یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ اس نظم میں رانی کا نام میرا دیا ہوا ہے۔ یہ نظم اس رانی جیسی میرے ملک کی بے شمار رانیوں کے نام بھی ہے، جو اپنے اپنے دائروں میں قید ہیں اور ان کی عمر ان دائروں کی قید سے کبھی آزادی نہیں پا سکی اور شاید پا بھی نہ سکے۔
رانی (ٹھٹہ کی وہ معصوم لڑکی جس کے ہاتھوں میں اس سے بھاری بچہ ہے)
سر پر موٹی چادر اوڑھے
ہاتھوں میں اپنے سے بھاری بچہ لے کر
سانولی رنگت والی رانی
چلتی بس میں، میٹھی سونف سپاری بیچنے چڑھ آتی ہے،
اور بس کے سارے لوگوں کی بھوکی نظریں
اس کے کپڑے پھاڑ کے جسم کو بھی چھوتی ہیں۔
لیکن سب سے بے پروا وہ سانولی رنگت والی رانی
’’ایک روپے میں ایک سپاری‘‘ کی آوازیں بیچتی ہے۔
پھر سیٹ پہ بیٹھنے والے کتے
ماس پہ بھونکنے والے کتے
اکثر اس کو چھو لینے کو سونف سپاری بھی کھاتے ہیں
جب کوئی اس کے ہاتھ کو چھو لے
جانے کیوں وہ بچے کو اک بوسہ دے کر
اپنے سر سے چادر کھینچ کے اپنا جسم چھپاتی ہے۔
سو اس پاگل لڑکی نے جانے کتنے بوجھ اٹھا رکھے ہیں
اس بچے کا اس چادر کا ان بھوکی کالی نظروں کا
لیکن پھر بھی رات کو اس لڑکی نے اس سے زیادہ بوجھ اٹھانا ہے
اور خود سے بھاری اس بچے کے بھاری باپ کو بہلانا ہے

اس آزاد نظم میں جس المیہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کا مشاہدہ کرننے والا اور اس تمام سانحہ کو قلم بند کرنے والا حساس شاعر بھی پاکستان کی اس معصوم مگر پا گل لڑکی سے “ سونف سباری“ کھاکر اس کا ہاتھ چھوا ہوگا ۔
یہ المیہ پورے پاکستان کی مفلس اوربے بس اور “ اپنے سے زیادہ بوچھ اٹھانےوالی “ لاچار لڑکیوں کا المیہ ہے جس پر پاکستان کے تمام مردوں کو شرم آنی چاہیے۔
اس ،سئلہ کا کیا حل ہے؟
بہت خوب عاطف توقیر. یہ ایک رانی کی داستان نہیں بلکہ بے شرم راجوں کے ہاتھوں جیتے جی مرنے والی کتنی ہی رانیوں کی آپ بیتی ہے. شاعری فقط عشقِ بتاں کا نام نہیں بلکہ اپنے ارد گرد ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کو طشت از بام کرنے کا اہم اور موثر ذریعہ بھی ہے اور اس شاعری کے خالق سب سے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ وہ انسانی جسم کی بجائے انسانی روح پر لگنے والے زخموں کو دکھاتے ہیں. خوش رہو عاطف توقیر اور صاحبِ توقیر رہو.
صفدر صاحب، آپ کی بات درست ہے، شاعر انسانی ےندگی سے جڑی ہر دکھ کا بیان ہے۔ بحثیت شاعر یا لکھاری ہمارا کام کسی جرم کی ایف آئی آر کاٹنا ہے۔ تفتیش ہم نہیں کر سکتے۔ مجھے آپ آس پاس کوئی شے دکھائی دیتی ہے تو وہ مجھے تنگ کرتی ہے۔ میں اپنے آس پاس کوئی بے انصافی دیکھتا ہوں تو میری روح پر کھروچے پڑتے ہیں۔ میں اس وقت اور بھی بے بسی کا شکار ہو جاتا ہوں جب اس بے انصافی کو درست نہیں کر سکتا۔ سو میرے پاس جو سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ میرے بس میں جو دستیاب شے ہے وہ قلم ہے اور میں اسے استعمال کر دیتا ہوں۔ میری، کسی دوسرے شاعر یا کسی بھی ادیب کی لکھی ہوئی ایف آئی آر پر تفتیش معاشرے کے دیگر افراد کا کام ہے اور اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو ایف آئی آر تو اپنی جگہ موجود ہی ہے۔ اس پر تفتیش، گوہیاں، دلیلیں اور سزائیں ہماری اگلی نسلیں ضرور دیں گے۔
جو میں کر سکتا ہوں وہ میں کر رہا ہوں۔ جو میں کر رہا ہوں اور میں کرتا رہوں گا۔ میری ذات کو کوئی عشق متاثر کرے گا تب بھی میری روح کو کوئی شے متاثر کرے گی تب بھی۔
میرزا جی نے سچ کہا تھا۔
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی
سو بقول فیض
ہمیں پرورش لوح قلم کرتے رہنا چاہئے۔ لیکن ایسا بھی ہر گز نہیں کہ عشق بتاں میرا مسئلہ نہیں۔ مجھے جب جب اسے مسئلے کا سامنا ہو گا وہ بھی کاغذ پر ضرور اترے گا۔ اس کی ایف آئی آر بھی درج ہو گی۔
آداب
ایک اور بات غور طلب ہے کہ یہ ایک ما ں کی داستان بھی ہے وہ غریب و مفلس ماں جو اپنی عصمت بیچ کر نہیں بلکہ “ سونف اور سپاری “ بیچ کر حلال کی روزی کما رہی ہے ۔
افسوس کہ ہوس پرست گاہک اس مفلس مان پر بُری نظر ڈالتے ہیں ۔
اس نظم میں ماں کا روپ بالکل اجاگر نہیں ہوا جس کی وجہ سے یہ نظم سعادت حسن منٹو کا افسانہ بن گئی ہے۔
منظور قاضی جی، آپ کی اس بات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ سمجھنے والوں کہ لئے یہ روں بالکل واضح ہے۔۔ مگر کوئی سمجھے تو۔
سعادت حسن منٹو کا افسانہ۔۔۔ ہم یعنی آپ اس نظم کو شاہکار قرار دے رہے ہیں 🙂
واقعہ اس نظم میں ایک نہیں کئی افسانے پوشیدہ ہیں ۔۔۔ دلکش لفطوں سے تراشے بولتے منظر سنائی دیتے ہیں ۔۔ خیال اور شعوری فکر کے کئی در واہ کرتی اتنی سچی اور اچھی نظم پر داد لیجئے ۔۔
نگہت آپا کے رائے پر تو نگاہ ہی نہیں پڑی۔ بہت بہت شکریہ جناب
اس نظم کا آخری حصہ یوں ہے :
“لیکن پھر بھی رات کو اس لڑکی نے اس سے زیادہ بوجھ اٹھانا ہے
اور خود سے بھاری اس بچے کے بھاری باپ کو بہلانا ہے“
میرا مشورہ :
“ لیکن پھر بھی رات کو “ خود سے بھاری بچے کی ماں “ نے اس سے زیادہ بوجھ اٹھانا ہے “
اور خود سے بھاری اس بچے کے بھاری باپ کو پہلانا ہے “
یہ خیال رہے کہ وہ “ لڑکی “ صرف لڑکی نہیں ہے ، ایک بھاری بچے کی “ماں “بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اس تبدیلی سے“ ماں “ کی حالتِ زار کی پوری طرح عکاسی ہوسکتی ہے ۔ جو ابھی تک اس نظم میں موجود نہیں ہے ۔
حضور منظور قاضی صاحب۔ آپ کا تجویزکردہ مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے۔ دیکھئے تو 🙁
خیرآپ کی اصلاح کا بہت شکریہ۔ میں دوباراہ بھی دیکھ لوں گا لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس حوالے سےدیگر افراد کی رائے میں آجائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ میرے خیال سے تو اس نظم میں ‘ماں’ واضح ہے اور غالبا خاصی واضح ہے ہاں فقط میں نے لفظ ماں استعمال نہیں کیا۔
عاطف توقیر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ :
“حضور منظور قاضی صاحب۔ آپ کا تجویزکردہ مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے۔ دیکھئے تو :(”
………
میرے سوالات ا ور ایک گذارش :
کیا اس نظم کا ہر مصرعہ ایک ہی ” بحر ” میں لکھا گیا ہے؟
اگر ایسا ہے تو وہ بحر کیا ہے اور اسکی تقطیع کیسے ہوسکتی ہے ؟
……….
آزاد نظم کی تعریف میں ایک زمانہ پہلے کسی نے کہا ہے کہ ایک مصرعہ ہے تو اتنا لمبا جیسے قائد اعظم کے مزار سے کیماڑی اور دوسرا اتنا چھوٹا جیسے ناز سے نشاط ٹاکیز ( جو لوگ کراچی میں کئی سال قبل رہچکے ہیں وہ ان سینماوں کے ناموں سے واقف ہونگے ) .
…
آزاد نظم اور نثری نظم کی بحروں کے متعلق مجھے کچھ بھی معلوم نہیں . اگر ان بحور پر بلاگ نگار کچھ روشنی ڈالیں تو میرے اور سب کے علم میں ااضافہ ہوگا. ( یہ ایک سنجیدہ قسم کی گذارش ہے )
حضور منظور قاضی صاحب آداب۔ میں نے جو یہ کہا کہ مصرعہ بحر سے خارج ہو گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آزاد نظم کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ شاید یہ نثری نظم ہی کی کوئی قسم ہے، جو کہ بالکل غلط تعریف ہے۔ آزاد نظم میرے نزدیک ایک مشکل صنف سخن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے پہلے لفظ سے آخری لفظ تک ایک مسلسل مصرع ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غزل کا کوئی ایک مصرعہ۔ اسے لکھنے اور پڑھنے میں تو توڑ کر لکھا یا پڑھا جاتا ہے مگر حقیقیت یہ ہے کہ یہ کسی حقیقی طور پر آغاز سے انجام تک ایک مصرعے ہی کی طرح سفر کرتی ہے۔ میرے خیال میں اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی تو نہیں ہوتی بالکل ویسے ہی جیسے نظم معریٰ میں نہیں ہوتی تاہم ایک طرح سے یہ نظم معری سے زیادہ مشکل صنف ہے کیونکہ نظم معریٰ میں کئی مصرعے ہوتے ہیں اور نظم آزاد خود ایک مصرعہ ہوتی ہے۔
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے۔
اس تینوں مصرعوں میں نہ کوئی ردیف ہے اور نہ کوئی قافیہ تو یہ نظم معریٰ چل رہی ہے مگر اگر اسی نظم میں قافیہ اور ردیف موجود ہوتے تو یہی نظم پابند ہو جاتی۔
رانی نظم کی بحر فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن۔۔۔۔۔ کی گردان ہے۔ جو سرپر (فعلن) موٹی (فعلن) چادر(فعلن) اوڑھے (فعلن)
حضور مجھے بس اسی قدر پتہ ہے۔ باقی زیادہ بہتر ہو گا کہ صفدر ہمدانی صاحب اس پر روشنی ڈالیں تاکہ بات زیادہ واضح ہو سکے۔
اب آئیے اس نظم کا اخری مصرعہ اور آپ کا تجویز کردہ مصرعہ دیکھتے ہیں
رات کو اس لڑ (فعلن فعلن) کی نے اس سے (فعلن فعلن) زیادہ بوجھ (فعلن فعلن) اٹھانا ہے اور (فعلن فعلن) خود سے بھاری (فعلن فعلن) اس بچے کے (فعلن فعلن) بھاری باپ کو (فعلن فعلن) بہلانا ہے (فعلن فعلن)
اب آپ کا تجویز کردہ مصرع
“ لیکن پھر بھی رات کو “ خود سے بھاری بچے کی ماں “ نے اس سے زیادہ بوجھ اٹھانا ہے “
اور خود سے بھاری اس بچے کے بھاری باپ کو پہلانا ہے “
لیکن پھر بھی (فعلن فعلن) رات کو خود سے (فعلن فعلن) بھاری بچے (فعلن فعلن) کی ماں نے اس (فعلن فعلن) سے زیادہ بو (فعلن فعلن) یہاں سے آگے مصرع بحر سے خارج ہے۔
صفدر جی ۔۔ آپ کی مدد کی ضرورت آن پڑٰی ہے پلیز مدد کیجئے۔۔
اس بلاگ کا مرکز عاطف تو قیر صاحب کی اپنی آزاد نظم جس میں ماں کے روپ کو اجاگر نہیں کیا گیا . اس لیے میں نے اننہیں صرف ایک مشورہ دیا تھا کہ وہ اس طرح اپنی اس نظم میں ماں کے پہلو کو اور اسکی حالت.زار کو اجاگرکرسکتےہیں.
میں نے انہیںصرف ایک “خیال ” پیش کیا تھا . اسے وہ اپنی نظم میں استعمال کرکےماں کےروپ کو اجاگر کرسکتے تھے.
میں نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہین کیا کہ میں یہ خیال انکی نطم کی بحر میں پیش کررہا ہوں .
اس خیال کو وہ اپنی نظم کی بحر میں ڈھال سکتے تھے مگر انہوں نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ انہوں نے ماں کے لفط کو اپنی اس نظم میں استعمال نہیں کیا وہ صرف میرے لکھے ہوئے ” خیال” کو اپنی نطم کی بحر کے پیمانے سے جانچنے کی کوشش کررہے ہیں. جو ایک غلط اقدام ہے.
………
اب انکا یہ کہنا کہ انکی یہ آزاد نظم : ”
“یہ اپنے پہلے لفظ سے آخری لفظ تک ایک مسلسل مصرع ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غزل کا کوئی ایک مصرعہ۔ اسے لکھنے اور پڑھنے میں تو توڑ کر لکھا یا پڑھا جاتا ہے مگر حقیقیت یہ ہے کہ یہ کسی حقیقی طور پر آغاز سے انجام تک ایک مصرعے ہی کی طرح سفر کرتی ہے۔ ”
کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے!
…….
یقینی طور پر ایسی نظم قافیہ اور ردیف سے بے نیاز ہوتی ہے مگر یہ کہنا کہ یہ آزاد نظم “آغاز سے انجام تک ایک مصرعہے ہی کی طرح سفر کرتی ہے ” مجھ کم علم کے لیے ایک عجوبہ ہے.
بہرحال : عاطف توقیر صا|حب قابلِ تعریف ہیں کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ، بجا طور پر اپنے سے زیادہ ماہر استاد جناب صفدر ھمدانی صا حب سے مدد مانگ لی .
……..
علم جہاں سے بھی ملے ہم سب کے لیے ایک نعمت ہے.
فقط :
منظور قاضی
جرمنی سے
عاطف صاحب۔۔۔حضور یہ فعلن فعلن کی گردانیں ہمیں تو آتی ہی نہیں ہیں۔ اس لئے عملا عملا کی گردان یاد کر لی تھی۔ چھوڑیں ساری بحث کو۔اس نظم پر یہی کہوں گا کہ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا۔۔۔بس تو پھر ٹھیک ہے۔
اچھا موضوع ہے اور انسانی آلام پر لکھتے رہنا چاہیئے، شاید کوئی قطرہ، کہیں کسی سل میں سوراخ کا آغاز کر دے۔ ایسے موضوعات کو ترک کردینا در اصل ظلم کا ساتھ دینے اور اسکو چھپانے کے مترادف ہے۔ اس لئے میں ایسے موضوعات کو کسی بھی صورت میں ہوں، اچھا ہی جانتا ہوں۔ انکی کیفیت جنگ آزادی اور غدر جیسی تحریکوں کے ادب کی سی ہے، جہاں ادبی محاسن سے زیادہ موضوع پر توجہ رہے تو بہتر ہے۔
میں یہ بھی نہیں کہتا کہ اگر اصلاح کی گنجائیش ہو تو اسے رد کر دیں، نہیں، ہر گز نہیں، جسقدر اصلاح ممکن ہو، لیں اس سے آپ کے قد میں اضافہ ہوگا اور کلام میں نکھار آئے گا۔ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ شاید ہی کوئی فرد ہو جسے اصلاح کی ضرورت نہ ہو۔ ہم نے خود حضرت محسن نقوی کو اپنے معاصر اکابر شعراء کے مصرعوں میں اصلاح کرتے دیکھا ہے۔ لاہور کے مشہور قہوہ خانے ( پاک ٹی ہاؤس) میں ادیب لوگ جب ایک دوسرے کو کلام سنایا کرتے تھے، تو ایک دوسرے کے مشورے قبول کر کے ترمیمات بھی کر لیا کرتے تھے۔۔۔۔سو اصلاح کا دروازہ کھلا رہے، لیکن بس یہ کہ یہ آپ کی راہ کی دیوار نہ بنے۔
پانی پلانے والے بچے کی کہانی کا پس منظرآپ جس المناک انداز سے لکھا ہے، میں اسی پر حوصلہ ہار گیا اور اس لئے نظم نہیں پڑھ سکا۔
جانے کب ہونگے کم۔۔۔۔اس دنیا کے غم
اچھا جناب میں ہی اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہوں کہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے مشورے کو مصرعہ جانا۔ آپ نے اپنا مشورہ مصرعے میں پیوست کر کے دیا تھا اس لئے میں نے اسے مصرعہ سمجھا، جس کے لئے میں معافی کا خواستگار ہوں۔
دوسرا میری بات کہ آزاد نظم ایک مصرعہ ہوتی ہے یہ تکنکی تعریف میں نے عرض کی ہے جو میرے خیال میں صرف ایک شاعر کو سمجھانے کے لئے لکھی گئی یے۔ آپ نے پوچھا تھا تو میں نے بتا دیا۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ کو آزاد اور نثری نظم کی بحروں کے حوالے سے علم نہیں اس لئے عرض کیا تھا۔ آپ کو میری یہ تعریف عجیب لگ رہی ہے تو میں کچھ آزاد نظمیں اور ان کی بحریں آپ کے گوش گزار کر دیتا ہوں امید ہے اس سے آپ کو تشفی ہو گی اور ہو سکتا ہے بابا انہیں دیکھ کر ہماری بھی کچھ اصلاح کر دیں۔
مثال کے طور پر جون ایلیا کی یہ آزاد نظم دیکھئے
میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں شاید جان جاں
کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو
ہے دل غمگین بہت غمگین
کہ اب تم یاد دل دارانہ آتی ہو
یہ نظم جون ایلیا کے اولین شعری مجموعے شاید کی پہلی نظم ہے، اس نظم میں مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن کی گردان ہے
دوسری مثال پروین شاکر کی بعد از مرگ شائع ہونے والی کتاب کف آئینہ کی نظم اس کا نام بھی نظم ہی ہے۔ یہ دیکھ لیجئے
تمہارے جانے کے بعد میں نے
وہ شام آنچل میں بادھ لی اور اس کی خوشبو کے ساتھ باقی تمام شب اس طرح بسر کی۔۔۔۔
یہ نظم مفاعلن فا مفاعلن فا مفاعلن فا مفاعلن فا مفاعلن فا کی گردان میں کہی گئی نظم ہے۔
اب ایک کام کیجئے گا اگر آپ کو کوئی آزاد نظم یا کسی آزاد نظم کا کوئی حصہ یاد ہے تو اسے یہاں تحریر کر دیجئے گا۔ بابا جانی آپ کو اپنی رائے بھی دے دیں گے۔
بہرحال جناب میں نے یہ آپ کو اپنی سمجھ کے مطابق بتایا ہے اور یقینا آپ کو تو زیادہ ہی علم ہے اور ظاہر ہے ہونا بھی چاہئے کیونکہ آپ اتنے سینیئر شاعر ہیں۔ میں ایک بہت حقیر فقیر قسم کا شاعر ہوں، جسے سیکھنے کا شوق ہے اور میں آپ سمیت دنیا کے ہر شخص سے جس قدر میسر ہو علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سو میں خود بھی چاہتا ہوں کہ معلوم چلے کہ جو میں نے کہا وہ درست ہے یا نہیں۔ میں پھر بتا دوں کہ جو میں نے آپ سے یہ کہا کہ آزاد نظم غزل کے ایک مصرعے کی طرح ہوتی ہے تو یہ میں نے تکنیکی اعتبار سے یا بنت کے اعتبار سے کہا ہے۔
آزاد نظم میں فلو نہیں ٹوٹ سکتا نہ ٹوٹنا چاہئے ورنہ وہ نثری ہو جائے گی۔
ظاہر ہے آپ کو تمام بحروں کا علم ہو گا سو میں آپ کو صرف اپنی سوچ ہی بتا سکتا ہوں۔ میں کم علم ہوں اور مجھے اس پر ہمیشہ فخر رہتا ہے کیونکہ یہی وہ سیڑھی ہے جو مجھے علم حاصل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
آداب
مصباح جی۔ نظم کے تکنیکی پہلوؤں پر منظور قاضی صاحب سے اس تمام گفتگو کی وجہ ان سے اور حضرت صفدر ہمدانی صاحب سے کچھ تکنیکی معلومات کا حصول ہے۔ یقینا اس سے آئندہ لکھی جانے والی نظموں میں مجھے خاصی آسانی ملے گی۔ ظاہر ہے نظم کے معنی تو یقینا اہم ہوتے ہی ہیں۔ اس میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں۔
سو اس لئے شاعر کو ان دونوں محاذوں پر سیکھنے کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔ یقینا ہم سب سیکھنے سے ہی بہتر فنکار اور بہتر انسان بن سکتے ہیں۔
آداب
یہ تبصرہ بحث برائے بحث کی غرض سے نہیں تحصیلِ علم کی غرض سے ہے :
میں عاطف توقیر صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے کا یہ حصہ پڑھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلطی کرگئے ہیں :
عاطف توقیر صاحب فرماتے ہیں :
“
“ آزاد نظم میرے نزدیک ایک مشکل صنف سخن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے پہلے لفظ سے آخری لفظ تک ایک مسلسل مصرع ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غزل کا کوئی ایک مصرعہ۔ اسے لکھنے اور پڑھنے میں تو توڑ کر لکھا یا پڑھا جاتا ہے مگر حقیقیت یہ ہے کہ یہ کسی حقیقی طور پر آغاز سے انجام تک ایک مصرعے ہی کی طرح سفر کرتی ہے۔ میرے خیال میں اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی تو نہیں ہوتی بالکل ویسے ہی جیسے نظم معریٰ میں نہیں ہوتی تاہم ایک طرح سے یہ نظم معری سے زیادہ مشکل صنف ہے کیونکہ نظم معریٰ میں کئی مصرعے ہوتے ہیں اور نظم آزاد خود ایک مصرعہ ہوتی ہے“ ۔:
اسکے بعد عاطف توقیر صاح نے نظم ِ معریٰ کی یہ مثال پیش کی :
“مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے۔
اور عاطف توقیر صاحب نے یہ فرمایا کہ :
“ اس تینوں مصرعوں میں نہ کوئی ردیف ہے اور نہ کوئی قافیہ تو یہ نظم معریٰ چل رہی ہے مگر اگر اسی نظم میں قافیہ اور ردیف موجود ہوتے تو یہی نظم پابند ہو جاتی۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا تذکرہ :
میرا جہاں تک خیال ہے فیض کی یہ نظم معریٰ نہیں ہے ، یہ ایک پابند نظم ہے اس لیے کہ اس میں قافیہ اور ردیف موجود ہیں :
نظم ملاحظہ ہو :
مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ
۔۔۔۔۔۔۔
میں نے سمجھا تھا کہ توہے تو درخشان ہے حیات
تیر ا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مِل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے
یوں نہ تھا ، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
۔۔۔۔۔۔۔
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بُنواے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
اب بھی دلکش ہے ترا جسم مگر کیا کیچئے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
۔۔۔۔۔
مجھ سے پہلی سی محبت ِمرے محبوب نہ مانگ
۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ یہ ایک پابند نظم ہے جس میں فیض نے شاعری کی ایک صنعت انتہائی موثر انداز میں پیش کی ہے جس کے ہر بند کے پہلے مصرعہ کا قافیہ (اور ردیف ) تیسر ے مصرعہ کے قافیہ (اور ردیف ) سے ہم آہنگ ہے۔
اس کے علاوہ ہر بند کے خاتمہ پر قافیہ اور ردیف سے مرصع ایک شعر بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
بہر حال : یہ میرے اپنےخیالات ہیں جن سے بلاگ نگار کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
۔۔
فقط:
علم کا خواہاں
منظور قاضی
از جرمنی
حضور میں نے صرف پہلے تین مصرعے اسی لئے لکھے تھے۔ یہ مصرعے مثال کے طور پر پیش کئے گئے تھے۔ مجھے معلوم ہے یہ ایک پابند نظم ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یہاں تک یہ معری چل رہی ہے۔ ظاہر ہے قافیہ اور ردیف آجائے گا تو یہی نظم پابند ہواجائے گی۔۔
باقی جو مین نے تعریف بتائی وہ درست ہے۔ مرے نزدیک
اسی لیے تو میں اپنے تبصر ے کے آخر میں یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ :
“بہر حال : یہ میرے اپنےخیالات ہیں جن سے بلاگ نگار کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔“
۔۔۔۔
حسرت موہانی کا مصرعہ یاد آرہا ہے کہ :
“ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے “
جناب منظور قاضی صاحب۔ میں نے یہ تمام تفصیلات آپ کو اس لئے نہیں بتائیں کہ آپ ان سے متفق ہوں۔ یہ تفصیلات صرف اس لئے عرض کی تھیں کیوں کہ آپ نے کہا تھا کہ آپ کو معلوم نہیں اور آپ جاننا چاہتے ہیں۔ آپ کے متفق نہ ہونے سے آزاد نظم ہرگز نثری نہیں ہو گی نہ معریٰ مسدس بن جائے گی۔
میں آپ کی ان تمام باتوں سے صرف ایک نتیجے پر پہنچا کہ آپ کسی استاد کے پاس جا کر ان تمام چیزوں کے بارے میں تفصیلی رائے لیں۔ یہ ہمارا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی شخص جو ہم سے عمر میں چھوٹا ہو کوئی چیز بتا دے تو یا تو ہم اسے ہتک سمجھتے ہیں یا اس سے عموما متفق نہیں ہوتے مجھے یہ شکایت ہمیشہ ہی اپنے لوگوں سے رہی ہے۔ جناب میں نے انتہائی اخلاص کے ساتھ یہ تمام تکنیکی چیزیں آپ سے عرض کی تھیں۔ آپ خود سوچئے آپ کے مفتق ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔
پہلے آپ نے نظم پڑھ کر کہا کہ اس میں ماں کا عنصر سامنے نہیں آرہا۔ اگر ماں کا عنصر سامنے نہ آ رہا ہوتا تو آپ محسوس کیسے کرتے؟
پھر آپ نے ایک مصرع تجویز کیا۔ جب عرض کیا کہ مصرع بحر سے خارج ہے تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے مصرع تجویز نہیں کیا پھر آپ نے سوال کر دیا کہ تقطیع کر کے دکھائیے۔ وہ کی تو پھر آپ نے کہا کہ میں نے مصرعہ تجویز نہیں کیا تھا۔
پھر آپ نے کہا کہ آپ کو آزاد اور نثری نظم کی بحروں کا علم نہیں اور آپ جاننا چاہتے ہیں بتا دیا تو آپ کو اس پر اعتراض۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک مصرعہ تقطیع شدہ حالت میں آپ کے سامنے پڑا ہے۔ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ یہ میری اپنی معلومات کے مطابق ہے۔
جناب میں نے یہ سب اس لئے آپ سے کہا اگر کوئی شاعر کچھ تکنیکی چیز دیافت کرے تو اسے بتا دی جائے۔ آپ جاننا چاہتے تھے تو بتا دیا تھا۔ آپ مفتق نہیں تو بھئی آپ کی مرضی۔
ایک بات اور قبلہ اگر ہو سکے تو اپنے کچھ اشعار ضرور ارسال کیجئے۔ اب تو واقعی آپ کی شاعری پڑھنے کا اشتیاق بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر مجھ ایسے کم علم کو آپ جیسے معتبر شاعر کا کلام پڑھنے کو ملے گا تو یقینا اس سے میری اصلاح ہو گی۔
شکریہ کہ آپ نے اپنا وقت نکالا۔ میری خواہش تھی کہ صفدر صاحب اس سلسلے میں اپنی رائے دے دیتے تو آپ کو تسلی ہو جاتی۔ خیر میں خواہش ہو گی کہ آپ اس سلسلے میں مطالعہ ضرور کریں
آداب
میرا ایک شعر جو مصحفی کی غزل کی زمین میں ہے وہ یہ ہے :
غلط باتیں اگر سوچوں تو فورا ً ٹوک دیتی ہے
الٰہی شکریہ تیرا کہ دی ایسی زباں مجھ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔
عاطف توقیر صاحب اپنی شاعری ہی عالمی اخبار میں پیش کرتے رہیں ، یہی میرے علم کی تحصیل کے لیے کافی ہے۔
۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی