افتخار نسیم افتی وفات پا گئے۔عالمی اخبار تعزیتی کتاب

چراغ ہوں میں اگر بُجھ گیا تو کیا غم ہے
کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے
مزید پڑھنے کے لیئے

ایک غزل کے چند اشعار

بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر

کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار

غزل کے چند اشعار

چند تازہ اشعار آپ کی نذر

وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے

تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار

نیاگرا آبشار پر آنے والے اردو ادیبوں اور شاعروں کا ذکر۔اشفاق حسین

عالمی اخبار کے لیئے نیویارک کے ڈاکٹر مقصود جعفری کی دو غزلیں

نیویارک میں مقیم ڈاکٹر پروفیسر مقصود جعفری میرے پرانے کرم فرما اور محسن ہیں جن سے کوئی 25 برس بعد ملاقات نیوجرسی اور ٹورنٹو میں ہوئی۔ اس 25 سال کے عرصے میں وہ طویل ادبی اور فکری ارتقائی سفر کر چکے ہیں۔ وہ انگریزی کے استاد ہیں اور اردو کے عاشق جبکہ کشمیری انکی مادری زبان اور فارسی انکے دہن کی شیرینی کے لیئے ہے۔ وہ متعدد زبانوں میں شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔
عالمی اخبار کے لیئے انہوں نے ٹورنٹو میں معروف شاعر اور ادیب اشفاق حسین کی قیام گاہ پر دو غزلیں ریکارڈ کروائی ہیں

معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔

معصوم مشکیزے

پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ Continue reading کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال

چند روز قبل میرے ایک برسوں پرانے عزیز دوست باقر زیدی جرمنی آئے اور ان سے حادثاتی طور پر ملاقات ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ان سے کوئی 1999ء سے 2002ء تک Continue reading یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال

دو تیر اور جوڑ لے یارب کمان میں‬

مجھے نہیں علم کہ کیوں آج یہ 30 سال پرانے لکھے ہوئے شعر یاد آرہے ہیں۔ شاید میں کمزور پڑ گیا ہوں یا پھر سب جاننے کے باوجود یاسیت مجھ پر غالب آ رہی ہے۔ ذات کی کشمکش موت کی ایک شکل ہے نا؟

دو تیر اور جوڑ لے یارب کمان میں‬
‫قوت مدافعت کی ابھی تک ہے جان میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Continue reading دو تیر اور جوڑ لے یارب کمان میں‬