معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔

معصوم مشکیزے

پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے
پیٹھ کو سگنل سے چپکائے
پانی بیچنے والے سائے
جن کے ہاتھ ہمیشہ سے بس
پانی ہی جنتے رہتے ہیں
آنکھوں سے بس دو ہی دعائیں اچھلی جائیں
تپتی دھوپ اور بتی سرخ
سو ایک ہاتھ میں جگ اٹکائے
اور گلاس میں انگلیاں بھر کر اپنا دوسرا ہاتھ اٹھائے
ایک ہی خواب میں کب سے زندہ
‘‘جلدی سے ہو سگنل سرخ
تو گاڑیاں اپنا سانس بٹھانیں سڑک پہ ٹھہریں
اور پسینے پانی مانگیں
ہم ہر اک گاڑی کو چھو لیں
ٹھہری کھڑکیاں ہاتھ سے اُچکیں
جلتے ماتھے بیچ کے ہم بھی
آٹھ آنے کی پیاس بجھائیں
جیبیں سکوں سے بھر جائیں۔‘‘
لیکن خواب کہاں سمجھیں گے
عمر کا سگنل سرخ ہوا
تو گاڑی دور نکل جائے گی

(‘‘سرگوشی‘‘ مطبوعہ دسمبر 2006)

8 thoughts on “معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم”

  1. اگر اس نظم کے لکھنے والا شاعر خود اپنا نقاد بھی بن جائے تو اسکی تعمیری تنقید اس نظم پر کیسی ہوگی ؟
    کیا عاطف توقیر صاحب ایک نقاد کے روپ میں اپنی اسی نظم کی تعمیری تنقید کر سکتے ہیں ؟
    کیا یہ نظم اوپر لکھی ہوئی تمہیدی اور تعارفی نثر کے بغیر کسی قاری کے سمجھ میں آسکتی ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معصوم مشکیزے !
    مشکیزہ چھوٹی مشک کو کہتے ہیں ۔
    کیا وہ پانی بیچنے والا پٹھان بچہ “ مشکیزہ “ تھا ؟
    یا سقا تھا ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. عمر کا سگنل سرخ ہوا
    تو گاڑی دور نکل جائے گی
    بہت ذبردست ۔سلامت رہیں بھائی حقیقت میں آج کے دور میں کوئی روزی روزگار کے چکر میں کیا مرے گا یہاں تو انجانی موت کا بھروسہ نہیں کے کب کس کی چلائی ہوئی گولی کتنے گھروں کے چراغ بجھا دیتی ہے ۔ جو مارنے والے ہوتے ہیں خود انکو نہیں پتا ہوتا کے وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔ بس کر رہے ہیں کس کے لئیے کس لئیے کیوں ان سب سوالوں کا جواب خود انکے اپنے پاس بھی نہیں ہوگا
    آپکی نظم پڑھکر ایک بچکانہ سی کوشش کر رہی ہوں امید ہے غلطیاں درگزر کریں گے
    ۔۔۔
    زندگی سے وفا کی کیا امید
    موت کے سائے ساتھ چلتے ہیں
    روزی روٹی کی موت کیا ہوگی
    اب تو سڑکوں پے لوگ مرتے ہیں
    کس سے پوچھیں کے اسکو کیوں مارا
    لوگ تو شوق میں یہ کرتے ہیں

  3. واہ واہ ۔۔ کیا درد کا نوحہ ہے ۔۔۔ منظور بھائی چھوڑیں مان جائیں ناں کہ اچھی نظم ہے ۔۔ آپ بھی ناں کبھی کبھی اتنا سخت امتحان لینے بیٹھ جاتے ہیں کہ بچے امتحانوں سے ڈر کر پڑھنا ہی چھوڑ دیں ۔۔ چلیں اس نظم کی سب سے اچھی بات ڈھونڈیں ۔۔۔ ایسے بھی تو سکھاتے ہیں ناں ۔۔۔

    دیکھئے کسی بھی نظم کی طاقت یہ ہوتی ہے جو دوسروں سے بھی اسی موضوع پر نظم لکھوا لے ۔۔۔ دیکھئے ماریہ نے کتنی اچھی کوشش کی ہے ۔۔۔ اور عاطف کی پہلی نظم “ہندو مسلم لہو“ پر کتنی جاندار اور شاندار بحث ہوئی جس کہ میں اس نظم کی کامیابی اور قبولیت سمجھتی ہوں ۔۔۔

    زرقا نے بہت احسن بات لکھی کہ ہمیں نظم کے محاسن پر بات کرنی چاھیئے کہ شاعر خیال و فکر کے اظہار میں آزاد ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ عاطف کی نظموں کا کمال ہے کہ وہ سوچنے پر اکساتی ہیں اور بحث کی طرف مائل بھی کرتی ہیں ۔۔ یہی ایک کامیاب لکھنے والے کی پہچان ہے ۔۔۔

    منظور بھائی کی رائے میرے لئے ہمیشہ سے محترم رہی ہے کیونکہ وہ بقول میرے بھائی مصباح کے سخت استاد ہیں ۔۔ پہلے خوب آزماتے ہیں ۔۔ جب وہ شاعر ان کی نظروں میں اس قابل ہو جاتا ہے تو پھر پیار برسا دیتے ہیں ۔۔ یہی تو خوبی ہے ہمارے منظور بھائی میں کہیں بخل سے کام نہیں لیتے ۔۔۔

    اللہ سلامت رکھے آپ سب کو جو اس بزم کی رونق ہیں ۔۔۔

  4. ڈاکٹر نگہت صاحبہ کی اس صائب رائے کے بعد کچھ اضافہ دراصل مکھی پر مکھی مارنا ہوگا اور میں ساری زندگی مکھی مارنے سے پرہیز کرتا رہا ہوں۔ دراصل میرے اپنے خیال میں تبصرہ کرنا یا کمنٹ دینا شاید شاید اصل تخلیق سے بھی زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ اسمیں جان جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے اور یہ دو دھاری نہیں بلکہ تین دھاری تلوار ہے جس سے بیک وقت ہم اپنے آپ کو،تخلیق کار کو اور قاری کو بھی قتل کر رہے ہوتے ہیں۔
    یہ ضروری نہیں کہ زندگی بھر جو رویہ یا نہج میری رہی ہے وہ دوسرے کی بھی ہو اور میں دوسرے کو بھی اپنی ہی طرح دیکھنا چاہوں۔ دراصل یہ تخلیق کی دنیا بڑی صبر طلب اور بڑی گنجلک دنیا ہے۔ لکھنے والا کچھ لکھ کر جب اسے قاری کے حوالے کر دیتا ہے تو جیسے بے بس سا ہو جاتا ہے۔ خود مجھے بھی اپنی کسی تخلیق کے بارے میں ‘ـ’وضاحت” کرنا کبھی اچھا نہیں لگا۔ لیکن کیا کریں کہ یہ اب دستور زمانہ بن گیا ہے کہ وضاحت دینا ہی پڑتی ہے۔
    آئیے ذرا علمی بات کریں تنقید کے حوالے سے
    ترقی پسند تحریک کی تنقید شروع میں اتنہا پسندی کا رجحان زیادہ تھا ۔ اس انتہا پسندی کے جوش میں انھوں نے میرتقی میر سے لے کر غالب تک بعض اچھے شعراءکو صرف اس جرم کی پاداش میں یکسر قلم زد کر دیا کہ انہوں نے طبقاتی کشمکش میں کسی طرح کا کردار ادا نہیں کیا۔اکبر الہ آ بادی ، حالی ، سرسید ، اقبال وغیرہ ان کے لیے ناقابلِ قبول قرار پائے ۔لیکن اس ابتدائی جارحیت کے بعد مجنوں گورگھپوری ، احتشام حسین ، عزیز احمد اور دیگر سلجھے ہوئے ناقدین نے اشتراکیت کے بارے میں اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے عصری ادب میں نئی جہات دریافت کیں ۔ یہی نہیں بلکہ ماضی کے شعراءپر نئے زاوےے سے روشنی ڈال کر ان کی عظمت میں اضافہ کیا۔
    انھوں نے پہلی مرتبہ مارکسی تنقید کی ابتداءکی ۔ اس سلسلے میں جدلیاتی ، مادیت ، طبقاتی کشمکش اور انقلاب کو سامنے رکھ کر ادب کے مسائل پر غور کیا گیا۔
    ترقی پسند تنقید میں پہلا اور اہم نام ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا ہے۔ مقالہ ”ادب اور زندگی “ جو اختر حسین رائے پوری نے 1935ءمیں لکھا اُسے مارکسی تنقید کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔ اختر حسین رائے پوری کا خیال ہے کہ ادب اور انسانیت کے مقاصد ایک ہیں ۔ ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ مادی سرزمین میں جذبات ِ انسانی کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے روح القدس بننے اور عرش پر جا کر بیٹھنے کا دعویٰ کرے ۔ ادب کا مقصد یہ ہونا چاہےے کہ وہ ان جذبات کی ترجمانی کرے جو دنیا کو ترقی کی راہ دکھائیں اور ان جذبات پر نفرین کرے جو دنیا کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔وہ لکھتے ہیں: ” ادب کا فرضِ اولین یہ ہے کہ دنیا سے ، قوم ، وطن ، رنگ ، نسل اور طبقہ مذہب کی تفریق کو متانے کی تلقین کرے اور اس جماعت کا ترجمان ہو جو نصب العین کو پیش نظر رکھ کر عملی اقدام کر رہی ہے۔“

    وہ مارکسی تنقید کے اولین نقاد ہیں اور بہت کم لکھنے کے باوجود ان کی تاریخی حیثیت برقرار ہے۔
    سجاد ظہیر ترقی پسند تنقید ی تحریک کے بانیوں میں سے ہیں ۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کو نظریاتی اساس مہیا کی اور پھر عمدہ وکالت سے اس تحریک کی سب سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ تنقید کے موضوع پر انہوں نے باقاعدہ کوئی کتاب تو نہیں لکھی۔ لیکن ان کی کتاب ”روشنائی “ ترقی پسند تحریک کی تاریخ بھی ہے اور کسی حد تک تنقید بھی ہے۔ سجاد ظہیر اردو کے پہلے نقاد ہیں جن کے مضامین مارکسی تنقید کے آئینہ دار ہیں۔ سجاد ظہیر نے صرف چند مضامین لکھے ہیں ، بقول عبادت بریلوی ان مضامین میں ایسی گہرائی ہے جس نے تنقیدی اعتبار سے ان کو بہت اہم بنا دیاہے۔
    ڈاکٹر عبدالحلیم کا بھی وہی حال ہے جو سجاد ظہیر کا۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی سجاد ظہیر کی طرح صرف چند تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ اور ان مضامین میں مارکسی تنقید کا نظریہ پوری طرح پیش کیاہے
    مجنوں گورکھپوری کی تنقید نے رومانیت سے مارکسیت کی طرف آہستگی سے سفر کیا ، کیونکہ ابتداءمیں ان کے یہاں ایک عرصے تک تاثراتی تنقید کا انداز غالب رہا ۔ مجنوں کی اتبدائی تنقید تحریریں جو ”تنقید حاشےے “ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں، تاثراتی تنقید کا انداز نمایاں ہے۔
    مارکسی نقادوں میں سید احتشام حسین سب سے موقر ، معتبر اور معتدل نقاد تھے۔ انہوں نے نہ صرف مارکسی تنقید کو اساس بنایا بلکہ اسے زندگی کے طرز عمل کے طور پر قبول بھی کیا۔ تنقید ان کا خاص میدان ہے۔ اوران کی تمام تر توجہ اسی فن کی طرف رہی ہے۔ سید احتشام حسین کے تنقید مضامین کے جو مجموعے شائع ہو چکے ہیں ان میں ”تنقید ی جائزے“ ”روایت اور بغاوت“ ”ادب اور سماج“ ” تنقید اور عملی تنقید “ ”ذوق ، ادب اور شعور “ ”افکار و مسائل “ اور ”عکس اور آئینے “ شامل ہیں۔
    ممتاز حسین بھی مارکسی رجحان کے علمبردار ہیں ۔ اگرچہ دوسرے مارکسی نقادوں میں چھوٹے ہیں تاہم ممتاز حسین نے بھی بہت کچھ لکھا اور ان کے مضامین کے تین مجموعے ”نقد حیات ، نئی قدریںاور ادبی مشاغل “ شائع ہو چکے ہیں۔ ممتاز حسین کے بھی بعض مضامین میں اصولوں کی بحث ہے جبکہ کچھ علمی تنقید کے متعلق ہے۔ ان کے مضامین تنقید کا مارکسی نظریہ ، بدلتی نفسیات ، انفعالی رومانیت ، آرٹ اور حقیقت اور نیا ادبی فن ، وغیرہ میں اصولی اور نظریاتی بحثیں ہیں جبکہ ‘”نئی غزل کا موجد ۔۔حالی “ ”اردو شاعری کا مزاج اور غالب“ ”سرسید کا تاریخی کارنامہ “ اقبال اور تصوف وغیرہ تنقید ی تجزئے ہیں۔
    ترقی پسند نقادوں میں ایک نام ظہیر کاشمیری کا ہے۔ ظہیر کاشمیری نے ادب کو سماج کے طبقاتی نظام کے حوالے سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے دو اہم مضامین ”لینن اور لٹریچر “ اور ”مارکس کا نظریہ ادب “ نہ صرف ان کی نظریاتی اساس کو واضح کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اس سانچے میں اردو شاعر ی اور نثر کے بیشتر سرمائے کو پرکھنے کی کوشش بھی کی۔ ظہیر کاشمیر ی کا تعلق چونکہ ٹریڈ یونین کے ساتھ رہا ہے اس لیے ان کے تنقید ی لہجے میں خطابت کا عنصر نمایاں ہے اور فیصلے میں تیقن اور قطعیت زیادہ ہے۔
    ڈاکٹر عبادت بریلوی شروع شروع میں مارکسی نظریہ تنقید سے متاثر تھے، لیکن ان کی مارکسیت جلد ہی ختم ہو گئی، اگرچہ ادب اور زندگی کے مابین گہرے تعلق کے وہ اب بھی قائل ہیں ۔ عبادت بریلوی نے ترقی پسند تنقید میں حقیقت نگاری کو ملحوظ نظررکھا اور مارکسزم کو اپنا عقیدہ بنائے بغیر اس سے ادب پارے کی تنقید اور تفسیر میں معاونت کی
    سید وقار عظیم کی تنقید سماجی اور عمرانی تجزےے پر استوار ہوئی ۔ انہوں نے مارکسی نظریات کی بلاواسطہ تائید نہیں کی اور وہ ادب کی اعلیٰ قدروں کی صداقت کو بنیادی قدروں سے الگ شمار نہیں کرتے ۔ تاہم انہوں نے ادب کی مقصدیت کو قبول کیا۔وقار صاحب کی اہمیت اردو افسانوی ادب کے نقاد کی حیثیت سے عام طور پر مسلمہ ہے ۔
    ترقی پسند تحریک کے دور ِ آخر کے نقادوں میں ڈاکٹر محمد حسن اور عابد منٹو قابلِ ذکر ہیں۔ ان نقادوں نے ترقی پسند تحریک کی یک طرفہ قصیدہ خوانی کرنے کے بجائے اس تحریک کے عیوب کا بھی تذکرہ کیااور ترقی پسند ادباءکی سطحیت پر کھلی تنقید بھی کی۔

    یہ مختصر داستان تنقید میں نے خود اپنی اصلاح کے لیئے بھی لکھی ہے

  5. بابا جانی کمال ہے۔ یہ واقعی ایک ایسی تحریر ہے، جس سے بہت کچھ حاصل کیا میں۔ کیا کہنے۔ خدا آپ کو اسی طرح اپنا علم بانٹنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

  6. سلامت رہو. جیتے رہو اور علم تقسیم کرتے رہو کہ عالم کی ایک نشانی یہ بھی ہے. یا ر جی میں تو طالب علم کہلانا پسند کرتا ہوں. طلب علم. اللہ پاک ان طالبان کا بیڑہ غرق کرے کہ انہوں نے اس انبیا صفت لفظ کا جنازہ نکال دیا ہے. تُف بر تو اے آسمان نہیں بلکہ طالبان

  7. ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ :
    “اللہ سلامت رکھے آپ کو اور صفدر ھمدانی صاحب کو اورزرقا مفتی صاحبہ اور ماریہ علی صاحبہ کو اور عا طف توقیر صاحب کو اور ان سب کو جو اس بزم کی رونق ہیں ”

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    از جرمنی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *