیں پھر چیلنج بھی کر دیا۔
اللہ کے حبیب کی موجودگی میں اللہ اور اسکے حبیب کی تعریف کرنے والے شعرا کی فہرست لکھنے بیٹھا تو ایک مکمل باب درکار ہو گا۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔حضور نے تو نعت پڑھنے والے مدح خوان کو اپنی چادر بھی عطا کردی۔ یہ شرف صرف ایک شاعر کو ملا۔ اور اگر شاعری قرآنی تعلیمات کے خلاف ہوتی تو اللہ کا حبیب اجازت کیوں دیتا۔ اب آپ یہ نہ کہیئے گا کہ وہ تو نعت تھی شاعری نہیں تھی۔
درج ذیل نام اُن صحابہء کرام کے ہیں، جنہیں نہ صرف حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت پڑھنے کا شرف حاصل ہوا بلکہ کئی روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود کئی بار ان اصحاب سے نعت سماعت فرمائی
* حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
* اسود بن سریع رضی اللہ عنہ
* عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
* عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ
* عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
* کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ
* نابغہ جعدی رضی اللہ عنہ
حسان بن ثابت (وفات: 55ھ بمطابق 674ء) ایک صحابئ رسول تھے۔ نام حسان تھا جبکہ ابوالولید کنیت تھی۔ شاعر اور شاعر رسول اللہ القاب تھے۔ قبیلہ بنو خزرج میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ اور آخر عمر میں اسلام لائے۔ ضعف قلب کے باعث کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے اور ہمیشہ جان کے بجائے زبان سے جہاد کیا۔ آپ قریش کے اسلام دشمن شعراء کی ہجو کا مسکت جواب دیتے تھے۔ رسول اللہ کی وفات پر حسان نے بڑی پر درد مرثیے لکھے۔ شاعری کے لحاظ سے جاہلیت کے بہترین شاعر تھے۔ کفار کی ہجو اور مسلمانوں کی شان میں بے شمار اشعار کہے ہیں۔ امیر معاویہ کے زمانے میں وفات پائی۔
نعت گو علما کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں لیکن چند اہم نام پڑھ لیجئے۔
* امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
* مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ
* شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ
* مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ
* امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ
* مولانا احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ
دورِ صحابہ سے لے آج کے دور تک جہاں صحابہء کرام اور علماء نے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا، وہیں اولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لئے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حصول کے لئے نعت خوانی کو سب بہتر ذریعہ قرار دیا۔ تمام تر سلاسلِ تصوف میں محافلِ نعت خوانی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ ایسی ہی چند برگزیدہ ہستیوں کے نام جنہوں نے صرف نعت خوانی کو فروغ دیا بلکہ خود بھی نعت گوئی کی:
* شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ
* بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ
* سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ
* بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ
* خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ
* امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ
* خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ
* مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ
* پیر مہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ثناء خوانی کرنے والے ہر دور میں آتے رہے ہیں اور ان میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اس فن اور ہنر کے طفیل ابدی شہرت حاصل کرلی۔ چند نام اس فہرست کے دیکھیئے
* امام احمد رضا خان
* حسن رضا خان
* امیر مینائی
* الطاف حسین حالی
* صائم چشتی
* ادیب رائے پوری
* علامہ اقبال
* خواجہ بیدم وارثی
* محمد علی ظہوری
* حافظ مظہر الدین مظہر
* حفیظ تائب
* مولانا کوثرنیازی
* بہزاد لکھنوی
* عبدالستار نیازی
* ریاض حسین چودھری
* ضیاء نیر
* حسین محی الدین
* قمر الدین انجم
* پروفیسر اقبال عظیم
* صباء اکبر آبادی
* خالد محمود نقشبندی
* مولانا ظفر علی خان
* ماہرالقادری
* علیم الدین علیم
حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات رحمت للعالمین ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدحت و ثناء خوانی جہاں مسلمانوں کا شعار رہی ہے، وہیں کچھ ایسے غیر مسلم شعراء بھی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں بہت عمدہ نعتیہ کلام لکھے۔ خصوصاً بھارتی شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اس سلسلے میں لافانی اشعار حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں کہے،
ہم کسی دین سے ہوں صاحبِ کردار تو ہیں
ہم ثناء خوانِ شہء حیدرِ کرار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمد کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمدِ مختار تو ہیں
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہ اجارہ تو نہیں
خواجہ احسان صاحب ابھی تو صرف میں نے اللہ کے حبیب کی شان میں صرف اردو میں لکھی شاعری کا صفر اعشاریہ 5 فیصد بھی پیش نہیں کیا۔
ابھی تو حبیب خدا کے جگر کے ٹکڑے خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ کی شاعری کا ذکر کرنا ہے خاص طور پر وہ مرثیہ جو انہوں نے اپنے والد ماجد کی وفات پر لکھا۔
حضرت علی کی شاعری کا ذکر بھی ہو گا۔ آئمہ نے جو شاعری کی اسکا ذکر ہوگا۔ امام زین العابدین ابن الحسین نے اپنے بابا کی مجالس عزا پڑھنے والے مرثیے کے شعرا کو جو انعام و اکرام دیئے اسکا ذکر بھی ہو گا۔
اگر شاعری واقعی اس زمرے میں آتی ہے جس طرف آپکا اشارہ ہے تو پھر اکابرین اسلام میں سے کسی ایک نے بھی تو اس سے منع نہیں کیا۔
ہاں شاعری اور مصرعے جوڑنے میں فرق ہے۔ شاعری اور قافیہ پیمائی میں فرق ہے، شاعری اور یاوہ گوئی میں فرق ہے۔
حقیقی شاعر کبھی بھی درباری شاعر نہیں ہوتا،وہ حکومتوں کے ہلال امتیاز نہیں لیتا،اسکی عزت اور شہرت اسکا یہی فن ہو تا ہے۔
خواجہ صاحب آپ نے کتنی آسانی سے شاعری اور شاعر کی تضحیک کر دی۔
فی الحال نا مکمل موضوع کو ختم کرتا ہوں اور آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ پہلے مطالعہ کیجئے کہ شاعری کسے کہتے ہیں اور شاعر کون ہوتا ہے۔ دس دس دن نہ نہانے والا اور خود سے اور اپنے فرائض سے غافل رہنے والا شاعر نہیں کہلاتا۔ شاعر تو سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرتا ہے اور اس ضمن میں سب سے کم تر مثال علامہ اقبال کی ہے ورنہ اس سے بڑی مثالیں بھی وقت پر دوں گا۔
آخر میں یہ التماس کہ خواجہ صاحب اگر بلاگ میں تشریف لائیں اور لکھیں تو از راہ کرم اردو میں لکھیں کہ ہم اردو کے نام پر رومن کی تشہیر نہیں کرتے کہ رومن سرے سے کوئی زبان ہے ہی نہیں۔
ماشاللہ کتنے خوبصورت اور دلنشین پیرائے میں پہلے عرشی آپا نے پھر بابا نے اتنی معلومات پہنچائی ہیں ۔۔ جزاک اللہ ۔۔۔۔ یہی تو وہ علم ہے جو کئی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتا ۔۔ اللہ کریم ہمیں سیکھنے والوں میں رکھے ۔۔آمین ۔
میں جناب منظور قاضی صاحب کا بے حد احسان مند ہوں کہ انہوں نے اتنا خوبصورت کلام پڑھنے کو دیا.
محترمہ بہن عرشی صاحبہ کا فقط نام ہی عرشی نہیں بلکہ . . . آج معلوم ہوا کہ دراصل ان کا کلام عرشی ہے.
آخری خطبے میں تھا میں نے کیا تم کو گواہ
میں نے کیا پیغامِ حق اچھی طرح پہنچادیا ؟
یک زباں ہو کر کہا تھا تم نے ہاں پہنچا دیا
تم بھُلا بیٹھے ہو لیکن اب و ہ پیغامِ بقا
ہے الگ مجھ سےتمہار راستہ : تم کون ہو؟
کھوٹ دل میں لب پہ ہے صلی علیٰ : تم کون ہو؟
بہت خوب، سبحان اللہ، ماشاء اللہ
بہن جی ! آپ نے قرانِ مجید کی سورۃ الشعراء کی آخری آیات کے جو مطالب درج فرمائے ہیں وہ صد در صد ہیں،
اجازت ہو تو عرض کروں کہ ان آیات میں اللہ تعالٰی نے شیاطین اور چھوٹے گناہگاروں میں مناسبت قائم کی ہے، اس لیے شیطان ایسے لوگوں پر اترتے ہیں، آیات؛ مقدسہ میں مذمت ان شعراء کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور قران کا مقابلہ کرنے کی کوششیں کرتے تھے، ان شاعروں کی دو باتیں مذکور ہیں :
1- وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں. یعنی جس موضوع پر بات کرتے ہیں حق اور حقیقت سے بھٹکی ہوئی بات کرتے ہیں.
2- ان کے گفتار و کردار میں تضاد پایا جاتا ہے. ایک تخیلاتی دنیا میں گم ہوتے ہیں، یہ مذمت مخصوص شاعروں کی ہے، شعر کہنے کی نہیں ہے، یعنی شعر کے مضامین اگر ایمان، عمل صالح، ذکرِ خدا، مظلوم کی فریاد رسی اور اصلاحِ امت وغیرہ پر مشتمل ہوں تو اس کی مذمت نہیں.
محترم ہمدانی صاحب کا شعر اتنا خوبصورت ہے کہ مجھے رشک آنے لگا کہ ہمدانی صاحب تو فرشتوں کو اپنی نعت سنا دیں گے لیکن ہم جیسے بے صلاحیت کیا کریں گے ؟ لیکن اس سے پہلے کہ میں مغموم ہوتا خیال آیا کہ فرشتوں کو اپنا کلام سنانا ہی تو ضروری نہیں، ہم ہمدانی صاحب یا عرشی بہن ہی کی کہی کوئی نعت سنا دیں گے
کیا معجزہ ہو قبر میں کہہ دیں ملائکہ
مناف سنا دو شعر کوئی صفدر کا ہمیں
واہ واہ واہ ہمدانی صاحب ! میں تو آپ کی شاعری کی تعریف کر رہا تھا کہ
اب شاعری پر کہی نثر بھی پڑھنے کو مل گئی، ماشاء اللہ
آپ سے پُر زور اپیل ہے کہ اس موضوع کو مکمل کیجیے، جس کے لیے “عالمی اخبار” کی بلاگ کے یہ صفحات یقیناً کافی نہیں، اس لیےلکھ ڈالیے کاغذ کے یا کمپیوٹر کی سکرین کے صفحات پر الگ سے، خواہ 5 یا 500 صفحات ہوں، لیکن ہماری قوم میں اس موضوع سے متعلقہ غلط فہمیاں ضرور دور ہونی چاہیں.
دراصل فرمائش کرنی بہت آسان ہے، لیکن ایسی فرمائیش کو پورا کرنے کے لیے خون پسینہ خرچ کرنا پڑتا ہے، یہ جاننے کے باوجود فرمائیش کی کیوں کہ خود اس قابل نہیں.
ایک خیال ہے کہ . . . اس موضوع پر ایک بلاگ شروع کیا جائے اور تمام خواتین و حضرات اس پر لکھیں، بعد میں ہمدانی صاحب اس کو ترتیب دے کر برقی و کاغذی صورتوں میں شائع کر سکتے ہیں-
برادر محترم مناف
جزاک اللہ. اچھی اور سچی بات کا اعتراف کرنے کے لیئے بھی بہت بڑا دل چاہیئے اور میرے مولائے کائنات نے وہ دل آپکو دیا ہوا ہے. شاید اس بلاگ فیملی کے لوگ آپ کو اتنا قریب سے نہیں جانتے جتنا میں جانتا ہوں اور ہاں یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ جانتا ہوں. آپکو مطالعے کی عادت ہے وہ مطالعہ جو مولانا، خطیبوں اور ادیبوں ،شاعروں میں ناپید ہو چکا ہے. آپ کے پاس استدلال ہوتا ہے. آپ تخلیق کے ہنر سے بہرہ ور ہیں.آپکی اللہ پاک نے دیکھنے والی آنکھ اور ذوق سخن کو سمجھنے والی سماعت عطا کی ہے.
میرا یہ ایمان ہے کہ کسی شاعر یا کسی عالم کی تعریف سے زیادہ تعریف اچھے سامع یا عادل قاری کی ہونی چاہیئے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مناف آپ ایک اچھے سامع اور اچھے قاری ہو.
شاعروں اور ادیبوں میں خاص طور پر میں نے یہ بیماری دیکھی ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو قلم کار ہی نہیں سمجھتے یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ غالب ٹھیک ہے بڑا شاعر تھا لیکن جن موضوعات کا سامنا آج کےشاعر کو ہے وہ غالب کو نہیں تھا. یا پھر یہ جو ایک لغو روایت برسوں سے متعصب ذہنوں کی پیداوار ہے کہ ”بگڑا شاعر مرثیہ نگار اور بگڑا گویا سوز خوان” یہ ایسے ہی لوگوں کی اختراعات ہیں جن کے لیئے انگور کھٹے ہوتے ہیں یا جنہیں تعریف کی توفیق ہی نہیں.
مناف بھائی آپ نے کس آسانی اور کس خوبی سے ”تا نہ بخشد خدائے بخشندہ” کے مصداق حق کو بیان کر دیا کہ ”آیات؛ مقدسہ میں مذمت ان شعراء کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور قران کا مقابلہ کرنے کی کوششیں کرتے تھے”…..اب ان علم کے خزانوں کو کون سمجھائے گا کہ جنہیں قرآن نہیں سمجھا سکا.
آپکو تو معلوم ہے کہ ہمارے ہاں شاعر آل محمد اور مدح خوان محمد و آل محمد کی کیا شان ہے اور مرثیے کے بارے میں تو آئمہ کے اقوال ہیں کہ ”ایک بیت کے بدلے میں جنت میں ایک بیت ملے گا”. جی ہاں جنت میں ” بیت صفدر” ہو گا اور یہ مجھے یقین ہے اور اس بیت صفدر میں بلاگ فیملی کے بھی کچھ لوگ مناف سمیت میرے ساتھ رہیں گے. عالی جناب اگر اپنی حد سے تجاوز نہ کرؤں تو عرض کرنے کی جسارت کرؤں گا کہ یہ قول آئمہ نے کسی عالم دین یا کسی آیت اللہ کے لیئے بھی نہیں کہا.یہ اعزاز تو بس مدح خوان اہلبیت کے لیئے ہے
شاعرِ آلِ محمد مجھے اعزاز ملا
چھین سکتی ہی نہیں دنیا یہ اعزاز مرا
اور رہی مرثیے کی حقانیت کی بات تو مناف بھائی اس فقیر نے کئی برس پہلے اپنی شفاعت کی ضمانت یہ لکھ کر حاصل کر لی تھی کہ
کفن میں میرے اک خاک شفا اک مرثیہ رکھنا
میں اسناد شفاعت لے کے خود محشر میں جاؤں گا
کیا ستم ہے کہ ایسے لوگ کہ جو اپنے نام کے ہجے بھی درست نہیں لکھ سکتے وہ قرآن کی آیات کی تفسیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں.جیسے دین اسلام اللہ کا آخری دین ہے اور حضور پر نور اللہ کے آخری نبی ہیں اسی طرح قرآن اللہ کی حتمی اور آخری کتاب ہے اور لوگ پرائمری پڑھے بغیر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں. انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف روز محشر قرآن خود گواہی دے گا جو قرآن کی آیات کا مطلب اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق پیش کرتے ہیں.
میں اپنی خوش نصیبی پر ناز کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے عرشی صاحب نے مجھ کم علم کو منتخب کیا کہ میں انکے کلام کو ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے عالمی اخبار کے بلاگوں میں شایع کروں۔
۔۔۔۔
محترمہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی تشریف آوری اس بلاگ کے لیے باعثِ رحمت ہے ۔ انہوں نے عرشی صاحبہ سے ملنے کے اشتیاق کی بات کی ہے : انکے لیے یہ بات بالکل ممکن ہے وہ زرقا مفتی صاحبہ سے بھی مل سکتی ہیں اور عرشی صاحبہ سے بھی مل سکتی ہیں: لاہور اور اسلام آباد کوئی زیادہ دور نہیں ۔
میں بھی نادیہ بتول بخاری صاحبہ کی طرح ، عرشی صاحبہ کو قریب سے دیکھنے کا متمنی ہوں مگر فی الوقت میں اور بہت سارے قاری ان کے متعلق جاننے کے منتظر ہونگے کہ :
نکی تصنیفات بھی آج تک شایع ہوئی ہیں یا نہیں ؟
یہ بھی کہ کیا انکی مادری زبان پنجابی ہے یا اردو ہے ؟
کیا وہ مرثیہ نگاری بھی کرتی ہیں؟
انکے پسندیدہ اردو اور فارسی اور انگریزی کے شعرا کے نام کیا ہیں؟
انہوں نے ایم اے کی ڈگری کس یونیورسٹی سے حاصل کی ؟
کیا وہ تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہیں ؟
کیا وہ پی ایچ ڈی کرچکی ہیں یا کررہی ہیں ؟
انکی نظم ماں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بے انتہا مشفق ماں بھی ہیں ، تو انکے کتنی بیٹیا ں ہیں اور کتنے بیٹے ہیں ؟
انکے شوہرِ نامدار انکی شاعری کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
کیا وہ بھی شاعر اور ادیب ہیں ؟ انکا پورا نام کیا ہے؟
کیا وہ نادیہ بتول بخاری صاحبہ کو اور محترمہ شاہین رضوی صاحبہ کو ای میل کے ذریعہ اپنا ٹیلیفون نمبر دے سکینگی تا کہ یہ دونوں ان سے ٹیلیفون کے ذریعہ رابطہ کر سکیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرشی صاحبہ اور صفدر ھمدانی صاحب اور عبدالمناف غلزئی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی مدلل باتیں جن میں شعر گوئی کی تاریخ اور اسکی اہمیت اور شعرا کے فہرست پیش کی گئی ہے ۔ ماشا اللہ ۔ جزاک اللہ
یہی وجہ ہے کہ شعر وادب کے بلاگوں میں دوسرے موضوعات پر لکھے ہوئے بلاگوں کے مقابلے میں ، شعر وا دب کے شیدائی زیادہ حصہ لیتے رہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دوسرے موضوعات کے بلاگوں کی اہمیت اور افادیت کو بخوبی جانتا ہوں مگر ادب اور شاعری کے بلاگوں کی بات ہی اور ہے اس لیے کہ ان میں اردو زبان کی چاشنی اور اسکی آب و تاب اور اس میں خداداد صلاحیتوں کے مظاہروں کی مثالیں موجود ہیں ۔
۔۔۔۔
میں نے بھی دو ایک نعتیںلکھی ہیں مگر میری ایک نعت پر ملا وں نے بہت سخت اعتراض کیا تھا :
نعت کی ردیف “ یا رسول اللہ “ تھی ، قافیہ تھا بنادو ، لگادو ، بچا دو :
مثال کے طور پر میرا یہ شعر تھا کہ :
مرے آغاز کو آساں بنایا آپ نے آقا( ص)
مرا انجام بھی آساں بنادو : یار سول اللہ ( ص)
ملاوں کو یہ اعتراض تھا کہ میں نے رسول اللہ ( صلعم ) کو یا رسول اللہ کہکر کیوں مخاطب کیا ؟
یا کا لفظ تو صرف اللہ کے لیے جا ئز تھا کسی اور دنیاوی ہستی کے لیے نہیں!!!
بہر حال : ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میں پڑھنے والوں کو یہ خوشخبری سنانا چاہتاہوں کہ محترمہ عرشی صاحبہ نے آج مجھے اپنی ایک نعت ( ص) عطا کی ہے جسے میں اپنی پہلی فرصت میں ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے اس بلاگ میں شایع کردونگا۔
اس نعت کا عنوان ہے :
رات بھر د ل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔
فقط:
ایک فرشی :
منظور قاضی
از جرمنی
منظور قاضی صاحب نے کچھ سوال پوچھے ہیں ،کل انشا اللہ ان کے جواب لکھنے کی کوشش کروں گی
بسم اللہ کہتے ہوئے میں عرشی صاحبہ کی یہ طویل نعت اس بلاگ میں یونی کوڈ میں پیش کررہا ہوں۔ دعا ہے کہ میر ا کمپیو ٹر میرا ساتھ دے::
عنوان:
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
از ارشاد عرشی ملک ۔ از اسلام آباد پاکستان
۔۔۔۔
نعت لکھنےکا نہیں مجھ بے ہنر میں حوصلہ
میں کہ جو بھی کہوں گی آپ(ص) ہیں اس سے سوا
سامنے اللہ کے کرتی ہوں لیکن التجاء
زندگی دے دے مرے لفظوں کو میرے کبریا
۔۔۔
چند کلیاں ہیں محبت کی سو نذرِ مصطفےٰ
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔
میرے شاہِ دوجہاں کا احمدِ(ص) مُرسل لقب
آپ کے آگے کسی کی ذات کیا اور کیا نسَب
باوضو ہے دل مرا اور باوضو ہیں چشم و لب
پیش ہیں حرفِ عقیدت سر جکھا کر با ادب
۔۔۔
میں ہوں دربارِ شہنشاہ میں گدائے بے نوا
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ( ص) ہی کی ذات ہے وجہِ وجودِ کائنات
آپ ( ص) ہی کے دم سے اپنے آپ پرنازاں حیات
رحمتہ للعالمیں ہیں، آپ( ص) ہیں عالی صفات
آپ ( ص) ہی انسانیت کے واسطے راہِ نجات
۔۔۔
آپ ( ص) کا ہر قول ہے فکر و عمل کا راہ نما
۔۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد (ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔
آپ ( ص) حرفِ اولیں ہیں آپ (ص) حرفِ آخریں
آپ کی چاہت دلوں میں تا قیامت جا گزیں
عاشقوں نے آپ (ص) پر اس طور جانیں وار دیں
سر فروشی کی زمانے میں نئی رسمیں چلیں
۔۔۔
آپ ( ص) جیسا ، چشمِ گردوں نے نہ دیکھا نہ سنا
۔۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔۔
ساری دنیا سے جدا حُسنِ مروت آپ ( ص) کا
تھا عجب غارِ حرا میں رنگِ خلوت آپ ( ص) کا
ذاتِ حق کو بھاگیا طرزِ عبادت آپ ( ص) کا
جزو ہے مذہب کا اِ قرارِ رسالت آپ ( ص) کا
۔۔
ہاں اسی دن سے کہ جب جبریل(ع) نے “اقرا“ کہا
۔۔۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد(ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔
عفو میں لپٹا ہوا طرزِ حکومت آپ ( ص) کا
یاد ہے دنیا کو اندازِ عدالت آپ ( ص) کا
نقش ورقِ دہر پر رنگِ شجاعت آپ ( ص) کا
دل کو موہ لیتا ہے پندارِ محبت آپ ( ص) کا
۔۔
آپ (ص) عاشق تھے خدا کے آپ ( ص) کا عاشق خدا
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔
( جاری ہے )
عرشی صاحبہ کی اوپر لکھی ہوئی نعت کا تسلسل جاری ہے:
۔۔۔۔
آپ ( ص) جن راہوں سے گذرے ہیں وہ راہیں محترم
واسطے اُمت کے جو کھینچیں وہ آہیں محترم
شرفِ انسانی تھا جن میں و ہ نگاہیں محترم
بے کسوں کا جو سہار اتھیں وہ بانہیں محترم
۔۔۔
غمزدوں کے واسطے تھے آپ ( ص) رحمت کی گھٹا
۔۔
لب پہ گر نامِ محمد (ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔
آپ (ص) کی حکمت زمانے میں چراغاں کر گئی
آپ ( ص) کی صحبت سبھی کو مستِ عرفاں کر گئی
فلسفی اور نکتہ دانوں کو پریشاں کرگئی
ایک اُمی کی فراست سب کو حیراں کر گئی
۔۔۔۔
آپ (ص) پر نازل ہوا قرآن جیسا معجزہ
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔
ان گنت آئے مورخ ، ان گنت نقاد بھی
مبتدی بھی ان میں تھے ماہر بھی تھے استاد بھی
فکر کا تیشہ لیے ، اُٹھے کئی فرہاد بھی
اُمتی کچھ نام کے کُچھ صاحبِ الحاد بھی
۔۔۔
آپ ( ص) کی تائید میں اللہ کُھلی شمشیر تھا
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔۔
( جاری ہے )
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
جزاک اللہ.ماشااللہ عرشی صاحبہ
اللہ کے حبیب ص اپنے حضور میں قبول فرمائیں. یہی وہ مقام ہے جہاں یہ طے ہے کہ ایسا ایک مصرعہ بھی انکی اجازت کے بغیرنہیں لکھا جاتا. کس عاصی میںمجال کہ انکا نام بھی انکی اجازت یا اللہ پاک کی اعانت کے بغیر لکھ سکے. عرشی جی آپ پر عرش والوں کی رحمت ہے. غزل.نظم،گیت تو سب لکھ ہی لیتے ہیں لیکن حمد،نعت،سلام اور مرثیہ عطائے خانوادہ رسول ص ہے اور اپنے چنیدہ بندوں کو یہ وصف دیتے ہیں ہاں اس میں مسلم غیر مسلم کی قید نہیں. عشق محمد و آل محمد کا شجر سایہ دار کسی بھی دل میں،کسی بھی موسم میں اور کسی بھی کرہ میں پروان چڑھ سکتا ہے .شرط صرف ان کی ذات سے عشق ہے
صفدر میں نعت لکھوں کہاں یہ مری مجال
انکا کرم جو ہو توقلم کو رواں کرؤں
معافی چاہتا ہوں : میرا کمپیوٹر نازک مزاجی پر اتر آیا ہے ۔ بار بار میرے کیے دھرے پر پانی پھیر رہا ہے :
کوشش کرونگا کہ عرشی صاحبہ کی بقیہ نعت بھی یہاں پیش کردوں : انشااللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہو ا اذن ِ رسالت آپ ( ص) ہادی ہوگئے
سر جو جھکتے ہی نہ تھے سجدوں کے عادی ہوگئے
ہاں مگر کچھ کِبر کے مارے فسادی ہوگئے
اور یوں ابلیس کے وہ اتحادی ہو گئے
۔۔۔۔۔
معرکہ روزِ ازل کا پھر سے تازہ ہوگیا
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔
دامنِ گردوں میں جتنے علم کے سرمائے ہیں
آپ ( ص) ہی کی جنبشِ لب کے رسیلے سائے ہیں
قربِ حق کے ہم نے عرشی جو ثمر بھی کھائے ہیں
مصطفےٰ (ص) کے باغ سے تازہ اُتر کر آئے ہیں
۔۔۔۔۔
آپ (ص) ہی سے ابتدا ہے آپ ( ص) پر ہی انتہا
۔۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد (ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔
ہیں حجابِ داستاں میں گُم کرشنا اور رام
اور دیگر انبیاء کا عکس بھی کچھ ناتمام
ہے حیاتِ موسوی اور عیسوی بھی تشنہ کام
آپ ( ص) ہیں ماہِ منور آپ ( ص) ہیں ماہِ تمام
۔۔۔
ایک گوشہ بھی نہ ذاتِ پاک کا مخفی رہا
۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔
صفحہءِ تاریخ میں ہر اک ادا محفوظ ہے
صورت و گفتار و اندازِ حیا محفوظ ہے
نیم شب کا کرب اور آہ و بکا محفوظ ہے
آپ( ص) کے دل کی تڑپ حرفِ دعا محفوظ ہے
۔۔
آپ( ص) کی ذاتَ مطہر مظہر۔ نورِ خدا
۔۔
لب پہ گر نامِ محمد ( ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔
آپ ( ص) کی ہر ایک آہٹ ، ہر صدا محفوظ ہے
آپ ( ص) کے شیریں لبوں نے جو کہا محفوظ ہے
فقر کا ، شاہی کا سارا ذائقہ محفوظ ہے
ایک اک لمحے کا عرشی تذکرہ محفوظ ہے
۔۔۔۔۔
آپ (ص) سے منسوب ہے یہ بھی انوکھا معجزہ
۔۔۔
لب پہ گر نامِ محمد(ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔۔
بے سُری دنیا میں آہنگ و ترنم آپ ( ص) ہیں
خُلقِ اعظم آپ (ص) قرآنِ مجسم آپ ( ص) ہیں
ہے پسِ پردہ خُدا ، محو تکلم آپ (ص) ہیں
رحمتِ یزداں کے ہونٹوں کا تبسم آُپ ( ص) ہیں
۔۔
آپ (ص) کو تخلیق کرکے مسکرا اُ ٹھا خُدا
۔۔۔۔
پھر کہا بے ساختہ صلی علٰی ، صلی علیٰ
اس لیے کہتے ہیں ہم صلی علٰی ، صلی علٰی
۔۔۔۔۔۔۔
( تمام شد )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاتب کے الفاظ :
عرشی صاحبہ: ماشااللہ سبحان اللہ ، جزا ک اللہ ، مرحبا ، بہت اچھے ۔، بہت خوب ،
اللہ ہم سب کو آپ کا مزید کلام ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرنے کے سعادت دیتا رہے ۔ آمین
۔۔۔۔
اگر کوئی کمپوزنگ کی غلطی ہوگئی ہو تو براہِ کرم درست کردیں۔۔
میری کمپوزنگ پر میرا یہ شعر ہے کہ :
رحمت لکھا تو رے پہ بھی نقطہ لگادیا
رحمت کو ایک نقطہ سےزحمت بنا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
فقط :
اچھے اچھے کلا م کا شیدائی
منظور قاضی
جرمنی سے
عرشی صاحبہ آپ کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔
لب پہ گر نامِ محمد(ص) خواب میں بھی آگیا
رات بھر دل نے کہا صلی علیٰ صلی علیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ (ص) کو تخلیق کرکے مسکرا اُ ٹھا خُدا
۔۔۔۔
پھر کہا بے ساختہ صلی علٰی ، صلی علیٰ
اس لیے کہتے ہیں ہم صلی علٰی ، صلی علٰی
سبحان اللہ۔
قاضی صاحب مرحبا اسقدر نیک کام انجام دینے پر آپ لائق مبارک و استحسان ہیں۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میری ہمت افزائی کی اور میری بے لوث خدمات کو سراہا۔
یہ سب آپ جیسے علم و فن کے شیدائیوں کی قربت کا اثر ہے ۔
آپ سب بھی تو اسی طرح اپنی زندگی کے لمحات کو علم و فن کی تحصیل اور ترسیل کےلیے وقف کرچکے ہیں ۔
اسی لیے سعدی کا یہ شعر دہرانا چاہتاہوں کہ :
جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم
۔۔۔۔
قاضی صاحب قبلہ آپ بھی کمال کرتے ہیں، کہ ملا کے اعتراض کو وجہ توجہ سمجھ بیٹھے۔ وہ کیا ہے کہ اگر آپ کو پنجابی کی سمجھ آتی ہو تو میاں محمد بخش رحمت اللہ علیہ نے کہا تھا کہ
قدر پھلاں دی بلبل جانے صاف دماغاں والی
قدر پھلاں دی گرج کیہہ جانے مردے کھاون والی
قدر پانی دا مچھلی جانے یاں جانے مرغابی
قدر نبی ۖ دا اللہ جانے یان جانن اصحابی
قدر نبی ۖ دا ایہہ کی جانن دنیا دار کمینے
قدر نبی دا جانن والے سوں گۓ شہر مدینے
قدر یوسف دا معلوم ھویا بھائیاں مصر گیاں نوں
قدر نبی دا ۖ معلوم ھوسی قبراں وچ گیاں نوں
بے سُری دنیا میں آہنگ و ترنم آپ ( ص) ہیں
خُلقِ اعظم آپ (ص) قرآنِ مجسم آپ ( ص) ہیں
ہے پسِ پردہ خُدا ، محو تکلم آپ (ص) ہیں
رحمتِ یزداں کے ہونٹوں کا تبسم آُپ ( ص) ہیں
۔۔
آپ (ص) کو تخلیق کرکے مسکرا اُ ٹھا خُدا
۔۔۔۔
پھر کہا بے ساختہ صلی علٰی ، صلی علیٰ
اس لیے کہتے ہیں ہم صلی علٰی ، صلی علٰی
میں بس ا س نعت شریف کو پڑھنے کے بعد دم بخود ہوں .. میرے لفظ میری محبت اور شکر گزاری کو قید کرنے سے قاصر ہیں جو عرشی آپا کے لیئے ہیں .. آپا اس قدر دلسوز اور خوبصورت نعت پر جی کرتا ہے کہ میں بھی مناف بھائی کی طرح قبر میں ملائکہ کو یہی اشعار سنا دوں گی .. بابا نے بلکل سچ کہا اور میرے دل کی بات بھی کہ حمد،نعت،سلام اور مرثیہ عطائے خانوادہ رسول ص ہے اور اپنے چنیدہ بندوں کو یہ وصف دیتے ہیں .. اور آپا آپ پر ان سب کی رحمت ہے اور اجازت ہے .. بہت بہت مبارک ہو …
بابا نے بہت خوب لکھا کہ عشق محمد و آل محمد کا شجر سایہ دار کسی بھی دل میں،کسی بھی موسم میں اور کسی بھی کرہ میں پروان چڑھ سکتا ہے .شرط صرف ان کی ذات سے عشق ہے .
مدحت رسولِ پاک کی لکھنے کا یہ شرف
تم پر نسیم خاص عنایت رسول کی
میں منظور بھائی کہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے اتنی محنت سے یہ باغ لگایا ہے اور اسے حمد و نعت کے پھولوں سے سجایا ہے .. آپ اپنی لکھی ہوئی نعت شریف ہمیں ضرور عطا کریں جس پر کچھ جاہل لوگوں کو اعترض تھا ..
جزاک اللہ … دلی دعا ہے کہ اللہ سبحان تعالی ہم سب کی کوشششوں کو اپنے حبیب اور آل حبیب (ص) کے صدقے قبول فرمائے اور ہماری بخشش فرما دے ..آمین
مصباح بھائی کیا کمال کا اور برمحل حضرت میاں محمد بخش رحمت اللہ علیہ کا کلام پیش کیا .. واہ سبحان اللہ .
قدر نبی ۖ دا ایہہ کی جانن دنیا دار کمینے
قدر نبی دا جانن والے سوں گۓ شہر مدینے
قدر یوسف دا معلوم ھویا بھائیاں مصر گیاں نوں
قدر نبی دا ۖ معلوم ھوسی قبراں وچ گیاں نوں
منظور بھائی بس اب لکھ ڈالیئے وہ نعت شریف … جب اللہ پاک کے حبیب کی اجازت سے آپ نے لکھ لیا تو پھر کس کی مجال جو اعتراض کرے .. قدر نبی ۖ دا ایہہ کی جانن دنیا دار کمینے …. دنیادار کمینوں سے کبھی نہیں ڈرنا چاھیئے .. یہی فکر نبی اور فکر حسینی ہے جسے کتنی خوبصورتی اور سادگی سے میاں صاحب نے اپنے کلام میں ہم تک پہنچایا ہے .. جبھی تو تمام اللہ کے بزرگوں نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حصول کے لئے نعت خوانی کو سب بہتر ذریعہ قرار دیا … یہی بات بابا نے بڑی تفصیل اور سادہ الفاظ میں ہمیں اوپر کے تبصرے میں بھی سمجھائی ہے .. جزاک اللہ منظور بھائی .. یہ سب آپ کی وجہ سے ہم سب سیکھ رہے ہیں .. نہ آپ یہ باغ سجاتے نہ ہم خوشبو پاتے .. سولہ فروری سے ربیع اول شروع ہو رہا ہے .. اس مناسبت سے یہ بلاگ دلوں کو روشن کر رہا ہے … اللہ کریم ہم سب کو اپنی اور اپنے حبیب اور آل حبیب (ص) کی محبت کی روشنیوں میں رکھے ..آمین
سب سے پہلے بہن عرشی صاحبہ کو ایسی اعلٰی نعت کی تخلیق پر مبارک باد ، معافی چاہوں گا کہ میرے پاس الفاظ نہیں، آپ مدحتِ رسولِ خدا کے الفاظ کے پھولوں کا گلدستہ بنا دیتی ہیں اور ہم اتنے کم مایہ ہیں کہ آپ کے اس عمل ہی کی صحیح طور پر تعریف نہیں کرسکتے، بس یہی کہوں گا کہ اس کا اجر انہی کے ذمہ ہے جن کی شان آپ نے بیان فرمائی، ماشاء اللہ –
مصباح شاہ صاحب ! اگر ممکن ہو تو میاں محمد بخش صاحب کی اس نعت کے باقی اشعار بھی مرحمت فرما دیں، اللہ تعالیٰ اجرِ عظیم عطا فرمائے.
بھائی منظور قاضی صاحب قبلہ ! بہن نگہت کی درخواست کا اِعادہ میں بھی کرتا ہوں، اپنی کہی نعت سے ہمیں ضرور بالضرور مستفیض فرمائیے.
اور آخر میں بہن نگہت صاحبہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر، سر جھکا کر، دوزانو ہو کر التجا ہے کہ فوری طور پر نعت شریف . . .
مدحت رسولِ پاک کی لکھنے کا یہ شرف
تم پر نسیم خاص عنایت رسول کی
کا باقی حصہ بھی ہمیں اپنی آنکھیں اور دل منور کرنے کو دیا جائے کہ
چشمِ ما روشن شود، و دلِ ما شاد
مناف بھائی آپ کا حکم میرے لیئے باعث عزت و افتخار ہے .. .. اللہ پاک آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو محبت کونین سے سرشار رکھے ..آمین ..
نعتِ سرورِ کونین
فخر انبیا،تاجدار مدینہ،ختم الرُسل، مولائے کُل،باعثِ خلق کائنات،آقائے دو جہاں کے نام کہ جنہوں نے میرے قلم کو اپنا اسمِ پاک لکھنے کی اجازت بخشی اور مجھے اذنِ کلام دیا۔
اللہ کی عطا ہے محبت رسول کی
ورثہء انبیا ہے فضیلت رسول کی
۔۔۔
دیتا رہا جو جان کے دشمن کو بھی دعا
درکار پھر ہے آج وہ سیرت رسول کی
۔۔۔
عشقِ رسول عشقِ خدا کا ہے آئینہ
دیکھا خدا کو دیکھ لی صورت رسول کی
۔۔۔
انکار اہلبیتِ نبوت سے الاماں
دعوت یہ کارِ شر ہے عداوت رسول کی
۔۔۔
یاسین کا وجود محمد کا ہے وجود
تطہیر کا مزاج طہارت رسول کی
۔۔۔
خوشبو نبیء پاک کی ہر لفظ لفظ میں
قرآن کر رہا ہے تلاوت رسول کی
۔۔۔
اپنے عمل کو زینتِ کردار کرنا ہے
گر چاہتے ہو تم بھی شفاعت رسول کی
۔۔۔
کس سے بیاں ہوں رحمتِ کُل کی فضیلتیں
قرآں کا حرف حرف فضیلت رسول کی
۔۔۔
مدحت رسولِ پاک کی لکھنے کا یہ شرف
تم پر نسیم خاص عنایت رسول کی
سب سے پہلے تو اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے منظور قاضی صاحب کے کچھ سوالوں کے جواب دینا چاہتی تھی۔
لیکن اب لکھنے بیٹھی ہوں تواپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنا بالکل ہی بے معنی لگ رہا ہے
کیونکہ ایک ادیب یا شاعر کا اصل تعارف تو اس کی تخلیقات ہی ہوتی ہیں،ورنہ تو وہ بھی ایک انتہائی عام انسان ہوتا ہے،
میں ایک انتہائی گمنام،دنیاوی دوستیوں اور تعالقات سے تھی دست انسان ہوں
اورسالہا سال سے تنہائی اور گوشہ نشینی کی زندگی گزاررہی ہوں اور اس پر خوش اور راضی ہوں۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
ہم سا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہو گا
گم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا
محترم صفدر ہمدانی صاحب نے اس گوشہِ عافیت سے نکال کراپنے عالمی اخبار کی طرف کھینچ لیا
ان کے بے پناہ خلوص کے سامنے مجھے انکار کی مجال نہ ہوئی ۔اور پھر آپ سب کی
دوستی اور خلوص نے مجھے یہاں سے جانے نہ دیا۔یہاں میں نےڈاکٹر نگہت اور شاھین رضوی جیسےمحبت کرنے والے دوست پائے۔
منظور قاضی صاحب جیسے بے لوث خدمت کرنے والےانسان کو جانا اور بہت حیرت ہوئی
کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
صفدر ہمدانی صاحب کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہوں گی کیونکہ وہاں پہنچ کر الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں
اپنے بارے میں زیادہ کیا کہوں سوائے اسکے کہ
بند ہوں گھر میں اسیرِ گردشِ حالات ہوں
دور اہلِ علم سے ہوں ایک عورت ذات ہوں
میری سکھیاں، میری ہم جولی کتابیں ہیں مری
روز و شب عرشی انہیں سکھیوں میں رہتی ہوں گھری
میں نے پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں ایم اے کیا تھا۔کچھ عرصہ ایک صحافی کے طور پر کام بھی کیا
لیکن شادی کے بعد چھوڑ دیا۔اللہ کے فضل سے دو بیٹیوں کی ماں ہوں۔
میرے شوہر
راحت نسیم ملک ایک سنجیدہ نقاد،منجھے ہوئے شاعر اور ٹی وی کے ڈرامہ نگار رہے ہیں
سروس کے لحاظ سے وہ ریجنل کمشنر انکم ٹیکس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
اب انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا ہوا ہے لیکن نمونے کے طور پر ان کی ایک بہت پرانی غزل کے چند اشعار پیش کرتی ہوں
رت جگوں کے شہر میں پیارے مہِ کامل نہ بن
نیند کو ترسی ہوئی آنکھوں سے ڈر پاگل نہ بن
میں وہ دریا ہوں کہ خود اپنے کنارے چاٹ لوں
دیکھ میں طوفاں میں ہوں میرے لئے ساحل نہ بن
تو نے کن کانٹوں پہ آ کر اپنا آنچل رکھ دیا
میں ترے قابل نہیں ہوں تو مرے قابل نہ بن
دیو داسی مان جا کہ دیوتا کوئی نہیں
اپنے پاوں روک لے ٹوٹی ہوئی پائل نہ بن
ہاں اس عاجز کی مادری زبان پنجابی ہے لیکن اردو بولنا،پڑھنا اور لکھنا آسان لگتا ہے
اور مجھ کم علم نے انگریزی اور فارسی کے شعرا کو بالکل نہیں پڑھا،تھوڑا بہت اردو شعرا کو پڑھا ہے
منظور قاضی صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری کافی طویل نعت کو یونی کورڈ میں کنورٹ کیا
جزا کم اللہ و احسن الجزا
عجب اتفاق ہے کہ اسوقت تیرہ فروری دو ہزار دس کو جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو صفر المظفر کی 28تاریخ ہے اور اللہ کے پیارے حبیب نے بروز دوشنبہ ٢٨ صفر ١١ھ ترسٹھ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں رحلت فرمائی ۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص)نزع کی حالت میں تھوڑی دیر کے لئے بیہوش ہوئے تواسی وقت دروازہ کھٹکھٹایا گیا ۔
جناب فاطمہ نے پوچھا :کون ہے ؟
کہا گیا: مرد مسافر ہوں ، رسول خدا (ص)سے کچھ پوچھنے آیا ہوں ، بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت ہے ؟
فاطمہ نے فرمایا : واپس جاؤ ۔ خدا تمہیں بخشے اس وقت رسول خدا (ص)بیمار ہیں ۔ وہ مسافر واپس گیا ۔ تھوڑی دیر بعد پھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا اور بولا ۔ ایک مسافر ہے ۔ رسول خدا (ص)سے حاضری کی اجازت چاہتا ہے ۔ کیا مسافر کو حاضر ہونے کی اجازت ہے ؟
اسی وقت رسول خدا (ص)نے غش سے آنکھیں کھولیں اور فرمایا :پیاری فاطمہ! جانتی ہو یہ کون ہے ؟ یہ وہ ہے کہ جمیعتوں کو پراگندہ کرتا ہے، لذتوں کو برباد کرتا ہے ، یہ موت کا فرشتہ ( عزرائیل )ہے ۔ خدا کی قسم مجھ سے پہلے اس نے کسی سے اجازت نہیں لی ، میرے بعد بھی کسی سے اجازت نہیں لے گا، خدا کے نزدیک میرے وقیع مرتبے کی وجہ سے مجھ سے اجازت مانگ رہا ہے، اسے آنے کی اجازت دیدو۔
فاطمہ نے کہا : اندر آؤ ۔ خدا تمہیں بخشے ۔
عزرائیل مانند نسیم ،نرمی سے اندر داخل ہوئے اور کہا :
السلام علی اھل بیت رسول اللّہ ( رسول خدا (ص)کے اہلبیت پر سلام )
رسول (ص)نے فاطمہ کو تسلی دی
جابربن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے کہ فاطمہ رسول خدا (ص)کے سرہانے بیٹھی تھیں ۔ آپ نے تڑپ کر فرمایا :
و اکرباہ لکربک یا ابتاہ (ہائے واویلا آپ کی مصیبت پر اے بابا جان )
رسول خدا (ص)نے فاطمہ سے فرمایا :آج کے بعد پیغمبر کو کوئی رنج نہیں ہے ۔ اے فاطمہ !
شیخ مفید روایت کرتے ہیں کہ اس کے بعد رسول خدا (ص)کی بیماری سخت و شدید ہو گئی ، امیرالمومنین علی ابن ابی طالب آپ کے سرہانے تھے، آپ انتہائی نزدیک تھے جس وقت روح بدن سے مفارقت کر رہی تھی رسول خدا ۖنے علی سے فرمایا:میرا سر اپنی گود میں لے لو کیونکہ امر الٰہی پہونچ گیا، جب میری روح نکلے تو مجھے اپنے سے لپٹا لینا پھر مجھے قبلہ رو لٹا دینا اور غسل و کفن کے تمام کام تم خود انجام دینا ۔ لوگوں سے پہلے تم ہی میری نماز جنازہ پڑھنا ۔ جب تک مجھے دفن نہ کر لینا مجھ سے جدا نہ ہونا اور خدا سے مدد طلب کرنا ۔
حضرت علی نے آنحضرت ۖکا سر اپنے دامن میں لیا اسی وقت رسول خدا (ص)پھر بیہوش ہو گئے ۔ حضرت فاطمہ نے خود کو آنحضرت (ص)پرگرا دیا ، انہیں دیکھ کر نوحہ پڑھنے لگیں ۔اور حضرت ابو طالب کا یہ شعر پڑھنے لگیں :
و ابیض یستسقیٰ الغمام بوجھہ
ثمال ا لیتامیٰ عصمہ للارمل
( وہ سفید چہرے والے جن کی برکت سے لوگ طلب باراں کرتے ہیں، وہ یتیموں کی فریاد رس اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہیں )
رسول خدا (ص)نے آنکھیں کھولیں اور کمزور آواز میں فرمایا : پیاری بیٹی ! یہ تو تیرے چچا ابو طالب کا شعر ہے، اسے نہ پڑھو بلکہ یہ آیت پڑھو:
و ما محمد الّا رسول ۔۔۔۔علی اعقابکم ؟
محمد(ص)اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ رسول ہیں ۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گذرچکے ہیں ۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟
اس درمیان فاطمہ کا طویل گریہ شروع ہو گیا ۔ رسول خدا (ص)نے انہیں اشارہ سے پاس بلایا فاطمہ نزدیک آئیں تو رسول خدا (ص)نے آہستہ سے ان سے کوئی بات کہی جسے سن کر فاطمہ کا چہرہ کِھل اٹھا ۔ اسی وقت رسول (ص)کی روح قبض کر لی گئی۔ حدیثوں میں ہے کہ فاطمہ سے پوچھا گیا کہ رسول خدا (ص)نے آہستہ سے تم سے کیا کہا تھا جو تمہار خوشی کا باعث بنا ہے ؟
فرمایا: رسول خدا (ص)نے مجھے خبر دی کہ اہلبیت میں سب سے پہلے میں ان سے ملحق ہوں گی ، کچھ ہی زمانہ گذرے گا کہ بابا سے مل جاؤں گی ۔یہی خوش خبری میری خوشی کا باعث ہوئی ۔
شیخ صدوق نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جس وقت حسن و حسین روتے اور نالہ و فریاد کرتے گھر میں داخل ہوئے تو اپنے کو رسول خدا (ص)پر گرا دیا حضرت علی نے چاہا کہ انہیں آنحضرت (ص)سے الگ کریں کہ رسول خدا (ص)نے غش سے آنکھیں کھولیں اور فرمایا : اے علی چھوڑ دو میں انہیں سونگھ لوں اور یہ مجھے سونگھ لیں، میں ان کے دیدار سے توشہ فراہم کروں اور یہ میرے دیدار سے توشہ فراہم کریں، سن لو کہ یہ دونوں میرے بعد ظلم وستم برداشت کریں گے اور مظلومانہ قتل کئے جائیں گے ۔ اس کے بعد تین بار فرمایا : ان دونوں پر ظلم کرنے والوں پر خدا لعنت کرے ۔کچھ دیر بعد آپ کی روح بدن شریف سے پرواز کر گئی ۔ اس وقت علی نے فرمایا :
”اعظم اللّہ اجورکم فی نبیّکم ”
( خدا وند عالم تم کو تمہارے رسول ۖکے سوگ میں اجر عظیم عطا کرے )
خدا نے انہیں اپنے پاس بلالیا ،جیسے ہی علی نے فرمایا گھر والوں کی صدائے گریہ و نالہ و فریاد بلند ہو گئی ۔
فراق رسول (ص)میں علی و فاطمہ کا مرثیہ
رحلت پیغمبر (ص)تمام مسلمانوں خاص طور سے بنی ہاشم اور خصوصاً علی (۶) و زہرا کے لئے جانگداز اور جگر سوز تھی جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
علی نے یہ اشعار کہے :
”الموت لا والداً .”
موت نہ تو کسی پدر کو چھوڑتی ہے نہ کسی پسر کو اور یہ بات ہمیشہ ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا ۔
موت نے رسول خدا (ص)تک کو امت کے لئے نہ چھوڑا ،اگر خدا نے ان سے پہلے کسی کو ہمیشہ باقی رکھا ہوتا تو انہیں بھی باقی رکھتا ۔
ہم ناگزیر طور سے تیر موت کا نشانہ ہیں جو کبھی خطا نہیں کر سکتی، اگر کوئی موت کے تیر سے آج بچ رہاہے تو کل نہ بچے گا ۔
فراق پدر میں حضرت زہرا کا حزن و اندوہ بہت زیادہ تھا، وہ مرثیہ پڑھ کر اس قدر روتی تھیں کہ در و دیوار آنسو بہاتے تھے ۔
آپ کے بہت سے اشعار میں سے دو یہ ہیں ۔
”ماذا علیٰ من شمّ .”
جو شخص خاک مرقد رسول (ص)کو سونگھ لے اگر وہ طویل عرصے تک کوئی خوشبو نہ سونگھے تو کیا ؟ یعنی آخر عمر تک یہی خوشبو اس کے لئے کافی ہے دوسری کسی خوشبو کی ضرورت نہیں ۔
مجھ پر مصائب اس طرح انڈیل دیئے گئے کہ اگر وہ دنوں پر انڈیلے جاتے تو سیاہ راتوں میں بدل جاتے ۔
انس بن مالک کہتے ہیں رسول خدا (ص)کا جنازہ دفن کرنے کے بعد فاطمہ نے مجھے دیکھا اور غم انگیز انداز میں فرمایا:
” اے انس تمہارے دل نے کیسے قبول کیا کہ رسول (ص)کے چہرۂ نازنین پر مٹی ڈال دی ”۔ پھر روتے ہوئے فرمایا :
”ہائے بابا ۔ ہائے میرے بابا ۔ کہ دعوت حق قبول کی اور خدا نے اپنے پاس بلالیا ۔”
قبر رسول (ص)پر جناب زہرا نے یہ اشعار بھی پڑھے ۔
نفسی علیٰ زفراتھا .
بابا جان ! میری جان غم و اندوہ کی وجہ سے سینے میں گھٹ رہی ہے ، اے کاش وفور اندوہ سے نکل جاتی، بابا جان! آپ کے بعد تو زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ۔ میں اس خوف سے رو رہی ہوں کہ کہیں آپ کے بعد یہ زندگی طویل نہ ہو جائے ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ مرض الموت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔اس کے بعد آپ نے پھر سرگوشی کی تو آپ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا نے اپنی موت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جاملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔
ایک اور روایت میں یحیٰ بن جعدہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ سال میں صرف ایک مرتبہ قرآن مجھے دکھایا جاتا تھا۔ مگر اس دفعہ دو مرتبہ دکھایا گیا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ میری موت قریب ہے۔ میرے اہل میں سے تم مجھے سب سے پہلے آ کر ملو گی۔
یہ سن کر آپ غمگین ہوئیں تو رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم زنان اہلِ جنت کی سردار ہو؟ یہ سن کر آپ مسکرانے لگیں
آپ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات ایک عظیم سانحہ تھا۔ اس نے حضرت فاطمہ کی زندگی تبدیل کر دی۔ آپ شب و روز گریہ کیا کرتی تھی۔ اہلِ مدینہ ان کے رونے سے تنگ آئے تو حضرت علی نے ان کے لیے مدینہ سے کچھ فاصلے پر بندوبست کیا تاکہ وہ وہاں گریہ و زاری کیا کریں۔ اس جگہ کا نام بیت الحزن مشہور ہو گیا۔
اپنے والد کی وفات کے بعد آپ نے مرثیہ کہا جس کا ایک شعر کا ترجمہ ہے کہ ‘اے ابا جان آپ کے بعد مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑیں کہ اگر وہ دنوں پر پڑتیں تو وہ تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتے’۔
نگہت بہن ! ہماری فرمائش پوری کرنے کا شکریہ
عالمی اخبار کو اس احسن انداز سے چلانے کا شکریہ
اتنی ساری دُعائیں دینے کا شکریہ
اتنی خوب صورت نعت پڑھنے کا شرف دینے کا شکریہ
یوں تو اللہ کے حبیب(ص) کی شان میں کہی ہر نعت بلکہ کسی بھی نعت کا ایک ایک شعر بلاشبہ جنت کا ویزا ہے لیکن مکہ مدینہ میں بیٹھ کر نعت کہنی یقیناً آسان ہوگی بنسبت سِڈنی یا لندن کے، جگہ کا کچھ نہ کچھ اثر تو ہوگا ہی آپ کی مصروفیات پر، طرزِ زندگی پر، توجہات پر وغیرہ – ایک ہی جیسے کام کی مختلف حالات کے تحت قدر و قیمت یقیناً مختلف ہو گی، بہت خوبصورت اشعار ہیں
انکار اہلبیتِ نبوت سے الاماں
دعوت یہ کارِ شر ہے عداوت رسول کی
۔۔۔
یاسین کا وجود محمد کا ہے وجود
تطہیر کا مزاج طہارت رسول کی
۔۔۔
خوشبو نبیء پاک کی ہر لفظ لفظ میں
قرآن کر رہا ہے تلاوت رسول کی
ماشاء اللہ، ایک نعتیہ قطعہ پیش کرتا ہوں، شاعر ہیں سید اسد رضا رضوی جو پیرس میں مقیم ہیں فرماتے ہیں . . .
گو بہت ہی غریب ٹھہرا ہوں
پر بڑا خوش نصیب ٹھہرا ہوں
چاہتا ہوں حبیبِ خالق کو
میں خدا کا رقیب ٹھہرا ہوں
یہ اعزاز ہر نعت کہنے والے کا ہے، جو اللہ کے حبیب کا عاشق ہو اس کے نصیبوں کا کیا ہی کہنا –
عرشی بہن ! میری طرف سے اپنے شوہرِ نامدار کی خدمت میں خراجِ تحسین پیش کر دیجیے
تو نے کن کانٹوں پہ آ کر اپنا آنچل رکھ دیا
میں ترے قابل نہیں ہوں تو مرے قابل نہ بن
اوہ میرے خدا ۔۔۔ میں نے پہلی بار خاتون جنت بنت رسول حضرت فاطمہ سلام اللہ کا عطا کیا ہوامرثیہ پڑھ رہی ہوں ۔۔
“بابا جان ! میری جان غم و اندوہ کی وجہ سے سینے میں گھٹ رہی ہے ، اے کاش وفور اندوہ سے نکل جاتی، بابا جان! آپ کے بعد تو زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ۔ میں اس خوف سے رو رہی ہوں کہ کہیں آپ کے بعد یہ زندگی طویل نہ ہو جائے ۔
میں پڑھ پڑھ کر رو رہی ہوں ۔۔اور بابا آپ کےلیئے صرف دعائیں کر رہی ہوں کہ آپ کتنی محنت سے ہماری آخرت سنوار رہے ہیں ۔۔ اللہ پاک آپ کی اس محبت کو اپنے حبیب اور اہل حبیب (ص) کے صدقے قبول فرمائے ، عمر میں برکت عطا کرے اور دین دنیا کا سکھ عطا کرے ۔۔آمین
مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم پہلے سورہ شعراء کی آخری چار آیات کو درست طریقے سے سمجھنے کی کوشش کر لیں۔
سب سے پہلے یہ کہ ان تینوں آیات میں فعل مضارع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے لیے ہے۔ یعنی اگر فعل کا مطلب کام ہے۔ اور تفعلون (فعل مضارع)کہوں تو میرا مطلب ہے کہ میں کام اب بھی کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔
اب اس قانون کو ذہن میں رکھتے ہوئے آیت کا ترجمہ ہم یوں پڑھیں گے۔
“شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں،اورکریں گے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ یقینناً وہ سب، ہر وادی میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں،پھرتے رہیں گے۔ اور یقینناً وہ سب، ایسی باتیں کہتے ہیں اور کہیں گے، جن پر وہ عمل نہیں کرتے اور نہ کبھی کریں گے۔“
لفظوں کے استعمال سے قطع نظر مفہوم کم و بیش یہی رہے گا۔ اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ آیت کسی ایک قسم کے شاعروں کے لیے نہیں بلکہ سب کی برائیاں بیان کر رہی ہے۔
ایک وقت میں میں خود شاعر رہا ہوں۔ اور میری شاعری اردو انگریزی اور پنجابی زبان میں اپنے کالج کے سالانہ میگزین میں چھپتی رہی ہے۔ اسلیے میں از خود شاعری کے بہت سے رموزواوقاف کو بخوبی سمجھتا ہوں۔
جہاں تک صحابہ کا تعلق ہے۔ باقی تو اس آیت کے اترنے سے پہلے شاعری کیا کرتے تھے۔ اور حضرت حسان بن ثابت (رض) کو خود رسول اللہ (ص) نے اجازت دی اور فرمایا کہ آپ کو اجازت ہے۔ ان کے علاوہ شاعری کے حوالے سے سب سے اہم صحابی حضرت لبید (رض) تھے۔ جو سبع معلقہ کے آخری شاعر تھے جن کو زمانہ جاہلیت میں ان کے کلام کی عظمت کے اعطراف میں سجدہ کیا گیا۔ لیکن انہوں نے قبول اسلام کے بعد شاعری ترک کر دی اور بخاری کی حدیث کے مطابق جب حضرت عمر (رض) نے اسلام کے حق میں شاعری کرنے کو کہا تو حضرت لبید(رض) جواب دیا کہ قرآن کہ ہوتے ہوئے کس کی جرات ہے کہ اپنا کلام پیش کرے۔
آیت اور حدیث پیش کرنا میرا فرض تھا سو میں نے ادا کیا اب ہدایت دینا اللہ پر ہے۔ جسے چاہے عطا کردے۔ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو قرآن اور حدیث کی درست سمجھ اور اس پر درست عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!!
وسلام
جناب یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ سچ اور حقیقت شائع کرنے کی بجائے آپ اپنی مرضی اور سوچ کے مطابق دلیل شائع کرتے ہیں۔ خواہ آپ کی سوچ اللہ اور اُس کے رسول کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ نے اپنی ذات کو اللہ اور اس کے رسول سے بہتر سمجھہ! اگر آپ کی سوچ ایسی ہی رہی تو معافی چاہتے ہوئے عرض کر رہا ہوں کہ سچائی رفتا رفتا عنقا ہو جائے گی۔
اللہ ہم سب کر درست راہ کی ہدایت فرمائے آمین!!
قبلہ ہمدانی صاحب سلام مسنون۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ اس اتنی اعلیٰ تحریر کو ایک مضمون کی شکل میں الگ سے لگا دیں تا کہ مستقل حوالہ بن کر رہ سکے۔ اجرکم اللہ احسن الجزاء۔
میرے قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ میں اوپر کے تمام تبصروں کی عظمت اور اہمیت کے متعلق وہ کچھ لکھ سکے ۔
صرف اللہ اور اس کے رسول (صلعم) کی عنایت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھ کم علم کو اتنا بڑا اعزاز عطا کیا کہ میں نعت جیسے مقدس موضوع پر بلاگ عالمی اخبار کی انتظامیہ کی مہربانی اور محبت کی وجہ سے ،پیش کرسکا ۔
آج عرشی صاحبہ نے مجھ پر مہربانی فرما کر اپنی سولہ بند پر مشتمل انتہائی مرصع اور دل پر اثر کرنے والی نعت ان پیج میں بھجوائی ہے ، جسے میں یونی کوڈ میں منتقل کرونگا ( انشااللہ ) ۔
فی الوقت میں میں اپنے نعتیہ بلاگ کی لنک پیش کررہا ہوں جسے میں میں نے گذشتہ رمضان شریف کے دوران عالمی اخبار میں پیش کیا تھا ۔
یہی بلاگ ہیں میرے پاس ، ان کے علاوہ میری عاقبت کو سنوارنے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے :
http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=694#comments
ربیع الاول کی مناسبت سے یہ بلاگ بھی قابلِ مطالعہ ہے ۔
۔۔۔۔
فقط :
منظور قاضی
جرمنی کے ایک گاوں سے
میرے اوپر کے تبصرے کے پہلے جملے میں “ میں “ کا لفظ حذف کرکے پڑھییے ۔
کمہوزنگ کی باقی تمام کوتاہیو ں کی معافی چاہتا ہوں ۔
یہ بھی عجیب صورت حال ہے کہ جب کوئی شخص خود دو چار حرف پڑھ سن کر علامہ و فہامہ بن جاتا ہے اور سب کو درس اس طرح جھاڑ پھنکار کر پلاتا ہے کہ الحفیظ و الامان۔ کسی کو بے دین اور ہدایت سے دور ثابت کرنے کی سعی میں ہر الٹی سیدھی قلابازی لگا دیتا ہے اور اس مخمصے کو سمجھ ہی نہیں پاتا کہ خود صم بکم عم کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔
یہ مصیبت سب سے بھاری ہماری ملت کے ملاؤں کو در پیش ہے جن کی پہنچ سے سوائے ملاء الاعلیٰ کے کوئی جگہ پاک نہیں۔ ملاء الاعلیٰ بھی انکی پہنچ سے یوں بچ گئی کہ اللہ کریم نے قرآن حکیم میں سورہ صفات میں فرمایا ہے کہ انَّا زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِزِينَت الْكَوَاكِبِ٠ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ٠ لَا يَسَّمَّعُونَ الَى الْمَلَا الْاعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ٠ دُحُورًا وَلَھُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ٠ الَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَت فَاتْبَعَہ شِھابٌ ثَاقِبٌ ( آیت ٦ تا ١٠) کہ شیاطین جب آسمان کی رفعتوں سے کنسوئی لینے جاتے ہیں تو شہاب ثاقب کا شعلہ انہیں وہاں سے بھگا نکالتا ہے۔
اب جو بچ جاتے ہیں، وہ اس دھرتی پر آن کر امت محمدی (ص) کے مابین شر انگیزی و انتشار بازی کا فریضہ انجام دینے لگتے ہیں، کہ اولیائے طاغوت کا کام یہی ہے۔
قرآن تنہا کسی پر اپنے معانی نہیں کھولتا جب تک استاد ایسا نہ ملا ہو جو قرآن کو اسکے مزاج کے مطابق سمجھتا ہو۔ بعض حضرات قرآن کی ایک آیت کو لیکر بھاگ پڑتے ہیں اور نہ اسکے سیاق و سباق کو سمجھتے ہیں، نہ اسکے مزاج کو۔ قرآن کو رسول اللہ کی تفسیر کے بناء سمجھنا محض نادانی اور امت کے مابین تفریق کے سبب کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کہیں کوئی نیم ملا لا تقربوا الصلوات پڑھ کر بھاگ پڑے تو زندگی بھر نماز نہیں پڑھے گا، جب تک کہ اگلی آیت نہ سمجھ لے۔ اسی طرح کی ایک فارسی حکایت قاضی منصور موسیٰ نامی کردار سے منصوب ہے جنہوں نے مسجد میں کتا باندھ رکھا تھا۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضور یہ کیا کہ محراب مسجد میں ایسی پلید شئے، تو فرمایا کہ سنا نہیں کہ لا صلوات الا بحضور القلب۔ لوگوں نے عرض کی کہ سرکار یہ کتے والا کلب، کاف ِ کشش سے ہوتا ہے اور حدیث میں تو قافِ قرآنی کا استعمال ہوا ہے جس سے مراد دل ہے۔ اب بھلا ملا سے کوئی کیسی بحث کرے، فرمانے لگے کہ بھئی حضور نے کون سی حدیث لکھ کر دی تھی، زبانی کہی تھی، جس کو جو سمجھ آئی وہی مان لیا۔
الغرض کہ جب ملا بگڑ جائے اور کسی بات پر اٹک جائے تو اسکو مضارع و ماضی کی گرادنیں یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں، حالانکہ قرآن گواہ ہے کہ ساری گردانیں رٹ رٹ کر نبی کریم (ص) کی بزم میں بیٹھ کر بھی انکی بات جن کو سمجھ نہیں آنا ہوتی تھی، وہ ماذا قال کہ کر بزم سے اٹھا کرتے تھے( سور محمد آیت ١٦)۔ وَمِنْھم مَّن يَسْتَمِعُ الَيْكَ حَتَّى اِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ اُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا اوْلَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّہُ عَلَى قُلُوبِھمْ وَاتَّبَعُوا اھوَاءھمْ ۔ لیکن یہی آیت کہتی ہے کہ ان دلوں پر اللہ نے تالے لگا چھوڑے ہیں تو وہ کیا سمجھیں گے کہ قرآن کیا ہے۔ قرآن خود کہتا ہوا ملتا ہے کہ
ھوَ الَّذِيَ انزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ھُنَّ امُّ الْكِتَابِ وَاُخَرُ مُتَشَابِھاتٌ فَاَمَّا الَّذِينَ في قُلُوبِھمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہُ ابْتِغَاء الْفِتْنَت وَابْتِغَاء تَاوِيلِہ وَمَا يَعْلَمُ تَاوِيلَہ الاَّ اللّہ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِہ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلاَّ اوْلُواْ الالْبَابِ ( آل عمران آیت ٧) کہ قرآن میں واضح اور متشابہ، ہر طرح کے احکامات موجود ہیں، لیکن جن کے دل ٹیڑھے ہیں، وہ متشابہات کو پکڑ کر فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں حالانکہ متشابہات کی تاویل اللہ اور راسخون فی العلم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
ہدایت کوئی عام نعمت نہیں ہے اور اگر کسی کو مفاہیم قرآنی سمجھ میں آنے لگ جائیں تو شکر ایزدی بجا لانا چاہئے کہ قرآن ہی کی دی ہوئی امثال سے اہل کفر و فسق الٹا گمراہ ہوجاتے ہیں، ملاحظہ ہو انَّ اللَّہ لاَ يَسْتَحْيِي ان يَضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَت فَمَا فَوْقَھا فَامَّا الَّذِينَ آمَنُواْ فَيَعْلَمُونَ انَّہالْحَقُّ مِن رَّبِّہمْ وَامَّا الَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَا ارَادَ اللَّہ بِھـذَا مَثَلاً يُضِلُّ بِہ كَثِيراً وَيَھدِي بِہ كَثِيراً وَمَا يُضِلُّ بِہ الاَّ الْفَاسِقِينَ٠ (البقرہ آیت ٢٦)۔ اب ہم آتے ہیں قرآن کے آسان ترین طریقہ کار کی طرف کہ اس سے ہمیں ہر محکم و متشابہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ قرآن نے ایک اصول دے دیا ہے کہ
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہوَمَا نَھاكُمْ عَنْہ فَانتَہُوا وَاتَّقُوا اللّہ اِنَّ اللَّہ شَدِيدُ الْعِقَابِ ( سورہ حشر آیت٧)
کہ جو رسول دے دیں، وہ وصول کر لو اور جس سے روک دیں اسے ترک کردو۔ اب یہی معاملہ شاعری اور سورہ شعراء میں موجود شاعروں کی مذمت کے متعلق بھی ہے۔ قرآن نے جن شعراء کی مذمت کی ہے، اس میں ان کو سمجھنے میں کوئی مشکل بھی نہیں کیونکہ عہد جاہلیت کے شعراء جس فصاحت و بلاغت کے ساتھ غلاظت پھیلا رہے تھے، وہ سب کو معلوم ہے۔ جنگ، خونریزی، عشق و محبت اور انا نیت کے مضامین باندھ باندھ کر نسلوں کی نسلیں برباد کی جا رہی تھیں۔ لیکن شاعری بذات خود قرآن نے رد بھی نہیں کی۔ وہ شعراء جن کا تذکرہ اوپر قبلہ ہمدانی صاحب نے کیا ہے، ان کے اسماء گرامی دہرائے دیتا ہوں؛
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
* اسود بن سریع رضی اللہ عنہ
* عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
* عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ
* عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ
* کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ
* نابغہ جعدی رضی اللہ عنہ۔
یہ سب وہ صحابہ ہیں جن کو قول و فعل رسول کا بخوبی علم تھا اور آنحضور کی بارگاہ میں شاعری پیش کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہمارے نزدیک سب سے بڑی سند خود امیر المؤمنین امام علی ابن ابیطالب علیھما السلام کا منظوم کلام ہے جو آج بھی ان کے دیوان کی صورت میں موجود ہے۔
اب اگر آج کسی کو سورہ شعراء کی آیات نظر آگئی ہیں اور وہ شاعری کی رموز و اوقاف سے واقف ہو کر شاعری کے خلاف ہو گیا ہے تو اسکو ہم سند کیونکر مان لیں کہ ہمارے سامنے اسکی سیرت موجود ہے جسے قرآن کہتا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّہ اُسْوَت حَسَنَہ ( الاحزاب آیت ٢١) کہ تمہارے لئے بہترین نمونہ عمل رسول اللہ کی ذات میں ہے۔ اب رسول اللہ کا عمل تو مندرجہ بالا شعراء کی تکریم کرتا ہوا نظر آتا ہے اور آج کا نیم ملا شاعری کے خلاف صف بستہ نظر آتا ہے۔ ہم کس کی مانیں؟ کیا خدانخواستہ رسول اللہ کی نص کے خلاف کسی اور کا فیصلہ محترم جان لیں۔ حاشاء و للہ ایسا ممکن ہے اور نہیں ہوگا۔
اب ہم آتے ہیں سورہ شعراء کی آخری آیات کی طرف جنکا بار بار حوالہ دیا جارہا ہے۔ ملاحظہ ہوں
ھلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ (آیت ٢٢١)
کیا آپ کو ان کی خبر دیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں
تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ افَّاكٍ اثِيمٍ (٢٢١)
ہر اس گناہ گار پر نازل ہوتے ہیں جو خود کو دھوکہ دیتا ہے
يُلْقُونَ السَّمْعَ وَاكْثَرُھمْ كَاذِبُونَ (٢٢٣)
جو سنی سنائی بات پر چلتے ہیں اور انکی اکثریت جھوٹی ہوتی ہے۔
وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُھمُ الْغَاوُونَ (٢٢٤)
اور شعراء کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں
لَمْ تَرَ انّھمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَھيمُونَ (٢٢٥)
کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ وہ ہر وادی میں چلا کرتے ہیں
وَانَّھمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (٢٢٦)
اور وہ ایسی بات کرتے ہیں جو وہ کرتے نہیں ہیں۔
اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّہ كَثِيرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا ايَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ (٢٢٧۔۔۔آخری آیت)
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک عمل کرتے رہے، اور اللہ کا ذکر کرتے رہے اور جو ان پر ظلم ہوا اسکا بدلہ لیا انہوں نے، اور ان لوگوں کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا جنہوں نے ظلم کیا کہ وہ کس انجام سے دو چار ہوتے ہیں۔
اب خدا گواہ ہے اور آپ سب قرآن اٹھا کر دیکھ لیں کہ اس آخری آیت میں لفظ اِلا سے مراد کیا ہے۔۔۔۔۔اگر یہ الا یہاں نہ ہوتی تو یہ مضمون پچھلی آیت سے متواتر نہ رہتا، لیکن خدائے وحدہ لاشریک نے الا لگا کر بتا دیا کہ بات اب بھی شاعروں کی ہی ہو رہی ہے، لیکن وہ جو پہلی صفات سے الگ ہیں، انکے خصائص یہ ہیں۔ یہ بات میں اردو میں کروں تو سیدھی سیدھی یہی ہے کہ رہے شاعر تو انکی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں، کہ وہ تو ہر وادی میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔۔۔الخ۔ گویا ایک طبقہ ء شعراء ایسا بھی ہے جن کے لئے سوائے کہنا پڑتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کہا جائے یہاں سب شاعر ہیں سوائے میرے، تو میرے ساتھ سوائے کا لفظ مجھے باقی گروہ سے جدا کر دیتا ہے۔
ہر شاعر اور ہر قسم کی شاعری کی مذمت، عمل رسول کی مخالفت ہے۔ اگر کسی نے شاعری کو یہ کہ کر رد اکیا کہ قرآن کے ہوتے ہوئے شاعری کی کیا ضرورت تو یہ خود قرآن کی توہین ہے، کیونکہ قرآن شاعری نہیں ہے اور شاید کہنے والے نے اس کو شاعری سمجھ لیا تھا۔
موقع ملا تو اس مضوع پر مزید بھی کچھ لکھوں گا، انشاء اللہ۔ فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔
From: Arshi Malik
To: Manzoor Quazi
Sent: Saturday, February 13, 2010 11:39 AM
Subject: مرے نبیؐ میں کمال سارے، جمال سارے جلال سارے
میں عرشی صاحبہ کی تازہ نعت پیش کرنے سے پہلے انکی یہ تحریر یہاں پیش کررہا ہوں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم منظور قاضی صاحب
السلام علیکم
آپ کا شروع کردہ یہ بلاگ بڑا بابرکت ہے کہ اس میں نعتیں شائع کی جا رہی ہیں۔اورادھر ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔
امید ہے کہ ہمیں انشا اللہ اس مرتبہ بہت سی نعتیں پڑھنے کو ملیں گی۔
اور سورت شعرا کی آخری آیات پر اہلِ علم کی بات چیت بھی ہمارے علم کو بڑھانے کا موجب بنے گی
ایک اور نعت آپ کی خدمت میں ارسال ہے
والسلام
عرشی ملک
۔۔۔۔۔۔۔۔
ا س نعت کا پہلا شعر ہے :
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے ، جمال سارے ، جلال سارے
ہیں ذاتِ اقدس کے جتنے پہلو خدا گواہ بے مثال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نعت کے پہلے بند کے دوسرے مصرعہ میں لفظ “ نہ “ دو مرتبہ لکھا گیا ہے ۔ اس طرح :
تو جب تک نہ آیا نہ بن کے دھڑکن جہاں کی نبضیں رُکی ہوئی تھیں ۔
یا تو یوں ہوگا کہ :
تو جب تک نہ آیا بن کے دھڑکن ، جہاں کی نبضیں رُکی ہوئی تھیں
یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ :
تو جب تک آیا نہ بن کے دھڑکن ، جہاں کی نبضیں رُکی ہوئی تھیں
۔۔۔
عرشی صاحبہ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا انکے اس مصرعہ کو جوں کا توں یوں لکھدوں کہ ؟ :
تُو جب تک نہ آیا نہ بن کے دھڑکن ، جہاں کے نبضیں رُکی ہوئی تھیں
۔۔۔۔
عرشی صاحبہ کا حکم چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔
اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے :
خراج دینے کو تیرے در پر تمام صدیاں جھکی ہوئی تھیں
اس کا تیسرا مصرعہ ہے :
تھے تیرے چوکھٹ پہ سر خمیدہ نبی بھی ہوکر نہال سارے
اور چوتھا مصرعہ :
مرے نبی (ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچویں بند کا دوسرا مصرعہ بھی توجہ چاہتا ہے ۔
پندھرویں بند میں “ میکدہ “ کا لفظ شاید ملاوں کی طبیعت پر گراں گذرے ۔ ( کیا خیال ہے ؟ )
عرشی صاحبہ کے عنایت نامے کا انتظار ہے :
فقط۔
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
برادر عزیز مصباح۔ جزاک اللہ۔ علم تو ہے ہی اللہ کی عطا اور باب شہر علم کے خوشہ چین دلیل کے بغیر بات نہیں کرتے۔ مولا آپکو اپنی رحمت کے سائے میں رکھیں۔ بات بس اتنی سی ہے کہ مکرمی تبصرہ نگار احسن صاحب نے نہ جانے یہ کیسے خود ہی طے کر لیا کہ سارے شاعر ہی ایمان والے نہیں ہے اور نیک اعمال نہیں کرتے۔ کبھی وقت ملا اور سینکڑوں نہیں بلکہ صرف ایک مدح خوان رسول عربی سنی العقیدہ مرحوم و مغفور حفیظ تائب کے زندگی کے چند واقعات ہی لکھے تو بڑے بڑے عالمان بے عمل کے پول کھل جائیں گے۔ احسن صاحب نے خود شاعری چھوڑ کر اچھا کیا ہے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ آپ اسم پروردگار،اسم محمد اور اسم اہلبیت کو انکی اجازت کے بغیر نہیں لکھ سکتے۔ شاعری کی قطعی قرآن میں ممانعت نہیں ہے اور اگر ایسا ہوتا تو اہل سنت کے احمد رضا خان بریلوی جیسے کتنے ہی جید علما دین کیسے شاعری کرتے رہتے یا پھر اہل تشیع میں قبلہ مرحوم جوادی، علامہ رشید ترابی، نصیر الاجتہادی اور اس عہد میں علم قرآن کی سب سے بڑی شخصیت علامہ طالب جوہری کیسے شعر کہتے۔ میرا خیال ہے کہ علامہ طالب جوہری احسن صاحب سے تو بہت زیادہ قرآن سمجھتے اور جانتے ہیں۔یہ میرے سامنے انکی غزلوں کا پہلا مجموعہ رکھا ہوا ہے ”حرف نمو” اور اب تو دوسرا بھی آ گیا ہے۔لیجئے طالب جوہری کی غزل کا ایک شعر سن لیجئے
بیچ کے اپنے شعرو و ہنر کو حرمتِ حرف سے کھیل رہے ہو
طالب تم بے نام و نشاں تھے ابجد کی امداد سے پہلے
ذرا مفسر قرآن علامہ طالب جوہری کے اس شعر کا لطف بھی لیجئے
رات بھری محفل میں طالب ایک ہی دکھ تھا دونوں کا
اسکو اپنے گھر جانا تھا مجھکو اپنے گھر جانا
قارئین محترم خیال رہے کہ یہ نعت یا حمد کے اشعار نہیں بلکہ غزل کے شعر ہیں اور اس شخص نے لکھے ہیں جو علم قرآن کو سینے میں لیئے ہوئے ہے۔ اب احسن صاحب چاہیں تو ان پر فتویٰ صادر کر دیں
اس کے پہلے کہ میرا کمپیوٹر بالکل ہی جواب دے دے اور بار بار رک کر میری محنت کو رائگاں نہ کرد یا کرےتو ، میں عرشی صاحبہ کی اس انتہائی موثر نعت کو جوں کا توں پیش کررہا ہوں:
۔۔۔۔۔
نعت (ص) :
از : ارشاد عرشی ملک : اسلام آباد پاکستان
arshimalik50@hotmail.com
عنوان :
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے
جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔
مرے نبی (ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
ہیں ذاتِ اقدس کے جتنے پہلو خدا گواہ بے مثال سارے
۔۔۔۔
خراج دینے کو تیرے در پر تمام صدیاں جھکی ہوئی تھیں
تُو جب تک نہ آیا نہ بن کے دھڑکن جہاں کی نبضیں رُ کی ہوئی تھیں
تھے تیرے چوکھٹ پہ سر خمیدہ نبی بھی ہو کر نہال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلا ل سارے
۔۔۔۔۔
بڑی ا نوکھی ہے شان تیری تری وجاہت ہے تا قیامت
غلام تیرے سبھی زمانے تری حکومت ہے تا قیامت
ہیں تیرے قدموں کی ٹھوکروں میں عروج سارے زوال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو نکتہءِ انتہا بشر کا یہی ہے قرآن کی گواہی
تو کس جگہ ہے کہاں کھڑا ہے ، نہیں ہے سوچوں کی بھی رسائی
سو میرے ہونٹوں پہ منجمد ہیں جواب سارے سوال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔
محبتوں کا سفیر ہے تُو ، صلح کا پہلا پیامبر ہے
بہت سے صدمات تونے جھیلے مگر یہ صدمہ عظیم تر ہے
کہ تیری اُمت جو کررہی ہے جہاں میں جنگ و قتال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔
ہے ذکر تیرا مدام جاری ، یہ ذکر کب دل کو چھوڑتا ہے
تری محبت مرے لہو کی صورت ، تُو میری نس نس میں دوڑتا ہے
کشش میں تیری ہوئے مقیّد ، اب اپنے خواب و خیال سارے
مرے نبی (ص) میں کمال سارے، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔۔
تجھی سے سیکھا ہے میرے دل نے خوشی غمی کا ہراک قرینہ
جڑا ہوا ہے تو میرے اندر کہ جوں انگوٹھی میں ہو نگینہ
تجھی سے منسوب اپنی خوشیاں، ترے ہی غم میں ملال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
۔۔۔۔۔۔
تری غلامی پہ ہم ہیں نازاں ، یہ بُت اناوں کے توڑتی ہے
ہماری غفلت کے زرد لمحوں میں یہ دلوں کو جھنجھوڑتی ہے
جہانِ فانی کی لذتوں کے یہ کاٹ دیتی ہے جال سارے
مرے نبی (ص) میں کمال سارے ، جمال سارے، جلال سارے
۔۔۔۔۔
عرب ہو فارس ہو یا کہ حبشہ ، وہ الجزائر ہو یا کہ غانا
ہر اک کے باسی کی ایک حسرت کہ کاش پاتا ترا زمانہ
تری ہی خوشبو کو ڈھونڈتے ہیں زبیر( رض) سارے بلال( رض) سارے
مرے نبی (ص) میں کمال سارے ، جمال سارے، جلا ل سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبتوں کا تو سائباں ہے تو ہر کسی کے لیے اماں ہے
جو تیرے جھنڈرے تلے نہ آئے ، وہ آپ اپنے لیے زیا ں ہے
نوازشوں سے تری وگرنہ پرائے اپنے نہال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے، جمال سارے، جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فصیل نفرت کی اور دوری کی ہم گراتے ہوئے چلیں گے
کوئی جو کانٹے بھی رہ میں بوئے ، گلاب اگاتے ہوئے چلیں گے
و کام ہی کریں گے جن کو سمجھ رہے ہیں محال سارے
مرے نبی ( ص) میں کما ل سارے ، جمال سارے، جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ہلِ مغرب پہ تیری عظمت کھلے گی اور لازماً کھلے گی
جو گرد نفرت کی جم چکی ہے ہمارے اشکوں سے جب دھلے گی
تو تیری چوکھٹ پہ آ گریں گے یہ پوپ سارے، یہ پال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے ، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔۔۔
توایسا عشقِ خدا میں گُم تھا جچا نہ کوئی تری نظر میں
جہانِ فانی کی ساری دولت حقیر ٹھہری تھی چشمِ تر میں
تھے تیرے آگے مثالِ کنکر زر و جواہر کہ لعل ، سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے ، جمال سارے، جلال سارے
۔۔۔۔۔
نہ تجھ سے پہلے نہ بعد تیرے کسی کو عظمت ملی ہے ایسی
نہ تیری رفعت کو کوئی پہنچا ، تجھے نبوّت ملی ہے ایسی
کہ لاسکیں گے ملائکہ بھی نہ تیرے جیسی مثال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے ، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔۔
لبھا نہ پائی تجھے یہ دنیا فخر تھا تیرا سبھی فقر میں
کچھ ایسے کاٹی حیات ساری کہ جوں مسافر کوئی سفر میں
رہِ غنا کے جو پیچ و خم تھے دئیے ہیں تو نے اُجال سارے
مرے نبی (ص) میں کمال سارے ، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔
خدا سے ملنے کا اب تو عرشی فقط محمد( ص) ہی راستہ ہے
یہ جگ محمد (ص) کا میکدہ ہے اسی کے دم سے سجا ہوا ہے
ہے نام اس کا ہی اسمِ اعظم کھلیں گے دارالوصال سارے
مرے نبی (ص) میں کمال سارے، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔۔
کہوں جو پیارے نبی (ص) کی باتیں تو مجھ کو کہنے دو تم نہ ٹوکو
میں یاد کرکے جو اُن کو رووں تو مجھ کو رونے دو تم نہ روکو
اُمڈ ک آئے جو میرے آنسو تو کم پڑیں گے رومال سارے
مرے نبی(ص) میں کمال سارے ، جمال سارے ، جلال سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاتب کے الفاظ:
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھےعرشی صاحبہ کا نعتیہ کلام عالمی اخبار میں پیش کرنے کی سعادت عطا کی ۔
عرشی صاحبہ سے عرض ہے کہ وہ اس نعت کی کمپوزنگ پر نظرِ ثانی کرکے میری کوتاہیوں کی نشاندہی اور تصحیح کردیں۔ شکریہ
فقط:
ایک فرش نشیں
منظور قاضی
از جرمنی
آخری بند میں : امڈ کے آئے : پڑھیے شکریہ
عرشی صاحبہ نے ہم سب کو اپنے بارے میں بہت کچھ بتا دیا ا ور اس طرح وہ ہمارے قریب تر آگئیں۔ انہوں نے اپنےآپ کو اہلِ علم سے دور رکھکر علم کے ساتھ زیادتی کی۔ اب جب کہ وہ دنیائے لوح و قلم میں پھر سے آگئی ہیں تو ضرور اپنے علم کا چراغ جلاتی ر ہیں اور اس دنیا کو منور کرتی رہیں ۔
انکے شریکِ حیات جناب راحت نسیم ملک کے بارے میں یہ معلوم کرکے انتہائی خوشی ہوئی کہ وہ بھی اہل علم ہیں اور شاعری بھی ہیں۔
( شاعر تو ہمیشہ شاعر ہی رہتاہے چاہے وہ شاعری کو چھوڑنے کی کتنی ہی کوشش کرے ، ایک نہ ایک دن شاعری اسکو جھنجھوڑ کر کہتی ہے کہ شعر حاضر ہے ) ؛
یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی کہ وہ ریجنل انکم ٹیکس کمشنر رہ چکے ہیں ۔ ماشا اللہ : تو پھر وہ عبدالعزیز خالد مرحوم اور مرزا جمیل الدین عالی صاحبان سے بھی واقف ہو نگے ۔ مجھے ان دونوں انکیم ٹیکس کے افسران کے ساتھ کراچی میں ( پچپن سال قبل ) چند سال کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ راحت نسیم ملک صاحب بھی عالمی اخبار کے بلاگوں میں تشریف لایا کرینگے اوراپنی شاعری کے ساتھ ساتھ عبدالعزیز خالد اور جمیل الدین عالی کی شاعری اور انکی زندگی پر کچھ تبصر ے عالمی خبار میں پیش کرینگے ۔
۔۔۔۔۔۔
عرشی صاحبہ مزید کچھ عطا ہو کے الفاظ کے ساتھ یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں ۔
۔۔۔۔
فقط :
منظور قاضی
محرتم جناب خواجہ احسن الدین صاحب کا ارشاد فرمانا میں سمجھ چکا ہوں خلاصہ عرض ہے کہ:
1- شاعری میں خواہ حمدِ باری تعالٰی ہو یا نعتِ حبیبِ خدا . . . یہ کام درست نہیں، یہ گمراہی ہے –
2- ہاں نثر اچھی چیز ہے خواہ کچھ ہی کہہ دیا جائے لکھ دیا جائے (یعنی اہمیت معانی و مطالب کی ہرگز نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ نثر ہو نظم نہ ہو) –
3- شاعری کی اجازت صرف جناب حسان بن ثابت (رض) ہی کو ملی، یعنی یہ غلط کام یہ گمراہ کن کام کرنے کی اجازت خود رسول اللہ (ص) نے دی خؤاہ ایک ہی کو سہی-
4- باقی جنہوں نے توبہ کر لی از خود اس کام سے باز آگئے رسول اللہ کے کہے سے نہیں بلکہ آیتِ قرانی کی اپنے قیاس سے تفسیر کر کے، یعنی اللہ کے رسول (ص) سے بھی چند قدم آگے نکل گئے (یہ ہمارا عقیدہ قطعاً نہیں یہ جناب تبصرہ نگار کی اوپر موجود تحریرسے اخذ شدہ نتیجہ ہے) –
5- حضرت لبید (رض) علم القران اور تقویٰ میں خلیفہ دوئم حضرت عمر(رض) سے بھی افضل تھے- حضرت عمر نہ جانتے تھے کہ شاعری پر پابندی عائد ہو چکی ہے لیکن حضرت لبید جانتے تھے، ماشاء اللہ (یہ بھی ہمارا عقیدہ قطعاً نہیں ہے)- وغیرہ وغیرہ
اگر چہ جناب صفدر ہمدانی صاحب کے، بعد از وفاتِ رسول(ص) اہلِ بیت علیہم السلام تک کے مرثیہ کے حوالہ جات اور جناب مصباح شاہ صاحب کے مدلل جوابات کے بعد میرے کچھ کہنے لکھنے کی گنجائش نہیں رہ گئی لیکن صرف ایک نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ :
اسلام میں وہ کون لوگ ہیں جو شاعری کی مخالفت کی آڑ میں دراصل اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور نعتٖ رسول اللہ کی مخالفت کرتے ہیں؟
یہ نہ تو سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ ہیں- جیسا کہ جناب ہمدانی صاحب کی درج کردہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام کے ان دونوں ہی بڑے مسالک کے جید علماء کے علاوہ ان کے ائمہ نے بھی شاعری کی ہے ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے علاوہ اہلِ سنت کے ائمہ اربعہ نے بھی اس اندازِ کلام کو اپنایا (امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم کی شاعری تو مشہور ہے)
یہ نئی سوچ یہ نئی روش بہت بعد کی ایجاد ہے، ان لوگوں کی جن کا یہ دعوٰی ہے وہ دین کو بعد از نبی اکرم (ص) سب سے زیادہ سمجھے، ان کے نزدیک تمام علماء و ائمہ کم علم اور بدعتی وغیرہ تھے، اس ساری تحریک کا اصل مقصد اسلام کے آثارکو مٹانا ہے، انہی نے جنت البقیع کے انہدام کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کے گھر تک کے نشانات کو مٹا ڈالا ہےکہ ایسے نشانات کا باقی رہنا باعثِ شرک ہے، اہلِ بیت(ع) اور اصحابہ کرام (رح) کے اعمال پر اعتراضات کرکے ان سے لوگوں کو بدظن کرنا ہے، ایک نیا درشت، سخت، خشک، بدمزاج اور دہشت و وحست ناک اسلام ایجاد کرنا ہے، یہ ائمہ کے روضوں کو یہ کہہ کر منہدم کرچکے ہیں اور باقی ماندہ کو کرنا چاہتے ہیں کہ یہ شرک ہے لوگ یہاں آکر ان کو پوجتے ہیں وغیرہ (جیسے یہ لوگوں کے دلوں کے حال اور ان کی نیتوں تک سے واقف ہوں) – یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے علاوہ ہر کلمہ گو کو کافر اور مشرک کہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آج اسلام کو دنیا کے آگے باعثِ مذمت اور مسلمانوں کے آگے باعثِ ندامت بنا دیا ہے-
قبلہ مناف صاحب.کیسا آپ نے پردے کے اندر سے بھی پہچانا. واللہ کم ازکم میرا تو اس طرف دھیان ہی نہیں گیا. لو جی آپ نے تو کام آسان کر دیا ہمارا سب کا. احسن جناب مناف….یہاں احسن سے مرآد خواجہ احسن نہیں ہے. بزرگوں سے سنا تھا کہ نام کا انسان کے کردار پر بہت اثر ہوتا ہے لیکن ثابت ہوا کہ نہیں بھی ہوتا.
دعا ہے کہ کم از کم اس فقیر کا سانس نبی کی نعت کہتے اور علی کی منقبت کہتے اور حسین ع کا مرثیہ کہتے نکلے. اگر بقول خواجہ صاحب کے اس بدعت کی سزا جہنم ہو گی تو قبول ہے سرکار، اعزاز ہے ہمارے لیئے. آپ پلیز شاعری نہ کریں.آپ محفوظ رہیں گے ہر بلیات و آفات سے
میری لکھی ہوئی اس نعت میں ُملاوں کو یا رسول اللہ (ص) کہنے پر اعتراض ہے:
چونکہ اس بلاگ میں میرے کرم فرماوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں اسے یہاں لکھدوں ، اس لیے میں ڈرتے ڈرتے یہاں پیش کررہا ہوں :
یہ سیدھی سادی نعت صرف پانچ اشعار پر مشتمل ہے :
عنوان: یا رسول اللہ (ص)
مری کشتی کنارے پر لگادو یا رسول اللہ (ص)
مجھے طوفاں سے چُھٹکارا دلادو یا رسول اللہ (ص)
محمد مصطفےٰ (ص) تم ہو ، رسولِ کبریا (ص) تم ہو
مجھے اپنے کرم کا آسرا دو یا رسول اللہ (ص)
تمہارا اُمتی ہوں میں تمہارا نام لیوا ہوں
مجھے اپنی نظر سے مت گرادو یا رسول اللہ ( ص)
مرے آغاز کو آساں بنا یا آپ نے آقا (ص)
مرا انجام بھی آساں بنادو یا رسول اللہ ( ص)
اگر منظور ہو میری گذارش یا رسول اللہ ( ص)
شفاعت کا مجھے مژدہ سنا دو یا رسول اللہ ( ص)
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
قبلہ منظور قاضی صاحب ! میرا ایمان ہے کہ ان پانچ اشعار کا صلہ آپ کو پیج تن پاک علیہم السلام کی شفاعت کی صورت میں ضرور حاصل ہوگا، انشاء اللہ، جو شاعری کو گمراہی کہتے ہیں کاش کہ وہ کلام کے مضمون کی طرف بھی توجہ کریں، جو یا رسول اللہ (ص) کہنے کو بدعت کہتے ہیں کاش وہ اپنے کلمہ طیبہ اور اپنی نمازوں ہی کے ترجموں پر غور کرلیں، کاش
محترم ہمدانی صاحب ! آپ جس راستہ کے مسافر ہیں اس راستے پر چلنے والوں کو اقبال(رح) وصیت کر گئے تھے کہ :
تندیء بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
قاضی صاحب جزاک اللہ
مناف بھائی سبحان اللہ
اور شاعر دشمن اللہ اللہ
تجھی سے سیکھا ہے میرے دل نے خوشی غمی کا ہراک قرینہ
جڑا ہوا ہے تو میرے اندر کہ جوں انگوٹھی میں ہو نگینہ
تجھی سے منسوب اپنی خوشیاں، ترے ہی غم میں ملال سارے
مرے نبی ( ص) میں کمال سارے جمال سارے جلال سارے
خانم عرشی۔کمال واللہ
جناب منظور قاضی صاحب۔۔اسلام علیکم۔۔صحت و عافیت ۔برکت اور سلامتی کی دعاوں کے ساتھہ۔۔اللہ پاک آپ کو صحت عطا کرے اور ان کاوششوں کا صلہ عطا کرے۔۔آپ جس لگن خلوص۔محنت و محبت سے عرشی آپا کی شاعری کو یکجا کررھے ھیں میں سمجھتی ھوں صاحب نقد ونظر ھی کسی سخنور کی قدر کر سکتا ھےمیری دعا ھے کہ پروردگا ر اپ کو طولانی زندگی عطا کرے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ علم و ادب اور خاص کر ادب براۓ زندگی کیع خدمات انجام دے سکیں۔۔۔عرشی آپا کی خوبصورت شاعری پر مشتمل اس بلاگ میں دیگر مبصرین کی قیمتی آرا کے ساتھہ محترم صفدررضا ھمدانی صاحب کی تحقیقی کاوش بھی شامل ھے ۔اللہ پاک آپ سب کے علم میں اضافہ فرماۓ۔۔تاکہ مجھہ جیسے تشنگان کی تشفی ھوسکے۔۔۔۔ماشا اللہ فعتیہ شاعری کی مہک سے معطر ،عرشی آپا اور ساتھہ میں میری بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ،اور منظورقاضی صاحب کی نعیتیں ،،،سبحان اللہ یہ توفیق تو اللہ اپنے انھی بندوں کو عطا کرتا ھے۔۔جن کے قلوب عشق محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ھوتے ھیں۔۔ اجرکم اللہ
واہ محترم بھائی عبد المناف۔ آپ نے ان لطیف نکتوں کو کھول دیا ہے جن سے بات اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ احسنت۔
قاضی صاحب آپ کی نعت کو رسول اللہ یقینا دوگنا ثواب مرحمت فرمائیں گے کہ یہ نہ صرف عقیدت و محبت کا اظہار ہے، بلکہ عقائد کی خوبصورتی کی منزل بھی ہے، جہاں ہم رسول دوسرا کو حاضر و ناضر جانتے ہیں اور اسکی تصدیق سورہ توبہ کہ یہ آیت کرتی ہے؛
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّہ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُہ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ الَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّھادَت فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (آیت ٩٤) کہ میرے رسول لوگوں سے کہ دو کہ وہ عمل کریں اور اللہ، اسکا رسول اور مومنون ( مخصوص)انکے اعمال دیکھ رہے ہیں۔
آپ سب کی نذر قبلہ حسنی صاحب کی ایک نعت پیش خدمت ہے۔
یوں نعت کو وابستہ تنزیل بنایا
لفظوں کو وحی سوچ کو جبریل بنایا
تعویذ درودوں کا ہے بازو پہ دعا کے
یوں حرف طلب لائق ترسیل بنایا
ممدوح کی پہچان ہو ذاکر سے تبھی تو
قرآں کو ترے ذکر کی تفصیل بنایا
مختار تجھے کنز مشیت کا بنا کر
عالم کو ترے سامنے زنبیل بنایا
بڑھ جائے گی جبریل سے پرواز نظر کی
اگر آپ کے نعلین کو قندیل بنایا
ہر بار گواہی میں ترا نام ہے شامل
یوں ذکر ترا ضامن تہلیل بنایا
میخانہ ارشاد تری آنکھ کو دے کر
دارین کا پیمانہء تعمیل بنایا
مخلوط نہ توحید سے ہو اُس کی اکائی
چودہ کو اسی عکس کی تمثیل بنایا
مردہ تجھے سمجھے ہیں جو فیلان عقیدہ
کلمے کو ترے ان پہ ابا بیل بنایا
حسنی تو محاسن میں لفی خسر تھا مولا
مدحت نے تری صاحب تفضیل بنایا
محترم سید مصباح حسین صاحب۔۔۔ اسلام علیکم قبلہ حسنی صاحب کی نعت ماشا اللہ ھر لفظ روشنی۔خوشبو۔
یوں نعت کو وابستہ تنزیل بنایا
لفظوں کو وحی سوچ کو جبریل بنایا
تعویذ درودوں کا ہے بازو پہ دعا کے
یوں حرف طلب لائق ترسیل بنایا
ممدوح کی پہچان ہو ذاکر سے تبھی تو
قرآں کو ترے ذکر کی تفصیل بنایا
مختار تجھے کنز مشیت کا بنا کر
عالم کو ترے سامنے زنبیل بنایا
جزاک اللہ
ان نیکیوں کا اجر بے حساب ھے،،اللہ اپنے محبوب نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محدحت کر نے والوں دارین میں بے تحاشہ
انعام و اکرام سے نوازتا ھے
اللہ پاک آپ سب کو سلامت رکھے
اللہ پا ک ربیع الاول کے بابرکت مہینے کی فضیلتوں سے ھم سب کو فیص یاب کرے
مصر کے مشہورومعروف صوفی شاعر ابو عبداللہ محمد ابن سعد البوصیری نے قصیدہ بردہ فروش عشق رسالت ماب کس سرشاری کے عالم میں تحریر کیا ھوگا۔۔۔دنیا کی بہت ساری زبانوں میں اس کلام کا ترجمہ بھی ھوا ھے۔۔اسکی مقبولیت بڑھتی ھی جارھی ھے۔
قصیدہ بردہ شریف
مولاي صلــــي وسلــــم دائمـــاً أبــــدا
علـــى حبيبــــك خيــر الخلق كلهـم
أمن تذكــــــر جيــــــرانٍ بذى ســــــلم
مزجت دمعا جَرَى من مقلةٍ بـــــدم
َمْ هبَّــــت الريـــــحُ مِنْ تلقاءِ كاظمــةٍ
وأَومض البرق في الظَّلْماءِ من إِضم
فما لعينيك إن قلت اكْفُفاهمتـــــــــــــــا
وما لقلبك إن قلت استفق يهـــــــــم
أيحسب الصب أن الحب منكتـــــــــــم
ما بين منسجم منه ومضطــــــــرم
لولا الهوى لم ترق دمعاً على طـــــللٍ
ولا أرقت لذكر البانِ والعلــــــــــمِ
فكيف تنكر حباً بعد ما شـــــــــــــهدت
به عليك عدول الدمع والســـــــــقمِ
وأثبت الوجد خطَّيْ عبرةٍ وضــــــــنى
مثل البهار على خديك والعنــــــــم
نعم سرى طيف من أهوى فأرقنـــــــي
والحب يعترض اللذات بالألــــــــمِ
يا لائمي في الهوى العذري معـــــذرة
مني إليك ولو أنصفت لم تلــــــــــمِ
عدتك حالي لا سري بمســــــــــــــتتر
عن الوشاة ولا دائي بمنحســـــــــم
محضتني النصح لكن لست أســـــمعهُ
إن المحب عن العذال في صــــــممِ
إنى اتهمت نصيح الشيب في عـــــذلي
والشيب أبعد في نصح عن التهـــتـمِ
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس کس کا کس طرح سے شکریہ ادا کرؤں کہ مجھے آج جو سیکھنے کو ملا ہے شائد میں ایک ہزار کتابیں لاکھوں برس بھی پڑھتی تو اتناکچھ اتنی آسانی سے سمجھ نہ پاتی ۔۔
سب سے پہلا شکریہ احسن بھائی کا جنہوں نے ایسے نکات اٹھائے کہ ہمیں بابا، مصباح بھائی اور مناف بھائی سے اتنا کچھ سیکھنے کو ملا ۔۔ احسن بھائی ایک بات کہوں کہ ہم سب خطا کے پتلے ہیں ۔۔ سمجھنے میں غلطیاں بھی کرتے ہیں ۔۔ لیکن اللہ پاک اتنے پیارے اور اچھے ہیں کہ ہر ایک کو سمجھنے ، سیکھنے اور درست ہونے کا موقع ضرور عطا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی حجت پوری کر دیں ۔۔ حر جیسی قسمت والا ہر کوئی تھوڑی ہوتا ہے جب تک کے اس کے اندر پہلے ہی سے لو نہ لگی ہو ۔۔۔ اپنے علم اور عقائد کو درست کرنا اللہ پاک کا ایک انعام ہے میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ ضرور وہی سوچیں جو ہم کہہ رہے ہیں لیکن کم از کم ایک بار ضرور مسلک کی عینک اتار کر کشادہ دل ہو کر اللہ کریم سے صحیح سمت کی دعا کرتے ہوئے سچے دل و دماغ سے ایک بار اس بہن کی درخواست پر اس سارے لکھے کو کئی بار پڑھئے گا ۔۔۔ اور سوچئے گا کہ خدا نہ کرے کہ میرا شمار ان لوگوں میں ہو جیسا کہ مناف بھائی نے کہا کہ “جنہوں نے آج اسلام کو دنیا کے آگے باعثِ مذمت اور مسلمانوں کے آگے باعثِ ندامت بنا دیا ہے- “
میں آپ سب کی اتنی ممنون ہوں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔ بس ایسے ہی علم و ہنر کے چراغ جلاتے رہیں تاکہ مجھ جیسے طفل مکتب اس روشنی میں رستہ دیکھتے رہیں ۔۔آمین