اب اور بتا کیا لِکھّوں

ارشاد عرشی ملک
arshimalik50@hotmail.com

میں گونج ہوں عصرِ حاضر کی پھر بِس کو دوا کیا لِکھوں
جب دیکھوں ہر سُو کذب و ریا پھر صدق و صفا کیا لِکھوں

محسوس کیا جو لکھ ڈالا میں سچ کے سوا کیا لِکھوں
دِل چیر کے کاغذ پر رکھا، اب اور بتا کیا لِکھوں Continue reading اب اور بتا کیا لِکھّوں

شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو۔۔۔

از : ارشاد عرشی ملک
arshimalik50@hotmail.com

مرے عہدِ زبوں کے شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو
اُٹھو ! جس دور میں جیتے ہو اس کا حال بھی لکھو
ذرا آنکھیں تو کھولو، صورتِ احوال بھی لکھو
نئے لہجے میں بولو اور نئی امثال بھی لکھو
……………………………… Continue reading شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو۔۔۔

عرشی صاحبہ کی نظم “نفسِ امارہ اور خوفِ خسارہ “

عرشی صاحبہ نے مجھے چند ہفتے پہلے یہ طویل نظیم ایک تحفہ کے طور پر عنایت کی جس کے لیے میں انکا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ مگر اس قدر اچھی نعمت کو عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کے سامنے بھی پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ عرشی صاحبہ نے اس نظم کی تمہید یوں لکھی ہے کہ : “ یہ نظم ہر خوفِ خدا رکھنے والے حساس دل کے لیے ایک آئنے کے مانند ہے ، جس میں خود کو دیکھ کر وہ اپنی روحانی نوک پلک درست کرسکتا ہے“

گلشنِ دہر میں اگر جوئے مئے سخن نہ ہو

السلام علیکم
حضرت علامہ اقبال کی ایک مختصر نظم نقل کر رہی ہوں

شاعر
قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت چہرہء زیبائے قوم
شاعرِ رنگیں نوا ہے دیدہ ء بینائے قوم Continue reading گلشنِ دہر میں اگر جوئے مئے سخن نہ ہو