میرا یہ بلاگ ریاستی قانون پہ بحث کی بجائے ایک مخصوص قانون ” قانونِ ناموسِ رسالت “ پہ ہے جو فی الوقت پوری دنیا کا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے ۔
ایک شاتمہء رسول (ص) آسیہ بی بی کو سیشن کورٹ کی طرف سے سزائے موت اور اس کے خلاف مختلف این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس قانون کے ’ غلط استعمال ‘ کے اعتراضات کے شور میں موجودہ حکومت کی ایک سرکردہ راہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محترمہ شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کر دیا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ اس بل پہ بحث اور کسی فیصلے سے پہلے ہی گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے اس قانون پہ سرِ عام تنقید جبکہ پسِ پردہ صدر زرداری کی اشیرباد ، اپنی خفیہ ڈپلومیسی اور زیرِ زمین سرگرمیوں سے آسییہ بی بی کی ہائی کورٹ میں اپیل پہ فیصلے سے پہلے ہی اسے صدر سے رحم کی اپیل پہ دستخط کروا کر صدر آصف زرداری کے حوالے کر دیا اور صدر کے فیصلے سے پہلے ہی اپنے گارڈ کی گولیوں کا نشانہ بن گیا ۔
سلمان تاثیر کی موت نے اس بل پہ متوقع بحث یا ترامیم کے فی الحال تمام دروازے بند کردئیے ہیں اور وزیرِ اعظم گیلانی نے اعلان بھی کردیا ہے کہ ان کی حکومت قانونِ ناموسِ رسالت کو ہر گز نہیں چھیڑے گی لیکن چند انتہائی اہم سوالات اب بھی ذہنوں میں موجود ہیں :
کیا بعض لوگ اس قانون کو ذاتی انتقام کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس قانون کی آڑ میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں ؟ اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کی روک تھام کے لئے کیا کیا جارہا ہے یا کیا کیا جا سکتا ہے ؟
حکومت قانونِ ناموسِ رسالت میں کون سی ترامیم کی خواہاں ہے اوراس قانون میں وہ کون سی سقمیں (اسقام ؟) ہیں جنھیں حکومت دور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟
ہم کیوں نہ روشن خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام تجاویز کی روشنی میں اس پہ مکمل بحث کریں ، اسے ایسی متفقہ شکل دیں جو ہماری دینی و ملی نیک نامی کا باعث ہو ۔ اور اگر اس کا نفاذ تمام تجاویز کی روشنی میں بہتر سے بہترین انداز میں ہو سکتا ہے تو ہماری مذہبی سیاسی پارٹیوں کو کیا ہچکچاہٹ ہے ؟

میں اپنے گذشتہ بلاگ کا رخ بالآخر آج کے موضوع کی طرف ہی لانا چاہتا تھا مگر انتظامیہ نے اپنی کسی چھٹی حِس کے تحت اسے بند ہی کردیا ۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ یہ مسئلہ اٹھانے کا ارادہ کیا جسے کچھ احباب سے مشاورت کے بعد ملتوی کردیا ۔ کل عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ کی قانونِ توہینِ رسالت پہ لب کشائی کے بعد میرا خون کھول اٹھا لیکن آج ایک خبر پڑھنے کے بعد میرے اندر کا باغی بے قابو ہوگیا اور مجھے یہ بلاگ لکھنے پہ پھر مجبور کردیا ۔
اوراس بلاگ کی وجہ یہ خبرہے کہ ضلع ڈیرہ غازی خان (پنجاب) کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راؤ ایوب خان مارتھ نے مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے رہائشی امام مسجد محمد شیفع اور ان کے بیٹے محمد اسلم کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں ملزموں کو مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے الزام میں دس دس برس جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت پانچ ، پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ مدعی اور ملزمان کا تعلق دو مختلف مسالک سے تھا جبکہ مقدمہ فرقہ واریت کی وجہ سے درج ہوا تھا ۔ مدعی بریلوی جبکہ ملزمان دیو بندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ محمد شیفع اور ان کے بیٹے محمد اسلم کے خلاف گذشتہ اپریل میں پھول خان نامی شخص نے توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنی کریانے کی دکان کے سامنے برآمدے میں لگا میلاد اور مصطفیْ کانفرنس کا پوسٹر پھاڑ دیا تھا ، جو بقول استغاثہ توہین رسالت ہے۔ پولیس نے مقدمے میں مذہبی عقائد کی توہین کرنے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں ۔
یہ تفصیل پڑھنے کے بعد میں محترمہ زرقا مفتی کے میرے گذشتہ بلاگ میں دئے گئے لنک کو دوبارہ پڑھنے پہ مجبور ہوا کہ شاید آسیہ بی بی والے کیس میں بھی کوئی ایسا ہی قصہ موجود ہو ۔ اس میں آسیہ بی بی پہ لگائے جانے والے الزام کی تفصیل تو نہ مل سکی البتہ آسیہ بی بی کا دفاعی بیان کہ اسے اسلام قبول کرنے پہ مجبور کرنے جبکہ اس کے انکار پہ اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا :
Aasia Bibi denies having committed the crime and maintains that she was implicated falsely after she refused to convert to Islam. She told the court that women in her village were trying to get her to convert to Islam for some time.
خیر یہ کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پہ مجبور کیا جائے اور انکار پہ توہینِ رسالت کا مقدمہ درج ہوجائے لیکن ایک بات جس نے مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کردیا کہ کہیں نہ کہیں اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے جو ہر طرف سے انگلیاں بھی اٹھ رہی ہیں ۔
لہذا اوپر بیان کئے گئے حقائق کی روشنی میں میں تمام قارئین و مبصرین سے پُر زور اپیل کرتا ہوں ، کہ کسی کے عقائد یا مسالک کو نشانہ بنائے بغیر ، حقائق و دلائل کی روشنی میں اس قانون کی روح پہ بحث کریں کہ آیا اس میں کسی ترمیم ، اسے تنسیخ ہر گز نہ سمجھا جائے ، یا اس کی تشریح کی ضرورت ہے کہ نہیں ، اسے پہلے کہ یہ جن بوتل سے باہر نکل آئے اور عقائد کی بنا پہ اس کا غلط استعمال شروع ہوجائے جیسا کہ اوپر بیان کی گئی خبر میں موجود ہے ۔
میں عالمی اخبار کی انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مختلف علماء کو بھی اپنی آراء دینے کی دعوت دیں اور اپنے اس ’ تھنک ٹینک ‘ کی سفارشات وزارتِ مذہبی امور کو بھجوائیں ۔
آپ سب کے تعاون کا پیشگی شکریہ ۔
بھاءی کیانی اس قانون میں کوءی خرابی نہیں ہے نہ ترمیم کی ضرورت ہے؟ خرابی یہ ہے کہ ہم من حیثیت القوم اخلاقی قدریں کحو چکے ہیں۔اور اس پر یہ کھلونا ضیا الق نے دیدیا ۔ اب پولس پوچھتی ہے کہ کیا دوگے اور کونسے قانون میں چالان کرانا ہے اسلامی یا پی پی ثی میں لہذا جس طرح سارے قانون مظلوموں کے خلاف غلط استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہورہا ہے۔ اصل مسءلہ ہمارے کردار کا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ قانون کی؟
یہ ممکنہ ترمیمی بل تھا.
Amendments in Offences Related to Religion : Amendments in the Pakistan Penal Code and Criminal Procedure Code
Whereas the Constitution of Pakistan Article 25 provides for equal protection of all citizens under the law; whereas the founder of Pakistan, Quaid e Azam, Mohammad Ali Jinnah declared in his address to the First Constituent Assembly of Pakistan on 11th August 1947 that all Pakistanis shall be equal under the law, this bill, in pursuit of these objectives seeks to amend the Pakistan Penal Code 1860 and Criminal Procedure Code 1898, in the following ways:
1. Short Title and Commencement: 1]This Act may be called the Review of the Blasphemy Laws Act,
2010. 2] It shall come into force at once.
2. In section 295 A of the Pakistan Penal Code the words, “ten” shall be deleted and the word “two”
be substituted.
1. In section 295 B of the Pakistan Penal Code the words, “shall be punishable with imprisonment to life” be deleted and the words, “shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to five years, or with fine or with both” be substituted.
2. In section 295 C the words, “shall be punished with death” shall be deleted and the words, ‘’shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years, or with fine or with both” be substituted.
3. In sections 295 C, 298A of the Pakistan Penal Code after the word, “Whoever’’, the words “maliciously, deliberately and intentionally” be added.
4. In section 298B of the Pakistan Penal Code after the word ‘’or by visible representation”, the words, ‘’maliciously, deliberately and intentionally”’ be added.
5. A section 203 A be added to the Pakistan Penal Code to say, “Anyone making a false or frivolous accusation under any of the sections of 295A, 295B and 295C, of the Pakistan Penal Code shall be punished in accordance with similar punishments prescribed in the section under which the false or frivolous accusation was made.’’
6. A section 298 E shall be added to the Pakistan Penal Code saying, “Any advocacy of religious hatred that constitutes incitement to discrimination or violence shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extent to seven years, or with fine or with both.”
9. In section 30 of the Criminal Procedure Code (CrPC), the words, ‘’as well as offences falling under sections 295A, 295B and 295C of the Pakistan Penal Code’’, be added after the words, ‘’punishable with death.’’
10. Section 190 of the CrPC be amended and subsection (3) be added containing the words, “All offences falling within sections 295A, 295B and 295C of the Pakistan Penal Code shall exclusively be taken cognizance of by the Court of Sessions and tried by the High Court”.
11. Section 193 of the CrPC be amended to add, ‘’and as expressly provided for under section 190 of the Code’’ after the words, ‘’unless the case has been sent to it under section 190, subsection (2).’’
12. In section 201 of the CrPC a Proviso be added after 201(2) to say, ‘’provided that if a complaint is made in writing to a Magistrate under sections 295A, 295B and 295C of the Pakistan Penal Code, he shall not take cognizance of it and forward it to the proper Sessions Court with an endorsement to that effect and in case the complaint has not made in writing, such Magistrate shall direct the complainant to the proper Sessions Court.’’
13. Section 202 of the CrPC be amended to add subsection (5) to say, ‘’Notwithstanding anything contained in the preceding subsections any complaint made under sections section 295A, 295B and 295C of the Pakistan Penal Code shall be filed at and taken cognizance of by a Court of Sessions and tried by the High Court, whereas the procedure laid down in the preceding subsections shall be followed.’’
جناب شمس جیلانی صاحب نے بالکل صائب رائے کا اظہار فرمایا
کہ
”جس طرح سارے قانون مظلوموں کے خلاف غلط استعمال ہو رہے ہیں،اسی طرح یہ بھی ہورہا ہے۔“
ہم بھی یہی رائے رکھتے ہیں
اور
جناب جاوید کیانی صاحب اس بات سے بخوبی واقف ہیں ہمارا ماننا ہے
کہ
اس قانون میں کوئی خامی ابہام اور سقم نہیں ہے ،
لہذا اس پر بحث کرنا بحث برائے بحث تو ہوسکتا ہے بحث برائے اصلاح نہیں،
محترم جناب شمس جیلانی صاحب ،
قبلہ ، میں آپ کی اس بات سے صد فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ اس قانون میں واقعی کوئی خامی نہیں ہے لیکن جاننا یہ چاہتا ہوں کہ حکومت اس میں کون سی ترامیم کا ارادہ رکھتی ہے ؟ آخر قوم کو بھی تو اعتماد میں لینے کی کہیں اور کبھی ضرورت ہے کہ نہیں ؟ اور پھر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ضیاء الحق کا دیا ہوا قانون ہے ، آپ نے اسے کھلونا کہہ دیا کل کو کہیں سے فتویٰ ہی نہ آجائے ، تو پھر ایک جمہوری حکومت کو پورا حق ہے کہ اگر کوئی سقم ہیں تو سامنے لائے اور ایک منتخب اسمبلی سے اس کی بے شک دوبارہ توثیق کرالے تاکہ اس پہ لگی ہوئی ضیاء الحق والی چھاپ مٹ جائے ۔
جہاں تک قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو اس پہ بھی اسمبلی فلور پہ ایک مدلل بحث ہونی چاہیئے اور تمام ممبران پارلیمنٹ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہء ہائے انتخاب میں اس کے غلط استعمال ، اگر کہیں ہوا ہے یا ہو رہا ہے یا ہونے کا امکانات ہیں ، کے شواہد پیش کریں نہیں تو پوری دنیا کو چیلنج کریں کہ اس کا کہیں غلط استعمال نہیں ہوا یا ہو رہا اور مزید یہ کہ وہ اس کی ایک منتخب امبلی سے دوبارہ توثیق کرتے ہیں ۔
” ہم من حیثیت القوم اخلاقی قدریں کھو چکے ہیں “
میرے محترم ، میں نے مندرجہ بالا واقعہ اسی حقیقت کے ثبوت کے طور پہ پیش کیا ہے کہ جب ہم نے اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگنا شروع کردی ہیں تو اس قانون کے غلط استعمال کے بڑھنے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں اور جس طرح فی الحال اسکے مذہبی منافرت میں استعمال ہونے کا صرف ایک ہی واقعہ سامنے آیا ہے ، کیا عجب کہ کل کو یہ ہماری جان کو ہی آجائے ۔ تو ایسے میں کیا اسے بہتر نہیں ہے کہ سدباب کی ابھی سے کوششیں شروع کی جائیں ؟
