ارادوں کی شکست اور رب کی پہچان۔باب شہر علم علی علیہ السلام

باب شہر علم۔امیر المومنین ،یعسوب الدین، حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے ۔” میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا“.. ہم سب کی زندگی میں ایسا ایک بار نہیں بلکہ کتنی بار ہوتا ہے کہ ہم اپنی خواہش کے مطابق اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچاسکتے اور جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ سب کچھ ایمانداری سے کرنے کے باوجود بظاہر جیسے ہار سے جاتے ہیں۔ یہی صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ میرے ارادے اور اختیار کے باوصف کوئی قوت ہے جو اپنے فیصلے کرتی اور میرے ارادوں پر خطِ تنسیخ پھیر دیتی ہے ۔ لیکن ارادوں کے ٹوٹنے کے باوجود یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آتی۔ کیوں؟

15 thoughts on “ارادوں کی شکست اور رب کی پہچان۔باب شہر علم علی علیہ السلام”

  1. وارث شاہ نے کہا تھا
    کوئی بے عقلا بازی لے جاندا، کوئی عقل والا بازی ہاردا اے
    وارث مان نہ کر تُوں وارثاں دا، رب بے وارث کر ماردا اے

  2. کسی کو اسکے ارادے کا ٹوٹنا خدا سے قریب کر دیتا ہے اور کوئی اپنا ارادہ ٹوٹتا دیکھ کر مزید بغاوت کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ تو سب ایمان اور اسکے درجات کا کھیل ہے۔
    بلاشبہ وہ شخص امیرالمؤمنین ہونے کا سزاوار ہے جسکا ایمان اس درجے پر ہے کہ خدا اگر ہوا کو اسکے خلاف چلا دے یا پانی اسکی کشتی کو ہچکولے کھلانے لگے تو اسکا اپنے رب پر اعتماد اور بھروسہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    یہی وہ مردِ مجاہد ہے جو بدرو احد کو فتح کر کے آتا ہے تو بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
    جس رات معرکہءبدر فتح کیا تو دن بھر کے تھکے ہارے اپنے بھائی کو رسولِ اکرم ص نے پانی لانے بھیج دیا۔ جب پانی بھر کے لایا تو اپنے بھائی رسول اللہ ص کے گوش گزار کیا کہ ابھی خلافِ توقع اور خلافِ موسم گرم لو کے تین تھپیڑے یکے بعد دیگرے مجھ سے آ کر ٹکرائے۔ رسول اللہ ص مسکرائے اور فرمایا کہ وہ لو کے تھپیڑے نہیں تھے بلکہ لشکرِ ملائکہ تھے جو جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل کی سرکردگی میں آپکو فتح کی مبارک باد دینے اور خدا کا درودوسلام پیش کرنے آئے تھے۔

    جب باری آئی خیبر کی کو چالیس روزہ شکست کو ایک نعرہء تکبیر سے تہہِ تیغ کر ڈالا اور خیبر کو یوں اکھاڑ پھینکا جیسے کوئی بچہ اپنے کھلونے کو پھیکتا ہے۔ کسی نے اس قوت کے بارے میں دریافت کیا تو فرما دیا کہ یہ قوتِ پروردگار کی وجہ سے ہوا۔ میرا کوئی کمال نہیں۔

    اسی علی کے سامنے جب نہروان میں شکست آتی ہے تو کہتا ہے کہ میرے ارادے کے برخلاف تو یہاں آئی، لیکن علی وہ ہے جو شکست کو بھی اپنے رب کی پہچان کا وسیلہ سمجھتا ہے۔

  3. اسّلام علیکم معزّزہم نشین ساتھیوں ،

    صفدر بھیّا سلامت رہیں ،اپنی اولاد کے سکھ چین سے مہ پارہ بھابھی کے ہمراہ فیض یاب ہوں آمین،

    مولائے متّقیان کا نام ہی پڑھ کر میرے وجود کے اندر اس حرارت کا احساس ہوتا ہئے جو صرف زندہ ہی نہیں رکھتی ہئے بلکہ زندگی کی قّوت متحرّکہ بن جاتی ہئے ،،

    زندگی کے تپتے ہوئے لق و دق صحرا میں اسی نام ہی نے تو مجھے سہارا د ے کر کھڑ ا کیا ہئے اوریہ بات میرے مولا علی علیہاسّلام اچھّی طرح جانتے ہیں ،

    اپنی اس بات کی تشریح بھی کر دوں کہ میں ایک بہت کم تر صحت کی مالک منحنی سا وجود رکھتی تھی جس کے لئے میری نانی جان ایک مرتبہ میری والدہ سے کہ رہی تھیں اس کی شادی نہیں کرنا ورنہ یہ شادی شدہ زندگی کے جھمیلے برداشت نہیں کر سکے اور مر جائے گی ،میری والدہ نے کہا ،امّاں میرے آگے بیٹے بھی ہیں میں انکی شادیاں کروں گی تو جوان لڑکی کو کہاں لے کے جاؤں گی میری نانی جان نے میری والدہ کو جو اب دیا اس کے لئے گھر کی چھت پر حجرہ بنوادینا اس میں بیٹھی اللہ ،اللہ کرتی رہے گی ،

    اب زندگی کے راز تو اوپر والا رب ہی جانے کہ میری ہی شادی گھر میں بڑی بہن سے بھی پہلے ہو گئ ،،،شادی شدہ زندگی کے فلسفے سے آشنا ہونے پر مجھے معلوم ہوا کہ مجھے اب ایک ایسی ہستی کے سہارے کی ضرورت ہئے جو دنیاوی سہاروں سے ہٹ کر ہو

    بس میں ناد علی مظہرالعجائب پڑھ کراپنے مولا کے دامن میں پناہ حاصل کرنے پہنچ گئ ،بس باقی اندازہ خود لگا لیجئے سن 1965 کے اوائل سے آج تک میں اسی دامن کی پناہ میں ہوں ،الحمدللہ ،اللہ سے جب بھی قوّت مانگی اس بازوئے حیدر کرّار کے صدقے مانگی جس سے در خیبر اکھاڑ لیا تھا

    اپنی بے علمی اور جہالت پر بہت حیران و پریشا ن رہتی تھی اللہ سے شہر علم اور باب علم کا صدقہ مانگا تو طالب علم بن گئ ،جب کبھی تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام ہوئ تو اپنے مولا علی علیہالسّلام کو یاد کیا اور کہا میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ،تو بس دل ٹہر گیا

    قمر بیٹے آپ نے سو فیصد بلکل درست لکھا ہئے

    کسی کو اسکے ارادے کا ٹوٹنا خدا سے قریب کر دیتا ہے اور کوئی اپنا ارادہ ٹوٹتا دیکھ کر مزید بغاوت کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ تو سب ایمان اور اسکے درجات کا کھیل ہے۔

    بلاشبہ وہ شخص امیرالمؤمنین ہونے کا سزاوار ہے جسکا ایمان اس درجے پر ہے کہ خدا اگر ہوا کو اسکے خلاف چلا دے یا پانی اسکی کشتی کو ہچکولے کھلانے لگے تو اسکا اپنے رب پر اعتماد اور بھروسہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    اسی علی کے سامنے جب نہروان میں شکست آتی ہے تو کہتا ہے کہ میرے ارادے کے برخلاف تو یہاں آئی، لیکن علی وہ ہے جو شکست کو بھی اپنے رب کی پہچان کا وسیلہ سمجھتا ہے۔

    صفدر بھیّا وارث شاہ دو لفظوں میں رب کی پہچان بتا گئے اب یہ سمجھنے کا کھیل ہئے کوئ سمجھے یا نا سمجھے

    کوئی بے عقلا بازی لے جاندا، کوئی عقل والا بازی ہاردا اے
    وارث مان نہ کر تُوں وارثاں دا، رب بے وارث کر ماردا اے

  4. صفدر بھائی آپ نے بڑا اہم سوال پوچھا ہے۔ جواب یہ ہے کہ بندے دو قسم کے ہیں ایک تووہ جو راضی بہ رضا ہیں۔ان کے تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ ان کی ہر وقت نگرانی کر تا رہتا ہے۔ چونکہ اان کی بھلائی مدِ نظر ہے لہذا وہ اگر کبھی کوئی ایسا ارادہ کر بیٹھیں جو ان کے مفاد میں نہ ہو یا اس کی مشیت کے خلاف ہو تو وہ پورا نہیں ہو تا۔ جبکہ ان کا رویہ یہ ہو تا ہے کہ ارادہ پورا ہو جائے تو بھی خوش اور نہ ہو تو بھی خوش مگر وہ اپنی سعی جا ری رکھتے ہیں ۔ جن کو اس نے جہنم کا ایند ھن بنا نے کا فیصلہ کررکھا ہے وہ اگر چوری کا ارادہ کریں ڈکیتی کا کریں تو بھی وہ پورا کرتا ہے؟

  5. “کبھی کبھی خدا اپنے بندے کو اس کی حیثیت سے زیادہ دے کر اس کا شکرانہ دیکھتا ہے اور کبھی کبھی اسے اس کی حیثیت سے کم دے کر اس کا صبر دیکھتا ہے ۔ اور جس نے صبر کا یہ امتحان پاس کرلیا جو اس کی خوشنودی پہ خوش ہوا وہی تو کامیاب ہوا …

  6. میرے بہت ہی محترم بھائی شمس جیلانی نے ایک دفعہ لکھا تھا جو مجھے آج بھی یا دہے کہ …

    “اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ سے تعلقات اچھے ہیں! تو اپنے تمام فیصلے اپنے طور پر پوری محنت کر نے کے بعد اس پر چھوڑ دینا چا ہیئے کیونکہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں فیصلے ہمیشہ بہتر ہی کر تا ہے جبکہ بندہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا بہتری ہے اور یہ بھی کہ بعض اوقات وہ ابتلا میں مبتلا کرکے ترقی ِدر جات کے لیئے نا کامی سے دوچار کر تا ہے تا کہ اس کا روحانی درجہ بلند ہو۔

    میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جو اپنی ناکامی پر صبر سے کام لیتا ہے اس کا اگر کوئی ایک دنیاوی امتحان پاس نہیں کیا تو کیا ہوا؟ اپنے صبر اور اس جذبہ تشکر سے جو کہ اپنی نا کامی پر دکھا یا ۔ وہ دوسرا رو حانی امتحان ضرورپاس کر لیتا ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کا مستحق ہے .

    رہا سوال یہ کہ اس نے اس مرتبہ کامیاب کیو ں نہیں کیا اس کا جواب ایک حدیث میں مو جود ہے ۔

    حضور(ص) نے فر مایا کہ “ ہر کام کے لیئے ایک وقت اور ہر وقت کے لیئے ایک کام معین ہے“

    مجھے لگتا ہے جیسے جب ہمارا یمان اور خدا پر بھروسہ شیطان کے بس میں چلا جاتا ہے تب وہ اپنی ناکامی کو خدا سے دوری کا ایک بہانہ بنا لیتا ہے ورنہ مولا علی فرماتے ہیں کہ ” جو رب بغیر مانگے اتنا کچھ دیتا ہے تو سوچو گر مانگو گے تو کیا کیا نہ دے گا ” .. میر ایقین ہے کہ جیسا انسان کا گمان اپنے خدا سے ہوتا ہے وہ ویسی ہی برکتیں عطا کرتا ہے … کبھی ناکامی سے اسے آزماتا ہے اور اسے روحانی بالیدگی عطا فرماتا ہے تو کبھی کامیابی دے کر شکر آزماتا ہے … سو جد جہد جاری رکھنے والے کو وہ پاک ذات کیسے ناکام کر سکتی ہے .. اگر گر بھی دیا تو اس کی وہی جانے …

  7. اسلام علیکم

    تمام احباب کی خدمت میں سلامتی اور دعا عرض کرتی ہوں ۔

    شان علی (ع) کے بارے میں ہم انسان کیا لکھیں اور کہاں تک لکھیں ازل سے ابد تک اگر تمام انسان شانِ علی لکھنے میں دن رات لگا دیں تب بھی ممکن نہیں کہ علی ع کی بابت ایک ذرے جتنا حق بھی ادا ہو سکے۔۔
    علی مولا کے بارے میں سمجھنا چاہو سننا چاہو تو تمام عالمین سے صرف ایک ہی صدا بُلند ہوتی سنائی دیتی ہے کہ

    یہ دل سوچتا ہے یہ دل کھوجتا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے ہتا نہیں یہ کیا ہے

    حجابوں کے اندر حجابوں کے باہر
    نقابوں کے اندر نقابوں کے باہر
    نظر جو نہ آ کر نظر آ رہا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے ہتا نہیں یہ کیا ہے

    تم اپنی نظر سے علی کو نہ دیکھو
    علی کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھو
    جو مرتے ہوئے شافعی کہہ گئے ہیں
    پتا نہیں یہ کیا پتا نہیں یہ کیا ہے

    وہ ہوں کبریا کہ ہوں وہ پیامبر (ص)
    وہ ہوں سیدہ یا ہوں شبیر و شبر
    ہے ان کے سوا کون جس پہ کھلا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے ہتا نہیں یہ کیا ہے

    یہ عصمت کی وحدت خدا کی حقیقت
    ولی کی صفت انبیا کی حقیقت
    خدا کی قسم بس علی جانتا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے پتا نہیں یہ کیا ہے

    سمجھ میں جو آ جائے کب وہ علی ہے
    خدا تو خدا ہے علی تو علی ہے
    نصیری کو آخر یہ کیا ہو گیا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے پتا نہیں یہ کیا ہے

    کعبے کی دیوار میں در بنا کر
    گھر اپنا سمجھ کر یہ گھر میں خدا کے
    خدا تو نہیں ہے یہ کون آ گیا ہے
    پتا نہیں یہ کیا ہے پتا نہیں یہ کیا ہے

    بس تمام حقیقتوں کی ایک ہی حقیت ہے کہ علی کی بات علی ع کے قول کی حقیقت سمجھنا بھی ہم جیسے انسانوں کی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اور میرا ذاتی ایمان ہے کہ یہ 5 ہوں یا چودہ یہ ہی خدائے کریم کے ارادے ہیں اور خدا کا کوئی ارداہ کبھی خطا نہیں ہوتا کبھی نہیں ٹوٹتا ۔ اور یہ قول ِ امیر ع صرف ہم جیسوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ علی تو خود علی (اللہ ) کا ارداہ ہیں
    خدا آپ تمام احباب کو علی ع اور اولاد علی ع کے صدقے میں اپنی حفظ و امان میں رکھے شاد و آباد رہیں ( الہی آمین )

    طالب دعا
    سیدہ ثمرین بخاری

  8. ولائے کائنات حضرت امير المؤمنين علي بن ابي طالب ع
    حضرت امام علی علیہ السلام
    کی
    شان میں چالیس احادیث

    ـ ۱۔ عنوان صحيفة المؤمن حبّ على بن ابى طالب علیہ السلام

    صحیفہ مومن کا عنوان محبت علی بن ابی طالب علیہما السلام ہے

    ـ ۲۔ قل لمن أحبّ علياً يتهيأ لدخول الجنة

    کہہ دو جو علی سے محبت کرے جنت میں جانے کے لئے تیار ہوجائے

    ـ ۳۔ كفّى و كفّ علىٍّ فى العدل سواء

    میں اور علی عدل کرنے میں مساوی ہیں

    ـ ۴۔ القرآن مع علىّ وعلىّ مع القرآن

    قرآن علی ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ

    ـ ۵۔ من اذى علياً فقد اذانى

    جس نے علی کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت اور تکلیف دی

    ـ ۶۔ انا و علىّ من شجرة واحدة والناس من شجر شتّى

    میں اور علی ایک ہی شجر(درخت) سے ہیں جبکہ باقی لوگ مختلف درختوں سے ہیں

    ـ ۷ ۔ انا المنذر وعلىّ الهادى و بك يا علىّ يهتدى المهتدون

    میں ڈرانے والا اور علی ہادی ہیں اور تجھ سے ہی اے علی ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے

    ـ ۸۔ علىّ منى بمنزلة الرأس من بدنى

    علی کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے

    ـ ۹۔ علىّ فى الجنة كالكوب الصبحة لاهل الدنيا

    علی کی مثال جنت میں ایسی ہے جیسے دنیا والوں کیلے صبح کا ستارہ

    ـ ۱۰۔ علىّ باب من دخل منه كان مؤمنا و من خرج عنه كان كافرا

    علی ایک دروازہ ہے جو اس میں داخل ہوگیا وہ مومن اور جو اس سے خارج ہوگیا وہ کافر ہے

    ـ ۱۱۔ ذكر علىّ عبادة

    ذکر علی عبادت ہے

    ـ ۱۲ ۔ النظر الى وجه علىّ عبادة

    علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے

    ـ ۱۳۔ لو لم يخلق علىّ لم يكن لفاطمة كفو

    اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی ہمسر نہ ہوتا

    ـ ۱۴۔ لو اجتمع الناس على حب علىّ لما خلق اللّه النار ابداً

    اگر تمام لوگ محبت علی پر جمع ہوجاتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرتا

    ـ ۱۵۔ يسئل الناس يوم القيامة عن الاقرار بولاية علىّ

    قیامت کے دن لوگوں سے ولایت علی کے اقرار کے بارے میں سوال ہوگا

    ـ ۱۶۔ سيكون من بعدى فتنة فاذا كان ذلك فالزموا عليّا فانه الفارق بين الحق والباطل

    عنقریب میرے بعد فتنہ پیدا ہو گا جب ایسی صورت حال پیدا ہو تم پر علی کا ساتھ واجب ہے کیوں کہ علی حق اور باطل میں فرق کرنے والا ہے

    ـ ۱۷۔ علىّ منّى وأنا منه وهو ولىّ كل مؤمن و مؤمنة

    علی مجھ سے ہے اور میں علی سے اور وہ ہر مومن ومومنہ کے ولی ہیں

    ـ ۱۸۔ علىّ وشيعته الفائزون يوم القيامة

    قیامت کے دن علی اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہیں

    ـ ۱۹۔ علىّ خير البشر من ابى فقد كفر

    علی خیر البشر(سب سے اعلیٰ انسان) ہیں جواس کا انکار کرے اس نے فقط کفر کیا

    ـ ۲۰۔ مثل علىّ فى الناس كمثل قل هو اللّه احد فى القرآن

    علی کی مثال لوگوں میں ایسے ہی ہے جیسے قرآن میں سورہ قل ھو اللہ احد

    ـ ۲۱۔ لكل نبىّ صاحب سرّ و صاحب سرّى على بن ابى طالب

    ہر نبی کاایک صاحب اسرار(رازدان) ہوتاہے اور میرے رازدان علی بن ابی طالب ہیں

    ـ ۲۲۔ انا مدينة العلم وعلىّ بابها ومن اراد المدينة فليأتها من بابها

    میں علم کا شہر ہوں اور علی اس دروازہ پس جو شہر میں آنا چاہے دروازے سے داخل ہو

    ـ ۲۳۔ انّ الله جعل ذريّة كل نبى فى صلبه وجعل ذرّيتى فى صلب على بن ابيطالب

    بیشک اللہ نے ہر نبی کے صلب میں ہی اس کی ذریت کو قرار دیا ہے اور میری ذریت کو صلب علی بن ابی طالب میں قراردیاہے

    ـ ۲۴۔ قسّم الحكمة عشرة اجزاء فاعطى علىّ تسعة والناس جزءً واحدا

    حکمت کے دس اجزاء ہیں علی کو نو جز اور باقی لوگوں کو ایک جز دیا گیا ہے

    ـ ۲۵۔ لكل نبىّ ووصىّ وارث وان عليّا وصيّى و وارثى

    ہرنبی کا ایک وصی و وارث ہے اور میرے وارث و ولی علی ہیں

    ـ ۲۶ ۔ انا وعلىّ هذا حُجّة الله على خلقه

    میں اور علی خدا کی طرف سے اس کی مخلوق پر حجت ہیں

    ـ ۲۷۔ سئل النبى: من عنده علم الكتاب؟ قال: انما ذلك علىّ

    نبی سے سوال کیا گیا من عندہ علم الکتاب کس کے پاس علم کتاب ہے ؟ آپ نے فرمایا بیشک وہ علی ہیں

    ـ ۲۸۔ حبّ علىّ يأ كل الذنوب كما تأكل النار الحطب

    حب علی گناہوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے آگ خشک لکڑیوں کو

    ـ ۲۹۔ مثل اهل بيتى كمثل سفينة نوح، من ركبها نجى ومن تخلف عنها غرق

    میرے اہل بیت کی مثال سفینہ نوح کی طرح ہے ، جو اس میں سوار ہوگیا اس نے نجات پائی اور جس نے منہ موڑا ہلاک ہوگیا

    ـ ۳۰۔ مثل اهل بيتى كمثل باب حطّة، من دخل غفر له

    میرے اہل بیت کی مثال باب حطۃ کی طرح ہے جو داخل ہوگیا بخشا گیا

    ـ ۳۱۔ إنّا اهل بيت اختار اللّه لنا الآخرة على الدنيا

    ہم اھل بیت کیلے اللہ کی ذات نے دنیا کی بجائے آخرت کو انتخاب کیا ہے

    ـ ۳۲۔ سئلت ربى ان لايدخل احدا من اهل بيتى النار فاعطانيها

    میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری اھل بیت میں سے کسی کی جھنم میں نہ ڈالنا خدا نے میری یہ دعا قبول کی

    ـ ۳۳۔ اللهم انّ هؤلاء اهل بيتى ولحمتى، يؤلمنى ما يؤلمهم

    اے پروردگار یہ میرے اھل بیت اور میرا گوشت ہیں اس نے مجھے رنج دیا جس نے انہیں رنج پہنچایا

    ـ ۳۴۔ حبّ آل محمد يوما خير من عبادة سنة

    آل محمد سے ایک دن کی محبت سال کی عبادت سے افضل ہے

    ـ۳۵ ۔ حبّ علىّ براءة من النار

    علی کی محبت آگ سے نجات دلاتی ہے

    ـ ۳۶۔ من مات فى حب آل محمد فقد مات شهيداً و من مات فى بغض آل محمد مات ميتة جاهلية

    جوشخص محبت اھل بیت میں مرا وہ شہادت کی موت مرا اور جو بغض اھل بیت میں مرا وہ جاھلیت کی موت مرا

    ـ ۳۷۔ اللهم لاتمتنى حتى ترينى وجه علىّ

    اے پروردگار اس وقت تک کسی کو موت نہ آئے جب تک وہ علی کے چہرے کو دیکھ نہ لے

    ـ ۳۸۔ من ذكر فضيلة من فضائل علىّ(ع) مقراً بها غفراللّه له ما تقدم من ذنبه وما تأخر

    جس نے فضائل علی میں سے ایک فضیلت کواقرار کرتے ہوئے بیان کیا تو اس کے گذشتہ اور آنے والے گناہ معاف کردیئے جائیں گے

    ـ ۳۹۔ لو أنّ الرياض أقلام والبحر مداد والجن حُسّاب والانس كتّاب ما احصوا فضائل علىّ بن ابيطالب

    اگر درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور جن و انس ملکر فضائل علی کو شمار کریں تو شمار نہ کر پائیں گے

    ۔ ۴۰۔ ضربت علی فی یوم الخندق افضل من عبادۃ الثقلین

    خندق کے دن علی کی ایک ضرب ثقلین کی عبادت سے افضل ہے

  9. اسلام علیکم ساتھیو
    حضرت علی (ع) کا ایک قول ہے کہ ““ یقین کی نیند شک کی نماز سے بہتر ہے ““
    اور یہ یقین ہی ہے جو ہمیں اپنے رب سے جوڑے رکھتا ہے ۔ کہ جو وہ کرے گا ہمارے بھلے کے لئے ہوگا ۔ جب ہم یقین کی اس منزل پر پہنچتے ہیں تو ہمیں ہر فیصلے پر آمنا و صدقنا کہنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے ۔ جب تک ہم اپنی زات کو اُس رب کائنات کے سپرد صدق دل سے نہیں کرتے جب تک ہمیں صبر و شکر کی طاقت نہیں ملتی ۔
    اللہ اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے اور اُن سے لے کر بھی آزماتا ہے ۔ بس سر خرو وہ ہی ہیں جو اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،اور اس میں شاید ساری زندگی گزر جاتی ہے ،کچھ کو یہ بات جلدی سمجھ میں آجاتی ہے اور کچھ کو بہت دھکے کھاکر ،کہ ہونا وہ ہی ہے جو وہ پروردگار چاہتا ہے ۔ ہم میں کتنا صبر و شکر ہے بس یہ آزمائش ہے ۔
    اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے کہ بے مانگے ہی وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جو مانگنا ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہمیں مل رہا ہے ہمارا حق ہے ،حالانکہ وہ سب اس کی رحمت ہے فضل ہے کرم ہے ۔لیکن جو ہم مانگتے ہیں وہ نہ ملے تو مایوس ہوجاتے ہیں اور نا شکری کی طرف مائل بھی ۔بس یہاں یقین ہی کام آتا ہے اور یہ وہ دولت ہے کہ جسے بھی مل جائے اس کا بیڑا پار ہو جاتا ہے ۔
    اللہ ہمارے علم میں اضافہ فرمائے اور ہمیں شکر گزار بندوں میں شامل رکھے ۔ آمین
    عالم آرا

  10. کبھی کبھی خدا اپنے بندے کو اس کی حیثیت سے زیادہ دے کر اس کا شکرانہ دیکھتا ہے اور کبھی کبھی اسے اس کی حیثیت سے کم دے کر اس کا صبر دیکھتا ہے ۔ اور جس نے صبر کا یہ امتحان پاس کرلیا جو اس کی خوشنودی پہ خوش ہوا وہی تو کامیاب ہوا
    سبحان اللہ،میری مسیحا بیٹی کیا خوبصورت بات کہی ہئے
    وعلیکم واسّلام بہن عالم آراء

    سلامت رہئے
    کبھی کبھی خدا اپنے بندے کو اس کی حیثیت سے زیادہ دے کر اس کا شکرانہ دیکھتا ہے اور کبھی کبھی اسے اس کی حیثیت سے کم دے کر اس کا صبر دیکھتا ہے ۔ اور جس نے صبر کا یہ امتحان پاس کرلیا جو اس کی خوشنودی پہ خوش ہوا وہی تو کامیاب ہوا

    آپ کی کہی ہوئ بات میں نے اچھّی طرح زہن نشین کر لی ہئے تاکہ بے صبری نا بنوں

    بیٹی ثمرین اب غائب نہیں ہونا ورنہ کینیڈا سے پاکستان تک تمھارے تعاقب میں آنکھیں دوڑتی رہیں گی،،، تمھارا بلاگ بہت ہی پسند آیا جگ جگ جیو اللہ پاک تمھارے دامن علم کو اور بھی وسعت عطا کرے آمین

  11. بس یہ ہی وہ بات ہے اگر ہمیں سمجھ آ جائے تو ہماری زندگی سنور جائے ، رب کو پہچاننا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ، مگر ہم انسان اکثر اپنی زندگیوں میں خود کو (نعوذباللہ) رب سمجھ کر فیصلے بھی کر گزرتے ہیں ، یا پھر ہم اپنی انا اور فرعونیت میں ، وہ کر گزرتے ہیں جو دوسرے کی زندگی کو اجیرن کر دیتے ہیں ، ہمیں نہ محبتیں سمجھ آتیں ہیں نہ نفرتیں ، ہمارے ارادے روز ٹوٹتے ہیں ، مگر کیا کریں جب ارادے ٹوٹتے نہیں توڑتے جاتے ہیں ، اسی کو ہم Free Will کہتے ہیں ، اور اسی لیے ہم اپنے ارادوں کے ٹوٹنے کے باوجود ہم رب کو نہیں پہچان پاتے ، کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم عقل کُل ہیں ، ہم رب کے نائب ہیں ، بااختیار ہیں ، اور اسی اختیار کے نشے میں ہم دوسروں کے ارادے توڑ دیتے ہیں ، دوسرا تو شاید رب کو جان لے ، مگر ہم ۔ ۔ ۔ اپنی فرعونیت اور انا کے نشے میں ۔۔ ۔ ۔۔ رب کو کیا ، خود کو بھی نہیں جان پاتے ۔ ۔۔ میری نظر میں تو یہ وجہ ہے ۔ ۔ ۔

  12. ارادوں کا بننا اور پھر ٹوٹ جانا ہمارے اختیار میں کہاں تک ہئے یہاں میں اپنی زندگی کے بو یادگا ر قصّے تحریر کروں گی
    میری زندگی کا ایک بڑا ارمان تھا کہ میں اپنے بیٹوں کو این ای ڈی یونیورسٹی میں پڑھاؤن گی لیکن بھلا ہماری مرضی کہاں چل سکتی ہے جب تک وہ نا چاہے

    ہوا یون کہ بڑے صاحبزادے نے جب انٹر کامیا ب کر لیا اس وقت این ای ڈی یونیورسٹی میں آرکیٹکچر ڈپارٹمنٹ قائم نہیں ہوا تھا البتّہ داؤد انجئنیرنگ کالج میں تھا جس کے لئے،نا جانے اس کے من میں کیا سمائ کہ اس نے کہ دیا کہ داؤد میں مجھے نہیں پڑھنا ہئے ،چلو چھٹّی ہوئ ،کہاں جاؤں کس طرح سمجھاؤن مگر وہ مان کے نا دیا اور مجبور ہوکر میں نے اس کی بات انوار صاحب کے گوش گزار کر دی ،انہون نے اطمینان سے کہا کوئ بات نہیں ابھی ہمارے پاس اور آپشن موجود ہیں ۔،

    اس کے بعد یہ ہوا آغا حسن عابدی کے بنک میں بی سی سی آئ میں ٹسٹ کے لئے امّیدوار مانگے گئے ،میں نے انوار صاحب کی بات بیٹے کے گوش گزار کی تو وہ کہنے لگا امّاں سارے حساب کتاب اوپر طے شدہ ہوتے ہیں ،کوئ فائدہ نہیں ہو گا ادھر جانے سے ،میں نے اس سے کہا تم اپنے بابا کا دل رکھنے کی خاطر یہ ٹسٹ دے لو اور وہ ٹسٹ دینے پر راضی ہوگیا میری شامت اعمال کہ ٹسٹ سے پہلے میرے چوتھے نمبر کے بھائ کی شادی آگئ تھی اور ٹسٹ کی تاریخ ولیمے کی صبح پڑ گئ ،

    انوار صاحب نے میرے بھائ کے ولیمے میں شرکت کی شرط میرے اوپر لگا دی کہ رات آٹھ بجے دونوں ماں بیٹے گھر پر موجود ہونا چاہئے ،،،وہ دل کے مریض تھے اس لئے ہجوم میں جانے سے گریز کرتے تھے اگر وہ ساتھ ہوتے تو شائد میری زمّہ داری کم ہو جاتی ،بہر حال میں اپنے میکے کی تقاریب کے لئے جس جگہ عزیزآباد سے کھانا پکواتی تھی وہاں سے سوزوکی میں کھانا لوڈ کروا کر گھر لائ تب ساڑھے سات بجے تھے میں نے سوزوکی والے کو کرائہ دے کر رخصت کیا اور بیٹے سے کہا بیٹا جلدی گھر چلو تاکہ تمھارے بابا خفا نا ہوں وہ کہنے لگا ،امّاں سلیکشن کا سارا حساب تو بالابالا ہی ہوچکا ہئے یہ ٹسٹ تو بس ڈھونگ ہئے ،میں تو قربانی کا بکرا نہیں بنتا ،آ پ جائیے میں بعد میں آ جاؤں گا ،پھر اپنے گھر کے ایک بچّے سے کہا مجھے جلدی گھر پہنچادو ،اور میں گھر آگئ ،انوار صاحب نے سوال کیا رضا کہاں ہئے میں نے کہا ابھی آرہا ہئے (اللہ مجھے معاف کرے کہ میں نے ڈر کی وجہ سے جھوٹ بولا )وہ مطمئن ہو گئے ،ہم دونو ں نے ولیمے کا وہ کھانا ساتھ کھایا جو میں اپنے ساتھ لائ تھی اور پھر وقت کھسکنے لگا ،یہاں تک کہ رات کے بارہ بج گئے اب صورت حال یہ تھی کہ میرے میاں جی آنگن میں تلملاتے اور ٹہلتے ہوئے بیٹا ماموں کی شادی میں بھنگڑا ڈالتا ہوا اور میں مصلّے پر جل تو جلال تو آئ بلا کو ٹال تو کا ورد کرتی ہوئ ،کیونکہ انوار صاحب کی خفگی اپنی جگہ بجا تھی کہ میں اس کو ساتھ کیوں نہیں لائ ،بہر حال وہ صحیح تھے اور میں مجبور تھی،خیر رات کے بارہ کے بعد صاحبزادے گھر آگئے تو انوار صاحب خفا نہیں ہوئے بس اتنا کہا جلدی سو جاؤ تاکہ جلدی اٹھ سکو

    پھر میں بھی بھیگی بلّی کی طرح خاموشی سے بستر میں دبک گئ ،وہ صبح اٹھ کر ٹسٹ دے آیا ،،اور پھر ایک معجزہ یہ ہوا کہ چند دن کے اندر ہی این سی اے کا ٹسٹ بھی آگیا وہ ٹسٹ اس نے جی جان سے خوشی خوشی دیا لیکن خاندان کے کچھ لوگ مجھے ڈرانے لگے کہ این سی اے کے لئے منہ دھو رکھّو بڑے بڑے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور داخلہ نہیں ملتا ہئے ،

    اب دونوں جگہ کا رزلٹ آنے تک میری گردن سولی کے پھندے میں تھی انوار صاحب کے کچھ کہنےسننے سے ہٹ کر بیٹے کے مستقبل کا سوال تھا ،مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان دنوں کیا کچھ دعائیں مانگی تھیں پھر ایک روز صبح صبح میرے دل کو الہام ہوا کہ آج میری ماں کو میری ضرورت ہئے اس الہام کا اترنا تھا کہ میں انوار صاحب کو آفس کے لئے اور بچّوں کو ان کے اسکول کالج بھیج کر ایک لمحہ ضائع کئے بغیر رکشہ لے کر دستگیر نمبر نو سے بلاک ڈی نارتھ ناظم آبا د اپنی والدہ کے پاس تھی ،والدہ مجھے سامنے ہی گیلری میں مل گئیں انکی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے پوچھا کیاہوا? تو کہنے لگیں آج چاند رات ہئے شام کو خواتین مجلس کے لئے آئیں گی اور عزاء خانہ نہیں سجا ہئے سب اپنے اپنے کام پر نکل گئے ہیں ایک دو نے جاتے ہوئے کہ دیا ہئے کہ شام کو آکر سجائیں گے ،میں نے ا پنی والدہ سے کہا اب آپ اپنا دل میلا مت کیجئے میں ابھی عزاء خانہ سجا دیتی ہوں (عزاء خانہ ایک بڑے اور کشادہ تخت پر سجتا تھا آج انکی وفات کے بائیس برس بعد بھی انکی لا ئق بہو ؤں نے اسے سجانے کی زمّہ داری اٹھائ ہوئ ہئے جزاک اللہ )

    پھر جو میں عزاء خانے سجانے لگی تو مکمّل کر کے میرے پاس وقت نہیں بچاتھا ،بس اتنا وقت تھا کہ میں دعاء مانگ لیتی ،اور پھر میں علم سجے ہوئے تخت کا داہنا پایہ پکڑ کر فرش عزاء پر بیٹھ گئ اور میں نے بی بی سیّدہ سے مخاطب ہو کر گریہ کیا کہ آپ کے لال کا عزاء خانہ سجانے آئ تھی جب اس عزاء خانے کو بڑھانے آؤں تب تک میرے لال کا داخلہ اس کے شایان شان مکتب میں ہو چکا ہو
    دعاء مانگ کر اٹھی اور والدہ کو خدا حافظ کہا وہ کہتی رہ گئیں کچھ کھاپی لو میں نے جاتے جاتے کہا گھر میں تالا ہئے بچّے آئیں گے تو بیٹھیں گے کہا ں ،ایکدو دن میں مجلس کرنے آؤں گی پھر کھا پی لوں گی اور پھر میں اپنے گھر پر آگئ اور پھر اعجاز جناب سیّدہ سے میرے صاحبزادے کا داخلہ این سی اے میں ہو گیا یہ آٹھ محرّم کا دن تھا جب ہمیں شہیدان کربلا کا صدقہ ملا تھا ہم سب نے پھر شکرانہ ادا کیا ،پھر میں گیارہ محرّم کی رات کو امام بارگاہ بڑھا کر بی بی سیّدہ کا شہیدان کربلا کا شکریہ ادا کرکے آئ یہ کہانی میرے ارمان سے شروع ہوئ تھی کہ میں تو بیٹے کواین ای ڈی میں پڑھانا چاہتی تھی کہ وہ درسگاہ بھی صرف پاکستان نہٰن بلکہ جنوبی ایشیا میں میں اپنا مقام رکھتی ہئے لیکن اللہ پاک کچھ اور بھی بہتر چاہتا تھا اس لئے میرے ارادے کو اس نے کامیاب نہیں ہونے دیا لیکن اس سے بھی اچھّا دیا

    دوسر کہانی انشاللہ جلد زندگی بخیر

  13. دوسرا اہم واقعہ یہ ہو ا کہ جب اللہ پاک نے اپنے کرم سے پنجتن پاک کے صدقے مین صاحبزادے کو سعودی عرب میں برسرروزگار کر دیا تب ایک دن میں نے سوچا میری عمر تو گزرتی جارہی ہئے نے ,,,میں علم معرفت کب حاصل کر سکوں گی ،وقت کہاں سے نکالوں پس میں نے سوچا بیٹے اور شوہر کی کمائ سے کفائت میں گھر چلاؤں گی اور اپنا وقت اپنے لئے حصول علم میں صرف کروں گی میں نےانوار صاحب سے اپنے ارادے کا زکر کیا تو انہون نے سہولت سے جواب دیا جو چاہو کرو ،، ،

    بچّوں کے سالانہ امتحانات سر پر تھے میں نے پوری تندہی سے بچّوں کو تیاری کروا کر امتحان دلوائے اور پھر گرمیوں کی چھٹّیاں شروع ہو گئیں تھین اور میرا پکّا پکّا ارادہ تھا کہ چھٹّیون کے بعد جب اسکول کھلیں گے میں بچّوں کو گلی میں موجود دوسرے ٹیوٹرز کے پاس بھیج دونگی ،
    لیکن بھلا ہم کہاں کچھ چاہ سکتے ہیں جب تک وہ نا چاہے ،بس ایک دن میں حسب معمول تین بجے سہ پہر کو گھر آئ انوار صاحب کہنے لگے ایک لڑکی تم سے ملنے آئ تھی ،اپنے بچّوں کو ٹیوشن پڑھوانا چاہ رہی ہئے

    ،مین نے اس سے بتا دیا ہئے کہ اب وہ پڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں پھر بھی وہ کہ کر گئ ہئے کہ کل آئے گی ،خیر بات آئ گئ ہوگئ لیکن وہ تو اگلے دن میرے گھر آنے سے پہلے ہی میرے گھر پر بچّون کے ہمراہ موجود تھی ،بیٹی کی عمر تیرہ برس جبکہ ،بڑا بیٹا دس برس تک اور چھوٹا سات برس کی عمر تک تھا اس نے مجھے سلام کیا میں اسے جواب دے کر اس کے مقابل بیٹھ گئ تو وہ مسکراتے ہوئےکہنے لگی یہ میرے بچّے ہیں بیکن ہاؤس میں پڑھتے ہیں ا ور مین نے سنا ہئے کہ آپ بہت اچّھا ٹیوشن پڑھاتی ہیں اور میں آپ کو بہت اچھّا ہدیہ دوں گی لیکن ان کواب آپ ہی پڑھائیں گی

    مین نے بھی مسکرا کر اس سے پوچھا کہ اس ‘‘اب ‘‘کا کیا مطلب ہئے تو کہنے لگی کہ ان کا استاد گھر پر پڑھانے آرہاتھا ،لیکن اب یہاں ہم نے گھر خریدا ہئے اور استاد یہاں آنے کو تیّار نہیں ہئے اسے اپنے گھر سے ہمارا گھر بہت دور پڑ رہا ہئے ،اور میں بچّوں کی چھٹیّان بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی ہوں اس لئے کل سے ٹیوشن شروع کروانا چاہتی ہوں ،

    ،،میں نے اس کی پوری بات سن کر کہا بیٹی ،کیونکہ میں اب نے ٹیوشن پڑھانے کا ارادہ ترک کر دیا ہئے اوریہ کہ اس گلی میں ایک این ای ڈی کا اسٹوڈنٹ ،اور ایک دوسرے گھر میں کراچی یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ بھی ٹیوشن پڑھاتی ہئے

    ،میری بات سن کر وہ بلکل سنجیدہ ہو گئ اور کہنے لگی کہ میرے شوہر نے سختی سے کہا ہئے کہ کسی اور جگہ بچّوں کو بٹھانے کی ضرورت نہیں ہئے کیونکہ بیٹی سیانی ہورہی ہئے بتائیے میں کہاں جاؤں پھر جو میری نظر اس کی آنکھوں پر گئ تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور اسی لمحے مجھ پر ادراک کا دروازہ کھلا جس میں اللہ تعالٰی مجھ سے ناراض لہجے میں کہ رہا تھا کہ او بد بخت جب تجھ کو اپنی غرض تھی تب تو کس طرح خوشی خوشی بچّے پڑھاتی رہی اور اب جب میری مخلوق کو تیری ضرورت ہئے تو کس طرح بے مروّتی دکھا رہی ہئے ،بس میں نے اس سے کہا کل سے بچّے ساڑھے چار بجے لے آنا اس لڑکی کی خوشی اسوقت دیدنی تھی ،

    یہ واقعہ میرے لئے اس لئے اہم ثابت ہوا کہ اس وقت لے کر اب تک میں الحمد للہ سوائے ایک برس کے وقفے کے مسلسل پڑھا رہی ہوں اور یہی میرے مالک کی مرضی تھی

    اس وقفے کے لئے بھی میں نے اللہ تعالٰی سے اجازت لی تھی کہ میری بہو کو ایک برس کے لئے میری خدمات درکار تھین ،میرے علم معرفت جس کا مجھے شوق تھا وہ تشنہ ہئے کوشش لگاتار کرتی رہتی ہوں ،دینا یا دینا اس کے اختیار میں ہئے ،
    اور میرےرب نے میرا ارادہ کی تکمیل نہیں ہونے دی
    اکثر ملنے جلنے والے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ الحمدللہ دو صاحب حیثیت بیٹوں کی کمائ کے باوجود بھی میں کیوں ٹیوشن پڑھاتی ہوں ،میں کسی سے کیا بتاؤں کہ کیوں پڑھاتی ہوں کہ یہ معاملہ میرے اور میرے رب کے درمیان وعدے وعید کا ہئے

  14. صفدر بھیّا ، اتنا اچھّا فکری بلاگ لگانے کا بہت بہت شکریہ،

    پہلی پہلی مرتبہ تو سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن جب سمجھا تب معلوم ہوا کہ مولائے کائنات کے کہے ہوئے اس جملے کی روح کیا ہئے

    پھر اپنی گزری زندگی پر غورکیا تو معلوم ہوا کہ میرے ارادے کہاں کہاں ٹوٹے لیکن میرے پالن ہار نے مجھ کو ہر ،ہر بار میری ناقص سوچ سے کس قدر بڑھ کر عطاکیا اس کا تو مجھے گمان بھی چھو کر نہیں گزراتھا

    جزاک اللہ ،سلامت رہین

    دعاگو زائرہ بجّو

  15. سلام ‌یہاں " اپنے " کا لفظ اضافی ھے ‌، اصل حدیث کا ترجمہ اسطرح ھے " میں‌رب کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے اور ہمتوں کے پست ہوجانے سے " جس ھستی ک says:

    سلام
    ‌یہاں ” اپنے ” کا لفظ اضافی ھے ‌، اصل حدیث کا ترجمہ اسطرح ھے
    ” میں‌رب کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے اور ہمتوں کے پست ہوجانے سے ”
    جس ھستی کے یقین کا عالم یہ ہو کہ ” یا رسول اللہ ص کہاں تک لڑوں ”
    وہ ایسا مشکوک ارادہ و نیت کرے جسکے ٹوٹنے کا خوف ہو ، آیہ تطیر کی مووجودگی میں ممکن نہیں‌۔
    شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *