چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم
وہ رب ہے دوجہانوں کا جبھی قدرت دکھاتا ہے
کسی کو بےد خل کرکے کسی کو لا بٹھاتا ہے
چڑھا کر کچھ بلندی پر کبھی جوتے کھلاتا ہے
وہی گوروں کے مسکن میں کبھی کالے بساتا ہے
مسلم قیادتوں کو بس اتنا شعور ہے
موسٰی بچے رہیں اگر جلتا جو طور ہے
جو بھی خطا کار ہے بیٹھا وہ دور ہے
معصوم پس رہا ہے جو کہ بے قصور ہے
عرصہِ دراز سے جو روش بَین ، َبین ہے
سچ بولنا گناہ ہے، نہیں فرضِ عین ہے
دنیا سےاٹھ گیایوں سکوں اور چین ہے
جنت اگر جو چا ہیئے اسوہ حسین ہے
وہ ہو چکے ابھی رخصت تھے ابتری لائے
یہ سال ِ نومبارک ہو اب خوشی لا ئے
فلک سے بھیج دے اللہ اسی مسیحا کو
جو مہر باں ہو جہاں پراور بہتری لائے