” پولس پوچھتی ہے کہ کیا دوگے اور کونسے قانون میں چالان کرانا ہے اسلامی یا پی پی سی میں ؟ لہذا جس طرح سارے قانون مظلوموں کے خلاف غلط استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہورہا ہے “
اور قبلہ یہ بھی انہی خطرات کی نشاندہی ہے جو مستقبل میں ہماری مزید بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں ، لہذا توہین رسالت کی ایک واضح تشریح کی ضرورت ہے تاکہ کل کو لوگ پوسٹر پھاڑنے جیسے حقیر عمل پہ اتنے مقدس قانون کو بیچ میں لاتے ہوئے خود اس قانون کی اور اس ذات اقدس ، کہ جن کی ناموس کے لئے اسے وضع کیا گیا ہے ، کی توہین اور جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں ۔
” اصل مسئلہ ہمارے کردار کا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ قانون کی؟ “
میں انتہائی معذرت سے عرض کروں گا کہ اگر دنیا میں سب کے اعمال ٹھیک ہوجائیں تو پھر شاید کسی قانون کی ضرورت ہی نہ رہے ۔ جن ممالک میں آپ اور میں بس رہے ہیں یہاں قانون ، قانون کے احترام اور اس پہ سختی سے عمل درآمد نے لوگوں کے قانونی کردار میں بھی پختگی پیدا کر رکھی ہے ۔ جب ہمیں اپنے کردار مشکوک نظر آتے ہیں تو بلا جھجھک یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم کہیں اور کسی وقت لڑھک سکتے ہیں ، ایسے میں اس کے غلط استعمال والی وہی دلیل پھر سے بیچ میں آجاتی ہے ۔
لہذا میں پھر یہی کہوں گا کہ ان تمام شکوک و شبہات کے خاتمے کے لئے اس قانون پہ ایک کھلے دل سے بحث کی ضرورت ہے تاکہ تمام مفروضوں ، جھوٹے الزامات اور حقائق کو منظرِ عام پہ لاتے ہوئے اپنی ، اور سب سے بڑھ کر اپنے لاثانی مذہب کی روشن خیالی ، کو دنیا پہ ثابت کرنا چاہیئے ۔
آپ کی مزید قیمتی آراء اور وقت کا بہت شکریہ ۔
جناب شعیب صفدر صاحب ،
آپ کا بے حد شکریہ جو آپ نے مجوزہ قانونی ترمیم کا مسودہ یہاں بلاگ میں پیش کردیا ۔ میں اس کے بغور مطالعے کے بعد ہی کچھ کہہ سکوں گا فی الحال آپ سے بھی درخواست ہے کہ اپنے قانونی جوہر یہاں کھولتے ہوئے ہماری راہنمائی فرمائیں ، اور تمام قارئین سے یہی درخواست کروں گا کہ اسے بحث برائے بحث ، وقت سبھی کا بہت قیمتی ہے ، کی بجائے اٹھائے گئے نکات اور خدشات کی روشنی میں اپنی قیمتی آراء سے نوازیں ۔
محترم جناب محمداحمد ترازی صاحب ،
حضور ، مجھے قوی امید ہے کہ میرے جناب شمس جیلانی صاحب کے تبصرے کے جواب کے بعد آپ اپنی رائے پہ ضرور نظر ثانی فرمائیں گے ۔
” اس پر بحث کرنا بحث برائے بحث تو ہوسکتا ہے بحث برائے اصلاح نہیں “
محترم ، نہ تو یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پہ بحث برائے بحث میں الجھ کر کوئی اپنی عاقبت ہی ڈبو بیٹھے اور نہ ہی وقت ہے کہ پہیلیوں میں گنوا دیا جائے ۔
آپ کا بہت شکریہ ۔
میرے اچھے بھائی شعیب پلیز ہم جیسوں کے لئے اس قانون کو اردو میں لکھ دو تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو سکے ۔۔ شکریہ
جاوید بھائی یہ موضوع بہت مشکل ہے اس پر بحث کرنے کے لئے پرانے قانون اور وہ مسودہ جو ترمیم کے لئے بھیجا گیا ہے دونوں کی اردو کاپی ہونی چاھئے تاکہ سب سمجھ سکیں اور پھر بحث کر سکیں ۔۔۔
کیانی صاحب آپ کے اس تفصیلی تبصرے نے بہت سے نئے باب کھولدیئے ہیں ۔اس کی وجہ میں خود ہوں کہ میری یہ عادت ہے کہ میں یہ سمجھتے ہو ئے بات مختصر کر تا ہوں کے میرے مخاطب جوہیں الحمد للہ سب عالم فاضل لوگ ہیں، لہذا وہ بات کی تہ تک خود پہونچ جا ئیں گے۔آپ تفصیل چاہتے ہیں تاکہ عوام الناس سمجھ سکیں تو تفصیل حاضرہے۔ پہلے میں اس کی وضا حت کردوں کہ میری کھلونے سے کیا مراد ہےاور میں نے ضیائ الحق کو کیوں مطعون کیا ہے اور اکثر کرتا رہتا ہوں؟سب سے پہلے تو میں یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان متحدہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی صدیوں پرانی اس خوہش کے تحت بنا تھا کہ ہمیں ایک مثالی ریاست قائم کر نا ہے جو اسلامی قومیت اور اس کی نشاۃ ثانیہ کا باعث ہو۔اس وقت مطمح نظر یہ نہیں تھا کہ کون کیا چاہتا ہے بلکہ یہ تھاخدا اور رسول (ص ) دین قائم کرنے کے لیئے مسلمانوں سے قر بانی چاہتے ہیں۔لہذا جو بھی حکمراں آئے اسلام کا نام لیتے رہے مگر اسلامی قوانین نافذ نہیں کر سکے۔جب یہ نعرہ پرانا ہو گیا ۔تو ضیاء حق نے نیا نعرہ دیا کہ میں عملی طور پر اسلام نافذ کرونگا۔ پہلی دفعہ قرارداد مقاصد جو جذدان میں بند تھی دستور کا حصہ بن گئی۔اور ملک کو اسلامی نظام اور اسلامی اخلاق دیئےبغیر حدود آرڈیننس نافذ کردیا گیا۔ جبکہ پاکستان میں کرمنل کوڈ بھی جاری رہا۔ لہذا پولس کو پیسے بنا نے کا موقعہ مل گیا کہ اگر پیسے نہیں دوگے یاکم دوگے تو ہم حدود آرڈیننس کے تحت پر چہ چاک کریں گے اگر اپنی اس سے جان بچانا چاہتے ہو تو رقم زیادہ لگے گی اور لطف یہ ہے کہ وہ ظالم اور مظلوم دونوں سے یکساں مطالبہ کرتے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ جس طرح حضور (ص) اور خلفا ئے راشدین نے کیا کہ پہلے اسلامی معاشرہ بنا یا پھر قانون نا فذ کیئے۔اسلامی فلاحی ریاست کے بغیر اگر کوئی بھوکا پیٹ بھر نے کی حدتک چوری کر رہا ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کا ٹا جاسکتا؟ چونکہ انکا مقصد بھی صرف اقتدار تھا اصل کام نہیں کیا ۔اور اس طرح ایک کھلونا دے کر قوم بہلا یا تھا۔ لیکن جب وہ نافذ ہوچکا ہے اس کی واپس مزید حماقت ہوگی ؟ اگر قوم نجات چاہتی ہےتووہ اسلام کے نفاذ میں ہی ہے۔جب ایک پولس مین دفعہ تین سودو کا پرچہ کا ٹنے کا اختیار رکھتا ہے جبکہ وہ بھی سیشن جج کی عدالت میں چلتا ہےاور تو ہین رسالت کا مقدمہ بھی صرف سیشن جج کے ہاں چلتا ہے اور دونوں سزا ایک جیسی ہے۔ تو اس پر یہ مطالب کیوں ہےکہ اس کو ترمیم کرکے پیچیدہ بنا ئے جا ئے جبکہ یہ مطالبہ قتل کے کیس کے لیئےنہیں ہے؟ مختصر یہ کہ اصل میں نظام بدلنے کی ضرورت ہے نہ کے قانون؟
السلام علیکم
اگر ہم اِس بحث کو فل وقت چھوڑ بھی دیں کہ قانون میں ترمیم کرنا یا نہ کرنا کتنا ضروری ہے اور کتنا غیر ضروری ، مگر کیا صرف یہی ایک قانون غلط استعمال ہو رہا ہے ؟ کیا پاکستان میں رائج دوسرے قوانین درست طریقے سے استعمال ہوتے ہیں ؟ یقینا نہیں اور اگر ہم صرف 302 کی ہی بات کریں تو سب جانتے ہیں 50 فیصد سے بھی زیادہ کیسس میں یہ قانون غلط استعمال ہوتا ہے خود ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو کم و بیش سب ہی 302 کا غلط استعمال سمجھتے ہیں تو کیا پی پی پی پی والے 302 کو بھی ختم، یا ترمیم کریں گے ؟
اور توہین رسالت کے قانون کے تحت اب تک کتنے لوگوں کو سزا ہوئی ہے اور اُن میں کتنے لوگ غیر مسلم تھے اور کتنے کے خلاف یہ غلط استعمال ہوا ہے ؟ یہ سب پروپیگینڈا کا کھیل ہے ۔
آصف احمد بھٹی
محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ،
یہ کوئی مشکل موضوع نہیں ہے ، محض قانونی زبان سے ناواقفیت اسے مشکل بنا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ من حیث القوم ہم سب کی ناسمجھی بہت سے خدشات کو جنم دے رہی ہے ، جس کا پورا پورا فائدہ ہمارا حکمران ٹولہ بھی اٹھا رہا ہے اور ایک مربوط پراپیگنڈے کی صورت عالمی میڈیا اور کچھ عالمی طاقتیں بھی ۔
جیسے کہ محترم شمس جیلانی صاحب نے بھی اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں پاکستان پینل کوڈ اور Blasphemy Law دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ PPC 295 اب Blasphemy Law کی تین شقوں A, B, C میں ، وکی پیڈیا سے ، کچھ اس طرح ہے :
Several sections of Pakistan’s Criminal Code
comprise its blasphemy laws.[4] § 295 forbids damaging or defiling a place of worship or a sacred object. § 295-A forbids outraging religious feelings. § 295-B forbids defiling the Quran. § 295-C forbids defaming the prophet Muhammad. Except for § 295-C, the provisions of § 295 require that an offence be a consequence of the accused’s intent. Defiling the Quran merits imprisonment for life. Defaming Muhammad merits death with or without a fine. (See below Sharia.) If a charge is laid under § 295-C, the trial must take place in a Court of Session with a Muslim judge presiding.[5]
295 عبادت گاہوں کی بے حرمتی سے متعلق ہے
295A کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے متعلق ہے
295B مذہبی کتب ، قرآنِ پاک ، کی بے حرمتی سے متعلق ہے
اور 295C پیغمبروں( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بے حرمتی سے متعلق ہے اور اصل میں یہی قانونِ توہینِ رسالت ہے ، جس کی سزا سزائے موت ہے ، جو ہم سب کی دلی آواز بھی ہے ۔
جنرل مشرف کو دئیے گئے ایجنڈے میں اس امت سے روحِ محمد (ص) مکمل طور پر نکالنے کی ذمے داری اول نمبر پہ تھی ۔ لہذا اس نے سب سے پہلے تعلیمی نصاب پہ وار کیا اور جہاد جیسے موضوع خارج کرا دئیے۔ اس کا اگلہ حدف ہمارے آئین مین شامل اسلامی دفعات اور شقوں کا خاتمہ تھا لیکن ملعون کو اس کی مہلت ہی نہ ملی ۔ اس کے بعد یہی ایجنڈا پی پی پی کی حکومت کو دیا گیا ، جس کی اس نے حامی بھر لے ۔ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے مختلف این جی اوز ، انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں اور سازشیوں کے ذیلی ملکی و عالمی میڈیا سے ایک منظم پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا ، جس نے سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اور شدت اختیار کرلی ہے ۔ پی پی پی اس قانون کو ضیاء کی باقیات کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتی رہی لیکن جب ان سے اسے بدلنے کا مطالبہ شدت اختیار کرنے لگا تو شیری رحمان نے مجوزہ ترمیم کا مسودہ اسمبلی میں جمع کرادیا ۔
گو الفاظ کے تانے بانے ایک عام قاری کو الجھنوں میں ڈال دیتے ہیں مگر سادہ الفاظ میں پی پی پی نے ان جرائم کی سزاؤں میں تخفیف اور کچھ نئے الفاظ و تشریحات شامل کرنے، جو میری نظر میں مجرم کو شک کا فائدہ پہنچانے کی خاطر ہیں ، کی تجاویز دی ہیں ۔ یہاں جناب شعیب صفدر صاحب کی ماہرانہ رائے کی اشد ضرورت ہے ، لیکن جو کچھ میری ناقص عقل میں آیا ہے وہ کچھ اس طرح ہے :
کہیں کہیں میں اپنی طرف سے کسی ترجمے کی بجائے اصل الفاظ میں پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر کوئی اپنی فہم و فراست کے مطابق معانی نکال لے:
دفعہ 295A میں لفظ ’ دو ‘ کو ’ دس‘ سے بدلنے کی سفارش کی گئی ہے ۔بظاہر یہ دس سے دو سال کی تخفیف ہے ، یعنی کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی سزا کو دس سال سے کم کرکے دو سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
دفعہ 295B ، یعنی قرآنِ پاک کی بے حرمتی ، میں عمر قید کی جگہہ 5 سال قید کی سفارش کی گئی ہے ۔
دفعہ 295C ، یعنی پیغمبرِ اسلام (ص) کی توہین ، میں سزائے موت کو قید دس سال میں بدلنے کی سفارش کی گئی ہے
دفعہ 295C اور PPC 298A میں لفظ ”Whoever“ کی جگہہ mliciously, deliberately and intentionally” . کا اضافہ کیا جائے گا۔
اور میرے ذاتی خیال کے مطابق یہ مجرم کو شک کا فائدہ دینے کی نیت سے ہے تاکہ عدالت میں کوئی بھی یہ کہہ سکے اس کا فعل ارادتاً نہیں تھا ۔
دفعہ PPC 298B میں بھی لفظ ” visible representation “ کو” maliciously, deliberately and intentionally” سے بدلنے کی سفارش ہے اور یہ بھی میرے خیال میں مجرم کو شک دیے جانے کی نیت سے ہے ۔
PPC میں سیکشن 203 کے اضافے کی سفارش کی گئی ہے جس کی رو سے کسی پہ غلط الزام لگانے کی بھی وہی سزا تجویز کی گئی ہے جو کہ اصل ملزم کو دفعہ 295A ، 295B ، 295C کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملتی ۔ مجوزہ ترمیم کا پورا متن یوں ہے :
. A section 203 A be added to the Pakistan Penal Code to say, “Anyone making a false or frivolous accusation under any of the sections of 295A, 295B and 295C, of the Pakistan Penal Code shall be punished in accordance with similar punishments prescribed in the section under which the false or frivolous accusation was made.
سیکشن 298E کے اضافے کی سفارش بھی کی گئی ہے جس میں ایسے جرائم کی رو سے کسی کے جذبات بھڑکانے کی صورت میں دس سال قید کی سزا کی سفارش کی گئے ہے ، مجوزہ ترمیم کا پورا متن یوں ہے :
A section 298 E shall be added to the Pakistan Penal Code saying, “Any advocacy of religious hatred that constitutes incitement to discrimination or violence shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extent to seven years, or with fine or with both.
یہی ترامیم اور سزائیں ( section 30 of the Criminal Procedure Code (CrPC میں بھی تجویز کی گئی ہیں ، مجوزہ ترمیم کا پورا متن یوں ہے :
section 30 of the Criminal Procedure Code (CrPC In the words, ‘’as well as offences falling under sections 295A, 295B and 295C of the Pakistan Penal Code’’, be added after the words, ‘’punishable with death.
قانون کے باقی حصوں میں بھی ترامیم کی سفارش کی گئی ہے جن کا بالواسطہ تعلق انہی ترامیم اور مجسٹریٹ یا سیشن کورٹ کے اختیارات سے متعلق ہے جوکہ موضوع بحث تو نہیں لیکن شاید شعیب صاحب ہمارے علم میں اضافے کی خاطر ان پہ بھی روشنی ڈال دیں۔
میں تبصرے کی طوالت سے بچتے ہوئے ترمیم کرنے یا کرنے سے متعلق اپنی رائے دوسرے تبصرے میں پیش کروں گا ۔
محترم جناب شمس جیلانی صاحب ، ایڈٹ
آپ میری وجہ سے اپنے آپ کو ہر گز کوئی الزام نہ دیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ مشرف کا ٹولہ اور موجودہ حکومت بھی اسے ضیاء کی باقیات کا طعنہ دیتے ہوئے پہلو تہی کی کوشش میں رہیں جبکہ عوامی جذبات و خدشات کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے بد امنی کا نیا محاذ کھل گیا ۔ آپ کی مزید تفصیلات ہم سب ، بالخصوص میرے لئے ، مشعلِ راہ ہیں ۔
میں نے ڈاکٹر صاحبہ کے تبصرے کے جواب میں اپنی عقل و سمجھ کے مطابق پی پی پی کی مجوزہ ترمیم کو واضع کرنے کی کوشش کی ہے جس کے بعد امید ہے بات کھل کر ہوسکے گی ۔ آپ سے بھی قدم قدم پہ راہنمائی کی درخواست ہے ۔
محترم آصف احمد بھٹی صاحب ایڈٹ
”اگر ہم اِس بحث کو فی الوقت چھوڑ بھی دیں کہ قانون میں ترمیم کرنا یا نہ کرنا کتنا ضروری ہے اور کتنا غیر ضروری “
یہ تو آپ کی رائے ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس قانون کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لایا جانا بہت ضروری ہے ۔میں اس پہ تفصیلی رائے آپ سب کے سامنے پیش کروں گا اور آپ سے بھی امید رکھتا ہوں کہ اس کے باقی پہلوؤں پہ بھی غور فرمائیں ۔
” مگر کیا صرف یہی ایک قانون غلط استعمال ہو رہا ہے ؟ کیا پاکستان میں رائج دوسرے قوانین درست طریقے سے استعمال ہوتے ہیں ؟ “
یہ صرف آپ ہی کی رائے نہیں بلکہ اکثریت ایسا ہی سوچتی ہے لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ریاستی قوانین کے غلط استعمال پہ ریاست کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ اس قانون کے استعمال میں ذرا سی لغزش بھی ہمارے ملک کے علاوہ ہمارے مذہب اور اس مقدس ہستی کو بھی ، کہ جن کی ناموس کے لئے اسے متعارف کروایا گیا ہے ، شرانگیزیوں ، بہتان تراشیوں اور پراپیگنڈے میں گھسیٹ لیتی ہے ۔
” اور توہین رسالت کے قانون کے تحت اب تک کتنے لوگوں کو سزا ہوئی ہے اور اُن میں کتنے لوگ غیر مسلم تھے اور کتنے کے خلاف یہ غلط استعمال ہوا ہے ؟ یہ سب پروپیگینڈا کا کھیل ہے “
یہی تو میں بھی سمجھتا ہوں لیکن میرا اصرار یہ ہے کہ اس پراپیگنڈے کا جواب ہماری منتخب اسمبلی کے فلور پہ دیا جائے ۔ ہمارے تمام ممبرانِ پارلیمنٹ کو چاہیئے کہ اپنے اپنے حلقہء ہائے انتخاب کے حقائق اسمبلی کاروائی کی معرفت پوری دنیا کو پہنچائیں ۔
بھائی جاوید کیانی صاحب
جس وقت ہم یہ مندرجہ بالا سطور لکھیں اس وقت آپ کا جناب شمس جیلانی صاحب کو جواب بلاگ پر موجود نہیں تھا اگر ہوتا تو اسی تناظر میں بات کی جاتی لیکن بلاگ پوسٹنگ کے دوران ہمارا تبصرہ بعد میں لگا جس کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہم نے شمس جیلانی صاحب کے جواب کو دیکھ کر بھی وہی بات لکھی حالانکہ ایسا نہیں ہے ہماری رائے اب بھی وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں آپ کا یہ کہنا ”محترم ، نہ تو یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پہ بحث برائے بحث میں الجھ کر کوئی اپنی عاقبت ہی ڈبو بیٹھے اور نہ ہی وقت ہے کہ پہیلیوں میں گنوا دیا جائے ۔“ہماری سمجھ سے بالاتر ہے
کیونکہ ہماری رائے خالصتا اخلاص پر مبنی تھی مگر نہ معلوم آپ کیا سمجھے ،درحقیقت اس موضوع پر ہم خود اس بحث میں نہیں آنا چاہتے تھے اس کی گواہ ہمارے اور آپ کے درمیان اس بلاگ کے شروع کرنے پہلے وہ میل ہے جو آپ نے کی تھی لیکن صرف اپنا فرض سمجھتے ہوئے کچھ معروضات عرض کی تھی شاید آپ کو اچھی نہیں لگیں جس پرہم آپ سے معذرت خوں ہیں ہم اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ چینی نکتہ چینی ہے
دوسری گزارش یہ یہ عرض ہے کہ آپ لکھتے ہیں کہ ”محترم جناب شمس جیلانی صاحب،قبلہ،میں آپ کی اس بات سے صد فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ اس قانون میں واقعی کوئی خامی نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں تک قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو اس پہ بھی اسمبلی فلور پہ ایک مدلل بحث ہونی چاہیئے اور تمام ممبران پارلیمنٹ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہء ہائے انتخاب میں اس کے غلط استعمال،اگر کہیں ہوا ہے یا ہو رہا ہے یا ہونے کا امکانات ہیں، کے شواہد پیش کریں نہیں تو پوری دنیا کو چیلنج کریں کہ اس کا کہیں غلط استعمال نہیں ہوا یا ہو رہا اور مزید یہ کہ وہ اس کی ایک منتخب امبلی سے دوبارہ توثیق کرتے ہیں ۔
اور آپ کہتے ہیں کہ ”لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس قانون کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لایا جانا بہت ضروری ہے “
وہ پارلیمنٹ جس کے ممبران کا حال یہ ہے کہ جمشید دستی اور رحمان ملک جسیے لوگ جس کے ممبر ہیں جن کی قرآن فہمی اور دینی تعلیم کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور اس وزیر اعظم بے نظیر جن شوہر نامدار آصف علی زرداری ہیں جو آزان کی اواز سن کر کہتی تھیں کہ ”آزان بج رہی ہے اور اسی ملک کے سابقہ وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی جو کہتے تھے کہ قرآن کے چالیس پارے ہیں ،ایسے لوگ اس قانون،اس کے استمال اور دیگر امور پر بحث کرکے ثابت کریں کہ اس قانون کے خلاف ہونے والا اعتراض پروپیگنڈہ ہے حقیقت نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ !الامان والحفیظ
یہ لوگ اور ان کے سرخیل ہمارے ارباب اقتدار جنھوں نے اس قانون کی معطلی کے وعدے کیے ہوئے ہیں اورجن کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ ہر وہ کام کیا جائے جن سے ان کے آقا امریکہ اور اس کے حواری راضی رہیں
ہمارا خیال ہے کہ یہ اس قانون کے ساتھ سوائے مذاق کے اور کچھ نہیں اور ہم خود یہ مطالبہ کرکے انہیں اس مذاق کا موقع دے رہے ہیں ہمارے خیال میں اس سے کیا بہتر نہیں کہ ایک عوامی ریفرنڈیم کرالیا جائے اور پاکستان کے 17 کڑوڑ عوام کی اس قانون پر رائے لی جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں
شعیب صفدر صاحب میں آپکا مشکور ہوں کہ آپنے پیش کردہ ترمیم تحریر کردی۔ اگر آپ اسکی سادہ تشریح مغہ مثبت اور منفی پہلؤں کے پیش کردیں تو غلط فہمیاں ختم ہوجائیں گی۔ ہمارے وکیل تو آپ ہی ہیں۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا محمد طاہر محمود اشرفی نے گورنر گے قتل کی مختلف ٹیوی چینلز پر سخت مذمت کی ہے۔ انکے مطابق قانونِ ناموسِ رسالت کا بل 1980 میں پاس اور نافذ کیا گیا تھا۔ اس میں پہلی ترمیم 1982 میں، دوسری ترمیم 1986 میں اور تیسریمرتبہ ترمیم 1996 میں کی گئی تھی۔ مولانا نے کہا کہ سلمان تاثیر نہ تو ناموسِ رسالت کا ارتکاب کیا اور نہ کوئ ایسی بات کی جس پر اُ سے قتل کیا جا تا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی مولوی یا عالم نے سلمان تاثیر کے قتل کا فتوہٰٰٰ نہیں دیا۔ نہ توممتاز قادری علم اُلدین ہے نہ سلمان تاثیر راج تھا۔ مولانا اشرفی نے مزید کہا کہ جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے تقریباً چار ہزار افراد پر اس قانون کے تحت مقدمے چلائے گئے ہیں اوراُن میں کسی کے بھی خلاف ناموسِ رسالت کا ارتکاب ثابت نہیں ہوسکا۔ مولانا کے مطابق ضرورت ایسے قانون کی ہے جس کے تحت غلط الزام لگانے والے کیلئے بھی سخت سزا ہو۔
تصحیح
1996 غلط تھا۔ صحیح 1991 ہے۔
عموما قانون ناموس رسالت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ضیا الحق کے دور میں منظور ہوا ایسا نہیں ہے برصغیر پاک و ہند میں برطانوی دور استعمار سے قبل مغل شہنشاہ اکبر کے سیکولر دور میں بھی شاتم رسول کو سزائے موت دی گئی،لیکن جب ملک پر سازشوں کے ذریعے انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہوا تو انہوں نے توہین رسالت کے اس قانون کو یکسر موقوف کردیا،پھر انگریزحکومت کہ شہہ پر جب ہندوؤں،آریہ سماجیوں اور مہا سبھائیوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کی ذات گرامی پر حملے شروع کئے تو مسلمانوں نے شاتمان رسول کو قتل کرکے اقرار جرم کرتے ہوئے دارورسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا،
295 کی دفعہ تعزیرات ہند میں پہلے سے موجود تھی,مسلمانوں کے احتجاج اور مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پر اُس وقت کی قانون ساز اسمبلی نے 1927ءمیں تعزیرات ہند میں ایک معمولی سی دفعہ 295 اے کا اضافہ کیا جس کی رو سے توہین مذہب کے جرم کی سزا دو سال قید یا جرمانہ مقرر ہوئی،لیکن اِس سزا سے مسلمانوں کی اشک شوئی نہ ہوسکی،
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ یہاں توہین رسالت کے جرم کی شرعی سزا ”سزائے موت“ کا قانون پھر سے بحال ہوجائے گا ،لیکن کسی بھی مقننہ اور حکومت کو اس بارے میں پیش رفت کی توفیق نصیب نہ ہوئی، 1982ءمیں ضیاءالحق نے 295 بی سیکشن متعارف کرایا،جس کے تحت قرآن مجید کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا تجویر کی گئی ،1983ءمیں لاہور کے ایک وکیل مشتاق راج کی توہین آمیز کتاب Heaveny Communismکی اشاعت کے بعد توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو سزا دینے کیلئے ”قانون تحفظ ناموس رسالت“ کی منظوری کا باقاعدہ مطالبہ سامنے آیا ،جو 1986ءمیں 295 سی سیکشن کے طور پرمتعارف ہوا، جس کے تحت نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر سزائے موت کا قانون بنایا گیا۔
یہ قانون کیا کہتا ہے
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کہتی ہے کہ
Use of derogatory remarks, etc; in respect of the Holy Prophet. Whoever by words, either spoken or written or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Mohammed (PBUH) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine
یعنی پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا، جس سے انکے بارے میں برا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو، یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو، یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا ، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔
توہین رسالت کے جرم کی سزا قرآن وسنت اور اِجماعِ امت کی روشنی میں سزائے موت ہے، لیکن ابتداءمیں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ295سی میں سزائے موت یا عمرقید تجویز کی گئی، یہ دفعہ اسلامی قانون کے ہم آہنگ نہیں تھی، اس لئے وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر 1990 میں اپنے ایک فیصلے میں صدرِ پاکستان کو ہدایت کی کہ30اپریل 1991ءتک اس قانون کی اِصلاح کی جائے اور اس دفعہ میں ”یاعمرقید“ کے الفاظ حذف کرکے توہین رسالت کی سزا صرف موت مقرّر کردی جائے، اگر اس تاریخ تک اس قانون کی اِصلاح نہ کی تو اس تاریخ کے بعد یہ الفاظ خودبخود کالعدم قرار پائیں گے اور صرف سزائے موت ملک کا قانون قرار پائے گا، حکومت نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا، اور وہ تاریخ گزرگئی۔
اس لئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق دفعہ 295سی میں ”یاعمرقید“ کے الفاظ کالعدم قرار پائے اور قانون بن گیا کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا صرف موت ہے، اس کے بعد قومی اسمبلی نے 2جون 1992ءکو متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔
بابا نے اس خبر کا متن پچھلے بلاگ میں یوں لگایا تھا
اس خبر کا متن یہ تھا ”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی نے منگل کے دن متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو پھانسی کی سزا دی جائے اور اس ضمن میں مجریہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ295ج میں ترمیم کی جائے اور عمرقید کے لفظ حذف کرکے صرف پھانسی کا لفظ رہنے دیا جائے، یہ قرارداد آزاد رکن سردار محمد یوسف نے پیش کی اور کہا کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے، جبکہ قانون میں عمرقید اور پھانسی کی سزا متعین کی گئی ہے، مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی نے بتایا کہ وزیراعظم کی صدارت میں ایک اِجلاس ہوا تھا، جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماءنے شرکت کی تھی، اس اِجلاس میں طے پایا تھا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو کم تر سزا نہیں دینی چاہئے، اس کی سزا موت ہونی چاہئے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور چوہدری امیر حسین نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی، حکومت اس ضمن میں پہلے بھی قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک ترمیمی بل سینیٹ میں پیش ہوچکا ہے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی 3جون 1991)
جناب محمداحمد ترازی صاحب ،
اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے یہ بلاگ شروع کرنے کا ارادہ آپ کی مشاورت کے بعد تبدیل کردیا تھا لیکن اسے دوبارہ شروع کرنے کہ وجہ بھی اپنے پہلے تبصرے میں لکھ دی ہے ۔ اور یہ بھی یقین جانیں میں کسی بھی بات کا بُرا نہیں مناتا بلکہ اختلاف رائے کرتے ہوئے خود ڈرتا رہتا ہوں کہ کہیں کسی کی دل شکنی کا سبب نہ بنوں ۔
آپ نے ممبرانِ پارلیمنٹ کی جو تصویر کشی کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن جب ہر کوئی اس قانون کو ضیاء الحق کی باقیات گردانتا ہے تو پھر ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تم جمہوری حکومت ہوتے ہوئے اسے پھر ختم کیوں نہیں کرتے ؟ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس قانون پہ مفصل بحث اور اس کے بعد اس کی نئے سرے سے توثیق اشد ضروری ہے تاکہ ہمارے خلاف متحرک پراپیگنڈہ مشنری کو یہ واضح پیغام مل جائے کہ پاکستانی قوم کی اس مسئلے پہ سوچ اور جذبات جمہوری حکومت میں بھی وہی ہیں جوکہ مارشل لاء دور میں تھے ۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنی صفوں میں موجود اسلام کے سچے اور نام نہاد نام لیواؤں کا بھی بخوبی علم ہوجائے گا ۔
جہاں تک اس قانون میں کسی ترمیم کا تعلق ہے تو میں اب بھی اس کے حق میں ہوں اور وہ آپ کی رائے اور مکمل تنقیدی تبصرے کے لئے بلاگ میں پیش کروں گا ، فی الحال شعیب صاحب کا منتظر ہوں کہ وہ اپنی ماہرانہ رائے سے نوازیں ۔ آپ کی عوامی ریفرینڈم والی تجویز بھی قابل عمل آپشن ہے بشرطیکہ یہ مطالبہ قوم اور تمام مذہبی پارٹیوں کی طرف سے ہو ۔
آپ کا بے حد شکریہ ۔
محترم جناب ظفر جعفری صاحب ، ایڈٹ
میں سلمان تاثیر کے قتل پہ اس بلاگ میں کچھ نہیں لکھنا چاہتا کہ یہ موضوع بحث نہیں ہے ۔
” مولانا اشرفی نے مزید کہا کہ جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے تقریباً چار ہزار افراد پر اس قانون کے تحت مقدمے چلائے گئے ہیں اور اُن میں سے کسی کے بھی خلاف ناموسِ رسالت کا ارتکاب ثابت نہیں ہوسکا۔ مولانا کے مطابق ضرورت ایسے قانون کی ہے جس کے تحت غلط الزام لگانے والے کیلئے بھی سخت سزا ہو “
مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان علماء کونسل کوئی سرکاری سرپرستی میں چلنے والی کونسل ہے یا کہ کوئی خود مختار کونسل ، کیونکہ دونوں صورتوں میں بیان کی صحت اور اہمیت بدل جاتی ہے ۔ بہرحال مولانا اشرفی صاحب کا بیان یہاں نقل کرتے ہوئے آپ شاید اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ اس قانون کا واقعی غلط استعمال ہورہا ہے ۔ ایسا بیان ہمارے خلاف بیرونی پراپیگنڈے کو اور بھی تقویت دیتا ہے ۔ میں پھر اسی بات پہ زور دوں گا کہ اس قانون پہ اسمبلی میں بحث کی جائے اور ان چار ہزار افراد کی تفصیلات ان کے متعلقہ ممبرانِ پارلیمنٹ اسمبلی فلور پہ میڈیا اور عوام کے سامنے لائیں ۔
محترم جناب محمد احمد ترازی صاحب ،
قانونِ ناموسِ رسالت کی پوری تاریخ ، جس کا کچھ حصہ جناب ہمٰدانی صاحب نے بھی میرے پہلے والے بلاگ میں پیش کر دیا تھا ، پیش کرنے کا شکریہ ۔ امید ہے اس بیک گراؤنڈ اور پی پی پی حکومت کی مجوزہ ترامیم کے تناظر میں بات اور واضح ہوجائے گی ۔
جناب جاوید کیانی صاحب
ہماری معلومات کے مطابق اشرفی صاحب سرکاری آدمی ہیں یہ پاکستان علماء کونسل بھی سرکاری سرپرستی میں قائم ہے دوسرہ بات یہ کہ مولانا اشرفی کا یہ کہنا قطعآ غلط ہے کہ اب تک ” تقریباً چار ہزار افراد پر اس قانون کے تحت مقدمے چلائے گئے ہیں اور اُن میں سے کسی کے بھی خلاف ناموسِ رسالت کا ارتکاب ثابت نہیں ہوسکا۔ مولانا کے مطابق ضرورت ایسے قانون کی ہے جس کے تحت غلط الزام لگانے والے کیلئے بھی سخت سزا ہو “
پہلی بات یہ کہ اب تک ریکارڈ کے مطابق 23 برسوں کے اندر اس قانون کے تحت 964 مقدمے درج ہوئے،جن میں 479 ،مقدمات مسلمانوں،340 قادیانیوں،119 عیسائیوں اور 14 ہندووں اور 12 مقدمات دیگر کے خلاف درج ہوئے،ان 964مقدمات میں کسی ایک کو بھی بھانسی کے پھندے تک نہیں پہنچنا پڑا
دوسری بات یہ کہ ہمارے قانون میں اس بات کی بھی دفعہ موجود ہے کہ اگر کوئی کسی پر توہین رسالت یا کسی اور جرم میں غلط رپورٹ دی ہے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت کاروائی ہوگی البتہ اس کی سزا میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس پر قانون سازی ہوسکتی ہے
دیکھا جائے تو توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے بھی سخت سزا قانون میں موجود ہے جن افراد نے ماضی میں جھوٹے الزامات لگائے اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی تو اآج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔
جناب جاوید کیانی صاحب
ہم یہاں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر تعزیرات پاکستان کی دفعات 193،194،195،اور 182 ت اور پ کی ضروری تشہیر کی جاتی مثلا یہ کہ کسی بھی مقدمے میں عدالت جھوٹی گواہی دینے یا Fabricate کرنے کی سزا 193،ت ،پ کے تحت سات سال سزائے قید اور دفعہ 194 ت،پ کے تحت سزائے موت کے مستوجب کسی جرم کے مقدمے میں جھوٹی شہادت دینے یا شہادت کو Fabricate کرنے کی سزا عمر قید یا دس سال قید با مشقت اور جرمانہ کی سزا مقرر ہے ،ان دفعات کے مقدمے میں جھوٹا الزام لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی اور ان کو عملآ سزا دیئے جانے کی خبروں کی بڑے پیمانے پر اشاعت سے جھوٹے الزام لگانے والے لوگ عبرت حاصل کرتے اور کسی پر ایسا سنگین جھوٹا الزام لگانے کے ارتکاب میں کمی واقع ہوتی
اسی طرح دفعہ 195 ت،پ کے تحت عمر قید کی سا مستوجب کسی جرم کے مقدمے میں جھوٹی شہادت دینے یا شہادت کو Fabricate کرنے والے کواتنی ہی سزا دی جاستی جتنی سزا اس جرم کے مرتکب کو دی جاتی ہے تو شاید آج یہ حال نہ ہوتا۔
دفعہ 182 ت،پ کے تحت کسی سرکاری افسر ”بشمول تھانے کے افسران“کو غلط اور جھوٹی اطلاع ”بشمول ایف،آئی،آر“ دینے کی سزا پہلے ہی مقرر ہے چنانچہ ان قوانین کی موجودگی میں کسی دوسرے پروسیجر کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے اگر عدالتیں اور پولیس ٹھیک کام کریں تو موجودہ قوانین بھی کسی بے گناہ کو بچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
لیکن نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت قانون کی سب سے زیادہ مخالفت مسیحی اقلیت کے وہ رہمنا کررہے ہیں جن کا اپنا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا،ان کا طرز عمل ان کی اپنی کتاب انجیل اور ان کی مذہبی تعلیمات کے منافی ہے،اس حوالہ سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم یہ حقیقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ تحفظ ناموس رسالت قانون کی دفعہ 195 سی مسیحی اقلیت سے متصادم نہیں ہے اور نہ ہی ان کیلئے کوئی خطرہ ہے،جب ان کا دعوی ہے کہ وہ بیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کو واجب سمجھتے ہیں تو پھر انہیں ڈر کس بات کا ہے جس طرح ایک شریف شہری جو چوری ڈکیٹی کا تصور بھی نہیں کرسکتا ،اسے 308/411 اور 452 کی دفعات سے ڈر نہیں لگتا اور نہ ہی وہ ان کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ دفعات اسے تحفظ دیتی ہیں بالکل اسی طرح 195 سی بھی غیر مسلم اقلیت کو تحفظ دیتی ہے ،1994 میں ہائی کورٹ کے فل بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ”ناموس رسالت کا قانون اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے“
پھر اصل معاملہ کیا ہے؟
جناب
اصل معاملہ یہ ہے کہ 195 سی کی دفعہ اگر کسی کیلئے خطرے کا سبب ہے تو وہ قادیانی اور قادیانی گروہ ہے،وہ اسلیئے کہ مزرا غلام احمد قادیانی نے اپنی ذات کیلئے بنی بلکہ خاتم النبیین ’نعوذباللہ‘،اپنے ساتھیوں کیلئے صحابی،بیوی کیلئے ام المومنین،بیٹی کیلئے سیدہ النساء ،اپنے نائنین کیلئے خلیفۃ المسلمین جیسے القابات اور شعائر اسلامی اختیار کرکے اہانت رسول ،اہانت صحابہ،اہانت اہل بیت،اور اہانت اسلام کا ارتکاب کیا ،یہی عقائد ان کے ماننے والوں کے ایمان کا حصہ ہیں،قادیانیوں کی کتب اور ان کا سارا لڑیچر اس قانون کی زد میں آتا ہے کیا اس قانون کی مخالفت کرکے مسیحی اقلیت کے رہنما قادیانیوں کو تحفظ فراہم نہیں کررہے یہ بات قابل غور اور توجہ ہے،
یہ بات بھی جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ قانون توہین رسالت کے نفاذ کے بعد چند برسوں تک مسیحی رہنماؤں نے کسی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا ،ان کا طرز عمل قطعی ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے ،یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جو قانون رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموسکی حفاطت کرتا ہے آج مسیحی رہنما اسے غلط اور تعصب پر مبنی قرار دے رہے ہیں اور ہمارے لبرل ازم ذہن ان کی آواز میں آواز ملارہے ہیں
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ 1994 میں قومی اسمبلی کی سظح پر حکومت نے تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے نو ادراد پر مستمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں اس وقت کے وزیر داخلہ نصراللہ بابر،وزیر قانون اقبال حیدر اقلیتی نمائندے فادر جولیس ،ایم این اے طارق سی قیصر،کے علاوہ مسلمان ایم این اے شامل تھے پہلا اجلاس وزیر داخلہ کی صدارت میں وزیر قانون کی موجودگی میں منعقد ہوا جس میں چار مسلمان اور چاراقلیتی نمائندوں نے تحفظ رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے،اسے ختم کرنے یا سزائے موت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا،تاہم اس اجلاس میں انہوں نے بعض اوقات اس قانون کو غلط استعمال سے متعلق خدشات اور تشویس کا اظہار ضرور کیا
لیکن اب کیا ہوگیا یہ سمجھ سے بالاتر نہیں ،اور نہ ہی یہ اتنا مشکل ہے کہ اس تانے بانے نہ ملائے جاسکیں
محترم جناب محمد احمد ترازی صاحب ،
گو اس بلاگ میں لکھنے والوں کی تعداد نہایت قلیل ہے ، شاید عالمی اخبار پڑھنے والے چھٹیوں پہ چلے گئے یا شاید ایسا مصلحتوں کی وجہ سے ہے اور یا پھر میرے وطن میں چھائی خوف و ہراس کی لہر کی وجہ سے ، بہرحال آپ کے تبصرے پڑھنے کے بعد ایک دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ یہ بلاگ ایک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ۔ مجھے زیادہ خوشی ہوتی اگر کوئی اعداد و شمار اور دلائل کے ساتھ مخالفت میں لکھتا تاکہ صحیح حقیقت بمقابلہ پراپیگنڈہ واضح ہو جاتی ۔
مجھے پہلے ہی شبہہ تھا کہ چیئرمین پاکستان علماء کونسل مشرف کی بخشی ہوئی کوئی ’ اشرفی ‘ ہیں جسے آپ نے یقین میں بدل دیا ۔ جس ٹی وی پروگرام میں انہوں نے من گھڑت اعداد و شمار پیش کئے پتہ نہیں اسے کسی نے چیلنج کیوں نہیں کیا ۔ آخری ہماری وزارتِ مذہبی امور کیا حجاج کرام کو لوٹنے کے لئے ہی رہ گئی ہے ؟
جو اعداد و شمار آپ نے پیش کئے ہیں انہی سے ملتے جلتے بی بی سی کی ویب سائیٹ پہ بھی پیش کئے گئے ہیں ۔ ستم ظریفی کی بات دیکھیں کہ 23 برسوں میں ریکارڈ کئے گئے مقدمات میں ابھی تک کسی ایک کو بھی پھانسی نہیں ہوئی اور پراپیگنڈہ یوں کیا جارہا ہے جیسے خدا ناخواستہ آدھا پاکستان پھانسی چڑھ گیا ہو ۔ اور یہی حقائق دنیا کے سامنے لانے کے لئے میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ اس قانون پہ ایک منتخب جمہوری حکومت کی اسمبلی میں دوبارہ مفصل بحث ہونی چاہیئے ۔ ان اعداد و شمار میں تکلیف دہ بات خود مسلمانوں کے خلاف مقدمات ہیں جو فرقہ واریت کا شاخسانہ ہیں اور یہی خطرناک رجحان اس بلاگ کی وجہ بنا ۔
” 195 سی کی دفعہ اگر کسی کیلئے خطرے کا سبب ہے تو وہ قادیانی گروہ ہے ، قادیانیوں کی کتب اور ان کا سارا لڑیچر اس قانون کی زد میں آتا ہے کیا اس قانون کی مخالفت کرکے مسیحی اقلیت کے رہنما قادیانیوں کو تحفظ فراہم نہیں کررہے یہ بات قابل غور اور توجہ ہے “
جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے وہ انتہائی منظم طریقے سے اس قانون کا پورا پورا فائدہ امریکہ ، کینیڈا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کی صورت میں اٹھا رہے ہیں اور جو بات آپ نے مسیحی راہنماؤں کی قادیانیوں کو تحفط فراہم کرنے کی ہے وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے یہودیوں نے حضرت مریم پہ بہتان تراشی کی ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب تک پہنچایا لیکن خود عیسائیوں کے ہمدرد بن کر انہیں مسلمانوں سے لڑا دیا اور خود کھڑے تماشہ دیکھنا اشروع کردیا ۔
” دوسری بات یہ کہ ہمارے قانون میں اس بات کی بھی دفعہ موجود ہے کہ اگر کوئی کسی پر توہین رسالت یا کسی اور جرم میں غلط رپورٹ دی ہے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت کاروائی ہوگی البتہ اس کی سزا میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جس پر قانون سازی ہوسکتی ہے “
اور یہی بات جو میں بار بار دہرا رہا ہوں کہ اس قانون میں ترمیم بہت ضروری ہے ۔ میں اس پہ مفصل بحث اپنے قانون دان قارئین و مبصرین کی آراء ملنے کے بعد کروں گا ۔
آپ کا بے حد شکریہ ۔
السلام وعلیکم۔ محترم محمد احمد ترازی صاحب۔
آپ کے بلاگ کے حوالے سے :
۔توہین رسالت کے جرم کی سزا قرآن وسنت اور اِجماعِ امت کی روشنی میں سزائے موت ہے،
محترم محمد احمد ترازی صاحب میں آپ کا بے حد مشکور اور شکر گزار ہوں گا۔
اگرآپ قرآن پاک کا حوالہ بھی لکھ دیں ۔ تاکہ میرے جیسے طالب علم کو سمجھنے میںمزید آسانی ہوجائے ۔
میں آپ کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ آپ کے علم میں اور بھی اضافہ کرئے ۔ آمین۔
وسلام۔
آویز ۔ برمنگھم
محترم جناب جاوید کیانی صاحب
اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں ملک کی سترہ کروڑ عوام کی طرح قانون توہین رسالت 195 کی کسی بھی شق اے،بی اور سی میں کسی بھی قسم کی ایسی ترمیم جو ان دفعات کو غیر موثر کردے یا کسی مجرم کو شک کا فائدہ دے کر بچ نکلنے کا موقع دے دے ،حق میں نہیں ہیں،
اور نہ ہی اس بات کے حق میں ہیں کہ ان قوانین کو دوبارہ اسمبلی میں لاکر بحث کی جائی اور ترمیم و اضافہ کیا جائے کیونکہ نہ تو اس ضرورت ہے اور نہ ہی یہ قانون اس اسمبلی نے منظور کئے ہیں اور نہ ہی اس اسمبلی کے لوگ اس قابل ہیں کہ وہ اس حساس موضوع پر بحث کرسکیں کیونکہ ان کا مبلغ علم سب جانتے ہیں ،دوسرے یہ کہ اس طرح سے تو ہر وہ قانون جو کسی اور مذہب کے ماننے والوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اس کیلئے بھی تبدیلی کا ایک نیا راستہ کھل جائے جو ہماری مملکت کی نظریاتی شناخت اور بنیادی اساس کو ختم کرنے کا باعث بنے گا۔
السلام علیکم
اس معاملے میں میری ذاتی رائے یہ ہے
مجوزہ ترامیم میں سے نمبر پانچ اور چھ کو قانون کا حصہ بننا چاہیئے۔
مزید یہ کہ توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کروانے کے لئے بھی حدود کی مانند چار نیک شہرت کے گواہوں کی گواہی لازم قرار دی جائے
عام طور پر ایسے مقدمات دیہاتوں میں درج کروائے جاتے ہیں۔ مدعی کی دینی اور دُنیاوی تعلیم کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیئے۔
توہینِ رسالت کے مجرم کے لئے موت کی سزا برقرار رہنی چاہئیے
کیانی صاحب نے اس سلسلے میں آسیہ بی بی کے کیس سے لاعلمی کااظہار کیا ہے اس لئے اس کیس سے متعلق کچھ تفصیلات غیر جانبداری سے نقل کر رہی ہوں ۔
آسیہ زوجہ عاشق اٹاں والی چک نمبر 3ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔اس کے گھرکےقریب ہی فالسے کا کھیت ہے جس میں آسیہ دیگر خواتین کے ساتھ مل کر یومیہ اجرت پر فالسے چننے روزانہ جاتی تھی ۔14جون 2009ء کو آسیہ ،اسماء ،یاسمین ،مافیا کے ہمراہ کھیت میں فالسے چننے گئی ۔ کام کے دوران مافیا اور اسماء نے آسیہ کو پانی لانے کا کہا ۔لیکن ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے پانی لیے سے انکا ر کردیا اور کہا کہ تم کرسچن ہواس لئے ہم تمہارے ہاتھ سے پانی نہیں پئیں گی۔جس پر آسیہ غصہ میں آگئی اور اس نے حضور پاک ص اور قرآن پاک کے خلاف گستاخانہ کلمات ادا کئے جنہیں میں حذف کر رہی ہوں ۔جس پر مسلم خواتین نے کھیت کے مالک ادریس کی بیوی کو جاکر واقعہ کی تفصیل بتائی۔
آسیہ کے ا ن جملوں پر مقامی آبادی میں شدیداشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے پنچائیت بلانے کا اعلان کیا ۔19 جون 2009کو علاقے میں پنچائیت ہوئی ۔اور آسیہ سے ان گستاخ کلمات کے بارے میں پوچھا گیا تو آسیہ نے یہ تسلیم کیا کہ اس نے ایساکہاہے لیکن وہ لوگوں سےمعافی مانگتی ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔
آسیہ کے اس اعتراف پر تھانہ ننکانہ صاحب پولیس نے قاری محمد سلیم کی شکایت پر آسیہ بی بی کے خلاف 19جون 2009ء کو ایف آ ئی آر نمبر2009/326 زیر دفعہ 295-c,p.p.cکے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔مقدمے کی تفتیش کا آغاز شیخو پورہ کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس محمد امین بخاری نے کیا ۔جنہیں 26 جون 2009ء کو بطور ایس پی شیخو پورہ تعینا ت کر دیا گیا ۔جہاں سے یہ کیس عدالت میں پیش کیاگیا۔ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب محمدنوید اقبال نےفریقین کو نوٹس جاری کر دئے۔26 جون 2009ء کو 27افراد مدعی کی جانب سے جبکہ 5 افرادآسیہ کی جانب سے پیش ہوئے۔فریقین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد آسیہ کو6جولائی 2009ء کو جیل بھیج دیا گیا ۔
عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق”تفتیشی افسر نے کاروائی کرتے ہوئےمعلومات اکٹھی کیں کہ واقعہ ادریس نامی شخص کے فالسے کے کھیت میں پیش آیا ۔ جہاں آسیہ بی بی نے پانی لینے سے انکار پر گستا خانہ جملے ادا کئے ۔بعد ازاں پنچائیت میں مجرمہ آسیہ نے اعترا ف کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی ۔دوران تفتیش مجرمہ آسیہ نے یہ الزام عائد کیا کہ مذکورہ خواتین نے اسلام کی دعوت قبول نہ کرنے پر اس کے خلاف یہ الزامات عائد کئے۔تاہم آسیہ عدالت میں یہ بات ثابت نہ کرسکی۔تفتیشی افسرنے تفتیش مکمل کرکے فائل مذکورہ تھا نے کے اسٹیشن ہائوس افسرکو بھیج دی ۔
13اکتوبر 2009 کو سیشن عدالت نے ملزمہ پر فر د جرم عائد کردیا اور ملزمہ کوالزام پڑھ کر سنایا گیا تاہم آسیہ نے الزام قبول کرنے سے انکار کیا جس پر سیشن عدالت نے ان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔مقدمے میں آٹھ گواہوں کے بیانا ت قلم بند ہوئے۔جن میں شکایات درج کرنے والے قاری محمد امین ،واقع کی عینی شاہد مافیا،پنچائیت میں موجود محمد افضل،چالان ترتیب دینے والے سب انسپکٹر محمد رضوان ،ایس پی انویسٹی گیشن محمد امین بخاری،ایس ایچ او محمد ارشد اور کھیت کے مالک ادریس شامل ہیں ۔جس کے بعد ملزمہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔
اپنے حلفیہ بیان میںآسیہ نے کہا کہ” وہ ایک شادی شدہ خاتون اور دو بیٹوں کی ماں ہے۔ اس کا شو ہر مزدور ہے جبکہ وہ کھیت میں فالسے چننے کا کام کرتی ہے۔واقعہ کے روز وہ مذکورہ بالا مسلم خواتین کے ہمراہ کام کررہی تھی کہ انہوں نے مجھ سے پانی مانگا اور پھر کہا کہ وہ میرے ہاتھ سے پانی نہیں پئیں گی کیونکہ میں کرسچن ہوں ۔ ہمارے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔جس پر اسماء اوردیگر نے قاری سلیم کی بیوی جو کہ اسماءاور دیگر کی استانی ہیں کو شکایت کی بعد ازاں ان کے کہنے پر میرے خلاف جھوٹا من گھڑت مقدمہ درج کروایا گیا ۔میں نے پولیس کو بائبل پر حلف لینے کی بھی درخواست کی کہ میں نے گستاخانہ جملے ادا نہیں کئے۔ میں حضرت محمد کی بہت عزت کرتی ہوں اور قرآن مجید کی بھی ۔مگر پولیس نےمخالفین کے ساتھ مل کر جھوٹا مقد مہ بنا دیا ۔ مقدمے کی گواہ اور عینی شاہدمافیہ بی بی اور اسماء بی بی سگی بہنیں ہیں ۔اور دونوں ہی میرے خلاف بھی ہیں ۔جبکہ قاری سلیم کا بھی مفاد ہے کیونکہ یہ دونوں بہنیں قاری سلیم کی بیوی کے پاس تعلیم حاصل کرتی ہیں ۔ میں نسلوں سے اسی گائوں میں ہ رہی ہوں۔میں خود چالیس سال کی ہوں ۔یہاں اب تک الزامات کا کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہواسوائے میرے۔میں ان پڑھ ہوں جبکہ دیگر گواہوں کے ایک دوسرے سے خاندانی تعلقات ہیں ۔اسی لئے وہ ایک دوسرے کی مدد کرکے میرے خلاف گواہی دے رہے ہیں ۔بعد ازاں مدعی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پراسیکیوشن آسیہ کے خلاف شواہد پیش کرچکی ہے۔اس گائوں میں مسلم آبادی کے ساتھ کرسچن آبادی عرصہ دراز سے رہتے آئے ہیں لیکن کوئی واقع پیش نہیں آیا ۔دونوں مذاہب کے لوگوںمیں ایک دوسرے کے لئے برداشت موجود ہے۔آسیہ بی بی نے توہین آمیز جملے ادا کئے ہیں جس کے باعث عینی شاہدین جن میں غیر شادی شدہ لڑکیاں موجود ہیں انہوں نے عدالت میں پیش ہوکر گواہی دی حالانکہ گائوں میں اپنی غیر شادی شدہ لڑکی کو کوئی تھانے یا عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دیتالہذا عدالت ملزمہ کو سخت سزا دے ۔
آسیہ بی بی کے وکیل نے اعتراضا ت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اس مقدمے کو درج کرانے کا اختیا ر حکومت کے پاس ہےلیکن اس واقع میں پولیس نے مقدمہ درج کیا ۔جبکہ اس خاص نوعیت کے مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق ایس پی سطح کے افسر کو کرنا ہوتی ہے لیکن اس مقدمے میں ایس ایچ او نے بھی تفتیش کی ۔گواہان کے ایک دوسرے سے مفادات ہیں ۔سب نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور آسیہ کے خلاف ڈرامہ کرتے ہوئےمقدمہ درج کروایا ۔یہ ڈرامہ اقلیتی کرسچن برادری کے خلا ف مسلم اکثریتی برادری نے رچایا ہے ۔جبکہ پنچائیت میں شرکاء کی تعداد کے بارے میں لوگوں نے متضاد بیان دیئے ہیں ۔کسی نے کہا کہ پنچائیت میں 100 دوسرے نے کہا 1000تیسرے نے کہا کہ دو ہزار لوگ تھے ۔وکیل نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقع 16جون 2010جب کہ ایف آئی آر پانچ روز بعد 19جون کو درج کروائی گئی۔گواہوں کے متضاد بیانات کے تحت عدالت ان کی موکلہ آسیہ بی بی کوبری کرے۔جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اس عدالتی فیصلے میں فاضل جج نےوکیل صفائی کے دو بڑے اعترا ضا ت کا جواب یہ)1(دیا کہ تفتیشی افسر ایس پی سطح کا نہیں تھا )2(اس ایف آئی آرکو درج کرنے کی ہدایت صرف حکومت ہی دے سکتی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ اعتراض نمبر 1کا جواب کہ تفتیش زیادہ تر ایس پی امین بخاری نے ہی کی اور تمام گواہوں کے بیانا ت قلمبند کروائےجبکہ اعتراض نمبر 2 اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ وکیل صفائی نے یہ اعتراض مقدمے کی سماعت کے آغاز یا گواہوں کے بیانات یا آخر تک نہیں کیا جس کے باعث آخر میں یہ اعتراض نہیں رکھا جا سکتا ۔استغاثہ کے عینی شاہدین خواتین کو پیش کیاگیا ۔ جن کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں ،جبکہ بقیہ گواہوں نے بھی اس واقع کی ٹھیک گواہی قلم بند کروائی ۔ کھیت کے مالک نے گواہی دی کہ آسیہ بی بی اور دیگر خواتین کے درمیان کبھی لڑائی نہیں ہوئی یا ان سے کوئی دشمنی نہیں تھی اس لئے آسیہ بی بی کا یہ بیان غلط ہے کہ عینی شاہدین خواتین نے اس کے خلاف حسد کی بنا اور دشمنی کے باعث گواہی دی ۔عدالت نے قرار دیا کہ گواہ نمبر 2اور 3 نوجوان لڑکیاں ہیں جو فالسے چننے آسیہ کے ساتھ جاتی تھیں ان میں ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ ا ن کی آسیہ سے دشمنی ہو۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عام طور پر معاشرے میں خاص کر اسی شہر میں لوگ مقدمات کے لئے خواتین کو تھانے یا عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کو قطعی پسند نہیں کرتے جبکہ وہ غیر شادی شدہ ہوں اور نوجوان ہوں یہ تو ممکن ہی نہیں کہ اس صورتحال میں لڑکیوں کو تھانے میں بیانات اور اور عدالتوں میں کٹہرے کے اندر کھڑا کرنے کی اجازت ہولیکن معاملہ اس قدرسنگین نوعیت کا تھا کہ لوگوں نے نوجوان و غیر شادی شدہ لڑکیوں کو عدالتوں میں پیش کیا ۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ آسیہ نے عدالت میں بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر خواتین نے پانی مانگا اور انکار کردیا وہ کرسچن ہیں اسلئے وہ پانی نہیں پیئں گی۔جس کے بعد تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور انہوں نے میری شکایت کھیت کے مالک کی بیوی سے کی ۔عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں آسیہ اور دیگر خواتین کے درمیان کسی موضوع پر مقابلہ ہوا ہوگا تو ظاہر ہے بنیاد مذہب کی تھی اس لئے مذہب کے علاوہ کسی اور موضوع پر نہیں ہوئی ہوگی ۔اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہےکہ اس گاوں میں عرصہ دراز سے مسلم برادری کے علاوہ کرسچن برادری موجود ہہے۔لیکن آج تک کوئی سنگل واقعہ بھی ایسا رونما نہیں ہوا ۔اگر ایسا کوئی واقع ہوتا تو رپورٹ ہوتا ۔اس کے علاوہ آسیہ بی بی اپنے حق میں کوئی شواہد پیش کرسکی اور نہ ہی کوئی گواہ۔
جس کے بعد یہ طے ہوا کہ پراسیکیوشن نے جرم ثابت کردیا ہے اور اس کے پیچھے دشمنی کا کوئی حربہ کارفرما نہیں جس کے شواہد نہیں ملے۔لہذا عدالت آسیہ بی بی کو سزائے موت اور ایک لکھ جرمانے کی سزا کا حکم دیتی ہے ۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں آسیہ بی بی کو 6ماہ جیل میں گزارنا ہوں گی۔اس کے علاوہ آسیہ بی بی کو مکمل اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کرنا چاہیں تو ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتی ہیں۔
حامد میر صاحب نے اپنے ایک کالم میں جو واقعہ درج کیا ہے وہ کچھ مختلف ہے وہ لکھتے ہیں
آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کیلئے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی لیکن اس کا موقف یہ تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔ ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 8 نومبر 2010ء کو آسیہ بی بی کیلئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا۔ اس سزا کے بعد وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور ساتھ ہی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کو بھی ظالمانہ قرار دے دیا۔
والسلام
زرقا
محترم آویز بھائی آپ کے لئے ..
قران پاک میں ارشاد خداوندی ہے …
”اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا ( تکلیف) پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کر دی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب بھی تیار کر دیا ہے۔ “ (الاحزاب : 58)
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہوا ہے کہ ”اللہ اور اسکے رسولۖ کو ایذا دینے والے دنیا اور آخرت میں ملعون ذلیل اورسخت ترین رسوا کن عذاب میں مبتلا ہوں گے… اللہ کو ستانا یہ کے کہ اسکے پیغمبروں کو ستائیں یا ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کریں”… اللہ اور اسکے رسولۖ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے شیطانوں کی سزا… اس آیت کریمہ کے علاوہ بھی دیگر کئی آیات مقدسہ سے ثابت ہے…
اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے معصوم مومن عورتوں اور مومن مردوں پر الزام لگانے والوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اسے بھی ”ایذا“ قرار دیا ہے مگر اس ایذا کو صرف ” اثماً مبیناً“ واضح گناہ قرار دیا ہے۔
اس سے اگلی آیت میں اللہ نے اپنے نبی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو حکم دے دیں کہ وہ پردے میں ملبوس ہو کر نکلیں تاکہ وہ اوباشوں کی ایذا سے محفوظ رہیں ….
اس سے اگلی آیت میں انتباہ کیا کہ ایسی حرکتیں کرنے والے منافق اگر باز نہ آئے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ دیں گے اور دلوں میں کوڑھ رکھنے والے اور توہین آمیز خبریں پھیلانے والے مدینہ میں رہ نہ سکیں گے، کچھ قتل ہوں گے اور کچھ جلا وطن ہوں گے۔
اس کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فیصلہ فرما دیا۔ توہین رسالت کرنے والوں کے بارے میں قرآن کا دو ٹوک اور واضح فیصلہ یوں ہے :
”ان پر ہر جانب سے لعنتیں برسیں گی یہ جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل ہو کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“ (الاحزاب : 61)
ملاحظہ ہو، اللہ تعالیٰ نے لعنت صرف ان لوگوں پر کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیں۔ مومنوں اور مومنات کو ایذا دینے پر لعنت نہیں کی، وہاں صرف بہتان اور واضح گناہ کی بات کی….
ثابت ہوا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا معاملہ نا قابل برداشت ہے، چنانچہ سورت احزاب کی مندرجہ بالا آیت کا آغاز کیا تو ” ملعونین“ کے لفظ سے کیا یعنی وہی ملعونین جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیں ان کی سزا یہ ہے کہ جہاں بھی بھاگ جائیں وہیں سے پکڑے جائیں اور قتل کیے جائیں تو ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں …. اب اس سے اگلی آیت ملاحظہ ہو :
”وہ لوگ جو پہلے گزر چکے، ان میں بھی اللہ کا قانون یہی تھا اور تم ہر گز ہر گز اللہ کے طریق کار میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔“ (الاحزاب : 62)
بائبل کی چند آیات بھی ہم یہاں لکھتے ہیں، تورات یا بائبل کا یہ باب ” استثنا“ ہے۔ صفحہ 183 ہے، ملاحظہ ہوں آیات :
”شریعت کی جو بات وہ تجھ کو سکھلائیں اور جیسا فیصلہ تجھ کو بتلائیں اسی کے مطابق کرنا اور جو کچھ فتویٰ وہ دیں اس سے داہنے یا بائیں نہ مڑنا، اور اگر کوئی شخص گستاخی سے پیش آئے کہ اس کاہن کی بات جو خداوند تیرے خدا کے حضور خدمت کے لیے کھڑا رہتا ہے یا اس قاضی کا کہا نہ سنے تو وہ شخص مار ڈالا جائے اور تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دور کر دینا اور سب لوگ سن کر ڈر جائیں اور پھر گستاخی سے پیش نہیں آئیں گے۔“
یاد رہے ! بائبل میں بنو اسرائیل کے انبیاءکو کاہن بھی کہا گیا ہے جیسے عزرا کاہن یعنی عزیرعلیہ السلام …. ثابت ہوا کہ انبیاءکی توہین کا جرم جیسا کہ قرآن نے بتلایا پہلی قوموں میں بھی قتل ہے۔ نیز بائبل واضح کر رہی ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قتل کی سزا کے ڈر سے کوئی گستاخ توہین نبی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔
لفظ ایذا کی عملی تفسیر :
آئیے ! اب دیکھتے ہیں کہ قرآن نے صاحب قرآن حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ”ایذا“ کے جس لفظ کا ذکر فرمایا اس کی شرح اللہ کے رسول حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کی۔ اس کی عملی تفسیر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں ثابت ہے کہ کعب بن اشرف جو ایک یہودی سردار تھا، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کیا کرتا تھا…. توہین آمیز اشعار کہتا تھا اور دیگر بہت ساری توہین آمیز حرکتیں کیا کرتا تھا۔ ملاحظہ ہوں، صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا :
”کون ہے جو کعب بن اشرف یہودی سے نبٹے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ” ایذا“ دی ہے۔“ (بخاری)
یاد رہے ! قرآن نے واضح کیا ہے کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی …. اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
قرآن کی دوسری دلیل :
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں :
”اور اگر وہ اپنے عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں توہین اور طعن و تشنیع کریں تو کفر کے لیڈروں سے لڑائی کرو، ان کے عہد کی کوئی حیثیت نہیں تاکہ یہ (توہین آمیزیوں سے) باز آ جائیں۔“ (التوبہ: 12)
ثابت ہوا اگر کوئی غیر مسلم ذمی مسلمانوں کے ملک میں توہین کرتا ہے تو اس کا ذمہ ٹوٹ گیا۔ اس کی سزا قتل ہے …. اور اگر کوئی ملک توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو مسلم حکمرانوں کو اس کے خلاف اعلان جنگ کر دینا چاہیے کیونکہ توہین کے بعد عہد اور پیمان ٹوٹ گئے۔
یاد رہے ! حضور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا نام ” دین“ ہے۔ جب آپ کی توہین ہو گی تو سارے دین اسلام کی توہین ہو گی …. امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا ساری امت کو گالی دینا ہے۔ امام رازی اپنی تفسیر ’احکام القرآن‘ میں مذکورہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:اللہ کے رسول کو گالی دینا دین پر طعن و تشنیع کی نسبت کہیں زیادہ بڑی بات ہے لہٰذا اہل ذمہ میں سے جس نے توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا اس نے ذمہ توڑ دیا۔ اس کی سزا قتل ہے۔
تیسری دلیل :
اللہ کا ارشاد گرامی ہے :
”بلاشبہ تیرا دشمن ہی ابتر ہے۔ “ (الکوثر :3)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابتر کا معنی کاٹ ڈالنا، قطع کر دینا ہے۔ جب تلوار خوب تیز اور کاٹنے والی ہو تو اسے ” سیف بتار“ کہتے ہیں۔ یہ حصر و توکید کا صیغہ ہے۔ چنانچہ اللہ کی طرف سے اس لفظ کا جو تقاضا ہے وہ یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرنے اور توہین کرنے والوں کو ابتر کی حالت سے دو چار کرنا لازمی ہے اور اس کی صورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور اسلاف سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ شاتم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل ہونا چاہیے …. وہ قتل ہو گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنی اور توہین کی جڑ ختم ہو جائے گی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معاف کرنا :
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الصارم المسلول‘ میں واضح کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں گستاخوں کو معاف بھی کیا اور معاف نہیں بھی کیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے گستاخ کو معاف کر دیں تو یہ ان کا حق ہے جس کو چاہیں معاف کر دیں لیکن ان کی زندگی کے بعد امت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو معاف کر دیں اس پر امت کا اجماع ہے ….
اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر علماءیہاں تک لکھتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق امتیوں نے معاف کرنا شروع کر دیا تو یہ امت تباہ ہو جائے گی، لہٰذا امت کے اکابر علماءکا اجماع اسی بات پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں، وہ ہر صورت قتل ہی کیا جائے گا….
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے گستاخ کو قتل نہیں کیا جائے گا …. سزا تو دی جائے گی۔ قید ہو یا کوڑے مگر قتل صرف حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو کیا جائے گا، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی میں ہے، حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک شخص پر سخت غضب ناک ہوئے۔ مجھ پر بھی یہ گراں گزرا ،میں نے عرض کی اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے اس کی گردن اڑا دوں ؟ میرے اس جملے پر ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور وہاں سے چلے گئے پھر مجھے بلوایا اور پوچھا تم نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا تھا …. میں نے عرض کی کہ اس کی گردن اڑانے کی اجازت مانگی تھی۔ فرمایا گر اجازت دیتا تو کیا تم گردن اڑا دیتے ؟ اس نے کہا : جی ضرور! اس پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا :
”اللہ کی قسم ! حضور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی انسان کا مقام نہیں ( کہ اس کی توہین ہو اور وہ قتل کیا جائے )“
ثابت ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کے علاوہ کوئی قتل نہ کیا جائے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو جس پر گستاخی ثابت ہو جائے اسے چھوڑا نہ جائے گا …. نہ اس کی توبہ قبول ہو گی نہ اسے امت کا کوئی فرد چھوڑنے کا حق رکھے گا….
چنانچہ علما کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ :
٭ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قرآن سے صراحتاً ثابت ہے اور وہ سزاقتل ہے۔
٭ گستاخ غیر مسلم ہو، وہ مسلمان بھی ہو جائے تو سزا برقرار رہے گی اور وہ سزا قتل ہے۔
٭حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں گستاخ کو قتل بھی کروایا ہے اور معاف بھی کیا ہے۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تھا …. ان کے بعد امت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کو معاف کرے، لہٰذا اسے ہر صورت میں قتل ہی ہونا پڑے گا۔
چنانچہ ان دلائل و براہین اور کتاب و سنت کے مطابق علماءکے ان فیصلوں کے بعد ثابت ہوا کہ 295 سی کا قانون جس کے تحت پاکستان میں گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے، اسے تبدیل کرنا کتاب و سنت، اجماع امت اور علمائے کرام کے مشترکہ فیصلوں اور موقف کے صریحاً خلاف ہے۔
(کتاب و سنت کی روشنی میں
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے!
علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ
ترتیب و تالیف)
امیر حمزہ
The purpose of the post is to recall the Islamic injunction regarding this sensitive issue and to re sensitize the ummah again. We need to look again the collection of Ahadith and views of all four school of thoughts and most eminent scholars of Islam on this issue.
QURAN E KAREEM
Let us examine again the honor and dignity of a prophet in the lights of Quran e Kareem. Quran says in Sura Alhujrat -verse 2 (49:2)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
“O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet (صلى الله عليه وسلم), nor speak aloud to him in talk as you speak aloud to one another, lest your deeds should be rendered fruitless while you perceive not”.
In Sura Al Noor verse 63 (24:63) Quran asks:
لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ
“Make not the calling of the Messenger (Muhammad صلى الله عليه وسلم) among you as your calling one of another”.
In sura Al Maeda verse 33 (5:33) Quran says:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
“The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified or their hands and their feet be cut off from opposite sides, or be exiled from the land. That is their disgrace in this world, and a great torment is theirs in the Hereafter”.
In Sura Al Ahzab verse 57 (33:57) Quran says:
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
“Verily, those who annoy Allah and His Messenger (صلى الله عليه وسلم) Allah has cursed them in this world, and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating torment”.
In Sura Al Tauba verses 65-66 (9: 65-66), Quran says:
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَلَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ
If you ask them (about this), they declare: “We were only talking idly and joking.” Say: “Was it at Allah (عز وجل), and His Ayat (proofs, evidence, verses, lessons, signs, revelations) and His Messenger (صلى الله عليه وسلم) that you were mocking?”
Make no excuse; you disbelieved after you had believed. If We pardon some of you, We will punish others amongst you because they were Mujrimun (disbelievers, polytheists, sinners, criminals.)
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا
Verily, those who annoy Allah and His Messenger (صلى الله عليه وسلم) Allah has cursed them in this world, and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating torment. (sura Al Ahzab-verse 57)
مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا
Accursed, they shall be seized wherever found, and killed with a (terrible) slaughter.( Sura Al Ahzab- Verse 61)
SAHIH AHADITH
Let us also look into Sahih Ahadith and see what we can find regarding the sensitivity of this issue.
The Prophet (peace_be_upon_him) said: on the day of the conquest of Mecca: There are four persons whom I shall not give protection in the sacred and non-sacred territory. He then named them. There were two singing girls of al-Maqis; one of them was killed and the other escaped and embraced Islam.
(Sunnan Abu Dawud 14:2678)
Narrated Sa’d ibn AbuWaqqas: On the day of the conquest of Mecca, Abdullah ibn Sa’d ibn AbuSarh hid himself with Uthman ibn Affan. He brought him and made him stand before the Prophet (peace_be_upon_him), and said: Accept the allegiance of Abdullah, Apostle of Allah! He raised his head and looked at him three times, refusing him each time, but accepted his allegiance after the third time. Then turning to his companions, he said: Was not there a wise man among you who would stand up to him when he saw that I had withheld my hand from accepting his allegiance, and kill him? They said: We did not know what you had in your heart, Apostle of Allah! Why did you not give us a signal with your eye? He said: It is not advisable for a Prophet to play deceptive tricks with the eyes.
(Sunan abu daud -38 : 4346)
Narrated Abdullah Ibn Abbas: A blind man had a slave-mother who used to abuse the Prophet (peace_be_upon_him) and disparage him. He forbade her but she did not stop. He rebuked her but she did not give up her habit. One night she began to slander the Prophet (peace_be_upon_him) and abuse him. So he took a dagger, placed it on her belly, pressed it, and killed her. A child who came between her legs was smeared with the blood that was there. When the morning came, the Prophet (peace_be_upon_him) was informed about it. He assembled the people and said: I adjure by Allah the man who has done this action and I adjure him by my right to him that he should stand up. Jumping over the necks of the people and trembling the man stood up. He sat before the Prophet (peace_be_upon_him) and said: Apostle of Allah! I am her master; she used to abuse you and disparage you. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not abandon her habit. I have two sons like pearls from her, and she was my companion. Last night she began to abuse and disparage you. So I took a dagger, put it on her belly and pressed it till I killed her. Thereupon the Prophet (peace_be_upon_him) said: Oh be witness, no retaliation is payable for her blood.
(Sunan abu daud -38 : 4348)
Narrated Ali ibn AbuTalib: A Jewess used to abuse the Prophet (peace_be_upon_him) and disparage him. A man strangled her till she died. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) declared that no recompense was payable for her blood.
(Sunan abu daud -38 : 4349)
Narrated Jabir bin ‘Abdullah: Allah’s Apostle said, “Who is willing to kill Ka’b bin Al-Ashraf who has hurt Allah and His Apostle?” Thereupon Muhammad bin Maslama got up saying, “O Allah’s Apostle! Would you like that I kill him?” The Prophet said, “Yes,” Muhammad bin Maslama said, “Then allow me to say a (false) thing (i.e. to deceive Kab). “The Prophet said, “You may say it.” Then Muhammad bin Maslama went to Kab and said, “That man (i.e. Muhammad demands Sadaqa (i.e. Zakat) from us, and he has troubled us, and I have come to borrow something from you.” On that, Kab said, “By Allah, you will get tired of him!” Muhammad bin Maslama said, “Now as we have followed him, we do not want to leave him unless and until we see how his end is going to be. Now we want you to lend us a camel load or two of food.” (Some difference between narrators about a camel load or two.) Kab said, “Yes, (I will lend you), but you should mortgage something to me.” Muhammad bin Mas-lama and his companion said, “What do you want?” Ka’b replied, “Mortgage your women to me.” They said, “How can we mortgage our women to you and you are the most handsome of the ‘Arabs?” Ka’b said, “Then mortgage your sons to me.” They said, “How can we mortgage our sons to you? Later they would be abused by the people’s saying that so-and-so has been mortgaged for a camel load of food. That would cause us great disgrace, but we will mortgage our arms to you.” Muhammad bin Maslama and his companion promised Kab that Muhammad would return to him. He came to Kab at night along with Kab’s foster brother, Abu Na’ila. Kab invited them to come into his fort, and then he went down to them. His wife asked him, “Where are you going at this time?” Kab replied, “None but Muhammad bin Maslama and my (foster) brother Abu Na’ila have come.” His wife said, “I hear a voice as if dropping blood is from him, Ka’b said. “They are none but my brother Muhammad bin Maslama and my foster brother Abu Naila. A generous man should respond to a call at night even if invited to be killed.” Muhammad bin Maslama went with two men. (Some narrators mention the men as ‘Abu bin Jabr. Al Harith bin Aus and Abbad bin Bishr). So Muhammad bin Maslama went in together with two men, and sail to them, “When Ka’b comes, I will touch his hair and smell it, and when you see that I have got hold of his head, strip him. I will let you smell his head.” Kab bin Al-Ashraf came down to them wrapped in his clothes, and diffusing perfume. Muhammad bin Maslama said. ” have never smelt a better scent than this. Ka’b replied. “I have got the best ‘Arab women who know how to use the high class of perfume.” Muhammad bin Maslama requested Ka’b “Will you allow me to smell your head?” Ka’b said, “Yes.” Muhammad smelt it and made his companions smell it as well. Then he requested Ka’b again, “Will you let me (smell your head)?” Ka’b said, “Yes.” When Muhammad got a strong hold of him, he said (to his companions), “Get at him!” So they killed him and went to the Prophet and informed him. (Abu Rafi) was killed after Ka’b bin Al-Ashraf.”
(sahih bukhari- 59: 369)
Note: Ka.b bin al Ashraf, was a Jewish leader and he was a very eloquent poet. When the news was carried to Madina of the victory of the Muslims in the battle of Badr and Ka.b ibn al Ashraf heard of that news he said:
If this news is true, then being under the earth is better for us, then being on top of it.. Meaning, it is better for us to die. What good is there in living after the Kuffar of Quraysh have been defeated.And he started making poems in which he would lament the loss of the Mushrikeen and he would also speak against the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and the Muslims.Then he went on to Makkah to present to them his poetry and to also join them in their losses.And he went further and started mentioning Muslim women in his poetry.
Narrated Al-Bara bin azib: Allah’s Apostle sent a group of Ansari men to kill Abu-Rafi. One of them set out and entered their (i.e. the enemies) fort. That man said, “I hid myself in a stable for their animals. They closed the fort gate. Later they lost a donkey of theirs, so they went out in its search. I, too, went out along with them, pretending to look for it. They found the donkey and entered their fort. And I, too, entered along with them. They closed the gate of the fort at night, and kept its keys in a small window where I could see them. When those people slept, I took the keys and opened the gate of the fort and came upon Abu Rafi and said, ‘O Abu Rafi. When he replied me, I proceeded towards the voice and hit him. He shouted and I came out to come back, pretending to be a helper. I said, ‘O Abu Rafi, changing the tone of my voice. He asked me, ‘What do you want; woe to your mother?’ I asked him, ‘What has happened to you?’ He said, ‘I don’t know who came to me and hit me.’ Then I drove my sword into his belly and pushed it forcibly till it touched the bone. Then I came out, filled with puzzlement and went towards a ladder of theirs in order to get down but I fell down and sprained my foot. I came to my companions and said, ‘I will not leave till I hear the wailing of the women.’ So, I did not leave till I heard the women bewailing Abu Rafi, the merchant pf Hijaz. Then I got up, feeling no ailment, (and we proceeded) till we came upon the Prophet and informed him.”
(Sahih Bukhari-Book52, Hadith 264)
Narrated Anas bin Malik: On the day of the Conquest, the Prophet entered Mecca, wearing a helmet on his head. When he took it off, a man came and said, “ibn khatal is clinging to the curtain of the Ka’ba.” The Prophet said, “Kill him.” (Malik a sub-narrator said, “On that day the Prophet was not in a state of Ihram as it appeared to us, and Allah knows better.”
(Sahih Bukhari Book 59, Hadith 582)
Note: Abdullah ibn Khatal had these two slave girls who used to sing against the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), they would hold concerts in Makkah singing against the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). These two slave girls were on that list along with another slave girl that belonged to Abu Lahab.First of all let.s talk about Abdullah ibn Khatal, he actually was hanging to the cloths of the Ka.bah and one of the companions rushed towards him and killed him!
OPINION OF THE MOST RENOWNED AND EMINENT SCHOLARS OF ISLAM:
Imam Abu Hanifa:
“Muslim speaking against the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) should be executed and if it is a non-Muslim who doesn.t have a contract he should also be executed.”
Imam Ahmed:
“Whosoever abuses the Prophet (Peace be upon him) our “FINDS HIS FAULTS” then whether he was (previously) Muslim or not, then it is binding to “KILL HIM” and my opinion is that his repentance is not to be accepted rather he is only to be killed”
Imam Malik:
“If someone says that the button of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) is dirty, then he should be executed!.Even if it is as small as saying that, then this person should be executed”
“Whether Muslim or Kafir that doesn.t make difference he should be killed without warning!”
Al Waqidi mentions an incident; the Caliph Haroun ar Rasheed asked Imam Malik about a man who had spoken against the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Ar Rasheed told Imam Malik that the Fuqaha. of Iraq gave him a Fatwa to flog this man.Imam Malik was angry and said,
“O Ameer al Mumineen, how can the Ummah survive when its Prophet is cursed! Whoever curses the Prophets should be executed, and whoever curses the companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) should be flogged!.
Ibn e taymiyah:
Whoever curses the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) -a Muslim or a non Muslim- then he must be killed!”
“and this is the opinion of the general body of scholar”
“Muhammad bin Sahnun (rah) said: There is consensus (ijma) amongst ulama that anyone who insults the Prophet (Peace be upon him) and finds his defects then such a person is “KAFIR”and there is promise of Allah’s torment upon such a person and in sight of Ummah the ruling regarding him is to “KILL HIM” rather whosoever doubts in Kufr of such a person then he/she commits kufr himself. The research in this matter is that anyone who abuses the Prophet (Peace be upon him) is Kafir and he is to be killed unanimously, this is “MADHAB OF ALL 4 IMAMS” Ishaq bin Rahwiyah and others have mentioned this Ijma. If the abuser happens to be a Dhimmi (non Muslim living in Muslim land) then according to Imam Malik (rah) and people of Madina he is to be killed as well.”
“The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) sometimes chose to forgive those who had insulted him, and sometimes he ordered that they should be executed, if that served a greater purpose. But now his forgiveness is impossible because he is dead, so the execution of the one who insults him remains the right of Allaah, His Messenger and the believers, and the one who deserves to be executed cannot be let off, so the punishment must be carried out”.
Al-Saarim al-Maslool, 2/438
Written by Dr Jawaad Khan
قران کریم میں موجود حساسیت ، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی عظمت اور احترام کے حوالے سے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ( سوره الحجرات – آیت ٢ )
اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو،
(یہ تنبیہہ کفار یا منافقین کو نہیں دی جا رہی بلکہ ان مومنین صحابہ سے خطاب ہے جو کہ حکم نبوی صلی الله علیہ وسلم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے بغیر کسی تردد کے تیار ہوجاتے تھے)
لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( سورہ نور -آیت ٦٣)
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( سورہ المائدہ -آیات ٣٣ )
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ
لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ( سورہ التوبہ آیات – ٦٥/٦٦ )
اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے
بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں
قران کریم کا حتمی فیصلہ توہین رسالت کے حوالے سے
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ( سورہ ال احزاب – آیت ٥٧ )
جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ( سورہ ال احزاب – آیت ٦١ )
(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے ( ملعون)۔ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے
قران کریم میں ارشاد ہے
(ترجمہ) جو لوگ اللہ اور اسکے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین پر اس لئے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں۔ انکی سزا یہ ہے کہ قتل کئیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا انکے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں۔
(سورۃ المائدہ 5۔33)
توہین رسالت کے جرم کی سزااللہ تعالٰی کے قانون میں قتل ہے۔ چاہے مجرم یہودی ، عیسائی اورمسلمان ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس کے لئیے معافی کی گنجائش ہر گز نہیں۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم جو سارے عالم کے لئیے رحمت تھے انھوں صلیٰ اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر سب کو معاف کر دیا حتٰی کہ اپنے پیارے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا۔ لیکن توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو معاف نہیں کیا۔ اسے اسے کعبہ شریف کے پردے کے پیچھے سے نکال کر قتل کرنے کا حکم دیا۔
وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (سورہ آل عمران -٥٤ )
اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور الله نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی اور الله بہترین خفیہ تدبیر کرنے والو ں میں سے ہے ..
اور یہ اللہ کی تدبیر نہیں تو اور کیا ہے کہ جنہیں اس قانون کا پتہ تک نہ تھا وہ بھی اس پر سیر حاصل بحث فرما رہے ہیں .. سوچیں اللہ کو یہ تدبیر اسی وقت کیوں کرنی تھی .. اللہ سبحان تعالی ہمیں کسی جنگ کا اشارہ دے رہا ہے .. اور ہمیں اپنے ایمانوں کو مظبوط کرنے کی ترغیب بھی دے رہا ہے ..
رہی بات کہ میں اس قانون میں کوئی ترمیم چاہتی ہوں تو نہیں میں تو اس وقت تک اس میں کسی بھی ترمیم کی گنجائش نہیں سمجھ رہی اور نہ ہی کسی گستاخ کوکسی قسم کی رعایت دینے کو تیار ہوں تاہم آپ کے تبصرے کا انتظار ہے .
باجی السلام علیکم
جزاک اللہ
ہم آپ کے بے حد مشکور و ممنون ہیں
اللہ کریم آپ کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور آل رسول کے صدقے میں فلاح دارین عطا فرمائے آمین
کیانی صاحب
اس زمن میں یاتو ایسا کوئ قانون ہونا چاہئے جس کے تحت غلط الزام لگانے والے کیلئے سخت سزا ہو کیونکہ کسی پر غلط الزام لگانا ناموسِ رسالت کے قانون سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسکو موجودہ ناموسِ رسالت کے قانون میں ایک شقِ کے طور بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ناموسِ رسالت کے قانون میں کئ مرتبہ ترمیم ہو چکی ہے۔ قانون میں کسی کے بیان سے زیادہ اُسکی نیت کا سوال ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے تو کبھی دوسرے مزاہب کے موجد کو برا نہیں کہا۔ کوئ مسلمان اپنے رسول کی شان میں گستاخی کیسے کرسکتا ہے؟
جناب ظفر بھائی
آپ کی بات مناسب اور قابل عمل ہے ویسے تو تعزیرات پاکستان میں جھوٹی گواہی دینے یا کسی پر جھوٹا الزام لگانے والے خلاف کاروائی کی کئی دفعات موجود ہیں جن کا تذکرہ ہم اوہر کرچکے ہیں جیسے کہ
”تعزیرات پاکستان کی دفعات 193،194،195،اور 182 ت اور پ جو کہ کسی بھی مقدمے میں عدالت جھوٹی گواہی دینے یا Fabricate کرنے کی سزا 193،ت ،پ کے تحت سات سال سزائے قید اور دفعہ 194 ت،پ کے تحت سزائے موت کے مستوجب کسی جرم کے مقدمے میں جھوٹی شہادت دینے یا شہادت کو Fabricate کرنے کی سزا عمر قید یا دس سال قید با مشقت اور جرمانہ کی سزا مقرر ہے ،ان دفعات کے مقدمے میں جھوٹا الزام لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی اور ان کو عملآ سزا دیئے جانے کی خبروں کی بڑے پیمانے پر اشاعت سے جھوٹے الزام لگانے والے لوگ عبرت حاصل کرتے اور کسی پر ایسا سنگین جھوٹا الزام لگانے کے ارتکاب میں کمی واقع ہوتی
اسی طرح دفعہ 195 ت،پ کے تحت عمر قید کی سا مستوجب کسی جرم کے مقدمے میں جھوٹی شہادت دینے یا شہادت کو Fabricate کرنے والے کواتنی ہی سزا دی جاستی جتنی سزا اس جرم کے مرتکب کو دی جاتی ہے “
اسی طرح دفعہ 182 ت،پ کے تحت کسی سرکاری افسر ”بشمول تھانے کے افسران“کو غلط اور جھوٹی اطلاع ”بشمول ایف،آئی،آر“ دینے کی سزا پہلے ہی مقرر ہے
ویسے تو ان قوانین کی موجودگی میں کسی دوسرے پروسیجر کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے اگر عدالتیں اور پولیس ٹھیک کام کریں تو موجودہ قوانین بھی کسی بے گناہ کو بچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اور ان دفعات پر عمل کرکے جھوٹی گواہی دینے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے لیکن پھر بھی اگر یہ دفعات می دی گئی سزائیں کم ہیں تو ان پر نظر ثانی ہوسکتی ہے آپ یہ بات بھی مناسب ہے قانون توہین رسالت ”کو چھیڑے بغیر“ کے مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے والوں کیلئے سزا کا تعین اسی دفعہ میں ہو تو زیادہ بہتر ہے
محترم ظفر جعفری صاحب
آپ ترازی صاحب کے تبصرے میں پیش کئے گئے اعداد و شمار پہ غور فرمائیں کہ گذشتہ 23 برسوں کے دوران ، باقی تمام مذاہب کو چھوڑ کر ، 479 مقدمات میں سے 340 مقدمے تو صرف مسلمانوں کے خلاف ہیں جو کہ یقیناً جھوٹے الزامات ہی ہیں اور اس غلط روش کو عروج محض غلط الزامات لگانے والوں کو چھوٹ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ، جس کی مستقبل میں پیش بندی کی اشد ضرورت ہے ۔
محترمہ ڈاکٹر نگہت صاحبہ ،
اتنے قیمتی ریفرنس پیش کرنے کا شکریہ ۔
” اور یہ اللہ کی تدبیر نہیں تو اور کیا ہے کہ جنہیں اس قانون کا پتہ تک نہ تھا وہ بھی اس پر سیر حاصل بحث فرما رہے ہیں “
اور اللہ کی تدبیر کے علاوہ نجانے آپ اسے عالمی اخبار کا کارنامہ گنوانے سے کیوں کترا گئیں کہ جنھیں ، یعنی ملزم بذاتِ خود ، قانون سے لاعلمی کے علاوہ ڈھنگ کی گرامر بھی نہیں آتی وہ بھی بلاگ کھولے بیٹھے ہیں ، واہ اللہ تیری شان !
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
۔۔۔اور کیا یہ بھی حقیقت ہے کہ آسیہ بی بی کے فیصلے والے دن متعلقہ گاؤں کے علاوہ دوسرے قریبی قصبوں میں سے بھی لوگ مسلح ہوکر ، متوقع فیصلے پہ اثر انداز ہونے کی غرض سے ، احاطہء کچہری میں پہنچ گئے تھے ؟
آپ کے قیمتی وقت بالخصوص قیمتی آراء ، جوکہ بلاشبہ اس بلاگ کے اختتام کا حصہ ہوں گی ، کا بہت بہت شکریہ ۔
محترم محمد احمد ترازی صاحب ،
” اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں ملک کی سترہ کروڑ عوام کی طرح قانون توہین رسالت 195 کی کسی بھی شق اے،بی اور سی میں کسی بھی قسم کی ایسی ترمیم جو ان دفعات کو غیر موثر کردے یا کسی مجرم کو شک کا فائدہ دے کر بچ نکلنے کا موقع دے دے ،حق میں نہیں ہی “
محترم ، آپ کی آواز یہاں عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کی آواز ہے اور ہمارے سب قارئین و مبصرین کی آراء بہت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اس فورم کی آواز ہوں گی ۔
” نہ ہی یہ قانون اس اسمبلی نے منظور کئے ہیں اور نہ ہی اس اسمبلی کے لوگ اس قابل ہیں کہ وہ اس حساس موضوع پر بحث کرسکیں “
حضور یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ کسی ایک اسمبلی سے منظور کئے جانے والے قانون پہ اسی ملک کی کسی دوسرے دور کی اسمبلی بحث نہ کرسکے ۔ جہاں تک آپ کے خیال میں اس اسمبلی کی قابلیت کا تعلق ہے تو یہ بات تو کسی نے بھی نہیں کی اس پہ ابھی سے ہی بحث شروع کردی جائے بلکہ یہ کام آئندہ آنے والی یا پھر اس کے بھی بعد آنے والی حکومت کے دور میں بھی ہوسکتا ہے ، اور وہ بھی اس صورت میں جب پوری قوم اس کے تمام پہلوؤں سے اچھی طرح روسشناس ہو جائے ۔
”دوسرے یہ کہ اس طرح سے تو ہر وہ قانون جو کسی اور مذہب کے ماننے والوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اس کیلئے بھی تبدیلی کا ایک نیا راستہ کھل جائے جو ہماری مملکت کی نظریاتی شناخت اور بنیادی اساس کو ختم کرنے کا باعث بنے گا“
یہ قانون کسی مذہب یا فرقے کی خوشنودی کی خاطر ہر گز نہیں ہے بلکہ ایک نہایت اعلیٰ مقصد کے تحت متعارف کروایا گیا تھا اور وقت کے ساتھ اگر اس میں کچھ ترامیم ( improvements ) ناگزیر ہورہی ہیں تو ہمیں خوف کی دنیا سے نکل کر اپنے بنی (ص) سے وفا کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی بقا کو بھی مدنظر رکتے ہوئے اپنے دین کی اعتدال پسندی اور اپنی روشن خیالی ثابت کرتے ہوئے دنیا کے بے لگام و بے بنیاد پراپیگنڈے کا بروقت منہہ توڑ جواب دینا چاہیئے ۔
میں جنرل پرویز مشرف کا کٹر مخالف ہونے کے باوجود ان کا قانونِ ناموسِ رسالت پہ بیان یہاں چسپاں کرنے پہ مجبور ہورہا ہوں :
” پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ناموسِ رسالت کے قانون پر اجماع اور اجتہاد کے ذریعے نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے برطانیہ میں اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیداروں کا اعلان کرتے ہوئے ایک تقریب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقل، دانش اور منطق سے زیادہ جذبات کا معاملہ ہے، اس لیے اس قانون کو رہنا چاہیے۔ تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ اصل مسئلہ انصاف کا ہے اور قانون کے غلط استعمال کا ہے، اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اجماع اور اجتہاد کے ذریعے اِس قانون پر نظرِثانی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون میں جو خرابیاں ہیں اُن کو جس حد تک ٹھیک کیا جاسکتا ہے وہ کیا جائے “
ایک سوال کے جواب میں کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اس قانون کے بارے میں کیوں کچھ نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ انتظامی سطح پر اس قانون میں کچھ تبدیلیاں لائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اِس قانون میں جو ایک بڑی تبدیلی ان کے دور میں کی گئی وہ یہ تھی کہ اگر کوئی توہینِ رسالت کا الزام لگاتا ہے تو وہ پولیس میں مقدمہ درج کرانے کے بجائے وہ عدلیہ کے پاس جائے اور عدلیہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ کیا اتنے شواہد موجود ہیں کہ جن کی بنیاد پر اس قسم کا مقدمہ درج کیا جاسکے “
۔۔۔
تو آخر اس تجویز پہ عمل کیوں نہ ہوسکا ؟ پولیس نے کس کے ایما پہ ایسی ہدایات کو درگذر کیا اور عدلیہ کو بائی پاس کرتے ہوئے اختیارات کا ناجائیز استعمال کیا ؟
السلام علیکم
کیانی صاحب میں نے یہ واقعہ اخبارات سے نقل کیا ہے اور لوگ اس واقعے پر کیسے اثرانداز ہوئے معلوم نہیں.
میں اپنی مختصر رائے دے چکی ہوں کہ
توہینِ رسالت کی سزا برقرار رہنی چاہیئے
لیکن اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون میں ایسی ترمیم کی جائے کہ غلط الزام لگانے والے کو سخت سزا دی جا سکے . اور مدعی کا کردار شک و شبہ سے بالا تر ہو.
میرے اس اصرار کی ایک وجہ یہ ہے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو وہ تمام گستاخانہ کلمات خود ادا کرتا ہے اور توہین کا مرتکب ہو تا ہے پھر اُسے سزا کیوں نہیں دی جاتی.
دوسری بات یہ کہ میری تمام بلاگ نگاران سے درخواست ہے قرآنی حوالے درج کرتے وقت احتیاط سے کام لیں یہ دیکھ لیں کہ کوئی حکم کس ضمن میں نازل ہوا تھا
ایسی ہی ایک غلطی جنگ کے مشہور کالم نگار انصار عباسی صاحب نے کی ہے
انہوں نے سورہ مائدہ کی آیتِ مبارکہ نمبر تینتیس کا حوالہ دیا ہے حالانکہ اس کا تعلق ناموسِ رسالت سے نہیں ہے
مولانا مودودی اور مولانا شفیع عثمانی کی تفاسیر سے استفادہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ احکام اسلامی مملکت میں فساد برپا کرنے والوں کے لئے ہیں.
. إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌO
33. بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے
خلاصہ تفسیر
جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول سے لڑتے ہیں یعنی ملک میں فساد پھیلاتے ہیں . یعنی رہزنی یا ڈکیتی کرتے ہیں . ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے اگر انہوں نے ڈکیتی یا رہزنی کے دوران کسی کو قتل کیا ہو اور مال لوٹنے کی نوبت نہ آئی ہو. دوسری صورت میں سولی پر چڑھائے جائیں جبکہ انہوں نے مال لوٹا ہو اور قتل بھی کیا ہو. تیسری صورت میں دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹے جائیں جبکہ صرف مال لوٹا ہو کسی کو قتل نہ کیا ہو. چوتھی صورت میں قید کئے جائیں جبکہ مال لوٹنے یا قتل کرنے کے سے پہلے ہی گرفتار ہو جائیں.
مکمل تفسیر پڑھنے کے لئے لنک حاضر ہے
http://www.maarifulquran.net/PDFs/SurahMaa%27idaPage92-139.pdf
http://www.tafheemulquran.org/Tafhim_u/005/surah_all.htm
اسی طرح سورہ احزاب کی آیت نمبر اکسٹھ میں مرتدین کو قتل کرنے کا حکم ہے . یعنی وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد پھر کفر میں مشغول ہوئے
والسلام
زرقا
السلام علیکم ورحمت اللہ ۔
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ
جزاک اللہ خیر ۔
اتنی قیمتی باتیںلکھنے اور میرے علم میں اضافہ کرنے کا بے حد شکریہ ۔
یہ ساری باتیں پرنٹ آوٹ کرکے اپنے زاتی فولڈر میں رکھ لی ہیں تاکہ دوسرے دوستوں کو بھی بتا سکوں ۔
ایک بار پھر سے آپ کا تہہ دل سے شکریہ کہ آپ نے اپنی اتنی مصروف زندگی میں وقت نکال کر اتنی قیمتی باتیں لکھی۔
جس سے لاکھوں لوگوں کا بھلا ہوگا اور علم میں اضافہ ہوگا۔اس کا اجر اللہ تعالیٰ آپ کو صحت مند لمبی عمر عطا کرئے۔
اللہ پاک آپ کے علم اور فراست میں مزید اضافہ کرئے ۔آمین۔
وسلام ۔
آویز۔ برمنگھم
آویز بھائی سلامت رہیں .. آپ کی دعائیں میرے لئے قیمتی اثاثہ ہیں .. جزاک اللہ
احمد بھائی جیتے رہیں .. خوش رہیں .. آپ کی دعاؤں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے .. جزاک اللہ
جاوید بھائی ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی ڈھال ہے .. غور کریں تو عالمی اخبار کی بلاگ فیملی اپنے مشن پر رواں دواں ہے .. اور یہی اس نازک بحث کا کمال ہے .. سب حسب توفیق سیکھ رہے ہیں …ماشاللہ
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
” لیکن اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون میں ایسی ترمیم کی جائے کہ غلط الزام لگانے والے کو سخت سزا دی جا سکے . اور مدعی کا کردار شک و شبہ سے بالا تر ہو. میرے اس اصرار کی ایک وجہ یہ ہے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو وہ تمام گستاخانہ کلمات خود ادا کرتا ہے اور توہین کا مرتکب ہو تا ہے پھر اُسے سزا کیوں نہیں دی جاتی.“
نہ صرف جھوٹے الزام بلکہ کسی کو اشتعال دلانے پہ بھی سزا ہونی چاہیئے ۔ ہمارے پیغمبر (ص) کا واضح حکم ہے کہ کسی کے بھی دین پہ تنقید نہ کرو بلکہ قرآن پاک میں ہے کہ کافروں کے بتوں کو بھی گالی نہ دو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو گالی نہ دینے لگیں ۔ لیکن ہم خود بحث میں پہلے دوسرے کو اشتعال دلاتے ہیں ، اس کے عقیدے ، مسلک یا مذہب پہ تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ایسے میں اگر جواب میں وہ بھی کچھ کہہ دے اور ہم توہینِ رسالت کا قانون کھول لیں ، تو یہ ہوئی ناں سراسر اس کے غلط استعمال کی مثال ۔ لہذا آپ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں نہ صرف کسی پہ جھوٹا الزام لگانے والے بلکہ دوسرے کو اشتعال میں لاکر اسے توہین آمیز کلمات کہلوانے والے کی بھی سزا ہونی چاہیئے ۔
السلام علیکم
میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ قانون تمام انبیاء کرام کے لئے ہونا چاہیئے کیونکہ ہمارا سب پرایمان ہے.
دوسری بات یہ کہ مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ دوسرے ادیان سے تعرض نہ کریں. اگر ہم تاریخ سے ہی سبق سیکھ لیں تو معلوم ہو گا کہ اسلام اولیا ء کرام اور صوفیاء کے حُسنِ سلوک سے پھیلا نہ کہ تشدید اور عدم برداشت سے. لیکن آج ہمارا طرزِ عمل قطعا مختلف ہے.
موجودہ حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ترمیم کریں مزید یہ کہ میڈیا قانون کی پاسداری کی اہمیت کو اُجاگر کیا جائے. علماء کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ سادہ اذہان کو مشتعل کرنے کی بجائے قانونی راستہ اختیار کرنے کی نصیحت کریں.
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی ایک دوسرے پر توہینِ رسالت اور کفر کےالزامات لگاتے ہیں.
والسلام
زرقا
محرم الحرام کے موقعہ پر عالمی اخبار میں ہی ” پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ “ کے عنوان سے اہلِ سنت کے ممتاز عالمِ دین مولانا طاہر القادری کے مضمون میں سے ناموسِ رسالت پہ اقتباس ؛
” آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک میں یہ قانون نافذ کردیا جائے کہ جو کوئی گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتکب ہو اسے حد کے طور پر پھانسی پر لٹکایا جائے۔ جو گستاخ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہل بیت ہو اسے تعزیراً پھانسی پر لٹکایا جائے۔ شاتم رسول، شاتم صحابہ اور شاتم اہل بیت کی سزا اگر پاکستان کی سر زمین پر بلا امتیاز سزائے موت نافذ کردی جائے تو فقط دو تین گستاخوں کو پھانسی پر لٹکانا ہوگا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے اور اس لحاظ سے پاکستان میں مکمل امن ہوجائے گا۔ مذکورہ قانون کے علاوہ یہ قانون بھی ہونا چاہئے کہ جو کوئی کتاب یا لٹریچر گستاخی رسول، گستاخی صحابہ کرام یا گستاخی اہل بیت اطہار پر مبنی ملے، اسے ضبط کرلیا جائے یا جلا دیا جائے۔ پھر ایک قانون یہ بھی ہو کہ کسی دوسرے کے مسلک پر تنقید نہ کی جائے، نہ کسی کو گالی دو اور نہ بے ادبی کرو، ادب و احترام سے چلو، قرآن وسنت کی رو سے اپنے اپنے مسلک کے دائرے میں چلتے رہو، اپنے مسلک کی حقانیت پر خوب دلائل دو اور مسلک کی تعریف کرو مگر دوسرے کو نہ برا بھلا کہو، نہ گالی دو اور نہ تحقیر کرو۔ یہ اصولی بات ہے حتی کہ قرآن پاک میں یہ ہے کہ کافروں کے بتوں کو بھی گالی نہ دو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو گالی نہ دینے لگیں۔ اپنے مسلک اور عقیدے پر چلا جائے اور دوسرے پر طعن نہ کیا جائے۔ ان تین قاعدوں اور اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے پاکستان فرقہ وارانہ فسادات سے بچ جائے گا “
دیو بند مکتبہ فکر کے ممتاز عالمِ دین جناب مفتی محمد نعیم کے قانونِ توہینِ رسالت پہ ایک بیان سے اقتباس:
” ناموس رسالت کے قانون پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور مذہبی جماعتوں کو اس حساس معاملے پر بیان بازی اور جلسے جلوس سے گریز کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کے اندر اگر کوئی سقم ہے تو اس کو کوئی ضابطہ بنا کے دور کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کیا جانا چاہیے ورنہ اگر میری اور آپ کی لڑائی ہے پیسوں کی بنیاد پر اور آپ الزام لگا دیں کہ جی یہ گستاخ رسول ہے اور میں نے اس لیے اس کو مار دیا۔ تو یہ تو ہر آدمی پھر قانون اپنے ہاتھ میں لے لے گا “