بیت بازی کا تسلسل

دانشوروں اور سخنوروں کی تفریح طبع اور علم کی تحصیل کے لیے ایک نیا بلاگ شروع کررہا ہوں جس کا عنوان ” بیت بازی کا تسلسل” ہے ۔
اس نئے بلاگ کو موجودہ بلاگ ” بیت بازی ” کے تجربے سے فایدہ اٹھا کر Continue reading بیت بازی کا تسلسل

بیت بازی

اس بلا گ کا مقصد نئے اور پرانے سخنوروں کو اردو فانٹ میں شعر اور نثر لکھنے کی مشق کرنے کا موقعہ دینا ہے ؛
اس بلاگ میں ہم زیادہ تر حصہ بیت بازی قسم کی بازی کھیلتے رہینگے مگر اس کے علاوہ اگر کوئی سخنور یا کوئی نثر نگار اپنی غزل اور نظم اور نثری مضمون پیش کرنا چاہے تو اسکی بھی ہمت افزائی اور پذیرائی کرینگے۔
چونکہ عالمی اخبار کی انتظا میہ چاہتی ہے کہ پورے عالمی اخبار میں صرف اور صرف ایک ہی بلاگ اردو شاعری اور ادب پر ہو تو اس کے لیے یہ بلاگ حاضر ہے ۔ Continue reading بیت بازی

::..آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں..::

(یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو میرے مرشد سرکار رحمۃ اللہ علیہ کی کچہریوں (بیٹھکوں) کے دوراں میں اپنی ڈائری پر نوٹ کرتا جاتا تھا! تو چلیں آپ بھی مستفید ہوں، اچھی لگیں تو دو قل شریف کی التماس عرض رکھونگا. مہربانی)
مہذب انسان بنیادی طور پر مذہبی ہی ہوتا ہے، چاہے وہ اس سے انکار بھی کرے،
اور غیر مہذب آدمی مذہب کو بھی مذحکہ آمیز بنا دیتا ہے، چاہے وہ تسبیح تھامے ہوئے ہو! Continue reading ::..آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں..::

“زندگی کو پرائے عکس میں مت، بلکہ اپنے اندر میں دیکھیں”

قبلہ جناب مرحوم میر حسین بخش ٹالپور انتقال کر گئے تب ہم سب کو ایسے لگا جیسے گھر کے آنگن سے کوئی آباءاجداد کے دور کا لگا ہوا تناور درخت کٹ جاتا ہے اور آنگن سونا سونا سا لگتا ہو، جیسے اپنا گھر بھی پرایا پرایا سا لگتا ہو. جب وہ تھا تب ہم اس سے مذاقیں ایسے کرتے تھے کہ جیسے ہماری طرح وہ بھی بچہ ہی تھا. Continue reading “زندگی کو پرائے عکس میں مت، بلکہ اپنے اندر میں دیکھیں”

عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب سے ایک مختصر ملاقات

عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب سے ایک مختصر ملاقات
انور ظہہر رہبر، برلن جرمنی

چودھا 14مارچ کو شام پونے چھھ بجے میں برلن کے خوبصورت سے ہال “پلاسٹ” میں جو کہ برلن کے دل میں واقع علاقے “شونے برگ”( خوبصورت وادی) میں ہے کو اردو انجمن برلن کی ادبی شام کے لئے سنوارنے میں لگا تھا مگر میری Continue reading عزت ماب جناب صفدر ھمدانی صاحب سے ایک مختصر ملاقات

بچپن کی ایک نظم

جب میں بہت چھوٹا تھا تو مجھے یاد ہے ابو کو فیض کی شاعری پسند ہونے کی وجہ سے گھر میں فیض صاحب کی بہت سی کتب ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پیچھے تصویر کو ماں بتاتی ہیں کہ میں بابا کہا کرتا تھا۔ مجھے پڑھنا نہیں آتا تھا مگر میں مصرعوں کی سطروں پر انگلیاں پھیرا کرتا تھا۔
ماں اکثر مجھے مصرعے پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے شعر تو سمجھ نہیں آتے تھے مگر Continue reading بچپن کی ایک نظم