بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم
پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے
چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا Continue reading حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے
لاہور سے ملنے والی ایک عام قاری کا یہ خط ان درجنوں خطوط میں سے ایک ہےجو ہمیں روزانہ موصول ہوتے ہیں اور ہم نے ایسے خطوط آج تک کبھی شائع نہیں کیئے. آج اس طرح کا یہ اولیں خط ہے جسے انتظامیہ شائع اس فخر کے ساتھ کر رہی ہے کہ ہم سب کی مساعی اس عہد میں بارآور ہو رہی ہیں جب چاروں طرف مفاد کی جنگ ہے،ضمیر فروشی اور قلم فروشی عروج پر ہے.جاہل نے عالم پر غلبہ پا لیا ہے اورحکمرانی عوام پر ظلم کا نام بن چکی ہے. لاہور سے عالمی اخبار کی قاری ثمرین بخاری لکھتی ہیں ”السلام علیکم عرصہ ہوا کے نظریں ترس گئی تھیں کوئی ایسا اخبار پڑھے جو حقیقت سے قریب تر ھو کر سچائی اور انسانیت کی بات کرے، جو Continue reading عالمی اخبار کے نام لاہور سے ثمرین بخاری کا ایک خط ۔ ہماری محنت کام آ گئی
شاعر آل عباء مرثیہ نگار صفدر ھمدانی کے تخلیق کردہ مرثیے بعنوان ”انقلاب” کی آخری تین اقساط۔
یہ مرثیہ بھی نذر شہہ کربلا کیا
زینب نے انقلاب کے ہر در کو وا کیا Continue reading مرثیہ نو تصنیف۔موضوع۔انقلاب۔۔۔حصہ سوئم تا اختتام ۔۔مرثیہ نگار و آواز۔صفدر ھمٰدانی
کہتے ہیں کہ ہم سب اس فانی جہان میں آتے ہی اسی لیے ہیں کہ واپس جائیں! Continue reading ۔۔:: میرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا ؛؛۔۔