بچوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیئے۔ اپنے بیٹے محمد مہدی کا شکریہ

thanksکچھ چیزیں ہم لوگوں نے غلط روایات کے طور پر ایسی بھی بنا رکھی ہیں جن کو فقط بڑوں سے مربوط و منسلک کر رکھا ہے،جیسے معذرت یا معافی بچہ ہی بڑے سے مانگے گا یا پھر شکریہ بچہ ہی بڑے کا ادا کرے گا حالانکہ اگر ہم بچوں سے غلط بات کی معذرت کر لیں اور اچھی چیز پر انکا شکریہ ادا کر دیں تو سچ جانیئے کہ یہ بھی تربیت اور تہذیب کا ایک طریقہ ہے
میں نے اپنی ذاتی زندگی میں بہت حد تک اس فارمولے پر عمل کیا ہے اور اگر کسی وقت کوئی غلط کام یا بات ہوئی ہے تو اپنے بچوں سے معذرت بھی کی ہے اور اکثر انکی اچھی باتوں پر انکا شکریہ بھی ادا کیا ہے.جیسے بچے سالگرہ پر یا شادی کی سالگرہ پر تحائف دیتے ہیں تو انکا شکریہ ادا کرتا ہوں یا پھر بچے اگر کھانے کے لیئے باہر کہیں لے جائیں تو انکا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے انہیں عملی طور پر اس بات کی تربیت مل رہی ہے کہ کہاں اور کس جگہ کیا رویہ درست ہے.
اسی فارمولے کے مطابق مجھے اسوقت اپنے بیٹے ” محمد مہدی” کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اس نے میری املا کی ایک غلطی کی نشاندہی کی ہے.
میں جس بات کا واعظ کرتا ہوں بہت حد تک کوشش کرتا ہوں کہ پہلے وہ بات میں خود کرؤں پھر اسکی تلقین کرؤں.
یہ جو میں شور مچاتا ہوں کہ بچوں کو اردو پڑھانا اور سکھانا والدین کی ذمیداری ہے تو اس پر عمل خود میں نے پہلے کیا اور پھر شور مچایا.
میں نے اپنے بیٹے محمد اور بیٹی زہرا کو او لیول میں ہی باور کروا دیا تھا کہ وہ دنیا بھر کی کوئی بھی زبان پڑھیں لیکن اردو ضرور پڑھیں. انکا شکریہ کہ انہوں نے میری بات مانی اور دونوں نے باقاعدہ لندن میں اردو کا امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا اور خوب اچھی طرح اردو بولتے سمجھتے اور لکھتے بھی ہیں. زہرا کی نسبت محمد کی اردو بہت اچھی ہے یہاں تک کہ وہ میرا کالم اور اشعار بھی پڑھ لیتا ہے اور لکھ بھی لیتا ہے
محمد ان دنوں ”وارک یونیورسٹی” میں گریجویشن کے آخری مراحل میں ہے.
اکیس اپریل کو میں نےاسکے دادا کی برسی پر جو کالم لکھا تو فیس بُک پر اس نے کالم پڑھنے کے بعد مجھے لکھا کہ ” بابا داعی اجل کا کیا مطلب ہوتا ہے”ِ
مجھے اس بات کی جسقدر خوشی ہوئی میں بیان نہیں کر سکتا کہ میرے بیٹے نے مجھ سے اسکے معانی پوچھے جس سے ثابت ہوا کہ سارے کالم میں اسکے لیئے یہی دو لفظ مشکل تھے جو اب اس لیئے نہیں رہے کہ میں نے اسے اسکا مطلب بتا دیا ہے.
دوسری خوشی مجھے اسوقت ہوئی جب اس نے دوپہر میں مجھے یونیورسٹی سے فون کیا اور کہا کہ ” بابا آپ کے کالم میں املا کی ایک غلطی ہے اور آپ نے ”گیند کو گنید” لکھا ہے. میں نے اس سے فون پر بات کرتے ہوئے کالم دیکھا تو واقعی املا غلط تھی. میری خوشی کا اندازہ آپ کر سکتے ہیں کہ میرا بیٹا اب اس قابل ہے کہ وہ باپ کی تحریر کو اتنے غور سے پڑھتا ہے اور املا کی غلطی بھی تلاش کر لیتا ہے.
میں اسوقت اس تحریر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں ” محمد مہدی بیٹے بہت شکریہ کہ تم نے املا کی اس غلطی کی جانب توجہ دلوائی جو اب میں نے درست کر دی ہے اور یاد رکھو کہ اگر غلطی درست کر دی جائے تو وہ غلطی نہیں رہتی”.
محمد بیٹا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ

25 thoughts on “بچوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیئے۔ اپنے بیٹے محمد مہدی کا شکریہ”

  1. بھیا حضور اکرم کی ایک حدیث ہے جس کا حوالہ تو یاد نہیں جس کا مقصد ہے کہ اپنے بچوں کا احترام کریں ویسے اس سے پہلے تو یہی سنا تھا کہ بڑوں کا ادب کریں. آپ کے بیٹے پر ہم بھی فخر کرتے ہیں، ہماری جانب سے بھی مبارکباد قبول فرمائیں.

  2. دنیا کا ہر مذہب اچھی ہی باتیں سکھاتا۔

    لیکن مغربی معاشرہ میں بچوں کو زیادہ appreciate کیا جاتا ہے۔ اُن سے معذرت کی جاتی ہے۔ اُن سے سبق سیکھا جاتا ہے۔ جو میں نے اپنے بیوی بچوں سے سیکھا ہے وہ اسکول سے نہیں سیکھا۔ اور اب تو کمپیوٹر بچے ہی ماں باپ کو سکھاتے ہیں۔

  3. اآپ نے جو پیارے بیٹے محمد مہدی کے حوالے سے جو لکھاہے تو اسے میں نے بہت اچھا اور دلچسپ پایا اور دو بار دلچسپی سے پڑھا ۔
    ہماری جانب سے بھی بہت مبارک ۔
    صغیر احمد جعفری ۔ اردو منزل

  4. میں نے ایک دفعہ آپ سے کہہ تھا کے آپ کا جو انداز ہے وہ بہیت خوبصورت ہے کسی بات کی اصلاح ہو یا تربیت اپنے سے چھوٹوں کو عزت اور احترام دینا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ایسا سب لوگ نہیں کرتے
    اور جو کرتے ہیں وہ یقیناّ صیح معانی میں بڑے ہوتے ہیں جیسا کے پہلے عرض کر چُکی ہوں سر کے اپنے سے ایک چھوٹے کی عزت کر کے دراصل آپ پوری ایک نسل کی تربیت کرتے ہیں

    ًًُمُجھے بہیت خوشی ہے کی آپ کے بیٹے نا صرف اردو پڑھ لیتے ہیں بلکہ لکھ بھی لیتے ہیں یہ سب آپ کی تربیت اور اُن کی فرمابرداری ہے
    الله ،مولی اُن کو زندگی میں بہیت سی خوشیاں اور کامیابی نصیب کرے (الہی آمین )

  5. ہمیں ایسے بچوں پر فخر کرنا چاھیئے جو اپنے والدین کی وراثت کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں اور ان کا فخر ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔۔ بیٹے محمد سلامت رہو ۔۔ خوش رہو ۔۔ تم وہی پیارے سے بیٹے ہو جس پر ہم سب کو ناز ہے ۔۔۔فخر ہے ۔۔ جیتے رہو ۔۔ اللہ پاک تمہیں ہر قدم پر کامیابی عطا کرے ۔آمین

  6. محترم صغیر احمد جعفری۔ عالمی اخبار کے بلاگ پر ہم سب کی طرف سے خوش آمدید۔ آپکا یہاں آنا ہمارے لیئے باعث عزت ہے۔ ارود زبان و ادب کے لیے آپ اور آپکی اہلیہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ گاہے بگاہے تشریف لاتے رہیں گے

  7. صغیر بھائی آپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید ۔۔۔۔۔ بھائی آپ کا آنا ہماری خوش نصیبی ہے ۔۔۔ یقین جانئے دل کو یقین سا ہو گیا ہے کہ ہمارے سرپرست ہمارا مان بڑھانے یونہی اس محفل میں شرکت کرتے رہیں گے ۔۔۔ سلامت رہیں بھائی جی ۔۔۔

  8. پیا ر ے عمو اداب جب ہماری قیمتی زبان اردو کو سنبھالنے والے اپ جیسے شفیق استاد ہیں اردو پر کبھی بھی زوال نہیں ائے گا لندن سے امرجیت چندن پنجابی کے شاعر اپنا پنجابی کاکلام سنا رہے تھے وقفہ سوالات میں سب نے سوال پوچھے جب میری باری ائی تو میں نے پوچھا سردار جی اپ کے بچے پنجابی جانتے ہیں سردار صا حب جو بڑے ہی فخر سے پنجابی کو بار بار ماں بولی کہہ رہے تھے خا موش ہوگئے اور اہ بھر کہ کہا کہ شائد یہی میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے کہ میرے بچے میری زبان سے نا اشنا ہیں یقین جانیے محمد مہدی کی اردو سے محبت نے طبیعت باغ باغ کر دی مولا اسے اپنی پناہؤں میں رکھیں اور محمد کے لئے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی میرے سینر نے بتایا کہ اردو زبان دنیا کی انگریزی اور چینی زبان کے بعد بولی جانے والی تیسری بڑی زبان بن چکی ہے ورنہ ہمارے پڑوسی ملک نے اردوختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی

  9. محترم صفدررضا ھمدانی صاحب۔ کتنی خوبصورت روایت ھے ، اپنے بچوں سے سھکینا، انکا شکریہ ادا کرنا۔ ، ان سے معذرت کرنا۔
    آپ کے قابل فخر گھرانے میں جنم لینے والا آپ کا پیارا بیٹا محمد ، جس میں ترقی کرنے کے زمانے سے لڑنے کے اور آپ کا نام روشن کرنے کے سارے جوھر موجود ھیں ۔اللہ پاک خطیب مبنر سلونی کے صدقے میں اس کو علم کی دولت سے مالامال فرماۓ ۔۔ آپکے پیارے بیٹے کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔ اچھے بچے فخر ھوتے ھیں ۔پھول ،خوشبو روشنی چاند سورج ستارے کہکہشاں ھوتے ھیں گھر کی رونق اللہ پاک محمد کو ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔

  10. آغا جی سلام۔ عزیزی مہدی نے مان بڑھا دیا ہے۔۔۔ خدا اسکو مزید ترقی عطا فرمائے۔
    واقعی یہاں مغرب میں رہ کر جو آپ نے بیٹے کو اردو لکھنے اور پڑھنے اور املاء کی تصیحات کے لائق بنا دیا ہے تو یہ سمجھیں کہ آپ نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ بھئی مہدی نے ثابت کر دیا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔ آپ کی محنت نے ثمر دکھایا اور اس ثمر نے اک نئے شجر کی آمد کی خبر دے دی۔ میڈیا کی یلغار اور مغرب پرستی کی اس دنیا میں اردو کو آپ سے شجر ہائے سایہ دار کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔جس کے لئے آپ نے اپنے حصے کا کام خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ آپ کے والد محترم جناب مصطفیٰ ہمدانی کی علمی و ادبی مسند انشاء اللہ کبھی خالی نہیں ہوگی اور یہ خانوادہ اپنی نسل میں نور علم یونہی منتقل کرتا رہے گا۔ یہی سیادت ہے۔ آپ کو یہ نور کی کرنیں مبارک ہوں، اور یہ ورثہء سیادت مبارک ہو۔
    مہدی جیتے رہو بھائی اور سدا اپنے والد محترم اور ہمارے آغا جانی کو یونہی شاد کام رکھو۔ شاباش۔

  11. محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب،
    کہتے ہیں جتنا گُڑ ڈالو اتنا میٹھا. اپنے ہاتھ سے لگائے پودے کی جتنی اچھی دیکھ بھال یعنی آبپاشی، کانٹ چھانٹ، گوڑائی وغیرہ کی جائے وہ اتنا ہی خوبصورت درخت بن کرپھول ، پھل اور سایہ دینے کے علاوہ ماحولیاتی حُسن میں اضافہ کرتا ہے. اولاد بھی ایسے ہی پودے ہیں جو والدین کی تربیت سے یا تو ایسے پھول ، پھل اورسایہ دار درخت بنتے ہیں یا کانٹے بکھیرنے والی جھاڑیاں ! یہ سارا کمال انسان کی محنت اور پھراس محنت کا اجر دینے والی ہستی کا ہے. اللہ کریم ہم سب کی اولاد کو پھل، پھول اور سایہ دار درخت بنائے جو دنیا کے حُسن میں اضافہ کریں نہ کہ کانٹے دار جھاڑیاں جو دوسروں کے لئے زحمت ہوں، آمین.

  12. ایک مقولہ ہے کہ ” کسی قوم کو مارنا ہو تو اس سے اس کی ثقافت چھین لو، وہ قوم خود ہی مر جائے گی”

    ثقافت ایک امتزاج ہے، مثلاً : رہن سہن، ادب و آداب، فنونِ لطیفہ، طرزِ تعمیر وغیرہ وغیرہ کا، لیکن اس کا سب سے بڑا جز یقیناً زبان ہی ہے-

    آج میرے بچے اگر اپنی زبان بولنا چھوڑ دیں گے تو شکل و صورت بے شک ہم جیسی رکھتے ہوں کوئی نہیں مانے گا کہ یہ پاکستانی ہیں، قبلہ آغا صاحب نے اپنے بچوں کو صرف اردو زبان ہی نہیں سکھائی بلکہ قوم کی بقا کے لیے اپنے حصے کی شمع روشن کی-

    موضوع بہر حال اولاد سے بروقت معذرت کرنے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کا تھا- میں موضوع سے ہٹ جانے پر بڑوں سے معذرت خواہ ہوں-

  13. برادرم مناف.سلامت رہو. میں پاکستان جاتا ہوں تو باقی چیزیں تو اپنی جگہ لیکن اردو شناس اور اردو فہم گھرانوں میں بچوں سے غزل کو گجل سن کے دم رکنے لگتا ہے. میں نے اپنے کسی مضمون میں لکھا تھا کہ میرے بچے پاکستان جاتے ہیں تو اپنے ہم عمروں سے اردو میں بات کرتے ہیں لیکن انہیں جواب انگریزی میں ملتا ہے اور ماں باچ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ دیکھا تم نے میری ببیٹی یا بیٹا کیسی کمال کی انگریزی بولتے ہیں.
    مجھے خدا گواہ ہے کہ انگریزی دے کوئی دشمنی نہیں. میں تو خود انگریز کے ملک میں رہ رہا ہوں. میں تو یہ کہتا ہوں کہ دنیا بھر کی زبانیں سیکھو اور بولو لیکن اللہ کے لیئے اردو کی قربانی دیکر نہیں. پہلے اردو بولو پھر کوئی اور زبان.

  14. مجھ کو علم نہیں تھا کہ یہاں اردو ٹائپ کر سکتے ہیں اب پتا چل گیا ہے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور جس جس نے مجھے دعائیں دی ہیں ان کا بھی بہت بہت شکریہ

  15. محمد صفدر مہدی ھمدانی صاِحب کو دلی مبارکباد اور دعائیں
    ٌخوش رہو

  16. صفدر بھائی آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ بچوں کی تربیت کر نے میں کا میاب رہے۔ مگر میں اس کا کریڈٹ صرف آپ کو ہی نہیں دونگا بلکہ یہ آپ کی شریکِ حیات کو بھی دینا چاہونگا۔ کیونکہ دونومل کر جس طرح ایک بچے کے خالق بنتے ہیں اسی طرح تربیت بھی مل کر کرتے ہیں ۔اگر ایک کا منہ مشرق کی طرف ہو اور دوسرے کا مغرب کی طرف، تو بچے اکثر کنفیوژڈ ہو جاتے ہیں ۔ لہذا جہاں میں آپ کو مبارکباددے دے ہا ہوں وہیں دونوں بچوں اور اور آپ کی بیگم صا حبہ کو بھی ، اگر آپ کو یاد ہو تو میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ آپ کے بچوں سے بات کر کے دل خوش ہو جاتا ہے اور مہدی کو تو اللہ نے آواز بھی آپ کی عطا فر مائی ہے کہ پہچاننا مشکل ہوجا تا ہے ۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اچھے بچے اور اچھی بیوی عطا فر مائی ۔ کیونکہ اہلِ خانہ کے تعاون کے بغیر نہ کوئی ادیب ، ادیب رہ سکتانہ شاعر۔

  17. شمس بھائی آپکا شکریہ ادا کرنے کے لیئے بھی تو حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ اللہ پاک آپ پر اپنی رحمت خاص کا سایہ رکھے۔ میرے جو تین چار محسن حقیقی اس دنیا میں ہیںآپ اُن میں سے ایک ہیں۔

  18. بابااچھا لگا۔۔۔۔
    اللہ مہدی کو ترقی دے، اور اسی طرح ماں باپ کی تربیت کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنے کی توفیق
    آمین

  19. نہیں ، صفدر بھائی نہیں ! میں نے تو آپ پرکو ئی احسان نہیں کیا اور نہ ہی آپ کسی کا احسان لینے کو تیار ہوتےہیں اور نہ ہی کسی کو احسان کرنے کا موقعہ دیتے ہیں ۔ باقی آپکا بڑا پن ہے جو کہ ایسا کہتے ہیں

  20. آقائ ھمدانی صا حپ÷÷÷
    آداب
    ماں باپ کی تربیت سے ایسے پھول ، پھل اورسایہ دار درخت بنتے ہیں آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ بچوں کی تربیت کر نے میں کا میاب رہے
    اللہ مہدی کو ترقی دے، اور اسی طرح ماں باپ کی تربیت کو زندگی کا حصہ بنائے رکھنے کی توفیق دے.
    آمین.
    پر وفیسر سید حیدر عباس

  21. عزیزم سید حیدر عباس. آپ عالمی اخبار کے بلاگ پر تشریف لائے یہ آپکی محبت اور ذرہ نوازی ہے. آپ جیسے مایہ ناز فنکار،صدا کار اور طبیب حاذق کا اس محفل میں شامل ہونا ہم سب کے لیئے باعث عزت و مسرت ہے. ہمیں یقین ہے کہ اب آپ انشااللہ مستقل طور پر عالمی بلاگ کے خاندان کے ایک قابل فخر رکن رہیں گے اور اپنی فکر عالیہ سے ہم سب کو مستفیض فرماتے رہیں گے. سلامت رہیں

  22. حیدر بھائی آپ کو بلاگ فیملی میں خوش آمدید .. آپ کا آنا ہمارے حوصلے بڑھا گیا ہے .. اس لیئے اب آپ کا آتے رہنا بہت ضروری ہو گیا ہے .. ایک بار پھر جی آیا نوں ..

  23. بچوں کا شکریہ ادا کرنے کے متعلق صفدر ہمدانی صاحب کے خیالات نظر سے گزرے.میں کچھ دنوں کے لئے سٹاک ہولم سے باہر تھی ، اور انٹر نیت کی سہولت نہیں تھی موحمد مہدی کا اردو زبان میں مہارت حاصل کرنا ق qab ستائش ہے ، اس کا کریڈٹ دونوں کو جاتا ہے – یعنی والدین اور بچے کی ذاتی دل چسپی ، میرے خیال میں ، جہاں تک زبان سکھانے یا سیکھنے کا تعلق ہے ، اس میں کی طرح کے گروپ ہیں ، جو میں اپنے تجربے کی بنا پ محترم صفدر صاحب کے گوش گزار کرناا چا ہتی ہوں ،ایک وہ جو بچے یورپ میں پیدا ہوے ، دوسرے وہ جو پاکستان سے، بچے کچھ بڑی عمر میں آئے، فلحال ان دونوں کی مثال میں پہلے گروپ کے بچوں کو اردو سکھانی اتنا آسان کام نہیں ہے ، گھر کا ماحول، باہر کے ماحول اور زبان کا اثر، ، کئی طرح کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے – جن بچوں کی بنیاد پاکستان میں زبان کی بن چکی ہوتی ہے ،انھیں اگے بڑھانا آسان ہے – پھر یہ بھی ضرور کینا چا ہوں ں گی، کہ والدین پ بہت منحصر ہے اور بچے کی دل چسپی . ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ جو بچے اپنی مادری زبان میں اچھے ہیں وہ کوئی زبان بھی سیکھن ، وہ ہر زبان میں اچھے ہوتے ہیں اس کا اندازہ مجھے سکول میں بھی ہوا –
    جہاں تک بچوں کا شکریے کرنے کا تعلق ہے ، یہ ہمارے کلچر میں ہے ، کھ ووہی ہمیشہ کریں یا معافی بھی ووہی مانگیں . یھاں کے ماحول میں قدم قدم پہ” تھک” ( شکریہ سویڈش زبا ن میں )ہم بچوں کا ضرور کرتے ہیں ، اور معذرت بھی کر لیتے ہیں ، تربیت کے ساتھ ساتھ انسان کو گلٹی کونکوس بھی نہیں ہوتا،

  24. میں اس مو ضوع پر جلد ہی اظہارِ خیال کروں گا اس وقت صر ف میں عالمی بلا گ میں اپنی اولیں تحریر لگا نے کے لئے حا ضر
    ہوا ہوں اور اب مسلسل رابطہ رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *