گوشت حلال،انشورنس حلال ، ڈاٹ کام حلال مگر سوچ حرام

قلم فروشوں، ضمیر فروشوں اور دین فروشوں کی ایسی بڑی بڑی منڈیاں قائم ہو چکی ہیں کہ جہاں باقاعدہ بولیاں لگائی جاتی ہیں۔ میں کیا کرؤں کہ جب ایسے ملت فرفروشوں کے بارے میں بات کرتا اور لکھتا ہوں تو ابلیس کے یہ سب نمائیندے تمام تر اپنے اختلافات کے باوجود اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

10 thoughts on “گوشت حلال،انشورنس حلال ، ڈاٹ کام حلال مگر سوچ حرام”

  1. قبلہ میں سو فیصد متفق ہوں مندجہ بالا تحریر کے ایک ایک لفط سے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ تحریر میرے دل اور جذبات کی ترجمان ہے۔
    میں نے خود کئی مرتبہ انہی نکات پر لکھنے کو قلم اٹھایا، کافی کچھ لکھا اور پھر پھاڑدیا کہ اپنے گریبان میں جھانکنا کوئی آسان کام نہیں۔
    میرا دل بھی ریزہ ریزہ ہے کہ جیسے یزید جیسا کیڑا رینگتا ہوا منبرِ رسول پر جا بیٹھا تھا، آج بھی اسی نالی کے کیڑے اپنے نام کے ساتھ وہ وہ ٹائٹل لگا کر منبر پر قابض ہیں کہ انکی یہ بندمعاشی اور امت کا اس پر راضی رہنا، رسول اکرم ص کی روحِ انور کو شکستہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
    معصومین ع کی جانب کوئی جھوٹ منسوب کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اس قدر قبیح فعل ہے کہ اگر کوئی روزہ دار بھولے سے بھی کوئی ایسی بات کسی معصوم سے منسوب کردے، جو انکی نہ ہوتو اسکا روزہ تک باطل ہوجاتا ہے جسکی قضا اور کفارہ بھی واجب ہے۔
    جبکہ لکڑی کی سیڑھی والی کرسی پر چڑھ کر ان معصوم ہستیوں کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں ہورہی ہیں کہ خدا کی پناہ اور جاہل عوام کا یہ عالم ہے کہ داد دے دے کر عمارت کی دیواریں لرزارہے ہیں اور اس بدمعاش لٹیرے کو، جو ابھی آپکے ایمان پر ڈاکہ ڈال کر اٹھا ہے، اپنی جیب بھی ڈاکے کے لیئے پیش کررہے ہیں۔
    دکھ تو اس بات کا ہے کہ ان بہروپیوں نے لباسِ سادات و معصومین اور اکابرین کو بھی نہ چھوڑا۔ عمامہ، عبا، شیروانی اور ٹوپی کا تقدس یوں پامال کیا ہے کہ خدا کی پناہ۔
    یہ تو رہی شیطان کی کارگزاری۔ لیکن دوسری جانب خدا نے بھی اپنے انداز میں چشمہءخیر کو جاری رکھا ہوا ہے اور وہاں سے ایسے ایسے ہیرے پیدا ہورہے ہیں جو ہر محاذ پر ان دین فروشوں سے بنردآزما ہیں اور تعلیمات محمد و آل محمد سے تشنگان کے قلوب کو سیراب کررہے ہیں۔ انکے سر پر عبا ہو یا نہ ہو، بدن پر شیروانی ہو یا نہ ہو، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انکا مقصد محض دین خدا کی حفاظت ہے اور وہ اس حفاظت میں اس حد تک ڈٹے ہوئے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر شہید کئے جارہے ہیں مگر امت، یا ریوڑ۔۔۔۔ اپنی گھاس چرنے میں مصروف ہے۔
    ہم تو نہایت پستہ قد اور سست رفتار مخلوقات ہیں، لیکن اطمنان اس بات کا ہے کہ اسی پاکیزہ راہ کے مسافر ہیں جسے حق کہتے ہیں۔
    خدا ہمیں اسی راہ پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے راستے میں آنے والے شیطان کے چیلوں کو انہی کی سازشوں کا شکار کرکے تباہ و برباد کردے۔ آمین۔

  2. اسلام علیکم
    محترم صفدر بھائیی یہ ہی منافقت کی انتہا ہے ۔اور ہمارا معا شرہ اس منافقت سے بھرا پڑا ہے۔درد مند دل رکھنے والے لوگ اس تضاد پر سوائے دکھی ہونے کے کچھ کر نہیں سکتے ۔
    بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ ہمارا ‍ظاہر اور باطن پاک کر دے ،۔اور ہمیں منافقت سے بچنے کی توفیق عطا کر دے ۔آمین
    بہت با ا اثر اور سچی تحریر ہے ،

    عالم آرا

  3. بجا فرمایا ہے آپ نے ایک ہی وقت میں سب کو خوش نہیں رکھا جاسکتا اور جب معاملہ اپنے ہی دوست احباب کا ہو تو زیادہ پریشانی ہوتی ہے
    ”مفاد پرستی صرف پیسے سے ہی جڑی ہوئی نہیں ہوتی،فکر اور نظریے کو چند لمحوں کے مفاد کے لیئے بیچ دینا یا کسی شاعر صرف ایک مشاعرہ پڑھنےکے لیئے یا ٹی وی پہ شکل دکھانے کے شوق میں اپنے محسن سے غداری کرنا اور اسے ناپسندیدہ شخس بنا کر دوسروں کے سامنے پیش کر کے اپنے بونے قد کو بلند کرنا دراصل ایک لعنت ہے جسکا خود لعنتی کو احساس نہیں ہوتا“
    محترم ھمدانی صاحب آپ نے اچھا کیا جو سکوت توڑ ڈالا اور ویسے بھی آپ تو آقا و مولا امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کے در سے روشنائی لے کر علم کی کرنیں بکھیرتے ہیں لہذا کسی کی خوشی یا ناراضی کوئی معنی نہیں رکھتی ہاں آپکے عزیز (جو آپکی ہر بات کو مقدم جانتے ہیں) وہ ضرور پریشان ہونگے کہ کیا وجہ ہے جو اتنی خاموشی ہے
    اورخود آپ ہی نے تو فرمایا ہے کہ

    نفرت منافقت سے رہی عمر بھر مجھے
    صفدر میں چل سکا نہ زمانے کے ساتھ ساتھ

    کچھ ایسا ہی وقت ھم نے بھی دیکھا ہے ۱۰ سال بہلے بہت ہی کرب سے گزرے تھے ہم
    اسی دور کی ایک غزل کے دو شعر حاضر ہیں
    کیسی بہار آئی تھی گلشن میں اس دفعہ
    ھم نے اگائے پھول تھے کانٹے نکل پڑے

    من میں بھری ہے آگ رنج و درد کی
    لگتا ہے ڈر کہ آپ کا دامن نہ جل پڑے
    ———————————-
    یہ بات ضرور قابلِ توجہ ہے کہ

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے درمیان موجود یزیز وقت کو پہچانیں وہ چاہے گھر میں ہو،محلے میں،معاشرے میں، ملک میں یا گلوب میں۔ورنہ گوشت حلال،انشورنس حلال اور اب ڈاٹ کام حلال۔۔۔یہ سب بے معنی ہے
    ھمارا خیال ہے کہ ھم اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر دو قدم ہر ایک یزید سے سامنا ہوتا ہے چاہے وہ اہلیبت (ع) کا جاہنے والا ہی کیوں نہ ہو بس ھماری کم عقلی ہے کہ ھم اس کو پہچانتے نہیں اور اس کی تقلید شروع کردیتے ہیں
    سبحان اللہ کا خوب کہا ہے آپ نے

    اے عاشق حسین گریبان میں تو جھانک!
    دامن پہ تیرے چھینٹے ہیں خونِ حسین کے
    کاش ھم کربلا میں بہنے والے ننھے شہید علی اصغر (ع) کے چند قطروں ہی کا حق ادا کرسکیں؟؟؟؟؟؟؟

  4. روز ازل سے ابد تو نیکی بدی کی جنگ اور حق و باطل کا معرکہ رہے گا .. اس دنیا کا حسن بھی یہی ہے اور توازن بھی یہی ہے . اللہ اپنے ولی مختلف رنگ و روپ میں بھیجتا رہے گا اور اسی طرح سے شیطانوں کو چھوٹ دیتا رہے گا . خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے منصب کا ادراک رکھتے ہیں اور اتنی جرات رکھتے ہیں کہ برے کو برا اور اچھے کو اچھاکہتے ہیں . یقین جانئے میں نے بہت غور کیا کہ آخڑ انسانوں کا مقصد حیات کیا ہے .. مجھے تو یہی سمجھ آیا کہ اللہ تعالی نے صرف اسی ادراک کے واسطے بھیجا ہے .

    ادراک ایک روشنی ہے جس میں خود سمجھنے والا بھی رستہ دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی رستہ بتاتا ہے . ایسا ادراک ہر کسی کو نہیں ہوتا کیونکہ ہر لکھنے پڑھنے والاہے وہ خود کو درست سمت میں ہی سمجھتا ہے . لیکن درست ہوتا نہیں … سو درست سمت کا اندازہ کیسے ہو ؟ تو انسان کا قول و فعل ہی ایک ایسا قطب نما ہے جو اس کی درست سمت اور اڑان بتا دیتا ہے . محترم المقام جناب صفدر ہمدانی صاحب کا یہ کالم بھی اسی جانب ایک واضع اشارہ ہے .

    کاش ہم مسلمان اپنی روحوں کو پاک رزق سے پروان چڑھائیں .. آمین

  5. گوشت حلال،انشورنس حلال ، ڈاٹ کام حلال مگر سوچ حرام

    اپنے عنوان کی طرح مختلف مگر فکر انگیز کالم

    محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب کے

    ھفتوں کے سکوت اور گہرے دکھہ کی احتجاجا خاموشی کا کرب تو سب اھل کرم محسوس کر سکتے ھیں ادمی پڑھ کر گم سم رہ جاۓ
    ھم کس سمت میں جا رھے ھیں ، ایمان اسلام حرام حلال خطبیان شہر نے سب کو اس قدر مکس کردیا ھے کہ جاۓ پناہ نیہن مل رھی ھے۔ سارے راستے ھلاکت اور تخریب کی طرف جاتے ھیں ،
    صرف تین طرح کے افراد معاشرے کو سدھارے کی قدرت رکھتے ھیں ، اسلام کی روشن تعلیم سے اراستہ اور دین کا صحیح ادراک رکھنے والے ۔ مبلغ ، سچ گو اسکالر،
    ،ھمارے باخبر مبصرین نے بہت جامع انداز میں تبصرے کیے ھیں ،اور ھر تبصرے کو ٹہر کر پڑھنے اور سمجھنے کے مراحل تک یہ سوچ ھی میرے ساتھہ رھی کہ دراصل حرام سوچ حلال کھانے سے نیہن آتی ، بیچ میں کچھہ نہ کچھہ گڑبڑ ضرور ھوتی ھے ۔حرام کسی شکل میں بھی ھو اپنا اثر دکھا تا ھے

    رزق حلال کھانے والے ھمشیہ ان خرافات سے محفوظ رھتے ھیں

    جب تک آپ حضرات جیسی پاکیزہ سوچ کے حامل افراد اس بات کو اپنے قلم کے ذریعے ھمہ وقت سرکولیٹ کرتے رھنگے ، ان گنت ثواب کے ساتھہ برکتیں اور اللہ کا کرم شامل حال رھے گا

    مجھے تو حیرانی ھوتی ھے جب میں کے ایف سی ، میکڈونالڈ ، مسٹر برگر ، ھارڈیز اور اس طرح کی دیگر فرانچ آیئز پر سو فیصد حلال لکھا دیکھتی ھوں
    انکا مصدر و ماخذ سبھی جانتے ھیں ، یہاں کویت میں تو ھر چیز پر یہاں تک کہ انسٹنٹ نوڈلز تک پر حلال لکھا ھوتا ھے کھبی انگریڈینٹ پڑھ کر خوف آتا ھے۔ کیہں شوق سے مسلمان ممالک میں بکنے اور کھانے والی جیلی ، میشملیو ۔، یہ سب ھی حرام ھیں ۔ ھم اج اپنے روائتی کھانوں اور تہذیبی ورثے کو چھوڑ کر تاریک راھوں پر چل پڑے ھیں
    اور غللطی حرام کھانے کی تو پھر بھی کیہں چھوٹ مل جاۓ گی مگر حرام سوچ کا حامل تو جہنم کا ایندھن ھی ھے ، اور سب سے زیادہ عبرت ناک سزا ملے گی ملت فروشوں پر دین فراموشوں پر ضمیر فراموشوں پر تاقیامت لعنت

    حسین آو کہ اب شہادت کا لفظ معنی بدل رہا ہے
    حسین آو کہ وقت انساں کو اپنے ہاتھوں مسل رہا ہے
    حسین آو کہ اب تو آنکھوں کی بینائی پانی میں ڈھل گئی ہے
    حسین آو کہ آج کے آدمی کی ہیئت بدل گئی ہے
    حسین میرے نحیف سانسوں کو پھر ضرورت ہے انبیاء کی
    قسم خدا کی حسین آو کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی

  6. حرام سوچ کا حامل تو جہنم کا ایندھن ھی ھے ، اور سب سے زیادہ عبرت ناک سزا ملے گی ملت فروشوں پر دین فراموشوں پر ضمیر فراموشوں پر تاقیامت لعنت
    اپنی دوست کے ہر لفظ سے مطفق ہوں.دین میں پختگی ہو تو حلال و حرام کا فرق نہیں بھول سکتا .ہم اپنے دین سے ہی بھٹکے ہوئے ہیں.ہر ایک شخص اگر خود کے اندر جھانک لے
    سچے دل سے ایمان کو مضبوطی سے تھام لے تو خود بخود حلال کا نوالہ کھانے لگے گا …ابھی تو حلال وحرام کا اصل فرق و مطلب ہی معلوم نہیں انہیں ..

  7. جو میرے بس میں تھا وہ کیا میں نے
    ظلم لکھ کر مٹا دیا میں نے
    سر آپکے کالم کو پڑھا یہ ساری کڑوی سچائیاں اور زمانے سے محسوس ھونے والے کرب کو آپ نے کالم میں بیان کر دیا ھے یہ کالم بخدا اس نظریئے کے تحت پڑھہ لیا جائے کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رھا ھے یہ دیکھو وہ کیا کہہ رھا ھے تو ھم سب اپنے گریبانوں جھانکنے لگیں گے
    اور یقینا ابھی ھم میں اپنے اصلاح کی صلاحتیں بھی موجود ھیں اور سر آپ تنہا نہیں عالمی اخبار کا قافلہ آپکے ساتھ ھے

  8. محترم صفدر صاحب ! آپ نے کافی کچھ منافقت کی مثالیں دیں- واقعی.بہت دل دکھتا ہے ،-لیکن ، جب بھی کسی نے کسی بھی ٹوپک پر ، بالغ ہوں یا بچے ہوں ، اپنی ، سچائی سے، اپنی سوچ کا اظہار کیا ہو اور اس پر عمل پیرہ بھی ہو – کتنے غیریا اپنے اس سے خوش ہوتے ہیں – ؟ اس کی کیی مثالیں ملتی ہیں ——- آپ نے حلال گوشت ، دور سے لانے والون کا ذکر کیا ….، لیکن وہی لوگ ، اپنے ملک کے نظام سے ستاۓ ہوے .مستقل رہائش حاصل کرنے کے بیرون ملک میں مختلف “حرام مرحلوں ” سے گزرتے ہیں – اب یہ حد کہاں، ختم ہوئی ، — اس میں کوئی شک نہیں -حلال گو شت کا اتنا اصول ، اس پی عمل ہوتا ہے ، کہ اس کی کم از کم کوئی حد نہیں ہے ، شراب ضرور پینی ہے مگر بیوی کو دور سے حلال gosht لا کر ضرور دینا ہے – اسی طرح ایک بار ایک صاحب ریسٹورانٹ میں دوستوں کے ساتھ ہحلال گوشت کی خاطر بہت دور گئے- کھا نے کے بعد سب کی طبعیت خراب ہو گیی . دوسرے دن اخبار میں خبر چھپی کہ اسی ریسٹورانٹ کے کھانےکی وجہہ سے بہت لوگ بیمار پڑ یے اور اس کو اس وجہہ سے بند کر دیا گیا کیونکے صفایی نہ ہونے کی وجہہ سے جراثیم پیدہ ہ ہو گئے تھے.. دیکھئے جناب ، صفا ی جسے آدھا imman کھا جاتا ہے ….. ہلال والے اس پی بھی تو عمل کریں —
    صفدر صاحب آپ نے لکھا ہے”موا ق ع مجھ جیسے شخص کو ملے —-آج رزق کے حصول میں کوئی مشکل نہ ہوتی اور میں گھر بیٹھ کر کھاتا “…. جو بھی شخص جو کوئی کام کرتا ہے خاص طور پر نیک کام دوسروں کی مدد ، حلال کمائی، اس میں اس کا اندر اور ، ضمیر مطمین ہوتا ہے ، آپ یقیناً، اندر سے مطمین ہیں ، یہ بہت بڑا innam ہے . سکوں ہے اس میں خوشی ہے – جو منافقت کرتے ہیں ، اس کا مطلب یہ تو نہیں وہ خوش قسمت یا اندرونی طور پر خوش ہیں جو غریبوں کا حق مرتے ہیں ، ان کا احساس نہیں کرتے ، وہ دین و دنیا میں سرخرو بھی تو نہیں ہیں – اندر کی خوشی ، دل سے اٹھتی ہے ، باھرسے یا ، بے ایمانی کی کما ی سے نہیں آتی
    تھوڑا سا ، عام زندگی کے بارے میں میں آپ سب سے پوچھتی ہوں ، جو لوگ بیرونی ملک کسی بھی وجہہ سے یا مجبوری کی وجھہ سے آباد ہیں ، ان کے بچے ، زیادہ اکثریت ، ڈبل زندگی گزار رہے ہیں، معاشرے ، سکول ، دوست ، باھر کا ماحول کا اثر ہونا قدرتی بات ہے گھر کا ماحول ، کچھ یوں ہے ( مہینے بچوں کے سامنے کھبی شراب نہیں پی ، باھر پیتا ہوں )- کس کس طرح کے بچے دیکھنے میں آ یے ہیں – مثالوں کے لیے بہت وقت چائیے … لیکن میری نظر میں بچے کافی” نا ر مل “زندگی گزارنا چاہتے ہیں ، مگر ، والدین کا منافق رول ، ان پر ں پریشر ڈالتا ہے جس سے کیی برے نتائج سامنے اے ہیں اور ایں گے اگر ہم نے اپنی سوچ اور منافقانہ رویا نا بدلہ تو …!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *