سب دوستوں کی سالگرہ منائی جا رہی ہے اور اسی دوران یکم نومبر عالمی اخبار کی دوسری سالگرہ ہے جو صاف شفاف اور بے لاگ صحافت کی کامیابی کا سفر ہے۔ یہ سفر آپ سب قلم کاروں،قارئین اور ہر شعبے کے ہم سفر کو مبارک ہو۔ دوسری سالگرہ کا یہ گرافکس برادرم امجد شیخ نے تیار کیا ہے.ہم سبکی طرف سے انکا شکریہ.


دو سال
کسی سو سالہ سے پوچھیں تو کہے گا کہ بہت چھوٹا عرصہ ہے
کسی دو سالہ سے پوچھیں تو کہے گا کہ پوری زندگی ہے
چھٹیاں ہوں تو دو سال دو دن میں گزر جاتے ہیں
کوئی مشقت کررہا ہو تو دو سال دو صدیاں بن جاتے ہیں
عالمی اخبار کے دو سال
میرے لیے تو کچھ اور معانی رکھتے ہیں لیکن
آغا ہمدانی صاحب اور بہن نگہت سے کوئی پوچھے
اور پوچھنے پر اگر تفصیلی جواب مل گیا تو پوچھنے والا بے اختیار کہہ اُٹھے گا
“ماشاء اللہ، سبحان اللہ”
“آفرین، مرحبا”
“دو سال پورے ہو جانے پر ڈھیروں مبارک باد”
میری نظر میں “عالمی اخبار” کے تمام پڑھنے والے، لکھنے والے اور
اس کے پش منظر و پیش منظر میں کام کرنے والے سب ہی مبارک باد کے حقدار ہیں لیکن
آغا ہمدانی صاحب اور بہن نگہت صاحبہ کا اس مبارک بادی میں کم از کم حصہ
اگر کوئی بُرا نہ منائے تو عرض کروں کہ
90% سے زیادہ ہی ہے
اس کی باقاعدگی، اس کی جدت، اس کا معیار یہ سب تو ہیں ہی صف اول میں
لیکن جس خوبی کی طرف محترم شمس جیلانی صاحب نے اشارہ فرمایا ہے وہ اس
“عالمی اخبار” کی پہچان ہے، محترم نے کیا خوب فرمایا ہے
میں بتا ؤں کیا تمہیں کیا “عالمی اخبار” ہے
جس کا میرِ کارواں خود صفدرِ جرار ہے
جھوٹ پا ؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار
اس میں جو بھی لکھ رہا ہے صاحبِ کردار ہے
عالمی اخبار کی طبعی عمر ماشااللہ دو سال کی ہے مگر اس نے جناب صفدر ھمدانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی ادارت میں علم و ادراک اور شعور کے لحاظ سے کئی سال کا سفر ان دو سالوں میں طئے کیا ۔
عالمی اخبار کے اربابِ اختیار اور انکے شرکائے کار ہم سب کی مبارکباد اور ہم سب کی دلی دعاوں کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بے لوث طریقے سے اپنی توانیاں اس اخبار کی خدمت کے لیے وقف کردیں۔
عالمی اخبار کے اس سفر میں کئی ہم سفر آئے اور اپنا نقش تمام پڑھنےوالوں کے دلوں پر چھوڑ کر چلے گئے ۔ کبھی کبھی ان جانےوالوں کی بہت یاد آتی ہے جن میں تانیہ رحمان صاحبہ ، سیدہ ثنا شاہ نقوی صاحبہ ، سیدہ ماریہ علی کاظمی صاحبہ ، ڈاکٹر پنہاں صاحبہ اور ارشاد عرشی صاحبہ اور سائیں رحمت علی صاحب اور عمران چوہدری صاحب اور پھر فیاض امر صاحب اور عاطف توقیر صاحب ، زوار قمر عابدی صاحب اور وحید اختر واحد صاحب اور انہی کے پائے کے بہت سارے بلاگ نگار اور کالم نگار اپنے اپنے علم وفن کے جواہر بکھیرتے ہوئے عالمی اخبار سے رخصت ہوگئے ( خدا کرکے کہ انکی غیرحاضری صرف عارضی ثابت ہو اور وہ سب پھر سے اپنے مادر علمی ( عالمی اخبار ) کی خبر لینے کے لوٹ آئیں ۔ ۔ )
میںایک مہمان مبصر اور بلاگ نگار کی حیثیت سے اس اخبار میں اپنے حصہ کی شمع جلانے کی کوشش کرتا رہا مگر میرے مشاہدے کے مطابق بہت سارے بلاگ نگار اور کالم نویس حضرات و خواتین اتنی اچھی اردو میں اپنے کالم اور بلاگ عالمی اخبار میں شایع کرتےرہے کہ میں خوش ہوتا چلا گیا کہ عالمی اخبار کے طفیل اردو کی اتنی اچھی خدمت ہورہی ہے ۔
مجھے یاد ہے کہ دو سال قبل میں عالمی اخبار کے اس سفر میں میرے ان اشعار کے ساتھ شریک ہوا :
مونس و ہمدم ہمارا : عالمی اخبار ہے
ہم کو اپنی جاں سے پیارا: عالمی اخبار ہے
دستِ صفدر کا سنوارا : عالمی اخبار ہے
چشم ِ نگہت کا ستارا : عالمی اخبار ہے
شیخ امجد کا نکھارا : عالمی اخبار ہے
زرقا مفتی کا دُلارا : عالمی اخبار ہے
بزم اردو کا سہارا : عالمی اخبار ہے
یہ تمھارا اور ہمارا : عالمی اخبار ہے
۔۔۔۔۔
عالمی اخبار چند ہستیوں کی محنتوں کا مرہونِ منت ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ گرانقدر ہستیاں صحت و تندرستی کےساتھ اس اخبار کو اپنی دن رات کی کوششوں سے زندہ رکھ رہی ہیں ۔۔
میں اس مبارک موقعہ پر سب سے یہی کہونگا کہ وہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ ان ذمہ دار ہستیوں کو ہمیشہ ہمیشہ صحت و تندرستی کےساتھ سلامت رکھے ۔ آمین ثمہ آمین یا رب العالمین ؛
عالمی اخبار کی سالگرہ پر مبارکباد کے ساتھ :
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
اسلام علیکم
اتنی ساری سالگرہوں کہ درمیان ماشاء اللہ عالمی اخبار کی سالگرہ بہت بہت مبارک سب لکھنے والوں کو بھی اور سب پڑھنے والوں کو بھی ۔
اللہ رب العزت اس اخبار کو دن دونی اور رات چوگنی ترقی دے ۔
محترم شمس بھائی کی مبارکباد بے حد خوبصورت ہے ۔
میں بتا ؤں کیا تمہیں کیا “عالمی اخبار” ہے
جس کا میرِ کارواں خود صفدرِ جرار ہے
جھوٹ پا ؤگے نہیں جس کا ہے سچائی شعار
اس میں جو بھی لکھ رہا ہے صاحبِ کردار ہے
بہن نگہت نسیم ،بھائی صفدر ہمٰدانی کو اپنی کاوشوں کی دوسری سالگرہ بہت بہت مبارک اور ان کے تمام ساتھیوں کو بھی ۔اللہ کرے یہ اخبار پھلتا پھولتا رہے اور سب
کو اسی طرح خوشیاں بانٹتا رہے۔
عالم اآرا
وینکور
بطور عادت سچ بولنے والے دنیا میں بہت مل جائیں گے مگر جان و مال کی آزمائش کے وقت کلمہ حق بلند کرنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں،اتنے قلیل کے ہر زمانے میں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے،لیکن حق کی راہ پر گامزن انسان کا حقیقی امتحان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی جان ومال اور عزت و آبرو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر ظالم و جابر کے سامنے بہادری اور دلیری سے کلمہ حق بلند کرے،
ایسے ہی لوگ درحقیقت عالم انسانیت کے ہیرو ہوتے ہیں،یہ بہت بڑا کام ہے اور کٹھن امتحان ہے،جس میں عالمی اخبار اور بالخصوص جناب صفدر ہمدانی،جناب شمس جیلانی،باجی نگہت نسیم سمیت پوری ٹیم ہمیشہ سرخرو اور کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
اپنے دوسالہ سفر میں اس اخبار نے نشاط و آسائش،نعمت و انعام کی پیشکشوں کو ٹکھراکر،اشرار کی طرف سے پتھروں کی بارش کے باوجود پیغام حق پہنچانے میں جس جرات و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس کا اعزاز اور خاصہ ہے،
یہ پیروی ہے اس حدیث مبارکہ کی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میری امت پر آخری زمانے ان کے حکمرانوں کے ہاتھوں مصیبتیں وارد ہوں گی اور ان مصیبتوں سے صرف وہ آدمی رہائی پائے گا جو دین حق سے آگاہ ہوگا اور اعلائے حق کیلئے اپنی زبان،بازو اور دل سے جہاد کرے گا۔‘‘جناب صفدر ہمدانی اور باجی نگہت نسیم کی قیادت میں عالمی اخبار اس جہاد کا قافلہ سالار ہے,
ہمیں فخر ہے کہ ہم اس قافلہ حق کے ایک ادنی کارکن ہیں،ہماری دعا ہے کہ یہ اخبار اسی طرح خوشامد اور مصلحت کوشی سے دور حق کو حق اور ناحق کو ناحق کہنے کا فریصہ سرانجام دیتا رہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
ہم ہی کو جرات اظہار کا سلیقہ ہے
صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے
بہت بہت شکریہ آپ سب کی دعاؤں کا .. منظور بھائی یہ بلاگ ایک فیملی کی طرح ہے جو لوگ وقتی مصروفیت کی تحت حصہ نہ لے سکیں انہیں گھر سے علیحدہ تھوڑی کر سکتے ہیں .. یہ ان سب کا بھی گھر ہے وہ جب چاہے اپنے گھر واپس آ ئیں .. ہم سب کی نیک تمنائیں اور دعائیں ان کے کامیاب سفر اور زندگی کے لئے ہمیشہ رہیں گی … اللہ کریم ہم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے.آمین
عالمی اخبار کی سالگرہ دراصل ہم سبکی سالگرہ ہے. شکر ہے خالق لوح وقلم کا کہ دو سال جو دو صدیوں کی طرح تھے وہ نہایت خوش اسلوبی اور عزت سے گزرے اور اب اگلے مراحل میں پروردگار ہم سب کا حامی و ناصر ہو.
مجھے اس موقع پر ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ عمومی طور پر ایسے خوشی کے لمحات میں نوے فیصد لوگ ان لوگوں کا زکر نہیں کرتے جو کسی بھی وجہ سے ثابت قدمی اور کمٹمنٹ کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور اس قافلے سے دور ہو گئے.لیکن عالمی اخبار کا نصب العین چونکہ آزاد،بے لاگ اور بلامفاد صحافت ہے اسلیئے منظور قاضی ساحب نے جن احباب کا ذکر کیا ہے اسکی اشاعت بھی صرف اس لیئے کی ہے کہ عالمی اخبار کی انتظامیہ نے کسی کو جانے پر مجبور نہیں کیا بلکہ یہ ان افراد کے انفرادی فیصلے تھے اور پھر ان میں سے کچھ چڑیوں کئ بچے ایسے بھی تھے کہ جن کے جب پر نکل آئے تو انہوں نے چڑیا ماں سے کہنا شروع کر دیا کہ ماں تم ٹیڑھی ٹیڑھی اڑتی ہو.
اللہ کا احسان ہے کہ ایک فرد کے جانے پر تین نئے افراد اس قافلے میں شامل ہو گئے. نظریات کبھی افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوتے
مجھ سمیت کوئی بھی ناگزیر نہیں ہے لیکن میں آپ میں سے نام بنام ایک ایک کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنا وقت اور صلاحیتیں عالمی اخبار کے لیئے عطا کی ہیں. آپ سب کا بے حد شکریہ
عالمی اخبار کی دوسری سالگرہ ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ سب کو بتاؤں کہ بلاگ میں کتنے ساتھی لکھتے ہیں اور ان دوسالوں میں کونسا بلاگ سب سے زیادہ پڑھا گیا اور تبصروں سے نوازہ گیا
نئے بلاگ نگاروں کی لسٹ
نادیہ بتول بخاری ۔۔ 29 بلاگز لکھے
آصف بھٹی ۔۔۔ 26
جاوید اقبال کیانی ۔۔12
عالم آراء ۔۔۔۔11
زوار قمر عابدی ۔۔ 7
عابدہ مظفر سیال ۔۔ 7
ناصر زیدی ۔۔.6
ڈاکٹر خواجہ اکرام ۔۔4
نزہت نسیم ۔۔۔۔3
سید اکمل ۔۔. 2
جعفر حسین ۔۔۔2
پرانے بلاگ نگاروں کی لسٹ
نگہت نسیم ۔۔۔ 109 بلاگز لکھے
صفدر ہمدانی ۔۔۔108
منظور قاضی ۔۔۔۔81
شعیب صفدر ۔۔81
سیدہ ثنا شاہ ۔۔۔69
ظفر جعفری ۔۔40
فیاض امر ۔۔36
عبدلمناف غلزئی ۔۔۔26
زرقا مفتی ۔۔24
شمس جیلانی ۔۔22
سید مصباح حسین جیلانی ۔۔۔22
ظہور احمد ۔۔۔16
ڈاکٹر پنہاں ۔۔16
عاطف توقیر ۔۔۔15
وحید اختر ۔۔ 12
تانیہ رحمان ۔۔۔ 8
شاہین رضوی ۔۔۔۔ 7
ماریہ علی ۔۔۔3
روبینہ فیصل ۔۔ 3
امین ترمذی ۔۔ 1
سید اقبال حیدر ۔۔1
سب سے زیادہ پڑھا جانے والا بلاگ تھا ‘ تیرہ رجب ، مولائے کائینات حضرت علی علیہ السلام کا یوم ظہور مبارک ‘ اور اس پر 330 تبصرے ہوئے اور اس کو چلانے کا اعزاز اللہ پاک نے مجھے مولا علی کے صدقے عطا فرمایا ۔۔۔۔ یہ بلاگ ایک تحقیقی مقالے کی حثیت رکھتا ہے جسے میں نے محفوظ کر رکھا ہے ۔۔انشاللہ بہت جلد کتابی شکل میں آپ سب کے ہاتھوں میں ہو گا ۔۔۔التماس دعا ۔۔
سچ تو یہ ہے
ایک نام جو سارے فرق مٹا دیتا ہے
سرد دلوں میں ایک آنچ دہکا دیتا ہے
وہ نام میرا ،تمہارا ، ہم سب کا ہے علی
ہمارے نصیب کا درخشاں ستارہ ہے علی
دونوں جہاں میں کونین کو پیارا ہے علی
ابھی بھی وقت ہے
پہچان لو
دل کی گرہیں کھولو ۔۔۔ سنو جہان والو
علی نفس رسول ہیں
حق ہیں ۔۔ اصول ہیں
آیات محبت کا نزول ہیں
انہی محبت کی آیات کا ورد کرتے ہوئے آپ سب سے اجازت لیتی ہوں ۔۔ اللہ کریم ہم سب کو پیار بانٹنے والوں میں رکھے ۔۔آمین
صفدر ہمدانی بھیا
میر ی جانب سے ا س بہتر ین کا و ش کی د وسر ی سالگرہ پر تما م ٹیم ہی مبا رکبا د کی مستحق ہے علم کی دنیا میں آ پ سب کی مساعی کو پر ور د گا ر عا لم قبو ل کر ے آ مین لیکن جہاں تک انصا ف کا تقاضہ ہے تو مین اپنی پیا ری بیٹی نگہت نسیم کو سب سے زیا دہ مبا رکباد کی حق دار سمجھتی ہون سیّدہ زا ئر ہ عا بدی ا یڈمنٹن کینیڈا
صفد ر ھمد انی بھیّا عا لمی ا خبا ر کی ٹیم کا ہر فرد میر ے لیے قا بل تحسین ہے لیکن چو نکہ قا فلہ سا لار آپ ہین تو آپ کو مین صر ف مبا رکباد ہی نہین بلکہ خر اج تحسین بھی پیش کر تی ہو ن فر و غ علم کی ین خد مات کو مو لا ئے کا ئنا ت کی تا ئید و حما ئت حا صل رہے اللہ تعلیٰ دن دونی رات چو گنی تر قّی عطا کر ے امین
عالمی اخبار کی کیلنڈر پہ عمر محض دو سال ہے ،
اگر اسے کارکردگی کے پیمانے پہ پرکھا جائے تو 730 دن بنتی ہے ،
اگر اسے مشقت کے زاویے سے دیکھا جائے تو ہر ایک دن ایک سال سے کم نہیں ،
لہذا مشقت بمقابلہ کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو عالمی اخبار 730 دنوں کی مشقت جبکہ 730 سال کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
مبارک ہو ایسے ہونہار نونہال کو جو 730 دن کا ہوکر 730 سال کا لگتا ہے ،
مبارک ہو ان باغبانوں کو جنھوں نے اپنے خون پسنے سے اس ننھے پودے کی آبیاری کی ،
مبارک ہو ان معماروں کو جن کی دن رات کی محنت رنگ لائی اور ایک عالیشان عمارت معرضِ وجود میں آئی ،
مبارک ہو اس سے وابسطہ تمام مبصرین ، قارئین و قلمکاروں کو کہ جن کے لئے عالمی اخبار ایک قابلِ فخر پلیٹ فارم ہے ۔
میں ہمیشہ اس ہستی کے لئے دعاگو رہتا ہوں جس نے مجھے عالمی اخبار جیسی عظیم درسگاہ کا رستہ دکھایا ۔ مجھے اس انجمن میں آئے صرف آٹھ ماہ ہوئے ہیں لیکن مجھے پچھتاوہ ہے ان سولہ ماہ کا جو میری عالمی اخبار سے لاعلمی کی وجہ سے ضائع ہوگئے ۔ ڈاکٹر نگہت صاحبہ کے دئیے گئے اعداد و شمار میں مجھ جیسے اناڑی ، جو ڈھنگ کا خط بھی نہیں لکھ سکتا ، کے نام 12 بلاگز بھی میری حیرت کا باعث ہیں ۔ یہ سب ڈاکٹر صاحبہ کی راہنمائی اور اپنے ادبی مرشد جناب صفدر ہمٰدانی صاحب کی نظرِ خاص ہے ۔
اپنی فرصت کے لمحات کے مطابق دن اور رات کے مختلف اوقات میں تبصرے لکھنے کے بعد میری حیرت کی انتہا نہ رہتی جب وہی تبصرے چند منٹوں میں نظر ثانی کے مراحل طے کرکے بلاگز میں شامل ہو جاتے ، جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ عالمی اخبار پہ ہر وقت کچھ آنکھیں پہرہ دے رہی ہوتی ہیں ۔ یہ انہی آنکھوں کی 730 دن کی مشقت اور پہرے کا اثر ہے جو عالمی اخبار 730 سال کی کارکردگی پیش کر رہا ہے ۔
اللہ رب العزت ہمارے عالمی اخبار کو دن دونی ، رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے ، آمین ، ثم آمین ۔
ہاہاہاہاہا.ایک انوکھا تجربہ.کیسا لگ رہا ہے کہ ہم سب آپس میں دراصل ایک دوسرے کو ہی مبارکباد دے رہے ہیں.یہی تو ایک خوشحال خاندان کا تسور ہے جنکی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں. عالمی اخبار ایک فکری تحریک ہے،ایک سکول ہے جسے فکری یونیورسٹی بننے میں بہت وقت لگے گا لیکن تحصیل علم کے لیئے یہاں آنے والے افراد کی کمال کی بات ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر کے آئے ہیں. حیرت ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے بعد پھر سے ایک سکول میں داخلہ. تحصیل علم کے ان شیدائیوں میں فزکس،کیمسٹری،ریاضی،طب،نفسیات،اکاؤنٹ،ادب،فقہ اور دیگر بے شمار مضامین کے ماسٹرز شامل ہیں جو خود بھی طالب علموں کی طرح ایک دوسرے سے علم و فکر کے حصول میں مصروف ہیں. یہ بلاگ زرقا مفتی کے بقول ایک تھنک ٹینک ہے اور یہی سچ ہے.لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی خاندان افراد سے تشکیل پاتا ہے اور اس خاندان کے افراد آپ اور ہم سب ہیں.
سالگرہ کا دن احتساب کا دن بھی ہوتا ہے :
اس مبارک دن ، گذرے ہوئے سال کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور آنے والے سال کےمنصوبوں اور انکے پورا کرنے کے لیے لائحہء عمل کا تعین بھی کیا جاتا ہے ۔
عالمی اخبار کا گذشتہ سال اور اسکی کامیابی کا حال تو عالمی اخبار کا باضابطہ مطالعہ کرنےوالے اور اس میں لکھنے والے بخوبی جانتے ہی ہیں۔
سال گرہ کا دن ، دوستوں اور بہی خواہوں کی حق گوئی اور بےباکی کا بھی دن ہوتا ہے جو اپنے دوستوں کو آئینہ دکھا کر انکی کارکردگی اور انکے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کیا کرتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ تجاویز عالمی اخبار کے بلاگوں ہی میں پیش کئے جائیں ، ان تجاویز کو عالمی اخبار کی انتظامیہ کو بذریعہ ای میل بھی پیش کی جاسکتی ہیں ،بشرطیکہ عالمی اخبار کی انتظامیہ اس کی اجازت دے۔
میرا مشورہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کو یہی ہے کہ وہ خود ایک سوالنامہ تیار کرے اوراپنے پڑھنے والوں سے اس سوالنامے کی جوابات مانگے ( جو اس عالمی اخبار کے صفحات میں نہیں بلکہ ای میل کے ذریعہ عالمی اخبار کی انتظامیہ کو بھیجے جائیں ) ۔
اس سوالنامے میں یہ سوال بھی پوچھے جاسکتے ہیں کہ :
اردو زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے عالمی اخبار کی کارکردگی کیسی رہی ؟ اور اس کارکردگی میں مزید بہتری کی کےلیے کیا تجاویزپیش کی جاسکتی ہیں؟
مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے عالمی خبار کی کارکردگی کیسی رہی اور اس میں مزید بہتری کیسے آسکتی ہے؟
پاکستان میں صوبے واریت کے خاتمہ اور بین الصوبائی اتحاد وا اتفاق کے لیے عالمی اخبار کی کارکردگی کیسی رہی اور اس میں مزید ہہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟
پاکستان کی موجودہ حکومت کے اچھے اور برے کاموں کی عکاسی عالمی اخبار نے کس طرح کی اور اس عکاسی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے ؟
عالمی اخبار اگر مستقل طور پر قائم اور دائم رکھنا ہےتو اس کے لیے عالمی اخبار کی انتظامیہ کیا انتظامات کررہی ہے اور کیا یہ انتظامات عالمی اخبار کو آج سے کئی اور سال تک قائم رکھنےمیں ممد و معاون ثآبت ہوسکتے ہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوالات کی یہ فہرست صرف میں ایک نمونے کے طور پر پیش کررہا ہوں ۔ ممکن ہے کہ ان سوالات سے بہتر سوالات اس بلاگ میں کوئی مبصر لکھدے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
معافی چاہتا ہوں کہ سالگرہ کے اس مبارک دن ، میں اس قسم کی سنجیدہ باتیں کہ گیا ہوں ۔ اس لیے کہ سالگرہ کے موقعہ پر میرے ذہن میں کسی کا یہ شعر آتا ہے :
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امید کی “ نظر ثانی “ میرے اس تبصرے کو حذف نہیں کرے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبار کی سالگرہ پر مبارکباد اور دلی دعاوں کےساتھ :
۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
آغا جانی جناب صفدر ہمدانی صاحب قبلہ نے جو کچھ لکھا اگر وہ نہ لکھتے شاید میں بھی کم و بیش یہی لکھتا۔ چند سطریں اس انبساط کے موسم میں مزید کشید کردوں کہ عالمی اخبار کے دو سال پورا ہونے پر اصل مبارک باد کے مجھ ایسے مستحق وہ لوگ ہیں جن کو شنوائی کا ایک ایسا مستقل موضع( پلیٹ فارم ) ملا جس کی رسائی جہان بھر کے ایوانوں اور دیوانوں تک ہے۔ کتنی ہی بے داد آوازیں ہیں دل سے نکل کر حلقوم تک ہی آ کر باز گشت کر جاتی ہیں اور دل و دماغ میں ہی جمع ہوتی رہتی ہیں۔ جن کو یہ غبار خاطر نکالنے کا مو قع مل جائے ان کے دل اور دماغ پر دباؤ کم ہوجاتا ہے اور جن کی آہیں صرف اپنے کانوں تک رکی رہیں وہ انکے ذہن کبھی جمود کا شکار ہوجاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی رگ و جاں سے الجھ کرجاتے ہیں۔
اس لئے ان نا شنیدہ آہوں، سسکیوں، گلوں شکوں اور شکایات و حکایات کے کہنے سننے کے لئے عالمی اخبار سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے جہاں سچ کی بانگ درا کو زمانے بھر میں ببانگ دہل پہنچانے کا آزاد موقع میسر ہے۔
عالمی اخبار نے نہ صرف صحافت کے حوالہ سے کام کیا ہے، بلکہ یہاں ادب کی ترقی و ترویج کا سامان بھی مسلسل ہوتا رہا ہے۔ ماضی کے اساتذہ کو خراج عقیدت، عید بقرید، ایام ہائے مقدسہ کی یاد ، یاد رفتگاں، پیغامات، طنز و مزاح اور مذھب و سیاست سمیت بیسیوں موضوعات پر تحریریں اور مباحث یہاں پیش کئے جاتے ہیں جن سے لکھنے اور پڑھنے والے سبھی مستفید ہوتے ہیں۔ ہم نے حال و مضی کی عظیم شخصیات کو خراج ہائے عقیدت پیش کئے اور جنکی مذمت ضروری تھی انکی مزاحمت بھی کی۔
ہمارے پاس کئی نئے افراد بھی تشریف لائے جن میں سے بیشتر آج بھی میانِ کارواں ہمارے ہمرکاب ہیں اور جن کا ساتھ ہم ایسے تہی دامانوں کو سدا دولت علم و ادب سے سرفراز رکھتا ہے۔ ہمارے روز اول کے ساتھیوں میں ادارتی جماعت کے علاوہ مستقل ساتھی جناب منظور قاضی صاحب ہیں جنہوں نے ہمیشہ کمال فیّاضی سے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے اور ان کی موجودگی اس گلدستے کو سر سبز رکھتی ہے۔
ہمیں یہ بھی فخر ہے کہ بابا جناب صفدر ہمدانی صاحب کے ہاتھ کے لگائے ہوئے کئی ننھے پودے آج اپنی شادابی کے لئے خود کفیل ہو چکے ہیں۔ کئی لوگوں نے اردو لکھنا اور پڑھنا یہاں سیکھا اور اپنے اپنے بال و پر آ جانے پر اپنا اپنا جہان الگ سے جا بسایا۔ عالمی اخبار کی کو چونکہ سدا سچ کے سفر میں محو پرواز رہنا ہے اس لئے اسکو کبھی مسموم فضاؤں میں اپنی اڑانیں قائم رکھنا ہیں اور کبھی پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنا ہے۔ اس لئے اگر کوئی ساتھی اپنے راہوار فطری کے مزاج کی نزاکت کے سبب سے اس سفر میں آج ہمارے ساتھ نہیں بھی رہ سکا تو ہمیں ان سے کوئی شکوہ یا گلہ نہیں ہے۔ یہی امر خوشی کا باعث ہے کہ جن کو لکھنا لکھانا نہیں آتا تھا آج ان کو بھی ہم بطور صاحب قلم دیکھتے ہیں۔ میری یہ بھی خواہش ہے کہ جسطرح یہ لوگ ہمارے یہاں سے لکھنا پڑھنا سیکھ کر نکلے ہیں، اسی طرح کاش وہ بھی کسی اور ہاتھ کو زیور قلم سے مزین کر سکیں۔
قلم چونکہ بڑی آسانی سے وہ سب کچھ لکھ دیتا ہے جو ہماری زبان کہنے کی بسا اوقات مجاز اور متحمل نہیں ہو سکتی، اس لئے لکھتے وقت ہمیں سخت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ہماری تحریریں ذاتیات اور لابالی پن کی مظہر نہ بن کر رہ جائیں۔ زبان کا کہا یاد کے صفحوں سے جلد مٹ جاتا ہے لیکن نقش قرطاس و قلم کی زندگی ہمارے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ اس حوالے سے عالمی اخبار کے ارباب اختیار ہمیشہ یہی کوشش کرتے ہیں کہ دل آزاری اور ذاتیات وغیرہ سے مرکب تحریروں کی لازمی قطع برید کر لی جائے تا کہ نقص امن کا خطرہ بھی پیدا نہ ہو اور صاحب تحریر کے لئے دیگر احباب کی نظر میں تصور بھی احسن انداز سے قائم رہے۔ اس حوالے سے خاص طور پر بلاگ میں ہمیں چند دوستوں کی ناراضی بھی اٹھانا پڑی، حالنکہ ہم صمیم قلب سے اب بھی انکا احترام کرتے ہیں اور ان کو کبھی بھی نالاں نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن چونکہ یہ سفر آزادی ء اظہار کے ساتھ علم و ادب اور ذمہ داری کا بھی سفر ہے، اس لئے ہم ان گوشوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
میں یہاں ہمدانی صاحب سے ایک معاملہ پر اختلاف رائے بھی رکھتا ہوں کہ جہاں انہوں نے لکھا کہ مجھ سمیت کوئی بھی ناگزیر نہیں ہے ۔ اس کم کاست کی نظر میں ایسا نہیں ہے۔ کم از کم وہ خود اور نگہت بہن ہی شمع علم و داب کے روشن رکھنے والے ہیں جہاں وہ تمام تر مشکلات کے باوجود روغن جاں سے اس دئیے کو لو کو بلند رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کا وجود نا گزیر ہے اور ان کے بناء نہ یہ چمن آرائی ہوتی اور نہ ہی یہ اس انداز سے قائم رہ سکتی ہے۔ باقی جو احباب خاص طور پر ہمارے لئے لائق تشکر ہیں ان میں محترم جناب شمس جیلانی صاحب سر فہرست ہیں جن کی ذات با برکات کا کمال یہ ہے آج تک ان سے کسی کو شکایت کا موقع ہی نہیں ملا۔ وہ نہایت تندہی سے مسلسل ذمہ داری ادا کرتے رہتے ہیں اور انکی زندگی ہم ایسوں کے لئے چراغ راہ ہے۔ ان کے مضامین اور تبصرے علمی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت آسان فہم ہوتے ہیں اور گاہے بگاہے انکی ظرافت و زندہ دلی کے غماز بھی ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ محترمہ زرقاء مفتی ،جناب امجد شیخ اور برادر مکرم عبد المناف غلزئی صاحب کی مساعی لائق تشکر و صد آفرین ہیں۔ فرداً فرداً سبھی مہربانوں کا تشکر نام لیکر ممکن نہیں ہے لیکن اگر میں جناب احمد ترازی صاحب کا نام نہ لوں تو اس سے بڑھ کر شقاوت قلبی اور کچھ نہ ہوگی۔ ان کے ساتھ کا احساس ہمیشہ مجھے خود کو قابل اعتبار بنا دیتا ہے۔ اس وقت باقی جو نام مجھے یاد ہیں ان میں جناب محترم ظفر جعفری صاحب، محمد آصف بھٹی صاحب، محمد اعظم عظیم صاحب، جاوید اقبال کیانی صاحب ، محترم جناب خاور چوہدری صاحب، محترمہ عالم آراصاحبہ، ، قمر رضا صاحب، محترمہ شاہین رضوی صاحبہ، ڈاکٹر خواجہ اکرام، جناب شعیب صفدر صاحب، وحید اختر واحد صاحب، ظہور احمد سولنگی صاحب، جناب محترم اقبال حیدر صاحب اور محترمہ فریدہ لاکھانی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں جو بھی قلمی، علمی، ادبی اور قاری ساتھی ہماری اس کوشش میں ہمارے ساتھ شامل ہیں، ان کا یہ فدوی بطور فرد اور بطور ترجمان عالمی اخبار ان کا شکر گزار ہے تاہم میں اپنی کوتاہی کے سبب جو نام ذکر نہیں کر سکا ان سے دست بستہ معافی کا طلبگار بھی ہوں۔۔
ہمارے سچ کا سفر یونہی جاری رہے گا، آپ سب کے تعاون اور کرم گُستری کے ساتھ انشاء اللہ العزیز۔
ماشااللہ عزیزی مصباح. بس یہی منفرد اعزاز اور کام ”ترجمان” کا ہوتا ہے کہ وہ سب مبتدیوں کے کہے لکھے پر اپنی مہر ثبت کر دیتا ہے.ماشااللہ. آپ نے ہر موقع پر ثقہ ترجمان ہونے کا حق ادا کیا جس کے لیئے میں ذاتی طور پر سب کی طرف سے اپکا ممنون احسان ہوں. مولا آپ پر اپنی رحمت خاص کا سایہ رکھیں. عالمی اخبار کوآپ جیسے علم و عمل کے غازی کی ہمسفری پر ناز ہے.سلامت باشد.
یہ ھماری خوش قسمتی ہے کہ عالمی اخبار سے وابستگی کے فورآ بعد ہی ہم کو اتنی ڈھیر ساری خوشیاں مل گئیں
سالگرہ کے موقع پر تہنیت کے اتنے عمدہ کلمات کے بعد تو کچھہ کہنے کو الفاظ ہی نہیں مل رہے۔۔۔۔۔۔
بہر حال عالمی اخبار کے با ھمت ، باکردار، بےباک و نڈر اور ظالم و جابر حکمرانوں کے دور میں کلمہ حق بلند کرنے والے
مدیر اعلیٰ جناب قبلہ صفدر ھمدانی صاحب
معاون مدیر اعلیٰ جناب محترم شمس جیلانی صاحب
نائب مدیر اعلیٰ جنابہ محترمہ ڈاکڑ نگہت نسیم صاحبہ
تمام پسِ پردہ اور پیشِ پردہ خدمت کاران اور تمام قارئین کو عالمی اخبار کی
” دوسری سا لگرہ “
بہت بہت مبارک ہو
ربِ کریم پنجتنِ پاک علیہ اسلام کے صدقے میں آپ سب کو دن دونی ترقی عطا فرمائے اور
آپ کا سایہ ھمارے سروں پر دائم و قائم رہے آمین
کسقدرمقبول عالم میں یہ اپنا عالمی اخبار ہے
ظالموں کا یہ ہے دشمن اور عادلوں کا یار ہے
اس سے وہ چڑتے ہیں جنکے ظلم کی تشہیر ہو
مومنوں کے واسطے ان کےگلوں کا ہار ہے
جعفر حسین صاحب اسلام علیکم و رحمہ
بہت بہت شکریہ ۔ در اصل یہ کا میابی آپ سب کی کو ششوں کی مر ہون ِ منت ہے۔ ورنہ اکیلا کو ءی کچھ نہیں کر سکتا اور سب سے زیادہ کام جناب صفدر ھمدانی کرتے ہیں اور انکےبعد اپنی گونا گوں مصروفیتوں کے با وجود بہن نگہت کر تی ہیں یہ انہیں کا حصہ ہے ۔ میں آپ سب کے خلوص کو سرا ہتے ہو ءے مبارکباد پیش کر تا ہوں ۔ جبک اس میں میرا اپنا حصہ کو ءی خا ص نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے اور یہ کا رواں اسی طرح آگے بڑھتا رہے آمین
اسلام علیکم عالمی اخبار کے ساتھیو (سب نام کمر کی تکلیف کے باعث نہیں لکھ پائونگی )
سالگرہ کی مبارکباد تو پہلے ہی دے چکی ہوں پر جب سب ہی اپنی اپنی بات بھی کر رہے ہیں تو میں بھی پیچھے رہنا نہیں چاہتی ۔ میں بے جا تعریف کرنے کے خلاف ہوں لیکن جو کوئی تعریف کے قابل ہو اُس کی تعریف نہ کرنا بخیلت کے زمرے میں شامل کرتی ہوں ۔آمدم بر سرِ عنوان
میں بھی سمجھ رہی تھی کہ شاید دس بارہ سال پرانا اخبار ہے ۔جب مجھے محترم شمس بھائی نے اس میں شامل ہونے کو کہا تو اندر کہیں بے حد خوفزدہ تھی کہ ایسے اخبار میں کیا لفٹ ملے گی ۔
یہاں ایک بار پھر اپنے شفیق اور محترم شمس بھا ئی کا شکر یہ ادا کرونگی کہ انہوں نے مجھے اس اخبار سے روشناس کرایا اور ایسی پیا ری ادبی محفل میں شامل ہونے کا موقعہ ملا کہ اپنی تحریر پر تنقید بھی پڑھنے کو ملی اور تعریف بھی جو کھلے دل والوں کا خاصہ ہے ۔میں اس سے پہلے بھی بہت محترم بھائیوں کے ساتھ کام کر رہی ہوں جو میری اصلاح بھی کرتے ہیں اور سراہتے بھی ہیں وینکور کے ایک اخبار میں آرٹیکل اور کہانیاں لکھتی ہوں اور ایک رسالے کے لئے بھی لکھتی ہوں ۔لیکن اس عالمی اخبار میں فرق یہ ہے کہ مجھے میری بات پر فوراََ توجہ ملتی ہے جو ایک لکھنے والے کے لئے بہت بڑی نعمت ہے کہ آپ کو فوراََ پتہ چلے کہ آپ کی تحریر کس معیار کی ہے جو اپنی تربیت کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے ۔
یہاں میں اُن تمام ساتھیوں کے ساتھ کھڑی ہوں جن کا کہنا ہے کہ عالمی اخبار اپنے بانی اور اُن کی دستِ راست کا مرہونِ منت ہے ۔ کہ اتنے سارے لوگ ایک اسٹیج پر آکر اپنی اپنی بات بلا جھجک کر جاتے ہیں ۔کیونکہ محترم صفدر ھمٰدانی بھائی اور بہن نگہت ایسے استقبال کرتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ہم نئے ہیں اور یہ بات ہر ایک کا خاصہ نہیں ہوتی ۔
اختلافِ رائے ایک مثبت عمل ہے جو اپنی خرابیوں کو سنوارنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے ۔اور اسے دل والے ہی قبول کرتے ہیں ۔یہاں بھی عالمی اخبار بہت امیر ہے کہ اس پر تنقید بھی ہوتی ہے اور وہ
اس کا مثبت جواب بھی دیتا ہے کہ خامیوں سے خالی کوئی نہیں ۔
میں اُن تمام بھائیوں اور بہنوں کی انتہائی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس محفل میں غیریت محسوس ہی نہ ہونے دی ۔عالمی اخبار کے لئےمیری دعا ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ حسین سالگرہیں منائے اور سب لکھنے والے اسی طرح محبت اور خلوص کی ڈوری میں بندھے رہیں ،۔
ایک بار پھر سب کو عالمی اخبار کی روشن سالگرہ مبارک
عالم آرا
وینکور
السلام علیکم
’’ عالمی اخبار ‘‘ کی سالگرہ پر آپ سب احباب کو میری طرف سے بہت بہت مبارک باد قبول ہو ، میں نے ’’ عالمی اخبار ‘‘ سے اپنی اِس تھوڑی سی شناسائی سے بہت کچھ سیکھا ہے ، میں کئی بار اپنی کم علمی کے سبب ’’ عالمی اخبار ‘‘ کی انتظامیہ اور احبابِ محفل کی دل آزاری کا سبب بھی بنا مگر ہر بار میرے سر پر ’’ دستِ شفقت ‘‘ پھیر دیا جاتا رہا اور محبتوں کے نئے تحفے دئیے جاتے رہے ۔ ’’ عالمی اخبار ‘‘ اور آپ سب کے لیے ڈھیروں دُعائیں اور لاکھوں محبتیں اور ایک بار پھر سب کو عالمی اخبار کی روشن سالگرہ مبارک ۔
آصف احمد بھٹی
بھلا ہو نادیہ بخاری کا جنہوں نے ایک دن اپنا اک نویکلا سے بلاگ پڑھنے کیلئے عالمی اخبارکا لنک بھیجا…اس لنک کا کمال ہواکہ یہ ماڑاموٹا لنک آج تک استوارہے،بلکہ یوں کہنازیادہ بہترہوگاکہ عالمی اخبارکے پیاروں نے ہم جسے سست اور ازل کےلاپراہوں کو پیارکی لڑی سے باندھ رکھاہے،،وقتافوقتاہمیں یادرکھتے ہی نہیں یادکراتےبھی رہتےہیں کہ عالمی اخبارکے صفحات ، بلاگزپرنہ صرف لکھنا لکھاناہےبلکہ خیرسگالی دوروں کا سلسلہ بھی جاری رکھناہے..میرے تعلق کو شاید دوسال کا عرصہ ہوچکاہے لیکن اس دوران لکھنے لکھانےسے کم خیرسگالی دوروں پر زیادہ ذوررہااس میں میری اپنی کوتاہی شامل ہےکہ چھوٹا ہونےکا ناجائزفائدہ اٹھاتاہوں ..سستی کرجاتاہوں ….
بابا اور آپی کی میٹھی میٹھی ڈانٹ اور لتاڑکچھ اس قدر محبت سے لبریزہوتی ہے کہ اب تو وہ سننے اور پڑھنےکیلئے بھی جان بوجھ کر غیرحاضری کو جی کرتاہے اللہ عالمی اخبارکے سنئربلاگ نگاروں کو سلامت رکھے جو دامے درمے سخنےیادرکھتےہیں ،،آپی کی لسٹ سے معلوم ہوایہ لسٹ کس قدرطویل ہے…خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہم نوجوانوں کو ان پیارےبابوں نے سب سے پہلے جگہ دی ہے..باباکہنے پر ناراض مت ہوئے گااصل میں ،میں آپ کی محبتوں کےانبارکو دیکھ کر باباکہہ رہاہوں باقی دل سے توآپ لوگ شاید ہم سے بھی دو ہاتھ آگے ہوں .
علم ……..علم کی باتیں …تاریخ …مذہب، حقائق..سیاسی تلخ نگاری….یہ سب چیزیں ان بلاگ میں ملتی ہیں لیکن عالمی اخبارکی خبروں کا معیاربھی کچھ کم نہیں ہوتا،،میں بذات خود ایک نیوزچینل میں کام کرتاہوں اور اس کےانٹرنینشل ڈیسک کیلئے خبروں کی تلاش میں آن لائن سرچ کرتاہوں تو عالمی اخبارکی خبروں کا مطالعہ میری اولین ترجیح ہوتی ہے ..یہاں سے بھی میں خالی ہاتھ نہیں جاتا…
آپی نے مولائے کائنات کےحوالےسےلکھے جانےوالے بلاگ کو کتابی شکل میں شائع کرنےکی بات کی ہے تو میرایقین یہ ہےکہ میرےبس میں ہوتو میں ہربلاگ کو کتابی شکل میں شائع کروں ..
یہ الگ دنیا بسا رکھی ہے بابا نے جس میں محبتیں ہیں ، عزت واحترام ہے اور ہم جیسے جونئیرزکیلئے پیاربھری ڈانٹ ڈپٹ۔۔۔میں جہاں کہیں بھی رہوں ۔۔جدھربھی جاؤں ۔۔۔انٹرنیٹ تک میری رسائی ہے تو عالمی اخبارکو وزٹ کئے بغیر کبھی بھی نہ رہ سکوں کہ ۔۔۔جو بھی ہے۔۔یہ میرااپناہے۔۔۔یہاں کےلوگ میرے اپنے ہیں ۔۔
۔۔
کل سالگرہ ہے،، بابااجازت ہوتوکیک منگوابھیجوں کہ مالیات کا قلمدان کسی دورمیں آپ نے میرے حوالےکیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔آپ سب کیلئے ڈھیروں دعائیں ۔۔۔
یکم نومبر لے کر آئی خوشیوں کا پیام
عالی اخبار ہم سب کے لئے ہے صفدر کا انعام
دو برس میں ہم کو ملا ہے اعلیٰ یہ متام
چھلکا رہا ہے اک اک کالم علم ادب کا جام
راحت اور دعا کا سب کو ملا جلا یہ بیغام
اپنے مقاصد میں نہ کبھی ہو ہم سب ناکام
نگھت نسیم نےایک بہت اچھا موزانہ کیا گیا ہے امید کرتا ہوں کہ ہم سب جو محنت عالمی اخبار کو دوسرے تک علم ادب کے اس چراغ کو روشن کرنے کی کوشیش کر ہ ہئے ہیں اس جو محنت کی گئی مجھ اس پر فخر بھی ہے اور آپ سب مبارک باد کے مستحق بھی ہیں مبارک ہو آپ سب کو اس کامیانی پر قدم سے قدم ملا کر چلتے رہئے اور قافلے کو رواں دواں رکھیے
چلیں بھی رات کے 2 بج گۓ ھیں اور میں صرف اور صرف کیک کے انتظار ھیں جاگ رھی ھوں
اور اس خوش ذائقہ اور بہت خاص کیک پر بہت عزيز بھائ عبدالمناف کے ھاتھہ سے تحریرھو
عالمی آخبار کو دوسری سالگرہ بہت بہت مبارک ھو
آپ سب کو سالگرہ بہت مبارک ھو