یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

کچھ چیزیں ہم لوگوں نے غلط روایات کے طور پر ایسی بھی بنا رکھی ہیں جن کو فقط بڑوں سے مربوط و منسلک کر رکھا ہے،جیسے معذرت یا معافی بچہ ہی بڑے سے مانگے گا یا پھر شکریہ بچہ ہی بڑے کا ادا کرے گا حالانکہ اگر ہم بچوں سے غلط بات کی معذرت کر لیں اور اچھی چیز پر انکا شکریہ ادا کر دیں تو سچ جانیئے کہ یہ بھی تربیت اور تہذیب کا ایک طریقہ ہے 